دھوپ : وحید احمد قمر

Rate this item
(2 votes)
دھوپ :  وحید احمد قمر

 

Waheed Ahmad Qamar

DHOOP



 دھوپ

 
 وحید احمد قمر

 لندن ۔ انگلستان

            میں ایک پُر بہار مقام پر اس کا انتظار کر رھا تھا ۔ جھیل کے نیلے پانی پر ڈھلتے سورج کی شعاعیں اپنا عکس ڈال رہی تھیں ۔ رنگ برنگے پھول کھلے ھوئے تھے ایک طرف گلاب کے پھولوں کی باڑ لگی ہوئی تھی ۔ شوخ رنگوں کے پرندے جھیل کے پانی پر اڑانیں بھر رھے تھے ۔ چاروں طرف اونچے اونچے درخت سر اُٹھائے کھڑے تھے ۔ درختوں کی چوٹیاں سورج کی شعاعوں سے سنہری ہو رہی تھیں ۔ بلند سرخ سرخ پہاڑ سورج کی روشنی میں نہائے ھوئے تھے ۔ ان پہاڑوں پر کہیں کہیں سبزہ عجب دلکش منظر پیش کر رہا تھا ۔ قریب ہی ایک آبشار شور مچا رہا تھا ۔ اس کا پانی پتھروں میں سے راستہ بناتے ہوئے ایک ندی کی صورت اختیار کرگیا تھا ۔ یہ ندی ٹیڑھے میڑھے راستوں سے ہوتی ہوئی کچھ دور جا کر جھیل میں گر جاتی تھی ۔ جہاں میں کھڑا تھا وہ شاید کبھی سڑک رہی ہوگی کیوں کہ اس کی حالت بہت خستہ تھی ۔ ممکن ھے کسی زمانے میں یہاں لوگوں کی آمد و رفت رہی ھو مگر اب تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عرصے سے یہاں کوئی نہ آیا ہو ۔ یہ معدوم ہوتی سڑک پہاڑ کے پیچھے تک چلی گئی تھی ۔ دور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی زخمی سانپ بل کھائے جا رھا ھو یا شاید یہ میری نظروں کا دھوکہ تھا مگر نہ جانے کیوں اس بل کھاتی ہوئی سڑک کو دیکھ کر سیاہ سانپ کا تصور میرے ذہن میں اُبھر آیا تھا ۔ اچانک کسی پرندے کی سُریلی آواز نے مجھے چونکا دیا اور بل کھاتی سڑک سے میری نظریں ہٹ کر اس پرندے کو تلاش کرنے لگیں ۔ جھیل کا پانی مزید نیلا ہوگیا تھا ۔ گلاب جو جھیل کے کنارے لگے ہوئے تھے ۔ ہوا کے سہارے جھک جھک کر جھیل کے پانی کو چوم رہے تھے ۔ سریلی آواز والا پرندہ ندی کے پُل پر بیٹھا تھا ۔ وہ بار بار سریلی آواز نکالتا اور گردن اونچی کر کے نیلے آسمان کی وستعوں میں کچھ ڈھونڈنے لگتا ۔ شاید وہ اپنے ساتھیوں سے بجھڑ گیا تھا کیوں کہ اس کی آواز میں ہجر کا غم جھلک رہا تھا ۔ اپنی آواز میں اس نے شاید کوئی درد بھرا نغمہ چھیڑ دیا تھا ۔ میں جیسے مسحور سا ہوگیا مگرجلد ھی مجھے احساس ہوا جیسے میرا دل اس کے لیے افسردہ ہو گیا ہے ۔ جبکہ آج کے دن مجھے خوشگوار موڈ میں ہونا چاھئیے کیوں کہ آج کا دن میرے لیے بڑا اھم دن ہے ۔ اور ویسے بھی کسی کے غم میں گھلنے سے کیا فائدہ ! جب کہ اپنے غم ہی اتنے زیادہ ہوں ۔ میں سر گھما کر آبشار کو دیکھنے لگا ۔ پانی مسلسل بہہ رہا تھا ۔ نہ جانے یہ اتنا بہت سارا پانی کہاں سے آتا ھے ، کہنے والے کہتے ہیں کہ مدت سے یہ آبشاریوں ہی رواں ہے ۔ یہ پانی ختم کیوں نہیں ہوتا ؟ عرصہء دراز سے یہ اسی طرح گر رہا ھے اور شاید اسی طرح گرتا رہے گا ۔ جھیل کا پانی تو جوں کا توں رہتا ہے ۔ ٹھرا ٹھرا پرسکون ۔ پھر یہ آبشار اتنا شور کیوں مچاتا ہے ؟ مگر یہ شور بےہنگم تو نہیں ۔ یہ تو ایک مخوص لَے کے ساتھ گر رہا پے ۔ مزید غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پانی بھی نغمہ سرا ہو ۔ مگر اس کا نغمہ غموں اور دکھوں سے آزاد لگتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طربیہ نغمہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر میرا دل اس نغمے میں کھو گیا ۔ درخت جھومنے لگے ، پھول لہلہانے لگے ۔ شوخ رنگوں والے پرندے سریلی آوازیں بکھیرنے لگے ۔پہاڑ یہ نغمہ سُن کر مزید سرخ ہو گئے اور پہاڑوں پر لگا سبزہ ترو تازہ نظر آنے لگا ۔ میں ایک طرف بیٹھا خاموشی سے فضاؤں میں بکھرے اس نغمے کو سُن رہا تھا ۔ اُفق پر سرخ لہرہے لہرانے لگے ۔ ۔ سورج اب مغرب کی طرف جھکنے لگا تھا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے سرخ انگارے جیسا سورج ڈوبتا چلا گیا ۔ درخت اب ہیولے بنتے جا رہے تھے ۔ درختوں کے ہیولے اور شفق کی جھلک نہایت دلکش منظر پیش کر رھے تھے 

۔میں بڑی بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ حالانکہ مجھے علم تھا کہ وہ ہمیشہ دیر سے آتی ہے مگر نہ جانے کیوں میرا دل بیتاب ہو رہا تھا ۔اب تو سورج بھی غروب ہوگیا تھا اور پر طرف ملگجا اندھیرا پھیل گیا تھا مگر مجھے علم تھا کہ جب وہ آئے گی تو بےشمار چاند نکل آئیں گے ۔ ہزاروں جگنو فضا میں بکھر کر کئی فانوس بنا دیں گے جن سے تیز روشنی پھوٹ نکلے گی ۔ سفید چاندنی ہر طرف بکھر جائے گی اور کائنات مسکرا اٹھے گی ۔
۔ مجھے زندگی اتنی رنگین کبھی نہ لگی تھی جیسی اس وقت ۔ 
۔ فضاؤں میں رنگ برنگے لہریے نظر آرھے تھے ۔ سارا ماحول نغموں سے گونجنے لگا ۔ آخر وہ لمحہ آ پہنچا جس کا میں دیر سے منتظر تھا ۔ وہ ماہتاب آرہا تھا ۔ جس کے سامنے تمام روشنیاں ماند پڑ رہی تھیں ۔ نیلے رنگ کے شلوار سوٹ میں وہ صنوبر کے درخت کے قریب کھڑی تھی ۔ میں نے بےتابی سے اُسے جلد آنے کا اشارہ کیا وہ مسکرا اٹھی جیسے ساری کائنات روشنی میں نہا گئی ۔ اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ندی کے پُل پر سے گزرتی میری طرف آنے لگی ۔ اس کی سست روی سے اکتا کر میں نے بھاگ کر اس کی طرف جانا چاہا مگر پاؤں شاید کسی پتھر سے اٹکا اور میں منہ کے بل زمین پر آگرا ۔ اس کی کھلکھلاتی ہنسی میری سماعت سے ٹکرائی ۔ میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ پل کے جنگلے پر جھکی میری طرف دیکھ رھی تھی ۔ مجھے یوں لگا جیسے میرا مزاق اڑا رھی ہو ۔ ایک لمحے کے لیے مجھے اس پر سخت غصہ آیا ۔ اگرچہ گرنے سے مجھے سخت چوٹ تو نہ آئی تھی مگر میں جان بوجھ کر اوندھا پڑا رہا اور زخمیوں کی طرح آہ آہ کرنے لگا ۔ میری توقع کے عین مطابق وہ بڑی بےتابی کے ساتھ میری طرف بڑھی ۔ مجھے ایک اور شرارت سوجھی میں نے اپنا سر ایک طرف لڑھکا دیا ۔ اور جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔ وہ میرے بالکل قریب آکر بیٹھ گئی ۔اور مجھے آوازیں دینے لگی ۔ میں اپنی اسکیم کے مطابق بےسدھ پڑا رہا ۔ وہ شاید یہ سمجھی کہ میں بےہوش ہو گیا ہوں ۔ میں نے آنکھ کی جھری سے اُسے دیکھا ۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑرہی تھیں ۔ وہ کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی اِدھر اُدھر ۔ درخت اور پہاڑ خاموش کھڑے تھے شوخ رنگوں والے پرندے شاید اپنے اپنے آشیانوں کو واپس ہو گئے تھے ۔ اور فضا میں ایک جمّود سا طاری تھا ۔وہ بوکھلاہٹ میں جھیل کے کنارے کی طرف گئی ۔اور بے بسی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ شاید وہ مجھے ہوش میں لانے کے لیے پانی لانا چاہتی تھی مگر اسے کوئی ایسی چیز نہ مل رہی تھی جس میں وہ پانی بھرکر لاتی ۔ تھوڑی دیر تک سوچنے کے بعد اس نے گلے سے دوپٹہ نکالا اور جھک کر اسے جھیل کے پانی میں ڈبونے لگی ۔پھر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں دوپٹہ رکھ کر جلدی جلدی میرے پاس آئی اور میرا سر اپنے زانو پر رکھ کر پانی میرے چہرے کے اوپر چھڑکنے لگی ۔ اس نے سارا دوپٹہ نچوڑ دیا مگر میں ٹس سے مس نہ ہوا ۔ اب تو وہ بہت پریشان ہوئی ۔ اس نے میری آنکھوں کے پپوٹے اٹھا کر دیکھے مگر میں انجان بنا رہا وہ مزید گھبرا گئی ۔ تھوڑی دیر تک کچھ سوچتی رہی پھر شاید جھنجھلا اٹھی کیوں کہ اگلے ہی لمحے اس نے میرے گالوں پر طمانچے لگانے شروع کر دیے ۔ میں اندر ہی اندر پچ و تاپ کھاتا رہا مگر ضدی بنا بےسدھ پڑا رہا ۔ کافی دیر تک وہ خالی الذہن کی سی کیفیت میں بیٹھی رہی پھر یکلخت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ جب اس کے گرم گرم آنسو میرے رخساروں پر گرے تو میں نے آنکھیں کھول دیں ۔

میرے جسم کو جھٹکا سا لگا تھا ۔ میں نے لیٹے لیٹے برتھ سے نیچے نگاہ دوڑائی ۔ ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر رُکی تھی ۔ میں ٹرین کو کوسنے لگا ۔ جس کے رُکنے کی وجہ سے میرا سپنا ٹوٹ گیا تھا ۔ مگر ایسا پہلی بار تو نہ ہوا تھا ۔ یہ سپنا تو میں عرصے سے دیکھ رہا تھا ۔ اب تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے میں نے سینما کے پردے پر کسی فلم کا حصہ دیکھا ہو ۔ تھوڑی دیر تک تو میں سپنے کی لطافتوں کا مزہ لیتا رہا ۔ پھر نیچے اُتر کر ٹرین کے دروازے پر آکھڑا ہوا ۔ پلیٹ فارم ذیادہ تر سنسان نظر آیا ۔ اکا دُکا مسافر آ جا رہے ھے ۔ مگر گرمی اور دھوپ کی وجہ سے ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی تھی ۔ میں نے رومال سے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو صاف کیا اور واپس اپنی سیٹ پر آ بیٹھا ۔ میرے کمپارٹمنٹ میں میں میرے علاوہ چند مسافر ھی تھے ۔ جو اونگھ رہے تھے ۔ میں سیٹ پر پاؤں پھیلا کر نیم دراز ہوگیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔ ٹرین نے دوبارہ رینگنا شروع کر دیا تھا ۔ ذرا دیر بعد مجھے اپنے قریب ہی چند آوزیں سُنائی دیں ۔ میں نے آہستگی سے آنکھیں کھول دیں میرے سامنے ایک باوقار خاتون کھڑی ہوئی تھیں ۔ جنہوں نے ہلکے سبز رنگ کی ساڑہی پہنی ھوئی تھی ۔ اور پلّو سے سر ڈھانپ رکھا تھا ۔ میں جو لمبی سیٹ پر نیم دراز تھا جلدی سے ٹانگیں سکیڑ کر اُٹھ بیٹھا ۔ وہ خاتون بڑی شگفتگی سے بولی " کیا تم اکیلے ہو بیٹے " میں نے ان کے لہجے کی شیرینی سے لطف ادوز ہوتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا " میرا بیگ یہاں رکھا ہے میں ابھی آتی ہوں ۔" یہ کہہ کر انہوں نے اپنا بیگ سیٹ پر رکھا اور پچھلے کمپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئیں ۔ میں سوچنے لگا کہ اچھا ہی ہوا کچھ ہمسفر مل جائیں گے ورنہ ابھی تک میں اہنی سیٹ پر تنہا بیٹھا بور ہوتا آرہا تھا ۔ ابھی کافی سفر باقی تھا ۔ میں نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں اور اس وقت آنکھین کھولیں جب وہ خاتون ساڑھی کا پلّو سنبھالتی ہوئی میرے قریب بیٹھ رہی تھی ۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے سامنے بھی کوئی بیٹھا ہے ۔ دھیرے دھیرے اپنی نگاہیں اس کی طرف اٹھائیں ۔ نیلے رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس اس لڑکی نے اچھی طرح اپنے سر کو آنچل سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ میں اس کے چہرے کی جھلک نہ دیکھ سکا ۔ کیوں کہ سبز ساڑھی والی خاتون مری طرف متوجہ ہو گئی تھیں ۔ 
۔" کہاں جا رہے ہو ؟ " انھوں نے بڑی شفقت سے پوچھا ۔۔
مین نے اپنے شہر کا نام بتا دیا ۔
" اوہ ، پھر تو ابھی تمھارا کافی سفر باقی ہے " وہ بولیں ۔
" جی ہاں ! کافی طویل سفر ہے ، میں اکیلا بیٹھا بور ہو رہا تھا ، آپ کے آنے سے سفر اچھا گزرے گا "
۔ وہ خفیف سی مسکرائیں اور میرے بارے میں مزید پوچھنے لگیں ۔ میرے کالج اور پڑھائی کے بارے میں باتیں ہوئیں پھر گھر والوں کے بارے میں پوچھا ۔ انھوں نے ہمارے شہر اور شہر والوں کی بہت تعریف کی ۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ سیاست ، ادب اور تعلیم کے فرسودہ نظام پر ڈھیر ساری باتیں ہوئیں ۔ وہ خود بھی ایک کالج میں پڑھاتی رھی تھیں ۔ ۔ ان کا نام نسیم جہاں تھا ، انکے ساتھ انکی بیٹی تھی جس کا نام انہوں نے شازیہ بتایا۔ ذرا دیر بعد وہ اٹھ کر واش روم کی طرف چلی گئیں ۔ میں نے کھڑکی سے باھر نظر دوڑائی ۔۔۔ دھوپ کچھ مدھم ہو گئی تھی ۔ آسمان کی طرف نگاہ گئی ، کئی بدلیاں سورج کے گرد اکٹھی ہو رھی تھیں ۔ میں دل ہئ دل میں دعا مانگنے لگا کہ یہ بدلیاں سورج کے گرد چھا جائیں اور اس گرم موسم میں کچھ تبدیلی ھو ۔ اسی وقت مجھے اپنے قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔ میں نے سر گھما کر دیکھا ۔ شازیہ میرے قریب بیٹھ کر باھر دیکھنے کی کوشش کررہی تھی ۔
اللہ کرے یہ بادل سورج پر چھا جائیں " وہ بولی ۔
اس کا آنچل ڈھلکا ہوا تھا ۔ میری نگاہیں اس کے چہرے پر جم کر رہ گئیں ۔ گویا ایک شعلہ سا تڑپ گیا تھا ۔ ، سرخ و سفید رنگ لیے ایک حسین چہرہ میرے سامنے تھا ۔ لبوں پر تبسّم جبکہ بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں شوخیاں تھیں ۔ ایسا معصوم حسن بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔ نگاھیں اس کے چہرے سے ھٹائے نہ ھٹتی تھیں ۔ اس نے بھی شاید میری نگاھوں کی حدت محسوس کر لی کیونکہ وہ پیچھے ہو کر بیٹھ گئی اور اپنا دوپٹہ سنبھالنے لگی ۔ میں بالکل دیوانوں کی طرح بیٹھا اس حسیں پیکر کو دیکھنے لگا جس کے چہرے کی جگمگاہٹ کے سامنے سورج کی کرنیں بھی ماند تھیں 
۔" آپ اس طرح میری طرف کیا دیکھ رہےہیں کیا میرے سر پر سینگ اُگ آئے ہیں " وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔
میں نے نظریں جھکا لیں اور شرمندہ سا ہو کر بولا
جانے ایسا کیوں محسوس ھوتا ھے جیسے آپکو کہیں دیکھا ھو ۔
سپنوں میں دیکھا ھو گا ۔ وہ مضحکہ اڑانے والے انداز میں بولی
۔ میں نے سر سیٹ کی پشت سے لگا کر آنکھیں بند کر لیں اور سوچنے لگا کہ ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ اسے ہپہلے بھی کہیں دیکھا ہے ۔ ذہن پر زور دینے لگا اور مجھے یاد آگیا کہ یہ تو وہی لڑکی ھے جو عرصے سے میرے سپنوں میں آرہی تھی ۔ کیا واقعی یہ وہی ہے ؟ کیا سپنے اس طرح بھی سچ ہوتے ہیں ۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا ۔،
کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔۔ اس کی والدہ کی طبعیت کچھ خراب سی لگتی تھی ۔ میں نے ان سے کھانے کا پوچھا تو بولیں " میری طبعیت ٹھیک نہیں تم اور شازیہ کھانا منگوا لو "۔پھر وہ اوپر والی برتھ پر جا لیٹی تھیں 
" میں نے شازیہ کی طرف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔ پہلے پہل تو میں جھجھکتا رہا ۔ جب اس کے انداز میں بےتکلفی دیکھی تو آہستہ آہستہ باتیں شروع کیں ۔ ڈھیر ساری باتیں ، پھولوں ، باغوں ، پہاڑوں اور ستاروں کی باتیں ۔ پھر کھانا آگیا ۔ ہم کھانا کھانے لگے ۔ میرا دل کس قدر مسرور ہو گیا تھا ۔ یہ لمحے کس قدر خوشگوار تھے جی چاہتا تھا کھانا کبھی ختم نہ ھو اور وہ یوں ہی میرے ساتھ بیٹھی رہے ۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا ۔ بادلوں کے بےشمار ٹکڑے آسمان پر اُڑ رہے تھے ۔ بادل کا ایک بڑا ٹکڑا سورج کو چھپانے میں کامیاب ہو گیا تھا ، دھوپ اور گرمی کا زور ٹوٹ چکا تھا ۔ موسم کافی خوشگوار ہو گیا تھا ۔ کھانا کب کا ختم ھو چکا تھا ۔ مگر ہماری باتین ختم نہ ہوئی تھیں ۔ اس نے مجھے اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا ۔ وہ فطرتا " ایک شوخ لڑکی تھی مگر نہایت مہذب اور شائستہ ۔ اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ شاعری بھی کرتی ھے ، میں نے اس کی شاعری سننے کی فرمائش کر دی ۔ اس نے چند غزلیں اور کچھ نظمیں سنائیں ۔ میں نے دل کھول کر داد دی ۔
پھر میں نے اسے بتایا کہ میں افسانے لکھتا ہوں مگر میرے افسانے سننے کی فرمائش نہ کیجیئے گا ۔ کیوں کہ وہ مجھے زبانی یاد نہیں ۔ وہ بولی
یہ کیا بات ھوئی ، کوئی ایک ادھ اقتباس تو سنائیے ، تاکہ آپکی نثر کو بھی پرکھ سکوں ۔ 
میں کچھ دیر خاموش رھا ، اپنے کئی افسانوں کے اقتباسات یاد تھے ، سوچنے لگا کونسا سناؤں ۔ ۔ ۔
وہ میری طرف یوں دیکھ رھی تھی ، جیسے انتظار میں ھو کہ کب میں کچھ سناتا ھوں ۔ 
لیجیئے ۔ سنیئے ۔ میرے ایک افسانے سے چند سطریں پیش خدمت ھیں ۔ مین نے کہا 
وہ مسکرائی ۔ جی ۔ سنائیے صاحب ۔ میں ھمہ تن گوش ھوں۔
سنیئے ۔ میں نے اس کے چہرے پر نظر جماتے ھوئے کہا 

" اس کی آنکھوں میں بلا کی معصومیت جب کہ سرخ و سفید چہرے کی دلکشی انوکھی تھی ۔ ایک مالاکوتی حسن ۔ ۔۔ یوں محسوس ھوتا تھا جیسے کوئی اپسرا دنیا کی سیر کرنے کے لیئے آسمانوں سے اتر آئی ھو ۔ لیکن وہ کوئی آسمانی پری نہ تھی اسی دنیا سے تعلق رکھتی تھی ، پھر بھی اس دنیا کی نہ لگتی تھی ۔ جو چیز اسے سب سے جدا کرتی تھی وہ اس کا بے پناہ حسن نہ تھا بلکہ حسن ، معصومیت اور پاکیزگی کے دلکش امتزاج نے اسے وہ تمکنت عطا کر دی تھی جو اسے عام حسین لڑکیوں سے ممتاز کرتی تھی ۔ ۔ وہ ساحل کی ٹھندی ریت پر ننگے پاؤں چل رھی تھی ۔ وقفے وقفے سے لہریں آتیں اور اس کا اسکرٹ بھگو جاتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔
۔ میں کچھ دیر کے لیئے رکا ۔مجھے سننے کے دوران وہ مسلسل مسکراتی رھی تھی
مجھے یہ افسانہ جتنا یاد تھا سنا دیا ۔ 
وہ بولی ۔ " انتہائی دلچسپ ، مجھے یوں لگ رھا تھا جیسے میں آپکے افسانے کے اندر پہنچ گئی ھوں ، یا جیسے کوئی فلم دیکھ رھی ھوں ۔ 
جب کبھی آپ کے افسانوں کی کتب شائع ہو تو مجھے ضرور بھیجئے گا ۔ ۔ اس کی یہ بات سُن کر میں ہنس دیا ۔ " آپ ہنسے کیوں : " وہ بولی
" ابھی میرے افسانوں کی تعداد اتنی نہیں ہوئی کہ میں کتب شائع کروا نے کے بارے میں سوچ سکوں "۔
" خدا آپ کو ڈھیروں افسانے لکھنے کی توفیق دے " وہ چہکی ۔ " اور پھر جب آپ انھیں کتابی صورت میں شائع کروا کے مشہور ہو جائیں گے تب میں فخر سے لوگوں کو بتا سکوں گی کہ میری اس افسانہ نگارسے اُس وقت کی جان پہچان ہے جب اس نے نئے نئے افسانے لکھنے شروع کیے تھے
"۔" کتاب شائع کروانے کے لیے افسانوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ دیگر کئی لوازمات بھی چاہیئے ہوتے ہیں "
۔ " بہرحال جب بھی وقت آئے آپ مجھے کتاب بھیجنا بھولیے گا نہیں " ۔ اس نے حتمی لہجے میں کہا ۔
پھر میں نے موضوع بدل دیا اور اس کے کالج کی باتیں پوچھنے لگا ۔ اس نے اپنی تعلیم کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ وہ بیڈ منٹن کی بہت اچھی کھلاڑی ہے اور کئی انعامات حاصل کر چکی ہے ۔"۔ اب ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی ۔ ٹرین اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی ۔ اس کی والدہ کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی ۔ شازیہ پریشان سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس نے اپنے بیگ سے چند دوائیں نکال کر دیں ۔ جن سے کچھ افاقہ ہوا تھا اور وہ سو گئی تھیں ۔ شازیہ ان کی وجہ سے فکر مند ہو گئی تھی
" اب ہمارا اسٹیشن قریب آرہا ہے " ۔وہ بولی " میں سوچ رہی ہوں کہ میں اکیلی امی کو سنبھال کر بخیریت کس طرح گھر لے جا سکوں گی ۔ اور اگر ان کی طبعیت مزید خراب ہو گئی تو کیا ہو گا ۔ جب کہ بارش بھی ہو رہی ہے
"۔میں نے شازیہ کو تسلی دی کہ وہ فکرمند نہ ہو ۔ میں ان کو گھر تک چھوڑنے جاون گا ۔
" کیا واقعی۔ ۔۔ ۔ ۔ اوہ ۔ آپکا بے حد شکریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امی کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہے " وہ تشکر آمیز لہجے میں بولی اور پھر ان کا اسٹیشن آگیا ۔ میں نے اورشازیہ نے مل کر نسیمہ آنٹی کو ٹرین سے اُترنے میں مدد دی اور پھر میں ان کے ساتھ ہی ریلوے اسٹیشن کی عمارت تلے آکھڑا ہوا ۔ بارش ابھی تک جاری تھی ، ہمیں خوش قسمتی سے ایک خالی ٹیکسی مل گئی ، ورنہ اس خراب موسم میں سواری کا ملنا محال نظر آرہا تھا ۔ آدھے گھنٹے بعد شازیہ اپنی والدہ کو اپنے گھر کے ایک کمرے میں بیڈ پر لٹا رھی تھی ۔ اس نے انہیں کچھ دوائیں دی ۔وہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گئیں
اور پھر ھم ڈرائنگ روم میں آ گئے
" مجھے اب چلنا چاہیے ۔ کہ موسم بہت خراب ہو گیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ اس خراب موسم کی شدت میں مزید اضافہ ہو ، میں بذریعہ بس اپنے گھر چلا جانا جاھتا ہوں "۔ میں نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔ " 
یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ آپ اگر امی کی خاطر آہی گئے ہیں تو اس وقت تک یہیں رہیں جب تک امی کی طبعیت کچھ سنبھل نہیں جاتی ۔ ۔ پلیز ! آپ آج رات ادھر ہی رہ جائیں ۔ ہو سکتا ہے رات کو امی کی طبعیت مزید بگڑ جائے ۔ پھر میں کیا کروں گی ۔ آپ کی موجودگی سے ڈھارس تو بندھی رہے گی شازیہ نے کہا ۔
میں طویل سانس لے کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔ اسی لمحے بادل زور سے گرجا اور دور کہیں بجلی کا دھماکہ ہوا " میں کچن میں جا کر کھانے کا بندو بست کرتی ہوں " شازیہ بولی اور ایک دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ 
میں بھی کچن میں اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا ۔ شازیہ کھانا پکانے میں مصروف تھی ۔ مجھے یہ سب افسانوی سا لگ رہا تھا ۔میں ایک اسٹول پر بیٹھا اس کی طرف دیکھتا رہا ۔ زلفوں کی ایک لٹ اس کے گالوں پر آئی ہوئی تھی جسے وہ بار بار ہاتھوں سے پیچھے ہٹا رہی تھی "۔ شازیہ کا یہ چند گھنٹوں کا ساتھ کیا زندگی بھر کا ساتھ بن سکتا ہے ؟ " میں سوچتا رہا ۔ وہ میری نگاہوں سے بےنیاز کھانا پکاتی رہی ۔ ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتی جا رھی تھی ۔ اور کبھی کبھی مسکرا کر میری طرف دیکھ لیتی ۔ میں اسکی باتوں کے جواب میں ھوں ،، ھاں ،، کرتا رھا ۔
جب کھانا تیار ہو گیا تو اس نے بڑے سلیقے سے میز پر لگا دیا ۔ ہم خاموشی سے کھانا کھانے لگے ۔ بارش گھن گرج کے ساتھ جاری تھی ۔ کھانے کے بعد ہم ڈرائنگ روم میں آ بیٹھے اور باتیں کرنے لگے ۔ اس نے بتایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے ارد گرد امی کی شفیق ذات کو ہی دیکھا ہے ۔ والد میرے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے ۔ مگر امی نےکبھی ابو کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔ حالانکہ وہ بہت بیمار رہتی ہیں ۔ امی کو ھارٹ پرابلم ہے ۔ ۔ میں یہ سوچ کر ہی خوفزدہ ہو جاتی ہوں کہ امی کے بغیر تو میں بالکل تنہا اور بے یارو مددگار ہو جاؤں گی "۔ اس لمحے مجھے اس پر بےانتہا پیار آیا ۔ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا ۔ رات کے آخری پہر شازیہ کی والدہ کے کمرے سے کچھ گرنے کی آواز آئی ۔ ہم دونوں بھاگ کر وھاں پہنچے ۔ اسکی والدہ بستر سے نیچے گر گئی تھیں ۔ انہوں نے ایک ھاتھ اپنے دل کے مقام کو پکڑ رکھا تھا ۔ ھم ان کے قریب بیٹھ گئے وہ بڑی نقاہت سے بول رہی تھیں ۔ شازیہ مسلسل روئے جا رہی تھی ۔ معلوم نہیں وہ مجھ سے کیا باتیں کر رہی تھیں ۔ شاید وہ میرا شکریہ ادا کر رہی تھیں اور بھی بہت سی باتیں اظہار ِ تشکر کے طور پر کی تھیں اور اس وقت مجھے بڑی خوشگوار حیرت ہوئی جب انھوں نے شازیہ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کچھ کہنا شروع کیا ۔ جسے میں سمجھ تو رہا تھا مگر میرا دماغ اس وقت ہواؤں میں اُڑ رہا تھا شازیہ کا قرب ، اس کے ہاتھ کا لمس مجھ پر خمار سا طاری ہو گیا اور اس لمحے میں آنٹی نسیم کو بھی بھول گیا ۔۔۔۔۔ بس شازیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اس کی بھیگی آنکھوں میں جیسے ڈوبتا ہی چلا گیا 
سیٹی کی تیز آواز نے مجھے چونکا دیا ۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ میری آںکھوں کے آگے سے جیسے دُھند چھٹنے لگی ۔ یہ سب کچھ ایک حسین خیال کی طرح گزر گیا تھا ، ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر کھڑی تھی ۔ ایک بڑی بڑی مونچھوں اور موٹی توند والا شخص شازیہ اور نسیم آنٹی کا سامان اٹھا رہا تھا ۔ نسیم آنٹی نے مجھے حسب ِ معمول شفقت سے الوداع کہا ۔ میں نے شازیہ کی آںکھوں میں کچھ تلاش کرنا چاہا مگر وہاں اجنبیت تھی ، میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ لوگ گاڑی سے اُتر گئے اور گاڑی نے رینگنا شروع کیا ۔ میں نے پلیٹ فارم کی طرف دیکھا جو سنسان پڑا تھا ۔ آسمان پر بادلوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا ۔ ہر طرف دھوپ ہی دھوپ تھی ، تیز دھوپ ۔،

2 comments

  • anjum kidwai

    زبر دست افسا نہ ہے جتنی بار اسے پڑ ھتی ہو ں ہر بار الگ معنی نکل کے آتے ہیں ۔بہت خو شی ہو ئی کہ آپکا افسا نہ "پر واز " پر ہے ۔بہت ساری کا میا بی کی دعا ئیں

    anjum kidwai Comment Link
  • Naeem Baig

    بہت خوبصورت اثر انگیز تحریر۔ اس افسانے پر میں اپنے مکمل تاثرات عالمی اردو افسانہ فورم پر دی چکا ھوں تاھم یہ افسانہ آپ کئی بار پڑھ سکتے ھیں اور تعریف بھی کر سکتے ھیں۔ بہت سی داد و تحسین وحید قمر کے لیئے۔ جو رومینٹیک تحریروں کے لیئے شہرت رکھتے ھیں۔

    Naeem Baig Comment Link

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

نیا مضمون

Calendar

« March 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

ممبر لاگ ان

Go to top