Skip to main content

Aalamiparwaz

لکشمن ریکھا کے پار: مہتاب عالم پرویزؔ (کویت) LAKSHMAN REKHA KE PAR : MAHTAB ALAM PERVEZ – KUWAIT

 

افسانہ

لکشمن ریکھا کے پار
مہتاب عالم پرویزؔ
کویت

   ٭میری آنکھیں جواں ہیں۔

رِم جھم رِم جھم بارش کی بوندوں کی طرح خواب اُترنے لگے ہیں۔
فیوزن کا عمل— پھیلتا اور سکڑتا سورج۔ رات کی سمٹتی ہوئی سیاہی— اندھیرے سے پھوٹتی ہوئی سورج کی کرنیں۔ شبنم کا رس پیتی ہوئی نیم شگفتہ کلیاں — بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا چاند— اپنے گیسو پھیلاتی ہوئی سرمئی شام — پیڑوں پہ لدے سُرخ انار— سمندر میں ڈوبتا گرم سورج اور چہار سمت پھیلا خون آلود پانی—
یہ سب میری جواں آنکھوں میں قید ہیں اور اکثر تنہائیوں میں مجھ سے سوال کرتے ہیں، مجھ سے کہتے ہیں کہ پھولوں سے عاشقی کا ہنر سیکھ لے، تتلیاں خود آئیں گی صدائیں نہ دے۔
میں باشندہئ شہر، شہر کے سنہرے اُجالے میں بارہا کھوسا جاتا ہوں کہ میرا بھی کوئی ہمسفر ہوتا تو شاید یہ سفر آسان ہوجاتا۔ میری تنہائیاں اکثر مجھ سے سوال کرتی ہیں؟ لیکن جواب— جواب وقت کی گہرائیوں میں دفن ہے۔
تنہائیاں مجھے ڈسنے لگی ہیں۔ سورج کے سکڑنے اور پھیلنے کا عمل، میرا دن ایک سرکش گھوڑے پہ سوار بے مہار اُڑتا جاتا ہے، اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر میں کالج اور ٹیوشن کے مرحلے طے کرتا ہوں، نِت نئے ڈریسوں کے ڈھیر اپنی الماریوں میں سجاکر۔ خوشبو اور ڈریس میری پسندیدہ چیزیں ہیں۔ لباس اور خوشبو بدلتے رہنا میری زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔ ساتھ ہی میرے جوتے اور ہیر اسٹائل بھی وقت کے چلن کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
لیکن ان دِنوں میں شیلے (Shelly) کی نظم کا مطالعہ کررہا ہوں اور اب بارہا اپنے دل سے میں شعوری اور غیر شعوری بس ایک ہی سوال کرتا ہوں کہ میرا کوئی ہمسفر کیوں نہیں؟
سینما کے لگے ہوئے پوسٹر اور بعض اوقات جب بلیوفلمز کی باتیں میری عمر سے بڑے دوست کرتے ہیں تو میں حیران رہ جاتا ہوں اور یوں کہیے کہ چپ کی ایک لہر میرے ہونٹوں پر رینگ جاتی ہے۔ اکثر کچھ گرما گرم میگزین اور ٹیلی ویژن کے اسکرین پر پیش کیے جانے والے Care Free کے Advertisement بہت بھلے لگتے ہیں۔جیسے مستی کی کوئی لہر!!
اسی لیے تو فرائیڈ اور D. H. Lawrance کی کتابیں مجھے بہت اچھی لگتی ہیں، جن کا عمیق مطالعہ کرتا ہوں۔
Philosophyاور Logicکی گھنی چھاؤں والی کتابیں اکثر مجھے بتاتی ہیں کہ میں ابھی ادھورا ہوں۔
میرا ماضی کسی کٹی پتنگ کی طرح میرے ساتھ ہے۔ میرا بچپن اکثر مجھے صدائیں دیتا ہے۔
میں بچپن میں ایک کھیل کھیلا کرتا تھا۔ مجھے تتلیوں کو پکڑنے کا بہت شوق تھا اور یہ شوق میری زیست کا ایک انوکھا سفر تھا، جب بھی میں تتلی کو پکڑنے کے لیے آہستہ آہستہ سنبھل سنبھل کر آگے بڑھتا تو پیچھے سے اس کی آواز آتی:”اُڑ جارے تتلی تیرے پیچھے کالا چور“
میرے ارادے برف ہوجاتے اور تتلی اُڑجاتی مجھے اِس بات پہ غصّہ آتا کہ اُس نے میری تتلی اُڑادی۔
آج میں جوان ہوچکا ہوں۔ وہ بھی جوان ہوچکی ہے مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ میری بچپن کی ساتھی اب کسی تتلی کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ اور زندگی کا یہ سفر اُس کے بغیر ادھورا ہے۔ مجھے یہ احساس ستائے رہتا ہے کہ میری بائیں پسلی مجھ سے جدا ہوچکی ہے۔ مجھ سے کھوچکی ہے اور اُس کے بغیر میری زندگی کی کتاب بے داغ سی ہے جس پہ جلی حروف میں ’اُڑجارے تتلی‘ کے سوا کچھ بھی نہیں لکھا ہوا ہے۔
وہ میرے بچپن کی ساتھی ہے۔ جب ہم دونوں اسکول جایا کرتے تھے میں اُس کا اور وہ میرا انتظار کیا کرتی تھی۔ بچپن ہی سے وہ کم گو اور شرمیلی تھی۔ جب ہم دونوں نے جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تو آنکھوں کی چور گلیوں سے چاند کی روشنی کی طرح دل کی تاریکیوں میں ایک قندیل جلایا کرتے تھے، جس کی لَو چاندنی کی طرح شفّاف اور چمکیلی تھی۔ ہم دونوں کا چہرہ گلنار ہوجاتا اور آنکھوں کی زبان میں سرگوشیاں شروع ہوجاتیں اور یوں ہوتا کہ ہونٹوں پہ کپکپی طاری ہوجاتی۔ دل کی دھڑکنیں بڑھ سی جاتیں اور بہت سوچ سمجھ کر ہم اپنے دل کی بات دل ہی میں لے کر اپنا سفر ادھورا ادھورا تنہا تنہا طے کرتے رہے۔ مگر وہ بات جو میرے سینے میں تپتی دُھوپ کی طرح سلگتی رہی۔ بسایک لرزہ سا طاری ہوتا اور ہم پسینے میں شرابور ہوجاتے۔

اور وہ سکڑتا ہوا سورج اور پھیلتا ہی رہا— میری خواہشوں کی طرح۔ 

اور پھر آسمان پہ بادلوں کے ہجوم کو چھانٹتا ہوا ایک چاند نمودار ہوا۔

دوپہر کی تپتی ہوئی دُھوپ میں کسی پیڑ کی چھاؤں میں وہ تنہا میرا انتظار کررہی تھی اور اُس نے اپنی ہیئر ِپن سے پیڑ پہ دل کا نشان کھود ڈالا تھا۔ جس پہ میرا نام لکھا تھا۔ اور میں نے بھی زندگی میں پہلی بار اپنی موٹر سائیکل کی چابھی سے اپنے نام کے ساتھ اُس کا نام بھی لکھ دیا تھا۔
لیکن کیا— اُس پیڑ پہ صرف اپنا نام اور اُس کا نام لکھ دینا ہی کافی تھا، باتیں کچھ اور آگے بڑھیں اور اُس دن ہم دونوں جب دُھوپ سر پہ کھڑی تھی۔ صنوبر کی گھنی چھاؤں میں ایک دوسرے سے چپک گئے۔ لیکن کیا چپک جانا ہی میری منزل تھی، میری تسکین یہاں بھی نہ ہوسکی اور پھر ہم دونوں ایک دن کالج سے سینما ہال پہنچے— اور ایک سورج، جس کی تمنّا ہمارے دل میں برسوں سے قائم تھی، اُف وہ دہکتا ہوا کوئی انگارہ! مجھے کچھ بھی یاد نہیں۔ میرے حواس معطل ہوچکے تھے۔ ذہن میں بجلیاں کوندنے لگی تھیں۔ اور پھر یہ بھی ہوا کہ میں نے ڈرتے ڈرتے، سہمتے سہمتے اپنے ہاتھ پھندنے کی طرف بڑھا دِیے۔
ہم ندی میں غرق ہوجانا چاہتے تھے لیکن وہی جانی پہچانی صدا میرے کانوں میں گونج اُٹھی— کیا ہماری منزل بس یہی ہے؟
یہ وہی صدا تھی جس نے آج زندگی میں ایک لکشمن ریکھا کھینچ کر رکھ دی تھی اور میرے ہاتھ زنجیروں میں قید ہوگئے، صداؤں کی باز گشت پھیلتی رہی، سُکڑتی رہی کہ صبرکر، انتظار کر، لیکن انتظار کا یہ لمحہ بڑا ہی جان لیوا ہوگیا۔ جس کی گھڑیاں صدیوں پر محیط تھیں۔
دو سال کا طویل سلسلہ میرے نظریے سے جدا تھا اور ایسی اُلجھن بن کر مجھ کو ڈستا رہا کہ میرا میں اکثر تنہائیوں میں زخمی زخمی اورپارہ پارہ ہوجاتا۔ اُس کی ساری باتیں مجھ کو پسند تھیں، مگر جب وہ میری گاڑی پہ بریک لگاتی تو مجھے بہت غصّہ آتا۔ ایک دن کالج کی میری ایک کلاس فیلو جو کافی موڈرن تھی اور اسمارٹ بھی،میری موٹر سائیکل کی زد میں آگئی۔ ڈر سے میری حالت خراب ہوگئی تھی، مگر اِس نے میری آنکھوں میں نہ جانے کون سی کتاب پڑھ لی تھی کہ کالج کے پرنسپل کو اور دیگر تمام ساتھیوں کو اِن سب باتوں کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی اِس نے میری کوئی شکایت کی— اور پھر وہ میرے بے حد قریب آگئی۔
مگر اس کا نظریہ اُس سے کافی جدا تھا یوں سمجھئے جو میرا نظریہ تھا وہی اِس کا بھی، بلکہ پیار سے اِس نے مجھ سے فرائیڈ کی کتابیں مطالعہ کے لیے لے لی تھیں اور جب ہم دونوں میں ڈِسکشن ہوئے تو وہ میرے خیالات سے اکثر و بیشتر متفق ہوجایا کرتی تھی۔
مگر اچانک اسی بیچ اُس کو ہم دونوں کی خوشبو بھی مل گئی اور برجستہ اُس نے ’اُڑجارے تتلی‘ کہہ کر اِس موڈرن تتلی کو اُڑا دیا۔
اور پھر ایک دستک— بلکہ ایک تیز رفتار گھوڑے پہ چابک کی بوچھار شروع ہوگئی اور اب میرے خیالات بھی، خدوخال بھی، زخمی ہونے لگے لہو لہان ہونے لگے۔
اور میں نے فرار کی راہ اختیار کی—
اپنے ایک تجربہ کار دوست کو جب میں نے یہ ساری باتیں بتائیں تو وہ مجھے ایک ایسے مقام پر لے کر آگیا جہاں تتلیاں ہی تتلیاں تھیں — رنگ برنگی تتلیاں! ہزاروں کی تعداد میں تتلیاں ہی تتلیاں، چہار طرف تتلیاں ہی تتلیاں —
نیلی تتلیاں — پیلی تتلیاں — اُجلی تتلیاں — کالی تتلیاں — سُنہری تتلیاں — اور تتلیاں ہی تتلیاں۔
یہ تتلیوں کا ایک گنجان جنگل تھا، پل بھر کو ان تتلیوں کی چکاچوند روشنی کے حصار میں جب اُن کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھاتو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اسکول کے ٹین ایج لونڈے میری ہی طرح تتلیوں کا شکار کررہے تھے— یا تتلیاں اُن کے پَر کتر رہی تھیں؟

اور پھر میری آنکھیں پھیلتی ہی چلی گئیں —

()()()()()

"پردیس ” فوزیہ اختر ردا ، کولکاتا – PARDES: FAUZIA AKHTAR RIDA – KOLKATA

 

 افسانہ  

 "پردیس " 

 فوزیہ اختر ردا ، کولکاتا

 PARDES 

  FAUZIA AKHTAR RIDA – KOLKATA

 

"اماں ! ایک خوشخبری  ہے۔۔۔۔۔!!” ہر ہفتہ کی طرح اِس اتوار کو بھی  عون اسکائپ پر اپنی ماں سے گفتگو میں مصروف تھا
"اچھا۔۔۔۔۔!! تیری تنخواہ بڑھ گئ ہے کیا جو اتنا خوش نظر آ رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟”سعیدہ بیگم نے اپنے تئیں درست اندازہ لگانا چاہا
"اِس سے بھی بڑی خبر ہے اماں! سنیں گی تو خوشی سے اچھل پڑیں گی آپ۔۔۔۔۔” عون نے مسکراتے ہوئے کہا
"پہیلیاں کیوں بجھوا رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟ کیا قندیل کے لئے کوئ اچھا رشتہ مل گیا ہے؟” قندیل عون کی چھوٹی بہن تھی جس کے رشتے کے لئے سعیدہ آجکل کافی پریشان تھیں۔ وہ گریجویشن کے بعد ٹیچر ٹریننگ کا کورس کر رہی تھی۔
"اِس بار میں مستقل طور پر گھر آ رہا ہوں اماں۔۔۔۔۔! وہیں کانپور میں اپنا بزنس شروع کرونگا۔۔۔۔۔” عون خوشی سے لبریز لہجے میں بولا
"لیکن تُو نے پہلے بتایا نہیں۔۔۔۔۔؟؟” سعیدہ یہ خبر سن کر تقریبا سکتے میں آ گئ
"آپ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔!!” عون کی آنکھوں میں جھلملاتی خوشی سعیدہ کی آنکھوں سے اوجھل رہی تھی
"یہ خبر سن کو آپ بھی چکرا گئیں نا۔۔۔۔۔!! فلائٹ ٹکٹ کنفرم ہوتے ہی خبر کرونگا۔۔۔۔۔” عون اپنی خوشی میں اس قدر مگن تھا کہ سعیدہ کے اترتے ہوئے چہرہ پر اُس نے غور نہیں گیا
"جلد بازی کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا بیٹا۔۔۔۔۔! ایک بار اپنی ماں سے مشورہ تو کر لیتا۔۔۔۔۔!!” سعیدہ نے کہا
"فکرکی کیا بات ہے اماں۔۔۔۔۔! وہاں آ کر تیری خدمت بھی کرونگا۔۔۔۔۔ اِس نیکی سے مجھے محروم نہ کریں آپ۔۔۔۔!!” عون کا لہجہ پر جوش تھا
"پر یہاں کے کاروبار کا تجھے کیا پتہ بیٹا۔۔۔۔۔!! ہر دھندہ مندہ جا رہا ہے۔۔۔۔۔ اوپر سے دن بدن کی بڑھتی مہنگائ نے کمر توڑ رکھی ہے۔۔۔۔۔” سعیدہ اپنے ملک کی سچائ کا اعتراف کر رہی تھی
"اللہ پاک برکت دینے والا ہے اماں۔۔۔۔۔! آپ کے آنچل کی چھاؤں میں مجھے ترقی کرنے سے کون روک سکتا ہے۔۔۔۔۔!!” عون ہندوستان میں اپنے مستقبل کو لے کر بہت پر امید تھا
"ترقی تو تُو وہاں بھی رہ کر کر رہا ہے بیٹا۔۔۔۔۔! دوبئ جیسے شاندار شہر میں رہتا ہے۔۔۔۔۔ پچاس ہزار کی نوکری ہے تیری۔۔۔۔۔ سال میں دو مہینے کی چھٹی میں کمپنی کے خرچے پر ہم سب سے ملنے گھر بھی آتا ہے۔۔۔۔۔ ایسی جنت کو چھوڑ کر یہاں کی بھیڑ میں آنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔؟؟ ابھی تو تجھے اپنے پیر وہیں جمانے چاہئے۔۔۔۔۔!” سعیدہ کے دلائل بھی مضبوط تھے
"بزنس نہ سہی اچھی نوکری تو مجھے ضرور مل جائے گی اماں۔۔۔۔۔ آخر اتنے برسوں کا تجربہ کب کام آئے گا۔۔۔۔۔” وہ بائیس برس کا تھا جب ٹورسٹ ویزہ پر دوبئ آیا تھا۔ یہاں آکر تین ماہ کی تگ و دو کے بعد اُسے ایک ہوٹل میں اسٹیورڈ کی نوکری مل گئ جہاں نوکری کرتے ہوئے آج اُسے آٹھ برس ہو گئے تھے اور اب وہ یہاں کا ہوسٹ ٹرینر بن چکا تھا۔
"نوکری کی تو بات ہی نہ کریں آپ۔۔۔۔۔! یہاں پانچ ہزار کی نوکری کے لئے لڑکے لڑکیاں مارے مارے پھر رہے ہیں۔۔۔۔۔” سعیدہ بیگم نے اپنے دیس کی حقیقت بیان کی۔
” اپنا کاروبار کرنا میرا خواب ہے اماّں۔۔۔۔۔! مجھے نوکری کرنا کبھی پسند نہیں تھا ۔۔۔۔۔ لیکن پیسے بھی جمع کرنے تھے سو اتنے برسوں تک  یہاں دن رات کام کرتا رہا۔” عون کے اتنا کہتے ہی ویب کیم آف ہو گیا۔۔۔۔۔ اُس نے جلدی سے اٗسے دوبارہ آن کیا۔۔۔۔۔ سعیدہ سے گفتگو کا سلسلہ دوبارہ جڑ چکا تھا۔۔۔۔۔!!
"گھر کا سارا خرچ تو تیری تنخواہ پر چلتا ہے بیٹا۔۔۔۔۔ تیرے بھیا بھابھی کے اپنے اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔ اب تو تیری بھتیجی بھی آٹھ مہینے کی ہونے کو آئ ہے۔۔۔۔۔ اُسکے دوا و علاج میں تو ایک دن میں ہزاروں روپے نکل جاتے ہیں۔۔۔۔۔ جو تھوڑے پیسے میں نے مشکل سے بچائے ہیں وہ تیری بہن قندیل کی شادی کے لئے بھی کم پڑیں گے۔۔۔۔۔ پھر بزنس شروع کرنے کے لئے روپے کہاں سے آئیں گے۔۔۔۔۔؟؟” سعیدہ کے لہجے میں بے چارگی تھی
سعیدہ بیگم کا مرجھایا ہوا چہرہ اب عون کی آنکھوں سے مزید اوجھل نہ رہ سکا۔ اُس کے والد کا دو برس پہلے انتقال ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنی ماں کا افسردہ چہرہ محسوس کرتے ہی بے چین ہو گیا۔۔۔۔۔
"آپ ٹھیک کہتی ہیں اماں۔۔۔۔۔! میں سوچ رہا ہوں کہ اس بار چھٹی میں گھر نہ آؤں تو مجھے اُن دو مہینوں کی تنخواہ بھی ڈبل ملے گی۔۔۔۔۔” عون نے بھی جلد از جلد زیادہ پیسے کمانے کا راستہ سوچ لیا۔
"ایسا ہی کرنا میرے بچے۔۔۔۔۔! اوور ٹائم بھی کرتے رہیو۔۔۔۔۔” سعیدہ اپنی دور اندیشی سے کام لے رہی تھی
"جی اماں۔۔۔۔۔! میں تو لیپ ٹاپ پر سائڈ انکم بھی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔” وہ پرجوش انداز میں سعیدہ کو اپنی سرگرمیوں سے آگا ہ کر رہا تھا
"تیرے جیسا محنتی بیٹا خدا سب کو عنایت کرے۔۔۔۔۔!! اپنی صحت کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔!” سعیدہ نے آبدیدہ لہجے میں کہا
"میرے لئے پچھلے ہفتہ جو رشتہ آیا تھا نا اماں۔۔۔۔۔ آپ منع کردینا اُسے۔۔۔۔۔ جب تک قندیل کو میں اُس کے سسرال نہ بھیج دوں ۔۔۔۔۔ اپنا بزنس اسٹارٹ نہ کر لوں تب تک خود شادی نہیں کرونگا۔” عون نے اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن کا ذکر کرتے ہوئے کہا
"اُنہیں میں کل انکار کہلوا بھیجونگی ۔۔۔۔۔ تُو جی چھوٹا نہ کر۔۔۔۔۔! کچھ وقت کی دیر ہے بس۔۔۔۔۔ پھر تیرے لئے اِس سے بھی اچھے رشتے آئیں گے۔۔۔۔۔” عون کے لئے مائرہ کا رشتہ آیا ہوا تھا جو قبول صورت تھی اور گریجویشن کے بعد ایک پرائیوٹ اسکول میں پڑھا رہی تھی
"جب تک اپنے ملک میں ، میں اپنا بزنس شروع نہ کر لوں ، آپ میری شادی کی جلدی نہ مچانا اماں۔” عون نے نئ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے سے خود کو روکا۔
"ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔ جیسا تُو چاہے!”  سعیدہ نے حامی بھر لی
” اپنے شوگر لیول کی رپورٹ ہر ماہ مجھے میل کرتی رہنا۔۔۔۔”  عون نے تاکید کی
"سدا سکھی رہو میرے لعل۔۔۔۔۔!!” سعیدہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
پچھلے دو گھنٹوں کی گفتگو میں وقت کا دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔ عون کے لیپ ٹاپ کی بیٹری لو ہو رہی تھی اور وہ چارجر بھی ہوٹل میں بھول آیا تھا
اُس نے سلام کر کے سعیدہ سے رخصت ہونے کی اجازت لی۔۔۔۔۔ اپنا لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کیا اور اپنے استعفی کو ڈسٹ بن میں ڈال دیا ۔۔۔۔۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فوزیہ اختر ردا ، کولکاتا

نئی سوچ کا پرنٹ آؤٹ: ڈاکٹر اختر آزاد -NAYI SOCH KA PRINT OUT : DR. AKHTAR AZAD

 

 افسانہ

نئی سوچ کا پرنٹ آؤٹ

ڈاکٹر اختر آزاد

DR.AKHTAR AZAD

شادی سے پہلے میں بھی وہی چاہتا تھا۔
لیکن اس سلسلے میں کبھی اس نے مجھ سے کچھ کہا اور نہ ہی میں نے اس سے کچھ پو چھا۔
شادی میرے خیال سے کچھ پہلے ہو گئی تھی۔ لکچرر شپ کے بعد یہی کوئی تیس کے آس پاس میں شادی کے حق میں تھا۔ لیکن ایک بہن جو میرے بعد کے بھائی سے چھوٹی تھی،اس کی شادی ہوتے ہی بیمار ماں کے کاندھے پر کام کا بوجھ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا۔ ایک بہن چھوٹی تھی۔ جو میٹرک میں تھی۔ اس سے پورے گھر کا کام نہیںلیا جا سکتا تھا۔ دونوں میں ایک ہی کام اُسے دیا جا سکتا تھا۔ گھر کا کام سنبھالنا یا پھر پڑھنا کام دو سروں سے لیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کی جگہ ہر کوئی دوسرا بن کر پڑھ نہیں سکتاتھا؟ اس لیے ماں نے اپنے کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک دن مجھے ہلدی لگا کر دُلہابنا یا۔ پھر کیا تھا:بہو کے رُوپ میں صبا جیسی بھولی بھالی خوب سیرت لڑ کی گھونگھٹ کاڑھے گھرآ گئی۔
شادی کی پہلی ہی رات تھی ۔
اس رات نہ جا نے کیسے گھنٹہ بھر کے اندر ہی ہم دونوں باتوں کی سڑک پر اتنی دُور نکل گئے کہ لوٹنا مشکل ہو گیا۔ اور وہ سب کچھ بھی کچھ یوں ہو گیا جیسے با لکل عام سی بات ہو۔ اس عام سی بات کے دائرے میں سمٹتے ہوئے میں نے اس سے بغیر کسی جھجک کے پوچھ لیا تھا۔
” بچےّ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟“
”تین چار سال تک تو“ سانسوں کے زیر و بم کے درمیان یہ کہتے ہوئے وہ کچھ شر ما ئی اور لجائی تھی۔
” میں بھی یہی چاہتا ہوں“۔ وہ مسکرا رہی تھی اور میں کہہ رہا تھا۔” اس سے یہ ہو گا کہ ہم دونوں کو آزادانہ ماحول میں کچھ سال جینے کا موقع ملے گا۔“اور صبا کا کہنا بھی درست تھا۔”اتنے سالوں میں عورت پوری طرح سے Mature ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے عورت کے اندر بھر پور اعتماد اور سب کچھ جھیل جا نے کی لا فانی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔“
لیکن اس کے باوجود تنہائی کے بستر پر دراز ہوتے ہی اکثرمیں یہ سوچا کرتا ماں نے اتنی جلد بازی میں میری شادی کیوں کی ؟ بہو لانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟خود ساس بننے کے لیے کیوں مچل اُٹھیں؟
اور ایک دن میرے ان اُلٹے سیدھے سوالوں کا جواب مجھے مل گیا ۔ اس دن ماں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ پاؤں کے جوڑ جوڑ میں درد تھا۔ چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ چار پائی پر لیٹی ہوئی تھیں اور میں ان کے سرہانے بیٹھا تھا۔ صبا دوسرے سرے پر بیٹھی آہستہ آہستہ ان کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اس وقت اڑوس پڑوس کی کچھ عورتیں چاچی بھابی اور با جی کہتی ہوئی اندر آ گئیں۔ میں وہاں سے سیدھے اپنے کمرے میں آ گیا۔ صبا چائے بنانے کے لیے باورچی خانے میں چلی گئی۔ کمرہ بالکل سٹا ہوا تھا،اس لیے ماں اور عورتوں کے درمیان کی گفتگو میں پلنگ پر لیٹے لیٹے صاف سن رہا تھا۔
”بھابی آپ بہت قسمت وا لی ہیں کہ جیتے ہی اپنے بیٹے کا سہرا دیکھ لیا۔“
پھر اچانک ماں کی بیمار آواز کی تھالی سے خوشی کے چند قطرے گرے جو شبدوں کا روپ لے کر میرے کان کی کی نلی میں ٹپ ٹپ کر کے ٹپکنے لگے۔
”زندگی اور موت کا کیا ٹھکانا بہن۔ اور پھر بیمار آدمی کا بلاوا کب اور کیسے آ جائے یہ کو ن جانتاہے ؟ لیکن سوچتی ہوں کہ پوتا پوتی کو کھلا نے کا موقع مل جائے تو پھر کچھ بھی ہو گا تو اس کا آخری دنوں میں ذرا بھی افسوس نہیں رہے گا ۔اب پتا نہیں پوتا پوتی کو کھلانا میری قسمت میں لکھا ہے کہ نہیں،یہ تو اُوپر والا ہی جانتا ہے۔“
اس وقت میری آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ اس لیے کہ ایک طرف ماں کو دا دی بننے کابے صبری سے انتظار تھا اوردوسری طرف ماڈرن دور کی سڑک پر ہم دونوں کسی تیسرے کو کم سے کم تین چار سال تک چلنے دینا نہیں چاہتے تھے۔ بیمار آدمی کا کیا بھروسہ کب مِٹّی سے دوستی کر لے ۔اگر ایسا ہوا تو پھر دادی بننے کے بعد بھی پوتا پوتی کو کھلا نے کا خواب؟ میں اس طرح کی اُلٹی سیدھی باتوں پر بوکھلا سا گیا تھا۔ اس لیے اپنے آپ میں اس دن بڑبڑا نے لگا تھا۔”نہیں نہیں! اب تو ہر حال میں ماں کی یہ خواہش پوری ہو کر رہے گی۔“ پھر سوچ کی مکڑی میرے ذہن کے چاروں طرف تیزی سے جالے بننے لگی ۔
آخر اب صبا کو میں کیا کہوں گا ؟ جب کہ پہلی ہی رات یہ بات طے ہو گئی کہ اگر ان سالوں میں کوئی تیسرا ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش کرتا ہے تواُسے اوندھے منہ گرا کر آگے نکل جائیں گے۔ اس لیے اب صبا کو کچھ کہنا بہتر نہیں تھا۔ ویسے وہ جس ماحول میں ملی اور بڑھی تھی اور جو ذہن اس نے پایا تھا اس کے مطابق مجھے صد فیصد اُمید تھی کہ اگر ماں کے جذبات کو سامنے رکھ کر سمجھانے کی کوشش کروں تو وہ انکار نہیں کرے گی۔ لیکن اس کے برعکس میرا ذہن یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو میری باتوں سے اس کا یقین اُٹھ جائے گا۔ میرے بارے میں وہ کچھ نہیں تو یہ ضرور سوچے گی کہ میں اپنے فائدے کے لیے اُس سے کبھی کچھ بھی کروا سکتا ہوں۔ بہت کوشش کے بعد بھی میں کچھ کہنے کی ہمتّ نہیں جٹا سکا۔ لیکن اس کے باوجود ماں کی اس خواہش کا احترام مجھ پر لازم تھا۔
کچھ دنوں تک میں اسی شش و پنج میں پڑا رہا کہ صبا کو بنا بتائے یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے ؟آخرکار اس ادھیڑ بن میں ایک دن میں سوچ کے تاروں سے پلان کے خوبصورت جال بننے میں کامیاب ہوا ۔جس جال میں صبا جیسی بھولی بھالی بیوی کو پھنسانا کوئی مشکل کام نہیں رہا تھا اور جب میں نے ایک عام سی دوا لا کر اُسے پہلی بار دیا، تب اس نے،پہلے مجھے اور پھر دوا کو غور سے دیکھا تھا۔
”آپ کو بچےّ اچھے نہیں لگتے میں کیا؟“
” لگتے تو ہیں لیکن !“
” لیکن کیا؟“وہ میری بات پر ہنس پڑی تھی اور میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی پوچھ بیٹھی تھی۔” دوا کب اور کیسے کھا نا ہے یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں ؟“ ایسی دواؤں پر ڈاکٹروں کی دی ہوئی ہدایت کو میں نے د و ستوں سے پہلے ہی معلوم کر رکھا تھا فوراًرٹے رٹائے توتے کی طرح کہہ ڈالا اور ہدایت کی گولی کھلاتے ہوئے کہا۔ ”پا بندی سے کھا نا ور نہ “اور وہ بھی ہنستے ہنستے سر اور پیر کے درمیان اپنے ہاتھ سے اُبھار بنائے ہوئے مجھ سے چھیڑ چھاڑ کر نے میں ذرا بھی نہیں ہچکچائی تھی۔”ورنہ کیا۔ ؟ارے بہت ہو گا تو یہی ہو گانا“ اس کی اس بات پر ہم دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے۔ اس کھلکھلاہٹ پر برا بر کے کمرے سے ماں کی ہلکی ڈانٹ اُبھری تھی۔”ارے د و نوں کو آج ہو کیا گیا ہے ؟ اتناہنس کیوں رہی ہے بہو؟“
اس وقت ایسا لگا تھا کہ جیسے یہ کہتے کہتے ماں اپنے درد بھرے پاوں سنبھالے کمرے میں آ جائے گی۔ 


اس سے پہلے ہم دونوں کی موجودگی میں ماں کبھی کمرے میں نہیں آئی تھی۔ پھر بھی احتیاطاً صبانے د وائی اٹھا کر الماری میں رکھا کہ کہیں ماں آ گئی تو؟ لیکن ماں نہیں آئی۔ صبا کو ہی فوراًنکلناپڑا تھا۔ وہ اپنی ہنسی روکتے روکتے بولی تھی۔ ”وہ کیا ہے امّی کہ آپ کا بیٹا آپ کا بیٹا“ صباکی ہنسی ایک بار پھر اندر سے باہر آ گئی تھی اور اس ہنسی پر ماں بھی ہنستے ہنستے بستر تک لوٹ گئی تھی۔
وقت آ ہستہ آہستہ گزرر ہاتھا۔ وقت گزرنے کے سا تھ سا تھ میری نظر ہمیشہ صباکی حرکات و سکنات پر ٹکی رہتی بھی۔ اس بار مجھے پوری اُمید تھی۔ لیکن اس کی تاکید پر مجھے پانچ دن تک اس سے الگ رہنا پڑا تھا’ اور میں کچھ نا اُمید سا ہو گیا صبا ان پانچ دنوں میں کا فی نڈھال نظر آئی ۔ ٹھیک اس طرح جیسے سمندر کی سطح پر سورج کا لہو ٹپ ٹپ ٹپک رہا ہو۔ جیسے سورج آ ہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہو۔ جیسے میرے اِدھر اُدھر ہٹتے ہی وہ اپنے کام پر تیزی سے جھپٹ پڑتی۔ لیکن جیسے ہی میری نظر اس پر پڑ تی یا سامنے سے گزر تے یا آ تے جا تے آمناسامنا ہو تا، اس کے ہاتھ پاؤ ڈھیلے پڑ جا تے۔
اب میں دوسرے مہینے کے انتظار میں اپنی آنکھیں بچھائے بیٹھا تھا۔ اس بار صبا کو ایک دو بار کھانسی آئی ۔ تھوڑی بہت اُلٹی بھی ہوئی ۔ بار وہ خود کو سنبھالتے ہوئے باتھ روم میں چلی گئی ۔ میرے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی وہ کچھ نہ کچھ بتا دیا کر تی۔ جیسے کھانا کھاتے وقت تھالی میں مکھّی نکل آئی ۔ لیکن اس بار بھی وہی ہوا جس کا ڈرتھا۔
اورایک بار پھر مجھے اس سے الگ رہناپڑ ا۔
ادھر میں کچھ زیادہ ہی پریشان رہنے لگا تھا۔ اور بھلا کیوں نہ رہتا کہ میں چاہتا تھا کہ ماں جلد سے جلد دادی بن جائے۔ لیکن یہاں تو سب کچھ اُلٹاپلٹا ہو رہا تھا۔ ایسے میں میں اکثرشک کے ٹیڑھے میڑھے ڈگر پر نکل پڑتاکہ کہیں دوران ِ سفروہ میری دوا کے ساتھ کوئی اور دوا تو نہیں لے رہی ہے۔ لیکن پھر میری سوچ کے پاؤں سیدھے ہو جاتے کہ اگر وہ دوسری دوا لیتی بھی تو پھر وہ چھپاتی کیوں؟
اس طرح کی باتوں کے بعد مجھے کافی راحت سی محسوس ہوتی کہ چلو اس مہینہ نہ سہی اگلا مہینہ ہی سہی اور اسی امید پر میں آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے نئی زندگی کا نیا سفر طے کر تا ہی جا رہا تھا۔
اور یہ ایک مہینہ بھی اسی طرح سے گزر گیا۔ اس وقت میں عجیب کشمکش میں پھنس گیا تھا۔ مجھے رات رات بھر نیند نہیں آتی تھی۔ ہر بار ماں کا چہرہ سامنے آ جاتا تھا۔ اس لیے ایک دن میں ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ چیک اپ کرایا۔ سب کچھ ٹھیک ہو نے کے بعد ایک بار پھر اُمیدبندھی کہ دینے والا تو وہی ہے جو سب کے اُوپر بیٹھا ہے۔ ایک نہ ایک دن وہ ضرور دے گا۔
پھر سوچ کی کالی ڈور میرے چاروں طرف پھیلنے لگی تھی اگر تیسرا دیر سے آ یا تو ؟ یا صبا کی زمین ہی بنجر نکلی توپھر کیا ہو گا ؟ میری ماں کی بوڑھی آنکھیں!نہیں، نہیں ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ وہ ضرور آئے گا اور میری ماں کی بوڑھی آنکھیںاُسے دیکھیں گی۔ تب ماں اُسے بڑے پیار سے کھیلائے گی ۔ جھو لا جھلائے گی ۔ مالش کرے گی ۔ ہمیں ڈھیر ساری دعائیں دیں گی۔
سب کچھ پہلے کی طرح ہی تھا۔
لیکن ادھر کچھ دنوں سے صبا کی چال میں مجھے ٹھہراؤ سا نظر آنے لگا تھا۔ وہ اکثر کچھ کر تے کر تے بیٹھ جایا کرتی ۔ کام چھوڑ کر کبھی سر درد کی بہانے سے بستر پر لیٹ جا تی اور کبھی گھنٹوں باتھ رُوم کے دروازے بند کر کے کھانساکرتی۔ اس طرح کی کسی بات پر جب ماں کچھ پوچھتی تو وہ ہولے سے مسکرا کر وہاں سے ہٹ جا یا کرتی۔ ایسے وقت میں جب بھی میری نظر پڑتی تو وہ خود کو معمول پر لانے کی کوشش کرتی۔ یا پھر کوئی کام لے کر آڑ میں چلی جاتی یا پھر ہاتھوں میں سر رکھ کر وہیں بیٹھ جاتی۔ ایسی حالت میں کبھی وہ دوا لانے کے لیے مجھے کہتی یا کبھی میں ہی اس کے کچھ کہنے سے پہلے سر درد کی دوا لانے کے لیے گھر سے نکل پڑتا۔
کچھ دنوں سے وہ ایسے کپڑے پہنا کرتی،جس میں وہ بالکل ڈھکی چھپی نظر آ تی تھی ۔ پھر ادھر جلدی کھانا کھا لینا اور سو جانا جیسے اس کی عادت کا حصّہ بنتا جا رہا تھا۔ جس کی وجہ سے مجھے یہ لگنے لگا تھا کہ صبا پر گھر کے کام کا بوجھ کچھ زیادہ ہی ہے۔ اس لیے وہ تھک جایا کرتی ہے۔ پھر ادھر یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ ماں، بہو کا بہت زیادہ خیال رکھنے لگی تھی۔ طبیعت ان کی جب کچھ ٹھیک رہتی تو صبا کے آ گے سے کا م کھینچ لیتی ”لابیٹھے بیٹھے تیرا کام تھوڑا ہلکا کر دوں۔“ اسکول سے لوٹنے کے بعد چھوٹی بہن کو اب ماںکام پر لگانے لگی تھی۔ اور اب تو ماں اکثرمجھ سے یہ کہنے بھی لگی تھی۔” بیٹا تو بہو کا خیال رکھا کر۔“ میں یونہی چڑانے کے لیے کہتا۔” کتنا خیال رکھوںماں ؟ دن رات تو رکھتاہی ہوں۔“ میری ان با توں پر پتہ نہیں کیوں ماں اپنی آنکھیں ٹیڑھی کر کے سر کو ہلاتے ہوئے کچھ عجیب انداز میں کہتی۔” کیا خاک رکھتاہے خیال ۔پھل و ل بھی لا کر دیتا ہے بہو کو کبھی؟“
پہلی بار جب اس طرح کی بات ہوئی تھی تب اس وقت صبا کچن میں برتن دھو رہی تھی۔ دھوتے دھوتے برتن پر اُس کے ہاتھ یکا یک رُک گئے تھے۔ میں نے ماں کی باتوں پر اُسے چڑاناچاہاتھا۔” لوسُن لو صبا!امّی کیا کہہ رہی ہیں کہ اب تمہیں کھا نا وانا نہیں پھل ول چاہئے۔“ میری اس بات پر صبا بغیر میری طرف دیکھے ہوئے اپنے رُکے ہوئے ہاتھ کو برتن پر بڑی تیزی کے ساتھ اس طرح آگے پیچھے کر نے لگی تھی جیسے میں اس کی بات اس سے نہیں،بلکہ کسی کی بات کسی اور سے کر رہا تھا۔
ایم۔ اے فرسٹ کلاس سے پاس کر نے کے بعد مجھے اُمید تھی کہ لکچررشپ کہیں نہ کہیںمل ہی جائے گی۔ ایک جگہ جب اُمیدبند ھی تب اس دن میں ضروری کاغذات ڈھونڈ رہا تھا۔ ایک سرٹیفِکیٹ جو اس وقت میرے لیے اہمیت رکھتا تھا، بہت ڈھو نڈنے کے بعد بھی جب وہ میرے ہاتھ نہ لگا تب میں پاگلوں کی طرح سامان کو اِدھر سے اُدھر کر نے لگا ۔ صبا اس وقت باتھ رُوم میں تھی۔ الماری، بکس اور سیلف میں رکھی ہوئی دو سری فائیلوں کے اندر کے سارے کاغذات کو ایک ایک کر کے ہٹانے کے بعد بھی جب وہ نہیں ملا تو میں نے سوچا کہ صبا سے کیوں نہ پوچھ لیا جائے۔صبا نے باتھ روم سے نکلنے میں تھوڑی دیر کیا کہ میرے ذہن نے جلد بازی میں مجھے مشورہ دیا کہ جب اتنی خاک چھان چکے ہو تو گدّے کے نیچے بھی دیکھ لو ۔ اس مشورے پر جیسے ہی میں نے گدّاہٹایا؟ میری آنکھیں سوچ کے دائرے سے اُلجھ گئیں ۔ میری لا کر دی ہوئی ساری کی ساری گولیاں گدّے کے نیچے پڑی ہوئی تھیں۔ ابھی میں کچھ زیادہ سوچ بھی نہیں پایا تھا کہ صبا کے کھانسنے کی آوازباتھ رُوم سے اُبھری۔ اور پھر ایسا لگا جیسے اس نے زور سے اُلٹی کی ہو۔ بہن اس وقت پڑھنے گئی تھی،ماں کی طبیعت آج کچھ ٹھیک تھی۔ وہ باہر کم ہی آیا جایا کرتی تھیں۔ لیکن بغل والی بھابی کے اصرار پر تھوڑی دیر کے لیے اُن کے گھر گئی ہوئی تھیں۔
میں کھانسی کی اس تیزآواز پر گدّے کو اسی طرح چھوڑ کر تیزی سے باتھ رُوم کی طرف دوڑا۔ د روازہ اندر سے بند نہیں تھا۔ اس لیے کھینچتے ہی کھُل گیا۔ وہ ہاتھ سے منہ کو دبائے بیٹھی تھی، آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا اور چہرے کا رنگ بھی لال ہو گیا تھا۔مجھے دیکھتے ہی شرما کر اس نے سر نیچے کر لیا۔ اُس وقت میں نے اُس سے کچھ نہیں کہا۔ جگ اُٹھا یا اور اُلٹی سے سنے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا۔ پھر اس نے اچھی طرح سے منہ دھو یا۔ میں نے اُسے اپنی مضبوط بانہوں کا سہارا د یا ۔ باتھ رُوم سے کمرے تک وہ اس طرح آئی تھی، جیسے اس نے کوئی بڑاگناہ کیا ہو۔ جیسے وہ ایک مجرم ہو۔ جیسے وہ اس و قت وہ گھبرائی گھبرائی سی تھی۔ کمرے میں اس کے قدم جیسے ہی پڑے اور جیسے ہی اس نے گدّے کو دیکھا اُس کی نظر د و ا کی گولیوں پر پڑی ۔تھوڑی دیرکے لیے و ہ سر سے پیر تک کانپ کر رہ گئی کہ پتا نہیں اب کیا ہونے والا ہے۔
میں اس کی پریشانی بخوبی سمجھ رہا تھا۔ وہ کچھ لڑکھڑا سی رہی تھی۔ اس لیے میں نے اسے پلنگ پر بٹھا دیا۔ بٹھا تے ہی وہ غش کھا کر گری اور بے ہوش ہوگئی ۔میں کچن کی طرف دوڑا۔جگ میں پانی بھر لایا ۔ چہرے پہ پانی کے چھینٹے نے اثر دکھایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہوش میں آ گئی۔ ہوش میں آتے ہی میں نے خو شی سے جھومتے ہوئے اُس کی پیشانی کو چوما۔ وہ لِپٹ گئی اور روہانسی ہو گئی۔
” مجھے معاف کر دیجئے۔“
نااُمیدی کے وہ سارے بادل جو میرے سر پر مہینوں سے منڈ لا رہے تھے۔ صبا کے اس جملے سے اچانک چھٹ گئے۔ آسمان صاف ہو تے ہی چاند میری طرف جھانکنے لگا تھا۔ ایسے وقت میں ،میں خوشی سے پاگل ہو اُٹھا تھا۔ اس کے بھیگے ہوئے چہرے کو سامنے رکھ کر میں نے مسکراتے ہوئے اُس سے کہا تھا۔
”پگلی! کیسی معافی ؟گُنہگار تو میں ہوں کہ تمہیں اندھیرے میں رکھا۔“
” لیکن آپ تو ایسا نہیں چاہتے تھے؟“ میری بات پر وہ چونک پڑی تھی۔
”لیکن بیمار ماں کی خاطر“
”یہ جھوٹ ہے۔“
”نہیں صبا! یہی سچ ہے ۔“
”پھر ان دواؤں کو کیوں دیا تھا آپ نے مجھے ؟“ وہ سراپا سوال بن کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی تھی۔
”اس لیے کہ تم اُنہیں دوا سمجھ کر کھا تی رہو، اور ماں کی گود میں پوتاپوتی اُچھلنے کو دنے کے لیے مچل پڑے۔“سوالیہ نظروں سے گھورتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا۔
”لیکن یہ بتاؤ! کہ تم نے دو اکھائی کیوں نہیں ؟“
میری اس بات پر صبا کا چہرہ کھل اُٹھا۔ اورپھر مسکراتے ہوئے اُس نے اپنے ذہن کے پرنٹرسے پرنٹ کر کے اپنی نئی سوچ کا پرنٹ آؤٹ میری طرف بڑھا دیا۔
” یہی کہ جو کام آپ نقلی دوا کھلا کر اپنی ’ماں‘ کے لیے کرنا چاہتے تھے، وہی کام میں دو ا نہیں کھا کر اپنی، ساس، کے لیے کر نا چاہتی تھی۔“

٭٭٭

DR.AKHTAR AZAD
ROAD NO:-1, HOUSE NO:- 38,
AZADNAGAR , JAMSHEDPUR (832110)JHARKHAND
MOB:-09572683122, E.Mail:- dr.akhtarazad@gmail.com

 

نائٹ پارٹی : محمد اسلم آزاد NIGHT PARTY : MD. ASLAM AZAD

(افسانہ) 

نائٹ پارٹی

محمد اسلم آزاد
اسسٹنٹ ٹیچر 2+ہائی اسکول ہنوارہ گڈا
8210994074

           شیوانی نے گھر آکر اپنا اسکول بیگ ٹیبل پر رکھا اور جا کر ماں سے بولی…..
مما: تین ہزار روپے دو نا پلیز……
تم نے کھانا کھایا؟شیوانی کی ماں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا….. 
مماآج میں گھر سے باہر کھا کر آئی ہوں……
شیوانی تمہاری یہ روز روز باہر کھانے کی عادت بالکل ٹھیک نہیں ہے یا تو ٹفن لے جایاکر یا واپس گھر آ کر کھانا کھایا کرو سمجھ گئ؛اور یہ تجھے اچانک تین ہزارروپیہ کی کون سی ضرورت آن پڑی؟ شیوانی کی ماں رجنی ملہوترا نے بیٹی کو وارننگ دیتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا….
اپنی ماں کے کڑے تیور دیکھ کر شیوانی کا چہرہ اتر ایا اور وہ روٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ.کچھ دیر بعد شوانی کے والد سومناتھ ملہوترا بھی گھر میں داخل ہوگئے وہ شہر کے ایک بڑی ٹیکسٹائلس کمپنی کے مالک تھے انہوں نے آتے ہی شوانی کو آواز دی
شیوانی…. اوشیوانی؟
بیٹی شیوانی کہاں ہو تم؟بیٹی کی طرف سے کوئی ردعمل نہ پانے پر وہ نہایت حیران و پریشان ہوئے کیونکہ شیوانی سومناتھ کی اکلوتی اولاد تھی جسے دونوں نے بڑے لاڈ اور پیار سے پالا تھا اور جب بھی وہ اپنی بیٹی کو آواز دیتے وہ بغیر کسی تاخیر کے فورا اپنے ابا کے حضور حاضر ہوا کرتی تھی۔پر آج اس نے خلاف معمول کام کیا تھا جس سے سومناتھ نہایت متحیر تھے 
اس نے فورا مسز ملہوترا کو آواز دی اور پوچھا:۔ کیا کہا تم نے بیٹی شیوانی سے؟
رجنی:۔ بیٹی سے ہی پوچھ لیں جاکر اوپر ہے اپنے کمرے میں۔
سومناتھ:۔ اوہو! اب بتاو بھی کیا بات ہے۔
تم بھی نہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ڈانٹتی رہتی ہوں اسے۔ ارے ایک ہی تو اولاد ہے ہماری جی لینے دو اسے بھی اپنی مرضی سے
رجنی:۔ اس لئے تو ڈر تی ہوں اس کی مرضی سے کیو نکہ ہماری ایک ہی اولاد ہے اگر اسے کچھ ہوگیا؟ تو رجنی کی آنکھیں اشکبار ہو چکی تھیں۔
سومناتھ نے رجنی کی آنکھوں سے آنسو پوچھتے ہوئے اسے دلاسا دیا اور کہا:۔اچھا اب دل چھوٹا نہ کرو۔کچھ نہیں ہوگا ہماری لاڈلی کو بھگوان پر بھروسہ رکھو-
اب جاؤ اسے بلا لاؤ…..
رجنی اوپر شیوانی کے کمرے میں گئ اور اسے بلا لائی وہ بالکل اداس اور خاموش چہرہ لے کر اپنے والد صاحب کے پاس جا کر صوفے پر بیٹھ گئ اور ٹی وی آن کرکے سیریل دیکھنے لگی.سومناتھ نے اخبار کا ورق الٹتے ہوئے پوچھا
آگئ بیٹی؟ کیسا رہا تمہارا آج کا پیپر؟
اچھا رہا ڈیڈی شیوانی نے دھیرے سے جواب دیاـ
ویری گڈ
اچھا بیٹی، بتاؤ کیا بات ہے؟
کیا چاہیے تمہیں؟
کچھ نہیں ڈیڈی بس یونہی ـ۔
اوہو۔ بیٹی ضد نہیں کرتے بتا کتنے روپیوں کی ضرورت ہے تمہیں ـ؟
تین ہزار، شیوانی نے نظر یں جھکاتے ہوئے کہا ـ 
بس۔ اور اتنی سی بات کے لئے تم روٹھ گئ؟یہ لو.پانچ ہزار ہیں سومناتھ نے پاس رکھے بیگ سے پیسے نکال کرشیوانی کو دیتے ہوئے پوچھا:۔پر بیٹی شیوانی؟ تم ان روپیوں کا کرو گی کیاـ؟تمہارے کالج کی ساری فیس تو میں نے بھر دی ہے اور ایگزام فیس بھی میں نے دے ہی دیا تھا تمھیں ـ؟
ڈیڈی آج دوستوں کے ساتھ نائٹ پارٹی میں جانا ہے۔
اوہ۔ اچھا اب چلو کھانا کھا لو۔ سومناتھ نے کہا تو شیوانی کھانے کے ٹیبل پر جا بیٹھیں. روپئے پاکر شیوانی کے چہرے کی مسکراہٹ واپس لوٹ آئی تھی،بیٹی کو خوش دیکھ کر سومناتھ ملہوتراخو ش تھے پر رجنی ملہوترا مسلسل اپنی بیٹی کو تاک رہی تھی، اسکے چہرے پر اب بھی اداسی قائم تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی بیٹی رات کو گھر سے باہر نکلے، اسکے چہرے پر عجیب کیفیت برپا تھی اور ذہن میں کئ طرح کے سوالات اٹھ رہے تھے پر وہ خاموش تھی۔
شوانی جلدی جلدی آدھا ادھورا کھا کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئ آج وہ بہت خوش تھی ـ 
رجنی۔ کیا سوچ رہی ہو تم؟ یہی ناکہ رات میں اسے پارٹی میں نہیں بھیجنا چاہئے؟
ارے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جارہی ہے اکیلے تو نہیں جارہی ہے؟ اور پھر اسی شہر میں تو ہے، اور رجنی اب وہ بڑی ہوگئ ہے، بچی نہیں رہی کہ ہم اس کے ہر کام میں روک لگائیں۔ اب وہ سمجھدار ہوگئ ہے. اسے اچھے برے اور صحیح غلط کی تمیز ہوگئ ہے. وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے اس کو حق ہے اپنی مرضی کے مطابق زندگی جینے کا. ہم بھلا کیسے اس کی آزادی چھین سکتے ہیں؟
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں.ہم اسکی آزادی بالکل نہیں چھین سکتے اور نہ ہی اسے قید کر کے رکھ سکتے ہیں………پر وہ بیٹی ہے ہماری…… مجھے تو سمجھ میں نہیں آرہاہے آپ نے اسے کیوں اور کیسے اجازت دے دی ۔
میں بالکل متفق نہیں ہوں آپ کے اس فیصلے سے ایسے بھی شہر کا ماحول بہت خراب ہے ہر روز عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادثات پیش آتے رہتے ہیں، اور پھر…… جہاں دن میں بھی لوگ محفوظ نہیں ہیں وہاں بھلا رات میں کوئی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ اور کیسے کوئی حفاظت کی ذمہ داری لے سکتا ہے؟
رجنی نے اپنے بات مکمل کرتے ہوئے کھانے کی ٹیبل پر پڑے برتن کو اٹھا کر کچن میں رکھ آئی، سومناتھ رجنی کی باتیں سن کر خاموش رہے، اور واپس صوفے پر آکر اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگئے کچھ دیر بعد رجنی بھی کچن سے واپس آکر سوفے پر بیٹھ گئی، وہ اب بھی اداس تھی اسے رہ رہ کر اپنی بیٹی کی فکر ستا رہی تھی اسکے من میں طرح طرح کے خیالات امڈ رہے تھے اور ایک ماں ہونے کے ناطے رجنی کی یہ فکر بھی جائز تھی اسکا پریشان ہونا بھی لازمی تھاـ
گھڑی کی سوئی شام کے سات بجے کا وقت بتارہی تھی،تبھی شیوانی سیڑھیوں سے اترتی نظر آئی وہ نہایت خوبصورت لگ رہی تھی اس نے مغربی تہذیب والی شارٹ اور چست کپڑے پہنے تھے جس میں اسکے جسم کی بناوٹ صاف نظر آرہی تھی،کاندھے میں پرس،کھلے بال اور پیروں میں ہائی ہل اسکے حسن میں چار چاند لگا رہے تھے۔
اپنی بیٹی کو مغربی کلچر میں ملبوس دیکھ کر رجنی کی آنکھیں لال ہوگئیں پر وہ خاموش رہی اور اپنا سارا غصہ پی گئ۔
رجنی جیسے آج خود پر ہی شرمندہ تھی کہ کیوں اسکی ایک ہی اولاد ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی اولاد کے آگے مجبور ہے۔
رجنی مزید فکر میں مبتلا ہوگئ وہ ایک ذہنی پریشانی سے گذر رہی تھی۔ شیوانی اپنے والد کے قریب آکر بولی:۔جاؤں پاپاـ؟ ہاں بیٹا جاؤ۔
اور سنو! بیٹی گھر جلدی واپس آجانا اور اپنا فون آن رکھنا، اوکے ـ؟اوکے ڈیڈی۔ بائی مما بائی ڈیڈی…. بولتے ہوئے شیوانی گھر سے باہر نکل گئ 
رات کے ۹ بج چکے تھے۔ رجنی اپنے بیڈ پر محض اپنے لخت جگر کے بارے میں سوچ رہی تھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اس نے سومناتھ ملہوترا کو جگایا اور شیوانی کو فون کر جلدی گھر بلانے کے لئے کہا۔
سومناتھ نے بغیر کسی تاخیر کے بیٹی کو فون ملا یا۔
ہیلو۔ بیٹا شیوانی -؟
ہاں پاپا۔ میں ایک گھنٹہ میں آجاؤں گی پاپا اوکے کہتے ہوئے شیوانی نے فون کاٹ دیا. اپنی بیٹی سے تسلی بخش بات نہیں کر پانے کی وجہ سے سومناتھ بھی پریشان ہوگئے رات کے ۱۱ بج چکے تھے، شیوانی اب بھی واپس نہیں آئی تھی اور اب اسکا فون بھی بند تھا۔ رجنی اور سومناتھ ملہوترا مزید ذہنی پریشانی کا شکار ہورہے تھے.ہر لمحہ ان کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی؛
انہوں نے شیوانی کی ڈائری نکال کر اسکے مختلف دوستوں کو فون کیا پر سب نے اپنے اپنے گھر میں ہونے کی بات کہی، انہوں نے شہر کے اپنے کئ جاننے والوں کو بھی فون کیا پر کہیں سے شیوانی کی خبر نہ ملی صبح ہوتے ہی سومناتھ نزدیکی پولیس اسٹیشن پہنچے اور بیٹی کے گمشدہ ہونے کی خبر پولیس کو دی۔ادھر رجنی کا رات سے ہی رو رو کر برا حال تھ وہ ان تمام باتوں کیلئے اپنے شوہر سومناتھ کو ہی ذمہ دار ٹھہرا رہی تھی،اس کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
سومناتھ اسے بار بار چپ کرارہاتھا اور شیوانی کو کچھ نہ ہونے اور محفوظ گھر لوٹنے کا دلاسابھی دے رہاتھا پر رجنی پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہورہاتھا،شام کے سات بچ چکے تھے اور شیوانی کو گھر سے نکلے اب چوبیس گھنٹے بیت چکے تھے پر ابھی تک ان کے والدین کو کوئی سراغ حاصل نہیں ہوپایا تھا۔سومناتھ نے دن بھر میں چار بار پولیس اسٹیشن کا چکر بھی لگایا پر ہر بار انہوں نے تفتیش جاری ہے کہہ کر اسے واپس بھیج دیا.
رجنی اب بھی رو رہی تھی اور اپنی بیٹی کے لئے سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی، اچانک رات کے گیارہ بجے گھر کے موبائل کی گھنٹی بجی تو سومناتھ نے فورا ہی فون کو کان سے لگاتے ہوئے پوچھا کون؟
سومناتھ ملہوترا بات کر رہے ہیں؟
ادھر سے کسی نے سوال کیا تو اس نے ہاں میں جواب دیا آپ فورا ً بیس لاکھ لیکر کانپور شہر کے باہر پرانی کالی مندر کے پاس جو کھنڈر ہے وہیں چلے آئیں اور ہاں اس بات کی خبر کسی کو ہوئی تو آپ اپنی اکلوتی اولاد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔۔۔ یہ سن کر فون ان کے ہاتھ سے نیچے گرا اور آنکھوں میں بے ساختہ آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ پڑا۔۔

 

 

سانپ اور پرندے : مہتاب عالم پرویزؔ SANP AUR PARINDE : MAHTAB ALAM PERVEZ

 افسانہ

سانپ اور پرندے -SANP AUR PARINDE
مہتاب عالم پرویزؔ – MAHTAB ALAM PERVEZ
کویت -KUWAIT

            ٭گُذشتہ شب میری پانچ سالہ بیٹی نوشینؔ نے JUBILEE PARK جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ 
جب میں ساڑھے چھ بجے سائبر بند کر کے اپنے گھر لوٹا، میری بیوی میری منتظر تھی اور میرا چار سالہ بیٹا فرازؔ مجھے دیکھ کر کافی خوش ہوگیا تھا لیکن میری آنکھیں اپنی پیاری سی بیٹی نوشین ؔکو تلاش کر رہی تھیں ……
سمرنؔ نے بتا یا کہ آپ کی پیاری بیٹی تو آپ کا انتظار کرتے کرتے تھک سی گئی تھی پھر آپ نے فون کر کے جب یہ بتایا کہ میں ساڑھے چھ بجے آرہا ہوں جب آپ کا فون آیا تھا اُس وقت شام کے پانچ بجے تھے اور پھر ایسے حالات میں اُس کے اندر اتنا PATIENCE کہاں کہ وہ آپ کا انتظار کرے وہ تحسین ؔکے ساتھ جا چُکی ہے۔ تحسین ؔکے مّمی اور ڈیڈی جا رہے تھے۔ اس سے اچھا موقع اُس کے لئے اور کیا ہو سکتا تھا۔
”اور جب وہ جا ہی چُکی ہے تو اب JUBILEE PARK جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“ سمرنؔ نے اظہارِ خیال کیا۔ ”آپ تو یہ اچّھی طرح سے جانتے ہیں کہ مجھے بھیڑ بھاڑ سے شدید نفرت ہے۔“ لیکن میرا چار سالہ بیٹا فرازؔ شور مچانے لگا۔اور اپنی توتلی زبان سے کہنے لگا ”ام بی پالک جا للا……“
ویسے پارک جانے کامیرا بھی ارادہ نہیں تھا لیکن فراز ؔ کی وجہ سے مجبورا جانا پڑا۔
پارک کے جانے والے راستوں سے ہی فرازؔ کی نگاہیں اپنی بہن نوشین ؔ کو تلاش کر رہی تھیں اور وہ بار بار اپنی توتلی بولی سے کہہ رہا تھا۔ ”امی نوشینؔ کہاں لللا۔“ کیونکہ یہ دونوں معصوم بھائی بہن ایک دوسرے سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔
پارک کے مین گیٹ سے ہی لوگوں کی افرا تفری شروع ہوگئی تھی، بھیڑ کافی تھی۔ ایک لمحے کے لئے میں نے سوچا کہ واپس لوٹ چلوں، اور سمرنؔ بھی واپس لوٹ جانے کا اصرار کرنے لگی تھی لیکن فرازؔ نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ”نہیں میں گُھوم لللا…..“ اور خوب زور زور سے رونے لگا، آخر تھک ہار کرہم لوگوں کو، لوگوں کے اس ہجوم میں شامل ہو نا پڑا۔
گاؤں کے پُرسکون ماحول کی پروردہ میری بیوی نے جب لوگوں کی اس بھیڑ میں، اپنے آپ کو دیکھا تو کہنے لگی۔ ”یہ ا ٓپ مجھے کہاں لے آئے ہیں ۔؟“
”آپ یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مجھے بھیڑ بھاڑ سے شدید نفرت ہے۔ اور یہ باتیں آپ کو میں نے پہلے بھی بتائی تھیں۔“
”جانتا تو ہوں۔“
”اُس کے باوجود آپ مجھے یہاں لے آئے ہیں۔“
”میں نہیں۔“
”ہمارے صاحب زادے نے ہمیں یہاں آنے پہ مجبور کیا ہے۔ او رمجبوریاں انسان سے کیا کُچھ نہیں کرواتی ہیں۔آپ تو یہ اچّھی طرح سے جانتی ہیں کہ میں خودتنہائی پسند ہوں، بھیڑ بھاڑ سے مجھے بھی اتنی ہی نفرت ہے جتنی نفرت آپ کرتی ہیں ۔“
بھیڑ اتنی بڑھ گئی تھی کہ میرا چار سالہ بیٹا اپنے آس پاس کے کسی بھی ماحول کو سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا آخر میں نے اُسے اپنے کاندھے پہ اُٹھا لیا۔ میرا بیٹا کافی خوش تھا کیوں کہ وہ خود کو میرے کاندھے پہ سوار کر کے مجھے گھولاکہہ رہا تھا اور اپنی توتلی زبان سے مجھے کہہ رہا تھا۔ ”چل میلے گھولے تک تک تک……“
”چل میلے گھولے تک تک تک .“……. سُن کر……
میری بیوی کافی خوش تھی کہ میرا بیٹا آج اپنے باپ کو صحیح طرح سے پہچان پایا ہے۔یہ الگ سی باتیں ہیں کہ رات کے ہر پچھلے پہر گھوڑے کے ہنہنانے کی آوازیں وہ اپنے پہلو میں محسوس کرتی ہے۔ اور پھر وہ اُسے رام کرنا بھی جانتی ہے۔
میں بھی کافی خوش تھا۔
اچانک میری بیوی نے دوبارہ کہا کہ ”آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں آپ کا بیٹا آپ کو گھوڑا کہہ رہا ہے اور میری آنکھیں لوگوں کی اس بھیڑ میں انسان کو تلاش کر رہی ہیں۔ لوگوں کی بھیڑ موجود ہے لیکن میں خوف زدہ ہوں، نہ جانے کیوں۔؟“
ایک لمحے کے لئے میں بھی چونکا اور بھیڑ کا باریک بین نگاہوں سے جائزہ لینے لگااور پھر میری آنکھیں پھیلتی ہی چلی گئیں۔ 
میں نے دیکھالوگوں کے سارے چہرے جانوروں کے خوفناک صورت اختیار کر چُکے تھے۔ اور کالج کی خوبصورت، خوبصورت سی لڑکیاں ریچھ کے سنگ گُھوم رہی تھیں۔ ریچھ کے ناخونی پنجوں میں خوبصورت لڑکیوں کی مخروطی انگلیاں سموئی ہوئی تھیں۔بھیڑیا صفت لوگوں کے ہاتھ خوبصورت سی لڑکیوں کے شانوں پر تھے اور کینہ توز نگاہیں اُس کے جسم کے نشیب و فراز پہ رینگ رہی تھیں۔ کُتّے جیسی خصلت کا وہ آدمی اپنے منھ سے رال ٹپکا رہا تھا۔ اور کسی کے نوکیلے دانت کسی کے وجود کو چیڑ پھاڑ رہے تھے۔ کسی کی ننگی آنکھیں جسموں کو بے لباس کرنے میں مصروف تھیں۔
”چل میلے گھولے تک تک تک …..“
میں پھر چلنے لگا تھا…….
سارا پارک رنگ برنگے قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔سانپ جیسی بل کھاتی کالی لمبی سڑک ، بھیڑیے ، ریچھ ، کُتّے نما لوگوں کو اپنے وجود پہ سوار کئے رینگ رہی تھی۔ میں بھی گھوڑا بن کر اُس پہ سوار تھا۔اور میرا بیٹا گُھڑسواری کر رہا تھا۔ اور اُسے بڑا مزا آ رہا تھا لیکن سمرنؔ اس بھیڑ سے اُکتانے لگی تھی۔
؎ سمرنؔ نے کہا ”اب واپس چلیں۔ آج ہی شادی کی پارٹی میں بھی جانا ہے، واپسی پہ کافی تھکان ہو جاتی ہے۔“
میں بھی یہی چاہ رہا تھا۔
خیر کسی طرح سے میں اپنے گھر لوٹ آیا تھا۔ گھر کی واپسی کے وقت فرازؔ آئسکریم کے مزے لیتا رہا اور ہم لوگ جھال موڑھی کے ذائقے کے سنگ اپنی پیاری سی بیٹی نوشین ؔ کو یاد کرتے رہے۔ گھر پہنچتے ہی سمرنؔ نے گرما گرم چائے بنا کر اچّھی بیوی ہونے کاثبوت دیا۔ 
ہم دونوں نے چائے پی کر خود کو فریش محسوس کیا۔اور شادی کی پارٹی میں جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔
راجؔ گارڈن میں شادی کی شاندار پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا پورا ہال رنگ برنگے قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھری پڑی تھیں۔ ٹیڈی بیر کا جوڑا بچوں میں چاکلیٹ بانٹ رہا تھا۔ اور میں انسان کو اس جانوروں کے خول میں لپٹا دیکھ کر نئی کہانیوں کے ادھیر بُن میں گُم ہو گیا تھا کہ کہانیاں تو ایسی ہی سوسائٹی میں جواں ہوتی ہیں۔ یا پروان چڑھتی ہیں۔
میری بیٹی نوشینؔ بھی لوٹ آئی تھی اور پارٹی میں آئسکریم کے مزے لے رہی تھی۔
اور میں نہ جانے کیوں انسانوں کے اس ہجوم میں شامل اس انسان کی حرکتوں پہ نظر رکھے ہواتھا جو انسان ہو کر بھی ٹیڈی بیر کے خول میں لپٹا ہوا تھا۔اور میرا ذہن نئی کہانی کے اُدھیر بُن میں گُم ہوگیا تھا۔ ایک ایسے انسان کی کہانی جس کی مجبوریوں نے اُسے ٹیڈی بیر بننے پہ مجبور کر دیا تھا۔ اور میر ے ذہن میں جب تک کسی نئی کہانی کا CONCEPT مکمل تیار نہ ہو جائے زندگی اجیرن سی لگنے لگتی ہے۔ نوشینؔ نے آئسکریم کا کپ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ 
”کیا سوچ رہے ہیں بابا جانی۔ آپ یہاں کب آئے ، JUBILEE PARK میں بھیڑ کی وجہ سے آپ لوگوں سے ملاقات بھی نہ ہو سکی پارک میں فراز ؔنے کیا کیا کھایا، میرے لئے کیا لائے۔آپ کہاں کہاں گُھومے۔ ہم لوگوں نے پارک کا پورا چکر لگایا، دہاڑتاہوا شیر دیکھا۔ جس کے دہاڑنے کی آوازیں سُن کر ہم سے چھوٹے بّچے اپنی اپنی ماں کے پیچھے چُھپ جایا کرتے تھے۔اور میں بھی ڈر سی جاتی تھی۔ اور ایسے وقت میں میری بانہیں آپ کو تلاش کرتی تھیں۔ شیر کی آنکھوں میں لال رنگ کا بلب روشن تھا، اپنے سونڈھ سے پانی پھینکتا ہوا ہاتھی کا ایک بچہ دیکھا بہت اچھا لگا، اسپائیڈرمین دیکھا اور جلتے بجھتے قمقموں کی ڈھیر ساری چیزیں دیکھیں۔“
اور پھر وہ اُداس ہوگئی۔ میں نے اُس کے اِس اُداسی کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو وہ پھر کہنے لگی……
”اور باباجانی ایک جگہ ایک پیڑ پہ سانپ لپٹا ہوا تھا۔ پیڑ کی اُونچی شاخ پر چڑ یوں کا گھونسلہ بنا ہوا تھا۔اُس میں چڑیوں کے بچّے چو ُں چوُں کر رہے تھے۔ سانپ رینگتا ہوا آتا ،اور گُھونسلے تک پہنچ جاتا پھر اُس کی لپلپاتی زبان باہر نکل آتی اور اُس کی سُرخ ہوتی ہوئی آنکھوں سے لال روشنی نکلنے لگتی اور پھر اُس سانپ کا بڑا جبڑا کُھل جاتا اور وہ زہریلا سانپ چڑیا کے سارے بچّوں کو کھا جاتا ایسے وقت میں، میں ڈر سی جاتی لیکن سلمان ؔاورحمد انؔ بھائی جان نے کہا کہ یہ سچ کاتھوڑے ہے
۔ پھر تحسین ؔآپی نے بتایا کہ یہ سب کُچھ چھوٹے چھوٹے بلب جس کو منی بلب کہتے ہیں اُسی سے بنا یاگیا ہے۔ میں اپنی پیاری سی بیٹی نوشینؔ کی ساری باتیں بغور سُنتا رہا۔
”آپ نے چڑیا کے بچّوں کو کھانے والا وہ زہریلاسانپ نہیں دیکھا بابا جانی۔؟“ 
”نہیں۔“
”کیوں۔؟“
”بھیڑ کافی تھی میں …….. میں وہاں تک پہنچ نہیں پایا۔“ 
”اچّھا ہوا آپ لوگ نہیں گئے۔“
”اگر آپ لوگ جاتے تو اپنا فرازؔ بھی آپ لوگوں کے ساتھ جاتا وہ ابھی بہت چھوٹا ہے کہیں وہ زہریلا سانپ اُسے بھی کھا لیتا۔ تو دوسرا بابو کہاں سے لاتے۔ اب آپ نے بھی باہر جانا چُھوڑ دیا ہے۔ امّی کہا کرتی ہیں کہ آپ دونوں کو بابا جانی نے باہر سے بھیجا ہے پارسل کے ذریعے……..“
”فرازؔ تو کافی ضد کر رہا تھا۔ لیکن بھیڑ کی وجہ سے میں نے وہاں جانا مناسب نہیں سمجھا۔“
”ہاں بھیڑ تو کافی تھی ۔سبھی لوگ وہا ں پہ صرف تماشہ دیکھ رہے تھے کسی نے بھی سانپ کو نہیں بھگایا میرا تو دل کر رہا تھا کہ پتھر اُٹھا کر اُس سانپ کی آنکھ میں مار کر اُس کی آنکھیں ہی پھوڑ دوں جب سانپ اندھا ہو جائے گا تو وہ پیڑ پہ نہیں چڑھ سکے گا اور چڑیوں کے گھونسلے تک نہیں پہنچ سکے گا اور اندھا ہی مر جائے گا۔“
”میں نے وہاں بھیڑ ہونے کے باوجود پتھر بھی اُٹھا لیا تھا لیکن سلمانؔ ؔبھائی جان نے کہا تم پاگل ہو گئی ہو کیا ۔؟وہ سچ کا سانپ نہیں ہے، تم اگر پتھر سے مارو گی تو سارے بلب ٹوٹ جائیں گے۔اور سارا نظام کام کرنا چُھوڑ دے گا۔سارے لوگ تم سے ناراض ہو جائیں گے۔ اور وہاں دیکھو وہاں پولیس والے بھی کھڑے ہیں۔تمہیں پکڑکر جیل لے جائیں گے۔“
پولیس کو دیکھ کر میں سہم سی گئی تھی۔اور سلمانؔ بھائی جان نے پتھر میرے ہاتھ سے چھین کر سامنے کے نالے میں پھینک دیا تھا۔جہاں شہرکا گندہ پانی بہہ رہاتھا۔
”سلمان ؔبھائی جان اگر وہ سچ کا سانپ نہیں ہے تو وہ چڑیاکے بچّوں کو کیسے کھا لیتا ہے۔؟“
”ایسے ہی پروسس میں اس کو بنا یاگیا ہے۔“
”یہ پروسس کیا ہوتا ہے۔؟“
”اب میں تمہیں کیسے سمجھاؤں۔؟“
”پروسس آپ کو معلوم ہو گا تب ناآپ مجھے سمجھائیں گے۔“
یہ ساری باتیں وہ کہتی رہی اور میں سُنتا رہا صرف سُنتا ہی نہیں رہا بلکہ نوٹ کرتا رہا اپنے وجود کے اُن گوشوں میں …… جہاں کہانیاں ہی کہانیاں تھیں ……
باتیں ہوئیں اور ختم بھی ہوگئیں۔ لیکن میرے اند ر وہیں سے ایک نئی کہانی کا جنم ہو گیا تھا۔ ایک ایسی کہانی جس کا انجام میں اپنی اِن آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن میرا CONCEPT کُچھ ا ور ہی تھا۔
کافی رات گئے میں شادی کی پارٹی سے لوٹا تھا۔ اور کافی بے چین بھی تھا۔ساری رات کہانیوں کے اُدھیر بُن میں گُم تھا۔نت نئی کہانیاں بنتیں اور تصور میں ہی گُم ہوجاتیں …..لیکن پارک کا وہ سانپ سر اُبھارتا رہا۔ 
رات کافی گہری ہو گئی تھی۔ نوشین ؔمیرے پہلو میں ہی سوئی ہوئی تھی۔ اچانک ایک تیز چیخ کے ساتھ وہ اُٹھ بیٹھی اور سانپ ، سانپ کہہ کر چلانے لگی۔ وہ کافی ڈری اور سہمی ہوئی تھی۔ایسے حالات میں، میں نے اُسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا تھا۔ سمرنؔ نے بیڈ روم میں لائیٹ آن کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔ سارا بیڈ روم ٹیوب لائیٹ کی دودھیا روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ 
سمرن ؔ نے نوشینؔ کو اپنی گُودمیں لیتے ہوئے کہا۔ ” اس طرح نہیں ڈرا کرتے ۔ آپ تو اپنے کمرے میں سوئی ہوئی ہیں۔ جہاں ایک MOSQUITO بھی نہیں آ سکتا ،COCKROACH بھی نہیں آ سکتا ایسی صورتوں میں سانپ کیسے اور کہاں سے آئے گا۔“
”میں ….. میں نے کمرے میں سانپ نہیں دیکھا تھا ۔ میں تو سوئی ہوئی تھی۔پھر میں پارک میں کیسے چلی گئی۔“
”اس کا مطلب آپ خواب دیکھ رہی تھیں۔“
”خواب ، نہیں میں سانپ دیکھ رہی تھی۔“
”آپ نے خواب میں کیا دیکھا۔؟“ 
”باباجانی ایک جگہ ایک پیڑ پہ سانپ لپٹا ہوا تھا۔ پیڑ کی اُونچی شاخ پہ چڑ یوں کا گُھونسلہ بنا ہوا تھا۔اُس میں چڑیوں کے بچّے چو ُں چوُں کر رہے تھے۔ سانپ رینگتا ہوا آتا ،اور گُھونسلے تک پہنچ جاتا پھر اُس کی لپلپاتی زبان باہر نکل آتی اور اُس کی سُرخ ہوتی ہوئی آنکھوں سے لال روشنی نکلنے لگتی۔ اور پھر اُس سانپ کا بڑا جبڑا کُھل جاتا۔ اور وہ زہریلا سانپ چڑیا کے سارے بچّوں کو کھا جاتا ہے،میں چیخنے لگی ہوں۔
”وہ سانپ چڑیا کے بّچوں کو کھا رہا تھا۔ میں نے جب پتھر اُٹھا کر اُسے مارنے کی کوشش کی تو وہ میری طرف آنے لگا تھا۔ اور میں ڈر سے چلانے لگی تھی……“
”بابا جانی آپ ابھی تک سوئے نہیں ۔؟ “
”پارک کے سانپ نے مجھے بھی پریشان کر رکھا ہے۔“
”ہاں بابا جانی۔“
”مجھے بھی سانپ کی اس حرکت پہ بہت غصّہ آیا تھا، لیکن میں، میں مجبور تھی کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔“
” آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں۔میں آپ کی مدد کروں گاکل آپ کا اسکول ہے۔؟“
”نہیں۔“
”کل صبح آپ میرے سا تھ وہاں جانا پسند کریں گی۔“
”کیوں نہیں۔“
دوسری صبح پارک میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا، اکّا دکّا لوگ پارک کی سیر کر رہے تھے۔ پولیس والے بھی نہیں تھے میں نے اپنی بیٹی نوشینؔ کے ہاتھ میں پتھر دے دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ جیسے ہی تمہیں موقع ملے پتھر سے اُس سانپ کی آنکھ کو پھوڑ دینا لیکن دھیان رہے کوئی دیکھے نہیں۔
میں نے نوشین ؔ کے کہنے کے مطابق بائیک کو پارک کر دیا تھا۔اور اُس جگہ کو تلاش کرنے لگے۔نوشینؔ ادھر اُدھر اپنی نگاہیں دوڑا رہی تھی۔ اچانک اُس مقام پہ پہنچ کر وہ کافی زور زور سے ہنسنے لگی۔ پتھر اُس کے ہاتھ سے چُھوٹ گیا تھا۔اور وہ تالی بجا رہی تھی۔
میں اُس کی اس حرکت پہ حیران تھا۔
اور اُس سے بھی زیادہ حیران میں اُس وقت ہوا جب میری نگاہ اُس پیڑ پہ پڑی…….
پیڑ پہ سانپ لپٹا ہوا تھا، اور ڈھیر سارے پرندوں نے ایک ساتھ اُس سانپ پہ حملہ کر دیا تھا۔اور سانپ کی دونوں آنکھیں پھوٹی ہوئی تھیں۔ 

()()()()()

مہتاب عالم پرویزؔ
کویت


 

بیک ڈور: مہتاب عالم پرویزؔ BACK DOOR : MAHTAB ALAM PERVEZ

                               

                                                                جناب ایڈیٹر صاحب…………. بے پناہ محبتیں

                          میں اللہ کی پناہ میں ہوں اور آپ سے بھی ایسی ہی اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں میں نے۔

                          خُدا آپ کو سدا اپنی اماں میں رکھے۔

                          اور………….میں بھی بخیر ہوں۔ آپ کی دُعائیں جو میرے ساتھ ہوتی ہیں۔

                         ویسے میں اپنی مصروفیت کی گتھی آپ کو کس طرح سے سلجھا سلجھا کر بتاؤں کہ ان دنوں میں قطعی اس حال میں نہیں تھا کہ آپ کو محبت کے دو بول ہی عنایت کرتا۔

                          ویسے میں رسموں بھرے سماج میں رہتا ہوں ایک ایسا ہی سماج جہاں مجھے احساس ہوتا ہے کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں۔ اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ کہانی کار بھلا کیا کرسکتا ہے۔ ایک بہاؤ ہے جو اندر کے سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے اور قلم دوڑنے لگتا ہے…………

                           اور ایسے میں مجھے اسلم بدرؔ کی وہ باتیں یاد آتی ہیں………..

                        ”جدید افسانہ نگاروں میں یوں بھی فرائیڈ اور ڈی  ایچ  لارنس مقبول ہیں۔کہیں کہیں ان کے افسانوں میں جنسی خواہشات و جذبات کی آنچ تیز تر ہو کر جنسی کجروی، یہاں تک کہ کمسنوں کی جنسی بے راہ روی تک پہنچ جاتی ہے۔ ادب میں جنسیات کا میں مخالف نہیں ہوں، جنسیات تو ادب کا ایک موضوع رہا ہے۔ میں بس پرویزؔ سے اتنا کہناچاہتا ہوں کہ اس آنچ کو ذرا دھیمی رکھیں…….“

                         اور جب میں نے اس آنچ کو دھیمی رکھنے کی کوششیں کیں تو وہ لَو ہی بجھ گئی اور دور تک لا متناہی اندھیرا چھا گیا۔

                           لیکن ان اندھیروں میں بھی میری آنکھیں حیران تھیں ویسے بھی کہانی کار کافی حساس ہوتا ہے کیونکہ میری آنکھوں کا تیسرا دروازہ کُھل گیا تھا اور میں ان لا متناہی اندھیروں میں بھی دیکھ سکتا تھا۔

                        ” بیک ڈور “ کے موضوع سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں مگر میرے رسموں بھرے اس سماج میں ایسے کردار موجود ہیں یہ اور بات ہے کہ سماج میں رہنے والے عام لوگوں کی رسائی وہاں تک نہیں ہو پاتی……..

                             اُنہوں نے  ” بیک ڈور “کھول دیا تھا اور سانپ رینگتا ہوا جا رہا تھا………

                             اور فرنٹ ڈور کے کی ہول سے باہر کی آنکھیں پرنٹ آؤٹ لے رہی تھیں……..  (بیک ڈور)             

                                ” بیک  ڈور  “  ایک افسانہ ہے جسے میں نے  بطور ِخاص آپ کی بزم کے لئے لکھا ہے۔ اور اس کا پرنٹ آؤٹ آپ کے سامنے موجود ہے اور اس کا فیصلہ بھی آپ کے ہاتھوں ہی ہونا ہے۔

                                مجھے اُمید ہی نہیں بلکہ پورا یقین ہے کہ آپ میرے ساتھ انصاف کریں گے۔

                                کسی قریبی اشاعت میں  اس کہانی کوشامل کرکے مجھے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں اور دُعاؤں میں یاد رکھیں…….

                                اور اس خط کو بھی کہانی کے ساتھ شامل کر لیں عین نوازش ہوگی….

                                                 آپ کا…………………..  مہتاب عالم پرویزؔ (کویت)

 

 

                                  بیک ڈور  BACK DOOR

                                  مہتاب عالم پرویزؔ  MAHTAB ALAM PERVEZ   

                                   (کویت)

                                                                                                                          

                                ٭ان دنوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے نا کردہ گُناہوں کی سزا کاٹ رہی ہوں……

                  ”غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور کُچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جسے خُدا معاف کر دیتا ہے۔ اور جب خُدا معاف کر دیتا ہے تو بندوں سے ایسی اُمیدیں کی جاسکتی ہیں۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارے ساتھ انصاف ہوگا۔“

                                ”تم اپنی ان فلسفیانہ باتوں کو اپنے ہی دائرے حدود میں رکھو، ویسے جس روز میں نے اپنی حدوں کی سرحدیں پارکرلیں اُس روز تم لوگوں کے پاس کہنے کے لئے کُچھ بھی نہیں رہ جائے گا اور تمہاری آنکھیں حیران رہ جائیں گی اور تم سبھی یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاؤ گے کہ واقعی میرا گُناہ کیاہے۔“

                                ”اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ ابھی تم سبھی لوٹ جاؤاور آئندہ جو بھی ہو گا میں تم لوگوں کو اپنی ساری باتیں بتاؤں گی اور تب تم لوگوں کو احساس ہو گا کہ زندگی کتنی تلخ شئے ہے۔ یا کتنی حرامزادی ہے۔

                               

                                اور……. اُس کے بعد میرے سبھی ساتھی کالج لوٹ گئے…….

                                اور میں یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی کہ واقعی میرا قصور کیا ہے۔ یہی ناکہ اُس پروفیسر نے مجھے اپنی تشدد کا نشانہ بناناچاہا اور خود ہی اُس کا شکار ہو گیا۔

                               

                                تعلیم کے نام پہ تعلیم کی جتنی سیڑھیاں آج کی بیٹیاں پھلانگ رہی تھیں اُن کے لباس اُتنے ہی تنگ ہوتے جا رہے تھے۔

اور ازابند کے پھُندنے کسی گرم سلاخ کی طرح عقل کے چولہے پر آگ برسا رہے تھے۔

                                 لیکن میں اُن میں سے نہیں تھی۔

                                ” بر طانیہ کے ایک اسکول میں لڑکیوں کے اسکرٹ پہننے پر پابندی “  جیسی خبریں جب میری سماعت سے ٹکرائیں تو میں یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی کہ آج بھی دُنیا اس لئے قائم اور دائم ہے۔

                                لندن (ایجنسی )  دی ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ایک اسکول نے لڑکیوں کو لڑکوں کے جنسی تشدد سے بچانے کے لئے اسکرٹ پہننے پر ستمبر سے  پابندی عائد کر دی ہے۔ ماؤلٹن اسکول اینڈ سائنس کالج نارتھم پٹنشیر نامی اس اسکول میں   ۱۱ سے  ۸۱  سال کی تقریباََِ  ۰۰۳ ۱ طلبہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اس اسکول نے پابندی کے بعد صرف ڈھیلا ڈھالا کالا ٹراؤزر پہننے کی اجازت دی ہے۔ہیڈ ماسٹر ٹریور جون نے بتایا کہ یہ اہم فیصلہ لڑکیوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کے لئے کیا گیا ہے۔اسکول انتظامیہ نے سخت رُخ اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو لڑکی اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرے گی، اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اسکرٹ پہننے کی سزا کے طور پر پُرانا کپڑا پہننے کے لئے دیا جائے گا۔ یا اسے بدلنے کے لئے گھرواپس بھیج دیا جائے گا۔ ہیڈ ماسٹر جون نے کہا کہ لڑکیوں  پر نظر رکھی جائے کہ کون سی لڑکی ہاف اسکرٹ  ران یا اس کے اوپر تک پہن کر آتی ہے  اور ضابطہ مخالفت کرنے والی لڑکی کے خلاف کاروائی

کی جائے گی۔  ”اسکرٹ پہننے والی لڑکیوں کو اسکول اور نائٹ کلب کا فرق سمجھنا  چاہئے،  ایسی لڑکیوں کے لئے اسکول سے زیادہ مناسب جگہ نائٹ کلب ہی ہے۔ ہیڈ ماسٹر نے مزید کہا کہ اسکول میں چند گھنٹے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے میں گُذارنا چاہئے، اسکرٹ پہننے سے لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا ہے جس سے وہ پریشان ہو جا تی ہیں۔ ظاہر ہے وہ ایسی حالت میں پڑھائی لکھائی پر مطلوبہ توجہ نہیں دے سکتیں۔“

                                لیکن میں اس خبر کو سُن کر بے حد خوش تھی۔ اور میں خوش کیوں نہ ہوتی مجھے تو ایک سبیل مل گئی تھی۔ ایک راستہ مل گیا تھا ایک ایسا راستہ جس کے ذریعے میں اپنے مقصد کو عملی جامہ پہنا سکتی تھی۔

                                میں نے جس کالج میں ایڈمیشن لیا تھا وہ شہر کے پُرسکون ماحول میں بسا ہوا تھا جہاں پڑھائی پہ خاص توجہ دی جاتی تھی اور  میرا مقصد بھی یہی تھا کہ میں اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کرسکوں اور ایک اچھّے عہدے پہ فائزہو جاؤں۔

                                میں کالج میں نئی نئی شامل ہوئی تھی اس لئے کالج کے سارے نظام اور ضابطے سے لا علم تھی۔

                                اسکول سے کالج تک کے اس سفر میں میں نے جن پُرخار راہوں کا سفر طئے کیا تھا وہ راہیں وہ سڑکیں وہ شاہراہیں آج بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو بڑے ہی حُسن اسلوبی سے گُذار لیا تھا لیکن اس کالج کی سرحدیں، کالج کے اندر اورکالج کے باہر کے نظم و ضبط میں کافی نشیب و فراز تھا جیسے سب کُچھ تضاد کا شکار ہو۔

                                 اور……….

                                وہ پروفیسر جسے ہر لمحہ اپنی بڑھتی عمر کا احساس ستائے رہتا تھا۔ اور خود کو کلین شیو رہنا پسند تھا جس کے بالوں کی گاڑھی سیاہی اب ملگجے میں بدلنے لگی تھی۔

                                لیکن وہ اپنی اسNATURAL  تبدیلیوں کو موقع کی نزاکت اور اپنے خواہش کے حساب سے کئی رنگوں میں رنگ دیا کرتا تھا خوشبو اورلباس اُس کی پسندیدہ چیزیں تھیں۔ 

 

                                کالج کے شروع کے ہی دنوں میں مجھے اُس  پروفیسر کے پاس جانا پڑا تھا  جسے دُنیا  وشال ورما  کے نام سے جانتی تھی۔

                                کالج کے پرنسپل  اُن دنوں آؤ ٹ آؤف اسٹیشن تھے میں جیسے ہی  اُن کے چیمبر میں داخل ہوئی ایک لمحے کے لئے میرا سراپا وجود کسی سنگ تراش کے ہاتھوں تراشے ہوئے سنگ مرمر کے نیوڈ میں تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ صرف اس لئے کہ اُس کی باوقار

آنکھیں میرے جسم کے نشیب و فراز پہ اس طرح رینگ رہی تھیں جیسے کسی درخت کی شاخوں پہ رینگتا ہوا سانپ اپنے شکار تک پہنچ جانے کی سعی میں مصروف ہو۔

                                میں گھبرا کر لوٹ جانا چاہتی تھی کہ اُس نے فارم میرے ہاتھوں سے لے لیا تھا۔ فارم پہ سائین کرتے وقت بھی اُس کی نگاہیں میرے نشیب و فراز کو ٹٹول رہی تھیں اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اُس کی آنکھیں میرے وجود سے چپک گئی ہوں۔

                                اُس کمرے میں اے۔ سی  ہونے کے باوجود بھی میں پسینے میں شرابورہوتی جارہی تھی۔

                                ابھی میں اپنے آپ میں سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ اُس نے کہا۔ کافی ذہین معلوم ہوتی ہیں آپ، اور مجھے اپنے کالج میں ایسی ہی ذہین لڑکیاں اچھی لگتی ہیں۔

                                ”سر  اب میں جاؤں۔؟“

                                ”کیوں نہیں، پر جانے سے پہلے آپ اپنا نمبر اس موبائیل میں سیو کردیں تاکہ جب مجھے آپ کی کبھی ضرورت پڑے تو میں آپ کو کال کر سکوں۔؟“ اُس نے اپنا موبائیل میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

                                میری ضرورت۔؟ میری کیا ضرورت پڑ سکتی ہے  سرآپ کو۔؟

                                اب ضرورت کا کیا ہے۔؟ وہ کہتے کہتے بالکل خاموش ہو گئے تھے پر اُن کی آنکھیں بول رہی تھیں………

میں اُن کے موبائیل میں اپنا نمبر سیو کر رہی تھی جہاں موبائیل کے ڈسپلے پہ ایک نیم عُریاں لڑکی کی تصویر آویزاں تھی۔میں کسی طرح اپنا نمبر سیو کر کے اُن کے کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔

                                اور خود کو سنبھال لینے کی کوشش میں مصروف ہوگئی تھی کہ میرا موبائیل  ویبریٹ کرنے لگا تھا ایسے میں، میں ایک دم گھبرا گئی تھی۔

                                ویبریٹ اس لئے کہ میں نے اپنے موبائیل کو کالج کا احاطے میں ویبریٹ موڈ میں کر دیا تھا۔

                                 اور جب میں نے کال ریسیو کیا تو میں اور بھی حیران ہوگئی۔

                                ”مس  موناؔ آپ بہت خوبصورت ہیں،اور ہاں میں فون نہیں کرتا لیکن مجبوراََ فون کرنا پڑا وہ یہ کہ آپ اپنا پرس اور پن یہاں جاتے وقت بھول گئی ہیں اور میں نے آپ سے کہا تھا ناکہ مجھے آپ کے نمبر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اور وہ ضرورت  ابھی ابھی پڑ گئی آپ آ کر اپنا پن اور پرس لے جائیں۔“

                                ایک لمحے کے لئے میرے گال تمتما اُٹھے تھے لیکن میں نے بہت جلد اپنے آپ کو سنبھال لیاتھا ورنہ یہاں کالج کے اس ماحول میں کہانیاں اور افسانے بنتے دیر نہیں لگتی ہے اس بات کا احساس مجھے تھا اور میں کوئی کہانی بننا نہیں چاہتی تھی کوئی افسانہ بننا نہیں چاہتی تھی۔

                                میں نے اوکے کہہ کر موبائیل آؤف کر دیا تھا۔

                             اور جب کافی دیر گئے میرے اندر وہ ہمت یکجا ہوئی تو میں وہ پرس اور پن وہا ں سے لے آئی تھی۔

                               

                                میں کالج برابر اٹینڈ کیا کرتی تھی۔

                            کالج کے شروع کے ہی دنوں میں نے محسوس کیا کہ وشال ورماجس کی بڑی بڑی با وقار آنکھیں میرے جسم کے نشیب و فراز

کو ٹٹولا کرتی ہیں اور صرف ٹٹولاہی نہیں کرتیں بلکہ رینگتی بھی ہیں اور ایسے میں نہ جانے کیوں میرے اندر ایک ہلچل سی ہونے لگتی تھی اور جب

میں نے اپنے سراپا کا جائزہ تو احساس ہوا اور سہیلیوں کی کہی ہوئی وہ باتیں بھی یاد آگئیں کہ موناؔ تم واقعی اسمارٹ لگتی ہو اور تمہارے اندر ایک عجیب سی کشش ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچنے پہ مجبور کرتی ہے۔ میں نے شرما کر اپنے شگُفتہ چہرے کو اپنے ہاتھوں کے چلمن میں چھُپا لیا اور

اپنے ہی وجود میں سمٹتی چلی گئی۔

                                میں نے اسکول کے زمانے کی اُن سہیلیوں کوجو میرے سنگ اس کالج میں آئی تھیں جب یہ ساری باتیں میں نے اُنہیں بتائیں تو وہ کہنے لگیں۔

                                 ” وشال ورماہیں تو کافی اسمارٹ  اُن کی باوقار آنکھیں ہر لمحہ بولتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کی ان اوچھی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص کریکٹر لس بھی ہے۔ کل کالج کی کُچھ لڑکیاں اسی پروفیسر کے بارے میں اُلٹی سیدھی باتیں کر رہی تھیں اس میں کہاں تک سچائی تھی ان ساری باتوں سے  میں بھی بالکل نہ آشنا تھی۔“

                                میرے ذہن میں ڈھیر سارے کے سوالات اور طرح طرح کے خیالات جنم لینے لگے تھے۔  وشال ورمامیری خوبصورتی سے وہ اتنا امپریس ہوئے تھے کہ میری زُلفوں کے اسیر ہو گئے تھے اور پھر مجھ سے ملنے کے نئے نئے بہانے تلاش کرنے لگے تھے۔

                                اور………

                                شاید میں بھی اگر اُنہیں ایک پل نہ دیکھوں نمجھے چین نہیں ملتا تھا نہ جانے کیوں میں اُن کی طرف کھنچتی ہی چلی جا رہی تھی۔ یا پھر اُن کی کشش مجھے خود بخود اُن کے سحر میں مبتلاء کرنے لگی تھی۔

                                وہ برسات کا موسم تھا۔

                                کالج آجانے کے بعد سے ہی ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارا آکاش بادلوں سے ڈھک گیا تھا۔ بجلیاں کوند کوند کر ماحول کو اور بھی ڈراؤنا بنا رہی تھیں، اور ہوائیں تیز تیز چلنے لگی تھیں۔ کالج کی زیادہ تر لڑکیاں موسم کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکی تھیں۔میرا آخری کلاس ابھی باقی تھا  اگر میرا یہ آخری کلاس نہ ہوتا تو میں بھی جا چُکی ہوتی۔

                                ابھی میں ان ہی ساری باتوں میں گھری ہوئی تھی کہ میرے موبائیل نے ویبریٹ کیا۔ میں ایک دم چونک پڑی۔

                                 اور جب میں نے کال ریسیو کیا  تومیں ششدر رہ گئی۔

                                مونا ؔآپ وہاں کھڑی ہو کر کیا کر رہی ہیں۔؟

                                ”بس یوں ہی بارش کی پھوہاروں سے کھیل رہی ہوں اوربارش کی پھوہاروں کو میں اپنے اندر محسوس کر رہی ہوں۔“

                                ”میں یہاں اپنے کیبن سے ہاہر کے سارے منظر کو دیکھ رہا ہوں۔ میں یہ بھی اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ آپ اس وقت بالکل فری ہیں اور آپ کا آخری کلاس تقریباََ ساڑھے سات بجے سے شروع ہوگااوراس وقت سات بج رہا ہے۔ آپ آجائیں باہر بارش ہورہی ہے اور ایسے موسم میں آپ کے ساتھ کافی پینے کو دل کر رہا ہے۔“

                                ”کافی پینے کا  تومیرا بھی دل کر رہا ہے اور کالج کا کینٹین بھی بند ہو چُکا ہے۔ آپ کافی پی لیں  سر یہاں میں اپنی ڈھیر ساری سہیلیوں میں گھری ہوئی ہوں۔“

                                ”اتنی ساری سہیلیوں میں گھر کر بھی آپ اپنے آپ کو تنہا ہی محسوس کر رہی ہوں گی۔“

                                ”وہ تو ہے۔“

                                ”آپ اتنی ذہین ہو کر بھی اس طرح کی باتیں کر رہی ہیں۔؟آپ بہانے بناکر تو یہاں آ سکتی ہیں۔“

                                ”روز روز میں اور کتنے بہانے بناؤں۔؟ ویسے بھی میری سہیلیاں جب بھی مجھے آپ کے سنگ باتیں کرتے ہوئے دیکھتی ہیں تو آپ کے متعلق ڈھیر ساری باتیں کرتی ہیں اور میرے پاس سوائے خاموشی کے کُچھ بھی تو نہیں رہتا ہے۔“

                                ”آپ جن ڈھیر ساری سہیلیوں کی باتیں کررہی ہیں میں اُن تمام  میں سے زیادہ ترسہیلیوں کے روم روم سے واقف ہوں۔ دراصل آپ کی ساری سہیلیاں آپ کی خوبصورتی سی جلتی ہیں آپ کی شان وشوکت سے حسد رکھتی ہیں۔ اور رہی باتیں بنانے کی  توآپ کی اُن سہیلیوں کے پاس رہ ہی کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ اب کسی پُرانے قصّے کہانیوں کی طرح آپ کے اور ہمارے ان رشتوں کو

بھی اپنے اندر گُم کر کے کسی نئی کہانیوں کو جنم دیں گی اور کہانیاں تو ایسے ہی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ دیکھئے آپ انکار نہ کریں ورنہ ہم ناراض ہو جائیں گے۔“

                                میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور سہیلیوں سے بہانے بنا کر اُن کے چیمبر میں داخل ہوگئی۔

                                 چیمبر میں داخل ہوتے ہی اُنہوں نے ڈور اندر سے لوک کردیا تھا کافی پینے کاتو ایک بہانا تھا۔

 

                                 کافی پینے کو دوران میں اُس چیمبر سے باہر کے سارے مناظر کو بہ آسانی دیکھ رہی تھی۔چیمبر کے سامنے کُھلنے والی بڑی کھڑکی میں کالے اور موٹے گلاس کا استعمال کیا گیا تھا۔ اور اس گلاس کی یہ خوبی تھی کی کمرے کے اندر سے باہرکی تمام چیزوں کو باآسانی دیکھا جا سکتا تھا لیکن کمرے کے اندر کے ہونے والی ساری حرکتوں کا لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا۔

                                میں نے کافی پی کر جیسے ہی کپ ٹیبل پہ رکھا اُنہوں نے مجھے پیچھے کی طرف سے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔

                                ”سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟ میں اُن لڑکیوں میں سے نہیں جیسا آپ مجھے سمجھ رہے ہیں۔“

                                ”یہ ڈائیلاگ میں اتنی بار سُن چُکا ہوں کہ یہ الفاظ اب اپنے معنی کھو چُکے ہیں یا میں ان ساری باتوں کا عادی ہو گیا ہوں۔“

                                میں بارش کی پھوہار سے پہلے ہی بھیگی ہوئی تھی اُن کی بانہوں میں آکر اور بھی بھیگنے لگی…….بھیگتے ہی کئی رنگ کینوس پر آئے اور آپس میں گُڈ مُڈ ہوگئے۔

                                باہربارش زورو شور سے ہونے لگی تھی ہوائیں تیز تیز چلنے لگی تھیں اور بجلیاں کوندرہی تھیں اور میں اُن کی بانہوں میں سماتی جا رہی تھی کہ میرے اندر کے سانپ نے پھن کاڑھ لیا تھا۔ جیسے ہی اُن کی نگاہ اُس پھن کاڑھے ہوئے سانپ پہ پڑی وہ نیچے سے اوپر تک مجھے دیکھتے ہی رہ گئے اور اُن کی آنکھیں پھیلتی ہی چلی گئیں………

                                اُنہوں نے بیک ڈور کھول دیا تھا اور سانپ بیک ڈور سے رینگتا ہوا جا رہا تھا……….

                                اور فرنٹ ڈور کے کی ہول سے باہر کی آنکھیں پرنٹ آؤٹ لے رہی تھیں…….

 

                                                                                    ()()()()()

                               

 

 

                                                                                                 مہتاب عالم پرویزؔ  (کویت)

                                                                                 E – Mail    mahtabalampervez@gmail.com                            

 

شاک تھراپی : مہتاب عالم پرویزؔ : SHOCK THERAPY : MAHTAB ALAM PERVEZ

 

    شاک تھراپی

  SHOCK THERAPY 

  مہتاب عالم پرویزؔ 

  MAHTAB ALAM PERVEZ 

  کویت                                                                                                        

    E – mail mahtabalampervez@gmail.com                             

                                                 

                                                                             

                                ٭ ”ڈیڈکاش! آپ میری باتوں کوسمجھنے کی کوشش کرتے، ایسا نہیں ہے کہ میں تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتی یا تعلیم کے  زیور کو آراستہ کرنا نہیں چاہتی میری بھی خواہشیں ہیں کہ میں بھی اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کروں لیکن میں بھی مجبور ہوں میں ممی کو اس حالت میں چھوڑ کر کیسے اپنے شہر سے دور جاؤں گی۔ اور ابھی میری عمر ہی کیا ہوئی ہے۔؟ پڑھنے کے لئے ابھی میری ساری زندگی پڑی ہے۔“

                                آپ اپنی ممی کی فکر نہ کریں آپ کی ممی کی دیکھ ریکھ کے لئے میں ہوں نا۔آ پ کو اپنی ممی سے جتنا پیا ر ہے اُس سے بھی کہیں زیادہ میں اُن سے محبت کرتا ہوں اس بات کا یقین آپ کو یقینا ہوگا۔ میں نے ڈاکٹر زین سے ان تمام سلسلوں میں باتیں کر لی ہیں۔ ڈاکٹر زین نے کہا ہے کہ خاص طور پر اپنے میڈیکل کے تعلقات کی بنیاد پر ایک بہت ہی مشہور اور قابل   PHYSIOTHERAPIST   کا انتظام کر دیں گے اُن کے آ جانے کے بعد آپ کی ممی کو نہ ہی کوئی تکلیف ہو گی اور نہ ہی آپ کی پڑھائی کی راہوں میں کوئی بھی پریشانیاں حائل  ہوں گی۔

                                واقعی ڈاکٹر انکل نے ایسا کہا ہے تو میں ضرور گرلس ہاسٹل میں ایڈمیشن لے لوں گی۔

 

                                دوسرے روز ہی ڈاکٹر انکل آنے والے تھے اور اُن کے ساتھ ہی  PHYSIOTHERAPIST   شیلا اگروال بھی آئیں گی ایسا ہی کچھ ڈیڈنے بتا یا تھا۔

                                صبح ہوتے ہی گھر کے نوکر چاکر اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے تھے صدر دروازے سے لے کر اندر کے تمام دروازے اور کھڑکیوں کا ایک ایک پردہ تبدیل کیا جارہا تھا۔ بستر کی تمام چادروں کی جگہ سفید رنگ کی چادریں بچھائی جا رہی تھیں۔

                                سفید رنگ کی چادروں پر جب میری نظر پڑی تونہ جانے کیوں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ممی شاید اب اس دُنیا میں نہیں رہیں ایک عجیب سی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا،ڈورتی ہوئی جب میں ممی کے کمرے میں پہنچی تو دیکھا ڈیڈ،ممی کو  اپنی بانہوں میں لئے اپنے ہاتھوں سے انگور کھلا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مسکرائے بھی جا رہے ہیں۔اور ایسے میں،میں ڈیڈ کی بانہوں میں جھول گئی  اور بے اختیار میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ تھوری دیر ٹھہر کر میں وہاں سے لوٹ آئی تھی۔ اور میرے لوٹ آنے کے بعد ڈیڈ بھی لان میں لوٹ آئے تھے۔ جہاں گھر کے نوکر چاکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے………..

                                ہال اور کمروں میں بچھی ہوئی کارپیٹ کو لپیٹ کر اُس کی جگہ نئی نئی کارپیٹ بچھائی جا رہی تھیں۔ لان میں پھیلے ہوئے  ڈھیر سارے پھولوں کے پودوں کو ادھر سے اُدھر منتقل کیا جا رہا تھا۔ کوئی پھولوں کے پودوں کی آبیاری کر رہا تھا تو کوئی  پرانے گملوں کو لال رنگوں سے رنگ رہا تھا  اور کوئی درختوں کی شاخوں سے لے کر اُن درختوں کے نچلے حصّوں تک پانی کے پھوہاروں سے اُن تمام جگہوں تک پانی پہنچا دینے کی کوشش کررہا تھا جہاں وقت کی دھول نے اپنی موٹی سی پرت جما دی تھی۔ اور اُس کے ساتھ ہی ڈیڈ بھی اُن تمام نوکروں کو ڈائریکشن دے رہے تھے۔اور ساتھ ہی ساتھ مسکراتے بھی جاتے تھے آج برسوں بعد میں نے ڈیڈ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تھی۔

                                 ” ڈیڈ کیا بات ہے آج آپ بہت خوش ہیں۔؟“

                                ”خوش کیوں نہ رہوں۔ آپ کی ممی کے لئے میں نے   PHYSIOTHERAPIST  شیلا اگروال کا انتظام جو کر لیا ہے۔

                                لیکن آج گھر کے نظام میں کافی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اور اُس کے ساتھ آپ بھی آج بدلے بدلے سے دکھائی  دے رہے ہیں۔؟ ڈیڈ میں سچ کہہ رہی ہوں نا۔؟؟

                                آپ یہ اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ آج آپ کے ڈاکٹر انکل آنے والے ہیں اور اُس کے ساتھ ہی   PHYSIOTHERAPIST   شیلا اگروال بھی آ رہی ہیں۔ اور جیسا کہ ڈاکٹر زین نے بتایا ہے کہ شیلا اگروال کافی صفائی پسند ہیں۔اور میں یہ نہیں چاہتا کہ اُن کے آنے کے بعد کسی بھی طرح کی پریشانی ہو اور بعد میں ہمیں مایوسیوں کاسامنا کرنا پڑے۔

                                 ”اوکے ڈیڈ یو آر رائٹ، بٹ۔؟“

                                ”بٹ…. منس…… وہاٹ آر یو سیئنگ۔؟“

                                ”شیلا اگروال واقعی ایک کامیاب   PHYSIOTHERAPIST    ہیں تو میں بھی یہ دیکھنا چاہوں گی کہ میری ممی کتنے دنوں میں وہیل چیئر سے آزاد ہو جائیں گی اور وہ دن میری زندگی کا ایک خوشیوں بھرا دن ہوگا۔“

                                میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی ممی یقینا چلنے پھرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

                               

                                شام ہونے تک گھر کا سارا کام مکمل ہوچُکا تھا  ڈیڈ نے آنے والے لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے کھانے کے ڈھیر سارے ڈش بھی تیار کروا لئے تھے۔ اور اب ڈاکٹر زین اور شیلا اگروال کے آنے کا انتظار کیا جا رہا تھا کہ لان میں رینگتی ہوئی تیز روشنی قریب آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

                                ڈیڈ نے کہا کہ شاید وہ لوگ آگئے اور وہ اُٹھ کر باہر جانے لگے میں بھی اُن کے پیچھے پیچھے صدر دروازے تک چلی آئی تھی۔

                                ڈاکٹر زین کو میں اچھی طرح سے پہچانتی تھی کیونکہ اُن کا آنا جانا یہاں پہلے بھی کئی بار ہوچکاتھا جب سے ممی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا  ڈاکٹر زین  اس گھر کے لئے ڈاکٹر انکل بن کر رہ گئے تھے۔

                                میں ابھی ڈاکٹر انکل سے مخاطب ہونا چاہ ہی رہی تھی کہ اُن کے ساتھ آئی ہوئی شیلا اگروال نے مجھے اپنی گود میں اُٹھا لیا تھا۔

                                ”آپ شیلا آنٹی ہیں نا۔؟“

                                ”آپ کو کیسے معلوم کہ میں ہی شیلا آنٹی ہوں۔؟“

                                ڈیڈی ان دنوں آپ کا ذکر کچھ اس طرح سے کرنے لگے تھے کہ آپ کو پہچاننے میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ آپ بہت اچھی ہیں۔

                                ”وہ تومیں ہوں لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں اچھی ہوں۔؟“ ”آپ کے جوڑے سے اُٹھتی ہوئی یاسمین اور بیلے کی ملی جُلی خوشبوؤں نے مجھے یہ احساس دلایا کہ آپ واقعی بہت اچھی ہیں۔ آئیے میں آپ کو اپنی ممی کے پاس لے چلتی ہوں۔ آپ میری ممی کو ٹھیک کر دیں گی نا۔؟“

                                ”کیوں نہیں۔ میں آئی ہوں اسی کام کے لئے۔؟“

                                ”ممی دیکھیں کون آئی ہیں۔“

                                ”کون۔“

                                ”ہیلو۔“

                ”میں شیلا اگروال ہوں PHYSIOTHERAPIST  شیلا اگروال۔“

                                آپ آگئیں…….روز ہی آپ کی ڈھیر ساری باتیں  مجھے سمن کے ڈیڈی سُنایا کرتے تھے۔ میں بھی آپ سے ملنے کے لئے بے تاب تھی،لیکن میں اس قابل کہاں کہ دو قدم بھی چل سکوں۔میں اپنی زندگی میں اپنے ان قدموں سے چل بھی پاؤں گی یا نہیں۔؟“

                                ”کیوں نہیں چل پائیں گی آپ کو کچھ بھی نہیں ہوا ہے آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی میں نے آپ کے سارے رپورٹ دیکھ لئے ہیں اور تب ہی میں نے اس کیس میں ہاتھ ڈالا ہے۔ آج ہی سے آپ کا TREATMENT  شروع  ہوجائے گااور کل صبح سے PHYSIOTHERAPY کا کورس بھی، ساری    MEDICINE بھی میں اپنے ساتھ لے آئی ہوں۔     DONT CARE ABOUT IT

                                صبح ہوتے ہی ممی کو ہاف بوائل واٹر سے نہلاکر فریش کردیا گیا تھا۔ اٹیچ باتھ روم سے فریش ہوکر ممی جب سفید کپڑوں میں ملبوس بیڈ روم میں لائی گئیں تومیں بھی اُن کے ساتھ ساتھ تھی اس بیچ ڈیڈی کے ایڈوائز پر گھر کے نوکروں نے  PHYSIOTHERAPY  کے سارے لوازمات جو بیڈ روم میں رکھے جانے کے لائق تھے ترتیب کر دئے  تھے اور باقی کے انسٹرومنٹس باہر لان میں لگا دئے تھے۔

                                ممی ناشتے سے فارغ ہو چُکی تھیں۔ دوائیاں اور انجکشن کا DOSE  بھی دیا جارہا تھا۔ اُس وقت ممی کا بیڈروم کسی اسپتال کے کمرے سے کم نہیں لگ رہا تھا ان ساری تیاریوں کو دیکھ کر میں بے حد خوش تھی اور بار بار کبھی ممی کی طرف تو کبھی شیلا اگروال کی طرف دیکھتی اور پھر ڈیڈ کی بانہوں میں جھول جاتی جو بیڈروم میں لگے ہوئے صوفے پر بیٹھے ہوئے شیلا اگروال کی  PHYSIOTHERAPY  کو دیکھ رہے تھے۔

                                ڈیڈ نے مجھے اپنی گود میں بیٹھا لیا اور بڑے ہی پیار بھرے انداز میں پوچھا۔”سمن بیٹا کیسی ہیں آپ کی شیلااگروال۔؟“

                                ”ویری نائس ڈیڈ۔“

                                اگر آپ اپنی ممی کو چلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں تو، بس اس بات کا خیال رکھیں گی کی آپ شیلا اگروال کو فولو کریں گی۔

                                اوکے ڈیڈ، اور جب ممی چلنے لگیں گی تو میں ممی اور آپ کے ساتھ ٹور پر چننئی سمندری ساحلی علاقوں پر گھومنے جاؤں گی اور ایسے موقعے پر شیلا اگروال بھی ہوں گی آپ پرومس کریں ڈیڈ کے آپ ہم سبھوں کو چننئی لے جائیں گے۔

                                ”پرومس۔“

                                شیلا اگروال کے آجانے سے گھر کا ماحول ایک دم تبدیل ہوگیا تھا۔ جیسے ہر طرف خوشیاں  ہی خوشیاں بکھری پڑی ہوں۔ پورا گھر پہلے سے کہیں زیادہ صاف ستھرا رہنے لگا تھا ڈیڈ، ممی سے اور بھی زیادہ پیار کرنے لگے تھے۔ لان میں پھولوں کی کیاریوں میں نئے نئے ڈیزائین کے پھول کھل آئے تھے جیسے ہر طرف بہاریں مسکرا رہی ہوں۔

                                لیکن یہ خوشیاں زیادہ دنوں تک اپنا وقار قائم نہ رکھ سکیں۔ میرے اندر بہت اندر سوالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا جارہا تھاجو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتااور میرے اندر تجسس بڑھتا ہی جا رہا تھا، میرے اندرون میں اُٹھنے والا ہر سوال ڈیڈی کے دلوں میں ایک طوفان اُٹھا دیتا تھا۔

                                رات گئے جب ممی کو کھانسی ہونے لگی تھی اور میری آنکھیں کھل گئی تھیں اور ایسے وقت میں جب میری بانہوں نے آپ کو تلاش کیا تھا اُس وقت آپ اپنے بستر پر موجودنہیں تھے اور جب میں نے آپ کو آوازیں دیں تو  مجھے مایوسی ہوئی۔اور جب ممی کو پانی پلا کر میں نے آپ کو تلاش کیا تو شیلا اگروال کے کمرے میں سے آتی ہوئی سرگوشیوں نے میرے قدم روک لئے تھے۔ اور جب میں نے سرگوشیوں کا تعاقب کیا تو دیکھا شیلا اگروال بالکل نیوڈ ہیں اور آپ……..

                                آخر اتنی رات گئے آپ اُن کے کمرے میں کیا کر رہے تھے۔

                                ”وہ بیٹا میں اپنی  PHYSIOTHERAPY  کروا رہا تھا۔“

                                لیکن جب ممی کی  PHYSIOTHERAPY   ہوتی ہے تو شیلا اگروال کپڑوں میں ہوتی ہیں اور ممی بھی…….

                                ڈیڈی آپ اپنی  PHYSIOTHERAPY  کے لئے ڈاکٹر انکل سے کہہ کر کوئی  ( MALE )  PHYSIOTHERAPIST   کاانتظام کیوں نہیں کر لیتے۔؟

                ہاں بیٹے میں ایسا ہی کروں گا۔

                                یہ ساری باتیں جب میں نے ممی کو بتائیں تو اُن کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔

                                ممی ڈیڈی تو چلتے ہیں پھر وہ شیلا اگروال سے  PHYSIOTHERAPY کیوں کروا رہے تھے۔

                                 اورممی نے کہا تھا کہ ہاں بیٹے آپ کے ڈیڈ کو بھی بیک پین ہوتا ہے۔

                                ان دنوں میں یہ محسوس کر رہی تھی کہ ڈیڈ کے چہرے پر غصے کے آثار صاف دکھائی دیتے تھے اور شیلا اگروال مجھے پہلے سے زیادہ پیار کرنے لگی تھیں۔

                                شیلا آنٹی اپنے ڈیڈ تو چلتے پھرتے ہیں تو پھر آپ ڈیڈکی  PHYSIOTHERAPY  کیوں کرتی ہیں۔

                                آپ سے یہ کس نے کہا کہ میں آپ کے ڈیڈکی  PHYSIOTHERAPY  کرتی ہوں۔

                                ڈیڈ نے، اور پھر میں نے کی ہول سے دیکھا تھا کہ آپ  ڈیڈی کی PHYSIOTHERAPY   کر رہی تھیں اور آپ بالکل نیوڈ تھیں اور ڈیڈ بھی…….لیکن جب آپ ممی کی PHYSIOTHERAPY  کرتی ہیں تو آپ کپڑوں میں ہوتی ہیں ایسا کیوں…….

                                شیلا اگروال  ایک دم خاموش تھیں…..

                                ممی نے مجھے اپنے پاس بلا لیا اور کہا کہ میں نے کہا تھا نہ کہ آپ کے ڈیڈکو بیک پین ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ بھی اپنی

PHYSIOTHERAPY  کرواتے ہیں۔

                                لیکن ایسا کہتے کہتے ممی نے اپنا چہرہ تکیے میں چھپا لیا تھا اور کافی دیر تک رونے اور سسکنے کی آوازیں کمرے کے اُداس  ماحول کو اور بھی اُداس کرنے لگی تھیں۔      

                                شیلا اگروال کو یہاں آئے تقریباََ تین ماہ ہونے جا رہے تھے اس تین ماہ میں آج میں نے ممی کو کافی افسردہ دیکھا تھا اور ویسے بھی وہ ان دو چار دنوں میں پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوگئی تھیں اُنہوں نے ڈیڈکی طرف پلٹ کر دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا              ۔

                                شیلا اگروال جب بھی اُن کے پاس آتیں تو وہ یہی کہتیں مجھے اپنی  PHYSIOTHERAPY  نہیں کروانی ہے۔جاؤ تم جس مقصد کے لئے یہاں آئی ہو اور جس نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا ہے جاؤ اُس شخص کی  PHYSIOTHERAPY   کرو، تمہیں شرم نہیں آئی کہ وہ شخص شادی شدہ ہے اور ایک بیٹی کا باپ بھی ہے۔ تم چلی کیوں نہیں جاتی یہاں سے۔ اور اُس کے ساتھ ہی وہ زارو قطار رونے لگیں…….

                                لیکن شیلا اگروال ایک دم خاموش تھیں……….

                                یہ سب کچھ جس وقت ہو رہا تھا  اُس وقت رات کے تقریباََ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ اور اُن کی سسکیاں تھیں کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

                                نہ جانے کب میری آنکھیں لگ گئیں……..

                                اچانک کھانسی کی مسلسل آوازوں نے مجھے اُٹھنے پر مجبور کر دیا  میں نے جب آنکھیں کھولیں اور میری بانہوں نے اپنے ڈیڈ کو تلاش کیا ڈیڈ اپنے بستر پر موجود نہیں تھے میں نے کمرے کا لائٹ آن کردیا تو دیکھا ساری دوائیاں کمرے کے فرش پر پھیلی ہو ئی تھیں  میں نے جب گھڑی کی طرف دیکھا رات کے ڈھائی بج رہے تھے اُس وقت تک ممی بستر پر بیٹھیں مسلسل کھانس رہی تھیں اور جب میں پانی کا گلاس لے کر کمرے میں لوٹی،لیکن ممی کمرے میں موجود نہیں تھیں اور اُن کا وہیل چیئر کمرے میں ہی پڑا ہوا تھا میں اُنہیں تلاش کرتی ہوئی جب شیلا اگروال کے کمرے کے پاس پہنچی تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ ممی دیوار کے سہارے چل کر جارہی ہیں  شیلا اگروال کے دروازے کے قریب پہنچ کر انہوں نے کی ہول سے اندر جھانکنے کی کوشش کی اور جب مطمئن نہیں ہوئیں تودو قدم اور چل کر کھڑکی کے قریب آگئیں اور کھڑ کی کے پردے کو سرکا کر اندر دیکھنے لگیں اور چیخنے چلانے لگیں……

                                لیکن وہاں کمرے کے اندر کوئی بھی تونہ تھا۔

                                اور میں برآمدے میں موجود PHYSIOTHERAPIST   شیلا اگروال کی بانہوں میں جھولی اپنے ڈیڈکے ساتھ ممی کی مووی تیار کر رہی تھی………

 

 

                                                                           ()()()()()

  مہتاب عالم پرویزؔ  (کویت)                                                                                              

 E – mail  mahtabalampervez@gmail.com   

 

                        

                       

 

 

لینڈرا (ایک بے باک افسانہ) ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری (انڈیا) LAINDRA BY DR. ASLAM JAMSHEDPURI

لینڈرا

ایک بے باک افسانہ

ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

 

                ”ارے او فقیرے….جرا انگئے کو (ذرا ادھر) آنا۔“

                بابا رحیم کی آواز پر فقیر محمد، دوڑتا ہوا آیا۔

                ”جی بابا۔ کاکئے ریو(کیا کہہ رہے ہو؟)“

                ”ارے جرا حقہ بھرلا— اور تاجا بھی کرلائیو—“

                بابا کے کہنے پر اس نے حقے کی پیتل کی فرشی کو اس کی گردن سے پکڑ کر اٹھایا۔ بڑی احتیاط سے چلم کو نہچے سے اتارا۔ نہچے کو فرشی کی گردن سے الگ کیا۔ نہچے کی بناوٹ بالکل بندوق جیسی تھی۔ فقیر محمد کے دل میں لمحے بھر کو ایک خیال آیا۔ اس نے حقے کے نہچے کوبندوق کی طرح پکڑ لیا اور تصور میں اپنے سبھی دشمنوں کو ٹھائیں ٹھائیں…. کردیا۔ اس کو گاؤں کے ہر اس شخص سے نفرت تھی جو اسے لینڈرا کہتا تھا۔ کتنی نفرت اور حقارت ہوتی تھی ان کے لہجے میں۔ اسے وہ دن بھی یاد تھا جب وہ پہلی بار گاؤں صدر پور میں اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا۔

                فقیر محمد، اپنی ماں کے ساتھ سلیم پور گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی عمر ۵ /سال تھی۔ اس کے والد ٹی بی کے مریض تھے۔ انھیں خون کی الٹیاں ہوتی تھیں۔ ایک دن بیماری نے انھیں شکست دے دی۔ لوگوں نے والد صاحب کو خاک کے سپرد کردیا۔ وہ اور اس کی ماں روتے رہ گئے۔ وہ دونوں بھری دوپہری میں بے سایہ ہوکر رہ گئے تھے۔ غریبی کا زمانہ تھا۔ لوگوں کے پاس کھانے کو وافر مقدار میں اناج نہیں ہوتا تھا۔ گیہوں کی روٹی کم لوگوں کو نصیب ہوتی تھی۔ گیہوں کا آٹا مہمانوں کے لیے رکھا جاتا تھا۔ باقی دنوں گھر کے لوگ جَو،بے جھڑ،مٹر اور باجرے کی روٹیاں کھاتے تھے۔….فقیر محمد کو گیہوں کی روٹی ہی اچھی لگتی تھی۔ اسے جَو اور باجرے کی روٹی بالکل پسند نہیں تھی۔ جب کبھی مہمان آتے، تو وہ انتظار میں بھوکا رہتا۔ کاش مہمانوں کے آگے سے روٹی کا کوئی ٹکڑا بچ جائے۔ بچا ہوا ٹکڑا ماں اسے ہی دیا کرتی تھی۔ بعد میں وہ، مجبوری میں جَو کی روٹی سے پیٹ بھرتا تھا۔

                فقیر محمد کے والدکے انتقال کے بعد عدت پوری ہوتے ہی اس کے ماما ان دونوں کو اپنے گاؤں مہیپے لے آئے تھے۔نانا کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا۔ بوڑھی نانی— اور دوماموں — مائیں اور ان کے بچے——سب نے ان کے غم میں برابر کا شریک ہوتے ہوئے ان سے ہمدردی جتائی تھی۔ بڑے ماموں افسردہ لہجے میں بولے۔

                ”اب جیسی اوپر والے کی مرجی— ایک دن تو سب کو‘ جانوَ(سب کو جانا) ہے۔“

                نانی کی آواز بمشکل گلے سے نکل رہی تھی۔

                ”بٹیا ہمار کو تو بھاگیہ ہی پھوٹ گیو(ہمارا توبھاگیہ ہی پھوٹ گیا)۔“

                مائیں نے فقیر محمد کو گود میں اٹھالیا اور پیار کرنے لگی تھیں۔

                نانی اور امی، مائیں اور امی، باری باری گلے مل کر روئیں تھیں۔ کچھ دیر بعد حالات معمول پر آنے لگے تھے۔ ہر شخص فقیرمحمد اور اس کی ماں کا خیال رکھتا۔

                وقت پرواز کرتا رہا۔ فقیر محمد اب ۰۱/ برس کا ہوگیا تھا۔ وہ ماموں کے ساتھ کھیت کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتا۔ اس کی امی گھر کے کام کاج میں جٹی رہتیں۔ ان سب کے باوجود گھر کے ماحول میں ایک زبردست تبدیلی پیدا ہوگئی تھی۔ نانی کے علاوہ گھر کے سبھی افراد ان دونوں سے اندر اندر کڑھنے لگے تھے۔ کئی بار فقیر محمد نے خود اپنی مائیوں کو آپس میں باتیں کرتے سنا۔

                ”ہماری چھاتی پر آپڑی ہے۔“

                ”پتہ نہ کب ٹلن گے(ٹلیں گے) یہاں سو۔“

حد تو اس وقت ہوگئی جب ماموں کے رویے میں بھی تبدیلی آنے لگی۔ ان کے بچے بھی اب فقیر محمد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔ بلکہ اس کی توہین اور بے عزتی کرنے کا موقعہ تلاش کرتے رہتے۔ ایک بار فقیر محمد اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ساتھ میں ان کے دوست بھی تھے۔ بال کسی پڑوسی کے گھر چلی گئی تھی۔ ماموں زاد نے بڑی حقارت اور تحکمانہ انداز میں کہا۔

                ”او، فقیر— جا بال لی آ—“

                فقیر محمد کو بہت برا لگا۔ وہ اپنی جگہ کھڑا رہا۔ ماموں زاد بدتمیزی پر اتر آیا۔

                ”ابے او۔ جا وے کہ نا… سالے بہت مارن گو(ماروں گا)—“

                اور اسے اس کے دوستوں نے بھی گھیر لیا تھا۔ وہ قہر اً جبراً بال کے لیے چلا گیا تھا۔

                فقیر محمد کو اس وقت بہت غصہ آتا جب کوئی اس کی ماں کوبرا بھلا کہتا۔ جی میں آتا کہ کہنے والے کامنھ نوچ لے۔ لیکن بے بس ہوکر رہ جاتا۔ ابھی اس کی عمر کم تھی دوسرے وہ ان کے رحم وکرم پہ ہی تو تھے۔ دراصل انسان کی پہچان، برے وقت میں ہی ہوتی ہے۔ برا وقت جب کسی پر آتا ہے تو رشتہ دار اور احباب کچھ ہی دن اس سے ہمدردی جتاتے ہیں۔ پھر ایک ایک کرکے اچھے دنوں کی مانند رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک تو عام بات ہے لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمدردی جتانے والے اقربا اور احباب شدید نفرت کرنے لگتے ہیں۔ مخالف ہوجاتے ہیں۔ نقصان پہنچانے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں۔ماں بیٹے پر ایسا ہی وقت آگیا تھا— فقیر محمد سب سمجھنے لگا تھا۔ اب وہ دونوں نانہال میں بوجھ بن گئے تھے۔ پر وہ کرتا بھی تو کیا۔ ابھی تو اس کی عمر ہی کم تھی۔ دل مسوس کر رہ جاتا۔ بس اللہ سے دل ہی دل میں دعا کرتا۔

                ”اے اللہ،ہمارے اوپر رحم کریو—“

•••••••

                گاؤں صدر پورمیں رحمت اور رمضان دوبھائی رہتے تھے۔ دونوں کے پاس گزارے لائق زمین تھی۔ رحمت کی بیوی کو کینسر ہوگیا تھا۔ غریبی اور کینسر جیسی بیماری — غریب تو بیمار ی کا نام سن کر ہی مرلیتا ہے۔ یہی ہوا، رحمت کی بیوی علاج کے فقدان میں وقت سے قبل ہی موت کی آغوش میں سماگئی۔ رحمت کے پاؤں میں لنگ تھا۔ انھیں زیادہ تر لوگ رحمت لنگڑے، لنگڑا اور لنگڑے بابا کہہ کرپکارتے تھے۔ رحمت کی عمر بھی کوئی ۳ کم چالیس رہی ہوگی۔ لیکن غربت نے انھیں، جلد ہی بوڑھا کردیا تھا۔ ان کی لنگڑاہٹ کا بھی ایک قصہ تھا۔ سردیوں کا زمانہ تھا۔ گاؤں میں ایکھ(گنّے کا کھیت) شباب پر تھی۔ کولہو لگ چکے تھے۔ کولہوؤں پر رات دن کام ہوتا تھا۔ رات کو کولہو کے کڑھاؤ کے پاس لوگوں کی بھیڑ ہوتی۔ کچھ توسردی دور کرنے اور کچھ گڑکی خوشبو لینے آجاتے– گڑ کے بھیلے بنائے جارہے ہوتے۔ کولہو کے آس پاس زندگی ہی زندگی نظر آتی۔

                کولہو پر اب رحمت اور رمضان کی ایکھ کی باری تھی۔ دونوں بھائیوں نے گانڈے (گنّے) ڈھوکر پہلے ہی کولہو کے پاس ڈھیر لگادیا تھا۔ رحمت نے کولہو میں گانڈے لگانے کا کام لے لیا اور رمضان بیلوں کو ہانک رہا تھا۔ رحمت تین۔تین،چار۔چار گانڈے ایک ساتھ لگاتا۔ گانڈے لگانے پر کولہو کے بیلن ٹائٹ ہوجاتے۔ بیلو ں پر بھی زو رپڑتا لیکن اگلے لمحے ہی رس دھار کی شکل میں نکلتا۔ لکڑی کے  پتنالے سے ہوتا ہوا گول (گھڑے نمابرتن)میں جاگرتا۔ جوکہ گڈھے میں رکھی ہوتی۔ دوسری طرف گانڈے کی کھوئی نکل کر گرتی۔ کھوئی جمع ہوتے ہوتے ایک چھو ٹا سا پہاڑ بن جاتا۔ رحمت باربار اُسے کولہو سے دور کرتا رہتا۔ رحمت کولہو میں گانڈے پیلتا اکثر سوچتا۔ انسان کی زندگی بھی کولہو کی طرح ہے، جسے گانڈے کی شکل میں ہر وقت خوراک چاہیے ورنہ، رَس کہاں سے نکلے گا، اور رَس نہیں نکلے گا تو گڑ کہاں سے آئے گا۔ چینی کیسے بنے گی۔ یعنی زندگی میں مٹھاس کہاں سے آئے گی؟ ہم سب زندگی میں کبھی کولہو کے بیل ہوجاتے ہیں۔ کبھی کولہو میں گانڈے پیلتے ہیں۔ کبھی بیلوں کو ہانکتے ہیں۔ کبھی کڑھاؤ کے نیچے بنے جھوک میں آگ سلگاتے ہیں اور کبھی رس کو کَھولاتے ہیں۔ طرح طرح کے پاؤڈر ڈال کر اسے صاف کرتے ہیں اور روادار بناتے ہیں۔ یہ سب کام ایک شخص کا نہیں ہے۔ کولہو مشترکہ نظام زندگی ہے۔ لوگوں کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اکیلا آدمی سارے کام خود نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکیلا آدمی زندگی کی دوڑ میں بھی کبھی کبھی ناکام رہ جاتا ہے—

                ”ابے رحمت! دوسری طرف سے کھوئی ہٹا— کہاں کھویو(کھویا) ہے؟“

                رمضان کی آوا ز پر رحمت چونکا۔اُس نے بیٹھے بیٹھے ہی اپنی ایک ٹانگ کھوئی کے چھوٹے سے پہاڑ پر ماری۔اس سے قبل کے وہ اپنی ٹانگ کو کھینچ پاتا۔ اس کا توازن بگڑ گیا اور اس کی ٹانگ کولہو کے بیلن میں آ گئی۔

                 ”کڑاک۔“

                 ٹانگ کا نچلا حصہ ہڈیوں سمیت پس گیا۔ اور ایک فلک شگاف، جگر خراش چیخ بلند ہوئی۔

                رمضان بیلوں کو چھوڑ، رحمت کی طرف لپکا۔ آس پاس کے لوگ گرتے پڑتے، دوڑے، رحمت کا خون گانڈے کے رس میں تحلیل ہوکر گول میں جا پہنچا تھا۔

اور اس نے رس کی رنگت تبدیل کردی تھی۔ سرمئی رنگ بھی خون میں مل کر گہرا لال ہوچکا تھا بلکہ کچھ کچھ کتھئی— ایسا لگ رہا تھا گویا کسی جاگیر دار نے گاؤں کے کسانوں اور مزدوروں کو کولہو میں پیل کے ان کا رس نکال دیا ہو۔

                رحمت کو فوراً بُگی میں ڈال کر شہر لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹر نے اس کی ٹانگ کا آپریشن کیا۔ زہر پھیلنے سے بچانے کے لیے رحمت کی ٹانگ کو گھٹنے کے نیچے سے کاٹا گیا۔ غریبی کا زمانہ تھا آپریشن او ر علاج معالجے میں ہزاروں روپے کاصرفہ آیا، رحمت کے بابا نے دو بیگھہ زمین پر رحمت کو فوقیت دی۔

                رحمت ایک مہینے سے زیادہ اسپتال میں رہا۔ اسپتال سے آنے کے بعد کچھ دن لوگوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ رہیں۔ لوگ اس سے اسپتال کا حال پوچھتے۔ حادثے کے بارے میں جاننا چاہتے۔ وہ صرف اتنا ہی کہتا۔

                ”ہونی کو کون ٹال سکے َ—“

                لوگوں کی ہمدردیاں آہستہ آہستہ مذاق کا روپ دھار چکی تھیں۔ اب لوگ اسے دور سے ہی آوازیں لگاتے۔

”رحمت لنگڑے—“

”او لنگڑے—“

”ابے لنگڑے کی اولاد—“

                رحمت کے دل پر گھونسے پڑ تے۔ پر وہ مجبور تھا۔ رحمت کی غریبی کا مذاق اس وقت مزید اُڑا، جب دو سال بعد ہی اس کی بیوی کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر اس کا سا تھ چھوڑ گئی، وہ بھری پری دنیا میں اکیلا رہ گیا تھا۔ لوگ اُس سے طرح طرح کا مذاق کرتے۔

                 ”لنگڑے تو، رنڈوا ہو گوَ“

                ”اب کون تیرے دانت دیکھےَ گوَ“

                 لو گوں کے جملے اس کے زخموں کو ہوا دیتے، وہ تلملا کر رہ جاتا۔

                عرصے بعد رحمت کی زندگی میں خوشی کا کوئی پیغام آ یا تھا۔ اُ سے پتہ چلا کہ اس کے بابا نے اس کی دوسری شادی کی بات کی ہے۔ لڑکی کا شو ہر مرچکا ہے۔ ایک بیٹا ہے۔ بابا نے لڑ کی کے بیٹے کو اپنے یہاں لانے سے منع کردیا۔لیکن لڑکی کے ما موں وغیرہ نے شا دی کی شرط ہی لڑکے کے ساتھ بدائی رکھ دی تھی۔ کا فی گفتگو اور تبادلہئ خیال کے بعد رحمت کے بابا کو لڑکی وا لوں کی شرط ماننی پڑی۔

                سادہ طریقے سے نکاح ہو گیا۔ فقیر محمد اپنی ماں کے ہمراہ رحمت کے گھر آ گیا۔

•••••••

                گاؤں صدر پور میں یہ پہلا وا قعہ تھا جب کسی عورت کے سا تھ، اس کا بیٹا بھی جہیز میں آیا ہو۔جیسے رحمت نے شا دی نہ کی ہو بلکہ گلا ؤ ٹھی کی پینٹھ سے ایک بھینس، کٹرے سمیت خرید لایا ہو۔پورے گا ؤں بلکہ آس پاس کے گا ؤں میں بھی فقیر محمد کے چرچے پھیل گئے۔لوگ بے سبب بھی فقیر محمد کو دیکھنے آ نے لگے۔ پہلی بار گا ؤں میں ایسا ہوا کہ دلہن کی بجائے لوگ فقیر محمد کو دیکھنے آرہے تھے۔گویا فقیر محمد دنیا کی نئی نویلی خوبصورت دلہن ہو، اور رحمت کی شادی اس کی ماں سے نہیں فقیر محمد سے ہو ئی ہو۔

                تقریباً دس برس کا فقیر محمد، ان سب باتوں سے زیا دہ با خبر نہیں تھا۔ اُسے تو یہ پتہ تھا کہ اُسے ماموں کے گھر سے نجات ملی ہے۔ لیکن لوگ اُ سے حیرا نی سے کیوں دیکھ رہے تھے۔ اس کے اندر ایسی کون سی بات تھی۔ اُ سے خود پتہ نہیں تھا۔ اُس دن اُ سے بڑی حیرا نی ہو ئی جب گا ؤں کے ایک بے حد مذا قیہ ملکھان چاچا ان کے گھر آ ئے۔ اور آواز لگائی۔

                ”ابے رحمت! کہاں ہے تو…….“

                رحمت کے بجا ئے  فقیر محمد باہر آ یا۔

                ”اچھا، تو، تو ہے۔ لو نڈے، لینڈرا۔“

                فقیر محمد کچھ نہیں سمجھ پا یا۔ہاں اتنا ضرور ہوا کہ اس دن کے بعد سے گاؤں میں اس کا نام لینڈرا پڑ گیا۔چھو ٹے،بڑے سبھی اُ سے لینڈرا پکا رتے۔

                ”اولینڈرے…….“

                تخا طب میں حقا رت شامل ہو تی۔

                فقیر لینڈرے…….یہ کام کردے۔“

                ”اپنی ماں کے دہیج میں آ یوَ لینڈرے…….“

ہر نسل اور ہر شخص کا اپنا الگ انداز ہو تا۔ شروع شروع میں تو اُ سے عجیب سا لگتا۔ اس کی شریا نوں میں گرمی سی آ جاتی۔ غصے کی ایک رمق چہرے کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچ جاتی۔لیکن جلد ہی رفو چکر بھی ہو جاتی۔وہ بے بس تھا۔

•••••••

                وقت کا دریا بہتا رہا۔لینڈرے کی ماں نے یکے بعد دیگرے دو بیٹے پیدا کیے۔ بھو را اور کلوا۔ بتا نے کی ضرورت نہیں کہ ان کے نام ان کے رنگوں کے اعتبار سے گاؤں کے ان پڑھ لوگوں نے رکھ دیے تھے۔رحمت کو اتنا ہوش کہا ں تھا کہ وہ اپنی لنگڑی زندگی سے فرصت کے لمحات نکالتا اور دماغ کو اچھے ناموں کے لیے استعمال کرتا۔

                بھورا بڑا تھا اور کلوا چھو ٹا۔دونوں بھا ئی اب جوا نی کی سر حد میں دا خل ہو رہے تھے۔ جوانی تو لینڈرا پر بھی آ ئی تھی، پر کب آ ئی،کب گذر گئی،اس کے نشان بھی با قی نہیں تھے۔لینڈرا، سب کے لیے لینڈرا تھا۔اس کے چھو ٹے بھا ئی بھی اُ سے لینڈرا ہی پکا رتے۔ طرح طرح کے کاموں کے لیے حکم دیتے۔ لینڈرا پو رے گاؤں کا بے اُجرت مزدور تھا۔کوئی اُس سے حقہ بھرواتا،کوئی بونگے سے بُھس نکلوا تا، کو ئی اپنی داڑھی بنوا تا،کسی کی گائے بھینس، ہری کروا نے لے جاتا، کسی کے کھیت سے برسن لاتا،کسی کے بچوں کو ٹیکہ لگوا تا۔ عورتیں بھی لینڈرا سے اپنے ذا تی کام کرواتیں۔لینڈرا سے کو ئی عورت پردہ نہیں کرتی…..بازار جاتا تو سا رے محلے کے گھروں کا سامان لاتا۔حتیٰ کہ لینڈرا سے عورتیں میک اَپ کا سا مان اور دیگر خفیہ چیزیں بھی منگوا لیتیں۔ لینڈرا سب کے سا مان الگ الگ لاتا۔کسی کا سا مان رِلتا نہیں تھا،کسی کی چھان ٹوٹ جاتی تو لینڈرا مزدوروں کے ساتھ جٹ جاتا۔ شا دی بیاہ تو لینڈرا کی موجود گی کے بغیر تقریباً نا ممکن تھے۔ہر شادی میں اس کا ہو نا ضروری تھا۔ برتن صاف کرنا،دستر خوان لگانا۔کھانا شروع ہو جائے تو کھانا کھلوانا۔کسی کوکھیت میں پا نی لگوا نا ہو تا تو لینڈرا ہی کام آتا۔حتیٰ کہ مےّت کے بہت سا رے کام بھی و ہی کرتا۔ ان تمام کاموں کے صلے میں کوئی بچا ہوا کھانا دے دیتا۔کسی کے یہاں سے دھوتی مل جاتی۔ کسی کے یہاں سے کُرتا۔چائے تو وہ کسی کے بھی گھر پی لیتا تھا۔ہر گھر کے اندر اس کا آ ناجانا بے روک ٹوک تھا۔

                اس کے اپنے گھر میں بھی بھو را اور کلوا زیا دہ تر کام لینڈرا سے ہی کروا تے۔حتیٰ کہ بھو را اور کلوا کی شا دی کے وقت بھی لینڈرا ہی آ گے آ گے تھا۔ وہ بھا ئیوں کی ایک سا تھ شا دی پربہت خوش تھا۔گو یا اس کی ہی شا دی ہو رہی ہو۔ٹھیک یاد آ یا۔اس بیچارے کی شادی کی تو بات بھی پیدا نہیں ہوئی۔گھر،گاؤں اور پو رے سماج نے پہلے ہی سے مان لیا تھا کہ لینڈرا شا دی کے لائق نہیں ہے۔

                گا ؤں کی عورتیں، جن میں بزرگ عورتیں بھی شا مل تھیں اور نو جوان لڑ کیاں اور بہو ئیں بھی،سب لینڈرا سے ایسی گھلی ملی تھیں جیسے لینڈرا انہیں کی نسل کا ہو۔کسی کو لینڈرا کے مرد ہو نے کا یقین نہیں تھا۔ وہ اس کی موجود گی میں اپنی خفیہ باتیں بھی کرلیتیں،بغیر دو پٹے اس کے سامنے آجاتیں۔لینڈرا سے نہا نے کا گرم پانی غسل خا نے میں رکھوا تیں۔کبھی کبھی ہاتھ پا ؤں بھی دبوالیتیں۔

•••••••

                بھو را اور کلوا کی شا دی میں لینڈرا نے آ گے بڑھ کے خوب کام کیا۔سب لوگ بارات کے ساتھ گئے تھے اور لینڈرا کو گھر کی عورتوں کی رکھوالی کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔عورتوں اور لینڈرا نے مل کر دُلہنوں کے استقبال کی تیاری کی۔دو کمرے صا ف کرکے سجائے گئے۔ بستروں پر خوبصورت چادر اور پھولدار غلاف وا لے تکیے۔ لینڈرا نے گیندے اور گلاب کے پھول اور کچھ ہری پتیاں لاکر انہیں بستروں پر بکھیرا اور گلاب جل بھی چھڑکا۔

                رات کو ۲۱/ بجے کے قریب بارات دُلہنوں سمیت وا پس آ ئی۔ رسموں کی ادائیگی کے بعد سب نے اپنے اپنے بستر پکڑ لیے۔ دُلہنوں کے کمرے بند ہو چکے تھے۔ بارات کا گھر تھا،کام کرکے سب تھک گئے تھے۔جلدہی گھو ڑے بیچ کر سو گئے۔لینڈرا جاگتا رہا۔ وہ سب کے بستروں کا انتظام کرتا رہا۔کسی کے پائنتیں چادر،کسی کے سرہانے تکیہ……..کہیں پانی کا لو ٹا،بھر کے رکھا۔

 ”ارے او فقیرا“

                 بابا کی آواز پر وہ یا دوں سے با ہر نکل آ یا”جی بابا“ کہتا ہوا بھا گا۔بابا نے اُسے حقہ بھرنے اور تا زہ کر نے کو کہا تھا۔ اُسے بابا بہت اچھے لگتے تھے۔وہ اُ سے فقیرا کہتے تو اُسے برا نہیں لگتا۔بابا رحیم،رحمت کے وا لد تھے۔وہ لینڈرا سے محبت کرتے تھے۔ اسی لیے جہاں سا ری دنیا اُسے لینڈرا کہتی تھی، بابا اُ سے فقیرا کہتے……اُ سے ان کی چھوٹی سی سفید دا ڑھی بہت اچھی لگتی تھی…….رات کے دو بج رہے تھے۔ بابا کو بھی نیند نہیں آ رہی تھی۔ویسے بھی وہ رات کو جاگتے تھے اور دن میں بیٹھک میں پڑے خراٹے بھرتے رہتے۔ وہ حقہ لیے اندر آ نگن میں آ یا۔ ہر طرف چارپائیاں بچھی تھیں۔کسی پر ایک کسی پر دودو لوگ سورہے تھے۔نل کے چبوترے پر حقہ رکھ کر اس کی فرشی کو اٹھا کر پا نی گرا یا۔نل سے پا نی کھینچ کر اُس نے فرشی کو خوب رگڑ رگڑ دھو یا۔نہچے کے ایک سرے سے پانی ڈالنا شروع کیا اور دوسرے سرے پر انگو ٹھا رکھ لیا۔ پا نی بھرنے کے بعد اُسے خوب آگے پیچھے ہلایا اور انگو ٹھا ہٹا دیا۔ پو را پا نی ایک رفتار کے ساتھ پیچھے آ رہا گویا پتنالے کی مٹی ہٹا دی گئی ہو۔فرشی اور نہچے کو خوب اچھی طرح تازہ

کر کے اس نے برآمدے میں رکھا۔تمبا کو کی تھیلی سے تمبا کو لیا اس کا گولا سا بنایا۔چلم کے بیچوں بیچ رکھی چغل پر رکھ کر اس کے اوپر توا رکھ دیا،جس کی پتلی سی زنجیر چلم کی گردن سے جڑی ہو تی تھی۔ اُسے یہ پتلی سی زنجیر بہت اچھی لگتی تھی۔ چلم کو سجا کر وہ اُسارے کے اُس حصے کی طرف بڑھا جدھر مٹی کا چولہا اور بروسی ہو تی تھی۔بروسی میں ہر وقت آگ ہوا کرتی تھی۔ اس کی ماں رات کو بروسی میں اُپلے داب دیا کرتی تھی۔ پھر شا دی کی رات تو چو لہے بھی دیر تک گرم تھے۔ اس کا اندازہ تھا کہ آ گ ضرور مل جائے گی۔وہ اطمینان سے چولہے میں آگ تلاش کررہا تھا۔ آگ میں تپے سرخ اُپلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے کچھ کام تو بنا لیکن ابھی آگ کی کمی تھی۔ اس نے بروسی میں آگ ٹٹولی۔چلم میں آگ پو ری طرح رکھ کر جیسے ہی وہ پلٹا، اس کاپاؤں چمٹے پر پڑا۔”پڑاک“ کی آواز کے سا تھ ایسا لگا گویا کسی نے خا موشی کی کمر میں خنجر اتار دیا ہو۔پاس ہی چار پائی پر حرکت ہو ئی پھر کسی نے پکا را۔

                ”کون ہے……..؟“

                آواز کلوا کے ماموں کی شادی شدہ بہن کی تھی۔ جو شا دی میں شریک ہو نے ایک ہفتے سے آئی ہو ئی تھی۔

                ”میں…….میں…..“

                ”میں کون……لینڈرا…….“

                ”ہاں…… چلم بھرنے آیو تھو۔(آیا تھا)“

                لینڈرا کہنے پر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی گویا چلم کی آ گ نے اس کے بدن کے حُقّے کو سلگا دیا ہو۔ نجانے کیوں وہ ایک عورت کے منہ سے لینڈرا سن کر جل گیا تھا۔

                ”ادھر کو آ نا لینڈرے………“

                ”جی………“

                وہ چار پائی کے پاس چلا گیا۔ پو را گھر محو خواب تھا۔ سناٹے اور خا موشی کی حکومت تھی۔لینڈرا کے پاس آ نے پر، پھر حکم ہوا،

                ”حُقہ رکھ دے اور جرا مری ٹانگیں داب۔“

                لینڈرا رو بوٹ کی طرح شروع ہو گیا تھا۔ عورتوں کی ٹانگیں دبانے کا اس کا یہ کو ئی پہلا موقع نہیں تھا۔وہ اکثر اپنی اماں کی ٹا نگیں دبایا کرتا تھا۔ اُ سے اچھا لگتا تھا۔ اُ سے خدمت کرکے خوشی ہو تی تھی۔

                ”لینڈرے جرا جور سے دبا۔اور اوپر تک۔“

                لینڈرا زور زور سے ٹانگیں دبا نے لگا۔اوپر کی طرف جب اس کے ہاتھ گئے تو اس کے بدن میں عجب سی چینٹیاں رینگنے لگیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ لینڈرا کو لگا جیسے اُسے ہلکا ہلکا بخار ہونے لگا ہے اور اس کے ہاتھوں میں جان نہیں ہے۔

                ”ارے کہاں مرگو َافقیرا……….“       

                بابا کی آ واز پر لینڈرا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر حقہ لے کر با ہر آگیا۔بابا نے حقہ کے انتظار میں ایک جھپکی لے لی تھی۔حقہ دے کر وہ باہر ہی کو نے میں پڑی جھنگولہ کھاٹ میں پڑ گیا۔نجانے کب اس کا بخار کم ہوا اور کب نیند نے اُسے بے خبر کردیا۔

                اگلے دن گھر میں خا صی چہل پہل تھی۔ مہمان رخصت ہو رہے تھے۔لینڈرا کو کچھ بھی یاد نہیں تھا۔خواب کی طرح وہ سب کچھ بھول گیا تھا۔

••••••••

                وقت کی ہوا کب رکتی ہے۔پچھوا ہوا کی طرح،فصلوں کو جلد پکا دیتی ہے۔بچوں کو جوان اور جوانوں کو بو ڑھا کرنا اس کا معمول ہو تا ہے۔لینڈرا پچاس کے لپیٹے میں آ چکا تھا۔اس کے بابا، اور اس کی ماں اللہ کو پیا رے ہو چکے تھے۔ کلوا اور بھو را اپنی اپنی زندگی گذار رہے تھے۔لینڈرا کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آ یا تھا۔ وہ آج بھی گاؤں کے لیے لینڈرا ہی تھا۔گاؤں میں کسی کے بھی چھول پڑتی، لینڈرا، بل کٹی لیے کھیت میں ملتا۔کھیت بو نے کا وقت ہو یا فصل کاٹنے کا۔کھلیان میں اناج نکالنے کی بات ہو،یا اناج کو دھڑی کے با ٹوں سے تولنے کی…….لینڈرا ہر جگہ موجود ہوتا۔ لینڈرا کو کبھی کبھی ایسا محسوس ہو تا گو یا پو را گاؤں ہی اس کا کُنبہ ہے۔لیکن اگلے ہی پل اُسے لینڈرا کہنے وا لے کچھ لوگ، برے بھی لگتے تھے۔اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اُن سب سے کہے کہ میں ہی اکیلا لینڈرا نہیں ہوں بلکہ تم سب لینڈرے ہو۔تم سب اپنے باپوں کی اولاد نہیں ہو۔ تم سب کم اصل ہو۔لیکن وہ یہ بات دل کے اندر ہی اندر کہتا اور سکون حاصل کرلیتا۔

                ایک دن اس کے گھر میں کہرام مچا تھا۔کلوا اور اس کی بیوی میں لڑا ئی ہو رہی تھی…..محلہ اکٹھا ہو گیا تھا۔کسی نے کلوا کو کہہ دیا تھا کہ تمہا ری بیوی را مو کے بیٹے کے سا تھ کھیت میں رنگ رلیاں منا رہی تھی۔کلوا نے بنا تحقیق کیے گالیاں دینا شروع کردیا تھا۔ اس کی بیوی اپنی صفائی دے رہی تھی۔

                ”میں کھیت پر گئی ہی۔نیار کاٹ کر گٹھری باندھ تو لیئ پر موسو‘ اُٹھی نا۔پاس ہی را مو کا بیٹا کھیت میں پانی لگا رؤ تھوَ۔میں نے گٹھری اُٹھوانے کو کہو۔بس……….گٹھری اُٹھوانا جُرَم ہے۔؟“

                کلوا کچھ سننے کو تیار نہیں تھا۔

                ”چلی جا حرام جادی۔جا میں نے تجھے طلاق دی۔“

                ”طلاق……طلاق…….طلاق……..“

                طلاق کا گولہ منھ کی توپ سے نکل چکا تھا۔گولے کی آواز اس قدر شدید تھی کہ اُس نے پورے گاؤں کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔گاؤں کارُخ رحمت کے گھر کی طرف ہو گیا۔بات گھر سے گاؤں پھر کھلیا نوں اور کھیتوں سے ہو تی ہوئی جنگل اور دوسرے گاؤں میں پھیل گئی۔ علا قے میں پہلی بار کسی نے طلاق دی تھی……..گاؤں کے بزرگ کلوا کو لعن طعن کررہے تھے۔

                ”پہلے جانچ پرکھ لینو چیئے۔“

                ”طلاق تو کھدا کو بھی بُری لگے ہے“

                ”اب جرور گاؤں پر آپھت آوے گی………“

                جتنے منہ اتنی باتیں۔شام ہو تے ہو تے بات کا فی سنجیدہ ہو چکی تھی۔لوگوں کے سمجھانے اور بُرا بھلا کہنے کا اثر کلوا پر بھی ہوا۔ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو نے لگا تھا۔اُسے لگا جیسے اُس نے اپنی بیوی پر زیادتی کی ہے۔پر اب کیا ہو؟ کسی طرح معاملہ رفع دفع ہونا چاہیے۔گاؤں کے سمجھ دار اور ہوش مند لوگوں کی میٹنگ ہو ئی۔

                ”تین بار طلاق،کہنے سے بھی ایک ہی طلاق ہو تی ہے۔“

                حافظ الیاس نے اپنی را ئے دی۔

                ”امام صاحب سو‘ پوچھ لیو۔وہ کا کہویں۔“

                ”اہل حدیث کے کائی مولانا کے پاس چلو۔“

                باہم مشورے سے طے پا یا، جس میں امام صا حب بھی شامل تھے،کہ طلاق تو ہوگئی ہے۔ اب عدت پوری کی جائے۔ اور اس کے بعد حلالہ کرا کے دو بارہ کلوا کا گھر بسا دیا جائے۔

                کلوا کی سسرال والے اپنی بیٹی کو لینے آ ئے تھے لیکن گاؤں کے لوگوں نے منع کردیا۔اور عدت بھو را کے گھر پو ری کرنے کی بات طے ہو گئی۔

•••••••

                کلینڈر کے تین ورق پلٹے جا چکے تھے۔عدت پو ری ہو نے وا لی تھی۔ گاؤں کے بزرگوں کا اجتماع پھر ہوا اور گاؤں کے کسی ایک شخص کی تلاش شروع ہوئی جو بڑی عمر کا ہو، نکاح کے بعد کی رات………… کے بعد طلاق دے دے۔لوگوں کی نظر یں کئی اشخاص پر گئیں۔خوبیوں اور برائیوں پر بحث ہو ئی۔مسجد کے امام پر سب کی رضا مندی ہو نے ہی وا لی تھی کہ کسی بزرگ کی چشمِ تصور نے لینڈرے کو دیکھ لیا۔ بس پھر کیا تھا۔سب خوشی خوشی تیار ہو گئے۔لینڈرا سے بہتر کوئی اور اس کام کے لیے نہیں ہو سکتا تھا۔گھر کے گھر میں بات رہے گی اور لینڈرا سب کچھ ہما رے مطابق کر بھی دے گا۔

                عشاء کے بعد امام صاحب نے لینڈرا کا نکاح پڑھوا دیا۔دس پندرہ افراد کی موجودگی میں سب کچھ انجام پذیر ہو گیا۔گا ؤں کے بزرگوں نے کئی کئی بار لینڈرا کو سب کچھ سمجھا دیا تھا۔گاؤں کی عورتوں میں بھی کھسر پسر ہو رہی تھی۔ سبھی عورتوں کی رائے تھی لینڈرا تو لینڈرا ہے۔کلوا کی قسمت اچھی ہے کہ حلالہ ہو کے بھی اس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔

                لینڈرا کام کاج سے فارغ ہو کر اپنے بستر میں سو نے جارہا تھا کہ ایک بزرگ نے کہا۔

                ”یاں نہیں۔آج تو،تُوے،اندر سو نو ہے۔“

                اور مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق لینڈرا دُلہن کے کمرے میں آ گیا۔ کمرے کی کنڈی لگاتے ہو ئے وہ بستر پر آ کر ایک طرف کو لیٹ گیا۔ دوسری طرف منھ کیے دُلہن لیٹی تھی۔لینڈرا کو کلوا کی شادی کی رات یاد آ گئی۔ اس کے جسم میں چیونٹیاں چلنے لگی تھیں اور وہ بخا ر میں تپ گیا تھا۔ بابا نے آواز نہ دی ہو تی تو نجانے اس کا کیا ہو تا۔ اس دن لڑکی نے اُسے اپنی طرف پُکارا تھا۔آج لڑکی منھ اُدھر کیے لیٹی تھی۔شا ید اُسے لینڈرا سے ڈر تھا۔مارے خوف کے وہ دوسری جانب منھ کیے تھی۔نہیں وہ لینڈرا سے خوف زدہ نہیں تھی،بلکہ انتہائی مطمئن……….کہ لینڈرا بھی کو ئی مرد ہے؟اس اطمینان کے باعث وہ آ رام سے منھ پھیرے لیٹی تھی……پھر لینڈرا تو اس کا جیٹھ لگتا تھا۔

                لینڈرا سونے کی کوشش کررہا تھا۔لیکن نیند اُس سے کو سوں دور تھی۔ جب کہ وہ بستر میں گرتے ہی سو جایا کرتا تھا۔اس کی زندگی کا یہ پہلا مو قع تھا…….جب نیند اس سے دور تھی…..پہلا ہی مو قع تھا……جب اس کی شادی ہو ئی تھی………شادی کیا ہو تی ہے؟ لینڈرا کو اس کا علم نہیں تھا۔نہیں،علم تو تھا پر ادھو را ادھورا………اُڑی اُڑی باتیں اُس نے سن رکھی تھیں۔پہلی رات، یہ بھی اس کی زندگی کی شاید پہلی رات تھی…….نہیں شاید آ خری بھی۔پہلا مو قع تھا جب اُسے گاؤں کی عزت کا واسطہ دیا گیا تھا۔ رحمت نے اُسے اپنے خاندان کی عزت کی دُہائی دی تھی……رحمت،اس کی ماں کا شو ہر……..جس نے اُسے نئی زندگی دی تھی،نہ صرف اُسے بلکہ اس کی ماں کو بھی……جو آج بالکل قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا تھا……..پھر کلوا بھی تو اس کا بھا ئی ہی تھا، اس کی ماں کا بیٹا……..نکاح کے وقت کلوا کی آ نکھوں میں تیرتے آ نسو جو التجا کررہے تھے،اُسے سب یاد تھا……..اُسے تو بس آج رات گزار کر، گاؤں کی عزت، گاؤں کے حوا لے کرنی تھی۔وقت نے کیسی کروٹ بدلی تھی۔آج وہ گاؤں کی عزت کا محا فظ بن گیا تھا۔اب سب کچھ اس کے ہا تھ میں تھا۔گاؤں کے بڑے، جوان، عورتیں سب کو اُ مید تھی، ہو نا وہی ہے جس کا سب کو اندازہ تھا…….لینڈرا کا انتخاب اسی پس منظر میں کیا گیا تھا۔ گاؤں کے بزرگوں نے دنیا دیکھی تھی، ان کی نظروں میں لینڈرا اس کام کے لیے مناسب ترین شخص تھا۔لینڈرا کے تقریباً ۰۴/سال ان کی  آنکھوں کے سامنے تھے….اُس نے کبھی کسی لڑکی کو نظر بھر کا بھی نہیں دیکھا تھا۔

                چار پائی نما پلنگ کی نواڑ میں سرسراہٹ ہوئی۔دُلہن نے شا ید کروٹ لی تھی۔ لینڈرا کا دل تیز دھڑکنے لگا تھا۔ اس کے بدن پر لرزہ طاری ہو گیا۔ اس کے اندر اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ کروٹ بدل کر دیکھ لے کہ دُلہن کس کروٹ لیٹ چکی ہے…..آہستہ آہستہ اس کی حا لت ٹھیک ہونے لگی۔دل کی دھڑکنیں سست ہونے لگیں۔دل نے سمجھا یا دیکھو تو سہی…..وہ کیا کر رہی ہے؟سو رہی ہے یا سو نے کی ایکٹنگ کررہی ہے یا پھر میری طرح………نہیں…..نہیں……میری طرح کیسے ہو گی۔وہ تو اس دور سے گذر چکی ہے۔ہم بستری کا بھی اس کا یہ پہلا مو قع نہیں۔نہیں وہ میری طرح تو نہیں ہو گی۔

                اپنی تمام قوت کوسمیٹتے ہو ئے اُس نے سر گھما کر دیکھا۔ پھر فوراً سر کو واپس موڑ لیا۔اُسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اُسے دیکھتے ہو ئے نہ دیکھ لے۔ لینڈرا نے دیکھا تھا….دُلہن نے کروٹ بدل کر رُخ سیدھا کرلیا تھا۔اب اس کا منھ اور سامنے کا حصہ چھت کی طرف اور پشت پلنگ پر تھی۔ اور وہ مزے سے سو رہی تھی۔سو تے میں اس کی سا نسوں کی آمد و رفت سے اس کا سینہ کچھ اس طرح اوپر نیچے ہو رہا تھا کہ لینڈرا کی سانسیں تھمنے لگیں۔حلق خشک ہو گیا۔ اگر اُس نے فو راً سر نہ گھما لیا ہو تا تو شاید اس کا دل، دھڑکنا بھول جاتا۔بڑی مشکل سے اُس نے اپنے آپ پر قا بو پایا۔ اُسے کیا پتہ تھا عورت کی قربت کیا ہو تی ہے۔ قربت کی تپش کیسی ہو تی ہے۔ کیسے وہ اچھے اچھوں کو جلا کر خا کستر کردیتی ہے۔ اُسے بھی جلا ہی تو دیا تھا۔ اس کا بدن تپنے لگا تھا۔اُسے زندگی میں اتنی گرمی کبھی نہیں لگی تھی۔جیٹھ کی بھری دوپہری میں کھیتوں میں کام کرتے وقت بھی اُسے اتنی گرمی کا احساس کبھی نہیں ہوا تھا۔

                اچانک اس کے اندر برسوں پرا نا فقیر محمد، بیدار ہو گیا۔ اُسے یا د آ نے لگا، سا را گا ؤں اُسے لینڈرا کہتا تھا۔جب شروع میں لوگوں نے اُسے لینڈرا کہنا شروع کیا تھا تو اُ سے بہت غصہ آتا تھا۔لیکن اس کی بے چارگی اور بے بسی نے انہیں مزید تقویت پہنچا ئی تھی۔آج لوگ اس کے اصل نام کو بھی بھول گئے تھے اور لوگوں کا کیا وہ خود فقیر محمد سے دور ہو گیا تھا۔ آہستہ آہستہ سب کچھ عام ہوتا گیا،لیکن کہیں نہ کہیں اس کے دل میں نفرت کی ایک چنگا ری تھی جو برسوں سے دبی پڑی تھی۔اچانک چنگا ری سُلگ اُٹھی۔ لینڈرا،کے اندر خود اعتمادی، حوصلہ اور ہمت آ گئی تھی۔گاؤں والے اُسے ذلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ہمیشہ اس کی تضحیک کرتے۔لینڈرا کہتے وقت ان کے لہجے میں کیسی حقا رت ہو تی تھی۔فقیر محمد بے بس تھا۔لیکن انسان ہمیشہ بے بس نہیں ہو تا۔

اللہ تعالیٰ ہر انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی دولت، شہرت،مو قع،ہمت اور حوصلہ ضرور عطا کرتا ہے۔آج فقیر محمد کو خدا نے وہ مو قع دیا تھا۔خدا نے آج اسے فقیر سے بادشاہ بنا دیا تھا۔ اُسے ایک رات کی بادشاہت ملی تھی۔فقیر محمد نے طے کرلیا کہ وہ انتقام لے گا۔ وہ گا ؤں والوں کو بتائے گا کہ لینڈرا کسے کہتے ہیں۔ اُسی بچے کو نا، جو اپنی ماں کے سا تھ جہیز میں آ تا ہے۔ آج میں بتاؤں گا۔ عزت کیا ہو تی ہے۔کلوا،جو میرا بھا ئی ہے۔ اس نے بھی کیا کمی کی۔ وہ بھی مجھے لینڈرا کہتا ہے۔ اُسے آج پتہ چلے گا کہ لینڈرا کیا ہو تا ہے۔ لینڈرا بزدل، کمزور اور ڈر پوک نہیں ہوتا۔ آج میری ہمت دیکھنا کلوا…….اور کلوا کی بیوی……آج رات کی اس کی دُلہن………کتنے اطمینان سے محوِ خواب ہے۔گو یا شادی کی پہلی رات، کو ئی بات ہی نہ ہو۔کتنا اطمینان ہے حرام زادی کے چہرے پر…….کیوں ہے یہ اطمینان،صرف اس لیے نا کہ میں لینڈرا ہوں۔ لینڈرا جو شاید مرد نہیں ہوتا۔گاؤں کی سا ری عورتیں مجھے یہی سمجھتی ہیں نا۔انہیں یہ نہیں پتہ لینڈرا، مرد ہے،لیکن بد کردار نہیں۔کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا، کسی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں مرد نہیں……نا مرد ہوں۔سا رے گھر کو،پورے گاؤں کو اطمینان ہے۔سب مجھے نامرد سمجھتے ہیں…..آؤ، گاؤں وا لو دیکھ لو…….میں نا مرد نہیں ہوں۔

                رات کے پچھلے پہر لینڈرا کے کمرے سے ابھر نے وا لی چیخوں اور کرا ہوں نے فضا میں ارتعاش پیدا کردیا تھا۔صُبح کی نماز کے بعد لینڈرا، نہیں فقیر محمد، جو آج با دشاہِ وقت سے کم نہ تھا، نے حسبِ وعدہ گہنا چکے چاند پر اپنے دروا زے ہمیشہ کے لیے مقفل کردیے۔

٭٭٭

Dr. Aslam Jamshedpuri

HOD, Urdu, CCS University, Meerut

aslamjamshedpuri@gmail.com

09456259850

 

حرامی (ایک بے باک افسانہ) : ڈاکٹر اختر آزاد (انڈیا) HARAMI BY DR. AKHTAR AZAD

ڈاکٹر اختر آزاد 
مکان نمبر۔۳۸ ، روڈ نمبر ۔ ۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
موبائل:۔ 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
حرامی

(یہ افسانہ، افسانوں کاعالمی انتخاب جو "نئی صدی کا افسانوی انتخاب” کے نام سے شائع ہوا ہے ، اس میں شامل ہے۔ مہتاب عالم پرویز) 

میرا باپ کون ہے؟ 
یہ سوال ہوش سنبھالتے ہی گورا کا پیچھا کرنے لگا تھا۔ اُس کا چہرہ نہ ماں سے ملتا تھا اور نہ ہی باپ سے ۔دونوں کے چہرے سیاہ تھے اور نقش ونگار الگ ۔مزدور کہیں کے بھی ہوں، چہرے ایک سے دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن خون پسینہ نچوڑنے والے ٹھکیداروں کا تعلق کسی قبیل سے ہو وہ اپنے ہاؤ بھاؤ کے باعث دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں …….اب لوگ گورا کو بھی دور سے پہچاننے لگے تھے کہ یہ ’خون ‘ ٹھیکیدار ہے جس نے کام دینے کے بہانے اس کی ماں کو ورغلایاہو گا اور مزدوری کے ساتھ نو ماہ کا بونس گود میں ڈال دیا ہو گا۔ 
تقریباً پانچ سو گھروں کا یہ جھونپڑ پٹّی والا علاقہ شہر کے بیچو ں بیچ تھا ۔ بڑے ہسپتال کے ٹھیک پیچھے ۔ قریب دس ایکڑ زمین میں آباد۔ بڑی بڑی نالیوں سے گھرا ہوا۔ گذرتے ہوئے ایسا لگتا جیسے شہر کی ساری گندی یہیں آ کر جمع ہوتی ہے۔اندر بھی جگہ جگہ کچی نالیاں سڑتی رہتیں ۔سوّر اورمرغیاں اِنہی گندگیوں سے خوراک حاصل کرتے اور ہر طرف گندگی پھیلاتے نظر آتے……….. درمیان میں ایک چھوٹا سامیدان تھا ۔میدان کے بیچ میں ایک مندر۔مندر کے چاروں طرف ایک ایک نل لگے ہوئے تھے ۔ صبح و شام پانچ سے سات بجے تک ان نلوں میں مزدوروں کا ہجوم لگا رہتا ۔دو میں مرد نہاتے اور دو میں عورتیں ۔ یہیں ہفتے بھر کی کھٹّی میٹھی باتیں سامنے آتیں ۔اتوار کے دن تو میلہ لگ جاتا۔ دن بھر پانی رہتا۔ کچھ لوگ صبح سویرے نہا دھو کر مارکیٹ یا فلم گھروں کی طرف نکل پڑتے ۔ کچھ لوگ آرام سے اُٹھتے ۔ ایک ساتھ بہت سارے لوگ جب نلکے پر جمع ہوجاتے تو” تو تو ،مَیں مَیں ” اور دھکا مکّی بھی ہوتی ۔ جوان لڑکے بہانے سے عورتوں کے نلکے کی طرف جھانک تاک کرتے۔ لڑکیاں بھی رنگ برنگی لباس میں منڈراتی رہتیں ۔بچّے کی چھَٹّی سے لے کرشادی بیاہ اورپوجا پاٹھ سب یہیں ہوتے۔ بڑے بڑے ساؤنڈ باکس لگائے جاتے۔علاقائی ڈانس دن رات جاری رہتا ۔ کیا عورت کیا مرد ۔سب ہاتھ میں ہاتھ دیئے نظر آتے۔پینے پلانے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ۔پھوہڑگانوں اوربے ہنگم آواز کو لے کراکثر آس پاس والے تنگ رہتے۔مار پیٹ تک کی نوبت آ جاتی۔پھر شام ڈھلے یہاں نشے کا کاروبار سج جاتا۔ پولس اکثر ریڈ کرتی۔لیکن جھونپڑپٹی کی بھول بھلیّوں میں پولس مات کھا جاتی ۔ شہر کا مافیا ہمیشہ جیت جاتا۔کیوں کہ پولس والوں میں بھی کچھ نشیڑی تھے اور اس کی دلالی کرتے تھے۔ 
محلّے کے انٹرنس کے ٹھیک سامنے پیپل کا پیڑ تھا اور اس کے چاروں طرف بڑا سا سمنٹیڈ چبوترہ ۔سارے اہم فیصلے یہیں طے پاتے ۔گورا کی پیدائش کے فوراًبعد دائی اُس کے پیکڑ باپ کو دکھانے اِسی چبوترے پر آئی تھی تاکہ فوراً بخشش مل سکے ۔دیکھتے ہی تمام لوگوں نے حیرت سے اس کے باپ کی طرف دیکھا تھا اور طنز سے کہا تھا "بیٹا ’گورا ‘ہوا ہے، مٹھائی کھلاؤ۔”مٹھائی پہنچنے سے پہلے ہی ‘ گورا ‘ کی کہانی گھر گھر پھیل گئی اور وہ اس کے وجود کا حصّہ بن کر نام کے ساتھ چپک گیا ……… اِس طرح اُجلا، اُجلی، سفیدا ، سفیدی،گوری جیسے کچھ اور بھی نام اِسی چبوترے نے پیدا کئے۔ بغل میں ہی چائے پکوڑے کی دکان تھی ۔ٹھیکیدار یہیں سے مزدوروں کو لے جایا کرتے تھے ۔آس پاس کے عاشق مزاج لونڈے بھی موٹر سائکلوں میں بیٹھ کر چائے پکوڑے کا لطف اُٹھاتے دیکھے جاتے ۔ صبح وشام یہاں بھیڑ سی لگی رہتی تھی۔
گورااِسی چبوترے پر ہر دم بیٹھا رہتا ۔ 
آتے جاتے لوگوں کی نظر اکثر اُس پر پڑ تی ۔ کوئی اِس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتاکہ مزدوروں کی اس نسل سے گوراکا کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ تھا تو ان میں سے ہی ۔ ماں کبھی حقیقی اور غیر حقیقی نہیں ہو سکتی ۔ لیکن باپ کے بارے میں سوال داغا جا سکتا تھا ۔ ایسے کتنے چبھتے سوال تھے جس کا دردگورانے ہوش سنبھالنے سے لے کر جوانی کی دہلیز تک سہا تھا ۔
ایک دن مزدوروں کے بچّوں کے ساتھ وہ چبوترے میں بیٹھا لوڈو کھیل رہا تھا۔ سامنے ایک گاڑی رکی۔ جس میں سے تین چار لوگ چائے کی دکان پر آئے۔ ایک نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھیرے سے کہا۔ اُس کے کان کھڑے ہو گئے۔
’’دیکھ اِس لونڈے کو کون کہے گا کہ یہ مزدور کی اولاد ہے۔سالا ہم میں سے ہی کسی ٹھیکیدار کا کارنامہ ہو گا ۔‘‘
پھر ایک نے آواز دے کر اپنی طرف بلایا ۔ 

"کیا نام ہے تمہارا "

"گورا۔”

"اپنا اصلی نام بتاؤ؟”
اس نے جب راشن کارڈ والا نام باپ کے ٹائٹل کے ساتھ بتایا، تو سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
’’لیکن شکل سے لگتے نہیں ہوکہ تم ان مزدوروں کی اولاد ہو۔‘‘ دوسرے نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
’’ارے نہیں ہے تو تمہیں کیا؟ ‘‘تیسرا لطف لینے کے موڈ میں تھا۔
’’جانے بھی دو کسی نہ کسی کی اولاد تو ہے۔‘‘چوتھے نے چائے کی آخری چسکی لیتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔پھر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سب گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
اِدھر گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور اُدھر اس نے لوڈوپرزور سے لات ماری اورگھر آ کر سیدھے باپ کی گردن پر دونوں ہاتھ رکھ دیا۔
’’سچ سچ بتاؤ ۔ تم کون ہو؟نہیں تو گلا دبا دوں گا۔‘‘
نشے کی حالت میں دھُت کھاٹ پر پڑے پڑے اس نے گورا کی طرف دیکھا اور زور سے ایک چپت لگائی۔
’’سالے تو مجھے نہیں پہچانتا۔تیری ماں کا بھتار اور تیرا باپ ہوں بے۔‘‘
وہ کھاٹ پر ایک بار پھر ادھ مرا سا پڑ گیاجیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔
گورا روتے روتے بستر پر اوندھے منہ لیٹ گیا ۔جب شام کو ماں کام سے لوٹی تو اس نے ٹفن اور چھاتا چھینتے ہوئے غصّے میں پوچھا ۔ 
’’ماں سچ سچ بتاؤ میرا باپ کون ہے؟‘‘ 
کیوں یہ اُلٹے سیدھے سوال پوچھ رہا ہے تو ………؟‘‘پہلے ماں گھبرا گئی۔ پھر ڈانٹنے لگی ۔’’تیرا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ۔ یہ جو گھر کے کونے میں کھاٹ پر لیٹا پی کر دن رات سویا رہتا ہے یہ کون ہے ؟‘‘
’’ماں میں نے بچپن سے اِسے ہی باپ جانا ہے۔لیکن ماں میرا چہرہ ذرا بھی نہیں ملتا۔لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔‘‘گورا رونے لگتا ہے ۔
’’دیکھ تیرا چہرہ تو مجھ سے بھی نہیں ملتا ۔ اس کا مطلب میں تیری ماں بھی نہیں ہوں ۔‘‘
‘‘ لیکن لوگوں کا منہ کیسے بند کروں ؟ ماں پر کسی نے سوال نہیں اُٹھایا اور باپ سے میرا رنگ نہیں ملتا۔ ‘‘
’’دیکھ یہ تو رنگ رنگ کیا لگا رکھا ہے ۔ اِس جھونپڑ پٹی میں تیری طرح کتنے ہی بچّوں کا رنگ گورا ہے ۔ صرف ایک تو ہی تو نہیں ہے نا۔ ؟‘‘
’’ماں تم ٹنکو، پنکو ، چنّو منّو ، اُجلا ، اُجلی اور گوری جیسے بچّوں کی بات کر رہی ہے نا ……..؟ ان سب کے بارے میں بھی لوگ گندی گندی باتیں کرتے ہیں کہ سب ’حرامی ‘ کی اولاد ہیں ۔‘‘
’’اگر وہ حرامی مل جائے تو کچّا چبا جاؤں گی ۔بہکاتا ہے میرے بچّے کو۔دور کرنا چاہتا ہے مجھ سے………‘‘ کہتے کہتے ماں رونے لگتی ۔ سینے سے چمٹالیتی اور سمجھاتی۔ ‘‘ بیٹا دنیا والوں کا کیا ہے جس کے منہ میں جو آئے کہتے رہتے ہیں۔ اُلٹی سیدھی باتوں میں اپنا موڈ مت خراب کرو ۔تمہیں میری قسم ہے ۔‘‘
لیکن آگے چل کرماں کی اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔بلکہ اس کے حرکات و سکنات میں اور بھی تبدیلیاں رو نما ہونے لگیں ۔وہ اب جب بھی چبوترے سے لوٹتا ۔ تیور بدلے بدلے سے ہوتے ۔ماں سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتا ۔بس ایک ہی سوال کرتا کہ’‘ میرا باپ کون ہے؟‘‘اب تو ماں کے ہاتھوں کا نکالا ہوا کھانا بھی نہیں کھاتا ۔وہ ان حرکتوں سے تنگ آ چکی تھی ۔پریشان پریشان سے رہنے لگی تھی ۔مولوی ، پنڈت ، اوجھا اور نہ جانے کس کس کے پاس گئی ۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔یہاں تک کہ اس نے اپنی جان تک دینے کی دھمکی دے ڈالی ۔لیکن اس کے باوجود اس کے رویّے میں کوئی سدھار نہیں آیا۔
گوراکے ذہن ودماغ میں یہ بات بس گئی تھی کہ سب کچھ ہو سکتا ہے ،لیکن پی کر سوئے ہوئے اس شخص کی اولاد وہ نہیں ہو سکتا ۔ دونوں کی قد وقامت میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا ۔پیر کے انگوٹھے کے بعد والی انگلی جہاں باپ کی بڑی اور بے ڈھب شیپ لئے ہوئے تھی، وہیں اس کی انگلیاں ترتیب وار چھوٹی ہوتی چلی گئی تھیں اور دونوں کو جوڑنے سے آدھادائرہ بناتی تھیں ۔باپ کے دونوں گھٹنوں کے درمیان چھ انچ کا فاصلہ تھا اور راؤنڈجیسادکھائی دیتا تھا وہیں اس کی ٹانگیں بالکل سیدھی تھیں ۔ باپ کا سینا سپاٹ تھا وہیں اس کا انگریزی Vجیسی شان و شوکت رکھتاتھا ۔باپ کاکندھا جہاں نیچے کی طرف جھکا ہوا تھا اورچلنے سے کبڑا لگتا تھا ، وہیں اس کا کندھا اوپر کی طرف اُٹھا ہوا تھااور چال میں وہ تیور تھا کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے تھے۔باپ کی گردن چھوٹی تھی اور اس کے کندھے اور سر کے درمیان کی دوری دُگنی تھی۔ باپ کے اوپر کے دانت باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے تواس کے دودھ میں نہائے قرینے سے ایک دوسرے میں پیوست ۔باپ کی مونچھ میں جہاں چند تنکے پھنسے ہوئے تھے اور داڑھی ٹھڈّی کے پاس ڈیرا جمائے ہوئے تھی، وہیں اُس کی مونچھیں گھنی اور داڑھی پورے کلّے میں جلوہ بکھیر رہی تھی۔باپ کی ناک پکوڑے کی طرح پھولی ہوئی اور اس کی لمبی اور چپٹی تھی۔ باپ کی آنکھیں جہاں زردی مائل تھیں وہیں اس کی جاذبیت سے بھر پور سفید رنگت لئے ہوئے تھیں۔ باپ کے کانوں میں جھالر کی طرح لٹکتے ہوئے بال تھے تو اس کے کان جھالروں سے بے نیاز ۔باپ کے مقابلے اس کی پیشانی چوڑی تھی۔ بال لالی پن لئے گھنگھریالے تھے تو اس کے سیاہ اور ریشم جیسے چمکیلے اور سلجھے ہوئے ۔ہاتھ پیر کے ناخُن جہاں چپٹے تھے وہیں اس کے لمبے۔یعنی سرسے لے کر پیر تک وہ اپنا اور جب اپنے باپ کے جسمانی ساخت کا موازنہ کرتا تو حیرت انگیز تبدیلی دیکھ کر کانپ جاتا ۔ یہ سلسلہ ہر روز کسی نہ کسی سطح پر اس کے اندر جاری رہتا اور ہر بار اس عمل سے گذرتے ہوئے اُسے لگتا کہ اگر اس کے جسم کا ایک بھی حصّہ اس کے باپ سے میل کھاتا تواُسے تھوڑی سی تقویت ملتی اور وہ کسی طرح اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ۔لیکن بے چینی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔کبھی کبھی وہ یہ بھی سوچتا کہ ایسی عورت جو میرے جیسے بچّے کو جنم دیتی ہے اُسے جینے کا کوئی حق نہیں ۔پھر کبھی یہ سوچتا کہ جو عیاشی کی خاطر عورتوں کے جسم سے کھیلتا ہے اور بچّے کو اپنا نام دیناگناہ سمجھتا ہے اس کے خاص عضو کو تراش کر چوراہے پر لٹکا دیا جانا چاہئے۔اورکبھی یہ بھی سوچتا ہے کہ’‘ حرامی‘‘ کہلوانے سے بہتر ہے خود کو موت کے حوالے کر دینا ۔
لیکن پھر سوال سامنے کھڑا ہو جاتا کہ وہ خود کو کیوں ختم کرے؟ اس نے کیا کیا ہے؟یہ تو لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ اُسے ’’حرامی ‘‘کہتے ہیں ؟ اس نے کوئی حرام کاری نہیں کی ہے۔جیسے سب اس دنیا میں آئے ہیں ویسے وہ بھی آیا ہے ۔ بس فرق یہ ہے کہ دو جسموں نے غلط طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے حرام کاری کی اور عجیب بات ہے کہ’ ’حرامی ‘‘وہ ہو گیاجو سرے سے منظر نامے میں ہی نہیں ؟
وہ اپنے باپ کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں رہتا ۔ اس لئے نہیں کہ وہ راہل تیواری ایڈووکیٹ کی طرح اپنی ماں کو اس کا حق دلانا چاہتا تھا، بلکہ ا س جگہ لے جا کراس کے پیٹ میں چاقو گھونپنا چاہتا تھاجہاں اس نے عیاشی کا نطفہ ماں کی کوکھ میں ڈالا تھا ۔ ماں کوبھی ایسی ہی سزا دینا چاہتا تھاکہ خود کو بیچ کر اس کے وجود کا سودا کیوں کیا ………؟ گندے خون کی پرورش کرنے سے کہیں بہتر تھا کنویں میں کود جانا۔کیا ضروری تھا اُسے دنیا میں لانا ؟پیدا ہو بھی گیا تھا تو مار دینا تھا ۔زندگی دے کر جو بھول کی ہے اس کی سزا ملے گی ۔ورنہ خود کو مار کر سمجھوں گا کہ میں نے اپنے’ حرامی ‘ماں باپ کو مار دیا ہے۔ 
گورا کا اب ایک ہی کام تھا۔دن بھر شہر کی کی خاک چھاننا۔جہاں کہیں کام چل رہا ہوتا اس کے گیٹ کے پاس بنے جھگّی نما ہوٹلوں میں بیٹھ کر وہ تمام ٹھیکیداروں پر نظر رکھتا۔اُن کے چہروں کو بغور پڑھتا اور اپنی عمر میں جا کر ماضی کے کیمرے سے اس کی تصویر کھینچتا اورحال کی تصویر سے ملاتا کہ شاید مشابہت کا کوئی زاویہ سامنے آجائے ۔لیکن لاکھ کوشش کے با وجودکچھ ہاتھ نہ آتا۔
اب وہ ماں کی ہر ایکٹی ویٹی پر نظر رکھنے لگا تھا ۔وہ کہاں جاتی ہے ؟ کس کے یہاں کام کرتی ہے ؟ کس سے ملتی ہے؟کب گھر سے نکلتی ہے ؟کب لوٹتی ہے؟فون پر کس کس سے بات کرتی ہے ؟اوور ٹائم کب کب کرتی ہے ؟ماں کیوں رکتی ہے؟اکیلے رکتی ہے یا پھر دوسری ریجا بھی ساتھ ہوتی ہے؟لنچ کے ٹائم اس کے ساتھ کون کون ہوتا ہے؟وہ کس کے ساتھ چائے پینا پسند کرتی ہے ؟کہیں ایسا تو نہیں کہ چائے کے پیسے کوئی اور دیتا ہے؟ کہیں وہ اُس ٹھیکیدار کا آدمی تو نہیں جس کی وہ ناجائز اولاد ہے؟
’’میں ناجائز نہیں ہوں ۔ حرامی نہیں ہوں ۔‘‘ اب تووہ نیند میں بھی چلّا نے لگا تھا۔ ان حرکتوں سے ماں کی الجھن اور بڑھ گئی تھی کہ بیٹے کایہی پاگل پن ایک دن اُس کی زندگی پر بھاری پڑ جائے گا ۔وہ سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کرتی۔لیکن وہ سنناہی نہیں چاہتاتھا۔ ایک دن ماں اُجلی کو بہلا پھسلا کر اپنے گھر لائی تاکہ پاگل پن پرپیار بھاری پڑ جائے اور بیاہ کا پھندہ اس کے گلے میں پڑ جائے ۔ لیکن پہلے ہی دن گورانے ایسا جھانپڑ مارا کہ اُجلی بے ہوش گئی ۔ کافی ہنگامہ ہوا ۔ لیکن ماں نے معاملہ سنبھال لیا ۔
ماں جانتی تھی کہ اس کی ایک غلطی نے بیٹے کوبد دل کیاہے۔ وہ بات تک نہیں کرتا ۔ باپ کی طرف تو اُسے دیکھنا بھی پسند نہیں ۔ پی کرنیچے گر جائے تو بھی کوئی مطلب نہیں ۔وہ تواُسے ماں کے یار کے طور پر دیکھتا تھا ۔ کئی باراس نے باپ کو گھر سے نکالنے کے بارے میں سوچا۔لیکن بچپنا یاد آ جاتا۔ کاندھے پر سوار ہو کرگھوڑا گھوڑا کھیلنا۔ ضد کر کے کھلونے منگوانا ۔مٹھائیاں کھانا ، ایک بستر پر سونا ، کہانیاں سننا……… کئی ایسے یاد گار لمحات تھے جس کی وجہ سے وہ چاہ کر بھی باپ کو گھر سے باہر نہیں نکال سکا ۔لیکن اب مصلحتاًباپ کی کوٹھری سے نکل کر ماں کی کوٹھری میں اپنابستر بچھا لیا تاکہ ماں اندھیرے میں نکلے تو عاشق کے ساتھ اسے بھی چاقو سے گود دے ۔ اس کے لئے برسوں رات جگّاکیا ۔دوسری طرف منہ کر کے گہری نیند سونے کا ناٹک رچا۔ ماں کی ہر کروٹ پر چوکنّا ہوا۔لیکن کبھی ماں کو پکڑ نہیں پایا ۔ 
ماں ہر وقت ڈری سہمی سی رہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ گوراکی رگوں میں کس کا خون دوڑ رہا ہے۔ شہر میں صرف ایک ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے اس کے باپ نے ایک ہی رات میں کئی کانٹے نکالے تھے۔یوں تو وہ دوسرے شہر کا رہنے والا تھا اور وہاں بڑے پیمانے پر اس کا کام چلتا تھا۔گورا کی پیدائش کے چار پانچ سال بعد اپنے شہر لوٹ گیا تھا۔ یہاں صرف ایک ٹھیکہ چل رہا تھا جسے اس کے حوالی موالی دیکھ رہے تھے۔ایک دن جب چپکے سے اس نے فون پر بیٹے کے پاگل پن کا ذکر کیا توعاشق ٹھکیدار چلّایا ۔
‘‘ اس سے پہلے کہ وہ مجھے مارے میں ہی اُسے ختم کر وا دوں گا ۔‘‘
دوپاٹوں کے درمیاں پھنسی ہوئی ماں نے رو رو کر جان بخشنے کی دہائی دی کہ’‘ آخر ہے تو وہ آپ ہی بیٹا ۔ کسی کی بھی موت میں نہیں دیکھ سکتی ۔‘‘
’’تو پھر تم ہی بتاؤ کہ میں کیا کروں؟‘‘ 
’’خالی دماغ شیطان کا۔دن دن بھر آوارہ پھرتا رہتاہے ۔اگر ہو سکے توکہیں کام پر لگوا دو ۔‘‘
’’منشی گری کرے گا وہ……..؟‘‘
’’کئی جگہ سے آفر آیا تھا۔لیکن خون تو ٹھیکیدار کا ہے۔ ٹھکرا دیا اس نے۔‘‘
’’اچھّا ………‘‘ کچھ رُک کر۔’‘ توٹھیک ہے میں اسے کہیں ایسی جگہ جہاں پیٹی کونٹریکٹر کا کام دلوا دیتا ہوں جہاں مجھے کوئی نہ جانتا ہو۔ ایک بار کام پر لگ گیا اور شادی بیاہ ہوگیا تو باپ ڈھونڈنے کا سارابھوت اُتر جائے گا۔میرا وہاں ایک خاص آدمی ہے جو سارا لین اپ کر لے گا۔‘‘
پھر منصوبہ بند طریقے سے اس خاص آدمی نے گوراسے دوستی کی اور اُسے ایک جگہ پیٹی کونٹریکٹر کے کام پر لگوا دیا۔
ایک ٹھیکیدار کے طور پر جب پہلی بارگورا نے اپنے سائٹ پر انٹری ماری تو اس کی نظر سانولی سلونی تیکھے نین نقش والی ریجا پر اس وقت پڑی جب وہ سمنٹ سے بھری کڑاہی سر پر رکھ رہی تھی ۔ ایسا کرنے کے دران بندھا ہوا دوپٹّہ اس کے سینے کے کساؤ سے ذرا پرے سرک گیا تھا اور اُبھارتھا کہ جمپر کی سلائی کو پھاڑ کرباہر نکل جانے کے لئے بے چین تھا بے چین تو گورا بھی ہو گیا تھا ۔اس لئے دیر تک وہ کام دیکھنے کے بہانے وہیں کھڑا رہا ۔پھر کرسی منگوا کر آرام کرنے کے بہانے بیٹھ گیا اور مسلسل اُسے دیکھتا رہا ۔ اس بات کا احساس ریجا کوجیسے ہی ہوا کہ نئے ٹھیکیداربابو کی نظر اس کی جوانی پربار بارپڑ رہی ہے ۔ تو وہ مڑ کر کڑاہی اُٹھانے لگی ۔لیکن وہ زیادہ دیر تک خود کو دوسری طرف موڑ کر نہیں رکھ سکی ۔ کیوں کہ گوراتھا ہی اتنا جاذب نظر ۔پھرچوری سے وہ بھی اس کی طرف دیکھنے لگی کہ اگرپہلی نظر میں ٹھیکیدار بابو نے اُسے چُن لیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے ۔کام بس نام کا رہ جائے گا ۔اور کام بھی کیا ؟ آفس کی صفائی اوروہی چائے پانی ۔
گورامسلسل اُسے دیکھے جا رہا تھا اور دیکھنے کے اس عمل میں وہ بہت کچھ سوچتا جا رہا تھاکہ اِس عمر میں اُس کی ماں بھی ایسی ہی لگتی ہو گی اور وہ ٹھیکیدار ……….وہ ٹھیکیدارمیری جگہ اِسی طرح بیٹھا ہو گا اور اُس نے چپکے سے اسی طرح ماں کو دیکھا ہو گا ۔ اور پھر اس نے بہانے سے اُسے آفس میں بلایا ہو گا۔
’’تو کیا یہ لڑکی بھی اُس کے بلانے پر آفس آ جائے گی؟‘‘جواب بھی اس نے خود ہی دیا۔’’کیوں نہیں یہ بھی ماں کی طرح ایک ’ریجا‘ہی تو ہے۔‘‘
‘‘ سُنو !یہاں کہیں پاس میں چائے وائے کی دکان ہے؟‘‘
’’ہاں ہے نا صاحب ! یہیں پاس میں ۔آپ بولیں تو جا کر آپ کے لئے چائے لا دوں ۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے پہلے ہاتھ منہ اچھّے سے دھو لو۔‘‘
اور جب وہ کیتلی لے کر جانے لگی تو اُس نے سوچا کہ اسی طرح ایک دن اس کی ماں بھی کیتلی لے کر گئی ہوگی اور جب لوٹی ہو گی تو اُس نے کرسی خالی دیکھی ہو گی اورجب وہ آس پاس کے ریجاقُلی سے پوچھی ہو گی تو اُسے بتایا گیاہو گا کہ ٹھیکیدار بابو آفس کی طرف گئے ہیں۔ اور پھر وہ آفس کی طرف بڑھ گئی ہو گی ۔وہاں ٹھیکیدار بابوپیر پھیلائے ، پیسوں سے بھرا پرس سامنے رکھے ماں کا انتظار کر رہا ہوگا ۔دروازہ کھٹکھٹانے پر اُس کی طرح ہی اُس نے کہا ہو گا ۔
’’ہاں اندر آجاؤ۔‘‘
سانولی سلونی اس ریجا کی طرح اس کی ماں بھی اندر آ گئی ہو گی اور گلاس میں چائے ڈالنے لگی ہو گی تو ٹھکیدار بابونے کہا ہو گا ۔’’بس بس تھوڑی سی چائے اپنے لئے رکھ لو۔‘‘اور پھرچائے لینے کے بہانے اس نے ہاتھ پکڑ لیا ہو گا اور بیڈ پر بٹھا لیا ہو گا اور پیار سے اس کی طرح ہی پوچھا ہو گا۔
’’نام کیا ہے تیرا؟‘‘
’’جھمری۔‘‘
‘‘ ایک دن کی مزدوری تمہیں کتنی ملتی ہے؟‘‘
’’ٹھیکیدار بابو دینے والے تو آپ ہی ہیں ۔ایک سو پچاس روپئے۔‘‘
‘‘ اس سے گھر چل جاتا ہے ؟‘‘
جھمری کی طرح ماں نے بھی کہا ہو گا۔’’نہیں۔‘‘ 
اور پھر ٹھیکیدار بابو نے پیار سے ماں کے ہاتھوں کو سہلاتے ہوئے کہاہوگا ۔’’کتنا کھردرا ہے تمہارا ہاتھ ۔کل سے سِمنٹ بالو چھوڑ کر آفس کی صفائی پر لگ جاؤ ۔ تنخواہ دگنی کر دوں گا ۔ بس دن میں ایک بار چائے پانی پلا دیا کرنا۔‘‘
جھمری کی طرح ماں نے بھی مسکراتے ہوئے پہلے’‘ نا ‘‘کیا ہو گا ۔ نخرے دکھائی ہو گی ۔ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی ہوگی ۔ پھر ٹھیکیدار بابو نے ماں کو کس کر پہلو میں بھر لیا ہو گا ۔ اور پھر ………پھر جھمری کی طرح ماں کا بھی روز کا معمول ہو گیا ہو گا ۔ آفس کی صفائی کرنا اور چائے پلانا۔اور پھر جب ایک دن جھمری کی طرح ماں نے بتایاہوگا کہ’‘ وہ اس کے بچّے کی ماں بننے والی ہے‘‘ تو ٹھیکیدار بابو نے کہا ہو گا ۔ 
’’کسی نرسنگ ہوم میں جا کر ابارشن کروا لو۔‘‘
’’نہیں ٹھیکیدار بابو !یہ ہمارے پیار کی نشانی ہے ۔ میں بچّہ نہیں گرواؤں گی ۔‘‘ جھمری کی طرح ماں نے بھی کہا ہو گا ۔
‘‘ آج نہیں تو کل دنیابچّے کے باپ کا نام پوچھے گی۔ تب تم کیا کروگی؟مجھے بدنامی منظور نہیں ۔ کسی قلی کا نام بتاؤ جس کے ساتھ میں تمہاری شادی کر دوں۔خرچ ورچ سارا میں سنبھال لوں گا۔اور ہاں کل سے تمہیں کام پر آنے کی ضرورت نہیں ۔ہر ماہ تنخواہ کے ساتھ بچّے کا خرچ بھی پہنچ جائے گا ۔لیکن اگر غلطی سے بھی تم نے کسی کے سامنے منہ کھولا تو وہ تمہارا آخری دن ہوگا ۔ سمجھ گئی۔‘‘
اور جس طرح جھمری نے سب کچھ سمجھتے ہوئے نہایت ہی سمجھداری سے’ ’منگرو‘‘ کا نام بتایا تھا اسی طرح سے ماں نے بھی اس کے اس پیکّڑ باپ کا نام بتایا ہو گا جو آج کل ماں کے پیسے سے شراب پی کرگھر میں پڑا رہتا ہے ۔لیکن وہ ماں کا اتنا وفادار ہے کہ لاکھ جھگڑا ہونے کے باوجود اس ٹھیکیدار کا نام زبان پر نہیں لاتا۔شاید زندگی پیاری ہو ۔اس لئے نشے میں بھی وہ ہوش میں رہتا ہے۔
جھمری کو جس طرح نرسنگ ہوم بھیجا گیاتھا ، اُسی طرح ماں کو ٹھیکیدار نے چپکے سے بھرتی کیا ہو گا۔ پھر اس کی طرح چھُپ کر دیکھنے آیا ہو گا۔اُس وقت اس کے پیکّڑ باپ نے بھی منگرو کی طرح ماں کے کان میں چپکے سے کہا ہوگا ۔’‘ ٹھیکیدار بابو آئے ہیں ۔‘‘ جھمری کی طرح ماں بھی شرمائی ہوگی ۔ پھر جھمری کے اشارے پر جس طرح سے منگرو اس کی طرف اسٹول بڑھا کر دروازے سے باہر نکلا تھا ، اُسی طرح اس کاپیکڑ باپ بھی باہر نکلا ہوگا، اور تب ماں نے اپنا آنچل ہٹا کرجھمری کی طرح بچّے کو دکھایا ہو گا۔ مسکراتے ہوئے کہا ہو گا ۔ 
’’تمہارا بیٹا ہوا ہے۔بالکل تمہاری طرح ہے۔‘‘ 
پھرجب اس کی طرح ٹھیکیدار بابونے جھک کر بچّے کو غور دیکھا ہو گا تویقیناًاُسے بھی اُس نوزائدہ بچّے کے اندر اپنا باپ نظر آیا ہوگا ………..اب پتہ نہیں اس نے اس کی طرح اپنے باپ کو کیوں نہیں ڈھونڈا ؟ لیکن گھر لوٹتے ہی جب گوراناراض ماں سے بے تحاشہ لپٹ گیا اور یہ کہا ۔
‘‘ آخر میں نے باپ کوڈھونڈہی لیا۔بہت پیارا ہے ماں۔تم اُسے جا کرگھر لے آؤ۔‘‘
ماں کا منہ حیرت سے کھُلا کا کھُلا رہ گیا۔
***

DR. AKHTAR AZAD 
HOUSE NO-38, ROAD NO-1 AZADNAGAR, JAMSHEDPUR-832110 E.MAIL- dr.akhtarazad@gmail.com MOBILE NO-9572683122 

چھِنال (ایک بے باک افسانہ) مہتاب عالم پرویزؔ(کویت) CHINAL BY MAHTAB ALAM PERVEZ – KUWAIT

 چھِنال

 (ایک بے باک افسانہ)

 مہتاب عالم پرویزؔ  (کویت)

                                                    

          ٭  چننئی سینٹرل کالج کے با لکل سامنے وسیع و عریض پارک میں وہ خوبصورت سی لڑکی خوبصورت سفید بالوں والے ایک کتے کو سیر کروا رہی تھی۔وہ چھوٹا سا کُتا جس کے سفید اور خوبصورت لمبے لمبے گھنے بال اُس کے چہرے کو چُھپائے ہوئے تھے اور اُس کے گلے میں پڑا ہوا وہ خوبصورت سا رنگین پٹہ اُسے اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا۔کُتے کے گلے میں پڑے ہوئے رنگین پٹے سے جُڑے ہوئے زنجیر کا دوسرا سرا اُس خوبصورت سی لڑکی کے کیوٹ سے مہندی لگے ہوئے ہاتھوں میں تھا۔

                ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں یہ باتیں کوند سی گئیں کہ کاش یہ کُتے کا رنگین پٹہ میری گردن پہ لگا ہوتااور اس سے جُڑے ہوئے زنجیر کا دوسرا  سرا اُس خوبصورت سی لڑکی کے کیوٹ سے مہندی لگے ہاتھوں میں ہوتا۔

                یہ الگ سی بات ہے کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں بیوی کے پلوُسے بندھا  ہوا ہوں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حقیقت تو کچھ اور ہی ہے جس کی گہرائی تک پہنچ پانا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔

                لیکن اُس کُتے کو اُس خوبصورت سی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر میں بے چین ہو اُٹھا تھا۔اور یہ احساس میرے دل ودماغ پہ چھاسا گیا تھا جیسے کوئی لمحہ کسی انسان کی زندگی میں کتنا فرحت بخش ہوتا ہے اور کتنا پیارا لگنے لگتا ہے۔

                بیوی کے پلوُسے بندھے ہوئے شاید میں اب اُوب چُکا ہوں اور مجھے اب ایسے ہی پٹے کی تلاش ہے۔

                میں سوچ کی دُنیا میں گُم تھا کہ کُتے کے بھونکنے کی آواز نے میرے خیالات کا سلسلہ منتشر کر دیا۔

                وہ خوبصورت سی لڑکی جس کے کیوٹ سے مہندی لگے ہاتھوں میں کُتے کی زنجیر تھی کُتا اُس میلی کچیلی کُتیا کی طرف متوجہ تھا۔اور بے چین ہو ہو کرٹانگ اُٹھا اُٹھا کر وقتاََ فوقتاََ پیشاب کر رہا تھا۔

                کُتے نے جب زنجیر کو جھٹکا دیا اور اُس میلی کُچیلی کُتیا کی طرف جانے لگا تو اُس خوبصورت سی لڑکی نے مزید اُس زنجیر کو اپنی طرف کھینچ لیااور بڑبڑانے لگی……

                جیسے وہ اُس کُتے سے کہہ رہی ہو کہ جب تمہارے سامنے ایک خوبصورت سی کُتیا پہلے سے ہی موجود ہے تو کیوں اُس میلی کچیلی کُتیا کی طرف دیکھ رہے ہو۔

                تم نے دیکھا نہیں مُحلے کے اُن آوارہ کُتوں کو جو  اس میلی کُچیلی کُتیا کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور کُتیا ہمیشہ اپنی دُم دبائے  رہتی ہے۔

                حالات کے زیر اثر میں بھی اُس خوبصورت سی ماڈرن لڑکی کے بالکل قریب آگیا تھا اور اتنا قریب کہ میں اُس کی آوازیں صاف سُن سکتا تھا۔ جب اُس خوبصورت سی ماڈرن لڑکی کی نظر مجھ پہ پڑی تو وہ اپنے کُتے سے مخاطب ہو کر اور بھی بولنے لگی تھی……

                ان دنوں میں یہ دیکھ رہی ہوں جب سے تم انسانوں کی اس بھیڑ میں آنے لگے ہو تمہاری عادتیں بھی ان انسانوں جیسی ہونے لگی ہیں۔اور پھر اُس نے اُس خوبصورت کُتے کو اپنی گود میں اُٹھا لیااور بے تحاشا اُسے چومنے لگی ایسا کرتے وقت میں اُس لڑکی کے بے حد قریب تھا۔

                کُتے کو اس طرح بے تحاشا چومنے کا احساس میں اپنے گالوں پہ محسوس کر رہا تھا……

              اور دور کھڑی وہ میلی کُچیلی کُتیا بھونک بھونک کر نہ جانے کس جذبے کا اظہار کر رہی تھی۔ اور میں یہ سوچنے پہ مجبور تھا کہ لڑکی کا اس طرح اُس کُتے کو گود میں اُٹھا

لینا اور اُس کے چہرے کو اس طرح سے چُومنا محلے کی اس میلی کُچیلی کُتیا کو بھی بُرا لگ رہا تھا۔اس لئے وہ بھونک بھونک کر احتجاج کر رہی تھی۔

                وہ میلی کُچیلی سی کُتیا مسلسل بھونکتی رہی………اور وہ خوبصورت سی لڑکی اپنے کُتے کو اپنی گُود میں اُٹھائے اپنی ایمپورٹڈ کار کی طرٖف لوٹ رہی تھی….جو پہلے سے ہی پارک کے مین گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔

وہ خوبصورت سی لڑکی ابھی کار تک پہنچی بھی نہیں تھی کہ کار کے ڈرائیور نے دروازہ کھول دیا تھا۔وہ خوبصورت سی لڑکی کار کی پچھلی سیٹ پہ جا  دھنسی تھی۔ وہ خوبصورت سا کُتا اب بھی اُس کی گودمیں تھا جسے وہ اور بھی زور سے دبوچے ہوئے تھی اور سرگوشیاں کر رہی تھی اُس کے ساتھ ہی کار کا دروازہ ڈرائیور نے بند کر دیا تھا جس پہ کالا شیشہ چڑھا ہوا تھا اور دبیز پردہ بھی جُھول رہا تھا…….

                اور میری جواں آنکھوں میں وہ قوت کہاں تھی کہ میں کالے شیشے اور دبیز پردے کے اُس پار کے منظر کو اپنی جواں آنکھوں میں قید کر سکوں، لیکن میری سوچ کی دشاؤں کا رُخ کچھ اور ہی تھا۔  اور میری سوچ  میرے اندر کسی گوشے میں جذب ہو کر نئی بے شمار کہانیوں کو جنم دے رہی تھی۔ کہانیاں تو اسی سماج کی پیداوار ہیں اسی معاشرے سے اس کا وجود ہوتا ہے۔ کہانی کار بھلا کیا کر سکتا ہے۔

                .میں کافی دور تک اُسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا……

                کُتیا کے بھونکنے کی آوازیں اب بھی میری سماعت سے ٹکرا رہی تھیں……..

                میں بھی اپنے کمرے میں لوٹ آیا تھا۔

             اُس رات میں سو نہیں سکا  بلکہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا اور یہی سوچتا رہا کہ کاش میں بیوی کے پلوسے نہ بندھا ہوتا…….

                یہاں آئے ہوئے مجھے تقریباً سات یا آ ٹھ روز ہوگئے تھے۔ ان سات آٹھ دنوں میں وہ خوبصورت سی لڑکی مجھ سے کافی گُھل مل گئی تھی ۔ دو چار ملاقاتوں میں ہی مجھے اس بات کا احساس ہونے لگا تھا کہ وہ لڑکی کافی ماڈرن ہے اور نیلم نام سن کر میں یہی سوچ سکا کہ اس حسین لڑکی کا اتنا ہی حسین نام ہونا چاہئے تھا۔

 

                نیلم کی ایمپورٹڈ چمچماتی گاڑی…….صبح وشام نئے نئے ڈیزائین کے مغربی لباس….. جونیلم کے دلکش وجودکے مخصوص حصوں کو چُھپانے کی کوشش میں مصروف مگر ناکام رہتے تھے……اُس کے وجودسے اُٹھتی  ہُوئی تیز پرفیوم کی خوشبوئیں….. پنسل ہل کے استعمال کی وجہ سے اُس کے جسم کے نشیب و فراز کی تھرکنیں…….

                 نہ جانے کیوں میں اُس کی طرف کھنچتا چلا گیا…….یا پھر اس کی کشش مجھے خودبخود اس کے سحر میں مبتلا کرنے لگی تھی۔

                لیکن یہاں آتے وقت بیوی کی کہی ہوئی وہ ساری باتیں مجھے یاد آتی رہیں….

                آپ جا تو رہے ہیں،لیکن اپنا خیال رکھیں گے۔کہیں ا دھر اُدھر آنا جانا نہیں کریں گے۔کالج جائیں گے اور اپنے کمرے میں واپس لوٹ آئیں گے۔اپنی نگاہوں کو جُھکائے رکھیں گے۔جب بھی کوئی لڑکی آپ کو اپنی طرف متوجہ کرے آپ پہلے ہی کہہ دیں گے کہ میں شادی شدہ ہوں،ایک خوبصورت سی بیوی ہے جو مجھ سے بے انتہا پیار کرتی ہے جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور تم سے بھی زیادہ خوبصورت اور حسین ہے اور وہ میرا بہت زیادہ خیال رکھتی ہے۔بس آپ اتنا کہہ دیں گے وہ یقینا آپ سے دور رہنے لگے گی پھر دوبارہ آپ کے قریب بھی نہیں آئے گی۔

                میں نے ایسا ہی کیا….

                میری  بیوی کی کہی ہوئی ساری باتیں نیلم بغور سُنتی رہی اور آخر میں اُس نے سرد آہ بھر کر کہا۔”کہ تم اب بھی بیوی کے پلو سے بندھے ہوئے ہو۔“

                               

                ”کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ میں بھی تمہیں اپنے پلو سے باندھ لوں۔“

                ”چاہتا توہوں ِِ،لیکن…….“

                ”لیکن کیا؟ “

                ”مجھے تمہارے کُتے سے بہت ڈر لگتا ہے۔“

                ”اگر ایسا ہے تو لو تمہاری خاطرمیں اس کُتے کو آزاد کرتی ہوں۔“یہ کہتے ہوئے نیلم نے کُتے کا رنگین پٹہ اُس کی گردن سے کھول دیا۔

                کُتا نہ جانے کہاں انسانوں کی اس بھیڑ میں گُم ہو گیا…… جہاں انسان اس پوری بھیڑ میں اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے بھیڑ موجود ہے لیکن اُس کا چہرہ……. گردنوں کے اوپر جانوروں کے خوفناک چہرے ٹکائے لوگ ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

                 لیکن میں خوش تھابہت خوش تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب میں اپنا مقام بنا لوں گا۔

                ”چلو اب گھر چلتی ہوں۔“

                ”کہاں؟ “

               ”وہ دیکھو وہ سامنے جو خوبصورت سی حویلی ہے، وہ میری ہے۔پاپا ان دنوں ممی کے علاج کے لئے امریکہ گئے ہوئے ہیں۔ بڑے بھائی لندن میں پڑھتے ہیں۔اور میں بالکل تنہا ہوں۔ ویسے میری حویلی میں ڈھیر سارے نوکر چاکر ہیں لیکن پھر بھی میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتی ہوں، کاش کہ تم میرے جذبات و احساسات کو سمجھ پاتے…..“

                میں نے دل ہی دل میں کہا کاش کہ تم بھی میرے جذبات واحساسات کو سمجھ پاتیں۔

             ”لیکن نیلم میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں شادی شدہ  ہوں اور ایگزام کے سلسلے میں تمہارے شہر میں کُچھ دنوں کے لئے آیا ہوا ہوں…..“

                یہ تو او ر بھی اچھی بات ہے کہ تم شادی شدہ ہو مجھے بھی تم سے بہت کُچھ سیکھنے کو مل جائے گا اور رہی ایگزام کی بات تو وہ تم مجھ پہ چھوڑ دو،  بس تم اتنا کرو،  میرے کورے وجودمیں اپنے نفس کے قلم کی ساری رنگینیاں اُنڈیل دو جس کے جرثومے میرے وجود میں سرایت کر کے ایک نیاطوفان اُٹھا دیں گے اور تم پاس ہو جاؤ گے۔ 

                  اور پھرنیلم کے مہندی لگے خوبصورت ہاتھوں نے کُتے کا وہ رنگین پٹہ میر ی گردن میں ڈال دیا تھا،اور میں خوش تھا بہت خوش تھا جیسے میرے خیالات کی تکمیل ہو رہی ہو،جیسے میرے خواب حقیقت کا کفن اُوڑھ رہے ہوں…

                لیکن میں یہ اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ خواب کبھی حقیقت کا کفن نہیں اُوڑھتے اور زندگی بے لباس ہو جاتی ہے۔

                نیلم باتوں ہی باتوں میں مجھے اپنی حویلی کے باہروسیع اور عریض لان تک لے آئی تھی۔

                 حویلی کے مین گیٹ پہ جلی حروف میں لکھا تھا۔ (BEWARE  OF  DOG)               

                ایک لمحے کے لئے میں چونکا اور خوف سے تھرّا گیا لیکن جب میری نگاہ میری ہی گردن  پہ جُھولتے ہوئے  رنگین پٹے پہ پڑی تو فوراََ سنبھل بھی گیا اور فخر محسوس کرنے لگا کہ کُتے کا رنگین پٹہ تو میری گردن میں جُھول رہا ہے تو پھر کس کُتے کا ڈر،سامنے آویزاں قدآدم میرر  پر جب میری نگا ہ پڑی میں خود کو پہچاننے سے قاصر تھا۔میری گردن کے اوپر میرا چہرہ گولڈن بالوں والے  کُتے کی شکل میں تبدیل ہو چُکا تھااور میری گردن میں رنگین پٹہ جُھول رہا تھا اور میں مسکرا رہا تھااور میری پُشت پہ نیلم بھی مسکرا رہی تھی۔                                       

             سفید بالوں والے اُس کُتے کو نیلم نے اُس وقت ہی آزاد کر دیا تھا جب وہ پہلی بارمیری شخصیت سے متاثر ہوئی تھی اور پھر میری سُرخ ہوتی ہوئی آنکھوں میں خوشیوں کے سانپ ناچنے لگے تھے…….

                حویلی میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔ مالی پھولوں کی کیاریوں کی آبپاشی کر رہا تھا حویلی کے سارے نوکر چاکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔کسی کا بھی دھیان میری طرف نہیں تھا،جیسے میرا یہاں آنا کوئی نئی بات نہیں ہو۔

                ”اب اندر آؤ گے بھی یا  وہیں کھڑے کھڑے لوٹ جاؤ گے۔“

                نیلم مجھے حویلی میں لے آئی تھی۔

              شام  ڈھلنے لگی تھی۔اور سورج کی لالی نیلم کی آنکھوں میں اُتر آئی تھی،اُس کی آنکھیں سُرخ ہونے لگی تھیں، جیسے وہ نشے کی عادی ہو۔جب وہ کمرے میں دوبارہ واپس لوٹی تو حویلی کا نوکر اُس کی  پُشت پہ موجود تھا اُس کے ہاتھوں میں خوبصورت سے ٹرے میں رنگین مشروب کے دو گلاس سجے ہوئے تھے  اُسی ٹرے میں ایک مرغ مسلم کچھ اس انداز سے سجا یا گیا تھا کہ مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے نیلم مکمل  برہنہ بستر پہ دراز ہے اور ا س کی دونوں ٹانگیں اوپر اُٹھی ہوئی ہیں۔ نوکر ٹرے سینٹر ٹیبل پہ رکھ کر جا چُکا تھا۔ نیلم نے ایک گلاس میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا آج کی شام تمہارے نام۔

                اوردوسرے گلاس کا وہ رنگین مشروب اُس نے  ایک ہی سانس میں اپنے اندراُتار لیا۔ اندرون میں اُترتا ہوا  رنگین مشروب اُس کی آنکھوں میں چڑھنے لگا تھا  اور آنکھیں اور بھی سُرخ ہونے لگی تھیں اور اُس کے ساتھ ہی  اُس کی آنکھیں کافی نشیلی ہو گئی تھیں۔ مغربی لباس جو پہلے سے ہی اُس کے خوبصورت جسم کے نشیب و

فراز کوعیاں کر رہے تھے شراب کے نشے نے اُسے اور بھی دوبالا کر دیا

تھا

۔                O MAN WHAT ARE YOU THINKING.DRINK  IT          

                ”میں…… میں شراب نہیں پیتا “  

                شراب نہیں پییو گے تو شباب کا مزہ کیسے لو گے۔ اتنا کہتے ہوئے نیلم میرے بالکل قریب آ گئی تھی، اتنا قریب کہ میں اُس کی گرم ہوتی ہوئی سانسوں کو اپنے چہرے پہ محسوس کر رہا تھا۔ پھر میری سانسیں نیلم کی گرم ہوتی ہوئی سانسوں میں گُڈ مُڈ ہونے لگی تھیں۔ شراب کا گلاس اب بھی میرے ہاتھ میں تھا اُس کے خوبصورت جسم سے اُٹھتی ہوئی تیز پر فیوم کی خوشبومجھے  مد ہوش کئے جارہی تھی کہ اچانک کُتے کے غُرانے اور بھونکنے کی ملی جُلی آواز نے مجھے ہوش میں لا دیا، کُتے کی بھونکنے کی مسلسل آوازیں میرے کانوں میں بازگشت بن کر گونجنے لگیں میرے ہاتھ سے شراب کا گلاس چُھوٹ کر فرش پہ جاگرا اور ٹوٹ کر  چُور چُورہو گیا جیسے میرے خواب ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئے ہوں، بکھربکھر گئے ہوں۔ 

                 میں کافی گھبرا گیا تھا۔

                پھراچانک وہ منظر مجھے پاگل کر دینے کے لئے کافی تھا وہ سفید بالوں والا کُتا کافی غُصیلے انداز میں ہم دونوں کی طرف غُراتا ہوا دیکھ رہا تھا اور زور زور سے بھونک بھی رہا تھا۔اُس کے جبڑے سے رال ٹپک رہا تھا۔

                دفعتاَ وہ جھپٹا اور نیلم کے خوبصورت جسم کو بھنبھوڑنے لگا۔ نیلم کی چیخیں پوری حویلی میں گونجنے لگیں۔سارے نوکر چاکر دوڑکر اکٹھاہوگئے تھے ۔

                کُتا اب میری طرف دیکھ کر بھونک رہا تھا۔اور میں نوکروں کی بھیڑمیں گُم ہوجانے کی کوشش میں سرگرداں تھا  لیکن میری گردن کے اوپر میرا چہرہ گولڈن بالوں والے کُتے کی شکل میں تبدیل ہو چُکا تھا اور انسانوں کی اس بھیڑ میں،میں اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔ کُتا اب بھی بھونک رہا تھا۔

                اُسے اس طرح بھونکتا دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ وہ کہہ رہا ہو کہ جب میں پہلے سے یہاں موجود ہوں تو تمہیں آنے کی ضرورت کیا تھی۔

                ایک لمحے کے لئے خاموش رہ کر کُتا اچانک زور سے بھونکا میں گھبرا گیا۔اسی گھبراہٹ میں میری گردن پہ پڑا ہوا پٹہ فرش پہ جا گرا۔کُتے نے اُس پٹے کو اپنے جبڑے میں دبا کر نیلم کے زخمی ہاتھوں پہ رکھ دیا اور اُس کی گود میں سر رکھ کر کُوں کُوں کرنے لگا۔

 

مہتاب عالم پرویزؔ

(کویت)