شعر و سخن

غزل : GHAZAL ‎نغمہ ناز مکتومیؔ - NAGHMA NAAZ MAKTOOMI " اپنے شریکِ حیات کے نام " ‎بہت اُداس ہے موسم چلے بهى آؤ تم ‎ہماری آنکھیں ہوئیں نم چلے بهى آؤ تم ‎ فضائيں بدلی ہیں منظر بھی روکھا روکھا ہے ‎بہت خراب ہے موسم چلے بهى آؤ تم ‎نہ جانے كون سا دن كون سى گھڑى ہو گی ‎کھڑی ہوں دور ہو ہر غم چلے بهى آؤ تم ‎پرندے لوٹتے ہیں روز آشیانوں میں ‎انہیں سے سیکھ لیں کچھ ہم چلے بھی آؤ تم ‎گزر گئیں کئی صدیاں کہ تم بسے پرديس ‎ پکارے دیس کا موسم، چلے…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
غزل رضواں واسطیؔ کچھ بوجھ سا دل پر ایسا پڑا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے ہر رنگ بہاراں خاک ہوا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے تیرے جھوٹے وعدوں کے آنچل ہم اُوڑھ کے سو تو جاتے تھے اک خواب تھا سو وہ بھی نہ رہا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے پانی تو ملا شفاف بہت لیکن پانی پھر بھی پانی ہے اک عکس بنا اور مٹ بھی گیا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے جو ہو گیا وہ تو ہونا تھا ، قسمت کے لکھے کو رونا کیا بے وقت جو توڑا عہدِ وفا ہم ٹوٹ گئے…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
غزل ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ کلکتہ، انڈیا This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. MOBILE No. 7518713348 تقاضے چاہ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ نبھانے آتے ہیں ہمیں ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ بہانے آتے ہیں کبھی خوشی ﺗﻮ کبھی ﻏﻢ سنانے آتے ہیں ﻣﻼﻝ ﺩﻝ ﮐﺍ ہمیشہ مٹانے آتے ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ بھول ﭼﮑﮯ تھے ہمیں زمانے سے کسی بہانے سے ہم ﮐﻭ منانے آتے ہیں قیام کرتے ہیں یوں ﺗﻮ ﺩﻟﻮﮞ پہ ﺑﺮﺳﻮﮞ تک ﭘﮭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻟﻮﮞ کو ﺩُکھانے آتے ﮨﯿﮟ کسی ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻭ ﺩﻝسے بھلاﻧﺎ ہے مشکل ﺩﻟﻮﮞ میں آگ ہمیشہ لگانے آتے ﮨﯿﮟ ﺭﺩﺍ ﮐﻭ ﺭﺍﮒ نئے گنگنانے آتے ﮨﯿﮟ حسین ﺷﻌﺮ ہمیں بھی…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام! ڈاکٹر زین رامشؔ مرے بیٹے! تمہارا چہرہ پر نور میرے دل میں بستا ہے تمہاری مسکراہٹ ذہن کی تاریکیوں میں نور بنتی ہے مری راتیں تمہاری خواب کی تعبیر چنتی ہیں محبت کی لطافت کی صباحت کی عجب تصویر بنتی ہے میں اس تصویر کو آنکھوں میں پھر محفوظ کرتا ہوں تصور کی نگاہوں سے اسی تصویر میں پھر رنگ بھرتا ہوں حسیں رنگوں کی آمیزش نئے منظر سجاتی ہے وہی منظر دل و جاں کو متاع سرفرازی بخش دیتا ہے مرے بیٹے! تمہارا چہرہ پر نور میرے دل میں بستا ہے تمہاری ہر…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
غزل دلشاد نظمی ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے چلیں گی آندھیاں اعلان کر دیا گیا ہے پتہ نہیں میں کبھی فائدہ بھی لکھ پاؤں کچھ اس قدر مرا نقصان کر دیا گیا ہے یہاں سے امن کے حامی گزرنے والے ہیں یہ رستہ اس لئے سنسان کر دیا گیا ہے بھگت رہا ہوں میں وعدوں کی تلخ سچائی تجھے بھی ماءلِ امکان کر دیا گیا ہے قصاص مانگ رہا تھا امیرِشہر سے جو دِیَت میں اس کو بھی قربان کر دیا گیا ہے اٹھا دیے گئے رستوں سے میل کے پتھر مسافروں کو پریشان کر دیا…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
نظم احمد نثارؔ بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی ٭٭٭٭ اس دور جہالت کو قضا کیوں نہیں آتیہر سمت محبت کی فضا کیوں نہیں آتی ٹھوکر سے سنبھلتے ہیں سبھی، تو نہیں سنبھلاآخر تجھے جینے کی ادا کیوں نہیں آتی کیوں بوجھ سمجھتے ہیں سروں پر یہ دپٹےبے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی کیا ہوگیا تقویٰ کی نظر تیری نظر کوآوارہ نگاہوں کو حیا کیوں نہیں آتی تا عمر جہنم کے خزینے کو کما کرروتا ہے کہ جنت کی ہوا کیوں نہیں آتی کیا بیچ دیا تونے ضمیروں کو زمانے؟تجھ کو تِرے اندر کی…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
 وقت گواہ ہے رضواں ؔواسطی جمشیدپور اس کے خلاف آواز اٹھانا دہشت گردی ظلم کو سہنا بھی تو ظلم ہے کچھ لوگوں نے ’ستونِ دار‘ کو ’سر کے چراغوں‘سے تھا سجایا اب وہ کہاں ہیں؟ کچھ دیوانے ’کوئے یار‘ سے نکلے ’سوئے دار‘ چلے تو کسی نے سرخ آنچل کو پرچم بنا کے دیکھا مڑ کے نہ دیکھا سرخ سویرا خواب تھا ان کا ؒخواب رہ گیا قفس کی دیواروں سے سر ٹکراتے رہے وہ کچھ دیواریں ٹوٹی بھی تھیں لیکن کچھ آزاد پرندے مست مگن تھے اپنی اڑانوں میں کچھ ایس اپنی حدوں سے آگے بڑھ گئے جنت ان…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
وطن کی فریاد(ایک گیت)شاعر: احمد نثارؔممبئی، مہاراشٹراMob: 09325811912 / 9175562265Email: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. آپ کا ملک ہو ں کچھ تو میری سنو آپ کا ملک ہو ں، کچھ تو میری سنومیری آواز ہے، میرے نالے ہیں یہمیری فریاد ہے، کچھ تو میری سنو۔۔۔۔ آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو! خوں سے یوں نہ رنگو، میرے اِتِہاس کویوں نہ توڑو کبھی، میرے وشواس کومیں کبھی بھی تمہیں، غیر جانا نہیں مجھ کو اپنا کبھی، تم نے مانا نہیں دھرم کے نام ملکوں کی تقسیم کیکیا کبھی میں نے نفرت کی تعلیم دیکیوں محبت کے دامن کو چھوڑے ہوتماپنے ہی آپ سے…
Published in شعر و سخن
Read more... 0
غزل منصورخوشترؔ وہ اتنا کم سے کم تو مہرباں ہےمرا ہی نام زیبِ داستاں ہےسلیقے سے جو کرتا دشمنی بھیستمگر اب کوئی ایسا کہاں ہےکہانی شوق کی ہے میرے اتنیکہ اک مٹی کا پانی پر مکاں ہےمجھے اب کیا کسی شے کی ضرورتترا غم جب متاعِ جاوداں ہےبھلا کیسے یقیں اس پر کروں میں مرا محبوب مجھ سے بدگماں ہےکہانی فیس بُک پر ہے رقم ابمحبت اپنی مشہورِ جہاں ہےمجھے خوشترؔ وطن اپنا ہے پیارازمیں پر خُلد یہ ہندوستاں ہے منصورخوشترؔ
Published in شعر و سخن
Read more... 0
غزل شاعر: احمد نثارؔ اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہےسوچ لو یہ وقت کی للکار ہے کیا عجب دل کیا عجب دلدار ہےتیرے گلشن میں نہ گل، نہ خار ہے میان ہے نہ دھار کی تلوار ہےاب خودی ہے نہ کوئی خود دار ہے رقص ہے نہ روح کے طاؤس میں دل کی پائل میں نہ اب جھنکار ہے اک مذاقِ زندگی ہے یہ مزاحنامِ فن ہے، اب کہاں فنکار ہے یہ سمجھنا ہی بہت مہنگا پڑازندگی یہ کونسی دشوار ہے اپنے آباء کی کبھی تاریخ پڑھجان، دشمن، کون تیرا یار ہے اپنی دانائی سے تھوڑا کام لےدیکھ…
Published in شعر و سخن
Read more... 0

نیا مضمون

Calendar

« March 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

ممبر لاگ ان

Go to top