بھرم : ناصر ملک
بھرم
ناصر ملک
"بابا!رات ہو گئی ہے اور پانی بہت چڑھ آیا ہے۔ کسی بھی وقت مکان ٹھاہ ٹھاہ گرنے لگیں گے۔ کچھ کر۔” "کیا کروں؟ وہی جو تم سب گائوں والے کہتے ہو؟نہیں۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔ ” "کیا ہم سب کو مارنے کا اِرادہ ہے تیرا؟ ” "تو کیا میں تم لوگوں کو پچھلا بند توڑنے کی اجازت دے دوں؟دنیا کیا کہے گی کہ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میں نے فریدن کو لوڑھ دیا؟ نہیں گودا! بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔” "ہاں بابا! ورنہ سارا گائوں ڈھیہہ جائے گا۔” "اور بے چارے فریدن اور اس کے خاندان کا کیا بنے گا جو بند کے سامنے بیٹھے ہیں؟ وہ چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ مال ڈنگر لے کر نکل بھی نہیں سکتے۔ بند توڑا تو پانی کا ریلا ان کو آنکھ جھپکتے میں بہا لے جائے گا۔” "بابا! اپنے سالے کی خیر نہ مانگ، اپنے گھر اور گائوں کا بھلا سوچ۔پورا گائوں باتیں بنا رہا ہے۔ تیرے خلاف بولتا نہیں اور تو الٹے سیدھے حکم چلاتا رہتا ہے۔” "نہیں! کوئی اور حل سوچو تم لوگ۔ پچھلا بند میرے جیتے جی نہیں توڑا جائے گا۔” وہ پھنکارتا ہوا چلا گیا۔ اس کے ساتھ آئے ہوئے سبھی رخصت ہو گئے۔ بابا پلٹا اور گھر داخل ہوا۔ ڈیوڑھی میں اس کی بیوی منتظر تھی۔ اس کی آنکھوں میں اپنے تاجدار کیلئے فخر اور ستائش بھری ہوئی تھی۔ "ہاہ! اب میں گائوں والوں کے پیچھے لگ کر فریدن کا گھر ڈھاہ دوں؟بھائیوں کا بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔” اس نے گردن اکڑا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور تیز تیز قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔ گائوں والے رات بھر جاگتے رہے مگر ان کی توقع کے مطابق پانی گائوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ خوشی آمیز تعجب آنکھوں میں لیے فجرکے نمازیوں نے گائوں کی نم گلیوں کو اخیر تک دیکھا۔ پانی گائوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ گائوں والے اپنا گائوں سنبھال رہے تھے جبکہ بابا پچھلے بند کی طرف منہ کیے مغموم کھڑا تھا۔ اس کے تھکے چہرے کی جھریوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اس چوری کا کھرا بھی موجود تھا جو اس نے رات کے پچھلے پہر کی تھی۔ رات کو چوروں کی طرح بند پر کسی چلاتے ہوئے اس کے کانوں میں بپھرے ہوئے پانی کا غیظ ناک شور بھر گیا تھا جبکہ اب ا س کے کانوں میں اس کی اپنی ہی آواز گونج رہی تھی، "فریدن! میکوں معاف کر چھوڑیں۔۔۔۔”
ڈاکٹراسلم جمشید پوری: عید گاہ سے وا پسی
ڈاکٹراسلم جمشید پوریؔ
عید گاہ سے وا پسی
پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب کو بے کا ر کر دیا تھا۔ گھر آ نے پر اس کی دادی پہلے اس سے نا راض ہو ئی تھیں او ر پھر اُ سے گلے لگا کرخوب پیار کیا اور دعائیں دی تھیں۔ اس کے وا لدین کو بچپن ہی میں اللہ میاں نے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اُ سے ان کی صورتیں بھی یا د نہیں تھیں۔ بعد میں دادی نے اُسے غریبی، مجبو ری، بے بسی اور لا چا ری کے لقمے کھلا کھلا کر پا لا تھا۔ اس کا بچپن دو سرے بچوں سے مختلف تھا۔ دو نوں دا دی پو تے ایک دو سرے کی کا ئنات تھے۔ اُ سے وہ دن بھی یا د تھا جب قیا مت صغریٰ نے اُسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ایک رات جب وہ سو رہا تھا۔بہت تیز آ ندھی آ ئی تھی۔ ہوا اور پانی نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔بہت سے پیڑ، پھوس کی چھتیں، کچی دیواریں اور جھونپڑے زمین سے اپنا رشتہ ختم کر چکے تھے۔ ایسے میں اس کی دادی جو گھر کے اسارے میں محو خواب تھیں، چھان گرنے سے دب کر اپنے بچوں کے پاس چلی گئی تھیں۔وہ دادی دادی کرتا رو تا رہ گیا تھا۔ گاؤں کے ہی لوگوں نے دفن وغیرہ کا انتظام کیا تھا۔ وہ تقریباً پندرہ سال کا تھا۔ اس کا حال ایسا تھا گویا زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ گیا ہو۔ اس کا اس بھری پری دنیا میں دادی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ ان کے جانے کے بعد پڑوس کے بابا سکھ دیو نے اس کی ہمت بندھا ئی تھی۔ وہ اُ سے اپنے گھر لے گئے اور اُ سے اپنے بچے کی طرح پالا پوسا۔ گا ؤں کے اسکول سے پانچویں تک پڑھنے کے بعد اُس نے پاس کے ایک چینی مل میں مزدوری کا کام شروع کردیاتھا۔
”بابا……بابا…..مجھے بیلون لینوہے“
اس کے آ ٹھ سا لہ پو تے سا جد نے ایک غبارے وا لے کو دیکھ کر اسے ہا تھ پکڑ کر جھنجھو ڑا تو وہ ماضی کے صحرا میں چلتے چلتے اچانک رک گیا تھا، ماضی کے وا قعات بھی چھلاوے کی طرح غائب ہو گئے تھے۔ وہ اپنے اکلوتے پو تے کے ساتھ عید گاہ جارہا تھا۔ عیدیں تو ہر سال آ تی رہتی ہیں او ر ہر سال وہ عید کی نماز ادا کرتا تھا لیکن اس با ر وہ اپنے پو تے کے ساتھ پہلی دفعہ عید گاہ جا رہا تھا۔
”بیٹا ابھی نہیں، واپسی پر لن گے۔ابھی نماز کو جا رئے ہیں۔“
اس کے گا ؤں سے عید گاہ تقریباً 5کلو میٹر دورتھی۔ اس کا اپنا گا ؤں ہندو اکثریتی گا ؤں تھاوہاں مسجد نہیں تھی،پاس کے گا ؤں میں مسجد تھی۔ اکثر مسلمان جمعہ اور عید۔ بقر عید کی نما زوں کے لیے وہیں چلے جاتے تھے۔ حا مد کو عید گاہ میں ہی عید کی نماز پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ لیکن کبھی موسم کی خرا بی، کبھی وقت کی تنگی اور کبھی کام کی فرا وا نی کے باعث وہ ہر سال عید گاہ نہیں جا پاتا تھا۔ اس بار وہ کافی عرصے بعد عید گاہ کے لیے اپنے پو تے سا جد کے ہمراہ نکلا تھا۔ گا ؤں سے نماز کے لیے ایک ٹو لہ روانہ ہوا۔کچھ نو جوان اسکو ٹر اور بائک سے نکلے تھے۔ کچھ پیدل ہی چل رہے تھے۔ کتنی خو شی اور رو نق تھی ان کے چہروں پر۔وا قعی عید اللہ کا انعام ہے۔ ایک ماہ کے رو زے رکھنے کے بعد،عید کی خو شی کا عا لم ہی کچھ اور ہو تا ہے۔اللہ مسلمانوں کی محنت، صبر، لگن اور للہیت کے بدلے عید کے دن ان کے گناہ بخش دیتا ہے۔ میاں حا مد نے رمضان کے پو رے رو زے رکھے تھے۔گھر میں اس کی بہو بھی رو زے کی پابندی کرتی تھی۔ ایک پوتا اور ایک پو تی……بس یہی کائنات تھی اس کی۔بیٹا واحد …..گذشتہ دنوں ہونے وا لے ہندو مسلم فساد کی نذر ہو گیا تھا۔ بیٹے کی یاد آ تے ہی اچانک ذہن کے سا توں طبق رو شن ہو گئے۔ چار سال قبل،پس منظر کا حصہ بن چکے منا ظر، یکے بعد دیگرے نظروں کے سا منے آ نے لگے۔
ملک پر بڑا برا دن آ یا تھا۔ سرخ آ ندھی اس بار شہروں سے اُ ٹھی تھی جوشہروں، شہروں قصبات اور دیہات میں پھیل گئی تھی۔ ہندو مسلم منافرت…..ایک دوسرے کے خون کے پیا سے لوگ……عبا دت گا ہوں کو مسمار کر نے کا جنون……کیا عبادت گاہوں کی مسماری سے کوئی قوم ختم ہو جاتی ہے؟یہ وہی ہندو مسلم تھے
جنہوں نے شا نے سے شا نہ ملا کر ملک کو آزاد کرایا تھا۔ آج کیا ہو گیا ہے ان کو؟کیوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہیں۔ واحد بے چارہ ان حالات سے بے خبر تھا،اس نے تو گاؤں میں آ نکھ کھو لی تو اپنے باباسکھ دیو، چاچا بلدیو اور اپنے ہم عمر دوست رام اور کنور پال کو دیکھا تھا۔ وہ تو انہیں کے درمیان کھیلتا ہو ا بڑا ہوا تھا۔ پاس کے ہی شہر میں وہ ایک بیکری میں مزدوری کا کام کرتا تھا۔ اس کی تنخواہ اور گا ؤں کی محنت مزدوری سے میاں حامد کسی طرح گھر چلا رہے تھے۔ شہر میں آ نے وا لی سرخ آندھی نے بڑی تبا ہیاں مچا ئی تھیں۔ واحد بھی اس سرخ آ ندھی کی زد میں آگیا تھا۔اسے اس کے ہی سا تھیوں نے سرخ آندھی میں جھونک دیا تھا۔ غضب تو اس وقت ہوا جب وا حد کی لاش گا ؤں پہنچی۔
” حامد……او حامد….واحد کی لاش ….آئی ہے“بلدیو نے میاں حا مد کو خبر دی تو اُسے جیسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ یا۔وہ بلدیو کو پکڑ کر چلا یا۔
”کیوں مجاق کرو ہو۔“
ابھی وہ بلدیو کے کا ندھوں کو پکڑ کر ہلا ہی رہا تھا کہ ایک گا ڑی دروا زے پر رکی۔ گاڑی کا دروا زہ کھلا اور اسٹریچر پر وا حد کی لا ش لیے دو لوگ اندر داخل ہو ئے۔ لاش کو چارپائی پر لٹا کر الٹے قدموں لوٹ گئے۔ کسی میں ان سے وا حد کی موت کے با رے میں پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔سا رے گا ؤں وا لوں کے سر جھکے ہو ئے تھے۔ ایک ایک کر کے سب کو پتہ چل گیا تھا کہ وا حد کو شہر میں اس کے سا تھی مزدوروں نے مار دیاتھا۔ گا ؤں کے ہندو، خود کو وا حد کا قاتل محسوس کررہے تھے۔ میاں حا مد کی حا لت عجیب تھی،ان پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ آواز بند ہو گئی تھی۔ وہ لاش کو ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے تھے۔گویا انہیں امید ہو کہ واحد اب اٹھا اور تب اٹھا۔اور اٹھتے ہی بابا کہتا ہواان سے لپٹ جائے گا۔اچانک بہت زور سے چیختے ہوئے میاں حامد زمین پر بے سدھ گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔واحد کی بیوی شکیلہ پر بھی بے ہوشی کے دور ے پڑ رہے تھے۔ ساجد اور نازو اپنی ماں کے بے ہوش جسم سے لپٹے رو رہے تھے۔بلدیو اور گاؤں کے پردھان ٹھاکر امر پال نے تدفین کا انتظام کیا۔ واحد کے جانے کے بعد سے میاں حامد کی حالت اس بوڑھے کی سی ہوگئی تھی جو لاغر ہو، کمر جھکی ہو اور اس کی لاٹھی اس سے چھین لی گئی ہو۔میاں حامد نے بچپن سے ہی بڑے نازک حالات دیکھے تھے۔قحط پڑتا تھا تو کھانے کے لالے پڑجاتے۔مٹر، باجرہ، بے جھڑ اور جو کی روٹیاں بھی دن میں ایک وقت مل جاتیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔گھر، گھرکیا تھا۔ بس ایک کمرہ اور اسارا تھا۔کھیتی کی زمین نہیں تھی۔اس کے باپ داد انے بھی دوسروں کے یہاں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالا تھا اور ایک چھوٹا سا گھر بنالیا تھا۔شروع میں باباسکھ دیو کے گھر سے ہی اسے وقت بے وقت کھانا ملتا تھا بعد میں اس نے خود بھی کھانا بنا نا شروع کردیا تھا۔
”بابا……او بابا…..وہ تتلی پکڑدونا ……….کتی اچھی ہے وہ“
ساجد کی آواز نے ایک بار پھر انہیں سوچ نگر کی گلیوں سے حقیقت آباد کے کچے راستوں پر لادیا تھا۔اس کا پوتا ایک تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔تتلی کبھی ادھر کبھی ادھرجاتی، لیکن ساجد کے پہنچتے ہی اڑجاتی۔ انہیں ایک پل کو لگا جیسے تتلی ان کی خوشی ہو، جو ہمیشہ اس سے آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے۔لمحہ بھر کو لگتا کہ اب ہاتھ آئی …..اب آئی۔ لیکن پھِر پھُرسے اڑجاتی۔ بے چارے ساجد کو کیا پتہ کہ یہ تتلی ہماری قسمت میں نہیں؟ہماری قسمت میں تو ہمیشہ کے دکھ ہیں جو سردی کی راتوں جیسے طویل ہوتے ہیں۔
”ساجد بیٹے۔نا۔تتلی کے پیچھے نا بھاگو۔گرپڑوگے۔کپڑے کھراب ہوجاون گے۔“
کپڑے،کپڑے تو ساجد نے پہنے تھے مگر نئے نہیں تھے۔جبکہ ساجد نے پچھلے ہفتے ضد کی تھی۔
”بابا مجھے بھی نئے کپڑے سلواؤ نا،میں بھی حشمت کی طرح نئے کپڑوں میں عیدگاہ جاؤں گا۔“
”اچھا بیٹا…لادن گے۔“ بوڑھے حامد میاں نے مجبوراً کہا۔
اور انہوں نے ساجد کو پرانے کپڑوں کے ڈھیر میں سے ٹھیک ٹھاک سے کپڑے لادیے تھے۔اتفاق سے چینی مل کے باہر پرانے سستے کپڑوں کا ایک ٹھیلہ عید کے سبب لگا تھا۔ اس نے سرخ رنگ کی شرٹ اور نیلی پینٹ لے جا کر بہو کو دیے۔
ساجد کو ماں اور دادا نے بہکالیا تھا۔چھوٹی نازو کی طبیعت خراب تھی اسے ماتا نکل آئی تھی۔ وہ بہت کمزور ہوگئی تھی۔ہر وقت روتی رہتی۔مکھیاں اسے پریشان کرتیں۔حامد مکھیوں کو دیکھ کر کئی بار سوچتا۔”اللہ نے مکھیاں کیوں پیدا کی ہیں۔ یہ تو سب کو پریشان ہی کرتی ہیں۔“پر پھر خود ہی دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا کہ اللہ نے ہر چیز سوچ سمجھ کر ہی پیدا کی ہے۔
عید سے دو دن پہلے گاؤں کے حاجی لطیف ان کے پاس آئے تھے اور زکوٰۃ کے پانچ سو روپے دے گئے تھے۔انہوں نے کچھ پیسوں سے گھر کی ضروریات کو پورا کیا تھا۔ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ نازو کی بیماری اور گھر کے خرچے میں لگ جاتا تھا۔عید کے لیے پیسے کہاں سے آتے۔زکوٰۃ کے پیسوں سے انہیں کچھ راحت ملی تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ اب کی عید پر وہ ساجد کو ریموٹ سے چلنے والی کار اور نازو کو پلک جھپکنے والی گڑیا خرید کر لا ئیں گے۔بہو جو جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھی‘ کے لیے ایک سوٹ لائیں گے۔عید گاہ جانے سے پہلے انہوں نے نہا کر اپنے پرانے دھلے کپڑے پہنے۔پھر ساجد کو تیار کیا۔ساجد کی ماں اسے عید گاہ بھیجنے کو تیار نہ تھی۔لیکن ساجد کی ضد اور میاں حامد کی مرضی کے آگے وہ مجبور ہوگئی تھی۔شوہر کی موت کے بعد اسے تو ہر وقت خدشہ لگا رہتا تھا کہیں اس کے بیٹے کو کچھ نہ ہوجائے۔گاؤں کے لوگ ساجد کو بہت پیار کرتے تھے،وہ تھا ہی بہت پیارا۔عید گاہ چلنے سے پہلے انہوں نے سویّاں کھائیں۔پھر ایک ایک روپیہ سب کو عیدی کے دیے۔انہوں نے بلدیو کے بچوں کو بھی عیدی دی تھی۔وہ ہر سال ان کے بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے۔ساجد نے اپنے اور نازو کے روپے اپنی جیب میں رکھ لیے تھے۔گاؤں کے دس بارہ بڑے بوڑھوں، بچوں پر مشتمل یہ ٹولہ سفید کرتا پأجا مے میں ملبوس سرپر ٹوپیاں لگائے عید گاہ کے لیے نکلاتھا۔عید گاہ تک جانے کے لیے تین گاؤں کو پار کرنا پڑتا تھا۔سردیوں کا زمانہ تھا۔راستے کے دونوں جانب ہری فصلیں لہلہارہی تھیں۔گیہوں کے کھیتوں پر شباب تھا۔ دور دور تک ہرے بھرے گیہوں کے کھیت نظروں کو فرحت بخش رہے تھے۔سرسوں پھول رہی تھی۔ہرے اور پیلے رنگ نے زمین کو اس کنواری دوشیزہ سا بنا دیا تھا جس نے سبز رنگ کے کپڑوں پر پیلا دوپٹہ اوڑھ رکھا ہو، اور قدرت زمین کے ہاتھ پیلے کرنے کی تیاری کر رہی ہو۔بَٹیا کے دونوں جانب فصلوں کی مہک دیوانہ بنا رہی تھی۔ کہیں مٹر کے سفید اور جامنی پھول، کہیں ایکھ کے کھیت۔ گاؤں میں ایک آدھ کولہو بھی نظر آجاتا۔کو لہو سے گڑ کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی۔ویسے اب زیادہ تر کسان شوگر ملوں میں ہی گنا ڈالتے تھے اور نقد روپے لے آتے۔اب گاؤں میں بھی بہت کچھ بدل گیا تھا۔گاؤں کی نئی نسل کے بچے جب سے پڑھ لکھ گئے تھے اور کچھ نے باہر سروس شروع کردی تھی گاؤں کا ماحول تبدیل ہونے لگا تھا۔اب وہ پہلے جیسی بے لوث محبت نہیں رہی تھی۔پہلے گاؤں کے کسی ایک شخص کا داماد سارے گاؤں کا داماد ہوتا تھا۔اس کی اتنی خاطر کی جاتی کہ وہ خاطر مدارات میں ڈوب جا تا۔ہندو مسلم شیروشکر کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہونا، ایک دوسرے کے کام کروانا۔ چھان اٹھوانا، ایکھ بُوانا، شادی بیاہ میں ہاتھ بٹاناان کا معمول تھا۔
”میاں حامد…. میاں ….تنک سستائے لیو ….رس پیو۔گرم گڑ کھالیؤ۔“
مُراد پور گاؤں کے کولہو والے بزرگ چاچا ایشور نے عید گاہ جاتے قافلے کو روک لیا تھا۔مُراد پور کے گاؤں کے مسلم بھی عید گاہ جانے کو تیار تھے۔ جلد ی جلدی قافلے کی خاطر کی گئی۔قافلہ پھر آگے بڑھ گیا۔ حامد کو اطمینان ہوا کہ چلو ابھی بڑے بوڑھوں میں کم از کم اتنی محبت اور خلوص تو باقی ہے۔قافلہ اب پکی سڑک پر آگیا تھا۔
میاں حامد نے اپنے پوتے ساجد کو کندھے پر بٹھا لیا تھا۔قافلہ پکی سڑک کی ایک جانب قطار بنا کر چل رہا تھا۔ اچانک ایک تیز رفتار بس قافلے کے نزدیک سے گذری۔ سب لوگ جلدی سے ایک طرف کو نہ ہو گئے ہوتے تو معاملہ خراب ہوسکتا تھا۔
”ابے اے کٹوؤ!کاں جارئے او ………؟“
موٹر سائیکل پر سوار تین کم عمر اوباش قسم کے نوجوان، زور سے چلّا تے ہوئے برق رفتاری سے گذر گئے۔ننھا ساجد چونک گیا۔
”بابایہ کا بول رئے تھے….؟“
”کچھ نا بیٹا …….یہ گندے بچے تھے ….. ….“
میاں حامد کے چہرے پر ناگوار ی کے تاثرات تھے۔زمانہ کتنا بدل گیا تھا۔ بڑے چھوٹوں کا امتیازہی نہ رہا۔ بیٹے،باپ کے سامنے بیٹھتے بھی نہیں تھے۔ میاں بیوی کسی کی موجود گی میں ساتھ بیٹھنے سے بھی کتراتے تھے۔ بہو،ساس سسر کا احترام کرتی تھی۔آج سب الٹ ہوتا جارہا ہے۔یہ سب فلموں اور فیشن سے ہوا تھا۔بچوں میں فلموں کا شوق دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔وہیں سے خرافات سیکھتے ہیں۔فیشن اللہ توبہ! لڑکیاں بھی پتلون پہننے لگی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بازو کی قمیضیں۔دوپٹا یا تو گلے میں پٹے کی صورت یا پھر ندارد۔گاؤں بھی تبدیل ہوگئے تھے۔کچے مکانوں کی جگہ پختہ اور بڑے مکان، موٹر سائیکلیں اور کاریں اب اکثر دکھائی دیتیں۔ پہلے کسی کے گھر کا ر ہوتی تو اسے بڑا رئیس مانا جاتا، لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے۔گاؤں کو شاہراہوں سے ملانے والی کچی سڑکیں کھڑنجے اورتار کول کی بننے لگی تھیں۔ علاقے میں فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے ۔
فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے۔ترقی اور تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسانیت ختم ہوتی جارہی تھی۔
”بابا عید گاہ کب آوے گی….؟“
”بس بیٹا ….وہ جو گام دکھ روہے نا ….بس وائی گام میں ہے….“
”بھئی جرا جلدی چلو….کہیں ایسا نہ ہو،نماز ہی چھوٹ جائے۔رمجان کی ساری محنت ہی مٹی میں مل جاوے گی۔“
میاں حامد نے قافلے کے بڑے، چھوٹوں، سب کو نصیحت کی۔اور سب جلدی جلدی قدم بڑھانے لگے۔کچھ ہی دیر میں وہ اسلام پورکی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ اسلام پورمسلم اکثریتی گاؤں تھا۔عید گاہ کے راستے پر دونوں طرف میلہ لگا تھا۔ساجد تو بے چین ہوا جارہا تھا۔کہیں جھولے والے آواز لگا رہے تھے۔کہیں غبارے دھاگوں سے بندھے آسمان کی سیر کو رسی تڑا رہے تھے۔گول گپے والے، چاٹ پکوڑی والے، دہی بڑے، بتاشے والے، مکا کی کھیلوں والے، آیس کریم والے، کھلونوں کی تو بہت سی دکانیں تھیں،کسی دکان پر ہر مال پانچ روپے، کسی پر ہر مال دس روپے کا بورڈ لگا تھا۔ساجد کی نظر یں چار وں طرف بکھری بازار کی رونق کو دیکھ کرہونق ہوئی جارہی تھیں وہ سب کچھ خرید لینا چاہتا تھا۔
”بھیا آجاؤ۔جلدی آؤ…..نماج کھڑی ہون والی ہے۔“
عید گاہ سے لوگ راستے میں آنے والوں کو پکار رہے تھے۔
قافلے نے لپک کر عید گاہ میں قدم رکھا۔ عید گاہ بہت بڑی نہیں تھی۔مغرب کی طرف مسجد جیسی عمارت کی تقریباً بیس فٹ اونچی دیوار تھی جس میں کنگورے کٹے ہوئے تھے دیوار کے آخری سروں پر دو بلند مینار تھے۔باقی دور تک خالی زمین جو سال میں دو نمازوں کے لیے اپنا دامن پھیلائے رہتی تھی۔عید میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔اسلام پور کے علاوہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی یہیں نماز پڑھنے آتے تھے۔میاں حامد بچپن سے اب تک نجانے کتنی بار عیدگاہ آئے تھے۔ نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے تو ایسا لگتا گویا فرشتے زمین پر اتر آئے ہوں۔نماز کے بعد اسلام پورکے لوگ آس پاس کے لوگوں کو بغیر کچھ کھائے پیئے واپس جانے نہ دیتے میاں حامد کے ساتھ کئی بار بلدیو چاچاکے بچے بھی آجاتے تھے۔مسلمان نماز پڑھتے اور وہ سب کے جوتے چپلوں کی رکھوالی کرتے بعد میں عید گاہ میلے سے میاں حامد ان کے لیے کچھ نہ کچھ تحفے ضرور خریدتے۔وہ سب اپنے بھائی ہی توتھے۔وہ سب میاں حامد سے چھوٹے تھے۔میاں حامد کو اچھی طرح یادتھاکہ ایک بار بلدیو چاچا نے اپنی ٹریکٹر ٹرالی نکالی تھی اور گاؤں کے سارے مسلمانوں کو بھرکر عید گاہ لائے تھے۔کتنا میل ملاپ تھالوگوں میں۔گاؤں میں امن و امان تھا۔گاؤں کے حالات سیاست سے بدلے تھے۔ اب گاؤں میں بھی سیاست بڑھنے لگی تھی، پردھان اور گاؤں کے امیر لوگ ایک دوسرے کی کاٹ میں لگے رہتے۔رات کو موٹر چور ی کرواتے، صبح کو ہمدردی جتانے پہنچ جاتے۔اور دو ایک دن بعد موٹر کہیں سے بر آمد ہوجاتی۔اسی طرح بیل اور بھینس بھی غائب ہوجاتیں۔انہیں اچانک دس سال قبل کا وہ واقعہ یاد آگیا جب اس نے ایک رات بابا سکھ دیوکی بھینس چراتے مکھیا کے بڑے لڑکے کو دیکھ لیا تھا۔
”چور ……چور……دیکھو بھینس چرا روئیہے۔ چاچا …اوبابا…..“
اس کی آواز پر بھینس کو بیچ میں چھوڑ کر چور فرار ہوگئے تھے۔مگر اس نے ایک چور کو پہچان لیا تھا۔اور غضب تو اس وقت ہوگیا جب اگلے دن پنچایت میں اس نے مکھیا کے بیٹے کا نام سب کے سامنے کہہ دیا۔ مکھیا کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔
”تم جھوٹ بولت ہو ….میراوبیٹو نہیں کوئی اور ہوگا…..“
”نہیں ….نہیں ….میں نے اپنی آنکھن سو بیر پال کو دیکھو ہے…..“
”پنچو! یو مسلمان ہے ….یامارے یوہندوؤں میں پھوٹ ڈالنوچاوے ہے۔….“
میاں حامد نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ بات اس کے کردار پر آجائے گی۔ نفرت کیا ہوتی ہے، اسے پتہ ہی نہ تھا۔اس نے تو کبھی کسی کو بری نظر سے بھی نہیں دیکھا۔ کیا ہندو، کیا مسلمان۔وہ تو بچپن سے ہی بابا سکھ دیو کے گھر رہ کر بڑا ہوا تھا۔انہوں نے ہی اس کی شادی کروائی تھی۔گاؤں کے کئی مسلمانوں نے اسے سمجھایابھی تھا کہ سکھ دیو کے گھر نہ رہے لیکن اس نے کسی کی نہ سنی تھی۔ پھر بابا اسے بیٹا ہی تو مانتے تھے۔ہمیشہ اس کے دکھ سکھ میں شریک رہتے۔مکھیا کے جملے نے تو جیسے میاں حامد کے سینے کو گرم سلاخوں سے داغ دیا تھا۔اس کو اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ گم سم ہوگیا۔مانوں اس کی زبان کاٹ دی گئی ہو۔ لیکن اگلے ہی لمحے سکھ دیو اور ان کے خاندان والوں نے مکھیا اور اس کے بیٹے پر لاٹھیا ں برسانا شروع کردی تھیں۔ دونوں طرف سے زوردار حملے ہورہے تھے۔اس سے قبل کے کچھ انرتھ ہوجاتا، حامد میاں نے ایک زور کی چیخ ماری…..
”بند کروکھدا کے لیے…..!“
اور واقعی لڑائی کو اچانک بریک لگ گئے تھے۔
”تم لوگ میرے اوپر لڑ رئے ہونا۔چلو میں گاؤں چھوڑ کرہی چلوجاتا ہوں۔“
میاں حامد کی آنکھوں سے آنسو روا ں تھے، انہوں نے اپنا منھ دونوں ہتھیلیوں میں چھپا رکھا تھا۔ان کے اتنا کہتے ہی مکھیا اور بلدیو چاچا ایک ساتھ ان کی اور لپکے تھے۔
”نہیں حامد……تم گام ناچھوڑو گے….“
اور پھر وہ ہوا جو گاؤں والوں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔مکھیا نے اپنے بیٹے بیر پال کو سب کے سامنے مارنا شروع کر دیا۔
”یاکے کارن ہی سب کچھ ہوا ہے…….“
بڑی مشکل معاملہ رفع دفع ہوا تھا۔ گاؤں میں حامد کی الگ پہچان تھی۔وہ ایک ایماندار مسلمان تھا۔ جو جتنا مسلمانوں کا ہمدرد تھا اتنا ہی ہندوؤں کا بھی۔
”اللہ اکبر….“
امام صاحب نے نیت باندھ لی تھی سب نے دو رکعت نماز ادا کی۔ خطبہ سنا اور دعا مانگنے لگے۔میاں حامد نے خدا کی بار گاہ میں ہاتھ اٹھائے۔ان کے لب تھر تھرا رہے تھے، ہاتھ بھی لرزنے لگے۔”اے کھدا …..میرے کھدا….ہم تو بڑے گنہہ گار ہیں۔ موئے انسانوں کی کھدمت میں لگا دے۔یو جو ایک عجیب سے آندھی شہروں سے گاؤں کی اور چلی آویہے ہمیں یا سو بچا لئے……“
دعا کے بعد سب ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔میا ں حامد جھک کر اپنے پوتے ساجد سے گلے ملے۔گلے ملتے وقت انہیں بے پناہ طمانیت اور مسرت کا احساس ہوا۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ ساجد کے اندر سرایت کرگئے ہیں۔ایک چھوٹا بچہ بن گئے ہیں بچہ جو معصوم ہوتا ہے جو فرشتہ صفت ہوتا ہے۔
”بابا ….بابا…..آؤ نا کھلونا لیں گے…..“
ساجد نے ان کا ہاتھ کھینچاتو وہ دکانوں کی طرف چل دیے۔ساجد نے بہت سے کھلونے دیکھے۔ سب کو فیل کرتا گیا۔آخر میں اسے اسے ریموٹ سے آگے پیچھے ہونے والی ایک خوبصورت سی کار پسند آگئی۔ساجد نے ضد کرلی۔
”بابا میں تو یے ہی لوں گا۔“
”بھیا کتنے کی ہے…..؟
”بابا پورے سو روپے کی“
”سوروپے. …؟“میاں حامد کا منھ حیرت سے کھل گیا تھا۔
وہ سوچ میں پڑ گئے۔ ان کی جیب میں کل دوسو روپے رکھے تھے۔اگر وہ کھلونا خرید لیتے تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔لیکن وہ پوتے کا دل بھی توڑ نا نہیں چاہتے تھے۔آخر کار ساجد کی ضد جیت گئی۔مول بھاؤ کے بعد سودا پچاس روپے میں ہوگیا۔ پھر دونوں نے نازو کے لیے ایک آنکھیں مٹکاتی گڑیا خریدی،بابا سکھ دیو کے بچوں کے لیے بھی کھلونے اور دوسراسامان خریدا۔سامان لے کر وہ نکل ہی رہے تھے کہ اچانک گولیوں کے دھماکوں سے فضا گونج اٹھی۔اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔در اصل اس بار عید اور کانوڑیاترا آس پاس ہی تھے۔ سارے علاقے میں دہشت تھی۔ ہر طرف زعفرانی رنگ لہرا رہا تھا۔پتہ چلا کہ کانوڑیوں کا ایک جتھا اسلام پورسے گذر رہا تھا۔ان پر کسی نوجوان نے پتھر مار دیا تھا بس کیا تھا۔ کانوڑیوں نے عیدگاہ سے لوٹتے مسلمانوں کو مار نا شروع کردیا تھا۔خبر پھیلتے ہی گاؤں کے مسلمانوں نے گولیاں چلانی شروع کردی تھیں۔کانوڑیوں کی حمایت میں بھی بندوقیں گولیاں اگلنے لگی تھیں۔ گولیوں کا نشانہ بن کر کئی لوگ لاشوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔
میاں حامد نے ساجد کو گود میں اٹھا لیا اور ایک طرف کو بھاگنا شروع کردیا۔ انہوں نے قافلے کے دوسرے لوگوں کو ادھر ادھر دیکھا بھی، لیکن وہ ایک لمحہ بھی انتظار میں گنوانا نہیں چاہتے تھے۔گاؤں کے حاجی شوکت نے حامدمیاں کو اسلام پور میں ہی رکنے کو کہا۔ اسلام پور مسلمانوں کا بڑا گاؤں تھا۔ مگر حامد میاں نے منع کردیا
اور ایک طرف بھاگنے لگے۔وہ بہت تیز دوڑ رہے تھے۔ساجد کے ہاتھوں میں کار، گڑیااور دوسرا سامان تھا۔ننھے ساجد کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلی تھیں۔میاں حامد پکی سڑک تک آگئے تھے۔ان کے بوڑھے قدموں میں نجانے کہا ں سے طاقت آگئی تھی۔در اصل موت کا ڈر۔ خود ایک زبر دست طاقت عطا کر تا ہے اور انسان وہ کر گذرتا ہے جس کا اُسے گمان تک نہیں ہو تا۔ان کو ڈر تھا کہ اسلام پور کا معاملہ جب دوسرے گاؤں پہنچے گا تو پورے علاقے میں زہر پھیل جائے گا۔وہ اس لمحے کے آنے سے قبل ہی اپنے گاؤں پہنچ جانا چاہتے تھے۔سڑٖک پر پیچھے سے شور کی آواز یں بلند ہورہی تھیں۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا ایک بھیڑ بے تحاشہ بھاگی آرہی تھی۔لوگوں کے ہاتھوں میں تلواریں، لاٹھیاں اور بلّم تھے۔انہوں نے سڑک سے کھیتوں میں بھاگنا شروع کردیا تھا۔ اب بس ایک گاؤں پار کرنا رہ گیاتھا، جس کے پار ان کا گاؤں تھا۔ دوڑتے دوڑتے وہ تھک گئے تھے۔ گاؤں کے ایک ویران پڑے ٹیوب ویل کے پاس وہ سانس لینے کو رکے۔انہوں نے راستے سے خود کو چھپا لیا تھا تاکہ کوئی گذر ے، تو دیکھ نہ پائے۔
”بابا…کیا ہوا۔آپ کیوں بھاگ رہے ہو ….؟“
”چپ….پ…“
میاں حامد نے پوتیکے منھ پر ہاتھ رکھ دیا۔کہیں کوئی آواز نہ سن لے۔اتنے میں گاؤں میں زبر دست دھماکہ ہوا۔ لگا جیسے کہیں کوئی بم پھٹا ہو۔اسلام پور سے اٹھنے والی آندھی سرخ ہوتی جارہی تھی۔موقع ملتے ہی چنگاری، شعلہ بن رہی تھی۔ آگ گاؤں گاؤں پھیلتی جا رہی تھی۔میاں حامدکے جسم میں خوف کا ناگ بری طرح لہرایا تھا۔انہوں نے ایک بار پھر اپنا راستہ تبدیل کیا۔ اب وہ گاؤں سے نہ گذر کر کھیتوں کھیتوں اپنے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔دوڑتے دوڑتے وہ اپنے گاؤں کی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ ساجد کو نیچے اتار کر انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔ان کادل بری طرح دھڑک رہا تھاپرانہیں اطمینان ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنے گاؤں میں آگئے ہیں وہ گاؤں جہاں ان کی اوران کے باپ دادا کی عمریں گذری تھیں۔وہ اطمینان سے ساجد کی انگلی پکڑے گاؤں کی طرف چل پڑے۔ابھی وہ گاؤں میں داخل ہی ہوئے تھے کہ گاؤں سے ایک شور بلند ہوا۔
”مارو……پکڑو……“
اس سے قبل کے میاں حامد کچھ سمجھ پاتے ایک جتھا سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ خون کی پیاسی تلواریں، قتل وغارت کا جنون اوردہشت پیدا کرنے والی آوازیں۔انہوں نے پلک جھپکتے ہی ساجد کو اپنی گود میں اٹھالیا اور جیسے ہی ایک طرف کو بھاگنا چاہا مکھیا کے بیٹے بیر پال کی دونالی سے نکلنے والی ایک بے رحم گولی نے ساجد کو نشانہ بنا لیا۔
ساجد کے جسم کو پار کرتی ہوئی گولی میاں حامد کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی۔ گولی نے اس طرح معصوم ساجد کا جسم پار کر کے میاں حامد کو زمین کا پیوند بنا دیاتھا جیسے حرملہ کا تیر معصوم علی اصغر کے حلق سے ہوتا ہوا امام حسین کے بازو میں ترازو ہوگیا تھا۔ دونوں زمین پر آرہے۔ خون کا فوارہ دونوں جسموں سے بلند ہورہا تھا۔زمین ساکت تھی۔ آسمان خاموش تھا۔ہوا سانس لینا بھول گئی تھی۔دونوں کے خون میں لت پت لاشے پڑے تھے اورتھوڑی ہی دوری پر ساجدکی کار، نازو کی گڑیا،بہو کا سوٹ،ایک دھوتی اور ایک چھوٹی سی پیتل کی لٹیاپڑی تھی، جومیاں حامد بابا سکھ دیو کے گھر والوں کے لیے لائے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
EIDGAAH SE WAPSI
By: Dr .Aslam Jamshedpuri
HOD,Urdu,CCSU,Meerut
09456259850
اعتبار : ناصر ملک
اعتبار
ناصر ملک
"چندا! آج میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے کہ میں نے تمہیں فتح کر لیا ہے۔ فتح کرنے کی فلاسفی بھی بہت عجیب ہے۔ فتح کرنا درحقیقت فتح ہونا ہے۔ میں نے تمہیں اور تم نے مجھے فتح کر لیا اور شبِ وصال کو ہمارا مقدر کر دیا۔ فتح کے بعد رگ و پَے میں اترنے والی تھکن نشہ کا مقام رکھتی ہے۔ میں نشے میں ہوں۔ تم نشے میں ہو۔ یہ کمرہء عروسی عشق کا مے کدہ ہے۔ یہ ہاتھ جامِ جہاں ہیں اور خراجِ عشق کو مے کا کردار سونپا گیا ہے۔ کیا تم میری کسی بات سے اختلاف کرو گی؟” سرخ کامدار عروسی گھگرے میں اثباتی ہل چل ہوئی۔ "چندا! ہمارا ملن خدا نے لکھا تھا۔ لکھے پر یقین آ گیا۔ میں لاہور کا باسی ہوں۔ تمہارا خمیر شجاع آباد کی مٹی سے اٹھا ہے۔ میں نے آج تک شجاع آباد اور تم نے لاہور نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود ہمارا عشق نہ صرف تخلیق پایا بلکہ تشکیل و تکمیل بھی پا گیا۔ اس کے لیے میں جی جان سے فیس بک کا شکرگزار ہوں جس نے ہمارا نہ صرف تعارف کرایا، بلکہ ہمیں وصال کی اس دولت سے بھی مالا مال کر دیا۔” گھگرے کے اندر کہیں سانس کی ڈوری جذبات کی آنچ پر سلگ کر سمٹنے لگی۔ "چندا! میں شاعر ہوں، مجھے دنیا سے رابطوں کی بہرحال ضرورت ہے ، اس لیے فیس بک کو ذریعہ تشہیر بنانا میری مجبوری ہے۔ سو میں اس کو بادلِ نخواستہ استعمال کرتا رہوں گا۔ تم اب نئی زندگی گزارنے جا رہی ہو۔ ابھی ناپختہ ہو۔ فیس بک کی چیپ رومانوی دنیا تمہیں خراب کر دے گی۔ اس لیے نئی اور پر اعتماد زندگی گزارنے کے لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس رات کی تھکن کو بدن میں سجائے ہم دونوں اُٹھیں، لیپ ٹاپ کھولیں اور تمہارا اکائونٹ بند کر دیں۔کم آن ! ” گھگرا سرسرایا۔ اسی سرسراہٹ میں سسکی کی مدھم سی آواز دب گئی۔ گگگگگ
نا دان بھائی : ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
رمضان کے منظر نامے میں خواتین کے ایک اہم مسئلے کو عمدگی سے سمیٹے ہو ئے ایک منفرد کہانی
نا دان بھائی
”سلام علیکم امی جان!“
”سلام علیکم ابو جان!“
”چاند دکھائی دے گیا ابو جان……..“
ثنا نے تیز قدموں سے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔اتنے میں با ہر سے ساجد دوڑتا ہوا آیا۔ اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے بولا۔
”رمضان کا چاند دکھ گیا ہے۔ سب کو سلام علیکم۔ابو……….آج سے تراویح شروع ہو جائیں گی نا؟“
”ہاں بیٹا ساجد……آپ اچھے بچے ہیں۔ آپ تراویح کی نماز کے لیے میرے ساتھ چلئے گا۔“مرزا حشمت علی نے بیٹے کو سمجھایا۔
پورے محلے میں شور شرابہ شروع ہو گیا تھا۔ مسجدوں سے اعلان ہو رہا تھا۔ رمضان کی اہمیت بتائی جا رہی تھی۔ سحر اور افطار کا وقت بھی بتایا جارہا تھا۔ بچے شور مچاتے ٹولیوں کی شکل میں ٹوپیاں لگائے اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔ خرید و فروخت کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ دودھ، ڈبل روٹی۔ شیر مال۔لچھے،کھجور،فینی وغیرہ کی فروخت ہونے لگی۔
رمضان بھی کس قدر رحمت کا مہینہ ہے۔ گیارہ مہینے الگ۔ رمضان کا مہینہ الگ۔ خدا کی رحمتیں اور برکتیں ایسی عام ہوتی ہیں کہ کوئی بد نصیب ہی ان سے محروم رہتا ہوگا۔نماز کا اہتمام بڑھ جاتا ہے۔ مساجد اتنی بھر جاتی ہیں گویا محلے کے محلے مسلمان ہو گئے ہوں۔ ہر طرف سروں پر ٹوپیاں نظر آتی ہیں۔بچے اور بوڑھے خاص کر زیادہ تعداد میں نظر آنے لگتے ہیں۔ بچوں کے تو جیسے مزے ہی آ جاتے ہیں …….سحری میں آنکھ کھل گئی تو سحری کھائی۔ شام کو افطار میں بھی انواع و اقسام کی چیزیں۔ روح افزا کا شربت۔ رمضان میں اس کا مزا دو گنا ہو جاتا ہے۔ طرح طرح کی پکو ڑ یاں۔ آلو، بیگن،پالک، گوبھی کی پکوڑیاں ……..چھولوں کی چاٹ، فروٹ چاٹ، انڈے کے پکوڑے، بریڈ پکوڑا،لسّی،غرض اتنی نعمتیں کہ عام دنوں میں رئیسوں کے یہاں بھی اہتمام نہ ہو پائے۔یہی نہیں اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہو تا ہے کہ ہر ایک عمل کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ گویا ایک وقت کی نماز کے ساتھ69نمازوں کا ثواب فری…….نفل پڑھو، فرض کا ثواب پاؤ۔شیطان کو بھی بیڑیوں میں جکڑ کر قید کردیا جاتا ہے……
”ابو رمضان کے مہینے میں کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہیے نا۔“ساجد نے مرزا شجاعت علی سے دریافت کیا۔
”ہاں بیٹا ساجد۔اس ماہ غلط کام نہیں کرنا چاہیے، لیکن بہت سے لوگ روزے نہیں رکھتے، جب کہ وہ رکھ سکتے ہیں …..کچھ لوگ صرف دکھا وے کے روزے رکھتے ہیں۔ نماز نہیں پڑھتے۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ غلط کام بھی کرتے ہیں۔اسی لیے ساجد اللہ نے بُرے کاموں کی سزا کو بھی اس مہینے میں بڑھا دیا ہے۔
”ابو جان میں بھی روزہ رکھوں گا۔ اب میری عمر دس سال ہو گئی ہے۔ میں اپّی سے چھ سال ہی تو چھوٹا ہوں ……..مجھے سحری میں اُٹھا دینا۔“
مرزا شجاعت علی بہت ہی نیک اور ایماندار مسلمان تھے۔ وہ روزے نماز کے سخت پابند تھے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے گھر میں بھی اسلامی ماحول بنانے کی کوشش کی۔بیگم زمانی بھی اپنے شوہر سے کسی طرح کم دیندار نہیں تھیں۔ ہر وقت تسبیح کا ورد رکھتیں۔ نمازیں پڑھتیں۔ قرآن کی تلاوت کرتیں۔ ان کے دونوں بچے، بیٹی ثنا اور بیٹاساجد بھی والدین کی طرح دین دار تھے۔ ثنا پڑھنے میں بھی بہت تیز تھی۔ گھر کے کام کاج میں بھی ثنا ہمیشہ دلچسپی لیتی۔ گھر پر خادمائیں تھیں۔ پھر بھی ثنااپنے والدین کی خد مت کرتی۔ دادا،دادی کی ہر بات کا خیال رکھتی۔ ساجد بھی نیک بچہ تھا۔ وہ بڑوں کا کہنا مانتا تھا۔ اس نے قرآن مکمل کرلیا تھا۔ نمازیں پڑھنے لگا تھا۔ اپنے ابو کے ساتھ جمعہ اور اکثر مغرب کی نماز پڑھنے مسجد جاتا تھا۔
مرزا شجاعت علی کے گھر میں رمضان کا انتظار تقریباً ایک ماہ قبل سے ہو تا تھا۔ مکان کی سفیدی ہو رہی ہے۔ سارا گھر الٹ پلٹ، نوکر چاکر لگے ہیں۔ ایسا ما حول بن جاتا گو یا شادی کا گھر ہو۔ رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام ہو تا۔ دعائیں مانگی جاتیں۔ اس بار بھی سب کچھ مکمل تھا، صرف چاند کی خوشخبری با قی تھی۔ چاند کی خبر آتے ہی سا را نظا رہ بدل گیا۔ بیگم زمانی سحری کے کھانوں کے انتظام میں لگ گئیں۔ ثنا ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔ مرزا شجاعت علی عشاء کی اذان ہوتے ہی، ساجد کے ہمراہ مسجد چلے گئے…….بیگم زمانی،ثنا، ثناکی دادی اور پڑوس کی آمنہ، ان کی بیٹی حاجرہ…..سب نے مل کر عشاء اور ترا ویح کا اہتمام کیا…….تراویح کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر سب بستروں میں جا گھسے۔
صُبح تین بجے بیگم زمانی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ بیدار ہوئیں،پہلے وضو کر کے تہجد ادا کی۔ ثناکو جگایا۔ سحری کا انتظام کیا۔ چار بجے مرزا شجاعت علی کو اُٹھایا۔ ساجد کی آنکھ خود بخود کھل گئی تھی…….وہ بہت خوش تھا۔ سب نے ایک ساتھ سحری کھائی۔ثنانے بہت آہستگی سے اپنی امی کے کان میں کچھ کہا…….امی نے بھی آہستگی سے ثنا کو سمجھا دیا۔
”اللہ اکبر…..اللہ اکبر……….“مؤذن کی آواز گونجی۔
”روزہ بند کرلو……..ابو سحری کا وقت ختم ہو گیا۔ سب لوگ کلی کرلیں اور روزہ کی نیت بھی……..“ساجد نے سارے گھر میں شور مچا دیا۔
عورتوں اور لڑکیوں نے گھر پر نماز کا اہتمام کیا۔ مرزا حشمت علی مسجد میں نماز پڑھ کر آئے اور بو لے:
”بھئی میں ذرا سا سو لوں۔ میری نیند پو ری نہیں ہوئی……“ مرزا حشمت بستر پر دراز ہو گئے۔
”رمضان میں بس نیند پو ری نہیں ہوتی۔ بیٹا ساجد آپ بھی سو لیں ……..“ بیگم زمانی کی بات پر ساجد بو لا،
”نہیں امی مجھے تو نیند نہیں آ رہی۔“
”امی آج میرا پہلا روزہ ہے۔ آپ افطار کی دعوت کرو نا۔ میرے دوستوں کو بھی بلاؤ نا……. میں سب سے کہہ دوں ………….“
”ہاں بیٹا۔ آج آپ کا پہلا رو زہ ہے۔ آپ دھیان رکھیے کچھ بھی کھانا پینا نہیں اور ہاں آج شام کو آپ کے ساتھ افطار پر بہت سے مہمان ہوں گے۔ آپ اپنے دوستوں سے بھی کہہ دیجئے۔“
یہ سنتے ہی ساجد نے چھلانگ لگائی اور سیدھا فرش پر……اُلٹے سیدھے چپل پہن کر اپنے دوستوں کے پاس رفو چکر ہو گیا۔
مرزا حشمت علی صُبح نو بجے اُٹھے۔ بیگم زمانی نے اُنہیں شام کو افطار کی دعوت کے اہتمام کے بارے میں بتایا۔ اچھا بیگم میں تو آفس جا رہا ہوں۔وہاں سے گاڑی اور ڈرائیور بھجوا دوں گا جو سامان منگوانا ہو کہہ دینا اور اپنے میکے فون کرکے خبر کر دیجئے۔ تقریباًسو لوگوں کے کھا نے کا اہتمام کرا دیتا ہوں۔ میں میزبان ہو ٹل فون کردوں گا۔ بریانی، قورمہ، روٹی وغیرہ سب وقت پر آ جائے گا…….
گھر کا ماحول تبدیل ہو چکا تھا…….شام کی دعوت کے اہتمام میں سا رے لوگ مصروف ہو گئے۔ ثناانٹر کالج میں پڑھتی تھی۔ ساجد پانچویں کلاس میں تھا۔ وہ تیار ہو کر اسکول جانے لگا۔
”ثنا باجی…….آج آپ اسکول نہیں جارہیں۔“
”ہاں۔ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
”آپ نے روزہ تو رکھا ہے نا……….؟“ ساجدنے شرارتاً آنکھیں مٹکا تے ہوئے پو چھا۔
ثناایک لمحے کو تو گھبرا گئی۔ اُس نے بیگم زمانی کی طرف دیکھا۔ بیگم زمانی نے ساجد کو دس روپے دیتے ہوئے کہا:
”ساجد لو یہ رو پے۔ انہیں راستے میں کسی فقیر کو دے دینا۔ بیٹے صدقہ کرنا چاہیے…….“
دوبجے کا وقت تھا سارے گھر میں افرا تفری کا ماحول تھا۔ ساجد کا رکشہ رکا۔ وہ طوفان کی طرح گھر میں داخل ہوا۔ بیگ ایک طرف پھینکا اور سیدھا سامنے والے کمرے میں جا گھسا۔ اچانک ساجد کو کمرے میں دیکھ کر ثناگھبرا گئی۔
”باجی آپ کیا کھا رہی تھیں ……..؟“ساجدنے ثنا کا منھ چلتے ہو ئے دیکھ لیاتھا۔
”کچھ نہیں ….. ساجد…….. میں بھلا کیوں کھانے لگی۔“
”نہیں مجھے لگا، جیسے آپ کچھ کھا رہی ہیں۔“
”چلو کپڑے تبدیل کرو۔“یہ کہتے ہوئے ثناگھبرا ئی گھبرائی سی با ہر آ گئی۔ ساجدکے ذہن میں کھچڑی پک رہی تھی۔ میں نے باجی کو منھ چلاتے ہو ئے دیکھا۔ باجی منع کررہی ہیں ……… یہی سوچتے سوچتے اس نے کپڑے تبدیل کیے۔ ظہر کی اذان ہو گئی تھی۔ اس نے وضو کر کے نماز پڑھی اور امی کے سمجھا نے پر سو نے کی کوشش کرنے لگا۔ اُسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی۔ تھو ڑی تھوڑی بھوک بھی ستا رہی تھی۔ بہت دیر بعد اُسے نیند آگئی۔
دو رویہ قطا روں میں لوگ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ سروں پر ٹوپیاں، سامنے انواع و اقسام کی اشیاء۔ سب کی نظریں گھڑی پر۔ساجد شیروانی میں خوب جم رہے تھے۔ سائرن کی آواز پر سب نے افطار شروع کیا۔ بہت گہما گہمی تھی۔ کافی مہمان تھے۔ افطار کے فوراً بعد کھانا اتار دیا گیا۔
”اطمینان سے کھائیں …….نماز کا اہتمام یہیں ہو جائے گا۔ قاری شفیق صاحب نماز پڑھائیں گے۔“مرزا شجاعت علی سبھی مہمانوں سے کہہ رہے تھے۔
ساجد نے مردانہ محفل میں افطار کیا۔ افطار کے فوراً بعد وہ گھر کے اندر گیا۔ اندر بہت سی مہمان عورتیں تھیں۔ممانی، خالہ، پھوپھی، پڑوس کی آ منہ چاچی،بلقیس خالہ فرزانہ باجی،شبانہ باجی،…….سب افطار میں مصروف تھیں۔اچانک اس کی نظر ثناپر پڑی۔ ثنا سر جھکا ئے افطار کرنے میں مصروف تھی۔ ساجد کو دوپہر کی بات یاد آ گئی۔
”ثنا باجی…….. آپ افطار کررہی ہیں۔ آپ نے تو روزہ رکھا ہی نہیں ……؟“ ساری عورتیں کبھی ساجد کو، کبھی ثناکو اور کبھی ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ بیگم زمانی ہکا بکا بیٹے کو تک رہی تھیں۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموش رہنے کا اشارہ کررہی تھیں۔ مگر ساجد کہاں ماننے والا تھا۔ وہ اور زور سے بولنے لگا۔
”آپ دو پہر میں کھا رہی تھیں۔ میں نے دیکھا تھا۔ آپ سمجھیں میں نے نہیں دیکھا……“
ساجد آنا فانا پیچھے مڑا اور پل جھپکتے ہی غائب ہو گیا۔
ثناسر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی۔ روہانسی ثنا نے بیگم زمانی کی طرف دیکھا۔ اُ سے یہ بھی علم تھا کہ آج ان کا بھی روزہ نہیں ہے۔
•••••••
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
صدر شعبہ اردو
سی سی ایس یونیورسٹی،میرٹھ
aslamjamshedpuri@gmail.com, 09456259850
اندھیرے کا سفر: مہتاب عالم پرویزؔ – کویت ANDHERE KA SAFAR : MAHTAB ALAM PERVEZ
اندھیرے کا سفر
مہتاب عالم پرویزؔ
کویت
شام کا دھندلکا اب آہستہ آہستہ تاریکی کی دبیز چادر میں چھپنے لگا تھا۔ وہ حسبِ معمول کالج سے لوٹ رہی تھی، کالج سے اِس کا گاؤں کافی دُور تھا اور یہ طویل راستہ اُسے پیدل ہی طَے کرنا پڑتا تھا، اس راستے سے سواری کا گزرنہ تھا۔ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں اور ناہموار راستے سے وہ تنہا گزرتی، گھاس کے فرش پہ اس کے پاؤں اٹھلاتے، وہ زندگی کے اُس دَور میں قدم رکھ چکی تھی جس میں چاند کا روشن چہرہ ہر وقت آنکھوں میں چمکتا رہتا ہے…اُمیدیں ستاروں کی طرح جھلملاتی ہیں۔ اس کے دل میں ایک نَو شگفتہ کلی قطرہ قطرہ شبنم کی ممنون ہونے لگی تھی۔ آکاش کی نیلی وسعتوں میں جب بھی کوئی شہباز اپنے پر پھیلائے منڈلاتا تو اس کے جی میں آتا کہ وہ خود سے بے خبر ہوجائے—اس کے اندر کوئی بے نام خواہش انگڑائیاں لینے لگتی، پھر یوں ہوتا کہ اس کے پاؤں لڑکھڑانے لگتے اُس کی سانسیں تیز ہوجاتیں —
دِن بھر کا تھکا سورج واپس لوٹ چکا تھا۔ وہ اندھیرے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ اچانک اُسے کسی کی آواز سنائی دی۔ اُس نے پلٹ کر دیکھا، ایک نوجوان تیزی سے اُس کی طرف بڑھا آرہا تھا۔
”سنیے!“
”جی۔“
”مَیں نے آپ کو آواز دی تھی۔“ نوجوان اس کے رُوبرو تھا۔
”کیوں؟“ اُس نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔
”آپ مجھے پہچانتی ہیں؟“
”نہیں“ اُس نے جواب دیا۔
”میں آپ کے ساتھ برسوں پہلے بچپن میں …“وہ ایک لمحہ کے لیے سوچ میں پڑگئی پھر کچھ توقّف کے بعد بولی ”تو آج کیوں شرمندہ کررہے ہو!“
بیک وقت دونوں ہنس پڑے۔ پھر اس لمبی سڑک پہ دونوں دُور تک چلتے رہے، چلتے رہے… راستے نے دونوں کے قدموں کے نشان اپنے سینے پہ ثبت کرلیے۔
وہ پھر کالج سے لوٹ رہی تھی۔ لمبی سڑک پہ دُور دُور تک کوئی نہ تھا، اور وہ جلدی جلدی اپنے گھر کی جانب بڑھ رہی تھی… ہوائیں تیز تیز چلنے لگیں اور طوفان بن کر اُسے ڈرانے لگیں۔ وہ سڑک کے بیچوں بیچ پھنس کر رہ گئی۔ درختوں کے جڑوں سے اُکھڑنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اُس کا دل خوف سے سہما جارہا تھا اُس پہ ایک لرزہ سا طاری ہوگیا تھا، ایک پُراسرار مبہم سا خیال اُس کے دل میں سر اُبھارنے لگا۔
اچانک اُسے کسی کی آواز سنائی دی اُس نے پیچھے مڑکر دیکھا رمیز اُسے پکار رہا تھا۔
اچانک طوفانی ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کا دو پٹّہ ہوا میں اُڑگیا وہ شرماسی گئی پھر اس نے دیکھا کہ رمیز کا ہاتھ لمبا ہوتا جارہا ہے اور دوپٹہ کی طرف بڑھتا چلا جارہا ہے یہاں تک کہ دو پٹّہ ہوا میں اُوپر کی جانب اُڑتا چلا جارہا تھا اور جیوں جیوں اس کا دو پٹّہ ہوا میں اُڑتا جارہا تھا، رمیز کا ہاتھ لمبا ہوتا جارہا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے ایک چیخ نکل گئی اور وہ کا نپ کر رہ گئی کیونکہ رمیز کے لمبے ہوتے ہوئے ہاتھوں سے کئی اور ہاتھ نکل رہے تھے جو دو پٹّے میں لپٹے اس کےوجود کو ٹکڑوں میں بانٹ کر بیشمار آنکھوں کی نذر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
سڑک پر اب صدیوں سے کسی کے قدموں کی آہٹ سُنائی نہیں دیتی، کہنے کو تو سُورج روز ہی نکلتا ہے۔ ¡¡
مہتاب عالم پرویزؔ
کویت
ویران جنگل اور کتا : ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔ
ویران جنگل اور کتا
ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔ
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر(انڈیا) 193221
Mobile: 9906834877
وہ بر سوں سے میٹھی نیند کے لئے ترس رہا تھا۔جب بھی اُس کی آنکھ لگ جاتی تو اُس کے اندر سے بھوں بھوں کی تکرار شروع ہو جاتی اور وہ بستر پر کر وٹیں بدل بدل کر سویرے کا انتظار کرتا رہتا۔سویرا ہونے کے باوجود بھی وہ تکیے سے ٹیک لگا کر سر تھامے دیر تک سوچتا رہتا کہ نیند آتے ہی اُس کے اندر سے کیوں بھوں بھوں کی تکرارشروع ہوجاتی ہے….؟ اُسے تو کبھی کسی کُتے نے کاٹا بھی نہیں ہے تو پھر۔۔۔؟ اب وہ کیسے اس حالت سے چھٹکارا پائے….؟ ڈاکٹر لوگ بھی ناکام ہو چکے تھے۔ماہرینِ نفسیات کی ہدایت تھی کہ سونے سے پہلے سوچنا بند کرنا‘سوچنا توبند ہو گیا لیکن بھوں بھوں کی تکرار جاری رہی۔پیروں فقیروں کے گنڈے تعویز سر پر باندھتے باندھتے وہ تھک چکا تھا۔ دفتر جاتے جاتے بھی اُس کی آنکھوں پر نیند کا خُمار چھایا رہتا تھا اور اُس کی توجہ آوارہ کتوں کی ہٹر بونگ کی طرف چلی جاتی تھی۔ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کے قدم کچھ پل کے لئے رُک جاتے اور وہ کچرے کے ڈھیر پر آوارہ کتوں کی لپٹ جھپٹ دیکھتا رہتا لیکن جب کتوں کی بھوں بھوں اُس کے اندر کھلبلی مچا دیتے تو وہ اپنے قدم آگے بڑھاتا تھا تا ہم چلتے چلتے اُس کی طبیعت پر بھوں بھوں کی آوازیں خوش گوار اثر چھوڑ جاتیں اور وہ مڑ مڑ کر کچرے کے ڈھیر کی طرف دیکھتا رہتا۔
وہ اب سرکاری نوکری سے سبکدوش ہو رہا تھا۔سرکاری افسری کرتے کرتے اُس کے تمام خواب پورے ہوئے تھے۔ بچے پڑھ لکھ کر اچھے اچھے عہدوں پر تعینات تھے‘ گاڑی بنگلہ بھی تھااور زمین جائیداد بھی خوب کمائی تھی۔آج اُسے بے حد مسرت ہو رہی تھی کیونکہ محکمے نے اس کے لئے ایک شاندار الوداعی پارٹی کا پروگرام بنایا تھا۔وہ وقت پر وہاں پہنچ گیا اور تقریب شروع ہونے کے ساتھ ہی اُس کے حق میں تعریفوں کی گردان شروع ہوگئی۔ تعریفیں سُن سُن کر اُسکا سینہ پھولتارہا۔آخر پر جب صدر محفل صدارتی خطبہ دیتے ہوئے بول پڑا کہ میں نے آج تک اس جیسے فرض شناس اور ایماندار افسر کم ہی دیکھے ہیں تو ایمانداری کا لفظ سنتے ہی اُس پر اُونگھ سی طاری ہوگئی اور اس کے اندر سے بھوں بھوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔گونجتی آوازوں نے اسے اپنے دفتر کی چہار دیواری میں پہنچا دیاجہاں اُس کے سامنے اُس غریب انسان کا چہرہ آگیا جس کا مکان شدید زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا اور وہ سرکاری امداد سے محروم ہوا تھا کیونکہ اُسے رشوت دینے کی سکت نہیں تھی۔وہ ابھی اُونگھ ہی رہا تھا کہ مائیک کی آواز نے اُسے چونکا دیا۔الوداعی پارٹی ختم ہونے کے بعد جب وہ گھر لوٹ رہا تھا تو کچرے کے نزدیک پہنچ وہ حیران ہو کر ہکا بکا ہوگیا۔
”بھوں بھوں کی آوازیں کہاں گئیں …؟“یہ خیال آتے ہی وہ کچرے کی طرف دیکھنے لگا۔
”یہ کیا….؟“حیران ہو کر اس کے منھ سے نکل پڑا۔ ”کچرا کیسے ختم ہو گیا اور یہ کتے مٹی کے ڈھیر پر کیوں اونگھ رہے ہیں ….؟“
”لیکن میرے ذہن پر کچرے کے خیالات کیوں چھائے ہوئے ہیں ….؟“وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سوچنے لگا۔”ویسے اچھا ہی ہواکیونکہ اس کچرے نے بستی کا ماحول آلودہ کر رکھا تھا۔“
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ صوفے پر بیٹھ کر سستانے لگا۔ آنکھیں بند کرتے ہی اس کے اندر امید و بیم کی کشمکش شروع ہوگئی۔ کبھی اپنے شاندار ماضی کا تصوّر اُسے زیر لب مسکرانے پر اُکسا رہا تھا اور کبھی مستقبل کی تنہائی کے خوف سے اُس کے اوسان خطا ہو رہے تھے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اُسے آج اپنا آپ بے سہارا سا لگ رہا تھا۔اس کی بیوی چند مہینے پہلے انتقال کر گئی تھی اور بچے تو یورپ میں سٹل ہوگئے تھے۔وہ کبھی کبھی فون پر اُسے دلاسہ دیتے رہتے تھے کہ ڈیڈی‘زندگی کا کاروان ایسے ہی چلتا ہے‘جو ایک دفعہ سرکاری کرسی پر بیٹھ گیا تو اُسے ایک دن یہ کرسی چھوڑنی بھی پڑتی ہے۔بچوں کی باتیں یادکر کے وہ اُداس ہو کر سوچنے لگا کہ کیا اسی تنہائی کو جھیلنے کے لئے وہ عمر بھر کماتا رہا اور جن بچوں کی زندگی بنانے میں اُس نے کبھی اچھے بُرے کی پروا نہیں کی‘وہ آج جبکہ اُسے اُن کے پیار و محبت کی ضرورت ہے‘فون پر ہمدردی جتا کر حق والدین کا فرض نبھا رہے ہیں۔بچوں کی لا پرواہی پر افسوس کرتے ہوئے اُس کا ضمیر اُسے کوسنے لگا:
”اے لالچی انسان‘عمر بھر تو دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالتا رہا اور اب بچوں کی غفلت شعاری پرافسوس کر رہا ہے؟“
اس کا ذہن ابھی ان ہی خیالات میں اُلجھا ہوا تھا کہ اُسے ایسا محسوس ہونے لگا کہ اُس کے اندر سے بھوں بھوں کی تکرار پھر سے شروع ہوگئی اور اُس کی زبان منھ سے باہر آرہی ہے۔وہ ہڑ بڑاتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑا ہوگیا۔اپنا حُلیہ دیکھ کر اُس پر وحشت سی طاری ہو گئی:
”نہیں نہیں‘میرے ہاتھ پاؤں تو صحیح سلامت ہیں .“ وہ اپنے جسم کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو دلاسہ دینے لگا۔”مگر میری پیاس کیوں بڑھ رہی ہے؟“
”نہیں‘پیاس تو روز لگتی ہے؟“
بڑ بڑاتے ہوئے وہ گھر سے نکل کر لان میں چلا گیا اور نل سے منھ لگا کر غٹا غٹ پانی پینے لگا۔حد سے زیادہ پانی پینے سے اُس کی سانسیں پھولنے لگیں۔سانسیں پھولنے کے ساتھ ہی وہ لان کے سبزے پر پاؤں پسار کر لیٹ گیا۔
شام کے دھندلے سائے پھیل رہے تھے۔چنار کے اوپر کوے کائیں کائیں کر رہے تھے۔ کائیں
کائیں کی آواز سے اُس کی آنکھیں کُھل گئیں۔اُس کے ذہن پر ابھی بھی انتشار چھایا ہوا تھا۔وہ اپنے بکھرے خیالات کو سمیٹتے ہوئے لان میں چہل قدمے کرنے لگا۔اسے اپنے حویلی نما مکان کی تنہائی ویران جنگل کی طرح محسوس ہورہی تھی۔کچھ دیر بعد ویرانی کا احساس لئے وہ دوبارہ گھر کے اندر چلا گیا اور بے خودی کے عالم میں گھر کے دروازے کھڑکیاں کھولتا رہا۔دروازے کھڑ کیاں کُھلتے ہی چنار پر بیٹھے کوے کائیں کائیں کرتے ہوئے مکان کے در و دیوار پر چھا گئے۔کوؤں کے شور و غل سے وہ پھر بے چین ہوگیا۔تھوڑی دیر کچھ سوچتے سوچتے وہ گھر سے نکل کر کچرے والی جگہ کی طرف چلا گیا۔وہاں پر اب بھی کتے اونگھ رہے تھے۔ایک کتے کے گلے میں پٹہ لگاہوا تھا۔قدم خود بہ خود کتے کی طرف بڑھنے لگے۔چندلمحوں تک وہ کتوں کو دیکھتا رہا پھر اچانک ہاتھ نے ایک کتے کے پٹے کی زنجیر پکڑلی۔زنجیر پکڑتے ہی دل میں اطمینان کی کیفیت پھیل گئی۔وہ کتے کو ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا۔بیڈ روم کے صوفے پر بیٹھتے ہی وہ ہاتھ سے کتے کے سر کو سہلانے لگا۔اس کے اندر ایک خوش گوار احساس مچلنے لگا اور جذبات میں آکر کتے کو گلے سے لگاتے ہی وہ بڑ بڑانے لگا کہ اُسے فضول میں ویران جنگل کاغم کھائے جارہا تھا‘وہ کہاں تنہا ہے۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
email.drreyaztawheedi777@yahoo.com
Mob.9906834877
جی۔ایل موومنٹ: ڈاکٹر اختر آزاد G.L MOVEMENT – DR. AKHTAR AZAD
(افسانہ)
جی۔ایل موومنٹ
ڈاکٹر اختر آزاد
جمشید پور
اور پھر ایک دن ڈونالڈ نے جیکسن کے عضوِ خاص کا آپریشن کر کے اُسے جانگھوں کے درمیان سے آزاد کر دیا اور وہاں آرٹی فیشیل سوراخ بنا کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا کہ ساری دُنیا محوِ حیرت بنی دیکھتی رہ گئی ۔
وہ میڈیکل کالج کا پہلا دن تھا ۔ جب Aegean Seaجزیرے کی دیوی صفت میڈم Shapphoنے انٹروڈکشن کے بعد مردوزن کے اسرار و رموز سے حیاتیاتی پردہ سرکاتے ہوئے ہارمونس پر اپنے لکچر کا آغاز کیا ’’ ہارمونس کی زیادتی سے جہاں ایک عورت کے اندر مرد کی خصلتیں در آتی ہیں ، وہیں کمی کے باعث ایک مرد میں عورت کی عادتیں بھی سرایت کر جاتی ہیں ۔ ‘‘ تب جیکسن کا ہاتھ سرکتا ہوا بغل میں بیٹھے ڈونالڈ کی جانگھوں کے درمیان جا کر ٹھہر گیا ۔ ڈونالڈ نے ترچھی نظروں سے بغل میں بیٹھے اُس پُر کشش چہرے والے ساتھی کو دیکھا اور ردِّعمل کے طور پر مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ۔
کلاس ختم ہوتے ہی دونوں پرنسپل چیمبر پہنچے۔
’’اگر تمہارے روم پارٹنروں کو اعتراض نہ ہو تو میوچول انڈر اسٹینڈنگ کی بنیاد پر تم دونوں روم پارٹنربن سکتے ہو ۔ ‘‘
پھر کیا تھا:کھانا پینا ، اُٹھنا بیٹھنا ، گھومنا پھرنا، سونا جاگنا سب ایک ساتھ ہونے لگا ۔ کالج میں ہر جگہ دونوں ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ۔ ایک ہی بینچ پر بیٹھتے، مارکیٹنگ بھی ساتھ کرتے ۔ کسی پروگرام میں شریک ہوتے تو دونوں ہوتے ، نہیں ہوتے تو دونوں نہیں ہوتے ۔ کالج کی چھُٹّیاں بھی ساتھ ساتھ گُذارتے …….. .کالج میں جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہر روز نِت نئے جھگڑوں کا اوسکار ہوتا ، وہیں دونوں کے درمیان کبھی تُوتُو، مَیں مَیں بھی نہیں ہوئی۔ اِس لئے ہر سال بِنا کسی کانٹیسٹ کے بیسٹ فرینڈ شپ ایوارڈ بھی دونوں کو ملتے رہے ۔ کچھ نے نفاق کی کوشش کی ۔ لڑکیوں کا سہارا لیا ، لیکن لڑکیوں کی پُر کشش آنکھیں بھی دونوں کے درمیان حدِّ فاضل کھینچنے میں ناکام رہیں …….. لیلیٰ مجنوں اور رومیوجولیٹ جیسے الفاظ جو پھبتیوں کے طور پہ ہر خاص وعام کی طرف سے کَسے جاتے تھے اس کابھی براہِ راست اثر دونوں پہ مثبت پڑتا ۔ اور اس وقت دونوں ایک عجیب سے نشے میں شرابور ہو جاتے اور پشت سے ہو کر گذرنے والی گذرگاہ کی طرف تیزی سے بڑھ جاتے ۔
کالج ختم ہوا اور وہ دونوں اپنی آنکھوں میں غیر فطری سفر کی تھکان سمیٹے اپنے اپنے گھر لوٹے …….. گھر والوں نے کچھ اور سمجھا ۔ حالاں کہ اپنے اپنے طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں معاملہ دِل کا تو نہیں ہے ؟ لیکن جب سب پوچھ تاچھ کر کے ہار گئے تو پھر شادی کے لئے نانا کرنے کے باوجود سماجی دباؤ بناتے ہوئے گھر والوں نے اپنی پسند کی لڑکی اُن پرمسلّط کر دی ۔اور وہ دونوں چاہ کر بھی اپنا منہ نہ کھول سکے ۔
ڈونالڈ سیدھے راتے کا فطری مسافر تھا ۔ لیکن غیر فطری طریقۂ کار نے اُسے پُشت کے راستے پر ڈھکیل دیا تھا…….. جب جینیفر اُس کی زندگی میں آئی تو ناف سے ہو کر گذرنے والا راستہ اُسے ایک دن جسمانی کارخانے تک لے گیا ۔
وقت سے پہلے ہی جینیفر کو درد اُٹھا ۔ڈونالڈ اُسے فوراً ہسپتال لے کر آیا۔ آپریشن کیا …….. بچّی تو بچ گئی، لیکن وہ اس درد کی شدّت کو برداشت نہیں کر پائی۔ ڈونالڈ نے جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اُسے ایسا لگا کہ خالقِ کائنات نے صرف انسانی کاروبار کے لئے عورت کی کوکھ کو ’بازار‘ کے طور پر استعمال کیا ہے …….. اِس لئے اُس نے اسی دن اپنی نومولود بچّی ڈاچی کے متعلق اپنا فیصلہ خود کو سُنا دیا کہ وہ اُسے زندہ دفن کر دے گا ، لیکن کبھی مردوزن کے جسمانی سفر کی اجازت نہیں دے گا۔
خامیاں اور کمزوریاں جب کسی کا مقدّر بن جاتی ہیں تب اپنے وقار کی بحالی کے لئے شہنائی سے دورتنہائی کے پڑاؤ کو انسان اپنا مسکن بنا لیتا ہے…….. جیکسن بھی ایسا ہی کرنا چاہتا تھا، لیکن اِس سے پہلے ہی اُس کے گھر والوں نے جبراً اُس کی شادی کر دی۔
شادی کی پہلی رات جیکشن کو ایسی اُمید نہیں تھی کہ وہ سب کچھ جب اپنی کاغذی بیوی مارتینا کو بتائے گا تو وہ خوشی سے پاگل ہو جائے گی ۔ کیوں کہ وہ بچّہ جو مارتینا کی کوکھ میں پل رہا تھا ، وہ کس کا ہے ؟ اُسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ اِس لئے اُسے کسی ایسے ہی شو پیس مرد کی تلاش تھی …….. جیکسن بھی خوش تھا کہ مفت میں آج کل زہر نہیں ملتاتو فری میں وارث کون دیتا ہے ؟ لیکن اس سے پہلے کہ جیکسن اپنی کاغذی بیوی کا شکریہ ادا کرتا ، وہ ولیم کو جنم دے کر اپنے نئے بوائے فرینڈ کے ساتھ آزاد فضا میں پرواز کر گئی ۔
وقت کے سمندر میں تیرتی عزّت کی کشتی جب بے عزّتی کے بھنور میں پھنسنے لگی تب نومولود بچّے نے وقت کی پتوار تھام لی ۔ اس طرح جیکسن کی زندگی کی کشتی دوبارہ عزّت کے ساحل سے آ لگی ۔
سرکاری ڈاکٹروں کے تبادلے کو لے کر جہاں ملک بھر میں افرا تفری مچی ہوئی تھی ، وہیں انٹر نیٹ پہ ہوئی تصویری گفتگو کے بعد چوائس ٹرانسفر نے پری پلاننگ ڈونالڈ اور جیکسن کو دُنیا کے سب سے کثیر آبادی والے میٹرو پولی ٹن سِٹی میں برسوں بعد آنے سامنے لا کھڑا کیا تھا ۔
اس طرح ایک نئے شہر میں ایک بارپھر دونوں روم میٹ ایک ہی فلیٹ کی چھاؤں میں اپنے بچّوں کے ہمراہ رہنے لگے ……… ساتھ ساتھ ہسپتال جانا ۔ ایک ہی کیبن میں بیٹھنا ۔ ایک ہی گاڑی کا استعمال کرنا ۔ شاپنگ میں ساتھ ساتھ رہنا ۔ بچّے الگ الگ روم میں سوتے لیکن وہ دونوں ایک ہی بیڈ پر ساتھ ساتھ نیند کا مزہ اُٹھایا کرتے ۔ اس طرح ایک بار پھر پہلے کی طرح دونوں کی جوڑی ہسپتال سے لے کر سارے شہر میں ہِٹ ہو گئی ۔
شہر اور بیرون شہر میں عزیز و اقارب کی دیگر تقریبات میں دونوں جہاں ہمہ تن شریک ہوتے وہیں شادی جیسی اہم تقریب میں ان کی عدم شمولیت لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی ۔ پوچھنے پر وہ تشفّی بخش جواب یوں پیش کرتے ۔
’’کھانے سے پہلے ہی ڈائننگ ٹیبل پر دو بدن ننگے ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے کراہیت ٹپکنے لگتی ہے ۔ ‘‘
’’شادی کیا ہے ؟جسمانی لذّت ہی تو ہے۔ پھر اِس لذّت کے لئے صنفِ مخالف کیوں ؟ ہم جنس کیوں نہیں ؟ نہ بچّہ ، نہ درد اور نہ ہی جان کی قربانی …….‘‘
اس آئیڈیالوجی کو اپناتے ہوئے ایک دن ڈونالڈ نے جیکسن کے عضوِ خاص کا کامیاب آپریشن کیا اور ببانگِ دہل اُسے اپنا لائف پارٹنر بنا لیا ۔
لذّت اور لذّت کے پیچھے بھاگتی دنیا یہ سب کچھ دیکھتی رہی ۔
دونوں کی تصویریں اخباروں میں چھپتی رہیں ۔
ٹیلی ویژن پر انٹرویو کا دور چلتا رہا ۔
’’دوستو! ہماری خوشیوں کا محور جسمانی لذّت ہے ۔ ہم نے ہم جنس پر کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ اس لئے یہ میرا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے بعد ہم جنس جوڑے آپس میں ویسی ہی جسمانی لذّت حاصل کر سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ہمارے یہاں ویسے جوڑوں کا آپریشن مفت میں کیا جاتا ہے ۔‘‘
پھر دونوں نے اپنی اس مہم کو شہر شہر گھوم کر تیزکرنے کی کوشش کی ۔ کئی ایک جوڑوں کو کنونس بھی کیا ۔ بچّہ رہِت خوشیوں کا جو نیا کانسیپٹ اس مہم نے دیا تھا اس کے تحت نئی نسل میں کافی آکرشن تھا۔ اس لئے آزاد فضا میں آزادانہ زندگی گزارنے والے آزاد ہم جنس جوڑے فوراً اس مہم میں کود پڑے ۔
پھر جگہ جگہ ’’ گے اینڈ لیزبین سوسائٹی‘‘ کی بنیاد رکھی گئی ۔ کلب کھولے گئے ۔ پرچار کے لئے میڈیا کو بھی اعتماد میں لیا گیا ۔ ملک گیر پیمانے پر اس مہم کو جاری رکھنے کے لئے دونوں نے اپنی اپنی زندگی کا سارا اَثاثہ لگا دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس مہم کا اثر ایسا ہوا کہ ہر روز نِت نئے جوڑے اس میں شامل ہونے لگے …….. پھر ایک ملک سے دوسرے ملک ، دوسرے سے تیسرے ملک۔ اور اس طرح دُنیا کے سارے ممالک میں ہم جنس مہم کی آگ کچھ اس طرح پھیل گئی کہ شادی بیاہ کے سارے پنڈال جل کر راکھ ہو گئے۔
مذہبی پیشواؤں نے اس مہم کی پُر زور مخالفت کی اور جگہ جگہ ’’صنفِ مخالف تحریک‘‘ کی بنیاد ڈالی ۔ پرانی پیڑھی نے بھی مذہبی رہنُماؤں کا کُھل کر ساتھ دیا ، لیکن نئی نسل لذّتوں میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ اُن پر اس تحریک کا ذرا بھی اثر نہیں ہوا ……. اور وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ تحریک دم توڑنے لگی تو پرانی نسل کے صنفِ مخالف پرستار اپنی نسل کی بے راہ روی سے اتنے شرمسار ہوئے کہ آنکھوں میں آنسو چھُپائے تابوت نگر کی طرف آہستہ آہستہ کوچ کر گئے ۔
پھر اس کے بعد اس دھرتی پر وہی آپریٹ کئے ہوئے ہم جنس جوڑے باقی رہ گئے ۔ جگہ جگہ ’’گے بار‘‘اور ’’لیزبین کلب‘‘ کُھل گئے…… .. ناچ گانا، شراب وکباب تو بالکل عام سی بات ہو کر رہ گئی تھی ۔ سب کے سب اپنے آپ میں مست ۔ کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہیں ۔ اب زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا ۔
انجوائے اور انجوئے ……..اور اسی انجوائے کے درمیان پرانی پیڑھی کا تابوتی سفر جاری رہا ۔
آبادی بدستور گھٹتی رہی۔
اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب پوری پرانی پیڑھی ختم ہو گئی ۔ نئی پیڑھی جو خود پر بانجھ کا لیبل چپکا چکی تھی، آبادی کے تناسب کو برقرار کیسے رکھتی ؟ جو بچے تھے اُن میں سے بھی ہر روز کسی نہ کسی بہانے لوگ مرتے رہے ۔ آبادی اسی طرح گھٹتی رہی ۔ وسائل کی فراوانی کے سبب نئی نسل کی ہتھیلی پر چاند سورج اُگتے رہے ۔ نئی نسل انہیں پوجتی رہی ۔ اور وہ بھی ہر روز خود کو خالق سمجھنے کا گناہ کرتے رہے ۔
لیکن ایک دن جب بُڑھاپا دل کے دروازے پر دستک دینے آیا تب جیکسن اور ڈونالڈ کو پہلی بار اس بات کا احساس ہواکہ یہ دُنیا فانی ہے ۔ ہر وہ شئے جو ہے اُسے موت کا مزا چکھنا ہے ۔ ایک دن دوسروں کی طرح وہ بھی مر جائیں گے ۔ سارے لوگ مر جائیں گے ۔ ساری دُنیا ختم ہو جائے گی ۔ وقت کا مورِّخ جب تاریخ لکھے گا تب سارا الزام ’’گے اینڈ لیزبین موومنٹ‘‘ کے ہی سر کھے گا ۔ اس لئے اب وہ اپنے اس جرم کی پاداش میں مر کر بھی اپنی نسل کے لہو میں زندہ رہناچاہتے تھے ۔ اس سے پہلے کہ ڈاچی اور ولیم ہم جنسیت کے بھنور میں پھنسیں ، وہ جلد سے جلد دونوں کی شادی کر دینا چاہتے تھے ……… ڈونالڈ اور جیکسن صنفِ مخالف جوڑوں کی تلاش میں نکلے۔ پہلے اپنے شہر پر ایک نظر ڈالی ۔ریاست کے کونے کونے میں پہنچے۔ پورا ملک چھان مارا۔ اس سے بھی نہیں ہوا تو وہ برسوں دُنیا کی سیر کرتے رہے ……… جہاں بھی گئے ، جس گھر کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا معلوم ہوا کہ وہ سب ’’جی ۔ایل انٹر نیشنل کلب‘‘ کے ایکٹیو ممبر ہیں ۔ اس لئے شادی بیاہ سے زیادہ انجوائے کرنے میں یقین رکھتے ہیں …….. دونوں نے کئی ایک لڑکے اور لڑکیوں کو پیسے کے لالچ بھی دیئے۔ ساری جائداد لکھنے کی قسمیں کھائیں ۔ بلینک چیک ہاتھوں میں رکھا ، لیکن کوئی بھی آزادانہ زندگی کو تیاگنے کے لئے راضی نہیں ہوا۔
اس طرح پوری دُنیا کے چکّر کاٹنے کے بعد وہ دونوں مایوس قدموں کے ساتھ گھر لوٹے ۔ دونوں کے جھریوں بھرے چہرے پر ساری دُنیا کی تھکان جہاں سِمٹ آئی تھی وہیں اُن کی بوڑھی دھنسی ہوئی آنکھوں میں کائنات کی ساری رنگینیاں گڈ مڈ ہو کر سیاہی مائل ہو چکی تھیں ۔
یکایک جیکسن پر دل کا دورہ پڑا ۔
ڈونالڈ نے فون کر کے فوراً ڈاچی اور ولیم کو بُلایا اور کہا:
’’دیکھو اس وقت میرا لائف پارٹنر زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا ہے ۔ تم چوں کہ ہماری وراثت کے امین اور نسل کے پاسبان ہو ، اس لئے ہماری خواہش ہے کہ تم دونوں آپس میں شادی کر لو اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے لائف پارٹنر بن جاؤ۔‘‘
’’شادی…….! ‘‘ دونوں کے مُنہ کُھلے کے کُھلے رہ گئے ۔
’’میرا لائف پارٹنر تو میرا روم میٹ ہے ۔ میں اُس کے ساتھ اپنی زندگی کے بہترین دن گزار رہا ہوں ۔ مجھے ڈاچی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ ولیم نے مُنہ بناتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔
ڈاچی نے بھی اُسی انداز میں ولیم کا مُنہ توڑ جواب دیا ……..’’اور میں کون سا تمہیں اپنا لائف پارٹنر بنانے جا رہی ہوں ……. میں خود اپنی ایک گرل فرینڈ کے ساتھ انگیج ہوں ۔ ‘‘
اتنا سُنتے ہی جیکسن کا دل دھونکنی کی طرح دھڑک اُٹھا اور سر یکایک دوسری طرف ڈھلک گیا ۔
ڈونالڈ نے یہ سب کچھ جو دیکھا تو دفعتاً اُن کی آنکھوں کے سامنے گھنا اندھیرا چھا گیا ۔ لیکن اس اندھیرے میں بھی بڑھاپے کہ وہ بیساکھی جو اُن کے کاندھے کے نیچے جھول رہی تھی ، روشن ہو اُٹھی ……… پھر اُنہوں نے روہانسی آواز میں پاگلوں کی طرح ’’جیکسن ……..جیکسن!‘‘ چیختے ہوئے فلک بوس ’’گے اینڈلیزبین انٹر نیشنل آپریشن تھیٹر ‘‘کی ساری عضو تراش نسل کُش مشینوں کو ایک ایک کر کے توڑنا شروع کر دیا ۔
ڈاچی اور ولیم ، ڈونالڈ کی اس اَدا پر خوشی سے لِپٹ گئے ۔
DR.AKHTAR AZAD
HOUSE NO-38, ROAD NO-1 AZADNAGAR, JAMSHEDPUR-832110 E.MAIL- dr.akhtarazad@gmail.com
MOBILE NO-9572683122
M
چتون کی چترائی CHITWAN KI CHATURAI مہتاب عالم پرویزؔ MAHTAB ALAM PERVEZ
(افسانہ)
چتون کی چترائی
مہتاب عالم پرویزؔ
(اپنی شریکِ حیات نغمہ ناز مکتومیؔ کے نام )
میں خبروں کا پیامبر ڈھونڈ رہی تھی، تپتی ہوئی دُھوپ تھی، ایک تلاش تھی اور میں تھی۔ میں نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھا… وہ ہمیشہ کی طرح نیلا تھا۔ پرندوں کا ایک خوبصورت جوڑا نیلے آسمان کی انتہائی وسعتوں میں پرواز کررہا تھا۔ بالکل اس طرح جیسے وہ اپنی دِشاؤں سے بھٹک گیا ہو…
دُور برگد کی گھنی چھاؤں میں اس کی لچکتی ہوئی ڈالیوں پہ جھوم جھوم کر لڑکیاں گیت الاپ رہی تھیں۔ اور نہ جانے کیوں میرا دل بیٹھا جارہا تھا:
پنگھٹ کا چِت چور کھوگیا چتون کی چترائی میں
بھری گگری یا خالی ہوگئی ایک بے سدھ انگڑائی میں
ٹونا مار گیا بیراگی جوگن کھا گئی مات
اور میں سوچ رہی تھی کہ اس گیت سے میرا کیا رشتہ ہے۔ آخر کیوں؟ماضی کی شدید یادوں نے کل مجھے مضطرب رکھا۔ دن اضطراب میں گزرا۔ اور ساری رات کروٹیں کیوں بدلتی رہی؟
گیت اب بھی جاری تھا:
ہری ُچنریا کھیت کی مہکے فصلوں کی رعنائی میں
ماضی کی تصویریں اُبھریں دیواروں کی کائی میں
پاؤں میں چبھ چبھ جائے مہاور مہندی کس گئی ہات
اور میں تھی کہ سوچے جارہی تھی۔
میرا بچپن تو گاؤں کی ان ہی وادیوں میں گزراتھا۔ دُور دُور تک پھیلی ہوئی پگڈنڈیوں پر کھیلتے کودتے میں جوان ہوئی تھی۔ اور گزرتے دنوں کے دامن میں وہ یادیں بھی جواں ہوتی رہیں۔
انتظار میں موسم گزرتے رہے۔ اس بار بھی گرمیوں کی چھٹیاں آئیں۔ اور شاید اب گزر بھی جائیں گی۔ نہ جانے یونہی کتنے موسم اور بیت جائیں گے…
گیت کے رسیلے بول اب بھی فضا میں گونج رہے تھے۔ اور میرے خیالوں میں سوچ کی دُنیا آباد ہوگئی تھی۔ تمھارے ساتھ چلتے چلتے مَیں گاؤں کی اُن ہی پگڈنڈیوں پر آج پھر لوٹ آئی تھی اُن قدموں کے نشان ڈھونڈنے… کوئی پیامبر تلاش کرنے یا صرف لمس محسوس کرنے کے لیے۔ لیکن یہاں پہنچ کر یادیں اور بھی زندہ ہوگئیں۔ اُن قدموں کے نشان تو نہیں ملے۔ شاید گردشِ زمانہ نے اُن نشانات کو بالکل مٹا دیا تھا…
لیکن میرے دل کی دہلیز کی نم مٹّی پر تمھارے قدموں کے نشان آج بھی موجود ہیں۔ اور مٹّی کی سوندھی سوندھی خوشبو ہر وقت اُڑا کرتی ہے…
مَیں بچپن سے ہی تمھارے نام سے منسوب تھی شاید… بڑی ہوئی تو امّی نے احساس دلایا… پھر میں کھوئی کھوئی سی رہنے لگی تھی۔یادوں کے دُھندلے نقوش تازہ ہوگئے تھے۔ موسمِ گرماکی چھٹیاں تمھاری یہیں گزرا کرتی تھیں۔
میں تھی، تم تھے، ڈھیر سارے کھلونے، اور گڈے گڑیا کی شادی میں گزرتی ہوئی وہ شامیں تھیں۔ دُھندلی دُھندلی سی جن کے لمس کا احساس آج بھی تازہ ہے۔
جب تم پہلی بار گاؤں آئے تھے۔ امّی کس قدر خوش ہوئی تھیں تمھیں دیکھ کر، اور مَیں جل بھُن ہی تو گئی تھی۔ ایسی بات نہیں تھی کہ تم مجھے اچھے نہیں لگتے تھے۔ تمھارا وہ گڈا کتنا حسین تھا۔ ٹھیک تمھاری طرح اورویسے تم بھی تو کسی شہزادے سے کم نہیں لگتے تھے۔ اور میری گڑیا گاؤں کی الہڑ سی ایک گنوار لڑکی تھی۔
مَیں سیدھی سادی زمانے کے نشیب و فراز سے ناواقف، محبت اور چاہت جیسے جذبات و احساسات سے ناآشنا، حالانکہ دل میں ارمانوں اور تمنّاؤں کا لامتنا ہی سلسلہ تھا۔ اور ذہن میں حسین و دلکش تصوّرات کا سُنہرا جال، جس میں اُلجھی اُلجھی سی میں، اور تاروں بھری راتوں کی کئی نہ ختم ہونے والی کہانیاں۔
وہ تاروں بھرا سیاہ آسمان چاند کا روشن چہرہ… تیز ہواؤں کے مست جھونکے… شانوں سے ڈھلکتا میرا آنچل…
تم بار بار میری طرف دیکھتے تھے اور میں شرم کے بوجھ سے دوہری ہوجاتی… تم مسکراتے اور میرے اندر ایک زبردست طوفان جذبات کا اُٹھتا ہوا محسوس ہوتا۔
منتہاے نظر تک پھیلی ہوئی چاند کی چمچماتی چاندنی، مَیں اور تم…
موسم آتے رہے اور جاتے رہے، موسموں کے مزاج کا پرندہ بھی محوِ پرواز رہا۔ اور ایسے میں تمھارا لوٹ آنا کوئی نئی بات تو نہیں تھی… لیکن اب کی بار شاید مَیں تمھارے لَوٹ آنے سے بیحد خوشی تھی۔ اور تم نہ جانے سوچوں کی کون سی دُنیا آباد کررہے تھے؟
شاید شہر کی بھیڑ بھاڑ سے لوٹ کر آنے والے پرندے گاؤں کی اس کھلی فضا میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کررہے تھے۔ لیکن تم تو تنہا نہیں تھے… مَیں جو تھی تمھارے ساتھ؟
اور… تمھیں تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ شہر کے اُن ہنگاموں میں، اُس گھٹی گھٹی سی فضا میں تمھیں شدّت سے میری کمی کا احساس ہوتا رہا ہوگا۔ اور یہاں شہر کے اُن ہنگاموں سے دُور گاؤں کی تاروں بھری راتوں میں … تمھارے خیالوں میں رچی بسی میں تمھارا پورا پورا ساتھ تو دے رہی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ تمھارے طور طریقے تمھارا رہن سہن تمھارا انداز… تمھارے خیالات مجھ سے بہت مختلف تھے۔ اور اتنا فرق تو یقینی تھی۔
یہی ایک تضاد تھا، جہاں فاصلے ہی فاصلے تھے… دُوریاں ہی دُوریاں تھیں …
تمھاری خوبصورت سی وہ آنکھیں جب بھی میرا تعاقب کیا کرتیں تو میں اپنے آپ میں کچھ تلاش کرنے لگتی… کچھ ڈھونڈتی… وہ شے، جس کی تمھیں تلاش تھی۔ لیکن میں شاید تمھارے اس مفہوم کو سمجھنے سے قاصر تھی۔
ہر طرف پھیلا ہوا سہانا ماحول، لہلہاتے ہوئے کھیت، کچّی سڑکوں پر دُوڑتے ننگ دھڑنگ بچےّ، رنگ برنگے پرندوں سے بھرا آکاش، سبھی تو آزاد تھے۔ لیکن تمھارا شہر ان سب باتوں سے عاری تھا۔
میں جانتی تھی کہ تمھارا شہر اِن رنگ برنگے پرندوں کی آماجگاہ ہے۔ لیکن سبھی تو قیدی تھے۔ مایوس… مایوس… بجھے بجھے سے کیا کبھی تم نے اِن سبھوں کے حالات جاننے کی کوشش بھی کی تھی…؟
تم تو صرف ایک صیّاد تھے۔ ایک شکاری… لیکن شکار کرنا تمھارا پیشہ نہیں بلکہ محض تمھارا شوق تھا… اور تمھارے اس شوق میں نہ جانے کتنے پرندوں کے ارماں تمھاری ہوس کی نذر ہوگئے تھے۔
ایسی بات نہیں تھی کہ مجھے ان سب باتوں کا علم نہیں تھا۔ میں واقف تھی، میں جانتی تھی۔ سب کچھ جانتی تھی۔ اور سب کچھ جان کر بھی تو انجان تھی صرف اس لیے کہ میں بچپن سے ہی تمھارے نام کے ساتھ منسوب تھی۔ اور یہ ایک اٹوٹ رشتہ تھا تو پھر تم میں مجھ میں اتنا فاصلہ کیوں تھا؟ اتنی دُوریاں کیوں تھیں …؟
مانا کہ میرے لب خموش تھے۔ مَیں تمھیں کسی بھی حالت میں کھونا نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی خود کو منتشر کرنا، مجھے خوف تھا کہ گلاب کی پنکھڑیوں پہ گرا شبنم کا وہ قطرہ ہواؤں کے مست جھونکوں سے بکھرکر ہی نہ رہ جائے۔ بس ایک ہی احساس تھا۔ جسے میں اپنے سینوں میں دبائے خاموش تھی۔
پچھلی بار جب تم آئے تھے، تمھارے ساتھ یونہی شہر دیکھنے کی تمنّا جاگ اُٹھی تھی۔ اور تم نے وعدہ بھی کیا تھا۔ لیکن تم نے اپنے ان وعدوں کو ایفا نہ کیا۔ یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ وعدہ تم سے وفانہ ہوسکا۔
انتظار میں موسم گزرتا رہا۔
خبروں کا پیامبر خبریں پہنچاتا رہا۔
افواہیں گشت کرتی رہیں … اور برگد کی گھنی چھاؤں میں لڑکیاں اب بھی جھوم جھوم کر گیت الاپ رہی تھیں …
آکاش بادلوں سے ڈھکنے لگا تھا اور گیت کے بول فضاؤں میں گونج رہے تھے:
چھم چھم ناچے گگن سانوری ساون کی انگنائی میں
انگ انگ سے چوٹ اُگائے آگ لگے پُروائی میں
پور پور چنگاری چھڑکے یہ بیرن برسات
——–
برکھا آنکھ مچولی کھیلے پینگوں پر امرائی میں
ڈوب گئی الغوزے کی لے کجری کی گہرائی میں
گوری کی دہلیز بھیگی مینہ، کی بوچھاروں کے ساتھ
اور ملاقات کی وہ آخری شام… جب تم شہر لوٹنا چاہتے تھے۔ ہوا میں میرا آنچل لہرایا، گھن گرج کے ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کر بارش ہونے لگی۔ میری کھلی کھلی زلفیں اُڑنے لگیں۔ اور بیلے کا پھول بھی، جس کی خوشبو مٹّی کی سوندھی سوندھی خوشبوؤں میں بس کر عجیب سی مہک اُڑا رہی تھی۔
میرا دل چاہ رہا تھا کہ باہر نکل کر بارش میں خوب بھیگوں … بھیگتی ہی رہوں اور شرابور ہوجاؤں۔ لیکن ایسا کچھ تو نہیں کرسکی تھی مَیں … شاید اپنی فطری حیا کے باعث۔
”یہ موسم کیسا لگا تم کو…؟“
میں نے بس یوں ہی پوچھ لیا تھا۔
تم نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا تھا۔ ’نہ جانے یہ بارش کب تھمے گی۔؟ جانتی ہو مجھے جانا بھی ہے؟‘
’اگر تم کو جانے کی اتنی ہی جلدی ہے تو مَیں تم کو روکوں گی نہیں۔ اب تمھارا کیا ارادہ ہے جناب؟‘
میں نے شرارت بھرے لہجہ میں کہہ دیا تھا…
آہستگی سے ’خدا حافظ‘ کہہ کر تم بس یوں ہی بھیگتے ہوئے چلے گئے۔ میں تمھیں مناتے مناتے خود بھی رو پڑی تھی۔ لیکن تمھارے اوپر میرے آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں ہوا…
تم چلے گئے بھیگتے ہوئے، میں بھی بھیگ رہی تھی، اپنے ہی آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی۔
تم تو چلے گئے تھے دُور بہت دُور اور میں تمھیں جاتے ہوئے بڑی خاموشی سے دیکھتی رہی۔ میری آنکھوں کے سامنے دُھندسی چھائی جارہی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا۔ جیسے تم نے مجھے انا کی صلیب پر لٹکادیا ہو۔ جیسے تم نے مجھے اُڑنے کی قوت دے کر میرے پنکھ تراش ڈالے ہوں۔
میرے دل میں عجیب کشمکش تھی۔ میں لاشعوری طور پر اُن راہوں پر چلنے لگی۔ جہاں کبھی ہم ساتھ چلے تھے۔
اور… تم…دُور… بہت دُور پرندوں کے غول میں کہیں کھو گئے تھے۔
موسم کا پرندہ اُڑتا رہا…
میرے اندر اتنی صلاحیت کہاں تھی کہ اُڑکر تم تک پہنچ سکتی… شاید میں بھی تمھاری قیدی بن کر رہ گئی تھی۔
مانا مَیں شہر کے اِن پرندوں سے بالکل جدا تھی۔ جدا میرے اپنے جذبات تھے… اپنے خیالات تھے۔ تم اتنے ضدی بھی تھے، یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا…
اس بار نہ جانے کیوں گاؤں کی فضا بھی بدلی بدلی سی ہے، ٹھیک تمھارے تیور کی طرح۔ گرم ہواؤں کی شدید لہریں میرے نازک سے وجود کو جھلساتی ہیں۔ دُھوپ کی تمازت میرے پروں کو جلاتی ہے۔ اور ویسے میرا انگ انگ تمھاری انا کی صلیب پر لٹکا یونہی جھلس رہا ہے۔
تمھارے پل پل کی خبر ان جھلستی ہواؤں کے دوش پر مجھ تک پہنچتی بھی ہے۔ پیامبر بن کر، ایک طرف تمھیں پالینے کی تمنّا مجھے زندہ رہنے پر آمادہ کررہی ہے۔ مجھے یقین تھا کہ تم گئے موسموں کی طرح پھر لوٹ کر آؤ گے…
میری گڑیا… گاؤں کی ا ّلہڑسی سیدھی سادی ایک گنوار لڑکی جس میں تمھارے گڈے کی آنکھیں کچھ ڈھونڈا کرتی تھیں۔ کچھ تلاش کیا کرتی تھیں۔ وہ سارا کا سارا آج اُس میں موجود ہے، تمھارے گڈے شہزادے نے اس میں جو چاہا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اب اس میں مل جائے گا۔
ہواؤں کے دوش پر خبروں کا پیامبر خبریں پہنچاتا رہا۔
افواہیں گشت کرتی رہیں۔ میں ٹوٹ کر منتشر ہوتی رہی اور تم نئے موسموں کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
تم تو مرد تھے نا اور مرد جب چاہے اپنے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کرسکتا ہے۔ کاٹ کاٹ کر ریزہ ریزہ، ویسے ہی میرے دل کے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ اور میں مزید ان ٹکڑوں کو اور ٹکڑے کرنا نہیں چاہتی تھی۔ہواؤں کے دوش پر خبروں کا پیامبر خبریں پہنچاتا رہا۔
سنا ہے ان دِنوں تم اپنی حدوں سے پارسرحد پار اُڑنے کی کوشش میں سرگرداں ہو۔ تمھیں معلوم ہے ان دنوں میرے دل پر کیا بیت رہی ہے؟
اپنے ہی وطن میں نہ جانے کتنے موسم ہیں۔ اور تم ان موسموں کا مزاج بھی جانتے ہو۔ لیکن موسموں کی طرح تم نے بھی تو اپنی اُڑانیں تبدیل کرلی ہیں …
کبھی اِدھر کبھی اُدھر تم دُور دُور تک آکاش کی وسعتوں میں پرواز کرتے رہے۔ تم مرد تھے نا… کبھی بھی تھکتے نہ تھے۔ اگر تھک جاتے تو گاؤں کی ان پھیلی ہوئی وادیوں میں تمھارا بسیرا ہوتا۔ جہاں مَیں ہوتی، تم ہوتے، اپنا آشیانہ ہوتا۔ کیا کچھ نہ ہوتا۔ ڈھیر سارے کھلونوں کی جگہ کھیلنے کے لیے کچھ تو ہوتا اپنی محبت کی نشانی…
تم ہی نے کہا تھا کہ ’تمھارے دل کی اتھاہ گہرائیوں کا اندازہ مجھے خوب ہے جب مجھے دیکھ کر مہندی لگے تمھارے وہ ہاتھ مجھے آداب کرنا بھول جاتے ہیں، کاجل سی سیاہ تمھاری وہ آنکھیں مجھ سے ٹکراکر لوٹ جاتی ہیں، گلاب کی پتیوں کی طرح تمھارے وہ نازک سے لب کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن کہہ نہیں سکتے۔ صرف پھرپھڑاکر رہ جاتے ہیں۔ لمبے لمبے سیاہ گیسوؤں کے درمیان تمھارا چہرا بڑا حسین لگتا۔ اور شانوں پہ بکھری ہوئی زلفیں بڑا حسین منظر پیش کرتیں۔ اور مَیں گاؤں کی پگڈنڈیوں پر کسی شہزادے کی مانند گھوڑے پر سوار تمھارے سپنوں میں قوس قزح کے رنگ بھرنے کی تمنّا کرتا…‘
تمھارے اِن جملوں کی بازگشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ شاید یہ سب خیالی باتیں تھیں کیونکہ خیالوں میں جو محل تعمیر ہوتے ہیں وہ ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں جنھیں وقت کی تیز آندھی اپنے ساتھ اُڑاکر لے جاتی ہے۔
شاید میرے سارے سنہرے سپنے ٹوٹ گئے ہیں۔ اور اِن سپنوں کی تعبیریں دُھندلی دُھندلی سی ہوگئی ہیں۔
آج بھی بیلوں کے پھولوں کا وہی موسم ہے… تاروں بھرا وہی آنگن ہے۔ میں ہوں۔ اور میرے جوڑے میں سجابیلوں کے پھولوں کا شگوفہ ہے۔ میں نے آج بھی تمھاری اس روایت کو برقرار رکھا ہے۔ محض اس لیے کہ تمھاری یادوں کی خوشبوؤں میں ہی ڈوبی رہوں۔
لیکن… ایسا نہیں ہوتا…
آخر ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
اس کی خوشبو میرے سانسوں میں رَچی بسی کیوں نہیں رہتی…؟
سب کچھ تو وہی ہے، صرف پھول تمھارے ہاتھوں کے توڑے ہوئے نہیں ہیں۔
بیلے کے پھول تمھیں کتنے پسند تھے اور مجھے بھی…
مجھے احساس بھی تھا۔ جب بیلے کے ان موسموں میں اپنے جوڑے میں بیلوں کے پھول سجائے رہتی تھی۔ جس کی ہلکی ہلکی خوشبو میرے لیے اس لیے بھی بہت زیادہ پُرکشش تھی کہ وہ توڑے ہوئے پھول تمھارے ہاتھوں کے ہوتے اور تمھارے مضبوط ہاتھوں کا لمس مَیں اپنی رگ وپَے میں محسوس کیا کرتی تھی۔ اور اس کی خوشبو میری سانسوں میں رچی بسی رہتی تھی۔
وقت کے پرندے نے ایک اور کروٹ بدلی… اور… ایک روز اچانک تمھارا خط ملا۔ جو تم نے شاید سرحد پار سے لکھا تھا۔
تم اپنے وطن عزیز سے دُور بہت دُور نئے موسموں کی کھوج کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ تم نے اپنے خط میں تحریر کیا تھا کہ کسی بہت بڑی مجبوری نے تمھیں سرحد پار اُڑنے کے لیے مجبور کردیا اور نہ جانے تم اپنے وطن کب واپس لوٹو۔
تم نے یہ بھی لکھا تھا کہ اس وجہ کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے تم اپنے ملک کی سرحدوں کے پار اُڑنے کی کوشش میں سرگرداں نہ ہوجانا۔
کبھی کبھی تمھارے خطوط اتنے طویل ہوتے جن میں تمھاری سمندر پار کی مصروفیت اُلجھنیں اور ڈھیر ساری پریشانیوں کا ذکر شامل ہوتا۔
تمھارا خط پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا کہ میں تمھارے بے حد قریب ہوں …اور… پھر—
گزرتے ہوئے دنوں کے ساتھ ساتھ تمھارے خطوط بہت مختصر آنے لگے۔ جن میں محض رسمی جملوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہ ہوتا تھا۔
پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی اور تمھارے خطوط کا سلسلہ اچانک تھم گیا… اور مجھے یوں لگا جیسے زمین گردش کرتے کرتے اچانک رُک گئی ہو۔ لیکن پھر بھی میرے پیروں تلے کی زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ اور میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔
حالانکہ میرے دل میں ارمانوں اور تمنّاؤں کا لامتنا ہی سلسلہ تھا اور ذہن میں حسین و دلکش تصوّرات کا سرگم گونج رہا تھا…
برگد کی گھنی چھاؤں تلے لڑکیاں اب بھی جھوم جھوم کر گیت الاپ رہی تھیں:
بیکل یاد نِٹھر کی چھیڑے برہن کی شہنائی میں
ساگر ڈوب گیا پیالے میں، پربت گم ہوا رائی میں
مندر کا پیپل مانگے ہے من دیوی سے پات
¡¡
مہتاب عالم پرویزؔ
MAHTAB ALAM PERVEZ
سنومین : نورالعین ساحرہ
سنومین
نورالعین ساحرہ
ورجینیا، امریکا
باہر برف پڑ رہی تھی اور مسلسل پڑ رہی تھی۔ ایک گھر نما چار دیواری کے اندر ضمیر نے بڑبڑاتے ہوئے کمبل گھسیٹا اور اپنا منہ دیوار کی طرف کر کے خراٹے لینے لگا ۔ کچھ ہی دیر پہلے جب یہ اندھیری رات برف اوڑھ رہی تھی تو زندگی ٹھٹھرتی سکڑتی زمین کی گود میں سستانے لگی ۔ ضمیر کی بیوی لمحہ لمحہ تنہائی اور اپنے شوہر کی مجرمانہ بے پروائی کے کرب میں سسک رہی تھی۔ وہ نشے میں دھت دھڑام سے آکر بستر پر گرا۔ وہ ایک کونے میں لیٹی ہوئی ایک دم اٹھی اور اسے سنبھالنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔وہ ناک سکیڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
"دفع ہو جا یہاں سے ۔۔۔ کتنی بار کہا ہے سونے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھویا کرو۔ بدبودار عورت ” وہ منہہ ہی منہہ میں بڑبڑایا ۔ساری رات مجھے بستر میں کبھی آئیوڈین اور کبھی لہسن پیاز کی بو آتی رہتی ہے۔ ویسے تو پہلے سے تمھارے ہاتھ اتنے کھردرے اور بوڑھے سے لگتے ہیں کہ دیکھ کر دل خراب ہو جائے اس پر اتنے بدبودار بھی رکھتی ہو” اس نے کروٹ بدلتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی نفرت کے تیر آرزو کی طرف اچھالے ۔آرزو چپ رہی ۔۔۔۔۔”میری تو زندگی عذاب کر کے رکھ دی اس جاہل عورت نے۔ پتا نہیں کہاں سے ڈھونڈ لی گھر والوں نے، نہ شکل نہ عقل ـ” ” پہننے اوڑھنے کا کوئی سلیقہ نہ جینے کے ڈھنگ سکھائے تمھاری ماں نے” وہ بولے چلا جا رہا تھا۔
آرزو چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں نے اسے گرین کارڈ کے ساتھ بیاہ کر جب امریکہ رخصت کیا تھا تو یہی کہا تھا کہ شریف لڑکیا ں جس گھر میں سرخ جوڑے میں داخل ہوتی ہیں وہاں سے سفید کفن میں رخصت ہوتی ہیں وہ ضمیر کی اس روزمرہ بک بک کے جواب میں چپ اپنی مخروطی انگلیوں کو اپنی تلیوں سے مسلتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کیا وہ آئندہ اپنی ساس کو آئیوڈین کی مالش کرنے سے اس لئے انکار کر دے کہ یہ آئیوڈین ضمیر کی اس سے دوری کا سبب تھی یا پھر کچن میں جانے سے صاف انکار کر دے کہ لہسن اور پیاز کی بو اس کے خاوند کو شراب کی بدبو سے زیادہ بری لگتی ہے ۔۔
” کس منحوس گھڑی تم میرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان ہوتا تو بتیس روپے ہاتھ پر رکھ کر فارغ کر دیتا ، مگر اس امریکہ میں آدھی جائداد اور روپیہ دے کر رخصت کرو ۔ ۔ ۔ لعنت ہے ایسے ہیومن رائٹس پر ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ” اس نے خود کلامی کرتے کرتے کروٹ بدلی ،
آرزو پھر چپ !!!
”بولتی کیوں نہیں کچھ،،، یو ۔۔۔بچ ۔۔۔ سالی ۔۔۔۔۔حرامزادی ۔۔ اب کیا گونگی بہری بھی ہو گئی ہو،،،،؟”
”دونوں بچے بہت بیمار ہیں،،،،” وہ سسکی ۔”شرم آنی چاہئے تمہیں، کچھ بھی تو نہیں سنبھالا جاتا تم سے، نہ گھر نہ اپنا آپ نہ بچے،،،،،” ”کوئی وجہ بھی ہوگی ان کی بیماری کی،،،؟” چیختے ہوئے پو چھنے لگا۔
”آپ نے ان سے کئی بار وعدہ کیا تھا ،،،ایک دن ان کے ساتھ مل کر اصلی والا بڑا سنومین بنائیں گے ۔ دو مہینے ہو چکے مگر آپ کو تو شاید کبھی فرصت نہیں ملے گی ۔ ا ۤج بھی بہت ضد کر رہے تھے تو میں نے ان کو اکیلے ہی لان میں بنانے کی اجازت دے دی تھی ”
”مطلب ،،،تو کم عقل تو پہلے سے ہی ہے منحوس عورت ۔۔۔۔آج اندھی بھی ہو گئی تھی کیا ،،،روکا نہ گیا ان کو برف سے کھیلتے؟”
آرزو چپ رہی ،،،، اسے اپنا گھر جو بچانا تھا ۔اگلی صبح ضمیر نے دروازے سے اتنے زور سے آواز دی کی آرزو پراٹھا پلٹنا بھول گئی جو اپنی نند کے بچوں کے لئے بنا رہی تھی۔ اسکی دونوں نندیں جاب پر جانے سے پہلے اپنے بچے بےبی سٹنگ کے لئے اس کے حوالے کر جاتی تھیں اور ناشتے کے علاوہ شام کا کھانا بھی یہیں کھاتی تھیں۔ اسی طرح بھاگ کر شوہر کی خدمت میں جا حاضر ہوئی۔”یہ سب کیا ہے،،،،؟ ”آرزو نے چپ چاپ پہلے ضمیر کی طرف اور پھر اس طرف دیکھا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا۔ لان میں ایک سنو مین کا برفانی بت ایستادہ تھا جس کے اوپر ضمیر کی ٹائی، ٹوپی اور پرانے کوٹ کے بازو لٹک رہے تھے اور اس طرح نظر آ رہا تھا جیسے بچوں نے اس کا کوٹ پہنانے کی پوری کوشش کی ہو۔”یہ کیا ہے،،،” اس نے تقریبا چیختے ہوئے پوچھا۔ اپنی صفائی دیے بغیر وہ واپس کچن کی طرف مڑی ۔آرزو یہ سب باتیں ضمیر کو بتانا چاہتی تھی مگر کب کیسے کہاں؟ ویسے بھی وہ اس کو دیکھتے ہی ایک ساتھ اتنی طرف سے حملہ کرتا کہ وہ دفاع کرنے سے پہلے ہی پسپا ہو جایا کرتی کہ آخر اکیلی کس کس محاذ پر لڑتی۔ پھر بھی شکریہ کا ایک لفظ تو بہت دور کی بات ہر وقت ڈانٹ پھٹکار اور طعنے تشنوں کی منتظر ہی رہا کرتی ۔ آرزو کا دل چاہتا کہ دھاڑیں مار مار کے روئے، لیکن چپ کی قسم اسے چپ ہی رکھتی۔ یہاں تک کہ اس کے دل میں فاصلے کی خواہش جنم لینے لگی۔ ہزار بار سوچا تھا کہ فلاں بات کا فلاں جواب دے گی، یہ کہے گا تو وہ کہے گی لیکن وہ رات بھر سوچتی رہتی اور صبح ہوتے ہی اس کی بے ضرر معصوم سی بغاوت کا خیال دھواں بن کر چمنی کے راستے ہوا میں تحلیل ہو جاتا اور وہ ہر روز کی طرح پھر سے نئے زخم کھانے کو تیار ملتی۔
دوسری طرف ضمیر نے کبھی پیچھے مڑ کر دیکھا ہی نہیں تھا۔ ایک کمرے میں سوتے بھی وہ کئی سڑکوں، چوراہوں اور گلیوں بازاروں کے فاصلے پہ رہتا۔ ضمیر کی جاب اچھی تھی اور خواہش اس سے برتر۔ انہیں خواہشات کی انگڑائیوں میں غلطاں وہ بھولتا جا رہا تھا کہ اس کا کوئی گھر بھی ہے جس میں بیوی بچوں کی خواہشات پہ روز غیر ذمہ داری کی برف پڑتی جا رہی ہے۔ دونوں بچے بڑے ہو رہے تھے لیکن بجائے سکول جانے کے وہ سارا دن کھیلتے رہتے یا لان میں پڑی برف سے سنو مین بناتے رہتے۔ کبھی باپ کا کوٹ کبھی اس کے جوتے اور کبھی اس کا اسکارف اسکے گلے میں لٹکا کر کلکاریاں مارنے لگتے یا کھلکھلاتے ۔ جب بھی ان کے سکول کی بات چھڑی ضمیر کا پارہ چڑھ گیا اور سارا گھر سہم کر سکڑنے لگتا ۔ بات بات پہ سیخ پا ہونا اس کا معمول تھا۔ اس لئے آرزو نے اپنی روایتی چپ سے استفادہ کرتے ہوئے اسے اس کے حال پہ چھوڑنا شروع کردیا۔ مگر جب اسے یہ احساس ہوا کہ ضمیر کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں اور نہ کبھی بنے گا تو اس نے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کے بارے میں خود سوچنا شروع کر دیا تھا۔
موسم کھل رہا تھا اور مقامی سکول بھی۔ ایک رات، بچوں کی خاطر، اسے بھی لہجے میں تبدیلی کرنی پڑی اور بچوں کے ایڈمشن کا ذکر کیا۔ اور یہ بھی کہا کہ وہ خود سکول جائے گی ۔ ضمیر کو اور کیا چاہئے تھا اس نے تو شکر کا کلمہ پڑھا کہ یہ ذمہ داری بھی کم ہوئی اور خود تصور میں سوزن سے ہونے والی اگلی ملاقات کے بارے سوچنے لگا۔ سوزن اس کے آفس میں کام کرنے والی طرح دار حسینہ تھی ۔ سنہری بال ،سفید رنگت اور سبز آنکھیں اور کسا ہوا بدن ، اس پر پڑنے والی ہر نظر پلٹنا بھول جاتی تھی ۔ شکل کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ بھی بہت خوبصورت تھے اور اس کی خوبصورت مومی انگلیوں کی حرکت کے ساتھ ساتھ ضمیر کا دل بھی دھڑکا کرتا تھا۔ تصور میں وہ جب بھی اپنی بیوی آرزو کی کٹی پھٹی سخت انگلیوں کا موازنہ سوزن کی نرم و نازک انگلیوں سے کرتا تو اس کا دل اپنی بیوی کے خیال سے کراہیت سے بھر سا جاتا۔ پہلے سے بھی زیادہ اپنی بیوی سے نفرت محسوس کرنے لگتا۔
ضمیر اپنے خواب کی تکمیل اورسوزن کے خیال میں آج کل اتنا مدہوش رہتا کہ لڑنا بھی بھول گیا ۔ سونے سے پہلے خیالوں میں وہ سوزن کی مومی انگلیوں کو یاد کرتا رہتا جو تیزی سے کمپیوٹر پر چل رہی ہوتی تھیں اور ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیلتی جا تی تھی ۔ سب کو معلوم تھا وہ اس وقت چیٹینگ پر ایک ساتھ کئی بوائے فریندز کے ساتھ مصروف گفتگو ہے۔ ان میں سے کچھ تو قصہ پارینہ بن چکے تھے مگر جب بھی ان کی جیب بھاری ہوتی تو تجدید وفا کرنے کو سوزن کے پاس آ دھمکتے،کچھ نئے عشاق حال کو بڑی خوشی سے سوزن کے ساتھ جی رہے تھے اور کچھ مستقبل میں اس کی خوبصورتی کو کیش کروانے والے تھے ۔ وہ سب کو خوش رکھنے کا فن جانتی تھی۔ اپنی خوبصورتی اور اداؤں سے کئی ضرورت مند شادی شدہ مردوں کو ان کی بیویوں کے لئے برف کی سلیں بنا چکی تھی۔ خود سوزن کی محبت کسی انسان سے نہیں بلکہ صرف اس کے سامنے والے مرد کے ہاتھ میں پکڑا ہوا چیک ہی ہوا کرتی تھی جو اس کو مہنگی سے مہنگی شاپنگ کروا سکے یا اس کے بل ادا کر دے۔ وہ خوشی خوشی کسی کے بھی ساتھ اس کے گھر رہنے چلی جاتی تھی یا کسی پیسے والے کو اپنے گھر رکھنے لے آتی تھی ۔ بہت سے لوگوں کو ایک ہی وقت میں اپنی پکی محبت کا یقین دلا کر الو بناتی اور ان لوگوں سے پیسے بٹور کر اپنی رنگ رلیوں کے ساتھ ساتھ گاڑی اورگھریلو قرضے کی قسطیں چکانے کے علاوہ خوب عیاشی کی زندگی گزار رہی تھی۔
جیسے ہی ان عاشقوں کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تو ان کو اپنی زندگی سے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیتی تھی ۔ ضمیر یہ سب اچھی طرح جانتا تھا مگر پھر بھی اس کے پاوں تلے زمین سرکتی چلی گئی اور وہ بحر بے کنار میں ہچکولے کھانے لگا تھا ۔ سارا دن اس کو آفس میں دیکھ دیکھ کراس کی نظروں کی پیاس تو کیا بجھتی اب تو وہ ہر حال میں اس سے کچھ آگے کا سفر طے کرنا چاہتا تھا۔ اسکو سوزن کی قیمت اور پسند سب معلوم ہو چکا تھا اور وہ بھی اس بہتی گنگا میں ایک بار ہی سہی مگر ہاتھ دھونا ضرور چاہتا تھا۔ بیوی بچوں کی ضرویات سے بے نیاز ضمیر سوزن کی خوشنودی کے لئے آئے روز مہنگے کپڑوں، پرفیومز اور کئی ایسے تحفے تحائف لٹانے لگا جو اس کے گھر نے سالوں سے نہ دیکھے تھے۔ اگر کبھی بھولے سے بھی آرزو کسی بہت معمولی ضرورت کی چیز کی فرمائش بھی کرتی تو وہ اس کو بری طرح ڈانٹ دیتا، اس کو ماضی کی غربت اوراوقات کے طعنے دیتا اور وہی ازلی چپ اس کا مقدر ٹھہرتی۔ سب گھر والے اس تبدیلی کو محسوس کرچکے تھے مگر سماج میں جس طرح مرد کی پاکدامنی اور اخلاقیات پہ کوئی سوال نہیں اٹھتا اسی طرح ساس سمیت سارے چپ ہو رہتے۔الٹا آرزو کو سمجھاتے کہ خاموشی میں ہی بھلا ہے۔ چپ ہی عورت کا زیور ہے۔ یہ ضمیر کا چند روزہ شوق ہے ۔ کچھ عرصے بعد خود ہی واپس آ جائے گا ۔
موسم ایک بار پھر بگڑا، بارشیں بھی ہوئیں اور برف باری بھی۔ بچے ہر روز سنومین تعمیر کرنے کے بارے میں سوچتے کہ یہی واحد دلچسپی ان کو میسر تھی لیکن طوفان تھمے تو باہر نکلیں۔ کبھی ماں اور کبھی باپ سے ،کئی بار انہوں نے برفانی طوفان کے رکنے کا پوچھا تھا ، باپ سے کئی بار وعدہ لیا وہ اس بار ان کے ساتھ مل کر بڑا سا اصلی سنو مین ضرور بنائے گا کہ وہ کھلونے والے سنومین سے کھیل کھیل کر تھک چکے تھے۔ لیکن برف پگھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ہوا ، پانی، سانسیں سب کچھ منجمد ہوتا جا رہا تھا ۔ آرزو کا شدید دل چاہنے لگا کہ کہیں اور، کسی ایسی جگہ جہاں پرندوں کی سیٹیاں ، ہرنوں کی قلانچیں ہوں، پھولوں کی کیاریاں اور رنگ برنگی تتلیاں ہوں، وہاں شفٹ ہو جائے۔ اس جمے ہوئے ماحول سے باہر نکلے ۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نوکری کرنے کی خواہش کا اظہار گھر میں بھی کر دیا تھا۔ جب ضمیر کے کانوں تک یہ خواہش پہنچی تو ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پہ پھیل گئی۔ جھٹ سے اس نے جواب دیا ‘ہاں باہر جاب کرلو کہیں،،،کسی نزدیکی فیکٹری میں اور جو چاہتی ہو کرو۔ یہاں ہر عورت کام کرتی ہے گھر میں ہو یا باہر۔’سو دو دن بعد ہی آرزو نے جاب شروع کردی ، اسی دن کا تو شاید ضمیر کو انتظارتھا۔
سوزن کے بل اتنے بڑھ گئے تھے کہ گھر کے خرچے ادا کرتا تو سیدھا بلیک لسٹ ہوجاتا۔ کئی بنکوں سے کریڈٹ کارڈ بنوا چکا تھا جن پہ سود ایسے بڑھتا جا رہا تھا جیسے گھر کی درو دیوار پہ برف جم رہی تھی۔ سوزن تو پہلے سے ناراض بیٹھی تھی کہ اس نے نہ کوئی شاپنگ کروائی نہ کسی اچھے ہوٹل میں لے کر گیا۔ ضمیر بہت دنوں س بعد سوزن کو منانے کے چکروں میں جب اس پر ہزاروں ڈالر لٹا چکا تو سوزن اسے اپنے گھر لے جا کر کچھ دن رکھنے پر راضی ہو گئی اور محبت کے جھوٹے دعوے بھی کرنے لگی۔ اگلے دن آرزو جاب پہ تھی اورضمیر اپنا سامان اٹھا کر سوزن کے اپارٹمنٹ میں منتقل ہو ہی گیا۔ دن رات سوزن کی مومی انگلیوں کو چھو چھو کر اپنے تشنہ آرزؤں کو بہلایا کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سوزن کی انگلیوں کا ہی شیدائی تھا۔ وہ ان کو چھو کر خود کو جنت میں محسوس کرتا تھا۔ یہ نرم گرم انگلیاں جب اس کے جسم پہ اٹکیلیاں کرتیں تو وہ فتح کے نشے میں سرشار اپنے آپ پہ رشک کرتا۔ دن کے وقت وہ سوزن کے ساتھ دفتر میں اور رات اس کے ساتھ گھر میں موجود رہتا۔مسئلہ اس وقت ہوا جب رقابت کی آگ اس کی شریانوں میں بڑھکنے لگی تھی۔ سوزن کا دل اس اسے اچاٹ ہونے لگا اوروہ اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ راتیں باہر گزارنے لگی۔ ضمیر شراب پی کر وہیں پڑا رہتا ۔ منہ میں بڑ بڑاتا گالیاں بکتا اور اور اس کو بد چلنی کے طعنے دینے لگا ۔ جن مومی انگلیوں کو چوس چوس کر زندگی کا رس نکالتا تھا اب وہی اسے بدبودار محسوس ہونے لگیں۔ جب ساری جمع پونجی ختم ہو گئی اور قرض بڑھنے لگا تو سوزن کی نظریں بدلنے لگی۔اسی دوران 9/11 کا واقعہ پیش آیا جس میں سوزن کا بھائی مر گیا تو ایشین لوگوں کے لے اسکے دل میں نفرت بہت بڑھ گی وہ بار بار اس کو ذلیل کرنے لگی ۔ تب ضمیر کو اپنے گھر کے پکے پکائے کھانے، دھلے دھلائے کپڑے اور صاف ستھرے گھر کی یاد ستانے لگی۔ ہر وقت شراب اور شباب کے نشے میں دھت وہ کبھی یہ بھی اندازہ نہ کر سکا کہ اسے یہاں ٹھہرے کتنا عرصہ بیت گیا ہے۔
آرزو اس دوران اپنے قدموں پہ کھڑا ہونا، چلنا اور اس نئے معاشرے میں جینا سیکھ چکی تھی۔ اس نے اپنے اور اپنے بچوں کے تحفظ کی خاطر قانونی مشاورت بھی کر لی تھی۔ جس سکول میں اس کے بچے پڑھتے تھے وہیں کچھ اور پاکستانی فیملیز کے بچے بھی موجود تھے جن کے والدین سے کچھ نہ کچھ معلومات لیتی رہتی۔ ان کی وجہ سے بچوں کے پارک، شاپنگ سنٹرز اور گروسری کے مراکز سے بھی مانوس ہوگئی تو اس میں ایک خود اعتمادی پیدا ہونے لگی جس کا اس نے صحیح استعمال کیا اور چند ہی دنوں میں وہ آسانی سے بیرونی دنیا سے رابطے میں آ گئی ۔ اور بچے ،،،برف باری رکتی تو وہ گھر میں کھیل کود کرتے اور اپنے باپ کو یاد کرنے کے لئے سنو مین بنا کر باپ کے پرانے کپڑے پہنا دیتے ۔
ایک دن تو حد ہو گئی جب شراب کے نشے میں چورضمیر سوزن پہ ایسے گرجنے لگا جیسے وہ اسکی بیوی ہو ۔۔ وہ آج بھی رات کو دیر سے لوٹی تھی۔ باہر اتنی تیز برفباری ہو رہی تھی کہ کوئی جانور بھی ڈھونڈے سے دیکھائی نہ دیتا تھا ۔ اس کا گھر شہر سے تھوڑا ہٹ کر ایک کم آباد علاقے میں تھا ۔ رات کو بارش یا برف باری ہوتی تو یہاں کا سناٹا مزید بھیانک ہو جاتا۔ آج کی رات بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ کبھی ہلکی بارش اور کبھی تیز برف باری، درجہ حرارت ایسا کہ حرارت نام کی شے سرے سے غائب۔ ہر طرف گھٹنوں تک برف جم چکی تھی۔ رات کے وقت اس علاقے میں ٹریفک کم ہی ہوتی ۔ اور گہری رات میں تو شاید ہی کوئی گاڑی ادھر آ پاتی۔ سڑکوں سے برف صاف کرنے والا عملہ صبح اپنی گاڑیوں پہ پہنچتا اور برف ہٹانے کا کام شروع کرتا ۔ سوزن کے گھر پہنچتے ہی وہ چیخنے لگا۔ اس دن تواس نے ساری پاکستانی گالیاں بھی اس کے جسم میں اتار دیں جنہیں سوزن سمجھ تو نہ سکی لیکن ‘بچ’ کا لفظ جب اس کے کانوں سے ٹکرایا تو وہ اس کے سامنے آئی، اس کا بازو پکڑا اور باہر دروازے کی طرف گھسیٹنے لگی۔ مارے غصے کے وہ چیختی جارہی تھی۔ جب ضمیر نے باہر نکلنے سے انکار کیا تو اس نے پولیس بلانے کی دھمکی دی۔ پولیس کے نام سے وہ ایسا گھبرایا کہ نشہ کافور ہونے لگا۔ سوزن نے اسے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا ۔ ضمیر بہت رویا پیٹا ۔ اس نے سوزن کی بہت منتیں کیں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی”صبح ہوتے چلا جاؤں گا، اتنے طوفان اور رات میں کہاں جاؤں؟”مگر سوزن نے ایک نا سنی اور 911 کو کال کرنے کی دھمکی دے کر اپنا دروازہ بند کر لیا۔ اسی دھکم پیل میں اسکا سیل فون بھی نیچے گر کر ٹوٹ گیا تھا۔اس سناٹے میں وہ کہاں جاتا وہ بھی نشے کی حالت میں ۔ سو وہیں کھڑا دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا تو لیکن اس کاسامان ،کپڑے ،ٹوپی اور اسکارف اس پہ پھینک کر سوزن نے دوبارہ لاک کر لیا۔ وہیں کھڑے کھڑے اس کو اپنا گھر، اپنی بیوی، ماں اور بچے بہت یاد آنے لگے۔ اسکا دل تڑپ رہا تھا ۔ اگر وہ اپنے گھر چلا جاتا تو آرزو یقیناً اس کے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگ لیتی ۔ اپنا سامان اٹھائے وہ مین روڈ کی طرف بڑھنے لگا جہاں ذرا دور ایک بڑا شاپنگ مال تھا۔ ، ڈر تھا کہ اس حالت میں اسے پولیس نہ دیکھ لے ۔ اسکارف سے اپنےچہرے پر پڑی برف صاف کرتا تھوڑے فاصلے پہ پہنچا تو اپنے قدم برف میں دھنستے ہوئے محسوس ہوئے۔ جوتے بھی ایسے نہیں تھے کہ اس کے پیروں ، ٹخنوں اورٹانگوں کو محفوظ رکھتے۔ اس کے پاوں سن ہونے لگے ۔ اس نے پوری قوت لگا کرابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ گرنے لگا ۔ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اس نے اپنے پاوں برف سے باہر نکالے۔ ایک قدم باہر نکلتا تو دوسرا برف کے اندردھنس جاتا۔ وہ پھر قوت صرف کرتا اور گرتے پڑتے دوسرا نکالتا۔ اسی تگ و دو میں اس کا سانس پھول گیا اور ہاتھ بھی جمنے لگے۔ با ربار ٹوٹے ہوئے فون سے 911 کو فون کرنے کی کوشش کرتا مگر وہ کام کرتا نظر نہ آتا تھا۔زندگی میں پہلی بار اس کا واسطہ اس خطرناک موسم سے تنہا پڑا تھا۔ گھر کی یاد تنگ کرنے لگی تو جلدی جلدی ہاتھ پاوں چلانے لگا لیکن اس کے منجمند پاوں اس کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔ گھٹنے تھے کہ جیسے جان ہی نہیں۔ ہانپ کر بری طرح گرا اور اور پیر گھسیٹنے لگا ۔ بڑی مشکل سے ان کو برف سے نکالا ا ور کہنیوں کے بل ایک قریبی لیمپ کی طرف رینگنے لگا۔اس طرح چند فرلانگ اس نے طے کئے۔ برف اس کے گرد لپٹی ایسے تکلیف دے رہی تھی جیسے برفانی بھیڑئے کسی مردہ جانور کو نوچ رہے ہوں ۔ ہر سانس کے ساتھ پچھتاوا بھی بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ برف پر گھسیٹتے ہوئے اس نے قریبی پول کی طرف بڑھنا چاہا تاکہ سہارا لے کر کھڑا ہو سکے ۔ اس کا یہ فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا۔ سڑک کےکنارے نظر نہ آنے والی ایک ڈھلوان میں جا گرا۔ دیار ٖغیر کی سفید برف اس کے اندازے سے کہیں زیادہ سرد نکلی ۔ وہ اپنے ہاتھ اس برف سے بچانے لگا اور غور سے اندھیرے میں سن انگلیوں کو دیکھنے لگا۔ وہ بے جان ہو رہی تھیں اور ان سے ٹیسیں نکل کر اس کے دماغ کی شریانوں تک پہنچنے لگی تھیں ۔ اسے اپنے آپ پہ بہت رونا آیا۔ سوزن کی مومی انگلیاں بھی یاد آئیں اور آرزو کی کھردری انگلیاں بھی۔ اس کا جی چاہا کہ زور زور سے آرزو کو آوازیں دے، چیخے چلائے۔ گھر کا گرم نرم بستر، بچوں کی کلکاریاں اورآرزو کے پراٹھے بناتے ہاتھ اسے یاد آنے لگے ۔۔ کچھ بولنے کی کوشش کی تو محسوس ہوا کہ اس کی آواز بھی جم رہی تھی۔ ہر شے جم رہی تھی، نچلا دھڑ،سن ہو چکا تو اس نے اپنا اسکارف نکالا اور گرم سانس سے انگلیوں کو ٹکور کرنا چاہا،اب تو کہنیاں بھی جواب دینے لگیں۔ پھر بازو اور پھر سارا جسم۔ اوپر سے پڑنے والی برف بھی زوروں پہ تھی ۔ اب تو کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہ رہا ۔ کچھ ٹوٹے ٹوٹے منظر خیال میں ابھرتے اور پھر برف کی سفیدی میں ڈوب جاتے۔ شریانوں سے ہوتی برف اس کے دل تک پہنچی تو اس نے ہمت ہار دی ۔ سردی کے مارے اسکی ہڈیاں چٹختی رہیں اور وہ آخرکار ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا حتی کہ آہستہ آہستہ برف نے اس کو پوری طرح اپنے اندر چھپا لیا۔
تین دن تک شہر میں ہر چیز بند رہی اور کاروبار حیات معطل رہا۔ اگلا دن اتوار کا تھا، ہر چھٹی کے دن بچے ماں سے ضد کرتے کہ شاپنگ پہ انہیں بھی ساتھ لے جائے۔” اچھا بابا ٹھیک۔ چلو میرے ساتھ ”۔ آرزو نے صاف ہوتے موسم میں بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک بس میں سوار ہوچکے تھے جومغربی علاقے سے ہوتی ایک شاپنگ سنٹر کی طرف جاتی تھی۔ ۔آزرو کو کسی نے بتایا تھا کہ وہاں سے بچوں کے کپڑے اور دوسری ضرورت کی اشیا ایک نئے سٹور سے سستے داموں مل جاتی ہیں۔ آج اس نے سرخ رنگ کا لانگ کوٹ پہنا۔ اس کے سلم سمارٹ جسم پہ وہ خوب جچا تھا۔ وہ ایک پراعتماد عورت کی طرح زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے چل رہی تھی۔ سفید برف سے پھسلتی روپہلی سورج کی کرنیں اس کے خوبصورت چہرے کو عجیب سی چمک دے رہی تھیں ۔ بچے بھی خوش تھے کہ نئی جگہ دیکھنے کو ملے گی۔ کبھی سورج نکل آتا اور کبھی بادلوں کی اوٹ میں چلا جاتا۔ بس رواں دواں تھی کہ اچانک راستے میں ایک پول کے پاس کچھ لوگ دکھائی دینے لگے۔ وہ ایک جگہ کھڑے ہو کر کچھ دیکھ رہے تھے۔ آرزو اپنے خیالوں میں گم اپنے ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں کو دیکھ رہی تھی جن پہ مختلف انگوٹھیاں اس کی گندمی جلد کوحرارت دے رہیں تھیں۔ ایک گہری خاموشی سے اس نے اپنے ہا تھوں کو سونگھا۔ لہسن پیاز کی بو کا نام و نشان تک باقی نہیں تھا اور اس کو یہ احساس دلانے والا بھی تو کہیں نہیں تھا ۔ بس مال کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ اس میں بیٹھے کچھ افراد نے اچانک چیخنا شروع کر دیا ۔ وہ سب گھبرائے ہوئے باہر کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔ اس نے باہر ایک پول کے پاس کچھ پولیس والوں کو دیکھا جو برف میں دبی اکڑی ہوئی ایک لاش نکال رہے تھے ۔ شیشوں کی طرف بچے بیٹھے تھے ۔یہ منظر دیکھ کر وہ دونوں خوشی سے چلائے ۔” ماما دیکھیں اصلی والا ،،،بڑا سنومین ،،،،جیسا پاپا نے بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔”
آئیڈیل IDEAL: مہتاب عالم پرویزؔ MAHTAB ALAM PERVEZ
آئیڈیل
مہتاب عالم پرویزؔ
(کویت)
وہ اُسے برابر دیکھا کرتا ہے۔
سُورج جب اُفق کے میلے آنچل میں اپنا چہرہ چھپانے لگتا تو وہ آتی ہوئی دِکھائی دیتی ہے۔ وہ گھنے درختوں کے درمیانی راستوں سے گذرا کرتی ہے۔
وہ اُسے برابر دیکھا کرتا ہے۔
انسان جب کسی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے تو اُس کو اپنے اندر سمولینا چاہتا ہے۔ وہ بھی اُس کی چال پر مرمٹا۔ اس کے جسم کی آگ میں کتنی ہی لڑکیاں جھلس چکی تھیں پر آج بھی وہ آگ ویسے ہی بھڑک رہی ہے۔
سُورج کو رات نگل گئی۔
جب سانسوں کی تیز رفتار نارمل ہوئی تولڑکی نے کہا۔
”مجھے کپڑے پہنادو۔“
”کیا تم خود نہیں پہن سکتی۔“
”نہیں مَیں نہیں پہن سکتی۔“
”کیوں؟“
”اِس لیے کہ میرے پاس ہاتھ نہیں ہیں …“
”تمھارے ہاتھوں کو کیا ہُوا؟“
”اِن میں کوڑھ ہے۔“
انسان جب کسی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے تو اُس کو اپنے اندر سمولینا چاہتا ہے۔
وہ اب بھی اُسے دیکھا کرتا ہے۔