Skip to main content

Aalamiparwaz

یہ تیرے پُر اسرار بندے : نورالحسنین

                           یہ تیرے پُر اسرار بندے                                                     نورالحسنین                                    مسیح نے کہا تھا، ” بدن میں ایک ہی عضو نہیں، بلکہ بہت سے ہیں، اگر پاؤں کہے چونکہ میں ہاتھ نہیں اس لیے  بدن کا نہیں، تو وہ اس سبب سے بدن سے خارج  تونہیں، اور گر کان کہے چونکہ میں آنکھ نہیں اس لیے بدن کا نہیں،  تو کیا وہ بدن سے خارج ہوگیا؟  نہیں،  اگر سارا بدن آنکھ ہی ہوتا تو سُننا کہاں سے ہوتا؟ اگر سُننا ہی سُننا ہوتا تو سونگھنا کہاں ہوتا؟ مگر فی الواقع خدا نے ہر ایک عضو کو بدن میں اپنی مر ضی کے موافق رکھا ہے۔ اگر وہ سب ایک ہی عضو ہوتے تو بدن کہاں ہوتا؟ مگر  دیکھو ،  اعضا تو بہت ہیں لیکن بدن ایک ہی ہے۔ پس آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی کہ میں تیری محتاج نہیں، اور نہ سر پاوں سے کہہ سکتا کہ میں تمہارا  محتاج، بلکہ بدن کے وہ اعضا جو اوروں سے کمزور ہوتے ہیں، بہت ضروری ہوتے ہیں، اور بدن کے وہ اعضا جنھیں ہم اوروں کی نسبت ذلیل جانتے ہیں اُن ہی کو زیادہ عزت دیتے ہیں اور ہمارے نا زیبا اعضا...

ویران جنگل اور کتا : ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔ

ویران جنگل اور کتا ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔ وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر(انڈیا) 193221 Mobile: 9906834877                وہ بر سوں سے میٹھی نیند کے لئے ترس رہا تھا۔جب بھی اُس کی آنکھ لگ جاتی تو اُس کے اندر سے بھوں بھوں کی تکرار شروع ہو جاتی اور وہ بستر پر کر وٹیں بدل بدل کر سویرے کا انتظار کرتا رہتا۔سویرا ہونے کے باوجود بھی وہ تکیے سے ٹیک لگا کر سر تھامے دیر تک سوچتا رہتا کہ نیند آتے ہی اُس کے اندر سے کیوں بھوں بھوں کی تکرارشروع ہوجاتی ہے....؟ اُسے تو کبھی کسی کُتے نے کاٹا بھی نہیں ہے تو پھر۔۔۔؟ اب وہ کیسے اس حالت سے چھٹکارا پائے....؟ ڈاکٹر لوگ بھی ناکام ہو چکے تھے۔ماہرینِ نفسیات کی ہدایت تھی کہ سونے سے پہلے سوچنا بند کرنا‘سوچنا توبند ہو گیا لیکن بھوں بھوں کی تکرار جاری رہی۔پیروں فقیروں کے گنڈے تعویز سر پر باندھتے باندھتے وہ تھک چکا تھا۔ دفتر جاتے جاتے بھی اُس کی آنکھوں پر نیند کا خُمار چھایا رہتا تھا اور اُس کی توجہ آوارہ کتوں کی ہٹر بونگ کی طرف چلی جاتی تھی۔ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کے قدم کچھ پل کے لئے رُک جاتے اور وہ کچرے...

واپسی : سالک جمیل براڑ

واپسیسالک جمیل براڑبی اے،جرنلزم،اولیول،پی جی ڈی سی اے،ایم ایس سی(آئی ٹی)*شہر بھر کی خاک چھاننے کے بعد رنگی رام کے ہاتھ کچھ نہیں لگاتھا۔اب وہ چند لوہے کے ٹکڑے اور گتے اٹھائے لنگڑاتا ہوا آہستہ آہستہ ہزاری پرشاد کے کباڑ خانے کی طرف بڑھ رہا تھا۔اس کی دائیں ٹانگ میں درد ہو رہا تھا۔وہ بڑی مشکل سے لنگڑا کر چل رہا تھا۔ دوپہر تک کوئی قیمتی چیز ہاتھ نہ لگنے پر رنگی رام چوری کرنے کے لیے ایک گھر میں داخل ہوا تھا۔ لیکن اس گھر میں موجود اکیلی عورت نے اس کی خوب پٹائی کی تھی ۔بے تحاشا مار کھانے بعد وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا۔رنگی کو بہت چوٹیں لگی تھیں۔ساتھ ہی اس کی دائیں ٹانگ میں بھی بہت گہری چوٹ آئی تھی۔رنگی کو آج زندگی میں پہلی بار عورت کی طاقت کا احساس ہوا تھا۔ورنہ اس کے لیے عورت ربڑ کی گڑیا کی طرح تھی۔ جسے جب چاہے ،جیسے چاہے توڑا مروڑا جاسکتا تھا۔ اس کی بیوی مالا بالکل اسی طرح کی عورت تھی ۔ جو پچھلے بیس سالوں سے مار کھانے ،گندی گندی گالیاں سننے کے بعد بھی روزانہ رات کو اپنا جسم رنگی کے حوالے کر دیتی تھی۔لیکن آج وہ عورت کایہ روپ...

ہم بستر : تنضیر انصار

 تنضیر انصار ہم بستر  دسمبر کی وہ شدید سردی مجھے آج بھی یاد ہے جب سو رج کو دیکھے ہو ئے پندرہ دن بیت چکے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا گویاہر طرف سفیدی کی دبیز چادر بچھا دی گئی ہو۔زمین سے آسمان تک سفید بادلوں کا قبضہ تھا۔تعلیم گا ہوں میں چھٹی کا سر کاری حکم جاری کردیا گیا تھا۔ الاؤ اور رضا ئی کو چھوڑ کر باہر نکلنا جنگ پر جانے سے کم نہ تھا اور میرا دل یہ سوچ سوچ کر بیٹھا جا رہا تھا کہ آج مجھے لکھنؤ کا سفر کر نا ہے اور وہ بھی رات کی ٹرین سے۔ دن کے اپنے تمام کام نپٹا نے کے بعد میں نے اپنے دوستوں انیس اور اطہر کو فون لگایا۔ہم تینوں کو لکھنؤ جانا تھا اور ہم تینو ں لکھنؤ میں کو چنگ کررہے تھے اور ایک سا تھ رہ رہے تھے۔ٹرین رات ساڑھے آٹھ بجے کی تھی۔بریلی جنکشن سے ہی بن کر چلنے کی وجہ سے لیٹ ہو نے کے امکانات کم ہی تھے پھر ہمارا گھر بھی اسٹیشن سے آٹھ دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔اس لیے ہمیں سات بجے تک گھر سے نکل جانا تھا۔ دوستوں کے ساتھ سا را پرو گرام طے کر نے...

ہڑتال : نیاز اختر

ڈیر مہتاب بھائی اسلام و علیکم امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔آپ نے جمشید پور کی سطح پر ادبی ویب سائٹ ’’ عالمی پرواز ‘‘لانچ کرایک بڑا اورخوش آئند قدم اٹھایا ہے۔ا ﷲ تعالی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین !حسب ارشاد ایک تازہ ترین افسانہ بعنوان ’’ ہڑتال ‘‘ ارسال کر رہا ہوں امید ہے پسند آئے گا۔آپکا خیر اندیشنیاز ااخترایس۔ ڈی۔او ۔آفسجمشیدپورہڑتال نیاز اخترایس۔ڈی۔او۔ آفس ،جمشیدپورE-mail-niyazakhtar@40gmail.com ہڑتال ! ہڑتال !! ہڑتال!!’’ہماری مانگیں پوری کرو۔۔۔۔۔۔ انقلاب زندہ باد۔‘‘پچھلے کئی مہینوں سے گنگا رام جوٹ میل میں بھی ہڑتال کا سلسلہ چل رہا تھا۔ پانچ د س دنوں کی کئی ہڑتالیں ہوچکی تھیں۔مگر ناکام رہیں ۔ دنوں دن مزدور اور مالکوں کے بیچ کی کھائی پٹنے کے بجائے اورگہری ہوتی جارہی تھی ۔ یوں آسمان چھوتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے لگ بھگ سارے ڈپارٹمنٹ میں تنخواہ بڑھانے کے سلسلے میں ہڑتالیں ہورہی تھیں اور مانگیں بھی پوری ہورہی تھیں۔ لیکن گنگا رام جوٹ میل نے بہت دنوں سے مزدورں کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا۔ مل مالکوں نے جب چھوٹی چھوٹی ہرتالوں کو نظر انداز کردیا اور کوئی نوٹس نہیں لی تو مزدوروں نے مل جل کر یہ فیصلہ کیا کہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی جائے اور پھر مانگیں پوری نہ...

نیا اندھیرا : اسلم جمشید پوری ” NAYA ANDHERA ” ASLAM JAMSHEDPURI

گرلس ہاسٹل کا ایک کمرہ دیر رات تک جاگ رہا تھا۔ عالیہ : یار آج کل تو دیر رات تک مو بائل میں گھسی رہتی ہے۔کیا چل رہا ہے؟ حسن آرا : عالیہ میرا نام حسن آرا ہے۔میں جس کی بھی ہو جاؤں ،اس کی قسمت کھل جائے گی۔ عالیہ : ہاں مجھے پتہ ہے۔تیرے پا پا کا بہت بڑا کارو بار ہے۔ حسن آرا : صرف کارو بار یعنی دولت۔؟ عالیہ : نہیں،نہیں۔۔۔ تم حسن کا بھی لا جواب نمونہ ہو۔شاہکار ہو۔ حسن آرا : ہاں اب ہوئی نا بات۔عالیہ آج کل میں دو،باپ۔ بیٹوں کو فیس بک پر ایک ساتھ بے وقوف بنا رہی ہوں۔دونوں ہی میرے دیوانے ہیں۔تمھیںیاد ہے؟ ابھی کچھ دن قبل،میں نے پانچ۔پانچ نوجوانوں کو بیک وقت اپنی زلفوں کا اسیر بنا کر الو سیدھا کیا تھا۔اپنے موبائل اور دوسرے خرچے ایسے ہی نکلتے ہیںیار۔ عالیہ : یار مجھے تو بڑا ڈر لگتا ہے۔ حسن آرا : ڈر، کس بات کا؟ یہ نیا زمانہ ہے،یہاں کوئی ڈر ہے،نہ خوف، کچھ بھی کرو۔دوستی جیسا وسیع المعنی لفظ ہے ناہمارا۔ اور اب تو FBFیعنی فیس بک فرینڈ نے تو ہر مشکل آسان کر دی ہے۔خوبصورت سا کسی کا فوٹو لوڈ کرواور نوجوانوں خاص کر شادی شدہ مردوں...

نقب زن : فرحین چوہدری ۔ اسلام آباد

 نقب زن فرحین چوہدری۔۔۔۔۔اسلام آباد                      ڈاکٹر نے اس علاقے میں گھر خرید نے سے پہلے خوب جانکاری کرلی تھی صاف ستھرا ،اشرافیہ کا علاقہ ،جہاں ذاتیات میں مداخلت سے پرہیز کرنے والے ،ریشم کے کوبا جیسے ،اپنے خول میں گھٹ مرنے والے لوگ رہتے تھے ۔۔۔بھلے ساتھ والے گھر کو آگ لگ جائے ۔ ڈاکٹر کو تسلی ہوگی وہ پسماندہ علاقے سے نکل کر سعودی عرب جابسا تھا ۔خوب کمایا لیکن عورت کو گھردار ی کی دنیا تک محدود رکھا ۔پہلی بیوی کم پڑھی لکھی کزن تھی ،تین عدد بیٹیاں پیدا کرنے کے باعث مرعوب و مجبور ۔۔۔۔ڈاکٹر نے y chromosome کی کر شمہ سازی سے واقفیت کے باوجود ،بیٹے کے چکر میں کم عمر نرس کو دوسری بیوی بنالایا۔ثمینہ کا احتجاج ،آنکھوں کے راستے بہہ کر ڈوپٹے میں جذب ہوگیا ۔سعودی عرب میں الگ الگ فلیٹ تھے ،سو نہ رابطہ نہ کھچ کھچ ۔۔۔دوسرے وہاں شیوخ کے لمبے حرم ،ثمینہ کے دل کو دلاسہ دئے رکھتے۔ مگر پاکستان آکر ،اکلوتی بیویوں کے راج دل پر گھونسے چلانے لگے ۔حنا اوپر منزل اور ثمینہ نچل منزل کی مالکن بن گئی۔ حنا کے ہاں بھی بیٹ یک پیدائش نے ثمینہ کا جی خاصا...

نائٹ پارٹی : محمد اسلم آزاد NIGHT PARTY : MD. ASLAM AZAD

(افسانہ)  نائٹ پارٹی محمد اسلم آزاد اسسٹنٹ ٹیچر 2+ہائی اسکول ہنوارہ گڈا 8210994074            شیوانی نے گھر آکر اپنا اسکول بیگ ٹیبل پر رکھا اور جا کر ماں سے بولی..... مما: تین ہزار روپے دو نا پلیز...... تم نے کھانا کھایا؟شیوانی کی ماں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا.....  مماآج میں گھر سے باہر کھا کر آئی ہوں...... شیوانی تمہاری یہ روز روز باہر کھانے کی عادت بالکل ٹھیک نہیں ہے یا تو ٹفن لے جایاکر یا واپس گھر آ کر کھانا کھایا کرو سمجھ گئ؛اور یہ تجھے اچانک تین ہزارروپیہ کی کون سی ضرورت آن پڑی؟ شیوانی کی ماں رجنی ملہوترا نے بیٹی کو وارننگ دیتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا....اپنی ماں کے کڑے تیور دیکھ کر شیوانی کا چہرہ اتر ایا اور وہ روٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ.کچھ دیر بعد شوانی کے والد سومناتھ ملہوترا بھی گھر میں داخل ہوگئے وہ شہر کے ایک بڑی ٹیکسٹائلس کمپنی کے مالک تھے انہوں نے آتے ہی شوانی کو آواز دیشیوانی.... اوشیوانی؟بیٹی شیوانی کہاں ہو تم؟بیٹی کی طرف سے کوئی ردعمل نہ پانے پر وہ نہایت حیران و پریشان ہوئے کیونکہ شیوانی سومناتھ کی اکلوتی اولاد تھی جسے دونوں نے بڑے لاڈ اور...

نا دان بھائی : ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ رمضان کے منظر نامے میں خواتین کے ایک اہم مسئلے کو عمدگی سے سمیٹے ہو ئے ایک منفرد کہانی نا دان بھائی ”سلام علیکم امی جان!“ ”سلام علیکم ابو جان!“ ”چاند دکھائی دے گیا ابو جان........“ ثنا نے تیز قدموں سے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔اتنے میں با ہر سے ساجد دوڑتا ہوا آیا۔ اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے بولا۔ ”رمضان کا چاند دکھ گیا ہے۔ سب کو سلام علیکم۔ابو..........آج سے تراویح شروع ہو جائیں گی نا؟“ ”ہاں بیٹا ساجد......آپ اچھے بچے ہیں۔ آپ تراویح کی نماز کے لیے میرے ساتھ چلئے گا۔“مرزا حشمت علی نے بیٹے کو سمجھایا۔ پورے محلے میں شور شرابہ شروع ہو گیا تھا۔ مسجدوں سے اعلان ہو رہا تھا۔ رمضان کی اہمیت بتائی جا رہی تھی۔ سحر اور افطار کا وقت بھی بتایا جارہا تھا۔ بچے شور مچاتے ٹولیوں کی شکل میں ٹوپیاں لگائے اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔ خرید و فروخت کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ دودھ، ڈبل روٹی۔ شیر مال۔لچھے،کھجور،فینی وغیرہ کی فروخت ہونے لگی۔ رمضان بھی کس قدر رحمت کا مہینہ ہے۔ گیارہ مہینے الگ۔ رمضان کا مہینہ الگ۔ خدا کی رحمتیں اور برکتیں ایسی عام ہوتی ہیں کہ کوئی بد نصیب ہی ان سے محروم رہتا ہوگا۔نماز...

نا دان : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 ڈاکٹر اسلم جمشید پوری  رمضان کے منظر نامے کو عمدگی سے سمیٹے ہو ئے ایک منفرد کہانی  نا دان         ”سلام علیکم امی جان!“       ”سلام علیکم ابو جان!“       ”چاند دکھائی دے گیا ابو جان........“       ثنا نے تیز قدموں سے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔اتنے میں با ہر سے ساجد دوڑتا ہوا آیا۔ اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے بولا۔       ”رمضان کا چاند دکھ گیا ہے۔ سب کو سلام علیکم۔ابو..........آج سے تراویح شروع ہو جائیں گی نا؟“       ”ہاں بیٹا ساجد......آپ اچھے بچے ہیں۔ آپ تراویح کی نماز کے لیے میرے ساتھ چلئے گا۔“مرزا حشمت علی نے بیٹے کو سمجھایا۔ پورے محلے میں شور شرابہ شروع ہو گیا تھا۔ مسجدوں سے اعلان ہو رہا تھا۔ رمضان کی اہمیت بتائی جا رہی تھی۔ سحر اور افطار کا وقت بھی بتایا جارہا تھا۔ بچے شور مچاتے ٹولیوں کی شکل میں ٹوپیاں لگائے اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔ خرید و فروخت کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ دودھ، ڈبل روٹی۔ شیر مال۔لچھے،کھجور،فینی وغیرہ کی فروخت ہونے لگی۔ رمضان بھی کس قدر رحمت کا مہینہ ہے۔ گیارہ مہینے الگ۔ رمضان کا مہینہ الگ۔ خدا کی رحمتیں اور برکتیں ایسی عام ہوتی ہیں کہ کوئی بد نصیب...

نئی سوچ کا پرنٹ آؤٹ: ڈاکٹر اختر آزاد -NAYI SOCH KA PRINT OUT : DR. AKHTAR AZAD

   افسانہ نئی سوچ کا پرنٹ آؤٹ ڈاکٹر اختر آزاد DR.AKHTAR AZAD شادی سے پہلے میں بھی وہی چاہتا تھا۔ لیکن اس سلسلے میں کبھی اس نے مجھ سے کچھ کہا اور نہ ہی میں نے اس سے کچھ پو چھا۔ شادی میرے خیال سے کچھ پہلے ہو گئی تھی۔ لکچرر شپ کے بعد یہی کوئی تیس کے آس پاس میں شادی کے حق میں تھا۔ لیکن ایک بہن جو میرے بعد کے بھائی سے چھوٹی تھی،اس کی شادی ہوتے ہی بیمار ماں کے کاندھے پر کام کا بوجھ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا۔ ایک بہن چھوٹی تھی۔ جو میٹرک میں تھی۔ اس سے پورے گھر کا کام نہیںلیا جا سکتا تھا۔ دونوں میں ایک ہی کام اُسے دیا جا سکتا تھا۔ گھر کا کام سنبھالنا یا پھر پڑھنا کام دو سروں سے لیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کی جگہ ہر کوئی دوسرا بن کر پڑھ نہیں سکتاتھا؟ اس لیے ماں نے اپنے کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک دن مجھے ہلدی لگا کر دُلہابنا یا۔ پھر کیا تھا:بہو کے رُوپ میں صبا جیسی بھولی بھالی خوب سیرت لڑ کی گھونگھٹ کاڑھے گھرآ گئی۔ شادی کی پہلی ہی رات تھی ۔ اس رات نہ جا نے کیسے گھنٹہ بھر کے اندر ہی ہم...

میں کیا کروں ؟ : خطیب الرحمان پرویز

 میں کیا کروں ؟ خطیب الرحمان پرویز دربھنگہ ہا ؤس،شاہین باغ،ابوالفضل انکلیو  جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔25              دفتر سے گھر لوٹتے وقت اچانک ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی .......’’ اشتیاق رکو میرے یار .......‘‘ آواز کچھ جانی پہچانی لگی اس لئے میرے قدم خود بخودرک گئے ۔نظریں ادھر ادھر دوڑائیں تو دنگ رہ گیا ۔ سلطانہ ایک بیوٹی پارلر کی پر کھڑی مسکرا رہی تھی ۔میں بھی مسکراتا ہوا اس کے قریب جا پہنچا ۔علیک سلیک سے فارغ ہو کر میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات اس سے کر ڈالے۔اس نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ۔’’اشتیاق تمہیں معلوم ہے کہ ہم لوگ کتنے سالوں کے بعدمل رہے ہیں ........‘‘؟’’یہی کوئی بارہ سالوں کے بعد ........‘‘!! میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس سے کہا ۔’’اور اتنے سالوں کی باتیں چندمنٹوں میں ہی جان لینا چارہے ہو....... ‘‘؟اس نے اپنے پرس سے قلم اور کاغذکا ایک ٹکڑا نکالتے ہوئے کہا ۔تمہیں بتا نہیں سکتا ہوں میں کتنا خوش ہوں تم سے مل کر ،اتنے سالوں کے بعدجو ملاقات ہوئی ہے ۔بہت ساری باتیں کرنے کو دل چاہ رہا ہے.......میں جذباتی ہوتے ہوئے اس سے کہا ۔’’چلو بتاؤ ‘‘....’’کیا۔‘‘’’ارے با با اپنا فون...

مہندی رچے ہاتھ : اقبال حسن آزاد

 مہندی رچے ہاتھ  اقبال حسن آزاد              دور کہیں پہیوں کی گڑگڑاہٹ اُبھری۔کوئی ٹرین گذر رہی تھی ۔پھر وہ آواز معدوم ہوگئی۔اب ہر طرف سناٹا تھا اور ایک دبیز تاریکی۔اس کی آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھیں۔دونوں پپوٹے آپس میں یوں پیوست ہو گئے تھے گویا کسی نے انہیں گوند سے چپکا دیا ہو۔اس نے زور سے چلانا چاہا مگر اس کے حلق سے کوئی آواز نہ نکل سکی۔اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔وہ گہری،اندھیری اور دبیز دلدل میں دھنستا جا رہا تھا ۔ساتھ ہی ساتھ اس کے سارے احساسات بھی زرد موسم کے پتوں کی طرح اس کا ساتھ چھوڑے جا رہے تھے مگر امید کا ایک ننھا سا ستارا زندگی کی علامت بن کر جھلملا رہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس ستارے کے ذرا نیچے باریک سا چاند طلوع ہوا۔پھر اس کے کانوں میں خوشگوار ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ایک چہکار گونجی۔’’ابا!ابا!! میرے لئے نئے کپڑے.....‘‘ایک بچی کی معصوم فرمایش۔’’اور میرے لئے بہت سارے کھلونے......‘‘ایک توتلی آواز۔’’اور تمہارے لئے.....؟‘‘اس نے شرات آمیز نظروں سے سلمہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ستارہ جیسی آنکھوں والی نے اسے ایک لسٹ تھمادی۔چوڑیاں، مہندی،ساڑی،بلاؤز اور نہ جانے کیا کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے رو پہلا چاند غروب ہو گیا مگر وہ...

مسیحا : ناصر علی وارثی

                   مسیحا                                         ناصر علی وارثی                      ایک ماہ سے بھی کم وقت میں , میں ڈاکٹر بن کر گاؤں سے شہر آگیا تھا۔۔۔۔۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے جو نہ تو پہلے کبھی دیکھی، سوچی اور سنُی ہو گی۔لوگ ڈاکٹر بن کر شہر سے گاؤں جاتے ہیں لیکن میں گاؤں سے ڈاکٹر بن کر شہر آیا تھا۔شہر کے ڈاکٹروں کے قصے تو پہلے سن رکھے تھے مگر دیکھنا پہلی بار نصیب ہو رہا تھا۔بہر حال ڈاکٹر، ڈاکٹر ہی ہوتا ہے گاؤں کا ہو یا شہر کا۔                 میں نویں جماعت میں پڑھتا تھاایک رات میری آوارگی کو دیکھتے ہوئے گھر والوں کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا کہ کل شام سے تم گاؤں کے ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس ڈاکٹری سیکھنے جایا کرو گے۔میں دل ہی دل میں خوش تو ہوا کہ اب ہم بھی ڈاکٹر بن جائیں گے۔لوگ ہماری عزت کریں گے، اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پہ نادم بھی تھا کہ میں اور ڈاکٹر۔۔۔۔۔اوہ!!  وہ انگریزی کیسے پڑھنی ہے۔؟ گولیوں کے نام کیسے یاد کرنے ہیں۔؟ ٹیکا کیسے لگاناہے۔؟  خون کا بہاؤ کیسے دیکھنا وغیرہ...

محمدشریف کا عدم گناہ:شمو ئل احمد

 محمدشریف کا عدم گناہ  شمو ئل احمد                   اس کا دماغ سن سے رہ گیا__زمین پاؤں تلے کھسک گئی__ڈھائی لاکھ کا غبن__ وہ سر تھام کر بیٹھ گیا __منٹوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ اکاؤنٹس کلرک محمد شریف نے ڈھائی لاکھ کا غبن کیا ہے۔ کسی کو یقین نہیں آیا کہ یہ کام اسی کا ہے،لیکن کمپنی کے لیجر بک میں اس کا نام درج تھا اور کیش رول میں وصول کنندہ کی جگہ اس کا دستخط موجود تھا، منیجر کی میز پر کیش رول کھلا پڑا تھا۔ محمد شریف کمرے میں داخل ہوا تو منیجر نے چشمے کے اندر سے گھور کر دیکھا۔                 ”دستخط تو آپ کے ہیں __ ؟“                 دستخط اسی کے تھے منیجر کا لہجہ سخت ہو گیا۔                 ”آپ کو ایک ہفتہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ رقم جمع کر دیں ورنہ__“                 محمد شریف پر لرزہ طاری  ہو گیا۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں تھا۔ کسی طرح لڑکھڑاتا ہوا منیجر کے کمرے سے باہر نکلا تو عملے نے اس کو گھیر لیا۔                 ”یہ سب کیسے ہوا__؟“شریف کی زبان گنگ تھی۔ اکاؤنٹنٹ نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔                 ”شریف کچھ بتاؤگے_؟“ شریف  روہانسا ہوگیا۔ اس کے منھ سے بہ مشکل نکلا۔                              ”رقم میں نے...

مجرم کون : مہوش حبیب

    مجرم کون ...     (مہوش حبیب)                        عالیہ کے مرتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا۔وہ خون میں لت پت چارپائی پر پڑی تھی۔زمین بھی خون سے رنگین ہوگئی تھی۔ عورتیں جوان لڑکی کی لاش کو دیکھ کر دھاڑیں مار مار کررو رہی تھیں اور بچے اور مرد افسردہ کھڑے تھے۔ یہ میت اس بے چاری اور بے بس لڑ کی کی تھی جس کے گھر والوں نے بچپن ہی میں اس کے ماموں کے بیٹے حماد کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑ دیا تھا۔        ”بے چاری کو محبت کی سزا ملی ہے،بھائیوں نے ظلم کیا ہے۔ آخر اس نے محبت کر کے کونسا گناہ کر لیا تھا۔“ بچپن ہی میں عالیہ کی منگنی اس کے ماموں کے بیٹے حماد سے کر دی گئی تھی۔جب عالیہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ حماد سے محبت کرنے لگی اور حماد بھی عالیہ کو بے پناہ چاہتا تھا۔وہ دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے اور ان کے گھروں میں تھوڑا ہی فاصلہ تھا۔وہ کسی نہ کسی کام کے بہانے دن میں ایک دو بار ضرور مل لیتے تھے۔ان کے پیار کے دن ہنسی خوشی گزر رہے...

ماہنامہ : اُردو آپریشن جھارکھنڈ MONTHLY URDU OPERATION , DEC – 2013

 بسم اللہ الرحمن الرحیم     عالمی پرواز کی ایک نئی اُڑان     بین الاقوامی اُردو ادب کا اُردوپورٹلفکشن  کا نیا  آسمان ماہنامہ اُردو آپریشن (جھارکھنڈ) شمارہ-3دسمبر-2013* سرپرست ڈاکٹراسلم جمشیدپوری * مدیر خصوصی رضوان واسطی* مدیر اعزازی جہانگیر محمد* مدیرہ نغمہ نازمکتومیؔ * ترتیب مہتاب عالم پرویزؔ  * زیرِاہتمام ’’ عالمی پرواز .کوم ‘‘www.aalamiparwaz.comaslamjamshedpuri@gmail.com      mahtabalampervez@gmail.com   ایک تحریک اُردو آپریشن افسانوں اور ناولوں کا آئینہ اردو آپریشن میں ہر ماہ تین افسانے شائع ہوں گے۔ ہر افسانے کا آپریشن ماہرین کے ساتھ ساتھ قارئین بھی کریں گے۔ ہر سال دس بہترین افسانوں کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ آپریشن کے نکات۱۔افسانے کا عنوان خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب ۲۔افسانے کا موضوع خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب ۳۔ افسانے کا بیان نیا ہے ، پرانا ہے، بالکل الگ ہے۔۴۔افسانے کی زبان بہت خوب ہے۔ماحول کے مطابق ہے، بہت خراب ہے۔۵۔کیا اس سے پہلے بھی آپ نے ایسا افسانہ پڑھا ہے۔دونوں میں فرق واضح کریں۔ ۶۔افسانے کی پانچ خوبیاں ۷۔افسانے کی تین خرابیاں ۸۔کوئی خاص بات(مثبت یا منفی ) جس نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو۔قارئین سے گذارش ہے کہ وہ کہانی پڑھ کر ’’ اُردو وآپریشن ‘‘ کے درج بالانکات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے طور پر آپریشن کریں، کہانی کی خوبی اور خامی کو بے جھجھک لکھیں........ادارہ    ہندوستان کے مشہور ومعروف افسانہ نگار جہانگیر محمد کا  افسانہ ’’...

لینڈرا (ایک بے باک افسانہ) ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری (انڈیا) LAINDRA BY DR. ASLAM JAMSHEDPURI

لینڈرا ایک بے باک افسانہ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری                   ”ارے او فقیرے....جرا انگئے کو (ذرا ادھر) آنا۔“                 بابا رحیم کی آواز پر فقیر محمد، دوڑتا ہوا آیا۔                 ”جی بابا۔ کاکئے ریو(کیا کہہ رہے ہو؟)“                 ”ارے جرا حقہ بھرلا— اور تاجا بھی کرلائیو—“                 بابا کے کہنے پر اس نے حقے کی پیتل کی فرشی کو اس کی گردن سے پکڑ کر اٹھایا۔ بڑی احتیاط سے چلم کو نہچے سے اتارا۔ نہچے کو فرشی کی گردن سے الگ کیا۔ نہچے کی بناوٹ بالکل بندوق جیسی تھی۔ فقیر محمد کے دل میں لمحے بھر کو ایک خیال آیا۔ اس نے حقے کے نہچے کوبندوق کی طرح پکڑ لیا اور تصور میں اپنے سبھی دشمنوں کو ٹھائیں ٹھائیں.... کردیا۔ اس کو گاؤں کے ہر اس شخص سے نفرت تھی جو اسے لینڈرا کہتا تھا۔ کتنی نفرت اور حقارت ہوتی تھی ان کے لہجے میں۔ اسے وہ دن بھی یاد تھا جب وہ پہلی بار گاؤں صدر پور میں اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا۔                 فقیر محمد، اپنی ماں کے ساتھ سلیم پور گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی عمر ۵ /سال تھی۔ اس کے والد ٹی بی کے مریض تھے۔ انھیں خون کی الٹیاں ہوتی تھیں۔ ایک دن بیماری نے انھیں شکست دے دی۔ لوگوں نے والد...

لکشمن ریکھا کے پار: مہتاب عالم پرویزؔ (کویت) LAKSHMAN REKHA KE PAR : MAHTAB ALAM PERVEZ – KUWAIT

  افسانہ لکشمن ریکھا کے پارمہتاب عالم پرویزؔ کویت    ٭میری آنکھیں جواں ہیں۔ رِم جھم رِم جھم بارش کی بوندوں کی طرح خواب اُترنے لگے ہیں۔ فیوزن کا عمل--- پھیلتا اور سکڑتا سورج۔ رات کی سمٹتی ہوئی سیاہی--- اندھیرے سے پھوٹتی ہوئی سورج کی کرنیں۔ شبنم کا رس پیتی ہوئی نیم شگفتہ کلیاں --- بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا چاند--- اپنے گیسو پھیلاتی ہوئی سرمئی شام --- پیڑوں پہ لدے سُرخ انار--- سمندر میں ڈوبتا گرم سورج اور چہار سمت پھیلا خون آلود پانی--- یہ سب میری جواں آنکھوں میں قید ہیں اور اکثر تنہائیوں میں مجھ سے سوال کرتے ہیں، مجھ سے کہتے ہیں کہ پھولوں سے عاشقی کا ہنر سیکھ لے، تتلیاں خود آئیں گی صدائیں نہ دے۔ میں باشندہئ شہر، شہر کے سنہرے اُجالے میں بارہا کھوسا جاتا ہوں کہ میرا بھی کوئی ہمسفر ہوتا تو شاید یہ سفر آسان ہوجاتا۔ میری تنہائیاں اکثر مجھ سے سوال کرتی ہیں؟ لیکن جواب--- جواب وقت کی گہرائیوں میں دفن ہے۔ تنہائیاں مجھے ڈسنے لگی ہیں۔ سورج کے سکڑنے اور پھیلنے کا عمل، میرا دن ایک سرکش گھوڑے پہ سوار بے مہار اُڑتا جاتا ہے، اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر میں کالج اور ٹیوشن کے مرحلے طے کرتا ہوں، نِت...

گھر لوٹ کے جانے کا تصّور : عذرا نقوی

  گھر لوٹ کے جانے کا تصّور  عذرا نقوی                 آج جمعے کی شام تھی اسلئے بطحیٰ کے بازار میں بہت بھیڑ تھی ۔ہمیشہ کی طرح ٹیکسیوں اور پرائیوٹ کاروں کادریا سا بہہ رہا تھا۔ سار ابازار برقی روشنیوں سے روشن تھا۔ الکٹرونک سامان بنانے والی مشہور کمپنیوں ، سونی ،ایل جی، سنسو ئی ، سیمسنگ کے بڑے بڑے بورڈ وں سے سجی دکانیں ہمیشہ کی طرح پررونق تھیں ۔ فٹ پاتھ پر سستی گھڑیوں کے ڈھیر اور چائنا کے بنے سستے کھلونوں اورکپڑوں کی دکانوں کے سامنے کافی بھیڑ تھی۔ پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے والے ُ پل پر مردوں کے غول کے غول لدے ہوئے تھے۔ اکا دکا کوئی عورت کالے برقعے میں چھپی اپنے شوہر کے ہمراہ نظر آجاتی تھی ۔زبیر نے اپنی ٹیکسی ہرمال دو ریال والی دکان سامنے کھڑی کردی جس کے اندر چائنا اور تائیوان کا سستا مال بھر ا ہوا تھا ۔ حا لانکہ وہاں (ممنوع الوقوف ) نو پارکنگ کا بورڈلگا تھا مگر جمعے کی شامُ پل کے قریب اسی دکان کے سامنے ہی اشتیاق نے مغرب کی اذان سے پہلے ملنے کو کہا تھا... اب بس وہ جلدی آ جائے ورنہ ٹریفک پولس...