شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار

Rate this item
(0 votes)
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی)جاری


تیسرے روز مقالات کے علاوہ، شام افسانہ اورڈرامہ”خاک وطن“ کا انعقاد
10/دسمبر2018ء
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے تیسرے دن اردو کے دو اجلاس،انگلش کا ایک اجلاس اور شام افسانہ کی محفل منعقد کی گئی۔ساتھ ہی اس مو قع پرشام پانچ بجے آرجی پی جی کالج میں حب الوطنی پر مبنی ڈرامہ ”خاک وطن“ اسٹیج کیا گیا۔
سیمینار کے پہلے اور دوسرے اجلاس جو پروفیسر عظیم الشان صدیقی اورعابد سہیل کے نام تھے کی محفل صدارت پراسرار گاندھی، الہ آ باد، ڈاکٹر حسن البنا، بنگلہ دیش، ڈا کٹر عابد حسین حیدری، سنبھل، جاوید انور،عارف نقوی، پروفیسر صا لحہ رشید، الہ آ باد، ڈاکٹر محمد کاظم،ڈاکٹر اکبر علی،کے پی شمس الدین، احمد حسنین رونق افروز رہے۔جبکہ تیسرے اجلاس(انگلش) جو سابق وائس چانسلر آنجہانی پروفیسر ارون کمار کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا کی محفل صدارت پرڈاکٹر جمال احمد صدیقی، ڈاکٹر انویتا اگروال اور رما نہرو رونق افروز رہے۔ان تینوں اجلاس کی نظامت بالترتیب ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی اورمدیحہ اسلم نے کی جب کہ مقالہ پڑھنے والوں میں ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ، ڈاکٹر عابد حسین حیدری، ڈاکٹر نشاں زیدی،ڈاکٹر ایم اے حق، رانچی،حقانی القاسمی، ڈاکٹر فرحت خاتون، ڈاکٹر یو سف رام پوری، آدیتی، ورشا شامل رہے۔
شام تین بجے افسانے کی محفل منعقد کی گئی جس کی صدارت بدر الاسلام، انجینئر رفعت جمالی،جی ایم مصطفی اور ڈا کٹر نگار عظیم نے کی اور اس محفل میں ڈاکٹر اختر آزاد،نصرت شمسی،بشیر مالیر کوٹلوی وغیرہ نے اپنے افسانوں کی قرأت کی۔افسانوں کو سامعین نے خوب پسند کیا۔ اس محفل کی صدارت ناصر آزاد نے کی۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشہور نقاد حقانی القاسمی نے کہا کہ ادب سماج کا آئینہ ہے اس لیے اس میں سماجی تغیرات کی عکاسی لازمی ہے۔اگر فکشن کا بھی ہم مطا لعہ کریں تو پریم چند سے لے کر اب تک اپنے عہد کے تمام سماجی تغیرات اپنی پو ری آب و تاب کے ساتھ افسا نوں اور ناولوں میں جھلکتے ہیں اور اسلوب و انداز ان کے موافق ہے۔ مثلاً نائن الیوین کے بعد جو بیا نیہ کہانیوں میں سامنے آ یا وہ اپنے قبل کے عہد سے مختلف تھا۔ سماجی تغیرات اور اسلوب و بیانیہ کا یہ انداز یوں تو سبھی زبانوں کے فکشن میں نظر آ تا ہے مگر اردو فکشن بالخصوص اردو افسانے کی یہ خاصیت رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ احتجاج کا الم تو بلند کیا ہے لیکن جارحیت کو کبھی اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دیا ہے۔در اصل جارحیت منفی نظریات کا نتیجہ ہو تی ہے جو معاشرے کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ادیبوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام استحصالی سازشوں کی مخا لفت کریں۔کیونکہ استحصال سے بغاوت اور بغا وت سے جارحیت کی لے پیدا ہوتی ہے مثلاً عورتوں کے سا تھ انصاف نہیں کیا تو وہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں جس کا یقینا احترام کیا جانا چاہئے مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ بغا وت سے نکل کر جارحیت کی حد میں داخل ہو رہی ہیں جن سے ہما ری اخلا قی روایات متاثر ہورہی ہیں۔ اس کا خیال رکھیں۔
اس موقع پرڈا کٹر اسلم صدیقی، ڈا کٹر ہما مسعود،ڈا کٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی،ڈا کٹرضیاء، محمد بشیر مالیر کوٹلوی،فر زانہ بنت عاصم،مسعود اختر،شاداب علی،انیس میرٹھی، ڈا کٹر فر حت جہاں،امیر عالم، اسرار احمد، آفتاب انصاری،فیضان انصاری،محمد شمشاد،اشتیاق سعید،عبدالباری،ارشد منیم،جاوید انور،احمد حسنین،نیاز اختر،نذیر میرٹھی، رفیق،ریوانی،عمائدین شہر اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔

 

Last modified on

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

نیا مضمون

Calendar

« March 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

ممبر لاگ ان

Go to top