خوف :ناصرملک
خوف
ناصرملک
ہماری ریسکیو ٹیم جانکاہ مشقت کے بعد سیلابی پانی میں گھرے اس مکان تک پہنچی تھی۔ میں حیرانی سے پانی کے عفریت میں گھرے ہوئے اس گھر کے مکینوں کو دیکھ رہا تھا۔ بوڑھا واحد بخش، اس کی بیوی زیناں، دو بیٹیاں۔ ایک کی عمر پانچ، دوسری کی چودہ پندرہ ۔۔۔۔دونوں بہنوں کو بھائی کی محرومی کا دُکھ قدرت نے دیا تھا۔ میں حیران تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کیمپوں میں کیوں نہیں گئے تھے۔ شاید ان تک کوئی پہنچا ہی نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ گھر کا سارا سامان تین ریسکیو ورکرز، دو ملاحوں اور واحد بخش نے لانچ میں لاد دیا مگر کھانے پینے کا سامان اور برتن چھپر کے نیچےجوں کے توں پڑے تھے۔ "یہ بھی لاد دو ناں!” واحد بخش نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ بولی، "نہیں جی! یہ یہیں رہے گا۔ آپ وہ سامان لے جاکر کہیں محفوظ کر دیں۔ پانی اُتر گیا تو ہم آ کر لے لیں گے۔” میں بھونچکا رہ گیا، "کیا مطلب؟ کیا تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں جائو گے؟” اس نے پھر انکار میں سر ہلایا۔ بولی، "نہیں جی! ہم ادھر ہی ٹھیک ہیں۔” میں نے اصرار کیا۔ وہ نہ مانی۔ پوچھا، "آخرکیا وجہ ہے؟ یہاں ایسا کیا ہے کہ تم لوگ جانے پر تیار نہیں ہو؟” وہ بتانا نہیں چاہتی تھی مگر میرے شدید اصرار پر بولی، "تین سال پہلے، بڑے سیلاب میں ہم بند پر بنے امدادی کیمپ میں گئے تھے۔ ہمارا خاندان بھی۔ وہاں ہم لوگ کھانا کھاتے تھے اور ساری رات بے ہوشوں کی طرح سو جاتے تھے۔ بڑی گہری نیند آیا کرتی تھی۔ پھر تین ماہ بعد ہمارے خاندان میں کئی پیٹ پھول گئے تو پتہ چلا کہ نیند اتنی گہری کیوں آیا کرتی تھی۔” میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ "بابو! تب میری بچیاں چھوٹی تھیں۔”میں نے بے ساختہ اس کی بڑی بیٹی کو دیکھا، پھر بوڑھی عورت کو، جو کبھی مجھے دیکھتی تھی اور کبھی اپنی بیٹی کو ۔۔۔
شجر ممنوعہ کی چاہ میں: پرویز شہریار، نئی دہلی
افسانہ
شجر ممنوعہ کی چاہ میں
پرویز شہریار، نئی دہلی
اس نے کہا تھا۔
”ازدواج کی عارضی ادلابدلی سے فرسودہ رشتہ میں نئی بہارآجاتی ہے جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔“
اس نے جھوٹ کہا تھا۔
”میں اس شجر ممنوعہ پر چڑھنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اس سے کراہیت ہوتی تھی۔ لیکن، اس کی خوشی کے لیے، میں نے خود کو سمجھا لیا تھا۔اپنے دل کی ایک نہیں سنی تھی اور بے قرار دل پر پتھر رکھ کر اس کی باتوں میں آگئی تھی۔“
مجھے نیچے سے دھکا دے کر جب وہ شجر ممنوعہ پر چڑھانے لگا، تب میرا ماتھا ایک دم سے ٹھنکا تھا۔ میں نے نیچے گہرا کنواں دیکھ لیا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا جواب دینے لگے تھے۔ میں درخت سے نیچے گرنے ہی والی تھی کہ تبھی کسی نے اوپر درخت سے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔میں نے دیکھا، کوئی شخص پہلے ہی سے وہاں مجھے سہارا دے کر اوپر اٹھانے کے لیے موجود تھا۔ ایک پل کو مجھے لگا میرے تن پر ایک کپڑا نہیں ہے۔ دنیا مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے۔ لیکن جب حواس ٹھکانے لگے اور غور سے دیکھا تو وہاں ہر طرف ہمارے ہی جیسے لوگ موجود تھے۔ شجر ممنوعہ کا سرسبزو شاداب نخلستان اور دور دور تک ریگستان کا لا متنائی گھوپ اندھیرا۔ ہر درخت پر کوئی آدم زاد موجود تھا اور حواکی بیٹیاں شجر ممنوعہ پر زبردستی چڑھائی جارہی تھیں۔ درخت کے پھل کھاتے ہی احساس زیاں جاتارہا اور گہرے کنویں کا خوف بھی کافور ہوگیا۔ ہر طرف اٹکھیلیاں چل رہی تھیں اور خشک ریگستان کے ٹھیک بیچو بیچ قہقہوں کے قل قل کرتے چشمے پھوٹ رہے تھے۔
ہم محبت کے رس میں بھیگے ہوئے تھے۔ہمیں غیر مرد کی آغوش میں خود سپردگی کے لیے خود ہمارے شوہرآمادہ کر رہے تھے۔ ان کی مدد سے ہم اپنے لباسوں کی قید سے انتہائی حساس طریقے سے دھیرے دھیرے آزاد ہورہی تھیں۔ ہمارے جسم کے تمام رونگٹے کانٹے دار گرگٹوں کی طرح کھڑے ہوتے جاتے تھے،جوں جوں مردانہ ہاتھوں کے لمس سے ہماری حساس جلدیں مس ہوتی جاتی تھیں۔ اوپر سے نیچے تک ہمارے اعضا بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے تھے …کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون سا ہاتھ اپنے اور کون سا پرائے مرد کا ہے۔ پورے بدن میں کپکپاہٹ سی دوڑ رہی تھی۔ ہم پر بے خود ی اس قدر طاری تھی کہ کچھ بھی سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ ہر پل بلکہ ایک ایک پل کے ہزارویں حصے میں بھی احساس کی لاکھوں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ ہمارے جنسی غدودوں میں اس قدر ہلچل مچی ہوئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ پراکرتی اور پرش کے اس ملن نے فطرت کے کاموں میں دخل در معقولات کرکے جوالا مکھی، طوفان اور سیلاب تینوں کے گیٹ بیک وقت کھول دیئے ہوں۔ ہم خس وخاشاک کی طرح جنسی ہیجان کے سیل رواں میں بہتے جارہے تھے۔
ہوش جب آیا جب دھیرے دھیرے موسیقی کی دھن مدھم پڑنے لگی اور جلتی بجھتی برقی قمقموں کی رنگ برنگی روشنی ماند پڑنے لگی۔ جسموں کے ملن کا سنگم چھتری ہوئی پرچھائیوں کی اوٹ میں گم تھا۔ وہاں تو صرف لیزر بیم کی چھٹکتی روشنی میں کوئی مخصوص عضو روشن ہواٹھتے تھے۔ کون سا عضو کس کا تھا،اسے دیکھنے کا ہوش کسے تھا۔
میرا شوہر شروع سے شہوت پرست اور حسن کا پرستار تھا۔ لیکن ہماری شادی شدہ زندگی میں جب چنگاریاں سرد پڑنے لگیں تو ایک دن، شام کی ملگجی روشنی میں اس نے سرگوشی سے میرا دل ٹٹولتے ہوئے کہا تھا۔ جان من! میں ایک ایسی جگہ جانتا ہوں جہاں جانے سے ہماری ازواجی زندگی کی خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں گی۔“
میں اپنی پوری شدت سے اُسے اُس کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے منع کرتی رہی…
لیکن مجھے معلوم تھا۔ وہ ایک بار کسی چیز کی ضد پکڑ لے تو اسے منع کرنا بہت ہی مشکل کام ہو جاتاتھا۔
مجھے جس بات کا سب سے زیادہ ڈر تھا،آخر وہی ہوا۔دھیرے دھیرے اس نے احساس محرومی میں مبتلا ہوکر بہت زیادہ شراب نوشی کرنی شروع کردی۔رات میں گھر دیر سے آنے لگا۔ہر وقت اس کا موڈ اکھڑا اکھڑا سا رہنے لگا۔
مجھے طرح طرح سے،اس نے یہ باور کرانے کی کوشش کرنی شروع کردی کہ ”وہ سہی“ ہے اور میں اس کی بات مان لوں …، آخر ایک دن اس کی ضد کے آگے میں جھک گئی۔ کیونکہ،میں اسے زیادہ دنوں تک روٹھا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ آخر کار، ایک دن جب میں اچھے موڈ میں تھی تومیں نے اُس کے لیے ’’حامی“ بھرلی۔
وہ خوشی سے ناچ اُٹھا۔ اُس کے دل کی مراد پوری ہوگئی تھی۔
وہ مجھے اُس پُر اسرار جگہ پر لے گیا۔
وہ جگہ کیا تھی، ایک خفیہ کلب تھا۔جہاں زوج کی ادلا بدلی ہوتی تھی۔ اصل میں،وہ کلب کثیر جنسی سرگرمیوں کی آماجگاہ تھا۔
اس کے دونوں ہاتھ کھمبے کے ساتھ ریشم کی ڈورسے بندھے ہوئے تھے اور وہ مست ہاتھی کی طرح جھوم رہا تھا۔ نسائی ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں کے لمس سے اس کی گردن، پیٹھ اور پہلوؤں میں متواتر سہرن سے دوڑ جاتی تھی۔یہ جسم وجاں کے اندر موجودمثبت حیوانی توانائیوں کو ہوا دے کر اسے تسخیر کرنے کا عمل تھا۔ جسے عرف عام میں کالا جادو جگانے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اول اول مرد وزن خوشنما پوشاکوں میں ملبوس یہاں وہاں گھوم ٹہل رہے تھے۔ لیکن جوں جوں موسیقی کی دھن میں تیزی آتی گئی، ان کے جسم کپڑوں سے بے نیاز ہوتے چلے جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے، مادر زاد انسانوں کا وہاں ایک جمگٹھا سا نظرآنے لگاتھا۔ وہ سب کسی اور ہی دُنیا سے آئے ہوئے دُم کٹے جانور معلوم ہوتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عریانیت کو ئی معیوب چیز نہیں ہے۔ جب خدا، گوڈ اور ایشور نے ہمیں اسی روپ میں بنایا ہے تو پھر اس پر سے یہ آورن کیوں اوڑھا جائے۔ ننگے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب ہم دوسروں کی بیویوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر منفی توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا انخلا ضروری ہے۔ اس طرح سے آزادانہ رہ کر ہم جس استری سے جی چاہے سنبھوگ کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ وہ استری بھی آپ کے اندر کشش محسوس کرتی ہو۔
اس عمل سے ہمارے اندر مثبت توانائی پیدا ہوتی ہے اور وقفے وقفے سے بطن اور دماغ میں مجتمع ہونے والی منفی توانائیوں سے ہمیں نجات ملتی ہے۔ ہم برے خیالات سے بچتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ایشور ہمیں ایسے روپ میں زیادہ پسند کرتا ہے۔ ہاں! جس کے اندر شہوانی جذبات کو مہیج نہ ملتی ہووہ شانت رہ سکتا ہے۔ اسے اسی میں آنند آتا ہے لیکن جس کی ترشنا جتنی تیز ہوتی ہے،وہ ترپتی کے لئے اتنا ہی زیادہ پریاس کرتا ہے۔یہ فطری بات ہے۔ آپ پیاسے گھوڑے کو پانی پینے سے روک توسکتے ہیں لیکن جس گھوڑے کو پیاس ہی نہ لگی ہو اُسے آپ زبردستی پانی نہیں پلا سکتے۔ اسی طرح آپ کسی بھی کام کو زبردستی نہیں کرسکتے۔ اگر روچی نہ ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لینے ہی میں بھلائی ہے۔
میں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
اس وقت میری عمرچھیالیس سال کی ہوچکی تھی۔ لیکن میرے شوہر کی بھوک تھی کہ اس کی عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی، اس کی شہوانی خواہشات مزیدجوان ہوتی جارہی تھیں۔ وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے بناؤ سنگھار کرکے کلب لے جاتا۔ میرے گورے گورے انگوں میں ایک قدرتی کساؤ برقرار تھا اورمیرے جوبن کے اُبھار بھی ماند نہیں پڑے تھے۔لیکن اندر سے میں خود کو کمزور محسوس کرنے لگی تھی۔ میں اپنے شوہر کی خوشی کے لیے وہ سب کچھ کر رہی تھی جس سے کہ وہ خوش رہے۔ مجھے غیر مردوں کے ہاتھوں میں جھولنے، ان کی بانہوں میں مچلنے اور اپنے ہونٹوں کے زوایے میں ان کی زبان کی پھسلن محسوس کرنے میں کچھ مزہ نہیں آتا تھا۔ لیکن جب اپنے شوہر کے سامنے دوسرا مرد آپ کے وجود کو جھنجھوڑتا ہے تو یقیناً آپ کے اپنے مرد کے اندر رقابت اور حسد کا ایک شعلہ سا لپک اٹھتا ہے اور وہ اس کی تپش میں جھلس کر اپنے اندر کی گرمی دوسری عورتوں کے اندر جاکر ٹھنڈا کرتاہے۔ یہ شعلوں سے کھیلنے کا ایک غیر فطری عمل ہے۔ لیکن یہی کام میرے شوہر کے اندر ہر بار جینے کی ایک نئی امنگ پیدا کر دیتا تھا۔ کئی ماہ تک آنکھ مچولی کا یہ سفلی کھیل چلتا رہا۔ اس کے اندر تیزی سے تبدیلی آرہی تھی۔ یہاں تک کہ ہماری ازدواجی زندگی میں ایک ایسا بھی موڑ آیا جب مجھے اس کی خوشی سے نفرت اور چڑھ سی ہونے لگی۔
در اصل، وہ نیا نیا امیر ہوا تھا اور اپنی اسی امارت کے گھمنڈ میں دُنیا کی حسین ترین دوشیزاؤں کو اپنی بستر کی زینت بنا رہا تھا۔اس کا دل ہر پل کسی ایسی الھڑ اور البیلی حسینہ کو ڈھونڈتا جو اس کے پہلوؤں کو ہروقت گرم کرتی رہے، —– اُس کا ماننا تھا کہ آج جو کچھ بھی اس کے پاس ہے وہ سب اس کی نجی محنت کا ثمرہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ میرا شوہر بہت لکی تھا۔ اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ریئل اسٹیٹ کا کاروبار شروع کیا تھا۔ اسے دن دوگنی رات چوگنی ترقی ملی۔گویا کوئی پارس پتھر اس کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایمپائر کھڑے کر لیے، فارم ہاؤس خرید لیے اور شہر کے گرد ونواح میں کئی ہوٹلیں کھول لیں۔ ہر ہوٹل میں باربی کیو اور ڈانس فلور بنوا رکھے تھے جہاں نوجواں جوڑیاں ڈنر سے پہلے اپنی بھوک بڑھانے کے لیے ڈانس کیا کرتی تھیں۔ کبھی کبھی میں اپنے شوہر کے ساتھ وہاں جاتی تو ان کا دل رکھنے کی خاطر میں بھی کچھ اسٹیپس کر لیا کرتی تھی۔ وہ مزید ضد کرتا لیکن میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی تھی۔
میری شادی جب ہوئی میں سو لھویں سال کے میٹھے شباب کے دور سے گزرر ہی تھی۔ جب بالی عمر کی لڑکیاں سپنوں میں اپنے شہزادے کو گھوڑے پر آتا ہوا دیکھتی ہیں۔ مہوئے کے رس سے جب انگ انگ مہک رہا ہوتاہے اور درد کے میٹھے چبھن سے سارا جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں من کرتاہے کہ کوئی آپ کو ٹوٹ کر چاہے، کوئی پیار کرے اور کوئی آپ پر اپنی جان نثار کرے۔ میں بھی چاہتی تھی کہ میں ایسے سپنوں کے راجکمار کے ہاتھوں میں اپنے حسن کے خزانے سونپ کر اس کی بانہوں میں سکھ چین کی بانسری بجاتی ہوئی عمر بسر کر دو ں۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔
جب میری شادی ہوئی۔میرے شوہر کی عمر بیس سال تھی۔ اس کے ہاتھوں میں اپناکوئی کاروبار نہیں تھا۔ وہ اپنے مالدار بھائی کا شافر تھا۔ بھائی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ پیر وفقیر اور درگاہوں کی خاک چھان کر تھک چکے تھے۔ تبھی انھیں کسی نے مشورہ دیا کہ اپنے چھوٹے بھائی کی شادی کردو۔شاید اس کی قسمت سے اولاد کا سکھ نصیب ہوجائے۔ میرے شوہر کے ماں باپ پچپن میں ہی خدا کو پیارے ہوگئے تھے۔ وہ یتیم تھا۔ میں بیاہ کر آئی۔ گھر میں پھول جیسے دو بچے ہوئے۔ بڑے لاڈ پیار سے ان کی پرورش ہوئی۔ بڑے ہوئے، پڑھنے کے لیے یونیورسٹیوں میں چلے گئے۔تعلیم مکمل کی ملازمت ملی پھر وہیں کے ہوکے رہ گئے۔
ایک دن میرے شوہر نے اداسی بھرے لہجے میں کہا تھا۔
اتنی کم عمر میں شادی ہوئی۔ کیسے بچے ہوئے۔ کب پلے بڑھے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ شادی تو گوڈے گڑیئے کا کھیل ہوگیا۔ جب تک سمجھ میں آیا کہ شادی کیا ہوتی ہے، کیوں ہوتی ہے اور زندگی کا لطف کیسے لیتے ہیں۔تب تک پُل کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔اس کا خیال تھا کہ یہ زندگی صرف ایک بار ملی ہے لہٰذا، اسے کھل کر اپنی پوری قوت سے جینا چاہتا تھا۔
اُس نے کہا تھا۔
میں ایک خود ساختہ انسان ہوں۔ تم جانتی ہو،میں سڑک سے اُٹھ کر یہاں تک پہنچاہوں۔ جہاں دُنیا کی عظیم الشان چیزوں تک آج میری رسائی ممکن ہوپائی ہے۔آج میں جب چاہوں، حسین سے حسین دوشیزہ کو اپنے بسترکی زینت بنا سکتا ہوں۔ یہ سب میں نے اپنے عزیزترین جذباتی رشتوں کو کھو کر حاصل کیا ہے۔ اس مشینی دور میں، اپنے سچے اور معصوم جذبات کا میں نے خود اپنے ہاتھوں سے خون کیا ہے۔
تم جانتی ہو،میں ایک ما بعد جدید انسان ہوں۔میں ان سب چیزوں سے کسی بھی قیمت پر تیاگ نہیں لے سکتا۔ میں سنیاسی بن کر جینا نہیں چاہتا۔ یہ زندگی صرف ایک بار ہی ملی ہے۔ لہٰذا،میں اس سے لطف اُٹھانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی جنسی تشنگی کو تہہ دامن دبا کے مہا پرش اور مہاتما بننے کا آڈمبر نہیں رچ سکتا…..
میں اپنے شوہر کے ارادے کے حوالے سے ایک التباس میں مبتلا تھی۔ایک طرف وہ قدرت سے اپنی شخصی نقص کا انتقام لینا چاہتا تھا۔تو دوسری طرف اس کے دماغ میں ازدواجی زندگی سے متعلق ایک تشنگی سی گھر کر گئی تھی۔ بس، یہی فتنہ سا خیال تھا۔جس کے انکور نے کے بعد کونپلیں متواتر پھوٹتی رہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک تناور درخت میں تبدیل ہو گیا۔اس کی بوالہوسی نے کسی برگد کی جڑوں کی طرح سے اپنے شاخسانے چاروں طرف پھیلانے شروع کر دیئے۔ حتیٰ کہ اب وہ بڑھتے بڑھتے ایک مہیب جگادری درخت میں منتقل ہو چکا تھا۔
ہاں! وہی شجر ممنوعہ۔
اس شجر ممنوعہ کی جڑوں سے لگا ایک گہرا کنواں بھی تھا جسے دیکھ کے ڈر لگتا تھا۔ مگر اس درخت کے پھل نے مجھے اول اول ایسا مدہوش کیا کہ اس کی سرشاری میں میرے حواس ٹھکانے نہ رہے اور جب ہوش آیا تو میری دنیاپوری طرح سے اُجڑ چکی تھی۔
وہ کالی بھوجنگ تھی،جیسے کوؤں کی کوئی پری!
اُس کی بوٹی بوٹی چمکتی تھی،کسی ناگن کی طرح۔ایک بار جو اُسے آنکھیں بھر کے دیکھ لیتا مجال نہیں کہ اس کی نگاہیں اس پر سے دم بھر کو بھی ہٹ جائے۔یہ سچ ہے کہ اس کے اندر بلا کی کشش تھی۔
میراشوہربلا کی کشش کی زد میں آ چکا تھا۔وہ اُس پر لٹّو تھا۔ اسے ایسی پُرکشش عورتیں بڑی مرغوب تھیں۔ لیکن اس کے اندر اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ انھیں اپنی طرف متوجہ کرسکے۔ وہ انھیں مخاطب کرنے سے ڈرتا تھا۔ کیوں کہ اس کے اندر ایک قدرتی نقص تھا۔ ’وہ ہکلاتا تھا‘۔ وہ اپنے اس ہکلے پن کے قدرتی نقص کو خالق کائنات کا تخلیقی نقص تصور کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ قدرت نے اس کے ساتھ بے انصافی کی ہے۔ چنانچہ،وہ اس کا انتقام اس کی مخلوق سے لینے پر آمادہ تھا۔ اس انتقام کی آگ میں وہ جل رہا تھا۔ اس نے اس کے لیے انتھک محنت کی اور جوں ہی خاطر خواہ دولت جمع کر لی، وہ اپنے مشن پر لگ گیا تھا۔ تبھی اسے اس کلب کا پتہ چلا تھا۔ اس نے اپنا وقت ضائع کیے بغیر ایک تہہ شدہ منصوبے کے مطابق مجھے شیشے میں ڈھال لیا تھا۔
اُس کی طرف سے میں غفلت میں تھی۔جب ہوش میں آئی، بہت دیر ہو چکی تھی۔ تب تک وہ قدرت کے ہر شاہکار کو شکست و ریخت کر دینا چاہتا تھا۔ اس کی نظر میں عورت سے بڑھ کر قدرت کا شاہکار اور بھلاکون ہو سکتا تھا!
لہٰذا، اس نے ہر مسکراتی ہوئی کلی اور ہر کھلتے ہوئے پھول کو اپنے پیروں تلے بے رحمی سے روندنا شروع کر دیا تھا۔
اس نے جھوٹ کہا تھا۔
”ازدواج کی عارضی ادلا بدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہار آ جاتی ہے جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔“
لیکن —— جب کبھی سوچتی ہوں تو لگتا ہے۔
اس نے سچ ہی کہا تھا۔
”محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھونٹنے لگتی ہیں۔“
ہاں! کونپلیں تو پھوٹیں اور خوب پھوٹیں لیکن یہ اور بات ہے کہ اس کے ساتھ ہی میری قسمت بھی پھوٹ گئی۔
وہ میرے سامنے اس کلجگ کی گوپیوں سے پینگیں بڑھاتا رہا اورمیں گم صم بنی اپنی آنکھوں سے یہ سب تماشہ دیکھتی رہی۔بھانت بھانت کے رنگ روپ کے مردوزن جب ایک دوسرے میں پیوست ہوتے توآدم زادوں کا ایک ایساہیولہ تیار ہو جاتا تھا،جو اپنے آپ میں کسی شجر ممنوعہ سے کم نہ تھا۔ اس پر مستزاد، وہ لمبی سیاہ زلفوں والی ڈائن تھی جو مردوں کے ہاتھوں میں شراب سے لبریز کسی پیمانے کی طرح گردش کرتی رہتی۔ حتیٰ کہ اس کے گرد مردوں کی لام لگ جاتی اور وہ سب اکٹھے اسے اپنے گرم گرم ہونٹھوں سے چومتے تھے۔
اِدھر میں اپنے ہاتھوں سے اپنے نصیبوں کو رو پیٹ کر بیٹھ چکی تھی۔میری حیثیت اُس چوسی ہوئی آم کی گٹھلی کی مانند ہوچکی تھی جو آدم زادوں کی ٹھوکروں کی زد پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جاکر گر پڑتی ہے۔ جسے گدھے بھی سونگھ کے چھوڑ دیتے ہیں۔
میرا شوہر بھی بہت بڑا گدھا تھا۔ اس کا سر گدھے ہی جیسا لمبا تھا جسے وہ سنبھال کر اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا تھا۔جب اسے عشق کا دورہ پڑتا تو ڈھینچو ڈھینچو کرتا ہوا،سر عام اپنی سنک پوری کرنا شروع کر دیتا تھا۔
ایسے ہی کسی افسردگی کے اداس لمحوں میں میرے شوہر کے بڑے بھائی نے مجھے شہر کے سب سے قدیم سینے گاج کے ایک ربی ّ سے ملاقات کر وائی تھی۔ میری درد بھری داستان سننے کے بعداُس نے مجھے توریت کا ایک واقعہ سنا یا تھا۔
انھوں نے کہاتھا۔
آدم جب جنت میں اپنے اکیلے پن سے گھبرانے لگے تو خدا نے ان کی دل جوئی کے لیے آدم کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا۔ایک ساتھی مل جانے کے بعد آدم اور حوا جنت میں خوب شاداں و فرحاں رہنے لگے۔تبھی للت جس کی شکل عورت کی تھی مگر اس کا بدن سانپ کا تھا۔اُسے یہ سب دیکھ کے برداشت نہ ہوا۔ کیونکہ وہ جنت میں اس وقت سے موجود تھی جب حوا کا وہاں وجود بھی نہ تھا۔در اصل، حوا وہاں بعد میں آئی تھی اور للت وہاں پہلے سے رہ رہی تھی۔ ایک دوسری عورت کو دیکھ کے للت کے اندر جلاپا شروع ہو گیا۔اس نے آدم اور حوا کے خلاف ایک سازش رچی اور باغِ بہشت کے ایک خاص شجر ممنوعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”ارے یہ کیا بات ہوئی کہ جنت کا جو سب سے بہترین پھل ہے، بھلا اسے ہی کھانے سے منع کر دیا جائے۔اس نے بی بی حوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
دیکھو! تم یہ پھل ضرور کھانا۔ اس جیسا جنت میں کوئی دوسرا پھل نہیں ہے۔“
اتنا سننا تھاکہ حوا اپنی فطری معصومیت کی وجہ سے سازش کا شکار ہو گئیں۔جنت کا پھل چکھتے ہی ان کی شرمگاہیں عیاں ہوگئیں اور پھل کھا لینے کی پاداش میں انھیں خلد سے نکال دیا گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن عورت ہی عورت کے اخلاقی زوا ل کا سبب بنی ہوئی ہے۔
اس واقعہ کے سننے کے بعد مجھے لگا۔ میں بھی کسی سازش کا شکار ہوئی ہوں۔
میرے شوہر اور وہ سیاہ فام چڑیل ایک دوسرے کو شاید،بہت پہلے سے ہی جانتے تھے۔
وقت گزرتا رہا اور زندگی کسی ناگن کی طرح رات کی تنہائی میں ڈستی رہی مجھے برسوں۔حتیٰ کہ رات کی تنہائی کے تصور سے ہی میری ہڈیوں میں کوئی سرد سی لہر دوڑ جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ،میری حالت غیر ہونے لگی۔ مجھے اپنے شوہر کی ایسی ذلیل حرکتوں سے نفرت سی ہونے لگی۔ وہ میرے پاس ہوتے ہوئے بھی مجھ سے کوسوں دور محسوس ہونے لگا تھا۔ میں اپنی نظروں کے سامنے اسے اپنے سے دور ہوتا دیکھتی رہی۔
میری اس لا متناہی اداسی اورگہری خاموشی کو دیکھتے ہوئے۔میرے شوہر کے بڑے بھائی نے بڑی پدرانہ شفقت سے سمجھاتے ہوئے تھا۔
”دیکھوبیٹا!
محبت آزاد پرندہ ہے۔ اسے کھلی فضا میں چھوڑ دو۔اگر لوٹ آئے تو تمھارا ورنہ وہ تمھارا کبھی تھا ہی نہیں۔“
یہ ا یسی حقیقت تھی کہ جس کے تلخ گھونٹ مجھے تنہا پینے پڑے۔
میرا پرندہ کسی اور ہی مٹی کا بنا تھا۔اسے نہیں لوٹنا تھا، وہ نہیں لوٹا——- میں یہ سب کس سے شیئر کرتی؟
میری متی ماری گئی تھی۔ کلب کی رنگین پرچھائیاں اس خردماغ کو شراب و شباب سے خوب شرابور کرتی رہیں اور میری آنکھیں دھوکا کھاتی رہیں، میری عقل پر پتھر پڑ گیا تھا۔ میری نظروں کے سامنے وہ اس سیاہ سمندر کے نمکین پانی میں غوطے کھاتا رہاہے، متواترڈوبتا رہا، متواتر ابھرتا رہا او ر حیرت ہے کہ اس کے قہقہوں کی آواز میرے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھیں۔
آج، میں خود کو اکیلے پن کے ایسے اندھے کنویں میں گری ہوئی محسوس کررہی ہوں،جہاں سے میری آواز باہر کی دُ نیا تک پہنچ نہیں سکتی ہے۔ میں اندر ہی اندرچیخ رہی ہوں لیکن میرے آس پاس مجھے کوئی سننے والا نہیں ہے۔
افسوس!
صد افسوس!میں نے یہ کیا کیا۔
شجر ممنوعہ کی چاہ میں!
٭٭
Dr. Perwaiz Shaharyar
Flat No. 4/48, NCERT Campus
Sri Aurobindo Marg, New Delhi-16
پولیوشن: ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
پولیوشن
ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر123221
بائیک اسی کی رفتار پر دوڑ رہی تھی۔شہر پہنچنے تک ابھی تیس میل کا فاصلہ تھا۔دن ڈھل رہا تھا اور دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ اُس کا تناؤ بھی بڑھ رہا تھا۔ایک تو اسے ماں کی دوا لانے کی فکر تھی اور دوسراوقت پر گھر وآپس لوٹنے کی پریشانی تھی۔اس کا علاقہ شہر سے تقریباََستر میل کی مسافت پر تھا۔خراب حالات کی وجہ سے رات کو چلنا پھرناتھوڑا بہت مشکل ہوتا تھا۔وہ ایک پرائیوٹ کمپنی میں رنر کا کام کرتا تھا۔کمپنی کی طرف سے اُسے پانچ ہزارتنخواہ ملتی تھی‘جسے وہ گھر کے اخراجات چلاتا رہتا تھا۔کمپنی نے اُسے ایک بائیک بھی استعمال کے لئے دے رکھی تھی تاکہ وہ کمپنی کے کام کو وقت پر انجام دے سکے۔وہ جب شام پانچ بجے گھر میں داخل ہوا تو ماں چائے کی پیالی سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگی: ”میری دواختم ہوئی ہے۔“ ”صبح بتایا ہوتا تومیں ساتھ لے کر آتا۔“وہ ماں کی بات سن کر کہنے لگا۔”اب تو دیر ہورہی ہے اور دوا شہر میں ہی ملتی ہے۔“ ”صبح کو یادنہیں رہا وہ تو دوپہر کو تب خیال آیا جب میں دوا کھانے لگی۔“ما ں اسے پریشان ہوتے دیکھ کر بول پڑی۔”اچھا چھوڑو‘پریشان مت ہوجا صبح کو دیکھیں گے۔“
”صبح کیا دیکھیں گے۔“وہ چائے پینے کے بعد کھڑا ہوکر کہنے لگا۔”ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کے مطابق اگربھول سے بھی کبھی
دوا کھانے سے رہ گیا تو پھر سے تین مہینے کا کورس شروع کرنا پڑے گا۔“
اس نے جلد ی بائیک اسٹارٹ کی اور شہر کی جانب نکل پڑا۔بائیک تیز رفتاری سے چل رہی تھی۔ٹریفک پولیس پر نظر پڑتے ہی اس نے بائیک کی رفتار کم کردی۔نزدیک پہنچنے پر پولیس مین نے اُسے رکنے کا اشارہ کردیا۔اس نے اشارہ پاتے ہی بائیک سائیڈ میں لگادی۔ پولیس مین نے اسٹک سے اشارہ کرکے کاغذات دکھانے کو کہا۔اس نے کاغذات اور لائسنس نکال کر پولیس والے کے ہاتھ میں تھما دیئے۔پولیس مین کاغذات چک کرنے لگا۔ٹریفک اہلکار ایک خوبصورت نوجوان تھا‘شاید نیانیا بھرتی ہوا تھا۔وہ کاغذات چک کرنے کے بعداُسے مسکراتے ہوئے سمجھانے لگا کہ ہیلمٹ کے بغیر بائیک چلانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا ہے اور اوپر سے جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔یہ سمجھانے کے بعد پولیس والا جونہی اسے کاغذات وآپس دینے لگاتو اسی وقت پاس والی گاڑی میں بیٹھے افسر کی آواز آئی کہ اسے یہاں بھیج دو۔یہ سنتے ہی پولیس اہلکار اسے افسر کے پاس لے گیا اور کاغذات افسر کو دے کر دوبارہ گاڑیوں کی چکینگ کرنے لگا۔افسر ادھیڑ عمر کا ایک موٹا تازہ شخص تھا۔وہ سگرٹ کا ایک کش لیکر کاغذات چیک کرنے لگا۔ ”اچھا تمہارا نام انعام دارہے۔“کاغذات چیک کرتے کرتے وہ بھدی سی ناک سکیڑتے ہوئے پوچھ بیٹھا۔ ”ہیلمٹ کے بغیربائیک کیوں چلا رہا تھا؟“
”سوری سر“وہ عاجزی سے کہنے لگا۔”دراصل میں جلدی میں گھر سے نکل پڑا اور ہیلمٹ لگانا بھول گیا۔“
”لیکن قانون جلدی اور صبر نہیں دیکھتا ہے۔“پولیس افسرتیور بدلتے ہوئے بول پڑا۔”قانون کا کام غلطی پکڑنا ہوتا ہے‘جو تم نے کی ہے۔پھربھی آج کل تمہارے جیسے سر پھیرے نوجوان فلمی اسٹائل میں بغیر ہیلمٹ کے بائیک رائیڈنگ کا کرتب دکھاتے رہتے ہو۔“
”نہیں سر۔“وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔”میں تو ماں کی دوا لانے کے لئے شہر جارہا ہوں۔اسے میری لاپرواہی ہی سمجھیں کہ میں ہیلمٹ لگانا بھول گیا۔“
”پھر بھول کا بہانہ۔“افسرسر ہلاتے ہوئے کہنے لگا۔”اچھا اپنی بھول کا ثبوت پیش کرو۔“
”بھول کا ثبوت…..!“
”ہاں بھول کا ثبوت یعنی ڈاکٹر کا نسخہ۔“
”ہاں سر۔“ وہ جیب سے نسخہ نکالتے ہوئے بول پڑا۔”یہ ہے دوا کا نسخہ۔“
”نسخہ تو ہے۔“افسر نسخہ وآپس دیتے ہوئے بول پڑا.”لیکن قانون تو قانون ہے۔جلدی سے جرمانے کے طور پر پانچ سو نکالو۔“
”پانچ سو…..“وہ حیران ہوکر کہنے لگا۔
”ہاں پانچ سو.“افسرچالان بک کھولتے ہوئے کہنے لگا۔”نہیں تو کورٹ چلان کرونگا۔“
”پلیز سر‘چالان مت کیجیے .“وہ منت سماجت کرنے لگا.”اورمیں صرف سو روپے دے سکتا ہوں کیونکہ میرے پاس صرف سات سو روپے ہیں۔پانچ سو کی تودوائی آتی ہے‘سو کا تیل ڈالنا ہے اور باقی سو روپیہ بچتا ہے۔“
”دیکھوں ناٹک بازی مت کرو.“
”سر میں سچ کہتا ہوں۔“
”یہاں سچ اور جھوٹ کا مسئلہ نہیں ہے۔“پولیس افسر رعب دارآواز میں گرجنے لگا۔”یہاں قانون کا مسئلہ ہے اور ہم قانون کے رکھوالے ہیں۔اگر ہم ہی قانون توڑیں گے توپھر قانون کو کون جوڑ کر رکھے گا۔“
”جی سر آپ کاکہنا بجا ہے.“وہ پھرگزارش کرنے لگا۔”لیکن اس وقت میں بھی مجبور ہوں‘اگراس قابل معاف غلطی پر بھی
آپ مجھ سے پیسے لینگے تومیں ماں کی دوائی خریدنے سے رہ گیا۔“
”تو پھر کورٹ کچہری کے چکر کاٹو۔“افسر اس پر ترچھی نظرڈالتے ہوئے کہہ اٹھا”اچھا چار سو ہی دے دو‘کام چل جائے گا۔“
”لیکن سر۔“
”لیکن ویکن کچھ نہیں‘جلدی کرو۔“
انعام دار کچھ لمحے سوچنے لگا کہ اگر وہ اس افسر کوقابل معاف غلطی پر بھی غلط طریقے سے پیسے دیگا تو ماں کی دوا کہاں سے آئیگی‘اور اگر پیسے نہیں دیگا تو چالان ہونے کے بعد پتہ نہیں کورٹ کچہری کے کتنے چکر کاٹنے پڑینگے۔وہ ابھی اسی شش و پنج میں تھاکہ پولیس مین نے ایک اور نوجوان کو افسر کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ سر‘اس کے پاس نہ تو لائسنس ہے اور نہ ہی پولیوشن سرٹفکیٹ ہے اور اوپر سے رعب جما رہا ہے کہ یہ وزیر ٹرانسپورٹ کا بھانجا ہے۔
”بھانجا ہے۔“افسر کے منہ سے زور دار ہنسی نکل گئی۔”اگر یہ وزیر ٹرانسپورٹ کا بھانجاہے تو میں بھی محکمہ ٹرانسپورٹ کا
دادا ہوں۔“
”لائسنس کے بغیرگاڑی ڈرائیو کررہا ہے۔“افسر اُس کے حلیے کا میجر منٹ لیتے ہوئے بول پڑا۔”چل ایک ہزار روپے نکال نہیں تو گاڑی بھی سیز ہوسکتی ہے۔“
”آپ گاڑی سیز کریں گے…..؟“وہ لڑکا بڑے کروفر کے ساتھ بول پڑا۔”پھر خود ہی گاڑی کے ساتھ معافی کا کھاتہ لیکر ماموں جان کے پاس دوڑتے دوڑتے چلے آئینگے۔“
”اچھا تیرے پاس کیا ثبوت ہے کہ تومنسٹر صاحب کا بھانجا ہے۔“پولیس افسر لڑکے کی اکڑ دیکھ کرپوچھ بیٹھا۔
”میں مامی جان سے موبائل پر بات کرکے دکھا ؤں۔“لڑکا موبائل پر کال ملاتے ہوئے بول پڑا۔
”ہاں‘ہاں کال ملا دو۔“افسر جلدی میں بول پڑا.
”ہیلو! مامی جان۔۔۔“
”ہیلو بیٹا‘ ٹھیک ہو۔“
”مامی جان‘ میں گلمرگ کی سیر کرکے وآپس آرہا تھا کہ ہائی وے پر ٹرافک پولیس نے روکے رکھا ہے۔‘‘
”ذرا ان کو فون دینا۔“
”ہیلو میڈم“پولیس افسر خوش ہوکر بول پڑا.
”کیا پروبلم ہے؟“
”کچھ نہیں میڈم بس تھوڑا سا کاغذات چک ہورہے تھے۔“افسر میٹھی زبان میں کہنے لگا.“ ”اب۔۔۔!“ ”اس کے پاس لائسنس اور پولیوشن سرٹفکیٹ نہیں تھی اس لئے اب اسے سمجھا رہے تھے کہ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانا قانوناََ جرم ہے۔“
”اچھا ٹھیک کیا‘میں اُسے گھر پر بھی سمجھا دونگی۔“
”ٹھیک ہے میڈم‘میں اسے ابھی چھوڑ دیتا ہوں۔“افسر چند قدم چل کر کہنے لگا.”اگر آپ اجازت دیں
تو میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔“
”ہاں بولو بولو۔“
”میں یہاں سے ٹرانسفر ہونا چاہتا ہوں .“افسر مودئبانہ لہجے میں کہنے لگا۔”اگر آپ منسٹر صاحب سے کہہ دیں گے
تو میرایہ پرابلم جلد ہی حل ہوسکتا ہے.“
”اچھا ٹھیک ہے‘ تم اپنانام پتہ لکھ کر بھیجو۔“
افسر نے بڑے خوشگوار موڈ میں لڑکے کو اپنا موبائل وآپس کردیااور گاڑی میں دوبارہ جاکر کاغذ قلم سنبھالا۔
انعام دار بے سی کے عالم میں اس گرگٹ کے بدلتے رنگ دیکھ کر زہر کے گھونٹ پیتا رہا۔
”تم نے کیا مشورہ کیا…؟“افسر انعام دار کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھا۔
”سر‘میر ی بھول سے قانون میں جھول پڑ رہاہے۔“انعام دار افسر کو پیسے دیتے ہوئے کہنے لگا .”اسلئے آپ ایک مجبور کی جیب خالی کر کے اپنے ٹوٹے پھوٹے قانون کو جوڑنے کی کوشش کیجئے۔“
”مذاق کرنے کا فن خوب جانتے ہو۔“افسر پیسے جیب میں ڈالتے ہوئے کہنے لگا۔”اچھا اب یہاں سے جلدی جلدی بائیک لے کر چلے جاو‘کیونکہ تمہیں دور جانا ہے۔“
پولیس افسر کاغذپر منسٹر کیلئے اپنا نام وپتہ لکھنے میں مشغول ہوگیا اور انعام دارمایوس ہوکر بائیک پر چڑھ گیا۔بائیک کو کِک مارتے ہی اُس نے پولیس افسر کو حقارت بھری نظر سے دیکھا اورمنہ سے پولیوشن کا لفظ نکالتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔
mob:9906834877
E.mail:drreyazbhat@yahoo.in
عید گاہ سے وا پسی : ڈاکٹراسلم جمشید پوری
ڈاکٹراسلم جمشید پوری
عید گاہ سے وا پسی
پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب کو بے کا ر کر دیا تھا۔ گھر آ نے پر اس کی دادی پہلے اس سے نا راض ہو ئی تھیں او ر پھر اُ سے گلے لگا کرخوب پیار کیا اور دعائیں دی تھیں۔ اس کے وا لدین کو بچپن ہی میں اللہ میاں نے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اُ سے ان کی صورتیں بھی یا د نہیں تھیں۔ بعد میں دادی نے اُسے غریبی، مجبو ری، بے بسی اور لا چا ری کے لقمے کھلا کھلا کر پا لا تھا۔ اس کا بچپن دو سرے بچوں سے مختلف تھا۔ دو نوں دا دی پو تے ایک دو سرے کی کا ئنات تھے۔ اُ سے وہ دن بھی یا د تھا جب قیا مت صغریٰ نے اُسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ایک رات جب وہ سو رہا تھا۔بہت تیز آ ندھی آ ئی تھی۔ ہوا اور پانی نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔بہت سے پیڑ، پھوس کی چھتیں، کچی دیواریں اور جھونپڑے زمین سے اپنا رشتہ ختم کر چکے تھے۔ ایسے میں اس کی دادی جو گھر کے اسارے میں محو خواب تھیں، چھان گرنے سے دب کر اپنے بچوں کے پاس چلی گئی تھیں۔وہ دادی دادی کرتا رو تا رہ گیا تھا۔ گاؤں کے ہی لوگوں نے دفن وغیرہ کا انتظام کیا تھا۔ وہ تقریباً پندرہ سال کا تھا۔ اس کا حال ایسا تھا گویا زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ گیا ہو۔ اس کا اس بھری پری دنیا میں دادی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ ان کے جانے کے بعد پڑوس کے بابا سکھ دیو نے اس کی ہمت بندھا ئی تھی۔ وہ اُ سے اپنے گھر لے گئے اور اُ سے اپنے بچے کی طرح پالا پوسا۔ گا ؤں کے اسکول سے پانچویں تک پڑھنے کے بعد اُس نے پاس کے ایک چینی مل میں مزدوری کا کام شروع کردیاتھا۔
”بابا……بابا…..مجھے بیلون لینوہے“
اس کے آ ٹھ سا لہ پو تے سا جد نے ایک غبارے وا لے کو دیکھ کر اسے ہا تھ پکڑ کر جھنجھو ڑا تو وہ ماضی کے صحرا میں چلتے چلتے اچانک رک گیا تھا، ماضی کے وا قعات بھی چھلاوے کی طرح غائب ہو گئے تھے۔ وہ اپنے اکلوتے پو تے کے ساتھ عید گاہ جارہا تھا۔ عیدیں تو ہر سال آ تی رہتی ہیں او ر ہر سال وہ عید کی نماز ادا کرتا تھا لیکن اس با ر وہ اپنے پو تے کے ساتھ پہلی دفعہ عید گاہ جا رہا تھا۔
”بیٹا ابھی نہیں، واپسی پر لن گے۔ابھی نماز کو جا رئے ہیں۔“
اس کے گا ؤں سے عید گاہ تقریباً 5کلو میٹر دورتھی۔ اس کا اپنا گا ؤں ہندو اکثریتی گا ؤں تھاوہاں مسجد نہیں تھی،پاس کے گا ؤں میں مسجد تھی۔ اکثر مسلمان جمعہ اور عید۔ بقر عید کی نما زوں کے لیے وہیں چلے جاتے تھے۔ حا مد کو عید گاہ میں ہی عید کی نماز پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ لیکن کبھی موسم کی خرا بی، کبھی وقت کی تنگی اور کبھی کام کی فرا وا نی کے باعث وہ ہر سال عید گاہ نہیں جا پاتا تھا۔ اس بار وہ کافی عرصے بعد عید گاہ کے لیے اپنے پو تے سا جد کے ہمراہ نکلا تھا۔ گا ؤں سے نماز کے لیے ایک ٹو لہ روانہ ہوا۔کچھ نو جوان اسکو ٹر اور بائک سے نکلے تھے۔ کچھ پیدل ہی چل رہے تھے۔ کتنی خو شی اور رو نق تھی ان کے چہروں پر۔وا قعی عید اللہ کا انعام ہے۔ ایک ماہ کے رو زے رکھنے کے بعد،عید کی خو شی کا عا لم ہی کچھ اور ہو تا ہے۔اللہ مسلمانوں کی محنت، صبر، لگن اور للہیت کے بدلے عید کے دن ان کے گناہ بخش دیتا ہے۔ میاں حا مد نے رمضان کے پو رے رو زے رکھے تھے۔گھر میں اس کی بہو بھی رو زے کی پابندی کرتی تھی۔ ایک پوتا اور ایک پو تی……بس یہی کائنات تھی اس کی۔بیٹا واحد …..گذشتہ دنوں ہونے وا لے ہندو مسلم فساد کی نذر ہو گیا تھا۔ بیٹے کی یاد آ تے ہی اچانک ذہن کے سا توں طبق رو شن ہو گئے۔ چار سال قبل،پس منظر کا حصہ بن چکے منا ظر، یکے بعد دیگرے نظروں کے سا منے آ نے لگے۔
ملک پر بڑا برا دن آ یا تھا۔ سرخ آ ندھی اس بار شہروں سے اُ ٹھی تھی جوشہروں، شہروں قصبات اور دیہات میں پھیل گئی تھی۔ ہندو مسلم منافرت…..ایک دوسرے کے خون کے پیا سے لوگ……عبا دت گا ہوں کو مسمار کر نے کا جنون……کیا عبادت گاہوں کی مسماری سے کوئی قوم ختم ہو جاتی ہے؟یہ وہی ہندو مسلم تھے
جنہوں نے شا نے سے شا نہ ملا کر ملک کو آزاد کرایا تھا۔ آج کیا ہو گیا ہے ان کو؟کیوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہیں۔ واحد بے چارہ ان حالات سے بے خبر تھا،اس نے تو گاؤں میں آ نکھ کھو لی تو اپنے باباسکھ دیو، چاچا بلدیو اور اپنے ہم عمر دوست رام اور کنور پال کو دیکھا تھا۔ وہ تو انہیں کے درمیان کھیلتا ہو ا بڑا ہوا تھا۔ پاس کے ہی شہر میں وہ ایک بیکری میں مزدوری کا کام کرتا تھا۔ اس کی تنخواہ اور گا ؤں کی محنت مزدوری سے میاں حامد کسی طرح گھر چلا رہے تھے۔ شہر میں آ نے وا لی سرخ آندھی نے بڑی تبا ہیاں مچا ئی تھیں۔ واحد بھی اس سرخ آ ندھی کی زد میں آگیا تھا۔اسے اس کے ہی سا تھیوں نے سرخ آندھی میں جھونک دیا تھا۔ غضب تو اس وقت ہوا جب وا حد کی لاش گا ؤں پہنچی۔
” حامد……او حامد….واحد کی لاش ….آئی ہے“بلدیو نے میاں حا مد کو خبر دی تو اُسے جیسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ یا۔وہ بلدیو کو پکڑ کر چلا یا۔
”کیوں مجاق کرو ہو۔“
ابھی وہ بلدیو کے کا ندھوں کو پکڑ کر ہلا ہی رہا تھا کہ ایک گا ڑی دروا زے پر رکی۔ گاڑی کا دروا زہ کھلا اور اسٹریچر پر وا حد کی لا ش لیے دو لوگ اندر داخل ہو ئے۔ لاش کو چارپائی پر لٹا کر الٹے قدموں لوٹ گئے۔ کسی میں ان سے وا حد کی موت کے با رے میں پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔سا رے گا ؤں وا لوں کے سر جھکے ہو ئے تھے۔ ایک ایک کر کے سب کو پتہ چل گیا تھا کہ وا حد کو شہر میں اس کے سا تھی مزدوروں نے مار دیاتھا۔ گا ؤں کے ہندو، خود کو وا حد کا قاتل محسوس کررہے تھے۔ میاں حا مد کی حا لت عجیب تھی،ان پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ آواز بند ہو گئی تھی۔ وہ لاش کو ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے تھے۔گویا انہیں امید ہو کہ واحد اب اٹھا اور تب اٹھا۔اور اٹھتے ہی بابا کہتا ہواان سے لپٹ جائے گا۔اچانک بہت زور سے چیختے ہوئے میاں حامد زمین پر بے سدھ گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔واحد کی بیوی شکیلہ پر بھی بے ہوشی کے دور ے پڑ رہے تھے۔ ساجد اور نازو اپنی ماں کے بے ہوش جسم سے لپٹے رو رہے تھے۔بلدیو اور گاؤں کے پردھان ٹھاکر امر پال نے تدفین کا انتظام کیا۔ واحد کے جانے کے بعد سے میاں حامد کی حالت اس بوڑھے کی سی ہوگئی تھی جو لاغر ہو، کمر جھکی ہو اور اس کی لاٹھی اس سے چھین لی گئی ہو۔میاں حامد نے بچپن سے ہی بڑے نازک حالات دیکھے تھے۔قحط پڑتا تھا تو کھانے کے لالے پڑجاتے۔مٹر، باجرہ، بے جھڑ اور جو کی روٹیاں بھی دن میں ایک وقت مل جاتیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔گھر، گھرکیا تھا۔ بس ایک کمرہ اور اسارا تھا۔کھیتی کی زمین نہیں تھی۔اس کے باپ داد انے بھی دوسروں کے یہاں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالا تھا اور ایک چھوٹا سا گھر بنالیا تھا۔شروع میں باباسکھ دیو کے گھر سے ہی اسے وقت بے وقت کھانا ملتا تھا بعد میں اس نے خود بھی کھانا بنا نا شروع کردیا تھا۔
”بابا……او بابا…..وہ تتلی پکڑدونا ……….کتی اچھی ہے وہ“
ساجد کی آواز نے ایک بار پھر انہیں سوچ نگر کی گلیوں سے حقیقت آباد کے کچے راستوں پر لادیا تھا۔اس کا پوتا ایک تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔تتلی کبھی ادھر کبھی ادھرجاتی، لیکن ساجد کے پہنچتے ہی اڑجاتی۔ انہیں ایک پل کو لگا جیسے تتلی ان کی خوشی ہو، جو ہمیشہ اس سے آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے۔لمحہ بھر کو لگتا کہ اب ہاتھ آئی …..اب آئی۔ لیکن پھِر پھُرسے اڑجاتی۔ بے چارے ساجد کو کیا پتہ کہ یہ تتلی ہماری قسمت میں نہیں؟ہماری قسمت میں تو ہمیشہ کے دکھ ہیں جو سردی کی راتوں جیسے طویل ہوتے ہیں۔
”ساجد بیٹے۔نا۔تتلی کے پیچھے نا بھاگو۔گرپڑوگے۔کپڑے کھراب ہوجاون گے۔“
کپڑے،کپڑے تو ساجد نے پہنے تھے مگر نئے نہیں تھے۔جبکہ ساجد نے پچھلے ہفتے ضد کی تھی۔
”بابا مجھے بھی نئے کپڑے سلواؤ نا،میں بھی حشمت کی طرح نئے کپڑوں میں عیدگاہ جاؤں گا۔“
”اچھا بیٹا…لادن گے۔“ بوڑھے حامد میاں نے مجبوراً کہا۔
اور انہوں نے ساجد کو پرانے کپڑوں کے ڈھیر میں سے ٹھیک ٹھاک سے کپڑے لادیے تھے۔اتفاق سے چینی مل کے باہر پرانے سستے کپڑوں کا ایک ٹھیلہ عید کے سبب لگا تھا۔ اس نے سرخ رنگ کی شرٹ اور نیلی پینٹ لے جا کر بہو کو دیے۔
ساجد کو ماں اور دادا نے بہکالیا تھا۔چھوٹی نازو کی طبیعت خراب تھی اسے ماتا نکل آئی تھی۔ وہ بہت کمزور ہوگئی تھی۔ہر وقت روتی رہتی۔مکھیاں اسے پریشان کرتیں۔حامد مکھیوں کو دیکھ کر کئی بار سوچتا۔”اللہ نے مکھیاں کیوں پیدا کی ہیں۔ یہ تو سب کو پریشان ہی کرتی ہیں۔“پر پھر خود ہی دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا کہ اللہ نے ہر چیز سوچ سمجھ کر ہی پیدا کی ہے۔
عید سے دو دن پہلے گاؤں کے حاجی لطیف ان کے پاس آئے تھے اور زکوٰۃ کے پانچ سو روپے دے گئے تھے۔انہوں نے کچھ پیسوں سے گھر کی ضروریات کو پورا کیا تھا۔ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ نازو کی بیماری اور گھر کے خرچے میں لگ جاتا تھا۔عید کے لیے پیسے کہاں سے آتے۔زکوٰۃ کے پیسوں سے انہیں کچھ راحت ملی تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ اب کی عید پر وہ ساجد کو ریموٹ سے چلنے والی کار اور نازو کو پلک جھپکنے والی گڑیا خرید کر لا ئیں گے۔بہو جو جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھی‘ کے لیے ایک سوٹ لائیں گے۔عید گاہ جانے سے پہلے انہوں نے نہا کر اپنے پرانے دھلے کپڑے پہنے۔پھر ساجد کو تیار کیا۔ساجد کی ماں اسے عید گاہ بھیجنے کو تیار نہ تھی۔لیکن ساجد کی ضد اور میاں حامد کی مرضی کے آگے وہ مجبور ہوگئی تھی۔شوہر کی موت کے بعد اسے تو ہر وقت خدشہ لگا رہتا تھا کہیں اس کے بیٹے کو کچھ نہ ہوجائے۔گاؤں کے لوگ ساجد کو بہت پیار کرتے تھے،وہ تھا ہی بہت پیارا۔عید گاہ چلنے سے پہلے انہوں نے سویّاں کھائیں۔پھر ایک ایک روپیہ سب کو عیدی کے دیے۔انہوں نے بلدیو کے بچوں کو بھی عیدی دی تھی۔وہ ہر سال ان کے بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے۔ساجد نے اپنے اور نازو کے روپے اپنی جیب میں رکھ لیے تھے۔گاؤں کے دس بارہ بڑے بوڑھوں، بچوں پر مشتمل یہ ٹولہ سفید کرتا پأجا مے میں ملبوس سرپر ٹوپیاں لگائے عید گاہ کے لیے نکلاتھا۔عید گاہ تک جانے کے لیے تین گاؤں کو پار کرنا پڑتا تھا۔سردیوں کا زمانہ تھا۔راستے کے دونوں جانب ہری فصلیں لہلہارہی تھیں۔گیہوں کے کھیتوں پر شباب تھا۔ دور دور تک ہرے بھرے گیہوں کے کھیت نظروں کو فرحت بخش رہے تھے۔سرسوں پھول رہی تھی۔ہرے اور پیلے رنگ نے زمین کو اس کنواری دوشیزہ سا بنا دیا تھا جس نے سبز رنگ کے کپڑوں پر پیلا دوپٹہ اوڑھ رکھا ہو، اور قدرت زمین کے ہاتھ پیلے کرنے کی تیاری کر رہی ہو۔بَٹیا کے دونوں جانب فصلوں کی مہک دیوانہ بنا رہی تھی۔ کہیں مٹر کے سفید اور جامنی پھول، کہیں ایکھ کے کھیت۔ گاؤں میں ایک آدھ کولہو بھی نظر آجاتا۔کو لہو سے گڑ کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی۔ویسے اب زیادہ تر کسان شوگر ملوں میں ہی گنا ڈالتے تھے اور نقد روپے لے آتے۔اب گاؤں میں بھی بہت کچھ بدل گیا تھا۔گاؤں کی نئی نسل کے بچے جب سے پڑھ لکھ گئے تھے اور کچھ نے باہر سروس شروع کردی تھی گاؤں کا ماحول تبدیل ہونے لگا تھا۔اب وہ پہلے جیسی بے لوث محبت نہیں رہی تھی۔پہلے گاؤں کے کسی ایک شخص کا داماد سارے گاؤں کا داماد ہوتا تھا۔اس کی اتنی خاطر کی جاتی کہ وہ خاطر مدارات میں ڈوب جا تا۔ہندو مسلم شیروشکر کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہونا، ایک دوسرے کے کام کروانا۔ چھان اٹھوانا، ایکھ بُوانا، شادی بیاہ میں ہاتھ بٹاناان کا معمول تھا۔
”میاں حامد…. میاں ….تنک سستائے لیو ….رس پیو۔گرم گڑ کھالیؤ۔“
مُراد پور گاؤں کے کولہو والے بزرگ چاچا ایشور نے عید گاہ جاتے قافلے کو روک لیا تھا۔مُراد پور کے گاؤں کے مسلم بھی عید گاہ جانے کو تیار تھے۔ جلد ی جلدی قافلے کی خاطر کی گئی۔قافلہ پھر آگے بڑھ گیا۔ حامد کو اطمینان ہوا کہ چلو ابھی بڑے بوڑھوں میں کم از کم اتنی محبت اور خلوص تو باقی ہے۔قافلہ اب پکی سڑک پر آگیا تھا۔
میاں حامد نے اپنے پوتے ساجد کو کندھے پر بٹھا لیا تھا۔قافلہ پکی سڑک کی ایک جانب قطار بنا کر چل رہا تھا۔ اچانک ایک تیز رفتار بس قافلے کے نزدیک سے گذری۔ سب لوگ جلدی سے ایک طرف کو نہ ہو گئے ہوتے تو معاملہ خراب ہوسکتا تھا۔
”ابے اے کٹوؤ!کاں جارئے او ………؟“
موٹر سائیکل پر سوار تین کم عمر اوباش قسم کے نوجوان، زور سے چلّا تے ہوئے برق رفتاری سے گذر گئے۔ننھا ساجد چونک گیا۔
”بابایہ کا بول رئے تھے….؟“
”کچھ نا بیٹا …….یہ گندے بچے تھے ….. ….“
میاں حامد کے چہرے پر ناگوار ی کے تاثرات تھے۔زمانہ کتنا بدل گیا تھا۔ بڑے چھوٹوں کا امتیازہی نہ رہا۔ بیٹے،باپ کے سامنے بیٹھتے بھی نہیں تھے۔ میاں بیوی کسی کی موجود گی میں ساتھ بیٹھنے سے بھی کتراتے تھے۔ بہو،ساس سسر کا احترام کرتی تھی۔آج سب الٹ ہوتا جارہا ہے۔یہ سب فلموں اور فیشن سے ہوا تھا۔بچوں میں فلموں کا شوق دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔وہیں سے خرافات سیکھتے ہیں۔فیشن اللہ توبہ! لڑکیاں بھی پتلون پہننے لگی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بازو کی قمیضیں۔دوپٹا یا تو گلے میں پٹے کی صورت یا پھر ندارد۔گاؤں بھی تبدیل ہوگئے تھے۔کچے مکانوں کی جگہ پختہ اور بڑے مکان، موٹر سائیکلیں اور کاریں اب اکثر دکھائی دیتیں۔ پہلے کسی کے گھر کا ر ہوتی تو اسے بڑا رئیس مانا جاتا، لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے۔گاؤں کو شاہراہوں سے ملانے والی کچی سڑکیں کھڑنجے اورتار کول کی بننے لگی تھیں۔ علاقے میں فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے ۔
فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے۔ترقی اور تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسانیت ختم ہوتی جارہی تھی۔
”بابا عید گاہ کب آوے گی….؟“
”بس بیٹا ….وہ جو گام دکھ روہے نا ….بس وائی گام میں ہے….“
”بھئی جرا جلدی چلو….کہیں ایسا نہ ہو،نماز ہی چھوٹ جائے۔رمجان کی ساری محنت ہی مٹی میں مل جاوے گی۔“
میاں حامد نے قافلے کے بڑے، چھوٹوں، سب کو نصیحت کی۔اور سب جلدی جلدی قدم بڑھانے لگے۔کچھ ہی دیر میں وہ اسلام پورکی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ اسلام پورمسلم اکثریتی گاؤں تھا۔عید گاہ کے راستے پر دونوں طرف میلہ لگا تھا۔ساجد تو بے چین ہوا جارہا تھا۔کہیں جھولے والے آواز لگا رہے تھے۔کہیں غبارے دھاگوں سے بندھے آسمان کی سیر کو رسی تڑا رہے تھے۔گول گپے والے، چاٹ پکوڑی والے، دہی بڑے، بتاشے والے، مکا کی کھیلوں والے، آیس کریم والے، کھلونوں کی تو بہت سی دکانیں تھیں،کسی دکان پر ہر مال پانچ روپے، کسی پر ہر مال دس روپے کا بورڈ لگا تھا۔ساجد کی نظر یں چار وں طرف بکھری بازار کی رونق کو دیکھ کرہونق ہوئی جارہی تھیں وہ سب کچھ خرید لینا چاہتا تھا۔
”بھیا آجاؤ۔جلدی آؤ…..نماج کھڑی ہون والی ہے۔“
عید گاہ سے لوگ راستے میں آنے والوں کو پکار رہے تھے۔
قافلے نے لپک کر عید گاہ میں قدم رکھا۔ عید گاہ بہت بڑی نہیں تھی۔مغرب کی طرف مسجد جیسی عمارت کی تقریباً بیس فٹ اونچی دیوار تھی جس میں کنگورے کٹے ہوئے تھے دیوار کے آخری سروں پر دو بلند مینار تھے۔باقی دور تک خالی زمین جو سال میں دو نمازوں کے لیے اپنا دامن پھیلائے رہتی تھی۔عید میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔اسلام پور کے علاوہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی یہیں نماز پڑھنے آتے تھے۔میاں حامد بچپن سے اب تک نجانے کتنی بار عیدگاہ آئے تھے۔ نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے تو ایسا لگتا گویا فرشتے زمین پر اتر آئے ہوں۔نماز کے بعد اسلام پورکے لوگ آس پاس کے لوگوں کو بغیر کچھ کھائے پیئے واپس جانے نہ دیتے میاں حامد کے ساتھ کئی بار بلدیو چاچاکے بچے بھی آجاتے تھے۔مسلمان نماز پڑھتے اور وہ سب کے جوتے چپلوں کی رکھوالی کرتے بعد میں عید گاہ میلے سے میاں حامد ان کے لیے کچھ نہ کچھ تحفے ضرور خریدتے۔وہ سب اپنے بھائی ہی توتھے۔وہ سب میاں حامد سے چھوٹے تھے۔میاں حامد کو اچھی طرح یادتھاکہ ایک بار بلدیو چاچا نے اپنی ٹریکٹر ٹرالی نکالی تھی اور گاؤں کے سارے مسلمانوں کو بھرکر عید گاہ لائے تھے۔کتنا میل ملاپ تھالوگوں میں۔گاؤں میں امن و امان تھا۔گاؤں کے حالات سیاست سے بدلے تھے۔ اب گاؤں میں بھی سیاست بڑھنے لگی تھی، پردھان اور گاؤں کے امیر لوگ ایک دوسرے کی کاٹ میں لگے رہتے۔رات کو موٹر چور ی کرواتے، صبح کو ہمدردی جتانے پہنچ جاتے۔اور دو ایک دن بعد موٹر کہیں سے بر آمد ہوجاتی۔اسی طرح بیل اور بھینس بھی غائب ہوجاتیں۔انہیں اچانک دس سال قبل کا وہ واقعہ یاد آگیا جب اس نے ایک رات بابا سکھ دیوکی بھینس چراتے مکھیا کے بڑے لڑکے کو دیکھ لیا تھا۔
”چور ……چور……دیکھو بھینس چرا روئیہے۔ چاچا …اوبابا…..“
اس کی آواز پر بھینس کو بیچ میں چھوڑ کر چور فرار ہوگئے تھے۔مگر اس نے ایک چور کو پہچان لیا تھا۔اور غضب تو اس وقت ہوگیا جب اگلے دن پنچایت میں اس نے مکھیا کے بیٹے کا نام سب کے سامنے کہہ دیا۔ مکھیا کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔
”تم جھوٹ بولت ہو ….میراوبیٹو نہیں کوئی اور ہوگا…..“
”نہیں ….نہیں ….میں نے اپنی آنکھن سو بیر پال کو دیکھو ہے…..“
”پنچو! یو مسلمان ہے ….یامارے یوہندوؤں میں پھوٹ ڈالنوچاوے ہے۔….“
میاں حامد نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ بات اس کے کردار پر آجائے گی۔ نفرت کیا ہوتی ہے، اسے پتہ ہی نہ تھا۔اس نے تو کبھی کسی کو بری نظر سے بھی نہیں دیکھا۔ کیا ہندو، کیا مسلمان۔وہ تو بچپن سے ہی بابا سکھ دیو کے گھر رہ کر بڑا ہوا تھا۔انہوں نے ہی اس کی شادی کروائی تھی۔گاؤں کے کئی مسلمانوں نے اسے سمجھایابھی تھا کہ سکھ دیو کے گھر نہ رہے لیکن اس نے کسی کی نہ سنی تھی۔ پھر بابا اسے بیٹا ہی تو مانتے تھے۔ہمیشہ اس کے دکھ سکھ میں شریک رہتے۔مکھیا کے جملے نے تو جیسے میاں حامد کے سینے کو گرم سلاخوں سے داغ دیا تھا۔اس کو اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ گم سم ہوگیا۔مانوں اس کی زبان کاٹ دی گئی ہو۔ لیکن اگلے ہی لمحے سکھ دیو اور ان کے خاندان والوں نے مکھیا اور اس کے بیٹے پر لاٹھیا ں برسانا شروع کردی تھیں۔ دونوں طرف سے زوردار حملے ہورہے تھے۔اس سے قبل کے کچھ انرتھ ہوجاتا، حامد میاں نے ایک زور کی چیخ ماری…..
”بند کروکھدا کے لیے…..!“
اور واقعی لڑائی کو اچانک بریک لگ گئے تھے۔
”تم لوگ میرے اوپر لڑ رئے ہونا۔چلو میں گاؤں چھوڑ کرہی چلوجاتا ہوں۔“
میاں حامد کی آنکھوں سے آنسو روا ں تھے، انہوں نے اپنا منھ دونوں ہتھیلیوں میں چھپا رکھا تھا۔ان کے اتنا کہتے ہی مکھیا اور بلدیو چاچا ایک ساتھ ان کی اور لپکے تھے۔
”نہیں حامد……تم گام ناچھوڑو گے….“
اور پھر وہ ہوا جو گاؤں والوں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔مکھیا نے اپنے بیٹے بیر پال کو سب کے سامنے مارنا شروع کر دیا۔
”یاکے کارن ہی سب کچھ ہوا ہے…….“
بڑی مشکل معاملہ رفع دفع ہوا تھا۔ گاؤں میں حامد کی الگ پہچان تھی۔وہ ایک ایماندار مسلمان تھا۔ جو جتنا مسلمانوں کا ہمدرد تھا اتنا ہی ہندوؤں کا بھی۔
”اللہ اکبر….“
امام صاحب نے نیت باندھ لی تھی سب نے دو رکعت نماز ادا کی۔ خطبہ سنا اور دعا مانگنے لگے۔میاں حامد نے خدا کی بار گاہ میں ہاتھ اٹھائے۔ان کے لب تھر تھرا رہے تھے، ہاتھ بھی لرزنے لگے۔”اے کھدا …..میرے کھدا….ہم تو بڑے گنہہ گار ہیں۔ موئے انسانوں کی کھدمت میں لگا دے۔یو جو ایک عجیب سے آندھی شہروں سے گاؤں کی اور چلی آویہے ہمیں یا سو بچا لئے……“
دعا کے بعد سب ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔میا ں حامد جھک کر اپنے پوتے ساجد سے گلے ملے۔گلے ملتے وقت انہیں بے پناہ طمانیت اور مسرت کا احساس ہوا۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ ساجد کے اندر سرایت کرگئے ہیں۔ایک چھوٹا بچہ بن گئے ہیں بچہ جو معصوم ہوتا ہے جو فرشتہ صفت ہوتا ہے۔
”بابا ….بابا…..آؤ نا کھلونا لیں گے…..“
ساجد نے ان کا ہاتھ کھینچاتو وہ دکانوں کی طرف چل دیے۔ساجد نے بہت سے کھلونے دیکھے۔ سب کو فیل کرتا گیا۔آخر میں اسے اسے ریموٹ سے آگے پیچھے ہونے والی ایک خوبصورت سی کار پسند آگئی۔ساجد نے ضد کرلی۔
”بابا میں تو یے ہی لوں گا۔“
”بھیا کتنے کی ہے…..؟
”بابا پورے سو روپے کی“
”سوروپے. …؟“میاں حامد کا منھ حیرت سے کھل گیا تھا۔
وہ سوچ میں پڑ گئے۔ ان کی جیب میں کل دوسو روپے رکھے تھے۔اگر وہ کھلونا خرید لیتے تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔لیکن وہ پوتے کا دل بھی توڑ نا نہیں چاہتے تھے۔آخر کار ساجد کی ضد جیت گئی۔مول بھاؤ کے بعد سودا پچاس روپے میں ہوگیا۔ پھر دونوں نے نازو کے لیے ایک آنکھیں مٹکاتی گڑیا خریدی،بابا سکھ دیو کے بچوں کے لیے بھی کھلونے اور دوسراسامان خریدا۔سامان لے کر وہ نکل ہی رہے تھے کہ اچانک گولیوں کے دھماکوں سے فضا گونج اٹھی۔اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔در اصل اس بار عید اور کانوڑیاترا آس پاس ہی تھے۔ سارے علاقے میں دہشت تھی۔ ہر طرف زعفرانی رنگ لہرا رہا تھا۔پتہ چلا کہ کانوڑیوں کا ایک جتھا اسلام پورسے گذر رہا تھا۔ان پر کسی نوجوان نے پتھر مار دیا تھا بس کیا تھا۔ کانوڑیوں نے عیدگاہ سے لوٹتے مسلمانوں کو مار نا شروع کردیا تھا۔خبر پھیلتے ہی گاؤں کے مسلمانوں نے گولیاں چلانی شروع کردی تھیں۔کانوڑیوں کی حمایت میں بھی بندوقیں گولیاں اگلنے لگی تھیں۔ گولیوں کا نشانہ بن کر کئی لوگ لاشوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔
میاں حامد نے ساجد کو گود میں اٹھا لیا اور ایک طرف کو بھاگنا شروع کردیا۔ انہوں نے قافلے کے دوسرے لوگوں کو ادھر ادھر دیکھا بھی، لیکن وہ ایک لمحہ بھی انتظار میں گنوانا نہیں چاہتے تھے۔گاؤں کے حاجی شوکت نے حامدمیاں کو اسلام پور میں ہی رکنے کو کہا۔ اسلام پور مسلمانوں کا بڑا گاؤں تھا۔ مگر حامد میاں نے منع کردیا
اور ایک طرف بھاگنے لگے۔وہ بہت تیز دوڑ رہے تھے۔ساجد کے ہاتھوں میں کار، گڑیااور دوسرا سامان تھا۔ننھے ساجد کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلی تھیں۔میاں حامد پکی سڑک تک آگئے تھے۔ان کے بوڑھے قدموں میں نجانے کہا ں سے طاقت آگئی تھی۔در اصل موت کا ڈر۔ خود ایک زبر دست طاقت عطا کر تا ہے اور انسان وہ کر گذرتا ہے جس کا اُسے گمان تک نہیں ہو تا۔ان کو ڈر تھا کہ اسلام پور کا معاملہ جب دوسرے گاؤں پہنچے گا تو پورے علاقے میں زہر پھیل جائے گا۔وہ اس لمحے کے آنے سے قبل ہی اپنے گاؤں پہنچ جانا چاہتے تھے۔سڑٖک پر پیچھے سے شور کی آواز یں بلند ہورہی تھیں۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا ایک بھیڑ بے تحاشہ بھاگی آرہی تھی۔لوگوں کے ہاتھوں میں تلواریں، لاٹھیاں اور بلّم تھے۔انہوں نے سڑک سے کھیتوں میں بھاگنا شروع کردیا تھا۔ اب بس ایک گاؤں پار کرنا رہ گیاتھا، جس کے پار ان کا گاؤں تھا۔ دوڑتے دوڑتے وہ تھک گئے تھے۔ گاؤں کے ایک ویران پڑے ٹیوب ویل کے پاس وہ سانس لینے کو رکے۔انہوں نے راستے سے خود کو چھپا لیا تھا تاکہ کوئی گذر ے، تو دیکھ نہ پائے۔
”بابا…کیا ہوا۔آپ کیوں بھاگ رہے ہو ….؟“
”چپ….پ…“
میاں حامد نے پوتیکے منھ پر ہاتھ رکھ دیا۔کہیں کوئی آواز نہ سن لے۔اتنے میں گاؤں میں زبر دست دھماکہ ہوا۔ لگا جیسے کہیں کوئی بم پھٹا ہو۔اسلام پور سے اٹھنے والی آندھی سرخ ہوتی جارہی تھی۔موقع ملتے ہی چنگاری، شعلہ بن رہی تھی۔ آگ گاؤں گاؤں پھیلتی جا رہی تھی۔میاں حامدکے جسم میں خوف کا ناگ بری طرح لہرایا تھا۔انہوں نے ایک بار پھر اپنا راستہ تبدیل کیا۔ اب وہ گاؤں سے نہ گذر کر کھیتوں کھیتوں اپنے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔دوڑتے دوڑتے وہ اپنے گاؤں کی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ ساجد کو نیچے اتار کر انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔ان کادل بری طرح دھڑک رہا تھاپرانہیں اطمینان ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنے گاؤں میں آگئے ہیں وہ گاؤں جہاں ان کی اوران کے باپ دادا کی عمریں گذری تھیں۔وہ اطمینان سے ساجد کی انگلی پکڑے گاؤں کی طرف چل پڑے۔ابھی وہ گاؤں میں داخل ہی ہوئے تھے کہ گاؤں سے ایک شور بلند ہوا۔
”مارو……پکڑو……“
اس سے قبل کے میاں حامد کچھ سمجھ پاتے ایک جتھا سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ خون کی پیاسی تلواریں، قتل وغارت کا جنون اوردہشت پیدا کرنے والی آوازیں۔انہوں نے پلک جھپکتے ہی ساجد کو اپنی گود میں اٹھالیا اور جیسے ہی ایک طرف کو بھاگنا چاہا مکھیا کے بیٹے بیر پال کی دونالی سے نکلنے والی ایک بے رحم گولی نے ساجد کو نشانہ بنا لیا۔
ساجد کے جسم کو پار کرتی ہوئی گولی میاں حامد کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی۔ گولی نے اس طرح معصوم ساجد کا جسم پار کر کے میاں حامد کو زمین کا پیوند بنا دیاتھا جیسے حرملہ کا تیر معصوم علی اصغر کے حلق سے ہوتا ہوا امام حسین کے بازو میں ترازو ہوگیا تھا۔ دونوں زمین پر آرہے۔ خون کا فوارہ دونوں جسموں سے بلند ہورہا تھا۔زمین ساکت تھی۔ آسمان خاموش تھا۔ہوا سانس لینا بھول گئی تھی۔دونوں کے خون میں لت پت لاشے پڑے تھے اورتھوڑی ہی دوری پر ساجدکی کار، نازو کی گڑیا،بہو کا سوٹ،ایک دھوتی اور ایک چھوٹی سی پیتل کی لٹیاپڑی تھی، جومیاں حامد بابا سکھ دیو کے گھر والوں کے لیے لائے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
EIDGAAH SE WAPSI
By: Dr .Aslam Jamshedpuri
HOD,Urdu,CCSU,Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850
آٹو گراف پلیز: چوہدری محمد بشیر شاد
افسانہ
آٹو گراف پلیز
چوہدری محمد بشیر شاد
۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو صوفیہ ، کب سے گھنٹی بجا رہی ہوں ۔۔۔
آ رہی ہوں، کیوں شور مچا رکھا ہے ۔۔ ؟ اندر آ جاو ، ہر وقت جلدی ۔۔
بات جلدی کی نہیں ، ابھی جولی کو بھی ساتھ لینا ہے ،وہ پہلی بار ہمارے ساتھ جا رہی ہے
اسے فون پہ میں نے بتا دیا ہے کہاں جانا ہے اور کس وقت تک وہاں پہنچنا ہو گا
تم تو ابھی تیار بھی نہیں ہوئی ہو،یار بہت لا پرواہ ہو تم ۔۔
میں تمہاری طرح نہیں گھنٹوں آئینہ کے سامنے سج دھج میں وقت ضائع کروں ،دیکھنا پانچ دس منٹوں میں تیار ہو کے تمہارے آگے آگے ۔۔۔
ہاں ہاں لیڈری کا شوق جو ہوا ، آگے آگے تو چلو گی۔ چلو باتیں کم کرو اور جلدی تیار ی پکڑو
نادیہ۔۔
ہاں کہو ۔۔
پروگرام کی ٹکٹوں کا بندوبست ہو گیا
ہاں ہو چکا ،لیکن بڑی مشکل سے ملی ہیں ،پچھلی سیٹوںکی ضرورت تو مجھے تھی نہیں ۔۔
ہاں جی پچھلی سیٹوں پر سے اسٹیج تو نظر آتی نہیں اور آپ ہیں مس نادیہ دی گریٹ۔۔
ہم گریٹ کہاں ، گریٹ تو وہ ہے جسے ہم سب دیکھنے جا رہے ہیں ، دیکھو صوفیہ تم مجھے باتوں میں لگا کے دیر کر دو گی ۔۔
یار تم بھی بڑی عجیب ہو ، جب تینوں فرسٹ کلاس کی ٹکٹیں او کے ہیں اور سیٹوں پر نمبر بھی تحریر ہیں پھر خوف کیسا ، کوئی دوسرا ہماری سیٹوں پر براجمان نہیں ہو گا۔
بات تو تمہاری ٹھیک ہے صوفیہ لیکن وقت سے قدرے پہلے جانے میں کیا قباہت ہے
ہائے رے جلدی ۔۔نجانے کیا جادو کر دیا ۔۔۔۔۔
آگے مت بولنا ، تمہیں سوائے کوسنے کے اور آتا ہی کیا ہے،آخر سیاسیات کی طالبہ ہو ناں ۔۔
اور تم جو ٹھہری ثقافت کی چہیتی۔۔
بس اٹھ جاو، پکڑو اپنا چرمی بیگ اور باہر نکلو بی بی لیڈر۔۔
یار میری کلائی تو چھوڑو ، چل تو رہی ہوں۔۔
ٹیکسی تلاش کرنے میں بھی وقت لگے گا ۔۔
لو اور سن لو ، تین سو یوروز کی تین ٹکٹیں اور اس پہ مزید ٹیکسی کا خرچہ، بس یا ٹرین ۔۔
بس بس بی بی کم خرچ ، وہ آ رہی ہے ٹیکسی اسے ہاتھ دو نا یار۔۔۔
صوفیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دیتے ہوئے ٹیکسی رکوائی اور ٹیکسی کے پہیوں نے اسٹیڈیم کی راہ ناپنی شروع کر دی ، سفر جاری رہا اور کچھ مسافت طے کرکے ٹیکسی ڈرائیور نے بائیں جانب مڑتے ہی پوچھا کہ اسٹیڈیم کے کس دروازے کی جانب جانا ہے۔
مین گیٹ پر اتار دیجیئے گا ۔
یہاں آج کیا ہو رہا ہے ؟
ایک ثقافتی پروگرام ہے ، جس میں مختلف ممالک کی فنکارائیں و فنکاررقص و موسیقی کے جوہر دکھائیں گے ، خاص کر ایشیائی ماحول اس پروگرام کی جان ہے۔
یہ لیں جی آپ دیکھیئے پروگرام اور ہم چلے اپنی روزی کمانے ۔۔۔ !!
نادیہ کی نظریں جولی کو تلاش کر رہی تھیں ، اس کی ا ضطراری حالت نے کانوں کی لوئیں تک سرخ کر دیں، وہ صوفیہ پہ برس پڑی ، دیکھا ساتھ اسے لے آتے تو ابھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔
دم لے یار آتی ہی ہو گی ، ابھی پروگرام میں کافی وقت ہے،ویسے ایک بات تو بتا ۔۔
ہاں پوچھو ؟
اب کیا پوچھنا ۔ مڑ کے پیچھے تو دیکھو ، کون آرہا ہے
او جولی ، فنٹاسٹک،ویل ان ٹائم ۔۔
دیکھا جولی تھوڑی دیر پہلے میری شامت آئی ہوئی تھی ۔میری اچھی خاصی کلاس لی ہے مس ثقافت نے۔
چلو چھوڑو گلے شکوے ، ہاں جولی چلیں اندر ۔
گیٹ پر ٹکٹیں او کے کروا کے نادیہ اسٹیج کے بالکل سامنے والی سیٹوں پر دائیں بائیں صوفیہ اور جولی کو لیئے بہت خوش نظر آ رہی تھی۔
اب تو چہرے کی رنگت بھی بدل گئی ہے نادیہ کی ، جولی سچ سچ بتانا ۔
وہ تو اس کے ہشاش بشاش چہرے کی پر رونق رعنائیوں سے نکھرتی بکھرتی قوس قزح کی شعاوں سے واضح ہو رہا ہے ، لیکن یہ موصوف ہیں کون ، جن کی گرفت میں لاابالی طبیعت کی شہزادی نادیہ جکڑی ہوئی ہیں۔۔
میں نے دیکھا ہے اسے ، جولی تم بھی آج دیکھ لینا،اتنا ہینڈ سم تو نہیں جتنا نادیہ ۔۔۔
کیا کہا صوفیہ کی بچی ، پھر سے دھرانا ذرا ۔۔۔
آ بیل مجھے مار ، غلطی ہو گئی بابا ۔۔۔
اتنے میں اسٹیج سجانے والوں نے ہر طرف ہیلو ہیلو ٹسٹنگ ون ، ٹو ، تھری ۔۔ ون ٹو تھری کے راگ الاپنے شروع کر دیئے۔ اسٹوڈیو کی چھت اور اطراف کو خوب سجایا گیا تھا ، تاجروں کے اشتہارات بھی ہر جانب اپنی اشیا کی دھوم مچائے ہوئے تھے ، ہلکی ہلکی موسیقی بھی ہال کے ماحول کو دلکش بنا رہی تھی ۔ پروگرام کو دیکھنے والے جوق در جوق آتے جا رہے تھے ۔ ہال بھرتے دیر نہ لگی ، ہر طرف چاہنے والے موجود تھے ۔ ایک عرصے بعد ایک بہترین ثقافتی پروگرام عوام الناس کو میسر آ رہا تھا جس کی کمپیرنگ ایک ایسے شخص کے حوالے کی گئی جو ثقافتی پروگراموں کو بام عروج تک لے جانے میں یکتا تھا۔ اپنے اس فن میں سب سے منفرد تھا ، پروگراموں کی ترتیب میں عوام کی دلچسپی کے عنصر کو مقدم رکھتے ہوئے وہ فنکاروں کے ساتھ ان کے ماحول میں خود کو بھی ڈھال کر عوام کی خوشیوں کی نشو و نما اس طرح کرتا کہ تمام تالیوں کی گونج میں فنکاروں کی پذیرائی دل کھول کے کرتے نظر آتے۔
نادیہ بڑی بے چینی سے پہلو بدل بدل کے صبر آزما گھڑیوں کو شمار کر رہی تھی۔
جولی نے نادیہ کی حالت دیکھ کر انتظامیہ کے ایک نوجوان سے پوچھا بھی کہ پروگرام کب شروع ہو گا
ہاں جولی کیا بتایا اس نے ۔۔ ؟
پندرہ بیس منٹس کی بات کر رہا تھا
چلو انتظار کر لیتے ہیں ۔۔۔
ہاں صوفیہ انتظار تو کرنا پڑے گا ہی، لندن سے اس پروگرام کو دیکھنے کے لیئے تو آئی ہوں۔
ویسے نادیہ کی بڑی ہمت ہے، اتنے سالوں سے ایک ہی مدار کے گرد گھوم رہی ہے ، جولی نے صوفیہ کی جانب ایک آنکھ بند کرکے فقرہ چست کیا۔
اس مدار کا جلدہی تمہیں بھی پتہ چل جائے گا مس جولی،ذرا ہیڈ سم کو آنے تو دو اسٹیج پر ، اس کے انداز کا جادو تمہارے سر چڑھ کے بھی بولے گا ۔
صوفیہ ،،، جولی پہلی بار آئی ہے ہمارے ساتھ ، پروگرام چلنے تو دو یہ خود ہی تسلیم کرئے گی کہ نادیہ کی پسند کیا ہے ۔
وہ وقت آن پہنچا جس کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔ تالیوں کی گونج میں نپے تلے قدم اٹھائے اسٹیج کی جانب بڑھنے والا سب کا جانا پہچانا چہرہ تھا جو آج کے اس عظیم الشان پروگرام کی کمپیئرنگ پر مامور کیا گیا تھا، اس نے مائک سنبھالتے ہی آداب و تسلیمات،تعظیم و تکریمات سے ابتدا کی اور پروگرام میں شامل تمام فنکاروں کا ہلکا سا خاکہ پیش کرکے عوام سے داد وصول کی ۔ وہ جوں جوں بولتا جا رہا تھا ہر پردہ سماعت میں میٹھے رس گھول رہا تھا ، اس کی ٓواز میں جادو تھا ، اردو بولتے ہوئے وہ اسی زبان کو مد نظر رکھتا تھا ، وہ ہر زبان کی لذتوں کو اس کے الفاظ سے سنوارنے کا ہنر جانتا تھا ۔
جگمگ روشنیوں میں اس کے چہرے کی مسکراہٹ ہر سو مسرتوں کا پیغام دیتی پروگرام کو چار چاند لگا رہی تھی ۔ اس کی ترتیب اس قدر شاندار نتائج مہیا کر رہی تھی کہ کسی کو بوریت جیسا احساس نہیں ہو رہا تھا ، ہر فنکار کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے اسٹیج پر بلاتا اور پھر تالیوں کی گونج میں اسے رخست بھی کرتا ۔ کبھی کبھی شرارتی انداز اپنائے رقاصاوں کے ساتھ خود بھی محرک ہو جاتا جو کہ نادیہ کو ایسے محسوس ہوتا کہ رقص وہ کر رہی ہے اور فرط جذبات میں وہ اس کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے ، نئے فنکاروں کو منظر عام پر لانے کے لئے وہ ایڑی جوٹی کا زور لگا دیتا تھا ۔
اسی پروگرام مین ایک نئی لڑکی کے بارے اس نے اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ہال میں موجود سب سے درخواست کی کہ اس کا پر جوش استقبال کیا جائے ۔۔۔۔ نادیہ بار بار پہلو بدل بدل کے آنے والی فنکارہ کا شدت سے انتظار کر رہی تھی جسے اعلی پیمانے پر سراہتے ہوئے اس نے خوش آمدید کہنے کی استدعا کی تھی ۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے نادیہ ،،، تم تو ایسے پریشان ہو رہی ہو جیسے پہلی بار اس کے پروگرام میں شرکت کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ جولی تم پہلی بار اس کے پروگرام میں شمولیت کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ ادھر دیکھو وہ کس طرح مودب ہو کے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسٹیج پر لا رہا ہے ، کس قدر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کو چوما ہے جیسے کسی خوبصورت شہزادی کی آو بھگت میں محو خود کو بھول بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔ ہاں نادیہ تم سچ کہہ رہی ہو ، اس سے پہلے میں کئی پروگراموں میں تمہارے ساتھ آئی ہو ں ا س قدر چاہت نہیں دیکھی ،، صوفیہ نے تصدیق کرتے ہوئے اسٹیج پر نئی آنے والی فنکارہ کے خد وخال پر نظر ڈالی ، جولی بھی برابر سب کچھ دیکھے جا رہی تھی ۔
یہ ایک نیا گانا تھا ، قدرے تیز ، شاعری کافی منجھی ہوئی اورموسیقی پر بہترین سازندے بہت پیاری دھن بجا رئے تھے اس کے ساتھ ہی نئی فنکارہ نے بڑی سریلی آواز میں شروعات کیں اور ساتھ ساتھ رقص بھی رنگ بکھیرتا گیا ، مزے کی بات یہ بھی تھی کہ کمپیئر نے اس دو گانے میں نہ صرف اپنی آواز کا جادو جگایا بلکہ رقص میں بھی نئی فنکارہ کو بازووں میں تھامے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔۔۔۔ دیکھا جولی اسے کہتے ہیں فنکار جو ہر نئے آنے والے کی ہمت افزائی کرتے ہوئے اسے متعارف کرواتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اتنے میں وہ دونوں گاتے مسکراتے اسٹیج کے نیچے پہلی قطار میں بیٹھنے والوں کے سامنے والی جگہ پہ آ کے عوامی شاہکار بن گئے ۔ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔ ہر کوئی چاہ رہا تھا کہ وہ ان کے قریب تر آ کے گائیں تا کہ نزدیک سے ان کا دیدار بھی ہو سکے ۔ کچھ منچلے چاہت کی معراج تک ان کے پاس آنے میں کوشاں ہوئے لیکن وہاں پہ موجود سیکورٹی نے انہیں ایک قدم آگے نہ بڑھانے دیا ۔ جب وہ دونوں نادیہ کے قریب سے گذرے تو نادیہ نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر داددی اور صوفیہ تصاویر بناتی رہی ۔ ۔۔
اسٹیج پہ ان کی واپسی اس قدر دلکش تھی کہ ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں ،، دوبارہ سنایئے ،،، پلیز دوبارہ ،، پروگرام کو اسے آگے بڑھانا تھا ، نئی فنکارہ کا ہاتھ پکڑ کر اس نے اوپ اٹھایا اور عوام سے وعدہ کیا کہ پروگرام کو چلنے دیں وقت ملا تو ضرور آپ سب کی خواہش کو پورا کیا جائے گا ، ایک بار پھر تالیوں کی گونج میں اس نے عوام سے بہت پیارے انداز میں گانے والے کا نام متعارف کرواتے ہوئے اتنا ضرور کہا کہ کہ ٓپ آنے والے سے دو گانے سنیئے گا ، پھر ایک منجھی ہوئی آپ سب کی جانی پہچانی رقاصہ آپ کی امنگوں کے مطابق اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی ، آپ سب کا یہاں آنا ہمارے لئے قابل صد ستاعش ہے ، تو آیئے خوش الہانی اور انتہائی اچھے پہرایئے میں اپنی آواز کا جادو جگانے والے آپ کے سامنے آرہئے ہیں ، استقبال کیجیئے گا ۔ ہال سے تالیوں کی گونج استقبال کر رہی تھی اور اسی گونج میں وہ نئی فنکارہ کا ہاتھ پکڑے اسٹیج سے اتر رہا تھا ۔
صوفیہ ، جولی ، اٹھو آ جاو میرے ساتھ ۔۔۔۔ !!
ارے نادیہ کہاں جا رہی ہو ۔۔ !۱
خاموشی سے میرے پیچھے پیچھے آتی جاو ۔۔۔ !!
نادیہ آگے آگے اور دونوں سہیلیاں پیچھے پیچھے ۔۔۔۔۔۔ جس طرف وہ جوڑی جا رہی تھی ، ان تینوں نے ان کا تعاقب شروع کر دیا ، نئی فنکارہ میک اپ اور ریہرسل روم میں چلی گئی اور کمپیئر موسوف بیت الخلا کی جانب بڑھے ۔ رک جاو یہیں پر ۔۔ نادیہ صوفیہ اور جولی سے ہمکلام ہوئی ۔۔۔ !!
لیکن ہمیں ادھر کیوں لے آئی ہو ۔۔ !۱ صوفیہ برابر نادیہ کا منہ دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔
اس لیئے تاکہ آج آٹو گراف ادھر ہی لے لیں ، پروگرام ختم ہوتے ہی کوئی ہمیں موقع نہیں دے گا ، کتنی بار ایسا ہو چکا ہے ۔۔
لیکن یہاں آٹو گراف لینا ۔۔۔۔۔
ارے پگلی جولی اس سے بڑھ کے اور کوئی وقت ہمیں نہیں مل سکے گا ۔۔۔۔
ہاں جولی نادیہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔ اس کی عرصہ دراز کی خواہش آج پورے ہو لینے دو ۔۔۔ صوفیہ کو نادیہ پر والہانہ پیار آ گیا ۔
صوفیہ ، جولی تم دونوں اپنے اپنے سیل فون سے آٹو گراف کی تصاویر دھڑا دھڑ بنا لینا ۔۔۔
صوفیہ اور جولی نے یک زبان ہو کر نادیہ کو تسلی دی ۔
اتنے میں مردانہ بیت الخلا کی جانب دو جوان اور بھی کھڑے ہو گے جن کی شکل و شباہت اور ڈھیل ڈھال سے ایشیائی رنگ ٹپک رہا تھا ۔
نادیہ کہیں یہ دونوں نوجوان بھی آٹو گراف کے لیئے ۔۔۔۔۔
صوفیہ چھوڑو ان کو ، تم ادھر دھیان دو ، جونہی وہ باہر آئیں تو آٹو گراف پلیز کی آواز لگا دینا ۔۔
لو کر لو بات ۔۔ آٹو گراف تمہیں چاہئیں اور آواز میں لگاوں ۔۔۔۔ صوفیہ کےاس جواب اور بھولی شکل پر جولی کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔
جولی تم کس بات پہ ہنسی جا رہی ہو ۔۔۔ نادیہ کالہجہ غصیلہ تھا
نادیہ ذرا دوسرے جوان کی قمیض پر ایک نظر ڈال ،، تمہاری ہنسی بھی رکنے کا نام نہیں لے گی
صوفیہ اور نادیہ کی نظریں اس جوان کی قمیض کا جائزہ لینے لگیں ، جس پر دل ہی دل بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔ اتنے میں ہاتھ صاف کرتے ہوئے کمپیئر باہر نکلے ہی تھے کہ پہلے نوجان نے پچاس یوروز کا کڑکتا ہوا بنک نوٹ سامنے کرتے ہوئے ،، آٹو گراف پلیز ،، کہہ کے قلم بھی تھما دیا ۔۔۔
کرنسی پر آٹو گراف ۔۔۔۔ یہ کیا معاملہ ہے ، یہ تو سراسر اس ملک کے قوانین کے خلاف ہے ۔۔ بھئی آپ کسی کاغذ پہ میرے آٹو گراف لے لیں ۔۔۔۔۔۔ میںنے اپنی محنت سے یہ دولت کمائی ہے مجھے اسی پر ۔۔۔۔۔۔ رکیئے صاحب یہ اس ملک کی ملکیت ہے ۔۔۔۔ جی نہیں یہ کرنسی نوٹ میرے پاس ہے ، میں اسے سنبھال کے رکھوں ، اشد ضرورت پڑنے پر بھی اسے استعمال نہیں کروں گا ۔۔۔۔ وقت میرے پاس تھوڑا ہے ، میں ابھی پروگرام کر رہا ہوں ۔۔ لایئے جناب ۔۔۔۔ جلدی جلدی کرنسی پر آٹو گراف دے کر آگے بٹھنے ہی والا تھا تو دل کی قمیض پہننے والا ،، آٹو گراف پلیز ،، کہہ بیٹھا ۔۔۔۔ جلدی کیجئے میں پروگرام پہ ہوں ، کس پہ لینے ہیں آٹو گراف ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ جی میرے دل پہ ۔۔۔۔ اتنا کہنا ہی تھا کہ تینوں لڑکیوں کی ہنسی نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عجیب بات ہے دل پہ ۔۔۔۔۔۔ ہاں جی اس قمیض پر نظر دوڑایئے عین دل کے اوپر قمیض پر جو بڑا دل بنا ہوا ہے اس پر آتو گراف دے دیں ۔۔۔۔۔۔۔ بہتر جناب لیکن ایک جگہ رک تو جایئے آپ اگر اسی طرح ہلکے ہلکے اپنا جسم ہلاتے رہئے تو بہت ممکن ہے قلم کی نوک آپ کے جسم میں چبھن پیدا نہ کر دے ۔۔۔۔۔۔۔ اسی چبھن کو مٹانے کے لیئے آٹو گراف لینے ضروری ہیں ۔۔۔۔۔ ہاں سمجھ گیا ہوں ۔۔۔ یہ لیجیئے اب اس دل کو سنبھال کے رکھیئے گا ۔۔۔ دو قدم بھی نہ چل پایا تھا کہ نسوانی آواز ابھری ،،، آٹو گراف پلیز ،،، اور اس کے ساتھ ہی ایک جواں سال دوشیزہ کا ہاتھ آگے بڑھا ۔۔۔۔۔
آپ دونوں کو بھی اگر آٹو گراف لینے ہیں تو پروگرام ختم ہونے کے بعد لیجیئے گا ۔۔۔
صوفیہ اور جولی نے یک زبان ہو کر اس بات کی نفی کر دی ۔۔۔
جی آپ ہاتھ پہ ہی آٹو گراف کیوں لے رہی ہیں ۔۔۔۔ ؟
جی میری یہ دیرینہ خواہش ہے ۔۔۔ اگر پوری ہو جائے تو ۔۔۔
چلیئے دیں اپنا قلم ۔۔۔
قلم بھی آپ اپنا استعمال کیجیئے ۔۔
میرے پاس تو اس وقت با ل پوانٹ ہے اور اس کی نوک تو آپ کے ہاتھوں پہ بہت چبھن پیدا کرئے گی ، بہت ممکن ہے اتنا نرم و نازک ہاتھزخمی ہو جائے اور میں اپنے ہاتھوں یہ ظلم نہیں کر سکتا ۔۔۔ !!
آپ بلکل فکر نہ کریں ،،، آٹو گراف پلیز ،،،
ا بڑی عجیب سی بات ہے کہ آپ کے ہاتھ پر میرے دیئے گئے آٹوگراف زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکیں گے ، پسینہ آیا یا آپ نے ہاتھ کو صاف کیا تو ختم ۔۔۔۔!!
آپ اس کی فکر نہ کیجیئے ، اس کی حفاظت کرنے کا کلیہ ہے ہمارے پاس ،،، آٹو گراف پلیز ،،،
بال پوانٹ کی نوک نے اگرچہ اپنے حروف نمایاں کھردرے طریقے سے کیئے لیکن کیا مجال جو ہاتھ نے حرکت کی ہو ۔۔۔ اسی وقت سیل فون چلے اور ٹھکا ٹھک تصاویر بن گئیں ۔
یہ دیکھیئے جناب آپ کے دیئے ،، آٹو گراف ،، ہم نے محفوظ کر لیئے ، بے حد شکریہ ، آپ کو اسٹیج کی فکر تھی لیکن ابھی دو تیں منٹس باقی ہیں ، بہت اچھا پروگرام چل رہا ہے اور آپ مبارکباد کے مستحق بھی ہیں۔۔
بہت بہت شکریہ کہہ کے وہ اسٹیج کی جانب چلنے ہی والا تھا کہ نادیہ نے اس بال پوانٹ کی فرمائش بھی کر دی
یہ بال پوانٹ آپ لے کے کیا کریں گی اور ویسے بھی جس قلم سے میں ایک بار لکھنا شروع کر دوں اسے ختم ہونے پر اپنے پرانے صندوق میں رکھ دیتا ہوں ۔
یہ قلم تو تھا نہیں ، بال پوانٹ تھا ، جس کی چبھن ہم نے محسوس کی ہے یہ اب ہمارے پاس رہے گا ۔
فنکارانہ مسکراہٹ دیتے ہوئے اس نے بال پوانٹ نرم و نازک ہاتھ میں تھماتے ہوئے اسٹیج کی راہ لیاور نادیہ کا کھلا کھلا سا چہرہ سرخ و سپیدی کا مرقع بن گیا ، اسے جیسے لامتناہی مست و شادمانیاں میسر آ گئی ، سمندر میں طوفانی لہروں میں جمود آ گیا تھا ، وہ بار بار آٹو گراف اور بال پوانٹ کو دیکھ رہی تھی ، گلابی ہونٹوں پہ ہلکی ہلکی جنبش ہونے لگی ، اس سے دل کی پوشیدہ بات نہ چھپائی جا سکی ، فرط جذبات سے آٹو گراف کو چومتے ہوئے بال پوانٹ کو بھی لبوں سے مس کر لیا ، عالم مدہوشی کا یہ عالم کہ نزدیک کھڑی سکھیوں کا بھی خیال نہ رہا ۔۔۔۔۔ صوفیہ نے جولی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں چلنے کا اشارہ کیا ہی تھا تو نادیہ کو احساس ہوا کہ ہو کیا کر رہی ہے ، کھسیانی سی ہنسی اور چہرے پر ضبط طاری کرکے وہ ہال کی جانب قدم تو اٹھا رہی تھی لیکن ان لمحات کو کسی صورت فراموش نہیں کر سکتی جو اس کی مدتوں کی تمنا تھی ۔۔۔
ہال میں پھر سے ہلچل مچ گئی گائک اپنے دو گانے عوام کو سنا کر ڈھیروں داد وصول کر چکا تھا ، اس کو اچھے پیرائے میں الوداع کہتے ہوئے آج کا رقص آیٹم عوام کی فرمائش تھی ، رقاصہ کا نام لیتے ہی ہجوم پر جیسے جادو سا طاری ہو گیا ، وہ رقاصہ کا نام لے لے کر نعرے بازی کرتے رہے ۔ ایشیائی پروگرام کے بعد دوسرے ممالک کے فنکاروں کا پروگرام بھی اسی ہال مین ہونے والا تھا ، اس لیئے وہاںکی انتظامیہ اس رقص کو آخری پرفارمنس کا اعلان کر چکی تھی ، رقاصہ باریک کپڑے کا لبادہ تن زیب کیئے گھونگھٹ نکالے کمپیئر کے ہاتھ کا بظاہر سہارا لیتے ہوئے اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئی اوردھیرے دھیرے اس نے اپنا گھونگھٹ ہٹا کر چہرے کی رونمائی اس طرح کی کہ پورے کا پورا ہال اس کی اس ادائے دلربانہ پر مر مٹا ، چھن چھن کرتی پائل اور گھنگھروں کی کھنک نے اس کے بدن کی لچک کو اس قدر دلکش بنا دیا کہ دیوانے دیار غیر میں جھومنے لگے ، ہر ایک ادا پر فریفتہ ہونے والے ایک بار امڈ کر اسٹیج کے بالکل قریب آگئے ، نوٹوں کی اڑان شروع ہو گئی ، بڑی مشکل سے سیکورٹی والوں نے اس جم غفیر پر کنٹرول کیا ، بلکہ ایک منچلے نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ ہمارے فنکار ہیں ہمیں ان کے نزدیک آنے سے کیوں روکا جا رہا ہے ، اس وقت کمپیئر کی عقل کام کر گئی تو اس نے اعلان کر دیا کہ پروگرام ختم ہو لینے دیں ، ملاقات کی خواہش جسے بھی ہے وہ پوری کی جائے گی ، رقاصہ اپنے فن میں بہت کامیاب جا رہی تھی ، عوام کے پر جوش اصرار پر بھی مزید وقت نہیں بڑھایا جا سکا کیونکہ دوسرے فنکاروں کا بھی وقت معین تھا ، پروگرام کا اختتامیہ کرتے ہوئے اور سب کا شکریہ صدق دل سے اد کیا گیا ، ان کی مزید فرمائشوں کو پورا نہ کر سکنے کا افسوس تو ہوا لیکن دیار غیر میں اپنی ثقافت کو اجاگر ہوتے دیکھ کر کمپئیر کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو امڈ آئے ۔ سب کو الوداعی سلام پیش کرتے ہوئے یہاں کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔۔!!
گھر واپس آ کے اس نے کپڑے بدلے اور آج کے کامیاب پروگرام پر سکون کی سانس لی ، اسی اثنا میں اس کا خیال آتو گراف لینے والے ایک ایک چہرے کی طرف گیا ، جس میںکرنسی بنک نوٹ پر آٹو گراف کا طریقہ عجیب لگا جو کہ اس کی زندگی میں پہلا واقعہ تھا ، ممکن ہے اس جوان نے پی رکھی ہو، اور اس دل پہ ہنسی بھی آنے لگی جوان کم اور تیسری جنس کی عکاسی کر رہا تھا لیکن ایک لڑکی کا ہاتھ پہ آٹو گراف لینا اس کے لیئے بہت بڑی بات تھی ، اس کا بھولا بھالا سا معصوم چہرہ ا ور ہاتھ پہ بال پوانٹ کی چبھن کو برداشت کرنا بڑی ہمت والا لازوال معاملہ تھا ۔ جونہی آٹو گراف کی لکیریں اس کے ملائم ہاتھ پہ ثبت ہو رہی تھیں اس کا چہرہ موسم بہار کی تازگی جیسا تصور پیش کر رہا تھا ، چند لمحے ایسے بھی آئے کہ میں از خود سب کچھ بھول کر اس کی مسکان میں جذب ہونے لگا تھا ۔ پرستاری کا یہ عالم بخدا ایک انمول تحفہ تھا ۔اس کی مژگاں کا پیار بھری مد میں جھکاو اس کے لبوں پہ آنے والے شکریئے کی غمازی کر رہا تھا ، ہرنی سی چال ، صراحی دار گردن اور تھوڑی پہ تل کا ابھار دلکشی کا موجب تھا ۔ مسکان میں دنیا کی تمام تر مسرت و شادمانیاں سمٹ آئی تھیں ، کولوھوں تک بکھرے گھنے طویل گھٹاوں جیسے ریشمی بال اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تھے ۔ بات کرنے کا سلیقہ دھیما دھیما سا مقناطیسی کھنچاو سی کشش کا حامل تھا ، ہاتھوں کی مخروطی انگلیاں اس قدر ملائم کہ انہیں مس کرنے میں زندگی کی رمق کا بھرپور تاثر ملتا تھا ، کتابی چہرے کی ساخت جس میں ایک عجب طرح کی راحت کا وجود پنپتا دکھائی دیتا تھا ، کوئی بھی ان لمحات کو فراموش نہیں کر سکتا ۔اس کا ،، آٹو گراف پلیز ،، کہنے کا انداز میری زندگی بھر کی سماعتوں کا ایک منفرد اور انتہائی شیریں دقیقہ ہے جو دل و دماغ پر سدا حکمرانی کرئے گا ۔
شب بھر کروٹیں بدل بدل کے دیکھ لیا ، کسی کروٹ چین نہیں آ رہا تھا ، زندگی ساری پروگرام کرتے گذری ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مجھے بے چینی کا اس قدر سامنا کرنا پڑے ، اس کی نیم باز آنکھیں ، مژگاں کا بہت خوبصورت جھکاو ، نرمی گفتار ، ادب و آداب کی دیوی میرے حواس پر شب بھر راج کرتی رہی ، میں باتیں کرتا جا رہا تھا اور وہ بڑے انہماک سے سنتے سنتے جیسے نیند کی آغوش میں سکون کی متلاشی ہو گئی ہو ، مجھے بھی نیند کی وادی میں لے گئی ۔ نیند میں بھی سہانے خوابوں نے اپنا تسلط قائم کیئے رکھا اور صبح دس بجے کے قریب آنکھ کھلی ، ناشتہ کر چکاتو سوچا جمعہ کی نماز سے پہلے پہلے گھر کے لیئے مارکیٹنگ کر لوں تو بہتر ہو گا ۔ اتنے میں گھنٹی بجی ۔۔۔ کون ہو سکتا ہے ۔ میں نے بیرونی دروازے کو بٹن دبا کے کھول دیا اور بالکونی سے باہر جو جھانکا تو پولیس فورس کے ساتھ ٹی وی چینلز بھی نیچے موجود تھے۔ ابھی انہیں سوچوں میں مستغرق تھا کہ میرے گھر کے دروازے پر بھی گھنٹی کے بٹن پر دباو کچھ کرختگی کا تاثر دے رہا تھا ۔ میں نے دروازہ کھولا تو دو پولیس کمانڈوز نے ،، ہینڈز اپ ،، کا حکم دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہائی پشیمانگی کے عالم میں میں نے ہاتھ اوپر اٹھا لیئے اتنے میں دو اور پوعلیس کمانڈوز دروازے پر آ پہنچے ، سب نے اپنی شناخت کے کارڈ دکھائے اور مجھے بتایا گیا کہ آپ کے وارنت گرفتاری یہ ہمارے پاس ہیں لہذا آپ کے گھر کی تلاشی لینی ہے ، آپ یہیں کھڑے رہیں گے کے ساتھ ہی دو کمانڈوز اندر گھسے اور ٹی وی چینلز کے نمائندے اپنے اپنے کیمرے محرک کیئے ریکارڈنگ پہ لگ گئے ۔ تلاشی لینے والے کمانڈوز کو گھر سے جرم کے مطابق کوئی مطلوبہ اشیا نہ ملیں اور مجے حکم ہوا کہ فورا اپنے شناختی کاغذات ہمراہ لے کر ان کے ساتھ چلوں ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی اور سب محلے والے مجھے آج عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
کل تک جو شخص محلے بھر میں ایک عزت مند شخصیت تھا وہ آج یکلخت سب کی نظروں سے کیسے گر گیا ۔ میرے سر کو دبائے گاڑی میں بٹھا کر انجانے راہوں پر پولیس کی گاڑی خطرے کا سائرن بجاتے ہوئے لے جا رہی تھی اور اس مقام پر لے گئی جہاں کسی مجرم کو مقید کیا جاتا ہے ۔ مجھے ایک کمرے میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ بند کر دیا گیا ۔ میں ناکردہ گناہ کے اس سانحہ پر بہت دلبرداشتہ سوچوں میں گم تھا کہ کمرے کے چند ایک اشخاص نے قریب آ کر چہ میگوئیاں شروع کر دیں ۔۔۔
کافی نوٹ کما چکے ہو ، اچھا کیا گھر والوں کی زندگی تو بنا لی ۔۔۔۔۔ میں اس کا منہ تکتا رہ گیا کہ دوسرا بولا ۔۔۔۔ مجھے امید کہ تم نے رقم اپنے نام پہ بنک میں نہیں رکھی ہو گی ۔۔۔۔۔ اب اس کو میں کیا جواب دیتا ۔۔۔۔۔ کوئی معشوق بھی ہے یا ابھی تک اکیلے ہی بھٹک رہے ہو ۔۔۔۔ اس کی اپنی ادا تھی جسے سننا پڑا ۔۔۔۔۔۔ نارکوٹس کا دھندا بھی کرتے رہے ہو یا ۔۔۔ اس کے ایک ساتھی نے ٹوکتے ہوئے کہا ۔۔۔ ابے الو اگر نشہ آور اشیا کا دھندا کرتا پکڑا جاتا تو یہاں کی بجائے دوسرے بلاک میں ہوتا ۔۔۔ میں ان دونوں کی گفت و شنید پر غور کر رہا تھا کہ میری تازہ ترین خبر بریکنگ نیوز میں میری نمایاں تصویر میں چل رہی تھی ۔۔۔ پوری دنیا میرے بارے کیا سوچ رہی ہو گی ۔ دوپہر سے شام تک کا وقت سوچوں میں اور الجھتا گیا ۔۔۔ رات کا کھانا آ چکا جناب ۔۔۔۔ آ جا ہمارے پیچھے پیچھے قطار میں ۔۔ اا جاو ۔۔ آ جاو کھانا تو پڑے گا ہی ۔۔ ہفتہ اتوار دو دن گذار لو ممکن ہے سوموار تمہیں عدالت لے جایا جائے اور پھر جتنی قید سنائی جائے گی وہ ہم سب اکھٹے گزار لیں گے ، اب جرم کیا ہے تو ہمت سے کام لو ۔۔۔۔۔ سنو میں نے کوئی ایسا ویسا جرم نہیں کیا جس کی پاداش مین مجھے یہاں تک لایا گیا ہے ۔۔۔۔۔ یہاں آتے ہی سب یہی کہتے ہیں ۔۔ وہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا ۔۔ اتنے میں نمبردار کی شی شی کی آواز پر سب خاموشی سے قطار میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور اپنا اپنا دال دلیہ لے کر کھانے لگے ۔۔۔۔۔۔ تم بھی زہر مار کر لو ۔ رزق سے منہ نہین موڑتے ، ارے پگلے اس روٹی کی خاطر ہی تو ہم مجرم بنے ہیں ، تمہیں کیا معلوم یہاں سے باہر کی دنیا مین کیا کیا ظلم نہیں ہوتے ، تم کیا سمجھتے ہو ہم عادی مجرم ہیں ۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہین ہمیں عادی مجرم دن بدن بنایا جائے گا ۔۔ چلو کھا لو جو نصیب میں ہے وہ تو کھانا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے لقمہ لقمہ جو جیل کا کھانا منہ میں ڈالا تو ایسے محسوس ہوا کہ یہ نوالے کہہ رہے ہوں کہ ہمیں کھا کے اپنے قلم سے ان کا ادھار چکا دو ۔۔۔۔ !!
بتی غل کرنے کا حکم صاڈر ہو گیا اور ملگجی اندھیروں میں نوک قلم صفحات پہ اپنی محنت کرنے سے قاصر رہی لیکن سوچوں کے انبار میں کبھی قید با قلم کے پلاٹ پر حروف ابھرتے دکھائی دیئے تو کبھی ناول ،، شکار ،، کے مرکزی کردار کی کہانی دھرانے میں لگ گیا ۔ جرم اور سزا کا تعلق گہرا ہوتا گیا ۔ جیلوں میں کتنے ایسے ہوں گے جو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بگھت رہے ہیں ۔ جھوٹی شہادتوں کے ستائے آہنی سلاخوں کے پیچھے دن گذار رہے ہیں کیا ان کی بے گناہی ثابت ہونے پر ان کی جیل میں کٹنے والی ہر گھڑی کو واپس کیا جا سکتا ہے ؟ اسی ایک سوال نے پوری شب اپنی سوچوں کا جال بچھائے رکھا جو کہ مکڑی کے جال کی مانند اور بھی الجھتا گیا ۔ رات بھی کی بے چینی میں نیند نہ پوری ہونے کے سبب چکر سے آ رہے تھے کہ ایک ساتھی نے آنکھیں ملتے ملتے پوچھ لیا کیا بات ہے کہیں نشے کے عادی تو نہیں ہو ، اگر ایسی بات ہے تو بتا دوں تھوڑے پیسوں میں نشہ یہاں تک آ جائے گا ۔۔۔ میری پشیمانی اور بڑھ گئی ۔ جیل میں نشہ فروخت ہوتا ہے ؟ یہاں کے قوانیں کے مطابق ایسا ہونا تو نہیں چاہیئے ۔۔۔۔ کیوں کس سوچ میں پڑ گئے ہو ۔ اتنی دولت تم نے کمائی ہوئی ہے اس میں سے اپنے نشے کے لیئے کچھ سرف کر لو ۔۔۔۔۔۔ میں نشہ نہیں کرتا۔۔۔۔ تو پھر اور کیا کرتے ہو ؟ پان ، نسوار ، سگریٹ ۔۔۔۔ مجھ میں کوئی ایسی ویسی عادت نہیں ہے ۔۔۔۔ بس تھوڑے دنوں کی بات ہے تم یہاں بہت سی پریشانیوں کو بھول جانے کے لیئے کسی نہ کسی نشے کا سہارا ضرور لو گے۔۔ ہونہہ میں نشہ نہیں کرتا ہوا کا طنزیہ فقرہ کہتے ہوئے کندھے پہ تولیہ رکھے وہ چلا گیا لیکن ایک سوالیہ نشان میرے روبرو رکھ گیا جس کا تجزیہ وقت کے سانچے میں ڈھلے گا ۔
جیل میں آئے مجھے سولہ گھنٹے ہو چکے تھے اور خبروں میں بار بار میرا تذکرہ ہو رہا تھا ، میرے بلاک کے سب قیدی میری اس کہانی کو میرے منہ سے بھی سننا چاہ رہے تھے لیکن میں کیا بتاتا ، جرم کی ڈحینگ مارنا بھی جرم کی جھوٹی پرورش ہے اور یہ گناہ میں اپنے سر کیون لوں ، اسی کھینچا تانی میں وہ نازک اندام لڑکی جس نے اپنے ہاتھ پہ میرے آٹو گراف لیئے تھے ایک بزرگ پر کشش شخصیت کے مالک کے ساتھ میری خیریت دریافت کرنے کے لیئے جیل تک رسائی کی ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ یہان کیسے ؟
آپ کو ملنے لندن سے آ گئی ہوں ۔۔۔ خبریں چل رہی تھیں ، اخبار کی شہ سرخیوں میں آپ نمایاں نظر آرہے تھے لیکن یہ طریقہ ہمیں بالکل پسند نہیں آیا ، آیئے باہر اس آہنی جنگلے سے ، یہاں آپ کی جگہ نہیں ہے ۔ پولیس والے کو بزرگ ہستی نے کاغذ اور اپنا شناختی کارڈ دکھایا تو اس نے پھٹ سے سلیوٹ مار کر دروازہ کھول دیا ۔ دوسرے قیدی اس شان تفاخری سے مجھے باہر جاتے دیکھتے رہ گئے اور سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں قدم رکھتے ہی میں نے دیکھا کہ دہی اس کی دونوں سہیلیاں بھی وہاں موجود تھی ۔ ہمیں بڑی عزت سے دفتر میں بٹھایا گیا اور تھوڑی ہی دیر میں دو باوردی پولیس والوں کے ہمراہ اس مجرم کو ہتھکڑیاں لگائے ہیش کیا گیا جس نے پروگرام میں مجھ سے پچاس یوروز کے بنک نوٹ پر ،، آٹو گراف ،، لیئے تھے ۔ معاملہ اب میری سمجھ میں کچھ کچھ آ گیا تھا ۔
تفتیش شروع ہوئی ، نادیہ نے اپنے بیان قلمبند کرواتے ہوئے یہ کہا کہ یہی ہو وہ شخص جس نے پچاس یوروز پر آٹو گراف لیئے ، آٹو گراف دینے سے قبل محترم کمپیئر نے یہاں تک کہا کہ یہ بنک نوٹ یہاں کی حکومت کا جاری کردہ ہے اس کی بجائے آپ کسی آتو گراف ڈائری پہ آٹو گراف لیجیئے لیکن یہ مجرمانہ طور طریقوں کا مالک بضد رہا اور یہ معاملہ در پیش آیا اس وقت ایک دل پر آتوگراف لینے والا بھی وہاں موجود تھا اور آخر میں اپنے دائیں ہاتھ پہ ان کے آٹو گراف کی درخاست کی جس کا ثبوت میری ان دونوں سہیلیوں صوفیہ اور جولی کے سیل فونز میں موجود ہے ۔ یہ لیجیئے دونوں فونز اور اس مجرم کے نوٹ پر آتو گراف کی تصدیق آپ خود کر لیجیئے ۔۔۔۔ !!
فنگر پرنٹس اور خطاطی کے ماہرین نے اس کی تصدیق کر دی کہ یہ آٹو گراف ایک ہی ہاتھ کے ہیں ۔۔۔۔۔ یوں مجھے آزاد کرکے اصل مجرم کی شناخت پر اس کے دوسرے ساتھیوں کی تلاش شروع ہو گئی اور میں اپنی اس بے گناہی کو اب دنیا بھر مین کیسے ثابت کر سکوں گا اس کا خیال آتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ میں سرنگوں کیئے سوچ رہا تھا کہ کیمروں کی چندھیا جانے والی روشنیوں نے اس کا جواب بھی مہیا کر دیا ، ہر کوئی میری بے گناہی کے راگ الاپ رہا تھا اور پرنٹنگ و الیکٹرونک میڈیا اپنی دی گئی خبروں میں مجھے بام عروج تک پہنچاتے ہوئے مزید تفتیش جاری ہے پر دوسری خبروں میں مصروف ہو گیا ۔ میری ساری زندگی کی آزادی نادیہ کی مرہون منت تھی جس نے کوئی لمحہ ضائع کیئے بغیر میرے ماتھے پہ لگنے والے دھبے کو صاف کیا ۔۔ ۔ !!
چلیں ۔۔۔ ہیں کہاں ؟ وہ بزرگ اور آپ کی دونوں سہیلیاں ۔۔۔۔ کہاں گئے سب ؟
وہ سب تو آپ کوگڈ بائی کہہ کے جا بھی چکے ہیں ۔۔۔۔۔ ہیں میں نے تو سنا تک نہیں ۔۔۔۔ آپ جس دنیا میں تھے وہ شرافت کا خیال تھا اور سب اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ آپ انہیں سوچوں میں ہیں ، ہم دونوں کو یہاں چھوڑ کر جا چکے ہیں ، اب آیئے میرے ساتھ ۔۔۔۔ کہاں ؟ مجھے ائیر پورٹ تک الوداع نہیں کہیں گے ۔ مجھے واپس لندن جانا ہے ۔۔۔۔ ہاں ہاں کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔!!
نادیہ نے ایک ٹیکسی وہیں سے لی اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر سفر شروع کر دیا ۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں ۔۔۔۔
ارے آپ تو اچھی خاصی اردو بول رہی ہیں ۔
یہ سب آپ کی مہربانی ہے ۔
وہ کیسے ؟
میں آپ کو سات سال سے سن رہی ہوں ، ریڈیو ، ٹی وی ، مختلف پروگراموں میں شمولیت کرکے مجھے شوق پیدا ہوا اردو سیکھنے کا اور جب کوئی کسی زبان کو سیکھنا چاہے تو سیکھ سکتا ہے ، آج مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ میں آپ کے ساتھ اردو میں بات کر رہی ہوں ۔
میں ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے جیل کی سراسیمگی میں گم سم تھا اور جونہی آپ کی زباں سے اردو کی شیرینی میری سماعت میں رس گھولنے لگی تو جیل میں کٹی ساعتوں کی رنجش کا اختتام ہوا ۔
آپ کو بتاتی چلوں کہ آپ کے تمام ریڈیو ، ٹی وی ، اسٹیج ڈرامے اور سب پروگراموں کی آڈیو ، ویڈیوز میرے پاس موجود ہیں ، آکسفورڈ میں میرے کئی ساتھی بہت پیاری اردو بولتے ہیں اور میرا زیادہ تر وقت انہی کے ساتھ گذرتا ہے ان میں سے کئی آپ کے مداح بھی ہیں ۔
بے حد شکریہ ۔ آپ نے اتنی ساری محبت کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ مجھے ناکردہ گناہ کے چنگل سے بھی آزاد کروا دیا ۔
ہاں یاد آیا ۔ وہ بزرگ جو جیل میں میرے ساتھ تھے وہ میرے ڈیڈی ہیں اور آپ کو عدالت جانے کی اب ضرورت نہیں ہے ، انہوں نے تمام مقدمے کی سماعت خود کر لی ہے اور سوموار کو عدالت میں اس اصل مجرم کو لے جایا جائے گا جو کہ نمبر دو کرنسی کے گھناونے جرم کے مرتکب ہیں ، وہی کیفر کرداد تک پہنچیں گے اور آپ کی بے گناہی کا پروانہ عدالت عالیہ سے آپ کے گھر تک پہنچ جائے گا ۔
میرے پاس الفاظ نہیں کہ آپ کا شکریہ ادا کر سکوں
ہمیں آپ اس معاملے میں مزید شرمندہ مت کیجیئے ۔۔۔ لو باتوں باتوں میں ائیر پورٹ بھی آ گیا ہے ، وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔ اور ویسے بھی آپ کے ساتھ سفر کرنے کا الگ مقام ہے ۔۔۔۔ آیئے ایک ایک سینڈوچ ہو جائے تاکہ ۔۔۔۔ رہنے دیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔ جانتی ہوں جیل کے کھانے کا کچھ دنوں تک آپ پر گہرا اثر رہے گا اسی کو زائل کرنے کے لیئے کچھ کھا پی لیتے ہیں ۔ اگر اور کچھ کھانا ہے تو بتایئے ۔۔۔
کیوں تکلیف کر رہی ہیں ۔۔۔
اور آپ تکلف کیوں کر رہے ہیں ، سینڈوچ کے ساتھ کولڈ ڈرنک چلے گا کہتے ہوئے نادیہ نے دو سینڈوچ اور کولڈ ڈرنک لے کر ویٹنگ روم کے کارنر صوفے پر بیٹھے ہلکی ہلکی مسکراہٹوں کے تبادلے میں بات چیت جاری رکھی ، باتوں باتوں میں جولی اور صوفیہ کی دوستی کو بھی سراہتی رہی ۔ وہ کمپیئر جو ہر وقت مائک لیئے دنیا کے ساتھ باتیں کرتا تھا آج نادیہ کی گفتگو سے تسکین لے رہا تھا ۔۔
اٹنشن پلیز نے سارے ماحول کو درہم برہم کر دیا ۔۔۔ یہ لندن جانے والی فلائٹ کی آخری کال تھی
نادیہ نے بڑی لجاجت سے اپنا بایاں ہاتھ بڑے پیار سے آگے بڑھاتے ہوئے ،،، آٹو گراف پلیز ،،، کہتے ہوئے قلم پیش کیا
یہ آج آپ بائیں ہاتھ پہ آٹو گراف کیوں لینا چاہتی ہیں
اس لیئے کہ بائیں ہاتھ کا رابطہ دل سے ہے اور قلم اس لیئے پیش کر رہی ہوں کہ یہ قلم اب آپ کی ملکیت ہو گی ۔
میں جونہی آتو گراف دے چکا تو اس نے ہنستے ہنستے کہا کہ جس نے دل پر آٹو گراف لیئے تھے کبھی کبھی اسے بھی یاد رکھیئے گا
یہ لیں اس قلم کا خول اس میں اسے سنبھال کے رکھیئے گا ۔۔۔۔ وہ ویٹنگ روم سے لاونج تک جاتے جاتے مجھے آخر تک دیکھتے بھی جارہی تھی اور میں اس کی بے لوث محبت کا مقروض بھی تھا ، قلم کا خول جو اس نے جاتے ہوئے میرے ہاتھ میں تھمایا تھا اس میں قلم رکھنے کے لیئے اسے کھولا ہی تھا کہ ایک کاغذ کی دو تہوں میں پچاس یوروز کا نوٹ میرا استقبال کر رہا تھا ۔۔۔ کاغذ پہ تحریر اگرچہ اب میرا معاملہ نہیں رہا آپ کے ساتھ بھی اس کی شراکت کرتا ہوں ،،، اس پچاس یوروز کے بنک توٹ کو ٹیکسی ڈرائیور کو دیتے وقت اس پر ،، آٹو گراف ،، مت دیجیئے گا ۔
میری آنکھوں میں آئے آنسو مجھ سے سنبھالے نہ گئے ، باہر نکلا تو دیکھتا ہوں وہی ٹیکسی والا ہنستے ہوئے مجھ سے کہہ رہا تھا چلیں اور میں اس کے ساتھ دور خیالوں میں کھویا کسی کے ساتھ ہم سفر تھا ۔ گھر تک لانے والے تیکسی ڈرائیور کو پچاس کا نوٹ دیتے ہوئے مجھے نادیہ کی تحریر یاد آ گئی اور میں ہنستے ہوئے اسے الوداع کہتے ہوئے چل دیا اوروہ کہتا ہی رہا آپ کا بقایا ۔۔۔۔۔ یہ سب تمہارا ہے تم رکھ لو ۔۔ !!
چوہدری محمد بشیر شاد
ایک سمپورن انسان کی گاتھا: ڈاکٹراختر آزاد ؔ
افسانہ
ایک سمپورن انسان کی گاتھا
ڈاکٹراختر آزاد ؔ
جمشید پور، انڈیا
اس نے کمر سے ایک ہی جھٹکے میں اپنا وہی پُرانا خون آلوددھار دار چاقو نکالا اور پاگلوں کی طرح اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے لگا ۔
وہ سمپورن انسان بننا چاہتا تھا ۔ ایک ایسا انسان جس کے اندر دُنیا کی ساری خوبیاں موجود ہوں ۔ لیکن اس روئے زمین پر آدم و حوّا کے حسین امتزاج سے جتنے بھی انسانوں کی تخلیق کی گئی ہے ان میں ایک بھی ایسا انسان نہیں جسے ’سمپورن ‘کہا جا سکے۔ خالقِ کائنات کے پاس کیا کچھ نہیں ہے؟ پھر بھی اُس نے سب کے اندر سب ہی کچھ کیوں نہ ودیعت کیا؟ ایسا بھی کیا کہ ایک دو ہی خوبیاں کچھ کے حصّے میں آئیں ، اور وہ بے چارہ ، کم عقل انسان اسی میں بہل گیا ۔
لیکن وہ……..؟
وہ دوسروں انسانوں کی طرح بہلنے والا نہیں تھا، کیوں کہ اس کے اندر ایک طرح کا جنون تھا ۔ اور وہ سارے کارنامے جو دنیا کے الگ الگ انسانوں نے الگ الگ میدانوں میں انجام دِیے ہوں گے ، وہ سارے کے سارے آناً فاناً خود ہی انجام دے لینا چاہتا تھا ۔
اس مقصود کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے اُس نے دُنیا کے سارے مہاپُرشوں اور مختلف میدانوں میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے والوں کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کیا ۔ اور وہ ساری خوبیاں جو الگ الگ انسانوں میں اُسے نظر آئیں ، اُن کی زندگی کے اوراق کو تراش کر اپنی زندگی کا ایک نیا فائل کھول لیا ۔ فائل کے مکمل ہوتے ہی اس کا دل خوشی کے مارے بلّیوں اُچھلنے لگا کہ اب دُنیا کے سارے مہا پُرشوں اور عالمی ریکارڈ قائم کرنے والوں کے اہم انگوں کے نئے جوڑ سے اُس کے نئے جسم کا نرمان ہوگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دُنیا کے سارے ریکارڈ اُس کے دامن میں آ گریں گے۔
وہ سوچ کے پتھّر پر بیٹھا اپنے خاندانی زنگ آلود چاقو کو بہت دیر تک رگڑتا رہا ۔ کُند چاقو کی سخت دھار کو رگڑتے رگڑتے اُس کی آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگا ۔ اس کا جسم لرزنے لگا ۔ چاقو کی دھار تھی کہ تیز ہونے ہی میں نہ آتی تھی ۔ اس کی ذہنی کیفیت اُس وقت پاگلوں جیسی ہو کر رہ گئی تھی ۔ چاقو کی دھار کو بار بار آزمانے کے چکّر میں اُس نے اپنے جسم کے کئی حصّوں کو کانٹ چھانٹ کر اور گود گود کر بُری طرح سے زخمی کر دیا تھا ۔ جب تک اُس کا جسم پوری طرح خون سے نہا نہیں گیا ، وہ سوچ کے پتھّر پر بیٹھا اپنے پرانے چاقو کی دھار تیز کرتا رہا ۔
آخر کار چاقو کی دھار اس کی حسبِ منشا تیز ہو گئی ۔ پھر وہ چاقو کو کمر میں گھونس کر ، اور بغل میں اپنی فائل دبائے ، مہاپرشوں اور عالمی ریکارڈ کے حاملوں کی تلاش میں زمین و آسمان کو کھنگالنے کا تہیّہ کر کے گھر سے نکل پڑا ۔ سب سے پہلے اس نے سوچا کہ اپنے پاؤں کو دنیا کے سب سے تیز دوڑنے والے پاؤں سے بدل لیا جائے۔ تو اُس نے ٹریک اینڈ فیلڈ سے تعلق رکھنے والی دُنیا کے مہان کارگزاروں ، جیسے لن فورڈ کرسٹی، ڈونون بیلی، کار لوئس ، بن جانسن اور مائکل جانسن کی زندگی کے اوراق اُلٹے۔ اُس کی نظرِ انتخاب بن جانسن پر پڑی ۔ وہ دوڑ کے ویڈیو کیسٹ کو ری وائنڈ کر کے سول اولمپک اسٹیڈیم کی بھیڑ میں شامل ہو گیا ۔
دوڑ کی شروعات ہوئی اور بن جانسن نے کارلوئس کو پچھاڑتے ہوئے ۷۹ء۹ سیکنڈ میں سو میٹر کی دوری طے کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ جہاں سارا اسٹیڈیم گونج رہا تھا ، وہیں دوسری طرف ڈوپ ٹیسٹ کے لئے بن جانسن کو لیباریٹری لے جایا جا رہا تھا ۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ لاکھوں شائقین کی بھیڑ کو چیرتا ہوا ٹریک پر پہنچ گیا ۔ اور وہاں پہنچتے ہی اس نے جھٹ پٹ کمر سے وہی دھار دار چاقو نکال کر بن جانسن کے دونوں پاؤں کو کاٹ کر انھیں اپنے پیروں کی جگہ پر جوڑ کر ایک جست لگائی۔ ہاتھ میں فائل اور دوسرے ہاتھ میں چاقو پکڑے وہ برق اسپ کی طرح اسٹیڈیم سے باہر نکل گیا ۔ باہر نکلتے ہی وہ ایک بار پھر مہا پرشوں اور عالمی ریکارڈ والوں کی فائلوں کو تیزی سے پلٹنے لگا ۔ محمّد علی کلے، دارا سنگھ، برسلی اور ٹائسن میں سے اس نے اپنا فیصلہ جیسے ہی برسلی کے حق میں سُنایا ، اس کی آنکھوں کی اسکرین پر فلم برسلی کا ایک ایک سین اپنا جلوہ دکھانے لگا ۔ برسلی کو سینکڑوں آدمی گھیرے ہوئے ہیں اور وہ بجلی کی طرح چاروں طرف اُچھلتا اور ناچتا ہوا انگلی کے صرف ایک اشارے سے دشمن کو موت کے گھاٹ اُتار رہا ہے ۔ پھر دوسرے ہی منظر میں اُس نے دیکھا کہ وہ برق رفتاری کے ساتھ نائن چاقو گھُما رہا ہے اور لوگ اُس پر چاروں طرف سے گولیاں چلا رہے ہیں ۔ لیکن ایک بھی گولی اُس کے جسم کو گزند نہیں پہنچا رہی ہے، سب کی سب اُس کے نائن چاقو سے ٹکرا کر لوٹ جا رہی ہیں ۔
اپنے سارے حریف کاصفایا کرنے کے بعد جب برسلی آہستہ آہستہ اپنے گھر کی سمت بڑھنے لگا تو شیر کی سی پھرتی کے ساتھ پیچھے سے اُس نے خون آلود دھار دار چاقو سے برسلی کے دوونوں ہاتھوں کو کاٹ لیا ، اور انھیں اپنے ہاتھوں کی جگہ جوڑ کر خون آلود چاقو کو اُسی طرح کمر میں کھونس کر ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر سائیں سائیں کرتا وہاں سے آگے بڑھ گیا ۔
ایک بار پھر مہا پرشوں اور عالمی ریکاڈ قائم کرنے والوں کی فائلوں کو پلٹتے پلٹتے اُس کا خون سے سنا ہوا وہی ہاتھ کمر کی طرف گیا اور آن کی آن میں خون آولوددھار دار چاقو اس کے ہاتھ میں لہرانے لگا ۔ وہ تو سن تخیّل کی سی تیزی کے ساتھ مہابھارت کی سرحدوں کو پھلانگتا ہوا جھپٹا اور درونا چاریہ کے شکچھا استھان میں بغیر اجازت پرویش کر گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ درونا چاریہ اپنے شِشیوں کی پرکچھا لے رہے ہیں ، پوچھتے ہیں ۔
’’تمہیں اس پیڑمیں کیا دکھائی دے رہا ہے ۔؟‘‘
جواب میں کسی نے پیڑ کہا تو کسی نے پتّی ۔ کسی کو چڑیا نظر آئی تو کسی کو دروناچاریہ کے سوا کچھ بھی دکھائی نہ دیا ۔ لیکن سب سے آخر میں ارجن کی باری آئی تو اس نے کہا ۔
’’ مہاراج ! مجھے تو صرف چڑیا کی بائیں آنکھ دکھائی دے رہی ہے ۔ ‘‘
اور پھر اس نے نشانہ لگایا اور تیر سیدھا چڑیا کی بائیں آنکھ میں جا لگا ۔ دروناچاریہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے فرمایا :
’’ارجن ہی میرا سب سے پِریہ شِشیہ ہے۔‘‘
درونا چاریہ کے وہاں سے ہٹتے ہی اس نے ارجن کی باز جیسی چمکیلی تیز آنکھوں کی گولیوں کو اپنے دھار دار چاقو سے نکال کر اپنی آنکھوں کی کٹوریوں میں فٹ کر لیا اور خوشی سے جھوم اُٹھا کہ اب وہ ان آنکھوں سے پاتال کے اندر کی چھُپی ہوئی چیزوں کو دیکھ سکتا ہے ۔
لیکن وہ اپنے اندر اب بھی بہت ساری کمیاں محسوس کر رہا تھا ۔ وہ ایک بار پھر مہا پرشوں اور عالمی ریکارڈ کے حامل جیالوں کی فائلوں کے اوراق تیزی سے اُلٹنے لگا ۔ شاطر دماغ انسانوں میں شرلاک ہومز، ہرشد مہتہ، نٹور لال ، جیمس بانڈ اور ان کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سارے نام کمپیوٹر کی اسکرین پر نمودار ہوئے ۔ اُس نے خوب سوچ بچار کر خون آلود دھار دار چاقو کی نوک سے کی بورڈ کا بٹن دبایا اور جیمس بانڈ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے خون آلود دھار دار چاقو سے بانڈ کی کھوپڑی کھول دی اور اس کا دماغ نکال کر اپنے دماغ میں فٹ کر لیا ۔
ایک بار پھر وہ مہا پرشوں اور عالمی ریکارڈ کے مالکوں کی فائل اپنے خون آلود دھار دار چاقو سے پلٹ رہا تھا ۔ اب اسے دُنیا کے سب سے مضبوط دل کی تلاش تھی ۔ ایک ایسے دل کی جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکا ہو اور نہ ہی اُسے کوئی جھکا پایا ہو ۔ سکندر اعظم، سمراٹ اشوک، نپولین، رانگا سانگا سے لے کر صدّام حسین تک سب پر اُس کی نظریں تیزی سے پھسلتی رہیں ۔ آخر کار اُس نے انتخاب کی مہر ہٹلر کے سینے پہ لگا دی۔ مہر لگتے ہی اس نے خود کو جرمنی کی سرزمین پر پایا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ ناتسی دیوانہ ہٹلر ایک پارک میں کھڑا ہے ، اس کے سامنے سمنٹ اور لوہے کا بنا ہوا ایک بھاری گلوب ہے ۔ساری دنیا کو فتح کرنے کا خونی ارادہ کرنے والا دیوانہ ہٹلر کسی ہذیانی کیفیت میں گرفتار لوہے کی ایک موٹی زنجیر سے گلوب کو باندھنے کی کوشش کر رہا ہے اور خود ہی مسکرائے دیتا ہے کہ بس اب ساری دُنیا میری مٹھّی میں ہو گی ۔ زنجیر سے بندھے ہوئے گلوب کو جیسے ہی ہٹلر نے اپنے سر پر لاد کر فاتحانہ مسکراہٹ سے ساری دنیا کو دیکھنا چاہا ، خون آلود دھار دار چاقو سے اُس نے اُس کا سینہ چیر کر اُس کا دل نکال لیا اور فوراً اُسے اپنے سینے میں اڑس لیا ۔ اتنے کے بعد بھی اُسے وہ نصیب نہ ہوا جس کی اُسے تمنّا تھی ۔ اب بھی اُسے بہت ساری کمیاں اپنے اندر محسوس ہو رہی تھیں ۔ سمپورن انسان کا وہ خواب اب بھی اُس کی آنکھوں میں کروٹیں لے رہا تھا ۔ سمپورن بننے کی چاہت میں اِدھر وہ دھڑا دھڑ فائلوں کے اوراق اُلٹتا رہا اور اُس کا دھار دار خون آلود زچاقو ایک ایک کر کے اپناکام کرتا رہا ۔ یعنی جس کا جو انگ اچھّا لگا اُس نے بے جھجھک وہ انگ کاٹ کر خود اپنے جسم میں جوڑ لیا ۔ اس طرح آہستہ آہستہ اُس کے جسم کا ایک بھی انگ اُس کا اپنا نہ رہا ۔ اپنے جسم کے سارے انگوں کو بدل کر کے اُس نے ساری دُنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا ۔
اب اُس کے انگ انگ میں بجلی ناچ رہی تھی ۔
دماغ کمپیوٹر کی اسکرین کی طرح روشن تھا ۔
آنکھوں سے روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں ۔
دونوں پیروں میں ہوائی جہاز کے پنکھے سے لگ گئے تھے۔
دونوں ہاتھ مشینی انداز میں اُوپر نیچے ہو رہے تھے۔
دل میں ساری دنیا کی قوّت بل کھا رہی تھی ، کروٹیں بدل رہی تھی اور وہ غرور کے پتھّر پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ دنیا کے وہ سارے کارنامے جو دوسروں کے نام ہیں، آن کی آن میں اُس کے دامن میں آگریں گے ۔ پھر دُنیا اُس کے قدموں تلے ہو گی ، اور آسمان اُس کے ہاتھوں میں ۔اس لئے وہ آج بہت خوش تھا ، کیوں کہ وہ خواب جو اُس نے دیکھا تھا پورا ہو گیا تھا ۔ اُس کا اپنا کچھ نہ تھا تو نہ سہی ، ہزاروں انسانوں کے انگوں کو اپنے اندر جوڑ کر وہ ’’سمپورن انسان ‘‘ بن ہی گیا تھا ۔
سمپورن انسان کا لبادہ اوڑھتے ہی اس نے میڈیائی ہواؤں کے ذریعہ ساری دُنیا میں اپنے کارناموں کی تشہیر کر دی ۔ آج کروڑوں لوگ اس کے کارناموں کو دیکھنے کے لئے دُنیا کے سب سے وسیع میدان میں جمع ہوئے تھے ۔
شروعات ٹریک اینڈ فیلڈ سے ہونی تھی ۔
جب ساری تیّاریاں ہو گئیں تب وہ وارم اپ کرتے ہوئے لائن نمبر ایک پر آ کر کھڑا ہو گیا۔
’’آن یورک مارک!‘‘
’’گیٹ سیٹ!‘‘
اور پھر ’’گو‘‘ کی آواز پر اس نے اپنا دایاں ہاتھ ، پھر بایاں ہاتھ زمین سے اُٹھایا ۔ اس کے فوراً بعد آگے پیر سے اسٹارٹنگ بلاک کو تیزی سے دبا کر آگے بڑھتے ہوئے اُس نے پچھلے پیر کے گھٹنے کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کی تو جسم کے دوسرے حصّے بھی حرکت میں آ گئے ۔ ’’گو‘‘ کی آواز پر اُس کے دونوں پاؤں برق رفتاری کے ساتھ آگے تو بڑھ گئے ، لیکن کمر سے اُوپر کے وہ حصّے جو دوڑ کے اس فن سے ناآشنا تھے ، ساکت رہ گئے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا دھڑام سے پیچھے کی طرف گر پڑا۔
اور پھر جب اُس نے اپنے جسم کی گرد جھاڑتے ہوئے رِنگ میں نائن چاقو گھُما کر گولی کے رُخ کو موڑنے کا دل دہلا دینے والا مظاہرہ دکھانا چاہا تو اُس کی آنکھیں گھنے پیڑکی پتّیوں کے درمیان مہا بھارتی چڑیا کی بائیں آنکھ سے اُلجھ کر رہ گئیں ۔
اور جب اُس کے جسم کے کسی بھی انگ کا رشتہ جسم کے کسی بھی دوسرے انگ سے استوار نہیں ہو پایا ، تب درد اُس کے لہو میں گھُل کر اُس کے انگ انگ میں گرم گرم شیشے کی طرح بہنے لگا۔اوراندر ہی اندر ہڈّیوں کی جڑ تک پہنچنے لگا ۔
اور جب درد کے اس بے رحمانہ وار سے اس کے جسم کی ہڈّی جگہ جگہ سے چٹخنے لگی ، تب کروڑوں تماشائیوں کے بیچ اکیلا کھڑا وہ اُسی پرانے خون آلود دھار دار چاقو سے اپنے’ سمپورن جسم ‘کے ٹکرے ٹکڑے کرنے لگا ۔
***
Add:
DR.AKHTAR AZAD
,HOUSE NO 38, ROAD NO-1
AZADNAGAR , JAMSHEDPUR- 832110 – JHARKHAND
Mob- 09572683122
E.mail: dr.akhtarazad@gmail.com
جنت والی چابی : ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
جنت والی چابی
ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221.
امن کتابوں کا بستہ کندھے پر ڈال کر اسکول کی جانب نکل پڑا۔بس اسٹاپ پر پہنچ کر وہ دوسرے ہم مکتب ساتھیوں کی ٹولی میں شامل ہوکر بس کا انتظار کرنے لگا۔انتظار کا وقت کاٹنے کے دوران بچے آپس میں ٹھٹھے بازی کرنے میں مشغول تھے۔ بس اسٹاپ پر دوسرے لوگ بھی موجود تھے جن میں سرکاری ملازمین‘دکاندار‘مزدور اور دینی مدرسوں کے طالب علم وغیرہ بھی شامل تھے۔بس اسٹاپ توسبھی لوگوں کے لئے تھا لیکن عام طور پر دینی مدرسوں میں زیر تعلیم بچے اورفوجی اسکول کے بچوں کی ٹولیاں الگ الگ ہوتی تھیں۔ چونکہ امن کا والد بھی ایک فوجی افسر تھا اس لئے امن اور اس کا چھوٹا بھائی بھی شہر کے آرمی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔بس اسٹاف پر دونوں ٹولیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ قائم رہتا تھا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دوسرے بچوں کے بدلے آرمی اسکول کے بچے اسکول کی مخصوص گاڑی میں ہی اسکول جایا کرتے تھے۔آرمی اسکول کے بچے تو بلا تکّلف آپس میں ہنسی مذاق کرتے رہتے تھے اور جب ان کے ہنسنے کی آوازیں دوسرے لوگوں کے کانوں سے ٹکراتی تھیں توپتہ نہیں مدرسے کے بچے ہی ان کے چہروں کوکیوں حریفانہ نظروں سے تاکتے رہتے تھے۔بس اسٹاپ پر یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری تھا۔دینی مدرسے والے طلبہ میں پندراں سولہ برس کاایک لڑکا بھی تھا جو امن کا ہمسایہ بھی تھا اوردوست بھی۔اکثر یہ دونوں گھر سے بس اسٹاف تک ساتھ ساتھ چلتے چلتے ایک دوسرے کے اسکول کے بارے میں باتیں کرتے رہتے تھے۔دینی مدرسے کا طالب علم سفید قمیض شلواراور سر پر ٹوپی پہنے ہوئے ہوتا تھا اور امن گلے میں ٹائی لگا کر فوجی ڈریس میں ہوتا تھا۔ہم عمر ہونے کی وجہ سے دونوں آپس میں ایک دوسرے کے لباس اور پڑھائی پر بلا تکلف بحث و تکرار کرتے رہتے تھے۔ایک دن دینی مدرسے کاطالب علم اپنی تعلیم پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگا:
”میں دین کی تعلیم پڑھتا ہوں اور جو دین کی تعلیم پڑھتے ہیں وہ جنت میں چلے جائینگے۔
”اور جو انگریزی کی تعلیم پڑھتے ہیں۔“امن تھوڑا سا مرعوب ہوکر پوچھ بیٹھا.”کیاوہ جنت میں نہیں جائینگے؟“
”نہیں‘ہرگز نہیں۔“مدرسے والے لڑکے نے بڑی اکڑ کے ساتھ جواب دیا.”کیونکہ ہمارے استادمحترم کہتے ہیں کہ باقی سب علم شیطانی علم ہے جو انگریز اور یہودی پھیلاتے ہیں۔“
”لیکن اگر ہم سائینس نہیں پڑھیں گے تو ڈاکٹر کیسے بنیں گے؟“امن اپنی تعلیم کی اہمیت بتانے لگا.”اور میں اپنے
ملک کی حفاظت کیسے کروں گا کیونکہ مجھے تو آرمی افسر بنناہے۔“
”تجھے جو بننا ہے وہ بن جا.“مدرسے کا لڑکاجیب سے سرخ رنگ کی چابی نکال کر انگلی میں گھماتے ہوئے کہنے لگا.
”میں تو تمہیں جنت میں جانے کا سبق سمجھا رہا تھا کیونکہ تم میرے دوست ہو۔“
”تمہارے پاس تو بڑی خوب صورت چابی ہے۔“امن تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پوچھ بیٹھا۔
”ذرا میں بھی تو دیکھوں …!“
”دیکھ لو‘پر تم اسے دیکھ کر کیا کرو گے۔“لڑکا چابی اس کی طرف پھینکتے ہوئے بول پڑا۔”یہ شیروں کے کام آتی ہے اور تمہیں تولومڑی بن کر انگریزوں کی تعلیم پڑھنی ہے۔“
”ارے‘اس پر تو جنت کی چابی لکھا ہوا ہے.“امن چابی کو غور سے تکتے ہوئے بول پڑا.
”ہاں‘یہ جنت کی چابی ہے۔“لڑکا سر ہلا کر کہنے لگا.”پر‘یہ انگریزی پڑھنے سے نہیں ملتی ہے۔“
”تو پھر۔۔۔۔!“امن تھوڑا سوچ کر پوچھنے لگا۔”یہ کس کو ملتی ہے؟“
”اسی کو جو دینی تعلیم پڑھتا ہے.“لڑکا چابی وآپس لیتے ہوئے بول پڑا.
”مجھے بھی ایسی ہی چابی دے دو تاکہ مجھے بھی جنت ملے۔“
”اس کے لئے تمہیں انگریزی اسکول چھوڑ کر مدرسے میں پڑھنا پڑے گا۔“
”مگر میرے گھر والے مجھے کہاں مدرسے میں چھوڑیں گے۔“
”تم خود ہی مدرسے میں چلے آو۔“لڑکا اسے سمجھانے لگا۔”تعلیم تو تجھے حاصل کرنی ہی ہے کیوں نہ وہ تعلیم
پڑھو جو تجھے جنت میں لے جائے گی۔“
امن دن بھر جنت کی چابی کے بارے میں سوچتا رہا ‘سوچتا رہا۔اس کے ذہن میں عجیب طرح کے خیالات گردش کررہے تھے۔ انگریزی کتابوں کو دیکھتے ہی اس کے اندر نفرت سی پیدا ہورہی تھی۔اسکول سے چھٹی ہونے کے بعد وہ جب گھر وآپس لوٹا تو وہ اور زیادہ بے چین سا ہوگیا۔وہ رات بھر جنت کے خواب دیکھتا رہا۔صبح اسکول جاتے ہوئے اسے پھرمدرسے والا دوست مل گیا۔باتوں باتوں میں امن اسے کہنے لگا کہ وہ بھی آج سے مدرسے میں پڑھنے کے لئے آئیگا۔
”وہ تو ٹھیک ہے‘مدرسے میں میں تجھے داخلہ دلوادونگا۔“دوست اسے پوچھنے لگا۔”لیکن کیا تمہارے گھر والے اس کے لئے تیارہونگے؟“
”جب انہیں معلوم پڑیگا تو میں انہیں بتا دونگا کہ میں دینی تعلیم ہی پڑھونگا نہ کہ انگریزی تعلیم۔“
امن کا جواب سن کر وہ اسے اپنے ساتھ مدرسے میں لے کر گیا۔استاد جب کلاس روم میں پڑھانے کے لئے آیا تو فوجی وردی میں ملبوس امن پر نظر پڑھتے ہی وہ حیران ہو کرطلبہ سے پوچھنے لگا کہ آرمی وردی میں یہ نیا لڑکا کون ہے؟امن کچھ کہنے سے ہچکچانے لگالیکن اس کے دوست نے استا د کی حیرانی کو یہ کہہ کر دور کردیا کہ مولوی صاحب یہ دینی تعلیم پڑھنا چاہتا ہے۔یہ سن کر مولوی صاحب نے سبق پڑھانا شروع کردیا۔امن دو تین دن تک مدرسے میں پڑھتا رہا۔ ایک شام جب وہ گھر وآپس آیا تو ماں نے اس کے منہ پرایک تھپڑ رسید کرتے ہوئے پوچھا کہ تو کتنے دنوں سے اسکول نہیں گیا ہے‘دن بھر کہاں آوارہ گھومتا پھرتا ہے؟تھپڑ پڑتے ہی اس کو غصہ چڑھ گیااور وہ صاٖف
صاف کہہ اٹھا کہ وہ صرف دینی تعلیم ہی پڑھے گا۔ماں چند دنوں تک اسے سمجھاتی رہی لیکن تھک ہار کر اس نے اپنے شوہر کو فون پر سب کچھ بتا دیا۔اس کافوجی شوہر یہ سن کرپریشان ہوگیا اور وہ امن کو فون پر بلا کر پوچھنے لگا۔
”تم اپنااسکول چھوڑ کر مدرسے میں کیوں چلا گیا ہے۔“
”میں دینی تعلیم پڑھنا چاہتاہوں۔“ڈر کی وجہ سے وہ دھیمی آواز میں بول پڑا.”تاکہ مجھے جنت ملے۔“
اس کا والد یہ سن کر حیران ہوا۔اس کی سمجھ میں تھوڑاتھوڑا کچھ آنے لگا کہ شاید امن کو کسی نے غلط گائیڈنس کی ہے‘کیونکہ ملک کے حالات خراب ہیں اور کچھ لوگ ذاتی مفاد کی خاطراسلام کی سچی تعلیم کو غلط رنگ میں پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو بگاڑرہے ہیں۔وہ امن کو سمجھانے لگا:
”بیٹا‘تو جس اسکول میں پڑھتا ہے وہاں سے پڑھ لیکھ کر افسر بن جائیگا اور اپنے ملک کی سچی خدمت اور حفاظت کرکے بھی جنت کما سکتاہے۔“
”نہیں‘وہاں انگریزوں کی تعلیم پڑھائی جاتی ہے اور انگریز مسلمانوں کے دشمن ہیں۔“امن جذباتی لہجے میں بول پڑا۔
فوجی افسر یہ سن کر ہکابکا رہ گیا۔ وہ سخت پریشان ہوگیا۔اب وہ سخت لہجہ اختیار کر کے امن کو دھمکی بھری آواز میں سمجھانے لگا:
”یہ کن لوگوں کے بہکاوے میں آکرتو خود کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کوبھی تباہ کرنے جارہا ہے۔ان مفاد پرستوں نے تو اسلام کے نام
پرغیراسلامی کام کرتے ہوئے ساری دنیاکو پریشان کر رکھا ہے۔اچھا ٹھیک ہے‘ میں ایک ہفتے کے بعد گھر آکر تجھے خود سمجھا دونگا۔“
ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد جب فوجی افسر چھٹی پر گھر وآپس آیا تو گھر کاماتمی ماحول دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگے۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ امن پچھلے پانچ دنوں سے لاپتہ ہے۔نہ مدرسہ والوں کو کچھ خبر ہے اور نہ ہی پولیس کچھ پتہ معلوم کر سکی۔امن کے والد نے بھی بہت دنوں تک اسے ڈھونڈنے کی بے حد کوشش کی اور آخر کا مایوس ہوکر وہ ڈیوٹی پر روانہ ہوگیا۔
ملک کے حالات دن بہ دن زیادہ خراب ہورہے تھے۔ہر روز کہیں نہ کہیں سے خون خرابے اور خود کش حملوں کی دل دوز خبریں آرہی تھیں۔آے روز درجنوں معصوم انسان موت کا نوالہ بن رہے تھے۔پولیس اور فوج بڑی جاں فشانی سے موت کے سوداگروں کا مقابلہ کررہے تھے اور یہ بزدل سوداگر اپنی خفت مٹانے کے لئے عام شہریوں اور اسکولی بچوں کواپنی وحشیانہ حرکت کا نشانہ بنا رہے تھے۔امن اپنے دوست کے ساتھ کئی مدرسوں میں داخلہ لیتا رہالیکن تین چار مہینے گزر جانے کے بعد ا س نے ایک دن اپنے دوست سے کہا کہ ان مدرسوں میں تو صرف قرآن کی تعلیم پڑھائی جاتی ہے اور دین کی دوسری باتیں مثلاََ نماز‘روزہ اور حج وغیرہ کی ہی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ تعلیم تو مجھے اپنا مولوی صاحب اپنے گھر پر بھی پڑھاتا تھا۔تمہاری وہ جنت والی چابی تو کہیں پر بھی ان مدرسوں میں نظر نہیں آرہی ہے۔اس کا دوست یہ سن کر ہنسنے لگا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا کہ جنت کی چابی ان مدرسوں میں کہاں ملے گی‘یہاں تو امن کی تعلیم ہی دی جاتی ہے،ان مدرسوں میں اتنے دن گزارنے سے ایک ہی فائیدہ ہوسکتا ہے وہ یہ کہ جب ہم جنت والی چابی کے لوگوں کو یہ بتا دئینگے کہ ہم لوگوں نے اتنے مدرسوں میں دینی تعلیم حاصل کی ہیں تو وہ ہمیں بلا تردّد اپنے گروپ میں شامل کریں گے۔انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے کہ کس نے کتنا دین سمجھ رکھا ہے۔امن یہ سن کر پوچھنے لگا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگر ہم کب اُن کے ساتھ شامل ہوجائینگے۔بس ایک مہینے کی بات ہے۔میں نے ایک جان پہچان والے سے بات کی ہے وہ کہہ رہا تھا کہ اسی مہینے ان لوگوں کا ایک اجلاس ہونے والا ہے‘اسی دن ہم ان کے ساتھ شامل ہوجائینگے۔فی الحال ہمیں اسی مدرسے میں ٹھہرنا پڑے گا لیکن یہاں کسی سے بھی اس بارے میں کوئی بات مت کرنانہیں تو مدرسے والے ہمیں یہاں سے نکال دیں گے۔بیس پچیس دن گزرجانے کے بعدیہ دونوں اجلاس میں شامل ہوگے۔ان سے پوچھ تاچھ کے بعد انہیں ٹریننگ کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ٹریننگ کیمپ ایک ویران گھاٹی میں قائم تھا۔وہاں پر جدید مواصلاتی نظام کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے ہتھیار موجود تھے۔وہاں پر بہت سارے نوجوان تربیت حاصل کررہے تھے اور ان لوگوں کی ذہن سازی کے لئے مرنے مارنے کی فلمیں بھی دکھائی جاتی تھیں اور جہاد کے نام پر جوشیلی تقریریں بھی کی جاتی تھیں۔نئے افراد کی ذہن سازی کے بعد انہیں ہتھیار چلانے کی تربیت دی جاتی تھی۔کئی مہینوں کی ٹریننگ کے بعد ایک دن ایک آدمی نوجوانوں کے سامنے کھڑا ہوگیا۔اس کے ارد گرد کئی ہتھیار بند آدمی موجود تھے۔ہر ایک انہیں امیر صاحب کہتا تھا۔وہ پچاس پچپن کی عمر کا معلوم ہوتا تھا۔وہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ مائیک پر تقریر کرتے ہوئے آہستہ آہستہ جوشیلے انداز میں کہنے لگا:
”ہمارے جانباز نوجوانوں!ہمارا دین ہمیں بہادری کی تعلیم دیتا ہے‘اور بہادر وہی ہوتا ہے جو جہاد کے راستے پر نکلتا ہے۔ آپ لوگوں نے بھی جہاد کا راستہ پسند کیا ہے‘جو سیدھا جنت کا راستہ ہے.ہمیں امید ہے کہ آپ ان کافروں اور ان کا ساتھ دینے والوں‘جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں‘ کا نام و نشان مٹا دو گے۔“
امیر صاحب کی جوشیلی تقریر سے نوجوانوں کے جذبات بھڑک اٹھے اور ہر طرف سے ”امیر صاحب زندہ باد“اور ”سبیلنا‘سبیلنا.. . الجہاد الجہاد“کے نعرؤں سے ساری گھاٹی گونجنے لگی۔نعرے سن کر امیر صاحب کا سینہ خوشی سے چوڑا ہوگیا۔ اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے اس نے سرخ رنگ چابیوں کا ایک گُچھااپنی جیب سے نکالااور زور دار آواز میں کہنے لگا:
”یہ جنت کی چابیاں ہیں‘آپ میں سے جو بھی جلدی جلدی جنت میں جانا چاہتاہے وہ چابی لیکرجنت میں جانے کی تیاری کرے تاکہ وہاں پہنچ کر اپنی چابی سے جنت کا دروازہ کھولے۔“
بہت سارے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ امن بھی امیر صاحب کے ہاتھ سے چابی لینے میں کامیاب ہوگیا۔امیرصاحب چابیاں بانٹ کردوبارہ ان لوگوں سے مخاطب ہوا کہ کل ہم لوگوں کو ایک بڑا کارنامہ انجام دینا ہے جس کے لئے ہمیں پانچ مجاہدین کی ضرورت ہیں۔یہ سن کر دوسرے افراد کے ساتھ ساتھ امن کا دوست بھی کھڑا ہوگیا اور انہیں سامنے کھڑی گاڑی میں بیٹھا کرلے جایا گیا۔دوسرے روزامیر صاحب پھر سے مائیک پر نمودار ہوگئے اور دوران تقریر انہیں سیٹ پر مسیج موصول ہوئی کہ ہمارا مشن کامیاب ہوگیا۔فوجی گاڑی مکمل طورپرتباہ ہوگئی‘ بہت سارے دشمن واصل جہنم ہوگئے اورہمارے سبھی مجاہدین شہید ہوگئے۔امیرصاحب مائیک پر بڑے فخر سے ابھی کامیابی کی یہ خوش خبری سنا ہی رہے تھے کہ سیٹ پر ایک اور مسیج آئی:
”امیر محترم‘انکاونٹر کے دوران بازار میں دوسرے سویلین کے ساتھ ساتھ آپ کا نوجوان بیٹا بھی شہید ہوگیا ہے۔“
یہ خبر سنتے ہی امیر صاحب کا چہرہ زرد پڑگیا اور وہ حواس باختہ ہو کر چلانے لگا:
”آئے خدا‘مجھ پر یہ کونساقہر ٹوٹ پڑا‘یہ میرے کن گناہوں کی سزا ہے۔میرے معصوم بیٹے نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔“ امیرصاحب کو چند لوگوں نے تھام کر کرسی پر بیٹھا دیا اور ایک نوجوان مائیک سنبھال کر پرُجوش تقریر کرتے ہوئے کہنے لگا:
”ہم دشمن کے دباو میں نہیں آنے والے ہیں۔انہوں نے اگر ہمارے امیر صاحب کے ایک بے گناہ بیٹے کو شہید کر دیا ہے
تو ہم کل ہی ان سے اس کا خوفناک بدلہ لینگے کیونکہ ہم سب امیر صاحب کے بیٹے ہیں۔“
ہر طرف سے امیر صاحب زندہ باد کے نعرے بلند ہوئے۔ایک دو گھنٹے کے بعد امن کو میٹنگ میں بلایا گیا۔وہاں پر اسے کل کے مشن کے بارے میں پوری تفصیلات دی گئی۔امن بڑے جذباتی انداز میں یہ کہتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوگیا کہ وہ کل ہی یہ خود کش حملہ کرکے دشمنوں سے امیر صاحب کے بیٹے کا بدلہ لے گا۔امن عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد ”جہاد کیسے کریں“نامی کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔ایک جگہ پہنچ کر وہ تھوڑا ٹھہر کرکچھ سوچنے لگا کیونکہ وہاں پر لکھا ہوا تھاکہ”اسلام میں کسی بے گناہ کا قتل کرنا تمام انسانیت کا قتل کرنے کے برابر ہے۔“وہ تھوڑا بہت غور کرنے کے بعدبس اسی نتیجے پر پہنچا کہ امیر صاحب مجھ سے زیادہ جانتے ہیں اس لئے مجھے یہ کام کرکے جنت میں ضرور جاناہے۔صبح سویرے اسے کیمپ سے نکال کر گاڑی میں بیٹھایا گیا۔گاڑی روانہ ہوگئی۔سفر کے دوران امن کے دماغ میں صرف جنت کے خیالات آتے رہے۔اس کی سوچ پر امیر صاحب کی سحرآمیزباتوں نے ایسا زہریلا اثر ڈالا تھا کہ وہ بلا سوچے سمجھے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پورے ملک کوآگ میں جھونکنے جارہا تھا۔ تین گھنٹے کی مسافت کے بعد یہ لوگ شہر میں پہنچ گئے۔ فوجی یونیفارم پہنانے کے بعد اس کے ہاتھ میں بارود بھرا بستہ دیا گیا تاکہ آرمی اسکول میں دوسرے بچوں کے ساتھ جاتے ہوئے کسی کو بھی اس پر کوئی شک نہ ہوجائے۔ اسکول کے نزدیک پہنچ کر وہ حیراں ہوگیا۔وہ سوچنے لگا کہ یہ تو اسی کا اسکول ہے‘لیکن یہاں پر تو صرف وطن پرستی کی تعلیم دی جاتی ہے توپھر اسی اسکول کو اڑانے کا کیا مطلب ہے؟۔وہ ابھی اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ اسی دوران اسکول کی گاڑیوں سے بچے اترنے لگے اور ہنستے کھیلتے اسکول میں داخل ہوتے گئے۔ وہ ہنستے کھیلتے بچوں کی معصوم صورتوں کو بڑی دیر تک دیکھتا رہا۔دیکھتے دیکھتے اس کی نظر اپنے چھوٹے بھائی پربھی پڑ گئی۔اس کادل بھر آیاکہ وہ اپنے بھائی کو گلے لگا کر خوب چومے لیکن یہ سوچتے ہی اسے خیال آیاکہ وہ اس وقت اہم مشن پر ہے یہ دہشت ناک خیال آتے ہی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔چند قدم چلنے کے ساتھ ہی اچانک اس کے قدم رک سے گئے وہ ان ننھے منّے پھول سے چہروں کو دوبارہ دیکھنے لگا۔اسے پھر اپنے چھوٹے بھائی پر نظر پڑ ی۔اسے یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے اس کا چھوٹا بھائی بائیں پھیلا پھیلا کر یہ کہتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا ہے:
”بھیا‘ تو اتنے دنوں تک کہاں کھو گیا تھا۔تیرے کھو جانے کے بعد ماں کی دنیا بھی کہیں کھو گئی ہے۔اس کے آنسوؤں سے گھر میں سیلاب آیا ہوا ہے۔بھیا‘گھر واپس لوٹ آ جاتاکہ گھر میں پھر سے خوشی کی شہنائی بج اٹھے۔“ ماں کا خیال آتے ہی جذبات کا سمندرموجیں مارنے لگا اور آنسوؤ ں بن کر آنکھوں سے بہنے لگا۔ دل کی تیز دھڑکن نے اسے عجیب سی کشمکش میں ڈال دیا۔وہ سوچنے لگا:
”میرا باپ تو اپنے ملک کا محافظ ہے۔میری ماں بھی اچھے طریقے سے دین کی باتوں پر عمل کر رہی ہے۔ہماراگھر تو کسی کافر کا ساتھ نہیں دے رہا ہے تو پھر میں کیوں دوسرے معصوم بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے بھائی کو بھی بے گناہ مارڈالوں۔نہیں یہ جہاد نہیں‘فسادہے فساد۔اسلام تو امن قائم کرنے کے لئے جہاد کی تعلیم دیتا ہے لیکن یہ مفاد پرست جہاد کے نام پر دہشت گردی کا کاروبار چلاتے ہیں۔ یہ تو ہمارے ملک کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ جو لوگ نافہم نوجوانوں کو خون خرابہ کرنے کا درس دے کر جنت کے سبز باغ دکھاتے ہیں وہ تو خود اسلام اورہمارے ملک کے دشمن ہیں۔نہیں میں اُن سیاہ سوچ رکھنے والوں کے سیاہ کارناموں کو ضرور ناکام بنا دونگا۔“ جھوٹ اور مکاری کے پردے چاک ہوگے۔ امن الٹے پاؤں وآپس لوٹا اور سیدھے فوجی بنکر میں چلا گیا۔فوجی اسے دیکھتے ہی چوکنا ہوگیااور امن کواسکولی وردی میں دیکھ کر تھوڑا اطمینان سے پوچھنے لگا:
”کون ہو تم اور بنکر میں کیوں گھس آئے؟“
”میں بھٹکا ہوا راہی ہوں۔“امن نے اہ بھرتے ہوئے جواب دیا.
”ادھر کیوں چلے آئے‘اسکول تو وہاں ہے۔“فوجی بندوق تانتے ہوئے دوبارہ پوچھ بیٹھا۔”اور انگلی میں یہ چابی کیوں گھمارہے ہو؟
”یہ جہنم کی چابی ہے۔“امن چابی کو فوجی کے حوالے کرتے ہوئے بول پڑا۔
تھوڑی دیر فوجی کے ساتھ گفتگو کرکے امن نے ریموٹ کنٹرول اس فوجی کے حوالے کردیا۔فوجی نے ہیڈکوارٹر مسیج کردی۔دس پندراں منٹ کے اندر اندر فوج کے کئی افسر بنکر میں پہنچ گئے .تھوڑی بہت تفتیش کے بعد اسے فوجی گاڑی میں چڑھایا گیا۔گاڑی روانہ ہوتے ہی امن راحت کی سانس لیکر اسکول کی طرف دیر تک دیکھتا رہا۔اسکول کے احاطے میں رنگ برنگے خوبصورت پھول کھل کھلارہے تھے۔
Email- drreyazbhat@yahoo.in
Mob – 9906834877
محمدشریف کا عدم گناہ:شمو ئل احمد
محمدشریف کا عدم گناہ
شمو ئل احمد
اس کا دماغ سن سے رہ گیا__زمین پاؤں تلے کھسک گئی__ڈھائی لاکھ کا غبن__ وہ سر تھام کر بیٹھ گیا __منٹوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ اکاؤنٹس کلرک محمد شریف نے ڈھائی لاکھ کا غبن کیا ہے۔ کسی کو یقین نہیں آیا کہ یہ کام اسی کا ہے،لیکن کمپنی کے لیجر بک میں اس کا نام درج تھا اور کیش رول میں وصول کنندہ کی جگہ اس کا دستخط موجود تھا، منیجر کی میز پر کیش رول کھلا پڑا تھا۔ محمد شریف کمرے میں داخل ہوا تو منیجر نے چشمے کے اندر سے گھور کر دیکھا۔
”دستخط تو آپ کے ہیں __ ؟“
دستخط اسی کے تھے منیجر کا لہجہ سخت ہو گیا۔
”آپ کو ایک ہفتہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ رقم جمع کر دیں ورنہ__“
محمد شریف پر لرزہ طاری ہو گیا۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں تھا۔ کسی طرح لڑکھڑاتا ہوا منیجر کے کمرے سے باہر نکلا تو عملے نے اس کو گھیر لیا۔
”یہ سب کیسے ہوا__؟“شریف کی زبان گنگ تھی۔ اکاؤنٹنٹ نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
”شریف کچھ بتاؤگے_؟“ شریف روہانسا ہوگیا۔ اس کے منھ سے بہ مشکل نکلا۔
”رقم میں نے نہیں لی__“
”ہمیں یقین ہے“اکاؤنٹنٹ نے اس کا شانہ تھپتھپایا۔
”یہ اس کیشیئر کی کارستانی ہے__“کسی نے کہا تو شریف نے چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپالیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ شریف کے آنسو تھمے تو تفصیل بتائی کہ نلنی کنسٹرکشن والوں نے ڈھائی لاکھ کا ڈرافٹ بھیجا تھا جس کی نکاسی بینک سے ہونی تھی۔ اس دن کیشیئر چھٹی پر تھا۔ منیجر نے ڈرافٹ اس کے حوالے کیا تھا،لیکن کسی وجہ سے اس دن بینک نہیں جا سکا اور دوسرے دن کیشیئر چھٹی سے واپس آگیا تھا۔ کیشئر نے یہ کہہ کر ڈرافٹ لے لیا تھا کہ اکاؤنٹ میں لے لے گا۔
”اور اس نے غبن کرلیا__“اکاؤنٹنٹ بولا۔ شریف نے اثبات میں سر ہلایا۔
”لیکن تم نے کیش رول پر دستخط کیوں کیے__“
اس نے کہا کہ اتھارٹی میرے نام ہے اس لئے دستخط بھی مجھے کرنا چاہئے۔“
”اور تم نے کردیا__؟“
”میں کیا جانتا تھا کہ نیت میں فتور ہے__!“
اس نے بینک والوں سے مل کر کسی طرح ڈرافٹ کیش کرا لیا اور تم پھنس گئے۔“
”لیکن بینک میں اس کا دستخط تو ہوگا__!“
”اس سے کیا ہوا __؟ اس نے رقم نکالی اور تم کو دے دی۔ اتھارٹی لیٹر تمہارے نام ہے۔ وصول کنندہ کی جگہ تم نے دستخط کئے ہیں __“
”اب کیا ہوگا__؟“شریف پھر روہانسا ہو گیا۔
”رقم تو جمع کرنی ہوگی__“شریف کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔
عملے کو یقین تھا کہ غبن سابق کیشیئر نے کیا ہے۔ محمد شریف سے سبھی واقف تھے۔ وہ ایماندار اور بے ضرر آدمی تھا اور صرف اپنے کام سے مطلب رکھتا تھا۔لیکن کیشیئر سے باز پرس مشکل تھی۔ وہ کمپنی سے استعفا دے کر کہیں فرار ہوگیا تھا اور الزام محمد شریف کے سر تھا۔ محمد شریف کے ساتھی دلاسہ دے رہے تھے کہ کسی طرح کیشیئر کو ڈھونڈ کر رقم وصول کی جائے گی،لیکن اس پر لرزہ طاری تھا اور رہ رہ کر ایک ہی خیال سانپ کی طرح ڈس رہا تھا __“اب کیا ہوگا__؟وہ پولیس کی حراست میں ہوگا اور بیوی بچے__“
دفتر سے نکلنے کے بعد اچانک اس کو احساس ہوا کہ اس کے کندھے پر ایک صلیب ہے جسے ڈھوتے ہوئے وہ دارو رسن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب تک دفتر میں تھا، ایسا عجیب سا احساس نہیں ہواتھا۔ وہاں دوستوں کو تفصیل بتانے میں الجھارہا تھا اور جب اس کے ساتھی ایک ایک کرکے چلے گئے تھے تو اس نے جانا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ قد م گھر کی طرف نہیں بڑھ پا رہے تھے۔ ہارڈنگ پارک کے قریب قدم خود بخود رک گئے۔ پارک میں اکادکا لوگ موجود تھے۔ ایک لڑکا بیلون اچھال رہا تھا اور ایک جوڑا بنچ پر بیٹھا خوش گپیاں کررہا تھا۔ قریب ہی ایک ادھیڑ عمر کا شخص گھاس پر چپ چاپ لیٹا آسمان تک رہا تھا۔ اس کو لگا یہ شخص بھی کسی دفتر میں ملازم ہے اور اس وقت گھرجانا نہیں چاہتا __اچانک اس کی نگاہوں میں کیشیئر کا مکروہ چہرہ گھوم گیا __!کس چالاکی سے اس نے کیش رول پر دستخط لئے تھے __ پہلے کینٹین میں چائے پلائی تھی۔ پھر میٹھی میٹھی باتیں کی تھیں اور وہ اس کے فریب میں آگیا تھا۔ اگر اس دن وہ دفتر نہیں گیا ہوتا تو منیجر اس کے نام اتھاریٹی لیٹر کیوں لکھتا__؟اب کیا ہوگا__؟کہاں سے لائے گا وہ ڈھائی لاکھ کی رقم؟اس کے پاس جائداد بھی نہیں ہے۔ بیوی کے پاس اتنے زیور بھی نہیں ہیں کہ بیچ کر رقم چکتا کرسکے۔ اس نے اداس نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا۔ پارک میں کچھ اور لوگ آگئے تھے۔ جوڑا اسی طرح خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ دفعتا اس کو محسوس ہوا کہ ہر چیز لا یعنیت کے کہرے میں لپٹی ہوئی ہے__ یہ جوڑا بھی خوش گپیوں میں مصروف ہے……کل حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوگا۔ آدمی غفلت میں ہوتا ہے، ستم ظریفی گھات میں ہوتی ہے ……عمر کی کسی نہ کسی منزل پر دبوچ لیتی ہے۔ یہ قسمت کی ستم ظریفی ہی تو ہے کہ اس نے کیش رول پر……
گھاس پر لیٹے ہوئے ادھیڑ عمر کے شخص نے سرد آہ کے ساتھ کروٹ بدلی۔ ایک ہاتھ موڑ کر سر کے نیچے تکیہ سا بنا یااور آنکھیں بند کرلیں …… اس نے غور سے دیکھا …… چہرے پر تفکر کے آثار تھے ……داڑھی بڑھی ہوئی تھی بال خشک ہو رہے تھے اور قمیض کا کالر کنارے کی طرف مڑا ہوا تھا۔ اس کو لگا گھاس پر ادھ مرا لیٹا ہوا شخص کوئی اور نہیں خودوہ ہے ……دفتری نظام کے شکنجے میں پھنسا ہوا……بے بس اور تنہا……اس کے جی میں آیا قریب جائے اور اس کے کندھے پر سر رکھ دے ……تب اس کو اپنی آنکھیں نمناک محسوس ہوئیں۔ اس نے انگلیوں سے آنسو خشک کئے ……سرد آہ کھینچی اور گھاس پر لیٹ گیا۔
شام گہری ہونے لگی۔ تارے ایک ایک کرکے روشن ہوگئے تھے۔ پارک میں بلب کے چاروں طرف گردش کرتے پروانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ لوگ اب آہستہ آہستہ جانے لگے تھے،لیکن وہ اسی طرح گھاس پر پڑا رہا۔ یہاں تک کہ سڑکوں پر ٹریفک کا شور مدھم ہونے لگا۔ سب چلے گئے تو ادھ مرا شخص بھی اٹھا۔ اس کے دامن سے ایک تنکا چپک گیا تھا۔ اس نے گرد بھی نہیں جھاڑی اور پژمردہ قدموں سے باہر نکل گیا
……اور پارک میں سناٹا اچانک بڑھ گیا۔ اس کو دہشت ہوئی اور گھر کی یاد آئی۔ وہ اٹھا اور شکستہ قدموں سے گھر کی طرف چل پڑا۔ بیوی انتظار کررہی تھی۔ دیکھتے ہی برس پڑی۔ پھر اس کو گم صم دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا کہ دفتر میں دیر ہوگئی،لیکن بیوی کو اطمینان نہیں ہوا۔
یہ اس کا معمول نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ دفتر سے سیدھا گھر آتا تھا۔آج پہلی بار اس نے تاخیر کی تھی اور اتنا غم زدہ تھا کہ اس کے چہرے سے پژمردگی صاف جھلک رہی تھی۔ اپنے حال پر پردہ ڈالنے کے لئے فورا ہاتھ منہ دھونے بیٹھ گیا۔ دوچار چھینٹے چہرے پر مارے اور تولیہ سے چہرہ خشک کرتا ہوا کھانے کی میز پر آیا تو بیوی نے پھر ٹوکا کہ آخر کیا بات تھی کہ وہ اتنا چپ چپ تھا۔ اس نے اسی طرح مختصر سا جواب دیا کہ آج کام زیادہ تھا جس سے تھکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیسے بتائے معاملہ کیا ہے…؟ کسی طرح اس نے دوچار لقمہ زہرمار کیا اور کمرے میں آکر بستر پر دراز ہوگیا۔ منا ایک طرف سو رہا تھا۔ وہ گہری نیند میں تھا۔ مٹھیاں ادھ کھلی تھیں اور چہرے پر بھینی بھینی سی مسکراہٹ تھی۔ اس نے منے کے سر پر آہستہ سے ہاتھ پھیرا۔اس کی آنکھیں بھیگ آئیں۔تکیے میں منھ چھپاکر آنسو خشک کئے اور کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ اس کو اکاؤنٹنٹ کی بات یاد آئی……رقم جمع کرنی ہوگی……یہ تحریری نظام کا جبر …… اس نے غبن نہیں کیا لیکن سزا جھیلنے پر مجبور ہے……کہاں سے لائے گا وہ رقم ……؟ کون ہے جو اس کی مدد کرے گا ……؟کیا وہ لوگ کیشیئر کو ڈھونڈ پائیں گے ……؟یہ کہنے کی باتیں ہیں کوئی اتنا جوکھم کیوں اٹھائے گا ……؟ اور کیشیئر اپنا جرم کیوں قبول کرے گا ……؟اس نے غبن اس لئے تو نہیں کیا کہ خود کو گناہ گار ثابت کرے؟یہ سزا تو اس کو بھگتنی ہے …… وہ بچ نہیں سکتا……اس کا دستخط موجود ہے ……دستخط ……فقط چند حروف اور ایک جھوٹ صداقت میں بدل گیا۔شاید سچ اور جھوٹ ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں ……جھوٹ کی بھی اپنی ایک سچائی ہے۔کیش رول میں اس کا دستخط موجود ہے جس نے مجرم محمد شریف کو جنم دیا …… اس کے دستخط کی سچائی مجرم محمد شریف کو مرنے نہیں دے گی……اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ پھیل گئی …… کیا ہوا اگر وہ دستخط کرکے مرجائے کہ اس کی موت کی ذمہ دار اس کی بیوی ہے…… بیچاری وفا شعار عورت……فورا قاتل قرار دی جائے گی …… یہ سوچ کر مرجائے گی کہ اس سے ایسی کون سی خطا سرزد ہوئی کہ شوہر بے موت مرگیا ……بچے بھی اس کو قاتل سمجھیں گے…… وہ زندگی بھر ثابت نہیں کرسکتی کہ بے قصور ہے۔ بس چند حروف…… اور وہ شکنجے میں ہوگی…… ناکردہ گناہ کی مرتکب……آدمی قدرت کے نظام میں آزاد ہے،لیکن اپنے ہی نظام میں اسیر ہے ……بس ایک معمولی سا دستخط ……”دستخط تو آپ ہی کے ہیں ……“اس کے جی میں آیا زور سے چلّائے ……جی ہاں دستخط میرے ہیں …… سو فی صد میرے ہیں ……میں اپنے دستخط کی سچائی کا اسیر ہوں جس کا شکنجہ موت کے شکنجے سے زیادہ اذیت ناک ہے ……!بیوی پاس آکر کھڑی ہوگئی۔ اس کے دل میں درد کی لہر سی اٹھی۔ کیا وہ بھی اس پر شک کرے گی ……؟اس کی رفیقہ حیات جو دس سالوں سے اس کے ساتھ ہے ……؟اس نے تکیہ کو سینے پر رکھ کر دبایااور کروٹ بد کر لیٹ گیا۔ شک کر سکتی ہے ……تنگ دست آدمی کا ایمان ہمیشہ مشکوک ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ہی کیا ہے ……؟ پرائیوٹ فرم کا ایک معمولی سا اکاؤنٹس کلرک ……؟ڈھائی روپے نہیں لے گا۔ ڈھائی ہزار نہیں لے گا ……؟ کیا ڈھائی لاکھ بھی نہیں لے گا……؟
اس نے ایک نظر بیوی کی طرف دیکھا۔ اس کے بال کھلے تھے اور چہرے پر تازگی تھی۔ غالبا اس نے شام کو غسل کیا تھا۔ جب بھی وہ شام کو غسل کرتی، بال کھلے رکھتی تھی،جو لمبے تھے اور کمر تک لہراتے تھے۔ اس نے ہاتھوں کو پیچھے لے جاکر ایک بار بال کی تہوں کو سلجھایا۔ سینے کے ابھار نمایاں ہو گئے اور سپید گردن تن گئی جس پر ابھی جھریاں نہیں پری تھیں۔ بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنایا اور منے کو اٹھانے کے لئے بستر پر جھکی تو اس کا آنچل ڈھلک گیا اور کان کے آویزے ہل کر رہ گئے۔ منے کو بازوؤں سے پکڑ کر آہستہ سے بستر کے کنارے کھینچا۔ پھر تکیے کا اوٹ سا بنایا اور بغل میں لیٹ گئی۔ وہ یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکا کہ اس کا اس طرح اپنے لئے جگہ بنانا یقینا بے مقصد نہیں تھا۔ اس نے اکثر ایسا کیا تھا۔ تب وہ بھی اس کی طرف رجوع ہوتا تھا اور اس کی آنکھوں میں آتشیں لمحوں کی تحریر صاف پڑ ھ لیتا تھا ورنہ عام دنوں میں منابیچ میں ہوتا تھا اور وہ دوسرے کنارے پر سوتی تھی۔ بیوی نے ایک ہاتھ کو جنبش دی اور وہ کمر کے گرد اس کی انگلیوں کا ہلکا سا لمس محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس کو یاد آیا بیوی کو چار مہینے کا حمل بھی ہے۔ وہ تھوڑاقریب کھسک آئی۔یہاں تک کہ اپنے رخساروں پر اس کی گرم سانسوں کو محسوس کرنے لگا۔ اس کے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”کیا بات ہے……؟“ بیوی نے تکیے سے سر اٹھایا۔
وہ خاموش رہا۔
”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے……؟“
”پانی پلاؤ……“
بیوی نے اٹھ کر کمرے میں روشنی کی۔اس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ کے آثار بہت نمایاں تھے۔ جوڑا کھل گیاتھا ور گیسو بکھر گئے تھے۔ ساری بے ترتیب ہوگئی تھی جس سے پیٹ کا ابھار نمایاں ہوگیا تھا۔ پانی لانے کچن میں گئی تو اس نے دیکھا وہ کولھوں پر زور دے کر چل رہی تھی۔ ساری کی بے ترتیبی سے پیٹی کوٹ کے نیفے میں جوڑ کے قریب گلابی ڈور کا بہت خفیف سا حصہ جھلک رہا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور چت لیٹ گیا۔
اس کو چاہئے کہ سب کچھ بتا دے …… دل کا بوجھ تو کچھ کم ہوگا …… لیکن وہ گھبرا جائے گی اور کچھ کر بھی تو نہیں سکتی …… وہ بھی کیا کرسکتا ہے……؟ وہ بھی تو کچھ نہیں کرسکتا…… بیوی کم سے کم دعا مانگ سکتی ہے…… فورا نماز میں کھڑی ہوجائے گی …… سجدے میں گر پڑے گی …… رو رو کر فریاد کرے گی ……اس کو امید ہوگی کہ کوئی معجزہ ہوگا…… خدا سن لے گا……خدا بڑا رحم والا ہے …… سب راز کا جاننے والا ہے…… اس کا دل عقیدے کی روشنی سے معمور ہے اس لئے امید کی کرن آخری دم تک اس کا ساتھ نہیں چھوڑے گی……اس کے جیل جانے کے بعد بھی یہی سمجھے گی کہ اس میں خدا کی کوئی مصلحت ہے…… جینے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی عقیدے کا بھرم پالے …… لیکن اس کا ایمان تو ہمیشہ متزلزل رہا ……عقیدے کی روشنی کبھی پھوٹ نہیں سکی…… وہ تو خدا سے دعابھی نہیں مانگ سکتا ……وہ کسی معجزے کی امید نہیں کرسکتا ……وہ خود کو تسلی نہیں دے سکتا کہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے انصاف کرے گا … وہ سچائی پر ہے اور سچائی کی جیت ہوگی …… اس کے پاس امید کی کوئی کرن نہیں ہے … اس کو حیرت ہوئی کہ واقعی اس کے پاس کوئی خدا نہیں ہے ……! وہ کس سے دعا مانگے……؟کہاں ہے خدا….؟ آسمانی صحیفوں میں …؟ یا انسانی قلوب میں جاگزیں شہ رگ سے بھی قریب …!خدا جس کی خدائی میں ”عدم کو ثبات ہے…. جس کے لوح و قلم میں محفوظ ہے۔ ہر ذی روح کے لئے ایک عدم گناہ کی سزا…. لیکن اس کو اپنا عدم گناہ قبول نہیں ہے…. وہ کیوں اس جرم کی سزا قبول کرے جس کا مرتکب نہیں ….رقم جمع کردیں ورنہ…ورنہ کیا ….؟ آپ پھانسی پر چڑھا دیں گے یہی نا….؟تو کون بری ہے تحریری نظام کے جبر سے ….؟ بہت ممکن ہے ایک فرد کا مچھلی کے پیٹ سے صحیح سلامت نکل آنا کہ یہ قدرت کا نظام ہے لیکن خود اپنے ہی نظام کے شکنجے سے چھوٹنا ممکن نہیں ہے کہ ”تحریری نظام“ میں حروف کی سچائی جس جھوٹ کو جنم دیتی ہے وہ خدا کی طرح زندہ جاوید ہے …. دستخط تو آپ کے ہی ….بے شک حضور والا …..! دستخط میرے ہی ہیں ….. میں کیش رول میں اسی طرح موجود ہوں جس طرح خدا آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔ کیش رول میں میرے دستخط کی سچائی میرے عدم وجود کو وجود میں بدل چکی ہے۔ میں ہمیشہ ہمیشہ وہاں موجود رہوں گا…..!
بیوی پانی لے کر آئی تو اس نے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کردیا۔ بیوی نے پوچھا کہ اور چاہئے؟تو نفی میں سر ہلا دیا اور کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ گلاس تپائی پر رکھ کر روشنی گل کی اور بستر پر لیٹ گئی۔ وہ اپنی کمر کے گرد اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرنے لگا۔ پھر وہ اور قریب کھسک آئی اور اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کو اپنی بانہوں میں بھر چکا ہوتا،لیکن اس وقت اس کا جی چاہ رہا تھا کہ مردے کی طرح چپ چاپ پڑا رہے اور کوئی اس درمیان خلل نہیں ڈالے …. اچانک منا زور سے رو پڑا۔ وہ مڑی اور منے کو فورابستر سے اٹھا کر فرش پر کھڑا کردیا۔ لیکن فرش تک آتے آتے دوچار قطرہ پیشاب بستر پر خطا ہو ہی گیا۔ منے کو فرش پر پیشاب کرانے کے بعد بستر پر لٹایا اور تھپکیاں دینے لگی۔
اچانک اس کو لگا دروازے پر کوئی دستک دے رہا ہے ….! اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ دل میں آیا شاید دفتر کے ساتھی کیشیئر کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں …. دروازہ کھولا ….وہاں کوئی نہیں تھا ….! ایک لمحے کے لئے اس پر سکتہ سا طاری رہا اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا ….”خدا بے نیاز ہے اور آدمی پر امید….“ اور جی میں آیا پوری قوت سے چلائے …”تمام دروازے بند کرلو، نہیں ہوگا کسی عیسیٰ کا ورود…. آدمی اسی طرح خود ساختہ نظام کے شکنجے میں پھنسا رہے گا .. لیکن وہ چلا نہیں سکا ….اچانک سینے میں زور کا درد محسوس ہوا۔ دونوں ہاتھوں سے سینے کو پکڑے ہوئے کسی طرح دروازہ بند کیا اور لڑکھڑاتا ہوا بستر تک آیا۔ کانپتے ہاتھوں سے بیوی کے بازوؤں کو تھامنے کی کوشش کی۔ اس کو سینے سے لگا کر بھینچا۔ بیوی کی چھاتیوں کے گداز لمس سے اس کو راحت ملی۔ اس نے اپنے رخسار اس کے رخسار پر ٹکا دیئے اور اس کی پشت کو زور زور سے سہلانے لگا جیسے اس کے بدن کے لمس سے اپنے لئے تھوڑی سی توانائی کسب کرنا چاہتا ہو۔ پیٹ کے اس حصے کے کڑے پن کو اس نے محسوس کرنے کی کوشش کی جہاں اس کا وجود پل رہا تھا۔لیکن اچانک سینے میں درد بڑھ گیا۔ اس کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ جانکنی کے اس عالم میں اس کے جی میں آیا کہ زور سے فریاد کرے۔
”میں اس جرم کی سزا کیوں قبول کروں جس کا مرتکب نہیں ہوں ….؟“
لیکن آواز اس کے سینے میں گھٹ کر رہ گئی ….. پھنسی پھنسی سی آواز میں وہ صرف دوبار بیوی کا نام لے کر پکارسکا….سلطانہ ….سلطانہ….!
اور اس کا سر سلطانہ کی چھاتیوں کے درمیان لڑھک گیا….
٭٭٭٭
ّّ
بازگشت : مہتاب عالم پرویزؔ BAZGASHT BY MAHTAB ALAM PERVEZ
بازگشت
مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶ ۔ بی
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۸۳۲۱۱۰
جھارکھنڈ انڈیا
E – mail mahtabalampervez@gmail.com
وہ شخص عجیب سی زندگی جی رہا ہے………
بیا باں کی گر م ہواؤں میں‘ بھٹکنے والے اُن مسافر وں کی طرح ‘ جس کے پاؤں سے لپٹی‘ تپتی رہگذر ‘ راہ گم کردہ منزلیں اور دور سُراب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو جیسے……. یاس اور آس کے ڈوبتے اُبھرتے صلیب پہ ٹنگا ہواوہ شخص‘ جس کی آنکھوں میں کبھی خواب ہی خواب تھے آج وہی آنکھیں اب کسی بھی ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہیں……..
وہ دیوار کی آڑ سے اپنی پُشت کو ٹکائے بالکل خاموش ہے۔اور یادوں میں گُمُ ہے……
اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی ڈیڑھ سالہ بیٹی ارپناؔ مسلسل رو رہی تھی لیکن اُس وقت ارپناؔ کے آنسوؤ ں کی قیمت ادا کرنے وا لا شایدکوئی نہیں تھا…….یا پھر یہ آنسو اپنی قیمت پہلے ہی کھوُ چکے تھے۔
اور………
وہ شخص جس کی آنکھو ں میں پریتیؔ کی چتا جل رہی تھی۔جس کی آگ کی لپٹوں میں فساد کا سارا منظر جھُلس رہا تھا……..
ہر طرف چیخ و پکار …….آہیں…….دم توڑتی ہوئی سسکیاں……آگ کی لپٹوں میں گھری دُکانیں…….گھر کے ملبے میں دبے ہوئے لوگ…….اور وہیں مجبور و نڈھال‘ بے بس اپنی جواں بیو ی اور ہوس پرستوں کا کھلمُ کھلا کھیل دیکھ رہا تھا………
پریتیؔ اُن ہوس پرستو ں کے آگے اپنی ننگی چھاتیا ں تھامے اپنی عزّت کی بھیک مانگ رہی تھی….
پھر یہ آنسو اپنی قے قیمت قیمت پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اور……… وہ شخص جس کی آنکھو ں میں پریتیؔ کی چتا جل رہی تھی۔جس کی آگ کی لپٹوں میں فساد کا سارا منظر جھُلس رہا ہر طرف چیخ و پکار …….آہیں…….دم توڑتی ہوئی سسکیاں……آگ کی لپٹوں میں گھری دُکانیں…….گھر کے ملبے میں دبے ہوئے لوگ…….اور وہیں مجبور و نڈھال‘ بے بس اپنی جواں بیو ی اور ہوس پرستوں کا کھلمُ کھلا کھیل دیکھ رہا تھا…..
جب اُس شخص کی آنکھوں نے اُن ہوس پرستوں کی شریانوں سے نکلتی ہوئی آگ کی لپلپاتی ہوئی زُبان کو دیکھا تو احتجاج کیا…….
لیکن …….
آوازیں دم توڑنے لگیں……
وہ سوچنے لگا کہ شاید آج پھر ایک اور پریتیؔ کو ننگا کیا جائے گا……اور تب ہی بے رحم وقت کے رگ و جاں میں دوڑتے گرم لہو کی آگ سرد ہو گی ………….
آخر کب تک یہ بیٹیاں اسی طرح ننگی کی جائیں گی…..اور کب اس بے رحم وقت کا خاتمہ ہو گا…….
پھر ایسا ہی ہوا…….
پریتیؔ ننگی کر دی گئی‘ اور بے رحم وقت نے بار باراپنی شریانوں کی آگ کو پریتی ؔ کے ٹھنڈے وجود میں سرایت کر دیا۔جس کی لپٹو ں میں پریتیؔ کا سارا وجود جھُلس کر رہ گیا……اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئی……
وہ رات اُس کی زندگی میں ایک کالی رات بن کر آئی اور پل بھر میں اُس کی خوبصورت سی دنیا نذر آتش ہو گئی……
اوروہ پتھر کی مورت بنا دیکھتا رہا……اور قہقہوں کی بارش کے ساتھ سبھی لوٹ گئے…….
وہ شخص خود بھی اس آ گ میں جل جانا چاہتا تھا‘ لیکن معصوم ارپناؔ کی چیخوں نے اُسے زندگی کا احساس دلایا‘کہ زندگی بڑی انمول شے ہے…..اُس نے ایک پل اُسے دیکھا اور اپنے سینے سے بھینچ لیا‘ پھر پاگلوں کی طرح بے تحاشا اُسے چومنے لگا……..
جب آگ کی لپٹوں نے اُس کے وجود کو متاشر کیا تو وہ فرار کی راہیں ڈھونڈنے لگا…..اس لئے نہیں کہ اُسے آگ سے جل جانے کا خطرہ لاحق ہو‘ بلکہ اس وقت ارپناؔ ایک سوال بن گئی تھی……
وہ بھاگنے لگا…….بھاگتے‘بھاگتے اس کے پاؤں شل ہوگئے‘ لیکن وہ پھر بھی بھاگتا رہا…
باہر ایک شور تھا …….
ہر طرف دھواں…….. دھواں منظر………..گھر سے نکلتی ہوئی آ گ کی لپٹیں……..چیخیں ….. …سسکیاں ………آہیں…….. اور دم تو ڑتی ہوئی زندگی…….اور اُس کے وجود سے چپکی معصوم ارپناؔ جو مسلسل روئے جا رہی تھی…….اور وہ شخص مسلسل بھاگ رہا تھا……..اُس کی نگاہیں دور بہت دورکوئی ٹھکانہ تلاش کر رہی تھیں‘کوئی محفوظ سی جگہ جہاں وہ اپنی معصوم سی ارپناؔ کو چھپا سکے۔وہ معصوم ارپناؔ کواپنے سینے سے بھینچے بھاگ رہا تھا…… ہانپتا‘ کانپتا‘گرتا ‘ پڑتا………اور پیچھے قد موں کی اُبھر تی ہوئی آوازیں لگا تار اُس کا پیچھا کر رہی تھیں ۔ ہرطرف زندہ گوشت کے جلنے کی بو بکھری ہوئی تھی۔ جس کے تعفن نے اُس کے اعصاب کو شل کر دیا تھا۔
وہ بھاگتا رہا……… بھاگتے بھاگتے وہ شہر سے کچھ دور نکل آیا………ہر طرف گھنگھور تاریکی تھی جو بوند بوند اُس کے نس نس میں اُترنے لگی تھی۔ویران اور اندھیرے کھڈ میں ارپنا ؔ کو اپنے سینے سے لگا ئے اُ سے چپُ کرانے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا……..
چاروں طرف فضا میں ایک پُر اسرار آواز کی باز گشت آوارگی میں مبتلا تھی………
دفعتا دھماکے کی آواز ہوئی اور بے شمار پرندے آکاش کی وسعتوں میں پھیل گئے پھر سارا آکاش سرُخ ہو گیا۔جیسے ساری کائنات آگ کی لپٹوں میں سسک رہی ہو۔اُس نے ارپناؔ کو اور بھی کس کر اپنے سینے سے لگا لیا جیسے وہ اُسے ساری کائنات سے چھپا لینا چاہتا ہو۔پھروہ اُسے بے تحاشا چومنے لگا۔ بے تحا شا چومنے کے اس عمل میں اُس کی آنکھیں بھی پُر نم ہو گئیں۔
وہ سوچنے لگا کہ یہ کیسی آگ ہے …..؟
کیا آج ساری دنیا راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی۔؟
کیا گیتا کے اشلوک اب درد کی کہانیاں بیان کریں گے۔؟
کیا بائبیل کی مقد س کتاب کے سارے الفاظ حرف حرف مٹا دئیے جائیں گے……
اچانک ایک معصوم اور نازک ہاتھ کا لمس اُس نے اپنے کندھوں پہ محسوس کیا‘ یہ کوئی اور نہیں اُس کی معصوم ارپناؔ تھی جو روتے روتے اب سو چکی تھی…….
بے اختیار اُس کے ہونٹوں سے نکلا ارپناؔ میری اپنی ارپناؔ اب میں تمہارے بغیر کیسے جی سکوں گا یا تو میرے بن یہ جلتی ‘ سُلگتی راتیں کیسے کاٹ سکے گی…….
چیخ و پُکار……آہیں……اوردم تو ڑتی ہوئی آوازوں کاسلسلہ اب بھی جاری تھا……
ا ور و ہ ایک اندھیرے ویران کھڈ میں معصوم ارپناؔ کو اپنے سینے سے لگائے سبکتا رہا……او ر سوچتا رہا سوچتے سوچتے اُس کی آنکھیں بھر آئیں اور دل آنسوؤں کے سیلاب میں ڈوبا ایک جزیرہ بن گیا…..
ہائے…….یہ کیسی اجیرن سی زندگی ہے ۔شاید انسانیت زوال کے دہانے پر کھڑی ہے۔یا انسان نے حیوانیت ،درندگی اوربر بریت کے نقش پا کو ڈھونڈ لیا ہے۔
اُف یہ رات ہے یا ماتمی لباس میں میرے ہی ارماں۔؟
یہ رات اُس کی بہت بے چینی میں گذری……کسی طرح آخر صبح ہو گئی…..اور گئی رات کی اس تاریکی میں اُس کا سب کچھ ختم ہو کر رہ گیا بس تھی تو اُس کی معصو م ارپناؔ جس کی آنکھیں اب بھی رو رہی تھیں…….جو شدید بخُار میں مبتلاء تھی…….
فساد پر بہت جلد قابو پا لیا گیا تھا ۔سیاسی پارٹیوں نے جگہ بہ جگہ کیمپ لگا رکھے تھے۔ شہر کے ہر چھوٹے اور بڑے اسپتال میں فساد سے متاثر ہونے والے لوگوں کا جمگھٹ لگا ہوا تھا……..
پولیس والو ں کی گشت جاری تھی…….
لوگ باگ اپنے اپنے دلوں میں ایک عجیب سا خوف لئے ہوئے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے…..جیسے ہر چہرہ ایک دوسرے سے خوف زدہ ہو۔پر وہی چہرہ مدد کا متمنی بھی تھا۔اور معصوم سی ارپناؔ کو دودھ کی بوند بوند نے رونے کا سلیقہ سکھا دیا تھا۔وہ اپنی خواہشات کا اظہار رو کر ہی کر رہی تھی…….
معصوم ارپناؔ کے رونے کی آوازیں جب اسپتال کے ماحول میں گونجیں تو نادرہ ؔ کی دودھ بھری چھاتی میں درد ہونے لگا ۔چھاتی سے دودھ رسنے کی وجہ سے نادرہ ؔ کے بلاوز بھیگ گئے تھے۔
معصوم ارپناؔ کو مسلسل روتا دیکھ کر آخر نادرہؔ کا دل بھی رو پڑا۔نہ جانے کن جذبوں کی تسکین کی خاطر اُس نے ارپناؔ کو اپنے دودھ بھری چھاتی سے لگا لیا۔ارپناؔ اُس کی دودھ بھری چھاتی میں اپنا منھ لگائے بے تحاشا دودھ پی رہی تھی۔اُس وقت اُس عورت کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں آنسووءں کی نمی اُس کے غم زدہ اور مر جھائے ہوئے چہرے کو بھگوتی رہیں……..اور اُداسیوں میں مزیداضافہ ہوتا رہا۔
یہ عورت کوئی اور نہیں اُس شخص کے پڑوس کی نادرہؔ تھی جو ان دنوں اسپتال میں زیر علاج تھی….اُس نے روتے ہوئے اُس شخص کو بتایا کہ گذشتہ شب میرے شوہر اور میرے معصو م بچے بھی فساد کی نذر ہوگئے۔اس وقت نادرہ اپنی چھاتی میں عجیب سا درد محسوس کر رہی تھی۔رات بھر دودھ رسنے کی وجہ سے ا’س کے بلاوز بھیگے ہوئے تھے اور آنکھیں تھیں کہ مسلسل روئے جا رہی تھیں۔ایسے میں ارپنا ؔ کو دودھ پلا کروہ نہ جانے کن جذبوں کی تکمیل کر رہی تھی۔
اُسے روتا دیکھ کر اُس شخص کی آنکھیں بھی پُر نم ہو گئیں۔لیکن اس نمی کے اندر پریتیؔ کی چتا کی چنگاریاں بھی موجزن تھیں۔اُس شخص کی آنکھوں سے گرم گرم آنسوؤں کے قطرے ایسے اُمڈ رہے تھے جیسے اس کا وجود‘ وجود نہ ہوبلکہ ایک جوار بھاٹا ہوجو پھٹ کر کسی دہانے کی شکل میں اس کی آنکھوں کے ذریعے آنسوؤں میں تحلیل ہو رہا ہو۔
اس شخص کے دماغ کے اندر توڑ پھوڑ کا عمل جاری تھا۔اور باہر مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔اس شخص کی آنکھوں سے اُمڈتے ہوئے گرم گرم آنسوؤں کا احساس پریتی ؔ کی یادیں اور ارپناؔ کی معصو میت اُسے زندگی کا احساس دلا رہی تھیں…………
وقت کے زخموں پرنادرہؔ کی ممتا بھری لوریاں مرہم بن کر وقتا فوقتا اُن زخموں کو مندمل کرتی رہیں ………………اور اُس کے دودھ بھری چھاتیوں کامیٹھا رس پی کر ارپناؔ سیراب ہوتی رہی۔شایدوہ دونوں ایک دوسرے کے لئے زندگی کا جواز بن گئے ہوں۔
اور ادھر وہ شخص پاگلوں کی طرح مارا مارا پھرتارہا۔
وہ شخص جس کی آنکھوں میں کبھی خواب ہی خواب تھے آج وہ شخص مر کز کی تلاش میں دائروں کا چکر لگا رہا تھا۔
بیاباں کی گرم ہواؤں میں بھٹکنے والے ان مسافروں کی طرح جن کے پاؤں سے لپٹی تپتی رہگذرراہ گم کردہ منزلیں،اور دور سُراب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوجیسے۔
یاس اور آس کے ڈوبتے اُبھرتے صلیب پہ ٹنگا ہوا وہ شخص جس نے اپنی زندگی کے۱۷ سال اُن المناک حادثوں کے بعد یوں ہی کاٹ لئے تھے اچانک ارپناؔ کو دیکھ کر وہ تھم جاتا تھاجیسے دائروں کا سفر مکمل ہو گیا ہو۔ وہ شخص جب بھی ارپناؔ کو دیکھتا اُس کی آنکھیں سلگ اُٹھتیں،گھور گھور کر ارپناؔ کے سارے خدوخال کو دیکھتا اور دیکھتا ہی رہتا۔
ارپناؔ سہم سی جاتی۔پر نادرہؔ اس کے اس ڈر کو یہ کہہ کر ختم کر دیتی کہ تم اُن کی ہی بیٹی ہو زیباؔ ……….
اور یہ بات ایک زندہ حقیقت بھی تھی……….
لیکن ………..نہ جانے کیوں اُس شخص کی آنکھیں زیباؔ کو کسی اور ہی خوف کا احساس دلایا کرتی تھیں……….
زیباؔ اب یہ محسوس کرنے لگی تھی کہ اُس شخص کی آنکھیں بارہا میرا تعاقب کیا کرتی ہیں……….. اکثر راتوں کو زیباؔ کی نیندیں اُچٹ جایا کرتیں۔اور وہ ایک چیخ کے ساتھ اُٹھ جاتی۔
ایسے وقت میں نادرہؔ اُسے اپنے سینے سے لگا لیتی اور اُسے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی۔
نادرہؔ ، ارپناؔ کو زیباؔ کہہ کر پکارا کرتی تھی۔ اُس نے اپنی چھاتیوں سے ایک ایک بوند پلا کر ہی تو سیراب کیا تھا۔اور آج بھی اُسے اپنے سینے سے لگا کر کہتی زیباؔ بیٹے اس طرح نہیں ڈرا کرتے میں تو تمہارے پاس ہی ہوں۔
لیکن ………..ماں…………دیکھ باپو کی آنکھیں کتنی سلگ رہی ہیں…………
میں تم سے کتنی بار کہہ چکی ہوں۔وہ تمہارا باپو ہے۔اور بھلا کوئی اپنے باپو سے بھی ڈرتا ہے۔اس طرح نہیں ڈرا کرتے بیٹے………….
اور …………ادھر وہ شخص اب ویرانوں کی بجائے آس پاس کی تنگ گلیوں میں،اور سڑکوں میں پھرنے لگا تھا…………
اب زیادہ تر اُس کی راتیں نادرہ ؔ کی ہی گلیوں میں گذرنے لگی تھیں……………
ان ہی گلیوں سے اُس کی ڈھیر ساری یادیں وابستہ تھیں……………..
گذشتہ اُ س کی بے خواب سی کئی راتیں کسی کے انتظار کی طرح کٹ رہی تھیں………..آنکھیں لگتیں اور کھل جاتیں…….جیسے خواب بنتے بنتے بکھر گئے ہوں………..اُسے کئی دنوں سے یہ محسوس ہو رہا تھاجیسے اُس کی کوئی چیز کہیں کھو گئی ہو۔ جس کی کمی کا احساس ایک خلاء کی طرح اُس کے اندر………بہت اندر تک پھیل گیا تھا……….اُس کی آنکھیں سلگ رہی تھیں۔جیسے وہ مسلسل کئی راتوں سے جاگ رہا ہو
نادرہ ؔ بھی محسوس کرنے لگی تھی کہ ان سترہ سالوں میں وہ شخص اب کچھ تبدیل ہوتا جا رہا ہے……..اُس کی ویراں ویراں سی آنکھیں شاید کسی کو تلاش کرتی ہیں……..زیبا ؔ کے چہرے کو دیکھ کر وہ اپنے اندر کیا محسوس کیا کرتا ہے۔ جس کی گہرائی تک پہنچ پانا نادرہؔ کے لئے بھی مشکل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
ادھر زیبا ؔ بھی اپنے اندر خوف کا ایک طوفان لئے بیٹھی تھی۔وہ بارہا نادرہؔ سے اُس شخص کی گھورتی اورسلگتی ہوئی آنکھوں کا ذکر کیا کرتی……
اور نادرہؔ اُ س کے اس خوف کو اس ڈر کو باپ اور بیٹی کے رشتوں کا احترام کہہ کر ختم کر دیتی………
باتیں ہوئیں اور ختم ہو گئیں………………
لیکن اُ س شخص کی بڑھتی ہوئی تبدیلیوں نے سب سے پہلے اُس کی سوچ کو متاثر کیا تھا ۔ زیبا ؔ کا چہرہ اسے پریتیؔ کی یاد دلایا کرتا تھا ۔ اور وہ اضطرابی کیفیت سے دوچار ہو جاتا ۔ زیبا ؔ کو دیکھ کر اسے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی گناہ اس سے سرزد ہو جائے گا ۔
پر ایک بات اور تھی جس کا اثر اس کے ذہن پر اُ ن سانحوں سے زیادہ المیہ انگیز تھا ۔ وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ نادرہؔ کے مذہبی ماحول کی چھاپ زیبا ؔ کو اثر انداز کر رہی ہے زیبا ؔ کے طور طریقے پریتی ؔ سے بالکل مختلف تھے اس کی یہ تبدیلی اس کے اندر ہی اندر اترنے لگی تھی ۔
نادرہ ؔ کے مذہبی رسم ورواج ….. مذہبی باتیں اور اسلامی پابندیاں ۔ ارپنا ؔ کو زیباؔ کہہ کر پکارا جانا …..
دفعتااس کے اندر کا جوار بھاٹا پھٹ پڑا ۔ میں ایسا ہر گزہونے نہیں دوں گا ۔ اور وہ وحشی شخص جس کی آنکھوں میں سترہ سالوں سے پریتیؔ کی چتا کی چنگاریاں موجزن تھیں۔آج پھر سلگ اٹھی تھیں۔
اور پھریہ رات نادرہ ؔ کی زندگی میں اُن کالی راتوں سے کہیں زیادہ المیہ انگیز ہو گئی۔
وہ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ایک رات تھی………
دفعتاوہ شخص نادرہ ؔ کے وجود پر چھاتا چلا گیا ۔ رات کے اندھیرے میں جب اُ س شخص کے سانسوں کی رفتار نارمل ہوئی تو زیبا ؔ کی چیخیں رات کی پر اسرار شاہراہوں کو اور بھی پر اسرار کر گئیں ۔ جس کے ساتھ ہی بے شمار پرندے آکاش کی گھنگھور تاریکیوں میں پھڑ پھڑانے لگے ۔
وہ اپنے مقدس رشتے اور خدا کے خوف کا احساس دلاتی رہی مگر جب زیبا ؔ کی چیخیں اور سسکیاں اس شخص کی سماعت سے ٹکرائیں تو وہ شخص اور بھی و حشی، درندہ ہو اٹھا ۔
پھر دور جیسے کسی بھیڑےئے کے قہقہوں کا شور بلند ہوا۔ قہقہوں کے اس شور میں وہ شخص چلا چلا کر کہہ رہا تھا دیکھو ،دیکھو آخرمیں نے انتقام لے ہی لیا ۔
دور بہت دور سے کہیں گیتا کے اشلوک درد کی کہانیاں بیان کر رہے تھے ۔ شاید بائبیل کی مقدس کتاب کے سارے الفاظ حرف حرف مٹ گئے تھے ۔آکاش پھرپھڑاتے ہوئے پرندوں سے ڈھک چکا تھا ۔ .
تو کیا اب کل کا سورج کبھی طلوع نہیں ہو گا۔؟
()()()()()
مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶ ۔ بی
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۸۳۲۱۱۰
جھارکھنڈ انڈیا
E – mail mahtabalampervez@gmail.com
شجر تنہا : الحاج محمد بشیر شاد
الحاج محمد بشیر شاد
Athens, Greece
شجر تنہا
سرسبز پہاڑی سلسلوں میں وادیوں کی پہچان ان کے باسیوں سے ہوتی ہے۔ وہاں کے رہنے والے اپنی اور اہل و عیال کی بودوباش اپنی بساط کے مطابق کرتے ہیں۔ کھلی معطر آب و ہوا میں آلودگی کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے پھسلتا پانی کا ریلا ڈھلوان تک رسائی کرنے سے پہلے پہلے آبشار کی صورت اختیار کر لیتا ہے ،ترنم کی راحتیں میسر آتی ہیں اور انمول گیتوں کی دھنیں تیار کرنے والے وہاں نوتخیلاتی ماحول سے لامتناہی مسرتیں حاصل کرتے ہیں وہ اپنی دھنوں کو آبشار تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ بلند و بالا چیڑ و چنار کی لہلہاتی اور سائیں سائیں کرتی آوازوں کو بھی خود میں سمو لیتے ہیں۔ پرندوں کے چہچہانے اور رب العزت کے گیت گانے والے خوش الہانوں سے بھی بہت کچھ مل جاتا ہے ۔ آنکھیں بند کئے کسی پہاڑی کے دامن میں کچھ دیر کے لئے دنیا و مافیا کے فانی دھندوں سے ہٹ کر صرف اور صرف اس پاکیزہ ماحول میں خود کو مدغم کر کے دیکھیں دلی راحتیں میسر آئیں گی۔
شہری زندگی میں محدود ذرائع اور لامتناہی خواہشات انسانی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہیں لیکن اس کے برعکس صاف و شفاف وادیوں کے مکین اپنی سادگی کے لمحات کو مشکلات سے مبرا رکھتے ہیں ۔ ان سب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ معمولات زندگی کی ہر بنیادی شے وہیں سے میسر آ جائے وہ کسی دوسرے کا محتاج ہونا پسند نہیں کرتے۔ چھوٹے چھوٹے مکانوں میں پلنے والے نومولود قدرتی نعمتوں سے استفادہ کر کے پروان چڑھتے ہیں اور یہی قدرتی رنگت ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے ۔ ننھے منے بچوں کے کھیل کود کے انداز بھی ماحول کے مطابق ہوتے ہیں ٹھنڈی آب وہوا کی تاثیر گرم علاقوں کی نسبت مختلف عہوتی ہے اور ایسے موسم جغرافیائی خدوخال کی اقدار بھی الگ سے ترتیب دیتے ہوئے ہر ذی روح پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ انسان تو انسان یہاں کے طویل قامت شجرات باوجود سخت چٹانوں اور اجسام کو شل کرنے والی سخت سردی کے یہاں پھلنے پھولنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
گردوں کو چھونے والی چوٹیوں پر سے نیچے نظر دوڑائی جائے تو ایک سڑک ٹیڑھی ترچھی اس طرح لگتی ہے جیسے پگڈنڈی ہو جس کی کوئی طرف سیدھی نہیں ، صبح آنے والی بس بمشکل اس پہاڑی علاقے میں دوپہر تک اپنا سفر جاری رکھتی ہے ۔ اونچائی پر پہلے دوسرے گیئر کے علاوہ تیسرے گیئر کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور جہاں انجن گرم ہوا وہیں پچھلے ٹائروں کے نیچے پتھر رکھ کر گاڑی کھڑی کر کے اس کے انجن کو قدرے آرام دینا ڈرائیور کنڈیکٹر کا فرض اولین بن جاتا ہے اور بس میں سوار ہر مسافر اس کی وجہ تسمیہ بخوبی جانتا ہے اور زیادہ تر مسافر بس سے نیچے اتر آتے ہیں اس وقت ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے بس پر زیادہ بوجھ تھا اور مسافرین نے کل پرزوں کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے ایسا قدم اٹھایا ہو بس آخری منازل طے کرتے ہوئے ایسے مقام پر جا پہنچی جہاں راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔
نصف گھنٹے کے بعد بس پھر سے رواں دواں ہو گئی ۔ مسافرین کی کثیر تعداد بس میں سوار ہو گئی اور ڈھلوانی سفر پھر سے شروع ہو گیا ۔ راستے میں مزید مسافرین بس پہ سوار ہوئے اور چند ایک مسافروں کو بس کی چھت پر مجبوراً اپنا سفری جاری رکھنا پڑا۔ دوپہر اپنے جوبن پر تھی ۔ سورج کی شعاعیں اپنی گرمائش بے شک ہر سو پھیلا رہی تھیں لیکن موسم میں خنکی کی بناءپر میدانی علاقوں جیسی گرمی نہیں تھی۔ سڑک کے کنارے دوطرفہ چیڑ و چنار سرگوشیوں میں مشغول بس کی چھت پر موجود مسافرین کو کبھی کبھار اپنی آزاد شاخوں سے مس کرنے کی سعی کرتے تو مسافرین جھکتے ہوئے ان کے والہانہ پیار کا جواب دینے پر خود کو چوکس رکھے ہوئے تھے۔ یہ کھیل چلتا رہا اور خاص کر میدانی علاقے کے ایک دیہاتی کی مائع لگی پگڑی کا اونچا شملہ اس پیار بھرے کھیل کا کچھ زیادہ مستحق رہا چیڑ کی دو شاخوں کے بیج شرارت پہ اتر آئے ۔ ایک نے دوسرے سے سرگوشی کی ، کیا خیال ہے کریں سفر اس پگڑی میں اور ہوا کے جھونکے نے ایک شاخ کے بیج کو پگڑی کی تہوں میں سو دیا۔ دوسری شاخ کا بیج وہیں زمین بوس ہو گیا، دونوں بیجوں کی جدائی کا سفر شروع ہو گیا پگڑی کی تہووں سے خدا حافظ کی آواز ہوا میں تحلیل ہو کر پوری وادی میں بکھر گئی لیکن اس کا کوئی پرسان ِ حال نہ ہوا سفر جاری رہا
سہ پہر ہو چکی تھی بس ایک جگہ رکی مسافرین نے نیچے اتر کر استراحت کے لئے چہل قدمی بھی کی۔ بہت سے مسافرین نے چائے کے مزے بھی لوٹے، بس کی چھت پر سوار چند مسافرین میں سے ایک دو نے نیچے آنے کی زحمت کی مبادا کوئی مسافر یہاں اتر جائے تو ان کو بس کے اندر جگہ میسر آ جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پگڑی والا مسافر چند لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے آنکھیں موندھے آرام کرنے لگا بیج تڑپ اٹھا، نجانے یہ مذاق کتنا مہنگا پڑے گا وہ سوچ کی عمیق گہرائی میں ڈوبا ایک تمنا لئے اسی انتظار میں مستغرق تھا کہ کب یہ دیہاتی سر سے پگڑی اتار کر الٹی سیدھی کرے گا اور اس کی جان چھوٹے گی ایسا نہ ہو سکا، بس کے ڈرائیور نے اسے پھر سے متحرک کر دیا اور اونچی چٹانوں کے خدوخال معدودے چند رہ گئے۔ درمیانی پہاڑی سلسلوں کو بس پھلانگ رہی تھی ، گرمی کا تاثر بھی محسوس ہونے لگا تھا اور پگڑی کی تہووں میں بیج کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی جا رہی تھی۔ اپنے ماحول کو چھوڑنے کا قلق، ساتھیوں سے علیحدگی اور پگڑی میں مقید زندگی پر اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ وہ بے یارومددگار ایک انجانے سفر پر گامزن تھا، جس کی منزل کہاں ہو گی اور اس کا کیا بنے گا۔ یہ سب کچھ اسے چیخنے کے لئے مجبور کر رہاتھا لیکن اس کی پکار اور واویلا کون سنے گا کس ناکردہ گناہ کی سزا اسے بھگتنا ہوگی۔ دیہاتی نے پگڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اور بیج کا اندرونی خلفشار خوشی میں تحلیل ہوتے ہوتے رہ گیا جب اس نے پگڑی اتارنے کی بجائے اسے مزید مضبوطی سے سر پر مسلط رکھا۔
بس ایک جھٹکے سے رکی اور مسافرین کی تعداد میں قدرے کمی واقع ہو گئی ۔ کنڈیکٹر نے چھت پر موجود تمام مسافروں سے درخواست کی کہ وہ بس کے اندر سیٹوں پر تشریف لے آئیں ، چھت کے مسافرین سیٹوں کی خوشی میں جلدی جلدی نیچے اتر رہے تھے ۔ پگڑی والے دیہاتی کا چھت سے نیچے اترتے اترتے سیڑھی کے ڈنڈے سے پاؤں پھسلا بھی لیکن پگڑی وہیں کی وہیں رہی اور اونچے شملے کا وقار برقرار رہا۔ بے چارہ بیج اس نادر موقع سے بھی محروم رہا بس کے اندر گرمی زیادہ تھی ، میدانی علاقے کی آب و ہوا اجسام کو پسینے میں شرابور کئے ہوئے تھی کچھ نازک اندام اپنے ہاتھ کے پنکھوں سے گرمی کی حرارت کو کم کرنے کی پوری کوشش میں مصروف تھیں اور باقی ماندہ بس کی کھڑکیوں کے شیشے مکمل کھولے باہر کی ہوا سے پسینے کو خشک کرنے میں محو تھے ۔ آب و ہوا کی تبدیلی بیج پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ وہ نیم بیہوشی کے عالم میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہا اور بالآخر وہ مقام آ پہنچا جہاں دیہاتی کا گاؤں نزدیک آ گیا، چند ہی لمحوں میں دیہاتی کے قدم بس سے اترتے ہوئے زمین پر آ لگے، زمین کی تپش سے درجہ حرارت واضح تھا بس چلی گئی اور دیہاتی نے اپنے کپڑوں کی جھاڑ پونچھ کر کے پگڑی کو سر سے اتار کر اپنا حلیہ ٹھیک کرتے ہوئے پگڑی کے بل کھول دیئے۔ بیج ریتیلی تپتی زمین کی سطح پر آ گرا، یہاں یقینا اس کا اختتام ہو جائے گا۔ اسے رہ رہ کر پہاڑی سلسلوں کی بودوباش کا خیال بڑی شدت سے آ رہا تھا ، گرم گرم چلنے والی لو کی رو اس کی قوت برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔ دیہاتی نے پھر سے پگڑی کے بل بڑی ترتیب سے سر پہ سجائے اور جھٹک کر تولئے کو پھر سے کندھے پر سجایا لیکن بیج کے لئے اب کوئی امید کی کرن باقی نہ رہ گئی۔ وہ ٹھنڈی رتوں سے بہت دور ایک ایسی جگہ پر آن گرا تھا جہاں اس کی بہاریں خزاں کے تھپڑوں سے نبردآزما تھیں۔ دیہاتی کے پاؤں میں پڑی چمڑے کی وہ جوتی بیج پر اس قدر بوجھ بن گئی کہ اس کی آہیں تک جھلسی زمین میں دھنس گئیں۔ تپتی ریت کی تہووں میں بیج کا وجود آگ کی سختی سے دوچار ہو گیا۔ دیہاتی اپنے گاؤں کی جانب قدم بڑھا چکا تھا اور بیج کو تنہا اس مقام پر قید تنہائی کی لمبی سزا سنا گیا جہاں کسی دوسرے منصف کا گذر تک نہ ہو۔ بیج کے خول کی توڑ پھوڑ گرمی کی وجہ سے شروع ہو چکی تھی۔
ایک بڑے ٹرک کا ڈرائیور اسی راستے کا راہی تھا وہ اپنے سفر کی تھکان اسی مقام پر کیا کرتا تھا جونہی ٹرک کا بھاری بھرکم ٹائر اس پر سے گذر کر سیدھا ہوا تو بیج آدھے فٹ سے نیچے اترا اور اس نے پانی کے کین سے منہ ہاتھ عین اسی مقام پر دھویا جہاں بیج کو پانی کی نعمت مل گئی۔ گرمی اور ہلکی نمی کے اس تغیر میں بیج کا اندرونی حصہ پھٹ پڑا ، جسم کے خول کی دراڑیں مزید اپنا منہ کھولے قدرت کی تخیل کا انتظار رنے لگیں۔ جوں جوں رات کا سناٹا ہرسو پھیلتا گیا توں توں بیج کا خوف و ہراس مزید بڑھتا رہا۔ ڈرائیور لمبی تان کر خوب استراحت کے مزے لوٹ رہا تھا اور بیج اپنے دوستوں کی سہانی محفل کو یاد کر کے مستقبل کی تنہائی کو گلے لگائے افسردہ پریشان حال اپنی غلطی کا خمیازہ بھگت رہا تھا ۔ زمین کی سطح ہموار تھی ۔ رات کا پچھلا پہلر کافی حد تک ٹھنڈک کی نوید سنا رہا تھا۔ بیج کی ملائمت کھردرے پن میں تحلیل ہو گئی اور ایک ننھی سی کنوپل نے جنم لیا۔ ایک بالشت ریتیلی تہہ کے نیچے سر اٹھانے والی نرم و نازک پود نے سرکنا شروع کر دیا۔ بیج کے اس جز کی پیدائش نو اگرچہ اسے اچھی لگ رہی تھی لیکن اس کی بدوباش مقام اصل سے کوسوں دور کیسے ہو گی، اس غمناک کہانی کے سیاق و اسباق میں سوچوں کا انبار لگ گیا۔
صبح کی سپیدی نمودار ہوئی ۔ سورج کی پہلی کرن ہرسو روشنی کا اظہار کر رہی تھی لیکن آبشاروں کی دھنیں سنائی نہ دیں۔ پرندوں نے بھی وہ گیت نہ سنائے جو بلند چوٹیوں کے اشجار پر بسیرا کرنے والے سنایا کرتے ہیں ۔ ڈرائیور سڑک کے چھت کی سیڑھی کو استعمال میں لاتے ہوئے نیچے قدم بوس ہوا اس نے پھر سے اپنے سفر کی تیاری پہلے پانی کے چھینٹے منہ پر مارتے ہوئے قلی کی ، رات کی نسبت اس وقت پانی کا استعمال پہلے سے دوگنا تھا۔ پانی زمین کی تہووں میں دھنستا گیا اور کونپل نو کی پیاس بجھی ۔ بیج نے زمین کے خلیوں سے خوراک حاصل کی او ر پوری قوت سے خوراک کونپل میں سمودی۔ کنوپل نے اپنا قد مزید بڑھایا اور ٹرک کے اسٹارٹ ہونے سے بیج اس قدر رنجیدہ ہو گیا کہ اب کیا ہوگا اسے جس بات کی فکر لاحق تھی وہ ٹرک ڈرائیور کا بچھڑنا تھا وہ جا چکا اب کون ہمیں پانی مہیا کرے گا۔ کونپل نے اپنے پیدائی محرک سے پریشانی کا سبب پوچھا تو بیج نے مسکراتے ہوئے اسے تسلی دی کہ تمہاری پرورش یقینا ہوگی وہ سب کا کارساز اور مسبب الاسباب ہے جہاں تک میرا تعلق تم سے ہے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ زمین کو پھاڑ کر تمہارا سر اونچا کروں گا تم اوپر کی آب و ہوا کا مقابلہ کرنا اور میں اندرونی خلفشار کو متوازی کرنے میں شب و روز نبردآزما رہوں گا، گھبرانا بالکل نہیں۔ ہر مرحلہ اتفاق کی بدولت حل ہو جائے گا تم بلندیوں میں پروان چڑھنے والے ایک تن آور شجر ہو اور یہاں دور و نزد یک تمہارے جیسے اور کوئی نہ ہوگا بس ہمت سے کام لینا اور یہ بنیادی مشکلات خود بخود آسان ہو جائیں گی۔
تحت الفلک آوارہ بادلوں کے ٹکڑے یکساں ہونے لگے روئی کے سفید گالوں میں مٹیالی رنگت کی شمولیت نمی کی رطوبت کو بھاری کر گئی۔ بارش کے پہلے قطرے نے زمین کی تہہ پر بسیرا کیاتو لگا تار دوسرے قطروں نے بھی تجدید وفا دُہراتے ہوئے بادلوں کا بوجھ ہلکا کر دیا ۔ زمین کی تہیں سیراب ہو گئیں ۔ بیج کے لئے قدرت کا یہ عمل انتہائی حوصلہ افزاءٹھہرا۔ اب کونپل کو سر اٹھانے میں دِقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لگاتار کوششوں سے بالآخر کونپل نے ا
اپنے پیدائشی عمل کوپایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ قرب و جوار کسی دوسرے پودے کا وجود نہ پا کر اسے مایوسی تو ہوئی لیکن بیج نے حوصلہ دیا کہ ہم باہمی ربط سے اپنی شاخوں سے مزید پیداوار کر کے اس زمین پر اپنا وجود منوا لیں گے۔ اس نئے خیال کی قوت کونپل میں عود کر آئی اور اس نے اپنا قد مزید بڑھانا شروع کر دیا ۔ گاؤں سے آنے والے لوگ سڑک تک آتے رہے لیکن راستے سے کونپل دور تھی ۔ اس طرح پاؤں کی سختیوں سے اس کی مزید آزمائش نہ ہوئی۔
دو دن گزر گئے تیسرے دن شام ڈھلے وہی مونس ہجراں ٹرک ڈرائیور عین اسی مقام پر استراحت کے لئے ٹرک روک کر نیچے اترا تو اس کی نگاہیں نئی نویلی نرم و نازک کونپل پر ٹک گئیں ۔ مستقبل میں یہی کنوپل تن آور درخت بنے گی اور اس کے لئے چھاؤں کا اہتمام ہو جائے گا۔ وہ مدتوں سے اسی جگہ آرام کرتا چلا آ رہا تھا۔ اس نے ہاتھوں کی پوروں سے کونپل کے ارد گرد ایک دائرہ سا بنا کر مٹی کی منڈیریں اونچی کر کے اس میں پانی بھر دیا۔ گردونواح سے چند ایک لکڑی کی شاخیں اکٹھی کر کے منڈیر کے ارد گرد زمین میں متعین کیں۔ وہ ٹرک میں چلا گیا اور چند ہی لمحوں میں اس نے لوہے کی تاروں کو لکڑی کے ڈنڈوں کے ارد گرد لپیٹ کر کونپل کی نشاندہی کر کے دوسرے گزرنے والوں کے لئے احتیاطی تدابیر کر ڈالیں۔ٹرک ڈرائیور کی رغبت اور حفاظتی عمل پر بیج کی امیدیں بھروسے میں بدل گئیں۔ اسے ٹرک ڈرائیور پر والہانہ پیار آ گیا ۔ کونپل نے ہوا کے جھونکے سے لہلہاتے ہوئے ڈرائیور کو جھک کر سلام کیا اور اس کے سفر بخیر کے لئے دل سے دعا مانگی۔ رات کا نصف حصہ گزرنے والا تھا ڈرائیور گہری نیند سویا ہوا تھا اور کونپل کا دل مچل اٹھا کہ چشم زدن میں وہ اپنا قد اتنا طویل کر لے کہ اپنے محسن کو سوتے ہوئے دیکھ سکے اور پوری شب اس کی رکھوالی پر مامور رہے ۔ کوشش کے باوجود قد میں قدرے پیش رفت ہوئی لیکن طوالت کا وہ خیال بام عروج تک رسائی نہ کر سکا۔
بیج نے کونپل کی کاوشوں پر گہری نظر رکھی اور مزید تقویت حاصل کر کے اس کے ریشوں میں بھر دی ، رات کی تاریکی صبح کاذب میں تبدیل ہو کر ایک نئے سویرے کا روپ دھارگئی۔ ڈھیروں دعائیں بیج او ر کونپل کے دل سے اپنے محسن عظیم کے لئے نکلیں اور دور تک کونپل نے اسے جاتے ہوئے حدِنگاہ پیار بھری چاہتوں سے دیکھا ۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل وہ جا چکا تھا لیکن یہاں اس کا انتظار ہونے لگا ، گاؤں سے لوگ حسب معمول وہاں سے گزرتے ہوئے اس نومولود پر سرسری نظر ڈالتے اور خصوصاً حفاظتی جنگلہ ان کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
سورج کی کرنوں سے قوت حاصل کر کے کونپل نے بیج کی حوصلہ افزائی کی ، چرواہا بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ بکریوں کی گردنوں میں بندھی گھنٹیوں کی آواز کو سنتے ہوئے اسی راہ کا تعین کئے ہوئے تھا۔ کونپل کی تو جان نکل گئی لیکن دوسرے ہی لمحے اسے ڈرائیور کی احتیاطی تدابیر کا خیال آ گیا جس نے اس کے نحیف ولاغر جسم کی حفاظت کے لئے آہنی جنگلہ تیار کر دیا۔ ایک آدھ بکری نے جنگلے کے اندر جھانکنے کی کوشش بھی کی لیکن ندارد ، اسے ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ تحت الارض بیج کونپل کی پریشانیوں کا بغور جائزہ لے رہا تھا اور برابر مستحکم حوصلے کی فضا قائم رکھے اس کی نشوونما میں مصروف رہا۔
سورج کی کرنیں آتش ِ نمرود تیز تر کر رہی تھیں لیکن زمین میں نمی کی رطوبت کونپل کے نرم و نازک جسم کی برابر حفاظت پہ مامور رہی۔ دوپہر پورے جوبن پر تھی گرم لو کا ہر طرف راج تھا، ہوا میں تیزی بڑھتی گئی لیکن جھک جانے والے اشجار ٹوٹنے کی بجائے اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اڑتی ہوئی مٹی اور ریت کے ذرات اس کی منڈیروں کو مزید اونچا کر گئے۔ یہ ننھا سا پودا پنے خیالوں کی دنیا بسائے کسی پہاڑی کے دامن میں جا پہنچا۔ اے کاش اس کی پیدائش اپنے ماحول میں ہو جاتی تو کتنا بہتر تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی معطر ہوائیں پانی کی فراوانی قدرتی غذا اور سب سے بڑھ کر اپنوں کا ساتھ کہنے والے سچ ہی تو کہتے ہیں ”کبوتر با کبوتر باز باباز“۔
میدانی سڑک کے کنارے تن تنہا وہ کیسے پروان چڑھے گا اس کی شاخوں کے ساتھ مل کر کون گیت گائے گا۔ گڈریئے کی بانسری کیسے راگ الاپے گی۔ پہاڑی گیتوں کی دھنیں آبشاروں کی بجائے راہٹ کی مرہون منت ہوں گی ۔ پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے والوں کی بجائے میلوں میں پہلوانی کے داؤد پیچ اور کبڈی کے رسیا نمایاں ہو گئے۔ پہاڑی رُتیں تو سرے سے مفقود ہوں گی طویل قامت درختوں کا ہوا کے تناسب سے جھومتے ہوئے ایک دوسرے کو مس کر کے سائیں سائیں کی میٹھی چھنکار ماحول میں پھیلانا جس سے غنودگی طاری ہوتی ہو یہاں اکیلے میں ایسا ماحول بنانے میں کس کو ساتھ ملاؤں گا۔ کوئی بھی تو نہیں ہاں اکیلا ہوں…. تن تنہا….
سڑک پر سے ایک بھاری ٹرک کے گزرنے سے تھرتھراہٹ سی پیدا ہوئی۔ اندھیری رات میں وہ اس کا جائزہ لینے لگا، لیکن اس کا محسن نہیں تھا بلکہ ا پنی لگن میں مگن کوئی اور راستہ ناپ رہا تھا۔ ایک لومڑی اس کے قریب سے گزری تو اسے ہنسی آ گئی، مکار کہیں کی جس جگہ بھی ہوگی اپنی چالاکی نہیں چھوڑے گی۔ چلی ہے کہیں شب خون مارنے، تھوڑی ہی دیر میں کسی مرغی کے بچے کو دبوچ لائے گی اور صبح چرچا ہو جائے گا کہ جنگلی بلی کے سب کرتب ہیں۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ شکاری کتوں کا جم غفیر آ حملہ آور ہوا ، لومڑی پر ۔ اس کی چالاکی سب دھری کی دھری رہ گئی، مرغن غذا کی بجائے جان کے لالے پڑ گئے ۔ بڑی مشکل سے بھاگ کر اس نے جان بچائی۔ پہلی دفعہ اس علاقے کا رخ کیا ہوگا۔ ان راہوں سے اسے کبھی واسطہ نہیں پڑا ہوگا شکاری کتے ابھی تک اس کی کھوج میں لگے ہوئے تھے ، سونگھتے سونگھتے وہ ایک ہی جگہ کا چکر بار بار کاٹ رہے تھے۔ لیکن شکار انہیں نہ مل سکا،لاچار واپس ہو لئے یہ سب تماشہ اس کے سامنے ہوا اور سوچوں کے دائرے مکڑی کے جال کی مانند پیچیدہ ہو گئے ۔ بیج نے مدہم سی آوازمیں کونپل کو آرام کرنے کو کہا تو فکری طلسم کی گرہیں ٹوٹیں۔
شب و روز شمار کرتے کرتے انتظار کا جان لیوا مرحلہ ختم ہوا اور ڈرائیور کی آمد کا دور ہی سے پتہ چل گیا۔ تیزی کی حالتوں کو کم رفتار میں تبدیل کرنے والوں کی مشینری کی آواز بدل جایا کرتی ہے اور ٹرک کا بتدریج اس کے پاس آ کر لگنا عید کی خوشیوں سے کم نہیں تھا وہ اپنی عادات کے عین مطابق نیچے اترا پھر پانی کا کین نکالا اور میرے ارد گرد کا جائزہ لیا واہ کیا بات ہے دو ہی دنوں میں قد کاٹھ کافی نکال لیا ہے۔ بھئی کس نسل سے ہو ، اتنی جلدی بڑے ہونے کی سوچ رہے ہو ، بیج کے کان میں ڈرائیور کی آواز سنائی دی تو وہ بہت خوش ہوا ۔ کونپل کا کم عمری میں ہی اتنا طویل ہو جانا اس کو بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ تنے میں پانی کی مقدار اوپر والی سطح سے اندرونی حصوں کو پیوست ہوئی جا رہی تھی۔ ڈرائیور کا یہ احسان اس کی شجرکاری کے عمل کو مؤثر بنانے کی لگن تھی جو ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ اس کے ہاتھ سے سینچے ہوئے اس پودے کی زندگی کا انحصار تھاوہ شجرکاری کی مہم پر کاربند تھا ۔ اس نے کھانا ٹرک کی چھت پر کھانے کی بجائے اس بار زمین پر ٹاٹ بچھا کر میرے بالکل قریب بیٹھ کر تناول فرمایا۔ الحمدللہ کہتے ہوئے دو تین ڈکاریں بھی مار دالیں۔ مونچھوں کو دیتے ہوئے انگڑائیوں سے دوچار ہوا۔ سامان سمیٹ کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ ٹرک کی چھت پر جا پہنچا ۔ تھکاوٹ دور کرنے کے لئے آرام کرنا ضروری تھا وہ گہری نیند سو گیا۔ کونپل اسے گہری نیند میں دیکھنا چاہتی تھی۔ لیکن اس کے لئے ابھی کافی وقت درکار تھا ، چند ایک خراٹوں کی گونج اس کے کانوں میں پڑی اور پھر کروٹ بدلنے کی آواز بھی سنائی دی ۔ تھکے ہارے انسان کو نیند میں جو سکون ملتا ہے وہ اس سے ابھی عاری تھا اسے ابھی رات دن محنت کرنے کی ضرورت تھی ، جب تک وہ اپنا سر اتنا اونچا نہ کر لیتا کہ سوتے میں اپنے محسن کا چہرہ دیکھ لے۔
ٹرک ڈرائیور معمول کے مطابق بیدار ہوا منہ ہاتھ دھو کر ٹرک اسٹارٹ کرنے سے پہلے کونپل کی زمین کو پانی سے سیراب کر کے اپنے سفر پر چل دیا ۔ننھے پودے نے لہلاتے ہوئے الوداع کیا او ر پھر انتظار کی جان لیوا گھڑیوں میں خود کو سمو لیا۔ گاؤں سے سکول کے بچے اسی راستے سے گذر کر جاتے تھے ، چند ایک نے جھانک کر دیکھا کہ جنگلے میں کیا ہے، ایک نے تو کونپل کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے مس کر کے دوسروں کو بتایا کہ یہ پودا دیکھ لینا شیشم کا ہوگا، دوسرے کی رائے آم بھی ہو سکتا ہے، تیسرے نے اسی پر اکتفا کیا کہ یہ برگد بھی بنے گا اور اس کی گاڑھی چھاؤں تلے ہم دوپہر کو سستایا کریں گے۔
وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق باتوں میں مشغول دور جا چکے اور تن تنہا پودا سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ جیسا دیس ویسا بھیس ۔ سچائی پر مبنی حقیقت ہے ان بچوں کو کیا معلوم کہ ہم کس طرح سفر کر کے ان کی حدود میں آ بسے ہیں اب میرا جنم یہاں ہوا وابستگی تو ہوگی جس زمین سے میرا خمیر اٹھا ہے ، اس کی بھلائی کے لئے مجھے پروان چڑھنا ہوگا اور یہاں کے باسیوں کو اپنی چھاؤں تلے چین و آرام دینا ہوگا۔ دن میں ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ میرے پتے اکٹھی کر کے ہر ذی روح کو آکسیجن فراہم کریں گے اور تازہ و معطر ہوا انسانی پھیپھڑوں میں تحلیل ہو کر انہیں تندرست و توانا رکھے گی ۔ میری شاخوں پر پرندوں کا بسیرا ہوگا ان کے گھونسلوں میں چو ں چوں کرتے ننھے منے بچے ہوں گے صبح سویرے پرندوں کی خوش الحانی اللہ رب العزت کے گن گانے میں مصروف ہوگی میرے وجود سے نکلی مزید ٹہنیوں پر سرسبز ہوگی۔
پودے کی کونپل سے فرط جذبات میں دو پتوں نے سر نکالا بدن میں ہلکی سی جھرجھری عود کر آئی۔ پیدائش سے پیدائش کا مرحلہ چل نکلا، زمین کی تہووں سے بیج کی بڑی مدہم سی آواز آئی ، مبارک ہو تمہارے جسم سے دو پتے نمودار ہو گئے یہں اب تم تنے کی حیثیت اختیار کرتے جاؤ گے میرے جسم کے نچلے حصے سے جڑیں نکلنا شروع ہو گئیں ہیں جونہی یہ مکمل ہو کر تمہاری مضبوطی کا پیغام دیں گی عین اسی وقت میرا وجود ختم ہو جائے گا۔
کیا کہا…. تمہارا وجود…. لیکن تم تو میرا سب کچھ ہو۔
ہاں ٹھیک کہا تم نے میرے ننھے سے پودے ایک بات یاد رکھنا جب کسی کا کام جو اسے سونپا جائے احسن طریقے سے اختتام پذیر ہو جاتا ہے تو اس کے وجود کی ضرورت باقی نہیں رہتی یہ نظام قدرت ہے اور ہر مرحلہ وقت کے عین مطابق چلتا ہے گھبرانا نہیں۔ جڑیں اپنی مضبوطی پکڑتی جا رہی ہیں اور ان کی گرفت تمہاری بقاءہے، آج سے تم ایک تنا ہوا ور اب تم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اسے اچھی طرح نبھانا کیونکہ تنا وہ قوت ہے جو اپنی شاخوں پہ لگے ہر پتے کو خوراک بہم پہنچاتا ہے۔ یہ لو جڑوں سے آنے والی خوراک سنبھالو اور جتنی ضرورت ان دو پتوں کو ہے دے کر خود کو توانا کرو، جب تمہاری شاخوں پر پھول اور پھر بیج لگ جائیں تو بیج کی وفاداری یاد رکھتے ہوئے مزید پیداوار بڑھا لینا۔ خدا حافظ۔
نہیں نہیں ابھی میں طفل ِ ناتواں ہوں۔ مجھے مزید تمہاری اشد ضرورت ہے ۔ میں ابھی تک مضبو ط تنا نہیں بن سکا۔ وہ قوت جو تمہاری وجہ سے میری رگوں میں سر شار تھی اس کے بغیر میں کیسے چل سکوں گا۔ میں نرم و نازک سی کونپل تنا کیسے بن جاؤں۔ اُس کی تمام التجاؤں کا کوئی جواب نہ مل سکا۔ بیج کے آخری الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے اپنی سوچوں کو مجتمع کر کے اس نے اپنے وجود کو حرکت دی ، ہواؤں کے رخ اس کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتے رہے ، گرمی کی لو اس کے نوزائیدہ پتوں پر اثرانداز ہوتی رہی اور وہ بڑی تندہی سے ان کی حفاظت پر مامور رہا، وقت گزرتا گیا، شاخیں ابھرتی رہیں ۔ پتوں کی مزید افزائش قدوقامت میں اضافے کا موجب بنی ، پودے کے خدوخال نمایاں ہوتے چلے گئے۔ اپنے محسن ڈرائیور کی محبت، چاہت اور لگن میں اس کا لڑکپن گذرا، اپنے قد کاٹھ کی بدولت وہ ہر ایک کی نظروں میں آ گیا۔
پکی سڑک کی حدود میں لہلاتے سرسبز جوان درخت کی ملکیت قوانین کی مد میں آ گئی شاہراہوں کی مستند اتھارٹی رکھنے والے ادارے پی ڈبلیو ڈی نے ایک دن اپنے کارندے وہاں روانہ کر دیئے۔ایک کے ہاتھ میں تیسہ اور دوسرے کے ہاتھوں میں رنگوں کے ڈبے بمعہ برش دیکھ کر درخت کے تنے کو یہ سمجھ نہ آ سکی یہ لوگ اس کے قریب تر کن تیاریوں میں مصروف ہیں ، ابھی سوچوں کے دائرے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پائے تھے کہ اس کے بدن پر تیسہ چلنے لگا۔ تیسے کی تیز دھار نے ایک بالشت مربع اس کی اوپر والی جلد اتار پھینکی۔ درد کی دقیق ٹیسیں سر سے لے کرپاؤں تک اٹھتی رہیں لیکن وہ لوگ اپنے کام میں مصروف رہے جلد کے اتر جانے سے تنے کی رطوبت آنسوؤں کی صورت میں نمودار ہوئی لیکن سفید رنگ میں ملبوس برش نے رطوبت کے سوتے بند کرنے کے لئے اپنا رنگ جما دیا۔ تازہ تازہ زخم تھا جس پر سفید رنگ کا لیپ کر دیاگیا۔ تھوڑی ہی دیر میں رنگ گرم ہواؤں کی حرارت سے سوکھ گیا ، اب رنگ کرنے والے نے تیسہ چلانے والے سے گفت و شنید کر کے ایک باریک برش کو کالے رنگ میں ڈبو کر 420 نمبر ثبت کر کے پی ڈبلیو ڈی کی ملکیت ظاہر کر دی۔ یہ نمبر جو اس کی زخم خوردہ جلد پر تحریر کیا گیا اس کی زندگی کا بدترین نمبر تھا یہ اس پر سراسر ظلم تھا۔ حقیقت کے بالکل برعکس اسے رہ رہ کر ایک ہی خیال آ رہا تھا کہ ایک ہلکے سے مذاق نے اس کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے اپنی حدود سے تجاوز کر کے دوسری حدود میں داخل ہونا کتنا مہنگا پڑ رہا تھا جو بھی اس کے نزدیک سے گذرتا اس نئے نشان کو غور سے پڑھتا ، بار بار کم پڑھے لوگوں نے بھی اس کے ہجے کئے اور ہر کا قہقہہ جان لیوا بنتا جا رہا تھا دور و نزدیک اس نمبر کی بدولت یہ درخت کافی مشہور ہو گیا ۔ یہاں تک کہ اس گاؤں میں آنے والا ہر نیا مہمان اس درخت پر لکھے حروف پڑھتا اور پھر اپنی منزل کا تعین کر لیتا ایک ایک لمحہ اسے ستا رہا تھا رلا رہا تھا اتنے میں محسن ڈرائیور وہاں آ پہنچا، وہ حسب معمول سورج غروب ہونے کے بعد ہی آیا کرتا تھا اور آج شب بھی اندھیروں کی رونمائی کر رہی تھی فلک پر گہرے بادل تھے اور چاند بھی آخری پہر کا تھا ، ڈرائیور اپنی عادت کے مطابق ہر وہ عمل کر رہا تھا جو ہر بار وہ کرتا چلا آیاتھا۔تنے نے اپنی داستان سنانا چاہی لیکن کسی کا دھیان اس کی بے بسی پر نہ گیا وہ چاہتا تھا کہ یہ نمبر جو زبردستی ا س کی پیشانی پر عیاں کر دیاگیا ہے کسی سکول کے شرارتی بچے ہی کے ہاتھوں ملیا میٹ ہو جائے کوئی اس نمبر کو سبوتاژ کر دے ، کوئی آرٹسٹ اپنے برش پر گہرا رنگ چڑھا کے اپنی نئی تخلیق بنیاد بنا ڈالے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
صبح کاذب کی دھندلی رمق ہر سو پھیل رہی تھی ڈرائیوربیدار ہو چکا تھا نجانے کیوں اس نے جلدی جلدی ہاتھ منہ دھوکر اپنی راہیں استوار کر لیں اے کاش بادلوں کی جگہ چاند کی چاندنی اس کے بدن پر ثبت تحریر ڈرائیور کی توجہ مبذول کروا سکتی تو اس کے دل کا کرب مٹ جاتا یقینا اس کا محسن یہ برداشت نہ کر پاتا اور کوئی مثبت صورت بہرطور نکل آتی وہ تو جا چکا اب ہر روز پی ڈبلیو ڈی والے وہاں سے گزرتے ہوئے ایک نظر اس پر ضرور ڈالتے یہ کیا مذاق ہے نہ خوراک نہ پانی اور ان میں سے کوئی بھی اس کی حفاظت پر مامور نہ رہا اور آج اس پر اپنا حق جتا رہے ہیں۔
مہینوں گزر گئے اور اس کا محسن ڈرائیور نہ آیا اندر ہی اندر وہ کڑھتا رہا جلتا رہا اور اپنے محسن کی یاد میں آنسو بہاتا رہا ، اس کو فکر لاحق ہونے لگی کہ خدا نہ کرے اس کے محسن کو کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے یا وہ کسی اور سفر کی جانب راغب ہو چکا ہے آہ وہ ایک بار اس کے جسم پر ثبت غیر متوازن اور نامناسب نمبر دیکھ کر اپنی رائے سے نوازتا اور اس کا جو ردعمل ہوتا اس کا وہ بے حد منتظر تھا اپنی سوچوں کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک ٹرک کی مانوس آواز نزدیک سے نزدیک تر آئی ہاں اس کے محسن کی آمد تھی وہ بھی اداس لگ رہا تھا اس نے بریکیں لگا کر ٹرک کو جامد کر دیا اور فوراً نیچے اتر کر ارد گرد کا جائزہ لینے لگا ابھی سورج غروب ہوئے چند لمحات گزرے تھے اور ہر سو دیکھنے میں آسانی تھی اس کی آنکھوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ نمبر اور پی ڈبلیو ڈی اس نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس جگہ کو مس کیا جہاں جعلی حروف کنندہ تھے اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اتھارٹی کی نفی کر رہے تھے اس نے ٹول بکس سے ایک تیز دھار چاقو نکالا اور ہر وہ نشان حذف کر دیا جو اس کے مزاج کو جھنجھوڑ رہا تھا اس بار تنے کو بالکل کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی کیونکہ اس کے وہ گہرے زخم صفحہ ہستی سے نیست و نابود کئے جا رہے تھے تنے سے ابھری ہوئی ہر شاخ پر ہر پتے نے جھک کر سلام پیش کیا اس درخت کی آبیاری کرنے والا وہاں موجود تھا وہ کیسے برداشت کرتا کہ یہ آزادی کے گیت گاتا دوسروں کو سایہ مہیا کرتا ہوا طویل درخت کسی کی ملکیت بن جائے ہرگز نہیں ، یہ کسی کی جاگیر میں اُگا ہوا پودا نہیں ڈرائیور سارے دن کا تھکا ہارا سونے کی لاکھ کوشش کروٹ بدل بدل کر رہا تھا لیکن اسے سکون و راحت نہ مل سکی۔ چاندنی رات کا نظارہ آج اور بھی حسین و جمیل تھا کیونکہ ایک عظیم دوست وہاں موجود تھا اور شجر کی دیرینہ آرزو پوری ہو چکی تھی وہ پوری شب اپنے محسن کے چہرے پر اپنی نمی بکھیرتا ہوا اس کے پتوں کو چھوتی تو پتے اپنی حرکات و سکنات اس قدر دھیمی کر لیتے کہ وہ اپنی نیند کا تسلسل برقرار رکھ سکے۔
علی الصبح پیارا دوست الوداعی سلام کہہ رہا تھا اور شجر کارواں اس امید پر قائم و دائم ہو چکا تھا کہ پھر سے ملاقات ہوگی ، جانے والا اپنی راہوں کو ناپ چکا تھا لیکن گاؤں سے آنے والے لوگ درخت میں تبدیلی محسوس کرتے ہوئے اندازے لگا رہے تھے کہ کون ہو سکتا ہے جس نے تنے پر سے حروف مسخ کر دیئے ہیں عدالت میں گواہیاں دینے والے ایک ادھیڑ عمر کے دیہاتی نے کولہوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ دیر سوچا اور پھر چٹکی بجاتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچ گیا۔
سچ کہتاہوں یہاں ہمیشہ ایک ٹرک ڈرائیور بسیرا کرتا آیا ہے یقینا وہی کل رات یہاں آیا ہوگا مجھے تو اس ٹرک کا نمبر تک یاد ہے بات آئی گئی ہو گئی اور بہت سے لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہمارے گاؤں کے نزدیک اس درخت پر نمبر 420 لگانا بھی ہمارے لئے کوئی عزت کا مقام نہیں اچھا کیا ، اگر کسی نے اس پر سے ہر لفظ مٹا دیا ہے کاموں پر جانے والے سب جا چکے لیکن عدالتی دماغ نئی شرارت کا پلان بنا کر پی ڈبلیو ڈی کے دفتر چلا گیا وہاں تمام کارروائی شب بھر کی کہہ کر ٹرک کا نمبر تک لکھوا دیا۔دفتر والوں نے دو اہلکاروں کو وہاں روان کیا تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ کس نے قانون کو گرفت میں لے کر قانون شکنی کی ہے وہ درخت کے ارد گرد چکر لگا کر جائزہ لے رہے تھے ، ٹرک کے ٹائروں کے نشانات کی جانچ پڑتال کر کے وہ واپس چلے گئے ، درخت انتہائی افسردگی کی حالت میں اپنے وجود پر پنپنے والے تمام شاخوں اور پتوںسمیت محسن ڈرائیور کی سلامتی کے لئے دعائیں کر رہے تھے ، دو موٹر سائیکل سوار آوارد ہوئے پھر سے جلی حروف لکھنے کے لئے انہوں نے پھر سے قلمکاری کے جوہر دکھائے اور ایک بار پھر درخت اسی ادارے کی ملکیت بن گیا۔
سالہا سال بیت گئے ان کا ڈرائیور دوست پھر نہ آ سکا ایک گھٹن میں درخت کے اندرونی حصوں کو تپ دق سی لگ گئی تھی دیمک کی مانند انتظار کا غم اسے چاٹ رہا تھا پتوں پر ہریالی کی جگہ پژمردگی کا دور دور ہو چکا تھا بہاروں میں بھی خزاں کا تاثر اس درخت پر طاری ہو چکا تھا اس کی ٹہنیوں میں وہ جان نہ رہ سی آہستہ آہستہ وہ سوکھتا گیا اور پی ڈبلیو ڈی والے وہاں آ کر حصے بانٹنے کی باتیں کرنے لگے ، کبھی کبھار کوئی ٹہنی اپنے تن آور درخت کے وجود سے الگ ہو کر زمین بوس ہو جاتی تو آنا فاناعدالتوں میں گواہیاں دینے والا دیہاتی فوراً اس ٹہنی کو پتوں سمیت اپنے گھر لے جا کر بیوی سے کہتا اسے تنور میں جھونک کے دیکھو کتنی حرارت پیدا ہوگی۔
اس سوکھے درخت کو کاٹنے کے لئے احکامات جاری ہو چکے تھے دو آدمیوں کے پاس بھاری بھرکم دوکلہاڑے اس کی شہ رگ کو کاٹنے کے لئے آ چکے تھے ان کے ساتھ ایک ترکھان بھی آیا ہوا تھا دونوں اطراف سے پہ در پہ وار کر کے تن آور درخت کو زمین پر گرا دیاگیا ، ترکھان اپنے ناپ تول میں لگ گیا، گورنمنٹ کی گاڑیوں میں درخت کے تمام حصے کسی ایسے مقام کی جانب منتقل کئے جا رہے تھے جہاں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے منصفانہ تقسیم کی ترتیب دی جا چکی تھی ایک کھلے احاطے میں درخت کے سب ٹکڑوں کو اتار لیا گیا ، احاطے کو تالہ لگا کر سب جا چکے تھے، درخت کے الگ الگ ٹکڑے بے معنی ہو چکے تھے ان کی یکجہتی پارہ پارہ ہو چکی تھی وہ بہاروں کی روشن جوان کی رگوں میں موجزن تھی بکھر چکی تھی رات بھر چاندنی اس کے وجود پر خوشیوں کی بجائے پریشانی کا لبادہ اوڑھے رہی ، تنے کو وہ رات یاد آ گئی جب پیار کرنے والوں کا ایک جوڑا اس کے نیچے پوری رات گزار کر جدا ہوا تھا سسکیوں اور جدا ہونے کا وہ منظر آج ان پر بھی طاری تھا، صبح ہوتے ہی نہ جانے ان کے ٹکڑے کہاں کہاں جائیں گے یہی سوچ ان کی روح تک کو برباد کر رہی تھی وہ اکٹھا رہنا چاہتے تھے یاکہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں ، تنے نے اپنے پیدا کردہ بیج سے بہت معذرت چاہی کیونکہ دنیا والوں کی طلم کی داستانیں ان پر بھی قیامت بن کر ٹوٹی تھیں الگ کرنے والے ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے ، وہ وعدہ جو بیج نے خدا حافظ کہتے ہوئے بیج کی مزید افزائش کا تنے سے کیاتھا وہ پورا نہ ہو سکا اس کا قلق تنے کو ہمیشہ رہے گا۔
سورج کی کرنوں نے بہت سے کاریگروں کو احاطے میں جمع کر لیا وہ معتبر کاریگروں کو احکامات دے رہے تھے ایک بڑا میز ڈائریکٹر صاحب کے دفتر کے لئے بنانا اور دوسرا میز اسی طرز کا ڈائریکٹر صاحب کے دوست جو واپڈا میں ڈائریکٹر ہیں ان کے لئے تیار کر دینا۔ یاد رہے کہ دونوں میزوں میں ذرہ بھر فرق نہ آئے ۔ احکامات دینے والے جا چکے اور وہاں کاریگروں نے آرے چلا کر ہر لکڑی کو اپنے حساب میں چیر ڈالا اس چیرپھاڑ میں تنے کو سب سے پہلے رکھا گیا وہ اس مرحلے میں گزرنے سے پہلے اپنی شاخوں اور پتوں کو الوداعی سلام پیش کر چکا تو تنے کے تمام ٹکڑوں کو پھر نئے سرے سے جوڑ کر میز بنانے کی کاریگری نے رنگ جمایا، ٹکڑوں میں جونہی لمبے لمبے نوکیلے کیل ٹھونکے گئے باوجود تکلیف کے وہ مسرت و شادمانی کے گیت الاپ رہے تھے کہ وہ یکجا ہیں دونوں میزوں کو نامور کاریگروں نے جب بنا لیا تو ان پر پالش کی گئی کوئی ایسی کمی باقی نہ رہ گئی جہاں کاریگر کی نااہلی ثابت ہو ۔ میزوں میں ایک شاہانہ چمک آ گئی دونوں میزوں کو متعلقہ دفاتر میں سجا دیاگیا۔ ڈائریکٹر صاحبان کے دفاتر کے سامنے دربانوں نے اپنا الگ رعب جما رکھا تھا۔ ایک سائل جو گھر میں بجلی لگوانے کا خواہش مند تھا بڑی مشکل سے ایک عرصہ دراز کے بعد ڈائریکٹر صاحب کے دفتر تک رسائی حاصل کر سکا ، اس نے دربان سے پوچھا کہ صاحب دفتر میں موجود ہیں۔
موجود تو ہیں لیکن ایک لمبی میٹنگ چل رہی ہے ہاں بتا کیا کام ہے۔
جی کام تو انہی سے ہے۔
مجھے بتائے بغیر آپ ان سے کیا کام کروانا چاہتے ہیں ، جائیے کل آئیں ابھی وہ فارغ نہیں ہیں۔
جی یہ ایک لفافہ ہے آپ رکھ لیں اس میں میرے کاغذات بھی ہیں بجلی کا میٹر لگوانا تھا دربان نے لفافہ کھولا اور ایک سرسری نظر ڈال کر فوراً جیب میں رکھ لیا آپ ایسا کریں اس بنچ پر بیٹھ جائیں اور انتظار کریں کافی دور سے آئے ہو، میں ابھیاندر جا کے صاحب سے اجازت لیتا ہوں۔ اس درخواست پر دستخط ہی تو کرانے ہیں ، میں ابھی آتا ہوں کے ساتھ ہی وہ اندر گیا اور آنکھ جھپکتے ہی درخواست پر دستخط اور مہر لگوا کے آ بھی گیا ۔ سائل جا چکا اور میز کےدراز اندھی دولت سے بھرتے گئے۔ میز تھر تھر کانپ رہا تھا لیکن اس کے نیچے دبیز قالین اسے جنبش تک نہیں کرنے دے رہے تھے قائد کی تصویر پشت پر تھی کیونکہ راشی کو ان سے آنکھ ملانے کی سکت نہیں تھی۔
پی ڈبلیو ڈی کے ڈائریکٹر کی پرانی میز کو جب وہاں سے نکالا جا رہا تھا تو اس کا گزر نئے میز کے بالکل قریب سے ہوا ، نئے میز کے کانوں میں بڑی مردہ سی آواز سنائی دی۔
ٹوٹ جاؤ، بکھر جاؤ، خود کو تباہ کر لو اور چیخ چیخ کر دُہائی دو کہ تمہیں اوپر نہیں جانا، آخر بات کیا ہے بتاؤ ناں کے ساتھ ہی پرانی میز کو لوگ تبرک سمجھ کر اپنے گھر لے گئے اور نئی میز کی جگہ جہاں تجویز کی گئی تھی میز کو سجایا ، ہفتے بھر میں اس کی درازیں اس قدر لبالب بھر گئیں کہ لکڑی کو سانس لینے میں دشواری ہو گئی ، سامنے دفتر میں اس کے دوسرے حصے نہ جانے کس حال میں ہوں گے کہ وہاں کا دربان کسی کام کے لئے اِدھر آ نکلا صاحب نے یہ لفافہ صاحب کو دیا ہے جتنی جلدی ہو اس میں کاغذات پر دستخط کروا دیں مجھے واپس جانا ہے۔
یار بتاؤ ہفتے میں کتنا کما لیتے ہو؟
اللہ کا شکر ہے بہت کم ہو پھر بھی دس سے پندرہ ہزار تک معاملہ چلتا رہتا ہے اور چوتھا حصہ اپنا، تم بتاؤ تمہارا کیا حال ہے۔
یہ واپڈا ہے بابو یہاں تم سے زیادہ ہی ملے گا۔
دونوں ہنستے رہے اور میز کی اندرونی حالت فنا ہو کے رہ گئی کہاں گیاوہ پاکیزہ ماحول جہاں انسانوں کی خواہشات محدود ہیں ان کو کسی کے آگے پھیلا کر رشوت کی لعنت سے نبردآزما نہیں ہونا پڑتا۔
بچاؤ بچاؤ فائر بریگیڈ کو فون کرو، صاحب کے دفترسے اٹھنے والی آگ شعلوں میں تبدیل ہو چکی تھی اور وہ شان و شوکت جو صاحب کے دفتر کی تھی نئے میز سمیت خاک بن چکی تھی ۔ واپڈا کے ڈائریکٹر اور بہت سے رفقاءپی ڈبلیو ڈی کے ڈائریکٹر سے افسوس کا اظہار کر رہے تھے اتنے میں ہڑتال کرنے والے ہجوم نے واپڈا کے دفتر پر حملہ کر دیا اور وہ ڈائریکٹر کی بے انصافیوں پر بے حد نالاں ہو کر اس کے دفترکی اینٹ سے اینٹ بجا چکے تھے وہ میز جو کچھ دیر پہلے تک اپنی درازوں میں دولت کی فراوانی سے سخت شرم محسوس کر رہا تھا اس کی خوشیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی قائم و دائم رہیں کیونکہ وہ اس ماحول سے کسی بھی صورت میں الگ ہونا چاہتے تھے ۔ جب دوسرے دفتر سے میز کی خاک اٹھائی جا رہی تھی تو اس کی ہنسی نکل آئی۔ دیکھا میں تو خاک ہو کر زمین کے کسی ٹکڑے میں جذب ہو جاؤں گااور پیدائشی مراحل کو مزید تقویت دوں گا۔ لیکن اے ظالمو تمہارا حشر جو آگ کرے گی وہ دیکھنے والا ہوگا تمہیں زمین تک برداشت نہیں کرے گی۔