کھلونا
"KHILAWNA"MAHTAB ALAM PERVEZ مہتاب عالم پرویز " کویت " شام کا وقت تھا - سوسائٹی کے سارے بچے کیمپس کے بنے ہوئے گراؤنڈ میں کھیل رہے تھے تب ہی پولیس کے سائرن کی آواز سُن کر کمالا سنڈاری بالکونی میں چلی آئیں کہ دیکھیں بچے کہاں ہیں - بچے اب بھی کھیل کود میں مصروف تھے- لیکن کمالا سنڈاری کی نگاہیں بچوں کی اس بھیڑ میں اپنے بچوں کو تلاش کر رہی تھیں اور وہ حیران و پریشان بھی تھیں کہ اُن کے بچے وہاں موجود نہیں تھے وہ اسی پریشانی میں نیچے چلی آئیں تب ہی اُس کی نگاہ سوسائٹی کے کیمپس سے باہر مین گیٹ پر پڑی جس کے ٹھیک سامنے کھلونوں کی کافی بڑی شاپ تھی – کمالا سنڈاری نے دیکھا کہ اُن کے سارے بچے کھلونے کی شاپ سے بڑی خوشی خوشی باہر آرہے ہیں جس میں اُس کی بارہ سالہ بیٹی منجولا بھی شامل ہے - سبھی بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں اوروہ سب کے سب دوڑتے ہوئےآ رہے ہیں...... دیکھتے ہی دیکھتے سارے بچے آگئے اور آتے ہی شور مچاتے ہوئے کہنے لگے...... "مما...... دیکھیں...... انکل نے یہ سارے کھلونے دیئے ہیں....." " اتنے سارے کھلونے...... ؟" " ہاں...