افسانے

 افسانہ سانپ اور پرندے -SANP AUR PARINDE مہتاب عالم پرویزؔ - MAHTAB ALAM PERVEZ کویت -KUWAIT ٭گُذشتہ شب میری پانچ سالہ بیٹی نوشینؔ نے JUBILEE PARK جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ جب میں ساڑھے چھ بجے سائبر بند کر کے اپنے گھر لوٹا، میری بیوی میری منتظر تھی اور میرا چار سالہ بیٹا فرازؔ مجھے دیکھ کر کافی خوش ہوگیا تھا لیکن میری آنکھیں اپنی پیاری سی بیٹی نوشین ؔکو تلاش کر رہی تھیں ...... سمرنؔ نے بتا یا کہ آپ کی پیاری بیٹی تو آپ کا انتظار کرتے کرتے تھک سی گئی تھی پھر آپ نے فون کر کے…
Published in افسانے
Read more... 0
جناب ایڈیٹر صاحب............. بے پناہ محبتیں میں اللہ کی پناہ میں ہوں اور آپ سے بھی ایسی ہی اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں میں نے۔ خُدا آپ کو سدا اپنی اماں میں رکھے۔ اور.............میں بھی بخیر ہوں۔ آپ کی دُعائیں جو میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ ویسے میں اپنی مصروفیت کی گتھی آپ کو کس طرح سے سلجھا سلجھا کر بتاؤں کہ ان دنوں میں قطعی اس حال میں نہیں تھا کہ آپ کو محبت کے دو بول ہی عنایت کرتا۔ ویسے میں رسموں بھرے سماج میں رہتا ہوں ایک ایسا ہی سماج جہاں مجھے احساس ہوتا ہے کہ کہانیاں تو…
Published in افسانے
Read more... 0
شاک تھراپی SHOCK THERAPY مہتاب عالم پرویزؔ MAHTAB ALAM PERVEZ کویت E - mail This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. ٭ ”ڈیڈکاش! آپ میری باتوں کوسمجھنے کی کوشش کرتے، ایسا نہیں ہے کہ میں تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتی یا تعلیم کے زیور کو آراستہ کرنا نہیں چاہتی میری بھی خواہشیں ہیں کہ میں بھی اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کروں لیکن میں بھی مجبور ہوں میں ممی کو اس حالت میں چھوڑ کر کیسے اپنے شہر سے دور جاؤں گی۔ اور ابھی میری عمر ہی کیا ہوئی ہے۔؟ پڑھنے کے لئے ابھی میری ساری زندگی پڑی ہے۔“ آپ اپنی ممی کی فکر نہ کریں…
Published in افسانے
Read more... 0
لینڈرا ایک بے باک افسانہ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ”ارے او فقیرے....جرا انگئے کو (ذرا ادھر) آنا۔“ بابا رحیم کی آواز پر فقیر محمد، دوڑتا ہوا آیا۔ ”جی بابا۔ کاکئے ریو(کیا کہہ رہے ہو؟)“ ”ارے جرا حقہ بھرلا— اور تاجا بھی کرلائیو—“ بابا کے کہنے پر اس نے حقے کی پیتل کی فرشی کو اس کی گردن سے پکڑ کر اٹھایا۔ بڑی احتیاط سے چلم کو نہچے سے اتارا۔ نہچے کو فرشی کی گردن سے الگ کیا۔ نہچے کی بناوٹ بالکل بندوق جیسی تھی۔ فقیر محمد کے دل میں لمحے بھر کو ایک خیال آیا۔ اس نے حقے کے نہچے کوبندوق…
Published in افسانے
Read more... 0
ڈاکٹر اختر آزاد مکان نمبر۔۳۸ ، روڈ نمبر ۔ ۱ آزاد نگر ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰ موبائل:۔ 09572683122 This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. حرامی (یہ افسانہ، افسانوں کاعالمی انتخاب جو "نئی صدی کا افسانوی انتخاب" کے نام سے شائع ہوا ہے ، اس میں شامل ہے۔ مہتاب عالم پرویز) میرا باپ کون ہے؟ یہ سوال ہوش سنبھالتے ہی گورا کا پیچھا کرنے لگا تھا۔ اُس کا چہرہ نہ ماں سے ملتا تھا اور نہ ہی باپ سے ۔دونوں کے چہرے سیاہ تھے اور نقش ونگار الگ ۔مزدور کہیں کے بھی ہوں، چہرے ایک سے دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن خون پسینہ نچوڑنے والے ٹھکیداروں…
Published in افسانے
Read more... 0
 چھِنال (ایک بے باک افسانہ) مہتاب عالم پرویزؔ (کویت) ٭ چننئی سینٹرل کالج کے با لکل سامنے وسیع و عریض پارک میں وہ خوبصورت سی لڑکی خوبصورت سفید بالوں والے ایک کتے کو سیر کروا رہی تھی۔وہ چھوٹا سا کُتا جس کے سفید اور خوبصورت لمبے لمبے گھنے بال اُس کے چہرے کو چُھپائے ہوئے تھے اور اُس کے گلے میں پڑا ہوا وہ خوبصورت سا رنگین پٹہ اُسے اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا۔کُتے کے گلے میں پڑے ہوئے رنگین پٹے سے جُڑے ہوئے زنجیر کا دوسرا سرا اُس خوبصورت سی لڑکی کے کیوٹ سے مہندی لگے ہوئے ہاتھوں…
Published in افسانے
Read more... 0
بھرم ناصر ملک "بابا!رات ہو گئی ہے اور پانی بہت چڑھ آیا ہے۔ کسی بھی وقت مکان ٹھاہ ٹھاہ گرنے لگیں گے۔ کچھ کر۔" "کیا کروں؟ وہی جو تم سب گائوں والے کہتے ہو؟نہیں۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔ " "کیا ہم سب کو مارنے کا اِرادہ ہے تیرا؟ " "تو کیا میں تم لوگوں کو پچھلا بند توڑنے کی اجازت دے دوں؟دنیا کیا کہے گی کہ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میں نے فریدن کو لوڑھ دیا؟ نہیں گودا! بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔" "ہاں بابا! ورنہ سارا گائوں ڈھیہہ جائے گا۔" "اور بے…
Published in افسانے
Read more... 0
 ڈاکٹراسلم جمشید پوریؔ عید گاہ سے وا پسی پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب…
Published in افسانے
Read more... 0
 اعتبار ناصر ملک "چندا! آج میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے کہ میں نے تمہیں فتح کر لیا ہے۔ فتح کرنے کی فلاسفی بھی بہت عجیب ہے۔ فتح کرنا درحقیقت فتح ہونا ہے۔ میں نے تمہیں اور تم نے مجھے فتح کر لیا اور شبِ وصال کو ہمارا مقدر کر دیا۔ فتح کے بعد رگ و پَے میں اترنے والی تھکن نشہ کا مقام رکھتی ہے۔ میں نشے میں ہوں۔ تم نشے میں ہو۔ یہ کمرہء عروسی عشق کا مے کدہ ہے۔ یہ ہاتھ جامِ جہاں ہیں اور خراجِ عشق کو مے کا کردار سونپا گیا ہے۔ کیا…
Published in افسانے
Read more... 0
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ رمضان کے منظر نامے میں خواتین کے ایک اہم مسئلے کو عمدگی سے سمیٹے ہو ئے ایک منفرد کہانی نا دان بھائی ”سلام علیکم امی جان!“ ”سلام علیکم ابو جان!“ ”چاند دکھائی دے گیا ابو جان........“ ثنا نے تیز قدموں سے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔اتنے میں با ہر سے ساجد دوڑتا ہوا آیا۔ اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے بولا۔ ”رمضان کا چاند دکھ گیا ہے۔ سب کو سلام علیکم۔ابو..........آج سے تراویح شروع ہو جائیں گی نا؟“ ”ہاں بیٹا ساجد......آپ اچھے بچے ہیں۔ آپ تراویح کی نماز کے لیے میرے ساتھ چلئے گا۔“مرزا حشمت علی…
Published in افسانے
Read more... 0

نیا مضمون

Calendar

« February 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28      

ممبر لاگ ان

Go to top