ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ " فوزیہ اختر ردا " کی غزلوں پر تبصرہ : پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی

Rate this item
(0 votes)
ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ " فوزیہ اختر ردا "  کی غزلوں پر تبصرہ : پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی

 

ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ "فوزیہ اختر ردا"  کی غزلوں پر تبصرہ  قارئین کی نذر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ۔۔۔ پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی

 

فوزیہ اختر ردا  کی شاعری اردو شعر و ادب میں نئی روح پھونکنے اور نئی زندگی بخشنے والوں میں شعرا، ادبا، ناقدین، افسانہ نگار، مقالہ نویس، اساتذہ (Men)، کے شانہ بشانہ خواتین اساتذہ، شاعرات، ادیبہ و ناقدہ، مضمون و مقالہ نویسندہ، کہانی کار، گلوکارہ، اداکارہ وغیر حضرات women artist یعنی ذہین و فطین، زن و خواتین فنکار بھی ازل سے کارہائے نمایاں انجام دیتی رہی ہیں مثلا زیب النسا، بیگم مخفی، حبہ خاتون، مہ جبیں بیگم ناز عرف مینا کماری، پروین شاکر وغیرہ- جدید اور وحید العصر شاعرات میں بھی متعدد اور منفرد نیز مختلف مکاتیب فکر کی قابل قدر خواتین قلمکار حضرات موجود ہیں جو تحریری تصاویر اور نقوش مقدس پیش فرما کر سرخرو ہو رہی ہیں ان ہی میں سے ایک بالکل نئی  شاعرہ محترمہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ ہیں جو دنیائے شعر و ادب میں مشق سخن اور مسلسل تخلیق فن کے سبب روز بروز فوز و کامرانی حاصل کر رہی ہیں اور ترقیوں کی سیڑھیاں چڑھتی جا رہی ہیں۔ بحر متقارب مثمن محزوف کے مخصوص ارکان فعولن فعولن فعل کے تحت فوزیہ اختر ردا فرماتی ہیں۔۔۔

 

وفاؤں کا وہ مستقر لے گیا

مری چاہتوں کا ہی گھر لے گیا

محبت" اگر شرط بندوں سے ہے "

فرشتوں سے بازی بشر لے گیا

مرے پاؤں سے اس نے کھینچی زمیں

سفر سے مرے ، رہگذر لے گیا

 تماشا، تصنع کہ مکر و فریب

 دعاؤں سے تیری اثر لے گیا

 ابھی اس کا مرکز کوئی  اور ہے

 کدھر کا نشانہ کدھر لے گیا

 اس دور پر آشوب میں اردو کی شاعرات جدید تحریک اور ہیجان 

& Stimulation Encouragement سے متاثر ہو کر اپنے اضطراب، اضطرار، جوش و ہیجان، ہلچل، بے تابی اور بے قراری STIR & AGITATION کو اپنے جدید سے جدید تر اسالیب، شعریات و منظومات، غزلیات و مثنویات اور قطعات و رباعیات وغیرہ میں پیش کر رہی ہیں۔ بحر خلیل جیسی ثقیل، سخت اور مشکل وزن کے اہم افاعیل و ارکان " فعولن فاعلاتن فاعلاتن" کے تحت عزیزہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ کہتی ہیں ۔۔۔

 

 

 جوآنسو ہم بہانے لگ گئے ہیں

سمندر کو دہانے لگ گئے ہیں

 شب تاریک بھی بے خواب گذری

 اجالے بھی ستانے لگ گئے ہیں

 یہ دل ہر دم سرابوں میں رہا ہے

 بیاباں میں زمانے لگ گئے ہیں

 دعا کی ہے رسائی  عرش پر اب

تو ہم دل کو منانے لگ گئے ہیں

 یہ تنہائی  سنور جائے مری اب

 کہ لمحے مسکرانے لگ گئے ہیں

محبت سے صدا دی منزلوں نے

 قدم ہم بھی بڑھانے لگ گئے ہیں

 

اس غزل کے مطلع پر خدائے سخن میر تقی میر، اکبر آبادی، مرزا اسد اللہ خان غالب، شوکت علی فایونی بدایونی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری وغیرہ کی روحیں رقصِ درد و غم فرمائیں گی ویسے ردا کے بیشتر اشعار میں حکیم مومن خاں مومن، نواب مرزا خاں داغ دہلوی، سید فضل الحسن حسرت موہانی وغیرہ کے رنگ بھی ہیں۔ ردا نے ویسی علامتوں کا ذکر بالکل نہیں کیا جو غزل کے روایتی اسلوب سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔ ردا کے اشعار سادہ، سنجیدہ اور پسندیدہ ہیں۔ پھر خفیف مسدس مجنون محزوف مقطوع کے مخصوص ارکان "فاعلاتن مفاعلن فعلن" کے تحت فوزیہ اختر ردا فرماتی ہیں۔۔۔

 

مضطرب آرزو ضروری ہے

 آنکھ میں بھی نمو ضروری ہے

تجھ کو پانا نہیں ہے ناممکن

ہاں مگر جستجو ضروری ہے

 ربط رکھنے کے واسطے ہمدم

 فون پر گفتگو ضروری ہے

 پیار کرنا مگر تخیل میں

 پیار کی آبرو ضروری ہے

 اپنی منزل کی دید کی خاطر

 راہ میں ماہ رو ضروری ہے

 بن چکی ہے ردا فقط اس کی

 شور یہ کو بکو ضروری ہے

 

 اردو غزل میں ردا نے ہندی و انگریزی وغیرہ کے بھاشاؤں کے شبدوں کا ذکر بڑی خوبصورتی سے کیا ہے جو قابل داد و مبارکباد ہے- چونکہ اردو لشکری زبان ہے اردو بھاشاؤں میں تمام بھاشاؤں کے الفاظ شامل ہیں جن سے غزل تخلیق کرنے اور سکیولر (secular) اور ٹیمپورل (Temporal) مزاج رکھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ موجودہ زمانے میں پنپتے ہوئے کٹھ ملے پن، جہالت بھرے پنڈت پن، نصرانیت و یہودیت وغیرہ کے بے جا اور نہایت نا معقول و خطرناک اور مضر اثرات کے باعث جدید نسلیں تباہ و برباد بلکہ نیست و نابود کی حدود تک ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ حیف صد حیف!! مجھ جیسے حقیر لیکن باروشن ضمیر فقیر رام داس جاوید المعروف والخطاب بہ "غالب ثانی" نے بحر رمل مثمن مجنون ابتر کے اہم افاعیل وارکان فاعلاتن، فعلاتن، فعلاتن، فعلن کے تحت کہا ۔۔

 

لوگ دنیا کے بنے جاتے ہیں دشمن ہر دن

مجھ کو دنیا کو بچانے کے لئے جینا ہے

 بحر ہزج سالم اخرب محزوف مقصور کے مخصوص ارکان مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن و فعولان کے تحت عزیزہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ کہتی ہیں۔۔

ملتے ہیں عداوت سے ہی جیون میں سبھی لوگ

 دشمن تو ملا کرتے ہیں پیارے نہیں ملتے

 اشکوں کے سمندر میں کنارے نہیں ملتے

 اب ڈوبنے والوں کو سہارے نہیں ملتے

 ہیں بھید جو گہرے، وہ مرے دل میں چھپے ہیں

 فوزی نے سمجھا تھا، شرارے نہیں ملتے

 

 فوزی کو ان کے دیور ( معنوی) شری پریم ناتھ بسمل جی بڑے پیار اور عقیدت و احترام سے "بھوجی" کہتے ہیں۔ ایشور یا اللہ عزیزہ فوزی یعنی فوزیہ اختر ردا و ان کے مجازی خدا (خاوند یعنی شوہر نامدار) عنقریب سمجھدار شاعرہ نواز ادیب یا بہترین انسان)  ان کی محسن و محب و مکرم سہیلی ڈاکٹر نگار سلطانہ نگار صاحبہ، حضرت منظور قاضی، رام داس وغیرہ کو ہمیشہ حسن اخلاق و حسن کردار نیز خلوص و اخلاص کی دولت سے نوازے۔۔ آمین! بحر مضارع اخرب مکفوف محزوف کے اہم ارکان مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن کے تحت فوزیہ اختر ردا نے چند بہترین اشعار تخلیق کئے ہیں۔۔

 

اس نے ہمیں جو عشق کا مہمان کر دیا

 راہ وفا پہ چلنا بھی آسان کر دیا

مجھ کو تو اس نے رسم محبت کے نام پر

 تاعمر تخت ہجر کا سلطان کر دیا

 اس نے تو الجھنوں میں گرفتار یوں کیا

سو الفتیں جتا کے پھر انجان کر دیا

 اک اس کو چاہنے کے ہی احساس نے

 ردا ویران زندگی کو گلستان کر دیا

 

 نئی شاعرات میں فوزیہ اختر ردا کی موجودگی اہم ہے۔ ابھی ردا کو بہت محنت کرنی ہے- اس پیاری شاعرہ کو بہت دور جانا ہے۔اس بے حس اور بے درد زمانے میں اس ادیبہ و شاعرہ کو اپنا لوہا منوانا ہے۔ اپنا مقام بنوانا ہے۔۔ میری دعائیں اور میری نیک خواہشات اس پاکیزہ اور پسندیدہ ہستی کے ساتھ ہیں۔ خدا ردا کو حضرت فاطمہ جیسی بنائے۔۔۔ آمین ۔۔۔۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

نیا مضمون

Calendar

« April 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 25 26 27 28
29 30          

ممبر لاگ ان

Go to top