Skip to main content

Aalamiparwaz

گرلس ہاسٹل کا ایک کمرہ دیر رات تک جاگ رہا تھا۔
عالیہ : یار آج کل تو دیر رات تک مو بائل میں گھسی رہتی ہے۔کیا چل رہا ہے؟
حسن آرا : عالیہ میرا نام حسن آرا ہے۔میں جس کی بھی ہو جاؤں ،اس کی قسمت کھل جائے گی۔
عالیہ : ہاں مجھے پتہ ہے۔تیرے پا پا کا بہت بڑا کارو بار ہے۔
حسن آرا : صرف کارو بار یعنی دولت۔؟
عالیہ : نہیں،نہیں۔۔۔ تم حسن کا بھی لا جواب نمونہ ہو۔شاہکار ہو۔
حسن آرا : ہاں اب ہوئی نا بات۔عالیہ آج کل میں دو،باپ۔ بیٹوں کو فیس بک پر ایک ساتھ بے وقوف بنا رہی ہوں۔دونوں ہی میرے دیوانے ہیں۔تمھیںیاد ہے؟ ابھی کچھ دن قبل،میں نے پانچ۔پانچ نوجوانوں کو بیک وقت اپنی زلفوں کا اسیر بنا کر الو سیدھا کیا تھا۔اپنے موبائل اور دوسرے خرچے ایسے ہی نکلتے ہیںیار۔
عالیہ : یار مجھے تو بڑا ڈر لگتا ہے۔
حسن آرا : ڈر، کس بات کا؟ یہ نیا زمانہ ہے،یہاں کوئی ڈر ہے،نہ خوف، کچھ بھی کرو۔دوستی جیسا وسیع المعنی لفظ ہے ناہمارا۔ اور اب تو FBFیعنی فیس بک فرینڈ نے تو ہر مشکل آسان کر دی ہے۔خوبصورت سا کسی کا فوٹو لوڈ کرواور نوجوانوں خاص کر شادی شدہ مردوں کو خوب الو بناؤ۔یار ڈرو ،ورو نہیں، خوب عیش کرو۔بنداس لائف گزارو۔پھر نیٹ پر نئی نئی دنیائیں ہیں۔موج کرو۔آؤ میں بتاؤں کس طرح ؟
اس نے اپنی خمار آلودہ نظروں سے عالیہ کو دیکھا اور ایک انگڑائی لیتے ہوئے بیڈ پر دراز ہو گئی۔
۔۔۔۔اور ہاسٹل کا وہ روشن کمرہ ،اندھیر ے میں ڈوب گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے