اداریہ : پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ

Rate this item
(0 votes)
اداریہ : پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ

اداریہ:  

پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ

 

                                اردو کو ووٹ بینک بنایا جائے

                 عالمی پرواز کے قارئین کو نئے سال کی دلی مبارکباد

            لیجئے وقت کے بے کراں سمندر میں ایک بوند  2018  پھر سما جانے کو ہے۔ایک نیا سال ہمارے رو برو ہے۔ گذشتہ برسوں کی طرح گذرتے ہوئے سال  2018نے ہمیں اردو کے فروغ کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اردو کی مقبو لیت کے شور وغو غا میں ہم اس کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جو بچے ایم۔اے، ایم فل تک پہنچ رہے ہیں، ان میں بھی زیا دہ تعداد مدارس اور پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے وا لوں کی ہے۔ مدارس کے طلبہ تو عربی،فارسی پس منظر سے آ تے ہیں تو ان کی زبان بہتر ہوتی ہے۔ وہ تھو ڑی سی سنجیدگی اختیار کرتے ہیں تو بہت بہتر طا لب علم ثابت ہوتے ہیں۔لیکن پرا ئیویٹ، بی اے اور ایم اے کرنے وا لے طالب علم اردو میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی بنیاد بھی کمزور ہو تی ہے۔

            در اصل اس کی جڑ پرائمری سطح کی تعلیم میں پیوست ہے۔ جنوب کی کچھ ریاستوں اور کشمیر، بہار، بنگال کو تھو ڑی دیر کے لیے الگ کردیا جائے تو اردو میں پرا ئمری کی تعلیم کی صورتِ حال بہت خراب ہے۔ اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب، اترا کھنڈ، را جستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اڈیسہ وغیرہ ریاستوں میں پرائمری سطح پر اردو کا نظم بہت ہی ناقص ہے۔ زیادہ تر ریاستوں میں اس سطح پر اردو ہے ہی نہیں، جہاں ہے، وہاں طا لب علم نہیں اور جہاں طالب علم ہیں وہاں اردو کے مستقل استاد کی کمی ہے۔پھر سو نے پر سہا گہ یہ کہ سر کاری اسکولوں میں اردو کی کتب کی فراہمی بھی کم کم ہے۔ غیرسرکاری پرائمری اسکولوں میں اردو، سرکاری سطح کے اسکولوں سے بہت اچھی صورت میں نہیں ہے، ہاں وہاں انگریزی کے انداز میں خوبصورت اور رنگین کتب کا استعمال ضرور ہو تا ہے۔ پرا ئمری سطح سے بی اے، ایم اے اور تحقیق تک آ تے آتے اردو کے طا لب علموں کی تعداد میں بتدریج کمی ہو تی جاتی ہے۔

            غیر مسلم طلبہ و طالبات کے فی صد میں بھی کمی آئی ہے۔ شعرا، ادبا، ناقد و محقق میں بھی اب غیر مسلم حضرات کا فقدان ہے کیو نکہ نئی نسل اس طرف نہیں آرہی ہے۔ پروفیسر نارنگ،رتن سنگھ، گلزاردہلوی، گلزار، کے ایل نارنگ ساقی،چندر شیکھر، بلراج بخشی، رینو بہل،دیپک بدکی،جیسے لوگ تبرک کے طور پر ہیں۔ان کے بعد کی کو ئی نسل اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔

            قومی اردو کو نسل اور اکا دمیوں کے اردو مراکز اور اردو کو چنگ اسکول سے ایک امید زندہ ہو ئی تھی کہ ان کے خاطر خواہ اثرات قائم ہوں گے اور نئے لوگ اردو کی طرف آ ئیں گے۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ہزاروں ایسے مراکز سے فارغ ہو نے والے لا کھوں طلبہ کہاں گم ہو جاتے ہیں، ان میں زیا دہ تر کا مقصد زبان سیکھنا نہیں ہو تا بلکہ سند اور اسکا لر شپ حاصل کرنا ہو تا ہے۔یہی با عث ہے کہ فرا غت کے بعدیہ زبان سے تعلق قائم نہیں رکھ پا تے ہیں۔

            اردو اخبارات کے متعدد ایڈیشنز سامنے آ رہے ہیں۔ اخبارات کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ مگر اردو کی ریڈرشپ میں مناسب اضا فہ نہیں ہو رہا ہے۔ ایک سر وے کے مطابق یوپی کے اکثر شہروں کے مسلم علا قوں میں اردو اخبارات سے زیادہ امر اجالا اور دینک جاگرن پڑھے جاتے ہیں۔

            یو نیورسٹی، کالج، ریڈتو اسٹیشن، دور درشن، سرکاری ادارے، سر کاری رسائل وغیرہ میں اردواساتذہ اور دیگر آسامیاں بھری نہیں جا رہی ہیں۔ فخر الدین علی احمد میمو ریل کمیٹی اور ملک کی متعدد اکا دمیوں میں اردو کی جگہیں برسوں سے خالی کی خالی پڑ ی ہیں۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ اردو اکا دمیوں اور دوسرے اداروں میں جو ممبران رکھے جا رہے ہیں ان میں بیشتر اردو سے نا واقف ہیں۔ یہی نہیں اردو ادارے اپنا کام کاج انگریزی اور ہندی میں کررہے ہیں۔

            مشاعروں کا بھی عجب حال ہو گیا ہے۔ واہ، واہ، کیا بات ہے، مکرر، کیا مصرعہ ہے، جواب نہیں، مصرعہ اٹھانا جیسے مشاعرہ سننے کے آ داب اب غا ئب ہو تے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ داد کی بھیک مانگنا، تالیاں بجانا، ہندی میں کلام لکھ کر لانا،کسی غیر ادبی شخص کی صدارت،عام سی بات ہو تی جا رہی ہے۔ سیمیناروں کے احوال سے بھی سب واقف ہیں۔ روز بہ روز گرتا معیار، غیر معیاری مقا لے، سوالات سے عاری سیشن80 فیصد سیمینار، اپنے مو ضوع کا مکمل احا طہ بھی نہیں کر پاتے۔

            پو رے ملک میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد میں خا طر خواہ کمی واقع ہو رہی ہے۔ سر کاری اسکولوں میں ہندی کے ساتھ سنسکرت پڑھا ئی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ کم و بیش ملک کے بڑے حصے میں ہے۔ ہم اردو والے حسین منظر ناموں میں کھو ئے جشن تک محدود ہو تے جا رہے ہیں۔ مشا عروں میں بے شمار سامعین میں سے اکثر اردو رسم الخط سے نا واقف ہیں۔ مشاعروں اور پرو گرا موں کے بینر، مسجدوں، قبرستانوں، شادی گھروں کے بورڈ ہندی اور انگریزی میں تیار ہورہے ہیں۔

            2018ء میں ان حالات میں ہم سو رہے ہیں۔ نئے سال  2019میں ہمیں چا ہئے کہ ہم اردو کی جڑوں (پرائمری سطح کی تعلیم) کو پانی دیں۔ پرائمری سطح سے اعلی تعلیم کے ادارے اور مدارس کے ذمہ داران ایک پلیٹ فارم پر بیٹھیں۔ مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی سطح پر اردو کے لیے کام کیا جائے۔ سیاسی پارٹیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسلم علاقوں میں اردو میں تشہیر کریں۔اردو کی سوجھ بوجھ رکھنے والے امید وار میدان میں آئیں اور اردو کو ووٹ بینک بنایا جائے تا کہ ایکPressure Group بن سکے۔ایم پی،ایم ایل اے حضرات  کے پانچ سال کے کاموں میں اردو کے مسائل بھی ہوں۔جب ایسا ہوگا تو اردو کے مسائل خود بخود حل ہوں گے۔ نئے سال  2019پر ہم اپنی زبان کے لیے ضرور کوئی منصوبہ بنائیں اور اس پر عمل کریں،تاکہ نئے سال 2019ء کا استقبال با معنی ہو سکے۔

Last modified on

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

نیا مضمون

Calendar

« March 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

ممبر لاگ ان

Go to top