Skip to main content

Aalamiparwaz

اعتبار- احتیاطی تدبیر- بھرم: ناصر ملک

                   اعتبار           

         ناصر ملک


                         "چندا! آج میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے کہ میں نے تمہیں فتح کر لیا ہے۔ فتح کرنے کی فلاسفی بھی بہت عجیب ہے۔ فتح کرنا درحقیقت فتح ہونا ہے۔ میں نے تمہیں اور تم نے مجھے فتح کر لیا اور شبِ وصال کو ہمارا مقدر کر دیا۔ فتح کے بعد رگ و پَے میں اترنے والی تھکن نشہ کا مقام رکھتی ہے۔ میں نشے میں ہوں۔ تم نشے میں ہو۔ یہ کمرہء عروسی عشق کا مے کدہ ہے۔ یہ ہاتھ جامِ جہاں ہیں اور خراجِ عشق کو مے کا کردار سونپا گیا ہے۔ کیا تم میری کسی بات سے اختلاف کرو گی؟”
                          سرخ کامدار عروسی گھگرے میں اثباتی ہل چل ہوئی۔
”                         چندا! ہمارا ملن خدا نے لکھا تھا۔ لکھے پر یقین آ گیا۔ میں لاہور کا باسی ہوں۔ تمہارا خمیر شجاع آباد کی مٹی سے اٹھا ہے۔ میں نے آج تک شجاع آباد اور تم نے لاہور نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود ہمارا عشق نہ صرف تخلیق پایا بلکہ تشکیل و تکمیل بھی پا گیا۔ اس کے لیے میں جی جان سے فیس بک کا شکرگزار ہوں جس نے ہمارا نہ صرف تعارف کرایا، بلکہ ہمیں وصال کی اس دولت سے بھی مالا مال کر دیا۔”
گھگرے کے اندر کہیں سانس کی ڈوری جذبات کی آنچ پر سلگ کر سمٹنے لگی۔
”                   چندا! میں شاعر ہوں، مجھے دنیا سے رابطوں کی بہرحال ضرورت ہے ، اس لیے فیس بک کو ذریعہ تشہیر بنانا میری مجبوری ہے۔ سو میں اس کو بادلِ نخواستہ استعمال کرتا رہوں گا۔ تم اب نئی زندگی گزارنے جا رہی ہو۔ ابھی ناپختہ ہو۔ فیس بک کی چیپ رومانوی دنیا تمہیں خراب کر دے گی۔ اس لیے نئی اور پر اعتماد زندگی گزارنے کے لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس رات کی تھکن کو بدن میں سجائے ہم دونوں اُٹھیں، لیپ ٹاپ کھولیں اور تمہارا اکائونٹ بند کر دیں۔کم آن ! "
                   گھگرا سرسرایا۔ اسی سرسراہٹ میں سسکی کی مدھم سی آواز دب گئی۔
                 گگگگگ

 

 

               احتیاطی تدبیر

              ناصر ملک

 

                 "آپی! کیا تمہیں یہ پریشانی لاحق ہے کہ تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے؟”

"نہیں شانو! یہ تو اللہ کی دین ہے۔جو کام میرے اختیار میں نہیں تھا، اس کے نہ ہونے پر پریشانی کیسی؟”
"تو پھر؟”
             آپی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ شانو نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا جو کسی بھی جذبے کا تاثر لیے بغیر اپنی دیورانی پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کی دیورانی برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی اپنے لختِ جگر کو دودھ پلا رہی تھی۔
"آپی! کیا تمہیں یہ پریشانی ہے کہ تمہاری دیورانی کے ہاں بیٹا ہے اور تمہارے ہاں بیٹی؟”
اپنی آپی کا انکار میں سر ہلتا دیکھ کر وہ قدرے زِچ ہو کر بولی، "پھرکیا ہے؟ میں جب سے آئی ہوں، تمہیں ایسے ہی گم سم دیکھ رہی ہوں۔ کچھ تو ہے جو تم اپنی چھوٹی بہن سے بھی چھپا رہی ہو۔”
"شانو! تم ابھی کم عمر ہو۔ ناسمجھ ہو۔ میرا دکھ نہیں سمجھ سکتی ہو ، اس لیے خاموش رہو۔”
"مانا کہ میں آپ سے چھوٹی ہوں آپی مگر کیا یہ طے ہے کہ میں ناسمجھ بھی ہوں؟”
آپی نے ہنکارا بھرا ۔ اس کے لبوں سے آہ بھی خارج ہو گئی، "شانو! پریشانی کی بات یہ ہے کہ تمہارے بہنوئی صاحب اپنے بھائی سے بہت محبت کرتے ہیں۔”
شانو نے حیرت سے اپنی آپی کو دیکھا۔ ایسے ہی وقت میں چارپائی چرچرائی۔ آپی کی دیورانی بچے کو لٹا کر برآمدے سے نکل رہی تھی۔ اس نے اَن دھلے کپڑوں کی گٹھڑی اُٹھا رکھی تھی۔
"ان کی محبت سے تمہیں کیا تکلیف ہے آپی؟”
آپی نے شانو کو ان نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ، "اسی لیے تو تمہیں میں نے ناسمجھ کہا تھا!”
بولی، "شانو! کل میری بیٹی جوان ہو گی اور اس کے ابو میری سنے سمجھے بغیر اس کو اپنے بھائی کی بہو بنا دیں گے۔ بیٹی ہے، آج پیدا ہوئی، کل پیروں پر، پرسوں منڈیر پر ۔۔۔ جوان ہوتے کیا دیر لگتی ہے۔”
شانو چند لمحوں تک حیرانی سے اپنی آپی کو دیکھتی رہی پھر ہولے سے اٹھی، برآمدے میں گئی اور بچے کو ہلا جلا کر رلانے لگی۔ جب وہ رونے لگا تو اسے اٹھا کر آپی کے پاس لائی اور قدرے اونچی آواز میں بولی، "بچہ ہے، دودھ کیلئے رو رہا ہے۔ اس کی ماں کہیں باہر گئی ہے، اسے اپنا دودھ پلا کر خاموش کرادو آپی! بچہ روئے تو میرے دل کو کچھ کچھ ہونے لگتا ہے۔۔۔۔”
چند لمحوں بعد بچہ اپنی چچی کی چھاتی میں منہ گھسوڑے پچک پچک کر کے دودھ پی رہا تھا۔

 

 

        بھرم

        ناصر ملک

 
           "بابا!رات ہو گئی ہے اور پانی بہت چڑھ آیا ہے۔ کسی بھی وقت مکان ٹھاہ ٹھاہ گرنے لگیں گے۔ کچھ کر۔”
"کیا کروں؟ وہی جو تم سب گائوں والے کہتے ہو؟نہیں۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔ "
"کیا ہم سب کو مارنے کا اِرادہ ہے تیرا؟ "
"تو کیا میں تم لوگوں کو پچھلا بند توڑنے کی اجازت دے دوں؟دنیا کیا کہے گی کہ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میں نے فریدن کو لوڑھ دیا؟ نہیں گودا! بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔”
"ہاں بابا! ورنہ سارا گائوں ڈھیہہ جائے گا۔”
"اور بے چارے فریدن اور اس کے خاندان کا کیا بنے گا جو بند کے سامنے بیٹھے ہیں؟ وہ چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ مال ڈنگر لے کر نکل بھی نہیں سکتے۔ بند توڑا تو پانی کا ریلا ان کو آنکھ جھپکتے میں بہا لے جائے گا۔”
"بابا! اپنے سالے کی خیر نہ مانگ، اپنے گھر اور گائوں کا بھلا سوچ۔پورا گائوں باتیں بنا رہا ہے۔ تیرے خلاف بولتا نہیں اور تو الٹے سیدھے حکم چلاتا رہتا ہے۔”
"نہیں! کوئی اور حل سوچو تم لوگ۔ پچھلا بند میرے جیتے جی نہیں توڑا جائے گا۔”
وہ پھنکارتا ہوا چلا گیا۔ اس کے ساتھ آئے ہوئے سبھی رخصت ہو گئے۔ بابا پلٹا اور گھر داخل ہوا۔ ڈیوڑھی میں اس کی بیوی منتظر تھی۔ اس کی آنکھوں میں اپنے تاجدار کیلئے فخر اور ستائش بھری ہوئی تھی۔
"ہاہ! اب میں گائوں والوں کے پیچھے لگ کر فریدن کا گھر ڈھاہ دوں؟بھائیوں کا بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔” اس نے گردن اکڑا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور تیز تیز قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔
گائوں والے رات بھر جاگتے رہے مگر ان کی توقع کے مطابق پانی گائوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ خوشی آمیز تعجب آنکھوں میں لیے فجرکے نمازیوں نے گائوں کی نم گلیوں کو اخیر تک دیکھا۔ پانی گائوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔
گائوں والے اپنا گائوں سنبھال رہے تھے جبکہ بابا پچھلے بند کی طرف منہ کیے مغموم کھڑا تھا۔ اس کے تھکے چہرے کی جھریوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اس چوری کا کھرا بھی موجود تھا جو اس نے رات کے پچھلے پہر کی تھی۔
رات کو چوروں کی طرح بند پر کسی چلاتے ہوئے اس کے کانوں میں بپھرے ہوئے پانی کا غیظ ناک شور بھر گیا تھا جبکہ اب ا س کے کانوں میں اس کی اپنی ہی آواز گونج رہی تھی، "فریدن! میکوں معاف کر چھوڑیں۔۔۔۔”

دکاندار: شفان حسن، اسلام آبا د

 دکاندار
 شفان حسن، اسلام آبا د

                           گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں نہرکے پانی میں جی بھر کر نہانے کے بعدہم تین دوست اپنی،اپنی سائیکل پر سوار، تروتازہ و مسرور گپیں ہا نکتے گھروں کو رواں دواں تھے۔ نہر،شہر سے زیادہ دور نہ تھی، چنانچہ ہم جلد ہی اپنے محلے کے قریب پہنچ گئے۔ ذرا آگے آئے تو ایک عجیب سی افراتفری نظر آئی۔ ہم سائیکل سے نیچے اتر آئے، اور اپنی،اپنی سا ئیکل کو گھسیٹے آگے کی طرف پیدل چل دئیے۔ نعیم اور راشد میرے گھر سے پہلے مڑ جانے والی گلی میں رہتے تھے،لیکن اس عجیب سی صورتحال نے مجھ سمیت ان میں بھی تجسس پیدا کر دیا تھا، لہذا وہ دونوں بھی میرے سا تھ میرے گھر والی گلی میں داخل ہو گئے۔ میرا گھر محلے کے سب سے آخری کونے میں ایک لمبی گلی میں تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر با ہر گلی میں کھڑے ہوئے تھے۔ اب دل میں وسوسوں کی ایک قطا ر اٹھنا شروع ہوئی،جس سے اس وقت مجھے شناسائی تھی،وہ کسی کی وفات کی خبرہو تی تھی چنا نچہ میرے ذہن میں ان تما م لو گوں کی شبیہیں چلنے لگیں، جو بیما ر تھے اور میرے نام نہاد شعور کے مطا بق مو ت ان کی اگلی منزل تھی! بشیرن ْبوا، دادا فضل اور اعجا ز نشی۔ ہما رے تئیں اگر مو ت کو کسی شکا ر کی تلا ش تھی تو یہی تو وہ لو گ تھے، با قی سب تو نہ اسقدر بو ڑھے تھے اور نہ ایسے بیما ر کہ دنیا چھو ڑ جا ئیں؟
لیکن دوسرے ہی لمحے یہ خیال بجلی کی سرعت سے ذہن میں کْوندا کہ ان سب لوگوں کے گھر تو پیچھے چھو ڑ آیا ہوں؟پھر یہ شور یہاں؟ اسی طرح کے خیالات کو جھٹکتے اور لو گوں کو افسردہ کھڑے دیکھتا ہوا، اپنے گھر کی طرف بڑھا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیاکہ سب سے زیا دہ لو گ ہما رے گھر کے آس پا س ہی جمع تھے۔ بھا نت بھا نت کی آوازیں آرہی تھیں۔ کو ئی کہہ رہا تھا چولہا پھٹ گیا اور آگ لگ گئی۔ ایک صاحب شارٹ سرکٹ کو آگ لگنے کی وجہ بتاتے تھے۔ اب میر ا دل بیٹھ گیا، دل میں خیالات کی ان دیکھی اور ڈراونی تصویریں اْبھرتی رہیں، میں نے ساری ہمت اکٹھی کی اور دیوانہ وار گھر میں دوڑتا ہوا داخل ہوا۔ گھر میں ایک ہجوم تھا، خواتین آہ و زاری کر رہی تھیں۔چا رو ں طرف نظر دوڑائی لیکن اپنے گھر کا کوئی فرد نظر نہ آیا۔ اب تو جیسے پاوٗں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔ میری سماعتوں پر وہ تجزئیے تا بڑ توڑ حملے کر رہے تھے جو میں نے گلی میں سے گزرتے ہوئے سنے تھے۔میں نے جا کر کچن دیکھا وہاں آگ لگنے کے کو ئی آثا ر نہ تھے، بجلی کی سب تا ریں دیکھیں، صحیح سلامت نظر آئیں۔
میں عمر کے جس حصے میں تھا، مجھے کسی نے کچھ بتانا مناسب نہ سمجھا۔ قریب تھا کہ دل پھٹ جا تاکہ دفعتارشیدہ آپا دکھائی دیں۔وہ کہنے کو تو سب لوگوں کی آپا تھیں،مگر پوتے، پوتیوں اور نواسے، نواسیوں والی تھیں۔ میں بے چینی سے ان کے سامنے جا کھڑا ہوا، اور ان سے پو چھا، آپا کیا ہوا؟
ان سے لفظ تو نہ بن پڑے مگرانھوں نے مجھے کھینچ کر اپنے گلے سے لگالیا اور زارو قطار رونا شروع کر دیا۔ میں نے حو صلہ کر کے پھر پوچھا آپا آخر ہو ا کیاہے؟
انھوں نے اپنی پور ی توانائی جمع کی اور کہنے لگیں۔ افضال بیٹے!تمہاری بہن جل کر مر گئی۔۔۔۔یہ سننا تھا کہ مجھے لگا جیسے آگ تو میرے بدن میں لگ گئی ہے۔۔شعلے بلند ہوئے، میں دہکتا گیااور آپا رشیدہ کی گود میں کو ئلہ ہو گیا۔ مجھے خبر نہ تھی کہ اسوقت اٹھنے والی آگ پر میرے اور آپا رشیدہ کے کتنے آنسو گرے۔مگر اب میں اس قابل ہوگیا کہ میں نے پوچھا آپا، کب اورکیسے لگی آگ؟ جواب میں آپا نے کچھ نہ کہا اور خاموش ہو گئیں۔ میں جلدی سے با ہر آیا نعیم اور راشد کو بتایاکہ کیاقیامت ہم پہ ٹوٹی ہے، ہم تینوں ملکر ایسے رونے لگے، جیسے ہما ری ماں ہم سے چھن گئی ہو۔ تھوڑے، تھوڑے وقفے کے بعد ہم خاموش ہوتے اور فریدہ آپا کی کوئی بات کرکے پھر رو پڑتے۔
فریدہ آپامجھ سے 25سال بڑی تھیں، اور اپنے میاں اوردوبیٹوں کے ساتھ ہم سے کچھ دور ایک اور محلے میں رہا کرتی تھی۔ وہ مجھے اور میرے دونوں قریبی دوستوں کواپنے بچوں کی طرح چا ہتی تھی۔ہم روزانہ ان کے ہاں بہت سا وقت گزاراکرتے تھے۔ وہ ہمیں اپنے بچوں کی طرح کھلاتی،پلاتی۔ استانیوں کی طرح ڈانٹتیں اور پڑھائی نہ کرنے پر چھوٹی بہنوں کی طرح روٹھ جا یا کرتیں۔ پھر ہم تینوں کھڑے کھڑے دونوں ہاتھوں سے کا ن پکڑکر اس سے معافی مانگتے، اور وعدہ کرتے کہ اب دل لگا کر پڑھائی کریں گے۔ وہ پھر خوش ہو جا تیں اور پھر مغرب کی اذان سے پہلے ہمیں گھر بھیج دیا کرتیں۔ علی بھا ئی اکثر کہتے، فریدہ مجھے لگتا ہے، تمہارے دو نہیں پانچ بیٹے ہیں۔اور مسکرا کہ کہا کرتیں، جی آپ ٹھیک کہتے ہیں، یہ بھی میرے بچے ہیں۔
روتے روتے ہم اپنی ماں جیسی بہن کے گھر چلے جا تے تھے۔ راستے میں ان کے محلے کے لوگ کھڑے تھے۔خواتین علیحدہ ٹولیاں بنا ئے کھڑی تھیں۔ ایک آواز بلند ہوئی پا نچ بیٹوں کو اپنے پیچھے چھو ڑ گئی۔۔ بیچاروں کی ابھی عمر ہی کیا تھی؟ ایک خاتون بولی۔نکھٹو اور جواری شو ہر کے ساتھ رہنا آسان نہیں تھا، اکژ لڑتے رہتے تھے دونوں، پھر بھلا فریدہ کیا کرتی؟ اس لئے فریدہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ لیکن ہم نے تو ایسا کبھی نہ دیکھا تھا، میں نے دل میں سوچا! فریدہ کے گھر کے با ہر ایک اور خا تون کہہ ر ہی تھی کہ میں تو جھوٹ نہ بو لوں گی، میں نے اپنے کا نوں سے سنا تھا، علی اسے جو ئے میں ہا ر گیا تھا۔ کل اسی با ت پہ لڑائی شروع ہو ئی تھی،مگر مجھے یہ نہ اندازہ نہ تھا کہ علی اسے جلا ہی دے گا؟ کہتا تھا فریدہ اپنے باپ کے گھر سے پیسے لادو، تو بچ جا ؤگی ورنہ اس کے سوا کو ئی چارہ نہیں کہ میں تمہیں ان لو گوں کے حوالے کر دوں جن سے ہاراہوں۔ میرادل چاہا کہ میں اپنی پوری قوت جمع کر کے چیخوں، تم کیسے محلے دار ہو، کہ نہیں جا نتے کہ علی کی دکان تو پورے علاقے میں مشہور تھی۔ اس کا کا م ٹھیک ٹھاک تھا۔ وہ اگر جو اری ہوتا تو دکان اب تک کیسے چلتی رہتی؟ ان کے دونوں جڑواں بچے،جو شادی سے پندرہ سال بعدپیدا ہوئے تھے، کیوں شہر کے سب سے مہنگے اور بہترین سکول میں پڑھ رہے ہوتے؟ گھر میں ہر وہ چیز کیوں مو جو د ہوتی جس سے اس گھر کی خوشحا لی کا اندازہ ہوتاتھا؟
جیسے تیسے ہم فریدہ آپا کے گھر پہنچے۔ میرے گھر والے وہاں پہلے سے موجود تھے۔میرے بو ڑھے ماں،با پ کمرے کے درمیان میں بچھی ہوئی ایک چارپائی پر پڑے ہوئے راکھ کے ڈھیر کے پاس بت بنے ہوئے بیٹھے تھے۔ کمرے کے ایک کونے میں آپا کے شوہر علی بھائی، زمین میں نگاہیں گاڑے بڑے انہماک سے آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہے تھے۔ ان کے دونوں با زؤں کی اوپر والی جلد ایسی لگ رہی تھی جیسے بہت دیر آگ کے الاؤ میں رہنے کی وجہ سے بھن گئی ہوں۔ نہ جا نے کتنا وقت گزراہو گا جب مجھے کسی نے کا ندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور کہا۔ا فضال بیٹا! اپنی بہن کے کفن دفن کا انتطام تمیں دیکھنا ہے۔ تمہارا بو ڑھا باپ اور بہنوئی تو صدمے کی حالت میں ہیں۔ جا ؤ سب سے پہلے جا کر مسجد میں انتقال اور نما ز جنا زہ کا اعلان کرا دو۔یہ چچا کر امت تھے جنہوں نے مجھے اعلان کے یہ الفاظ بتائے فریدہ بنت محمد اکبر، زوجہ محمد علی بہ رضائے الہی انتقال کر گئیں ہیں۔میں نے بے یقینی کی حالت میں اس طرف دیکھا جہاں فریدہ آپا کی چارپائی پڑی تھی،میرا دل چا ہا کہ فریدہ آپا کوئلے کے اس ڈھیر سے اٹھ کھڑی ہوں اور پکا ریں، افضال بیٹا ادھر آؤ، کہاں رہے تم؟اور پھر اپنی گود میں میرا سر رکھ کر سارے دن کی تفصیلات پوچھیں۔ لیکن،ایسا نہ ہوا۔ چچا کرا مت نے مجھے پھر متوجہ کیا! اوریہ کہ نما زجنا زہ عشاء کی نما ز کے بعد مرکزی جنا زگاہ میں ہو گی۔
وہا ں سے با ہر آ کر ہم تینوں دوست سب سے قریبی مسجد میں گئے۔مو لوی صاحب ایک گا ؤ تکئے کے ساتھ ٹیک لگائے مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے جا کر مدعا عرض کیاکہنے لگے، ارے او بد بختو! کہا ں کا اور کیسااعلان؟ حرام مو ت مرگئی ہے وہ، تم مجھ سے اعلان کرنے کا کہہ ر ہے ہو؟ کیو ں میری نیکیوں کو بربا د کرنے کے درپے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خود کشی کرنے والے تا قیا مت جہنم میں جلتے ہیں؟۔ کچھ دین کی سمجھ بھی ہے یا نہیں؟ دنیا کی تعلیم کے پیچھے تو بہت بھاگتے پھرتے ہو! میں انہیں کچھ بھی جواب نہ دے سکا۔ ہاں مجھے یہ ضرور پتہ تھا کہ، مو ت کیسی ہی ہو، مرنے والے کو د فن ضرور کیا جا تاہے لیکن، حرام اور حلال موت،یہ تصور میرے لئے عجیب تھا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ حلال اور حرام موت کیا ہوتی ہے؟کیا موت کی ان دو قسموں کے علاوہ بھی کچھ اور اقسام ہیں؟کسی ایک ذی روح کا ثواب اور گنا ہ کسی دوسرے کے حصے میں کیسے آ جا تا ہے؟ یہ سوال بھی میرے ذہن میں تھا کہ ایک اعلان کرنے سے مولوی صاحب کی نیکیاں کسیے ضائع ہوں گی؟ میں نے اپنے دوستوں قبرکی تیاری اور کفن کی خریداری کیلئے بھیجااور خو د اگلی مسجد کی طرف روانہ ہو گیا، جو کہ اس مسجد سے تھو ڑے ہی فا صلے پر تھی۔ مو لوی صاحب ہاتھ بھر لمبی د اڑھی کو خضاب سے رنگنے میں مشغول تھے۔ انھیں سلام کیا، سر ہلا کر بے اعتنا ئی سے جواب دیا، میں ان کی مصروفیت کے ختم ہو نے کا انتظار کررہا تھا۔ کہنے لگے کیوں بھئی کسیے آنا ہوا؟ آج مسجد میں کیسے؟ تم تو عیدین پر ہی نظر آتے ہو یہاں؟ میں نے آنے کا مقصد بتا یا۔ ایک دم جلال میں آگئے، کہنے لگے۔ مسجد کا لا وٗڈ سپیکر ان غیر شرعی کا موں کیلئے نہیں ہے۔ اور فو را استغفار، استغفار کی تسبیح شروع کر دی۔ چھوٹا سا شہر تھا، فریدہ آپا کی مو ت کی خبر قریب کے سا رے محلوں میں اسی ڈھب اور رنگ سے پہنچ چکی تھی جیسے لوگ بلا تحقیق با تیں بنا رہے تھے۔ میں نے سوچا یہ شرعی اور غیر شرعی کیا ہوتا ہے؟ کیا میرا مولوی صاحب کے پا س آنا اور ان سے اعلان کا کہنا غیر شرعی ہے یا ان کا مجھے انکا رشرعی؟ مولوی صاحب جب سے اس مسجد میں آئے تھے انکے لئے دو وقت کا کھا نا فریدہ آپا کے یہاں سے با قاعدگی سے میرے بھانجے لیکر آیا کرتے تھے۔ مولوی صاحب اہل محلہ سے باقاعدہ تنخواہ لیا کرتے تھے، اپنے گھر کا کھا ناانہیں خا ص پسند نہ تھا۔ علی بھائی سے ایک دفعہ انھوں نے اس کا ذکر کیا تو علی بھا ئی نے ان کو کھا نا پہنچانے کا ذمہ اٹھا لیا تھا۔ تو کیا یہ سب شرعی تھا؟ فریدہ آپا کو ئلوں کا ڈھیر بنی اگر یوں ہی پڑی رہے اور مٹی کو بھی ترسے تو وہ شرعی ہے یا غیر شرعی؟ تو پھر رب کائنات کا کرم کس پہ ہوگا؟ ہم پر، فریدہ پریامولوی صاحب پر جو ہر وقت اللہ کے گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں؟
بچپن سے دیکھتے آئے تھے جو بھی انتقال کر جا تا، اس کا اعلان مساجد کے لاوٗڈ سپیکر سے ہی ہوتا، نما ز جنا زہ پڑھائی جا تی اور پھر قبرستان میں جا کر مرحوم کو مٹی کے حوالے کر دیا جا تا۔میں بھی تو یہی سب کرنے کا سوچ رہا تھا۔ فریدہ آپا کا شفیق چہرہ میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹتا نہ تھا۔ وہ نما ز کی پا بندی کرتی تھیں، غربا ء کی دل کھول کر مدد کرتی تھیں۔ محلے والیاں اسکا دم بھرتی تھیں۔ پھر یہ اچا نک کیا ہوا۔؟ لو گ کیوں ایسے ان کے بارے میں با ت کررہے ہیں۔؟

یہی سب سوچتا میں اگلی مسجد کی طرف روانہ ہو گیا، جونسبتا دور تھی۔ میں مولوی صاحب کی طرف سے برتی جا نیوالی بے اعتنا ئی پہ حیران ہورہا تھا کہ مجھے یا د آیا کہ سال بھر پہلے سردی کے شدید موسم میں ایک کتے کو زخمی حالت میں اٹھا کر میں نے تھو ڑا سا گرم دودھ پلا یا تھا۔ اور ایک عدد پرانی بوری، اس کے اوپر سردی سے بچا ؤکیلئے ڈال دی تھی۔ چند دن محض اتنا خیال رکھا کہ محلے کے شریر بچے اسے تنگ نہ کریں۔ پھر وہ بھلا چنگا ہوگیااور اپنے جیسے دوسروں کے ساتھ جا ملا۔ کچھ دنوں بعد میں شا م کو کھیل کود کر تھو ڑا لیٹ گھر وآپس ا ٓرہا تھا، تو مجھے گلی میں آتے دیکھ کر اور شاید اجنبی جان کر دو عدد کتے اکٹھے ہو گئے، اور میری طرف بڑھتے ہوئے، بھو نکنے اور غرانے لگے۔ میں شدید خوفزدہ تھا، اور یہ فیصلہ نہ کر پاتا تھا کہ کہاں جا ؤں؟ اتنی دیر میں ایک اور کتا آنکلا، اب تو جیسے میرے اوسان ہی خطا ہو چلے تھے۔ لیکن میں نے دیکھا تیسرا کتا میری طرف نہیں بلکہ، دوسرے دونوں کتوں پر پورے غیض و غضب سے بھونک رہے تھے۔ یوں غراتے ہوئے اس نے دونوں کو وہاں سے جا نے پر مجبو ر کر دیا۔ میرا حو صلہ کچھ بڑھ چکا تھا۔ میں اس غیبی امداد پر خو ش تھا اور اپنے گھر کی طرف بڑھتا جا تا تھا۔ میرے گھر کے دروازے تک وہ میرے پیچھے چلتا آیا۔ دروازے کے با ہر موجود روشنی میں مجھے اسے پہچاننے میں ذرا دیر نہ لگی۔ یہ وہی سفید رنگ والا کتا تھا، جو ایک دن زخمی حالت میں پڑا سردی میں کا نپتا تھا۔اور جسے میں نے اپنی توجہ کے صرف چند لمحے دئے تھے۔ اور گھر سے تھو ڑا دودھ لا کرپلایا تھا۔ میں اس دن کو یا د کرتا ہوا،ایک اور مسجد میں پہہنچا۔
اما م مسجد وضو والی جگہ پر بیٹھے اپنے استعمال کے برتن دھو رہے تھے۔ پا س ہی وہ چٹائیاں جن پرلوگ نماز پڑھتے ہیں، پر انھوں نے اپنے گیلے کپڑے دھو پ میں سوکھنے کیلئے پھیلائے ہوئے تھے۔ میں انھیں بیٹھ کر دیکھتا رہا تو، ایک دم سے چونک گئے، خود ہی سلام میں پہل کی، محبت سے بولے بیٹا! کیوں افسردہ ہو۔؟ خیریت تو ہے۔؟
میں سلام کا جواب دے کر کہا! مولوی صاحب موت کے بعد کسی بھی شخص کے ساتھ کیا معاملہ ہونا ہے، اس کا علم خدا کے علاوہ اور کس کس کو ہو سکتاہے۔؟ وہ غور سے مجھے دیکھتے رہے پھر بولے، بیٹا،اس چیز کا علم میرے رب کے علاوہ کسی کو بھی نہیں ہو سکتا! میں نے پھر پوچھا، فرض کریں ایک شخص حلال موت مرا او ر دوسرا حرام موت، کیا کوئی آج یہ کہہ سکتا ہے،کہ ان میں سے کون خدا کے غضب یا رحمت کا شکار ہو گا۔؟ بولے، بیٹا اس چیز کے فیصلے کا اختیار صرف اور صرف اللہ کی پا ک ذات کو ہے۔ یہ سنناتھا کہ میں نے جلدی سے انھیں بتایاکہ میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، لوگ کہتے پھر رہے ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ خو د کر لیاہے۔ مجھے ان کے انتقال اور جنازہ کی نماز کا اعلان کروانا ہے۔ انھوں نے مجھ سے اعلان کے لئے درکار معلومات لیں۔ اگلے ہی لمحے لاؤڈ سپیکر سے اعلان ہو گیا۔ واپس آ رہا تھاکہ گلی کے نکڑ پر چچا کرامت ملے، کہنے لگے بیٹا، نماز جنا زہ کون پڑھائے گا۔؟
میں بولا، چچا آپ پڑھا دیجئے۔؟ کہنے لگے بیوقوف، کبھی ایسا بھی ہوا ہے، یہ کا م تو مولوی صاحبا ن کاہے۔ میں کیسے پڑھا ؤں۔؟
جوابامیں نے کہا میں نے عا م لوگوں کو نما ز کی اما مت کراتے دیکھا ہے، تو نما ز جنا زہ بھی تو پڑھا ئی جاسکتی ہو گی۔؟ کہنے لگے یہ آج کل کی نسل بھی نہ۔۔۔ دین کی سمجھ نہیں اور لگے ہیں بڑی، بڑی با تیں کرنے! چچا مجھے نما ز جنا زہ کا سارا طریقہ اور اس میں پڑھی جا نیوالی سا ری دعائیں، فریدہ آپا نے یا د کروائی تھیں۔ میں پڑھا دوں؟ کہنے لگے، نہ تمہا ری پوری داڑھی ہے، اور تم تو قرآن کے حا فظ بھی تو نہیں؟ چچا دین میں کتنی دا ڑھی پوری ہو تی ہے، کیا آپ جتنی دا ڑھی پو ری میں شما ر ہوتی ہے؟میری بہن کیلئے مجھ سے زیا دہ کو ن دعا کر پائے گا؟ کہنے لگے افضال تمہیں کچھ پتہ نہیں، جا وٗ جا کر فلا ں مدرسہ میں قاری عبدالرشید صاحب سے کہو، وہ پڑھا دیں گے۔ بڑے خدا ترس آدمی ہیں۔ میں سو چتا جا رہا تھا، اے میرے اللہ، کا ش میری داڑھی مولوی صاحب جتنی لمبی ہوتی اور میں قرآن کا حا فظ ہو تا تو اپنی آپا کے لئے کچھ تو کر سکتا۔۔۔ مدرسہ میں قاری صاحب سے نما ز مغرب کے بعد ان کے حجرے میں ملا قات ہوئی۔ وہ آکر حجرے میں مو جو د نشست پر بیٹھے ہی تھے کہ مدرسہ میں مقیم دو طا لب علم آ کر ان کے پا ؤں دبا نے لگے۔۔۔ حجرہ کیا تھا، کتا بوں کی دکان تھی، ڈھیروں اسلامی کتا بیں وہاں پر مو جو د شیشے کی الماریوں میں سجی ہو ئی تھیں۔ قرآن و حدیث کے خوبصورت اور دیدہ ذیب نسخے تھے۔ کتا بوں کے نسخے ایسے لگ رہے تھے جیسے ابھی لا کر رکھے ہوں۔ میں نے انھیں جنا زہ پڑھا نے کیلئے درخواست کی۔ انھوں نے جگہ اور وقت کا پو چھا اور مجھے تسلی دی کہ وہ مقر رہ وقت پر پہنچ جا ئیں گے۔ میں واپس آنے کیلئے اٹھنے ہی والا تھا کہ کہنے لگے عا م طو ر پر میں کم ہی جا تا ہوں جنا زہ کی نما ز پڑھا نے کیلئے مگر چو نکہ تمہیں کرا مت صا حب نے بھیجا ہے، اور ویسے بھی خدمت خلق ہے، اس لئے تیا ر ہو گیا۔ کیا انھوں نے تمہیں کچھ اور بھی کہا؟ میں نے نفی میں سر ہلا یا۔ اپنی با ت جا ری رکھتے ہوئے کہنے لگے۔بیٹا، مدرسہ میں سینکڑوں بچے، دور دراز کے دیہات سے آکر پڑھتے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا، کہ شہر کے کیوں نہیں؟ وہ پھر کہنے لگے، تمہیں حسب توفیق نذرانے کا بندوبست کرنا ہوگا، ان معصوم بچوں کی ضروریا ت کے کا م آئے گا۔ مجھ پر تو اللہ کا بڑا فضل ہے۔ با ت سمجھ آنے پرمیں نے کہا جی ضرور قا ری صاحب! اور مدرسہ سے نکل کر فریدہ آپا کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
میت تیا ر ہو چکی تھی، نما زجنازہ کا وقت ہو ا چاہتا تھا۔جیسے ہی میت اٹھا کر ہم قبرستا ن کی طرف چلنے لگے، خواتین کے رونے کی آوازیں اور بلند ہوگئیں۔ ان میں وہ تما م بھی تھیں، جو اس المنا ک موت پر اپنے تبصرے بلا سوچے سمجھے اوریہ جانے بغیر کر چکی تھیں کہ با ت چلتی، چلتی کیا سے کیا ہو جا تی ہے۔۔۔ ایک خاتون شدید غمزدہ حال میں کہتی تھیں،ہما رے غریب گھر کو اب کون چلائے گا۔ ایک اور اٹھیں اور چلانے لگیں، میرے بچوں کے سکول کے تما م اخراجات اب کون پورے کر ے گا، کاش اے بیٹی تیری جگہ میں مر گئی ہوتی۔ میں حیران تھا کہ آپا یہ سب اتنے اہتما م اور خا موشی سے کیسے کر لیتی تھیں۔ چلتے، چلتے ہم ان دونوں مساجد کے پاس سے گذرے، جہاں وہ دونوں مولوی صاحبان ہم نے دیکھے، جو آپا کی موت کو حرام قرار دے چکے تھے، حالا نکہ انھوں نے اس ضمن میں کو ئی تحقیق و تصدیق کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی۔ جیسے ہی جنا زہ انکے سامنے سے گذرا انھوں نے عجیب طرح سے جنا زہ میں شریک لوگوں کو دیکھا۔ کچھ دیر میں ہم جنا زگاہ پہنچے۔ یہ دیکھ کر میر ی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ تقریباَ سو لوگوں پر مشتمل جنازہ اب سمٹ کر تیس سے چا لیس لوگوں تک محدود ہو گیا تھا۔اس بیچارگی پر میرا دل بھر آیا،اور میں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ شدید گرمی کا موسم تھا، دیکھا دیکھی آسمان پر بادل چھا گئے۔ اور موسم خوشگوار ہوگیا۔قا ری صاحب تشریف لا چکے تھے۔ انھوں نے مو سم دیکھ کر ہمیں جلدی کرنے کا کہا اور نما زجنا زہ شروع کی۔ نما ز کے دوران مجھے آپا فریدو کا شفیق چہرہ مسکراہتا ہو ا نظر آتا رہا۔ اسکے بعد نعیم، راشد اور دوسرے لوگوں نے میت کو لیکر ملحقہ قبرستان کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ مجھے قاری صاحب کو نذرانہ دینا تھا۔ میں ان کے پا س گیا اور انکا شکریہ ادا کرکے، ان کی ہتھیلی پر 500روپے رکھ دئیے، انھوں نے پیسے دیکھ کر شدید نا گواری کا اظہار کیا، بولے، او میاں! تمہاری بہن خودکشی کرکے مری ہے، تم نہیں چاہتے کہ اس کی بخشش ہو؟ اتنے پیسے تو ہم عام موت کے لیتے ہیں۔ کیا مغفرت نہیں کروانی؟ میں نے اپنی جیب سے سا رے کے سارے پیسے نکا لے اور دیکھے اور گنے بغیر انکی ہتھیلی پر رکھ دئیے اور قاری صاحب کو دیکھے اور ملے بغیر قبرستان کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں آپا کاہنستا مسکراتا چہرہ مجھے پکارتا تھا! (شفان حسن۔ اسلام آبا د)

نقب زن : فرحین چوہدری ۔ اسلام آباد

 نقب زن
 فرحین چوہدری۔۔۔۔۔اسلام آباد

                     ڈاکٹر نے اس علاقے میں گھر خرید نے سے پہلے خوب جانکاری کرلی تھی صاف ستھرا ،اشرافیہ کا علاقہ ،جہاں ذاتیات میں مداخلت سے پرہیز کرنے والے ،ریشم کے کوبا جیسے ،اپنے خول میں گھٹ مرنے والے لوگ رہتے تھے ۔۔۔بھلے ساتھ والے گھر کو آگ لگ جائے ۔
ڈاکٹر کو تسلی ہوگی وہ پسماندہ علاقے سے نکل کر سعودی عرب جابسا تھا ۔خوب کمایا لیکن عورت کو گھردار ی کی دنیا تک محدود رکھا ۔پہلی بیوی کم پڑھی لکھی کزن تھی ،تین عدد بیٹیاں پیدا کرنے کے باعث مرعوب و مجبور ۔۔۔۔ڈاکٹر نے y chromosome کی کر شمہ سازی سے واقفیت کے باوجود ،بیٹے کے چکر میں کم عمر نرس کو دوسری بیوی بنالایا۔ثمینہ کا احتجاج ،آنکھوں کے راستے بہہ کر ڈوپٹے میں جذب ہوگیا ۔سعودی عرب میں الگ الگ فلیٹ تھے ،سو نہ رابطہ نہ کھچ کھچ ۔۔۔دوسرے وہاں شیوخ کے لمبے حرم ،ثمینہ کے دل کو دلاسہ دئے رکھتے۔
مگر پاکستان آکر ،اکلوتی بیویوں کے راج دل پر گھونسے چلانے لگے ۔حنا اوپر منزل اور ثمینہ نچل منزل کی مالکن بن گئی۔
حنا کے ہاں بھی بیٹ یک پیدائش نے ثمینہ کا جی خاصا ہلکا کردیا تھاچھ سالہ سونی،کی اُٹھان ،نئی نسل کی تما م تر خصوصیات سمیت کسی اور ہی سمت کا اشارہ دے رہی تھی۔۔۔۔مگر بچی سمجھ کر سب فی الحال بے خبر تھے ۔روبی کی منگنی،باہر رہنے والے بھانجے سے کر کے ڈاکڑمطمئن تھا۔خطرہ دور تھا ۔فون پر بھی شاذ و نادر رابطہ ہوتا مگر ماں ک موجودگی میں منگیتر سے رسمی سلام و دعا کے دوران ،کتنی ہی میٹھی میٹھی سرگوشیاں دل ہی دل میں دم توڑ دیتیں۔دوسری جانب شاہد کے رومانوی الفاظ کے جواب میں ’’جی جی ‘‘ کی تکرار ہوتی تو وہ جل کر فون پٹخ دیتا ۔۔۔ٹھک کی وہ آواز کئی دن روبی کے دل اور بدن کو سلگائی رکھتی۔۔۔رابعہ خود میں مگن رہنے والی دبو سی زندگی سے بے زار نظر آتی تھی۔۔۔۔شاید پابندیوں سے گھبرا کر اس نے خواب دیکھنا بھی ترک کردئے تھے۔
رہ گئی انجو ۔۔۔پارہ تھی پارہ،اس کا انگ انگ بولتا تھا ،تھرکتا تھا ،آنکھیں ابرو ہونٹ حتی کہ پاؤں بھی اک خاص ردھم کے ساتھ ہر وقت حرکت میں رہتے ،چاہے وہ لیٹی ہو یا بیٹھی ہو ۔ماں بار بار ٹوکتی اس حرکت پر۔۔۔لیکن یہ تو اندر کا کوئی اضطراب تھا ۔۔۔انجو کے بس میں تھوڑا ہی تھا۔
وہ پورے گھر میں جھونکے کی ماند ،کسی شرارے مانند گھوم جاتی ۔ان کہی کہ جاتی ۔باغیانہ جملے ،اعتراضات ،باپ کی آمرانہ مملکت کی شان میں گستاخیاں۔۔۔ماں کے ہاتھ سبزی بناتے وقت کانپ کانپ جاتے ۔۔۔مگر روبی کی بے زبانی کو زبان مل رہی ہوتی۔حنا انجو کی باتیں سن کر سوکن کی بے بس پر مسکراتی ثمینہ کی نگاہیں التجا کرتیں۔۔۔نہ بولو۔۔۔نہ بولو۔۔۔کچھ نہ بولو۔۔۔کچھ نہ کھولو۔
اس سارے قصے میں موٹی بھد ی برکتے اور اس کا میاں گنگو بہت اہم تھے۔۔۔اس بے رنگ ماحول میں ایک رنگ دار دھبہ تھا گنگو اور وہ بھی سیاہ کالا۔۔۔
گنگو بس پورا گونگا ہونے سے رہ گیا تھا ۔۔۔پورا جملہ پور کہانی ایک دولفظوں میں سمونے کا عادی۔۔۔مالکوں کے آگے بیل کی طرح سر جھکائے رکھتا۔۔۔اپنی بدصورتی بد ہتی کے باعث گھر اور گھر کی عزت کا آئیڈیل محافظ ۔۔۔پردے لگی گاڑیوں کو صرف وہ چلا سکتا تھا ،شاپنگ ،سکول کالج کے لئے خواتین اور بچیوں کو لے جانا اسی کی ذمے داری تھی۔۔۔
دوسری طرف برکتے کی بد صورتی ،دونوں بیویوں کے لئے خطرے کا لال نشان بننے سے قاصر تھی ،سو اندرونی محاذ پر امن تھا ڈاکٹر شانت ۔۔۔مگر دو پلاٹ چھو ڑ کر دائیں ہاتھ والے گھر اور پیچھے والے گھر میں بالترتیب دو اور تین عدد کڑیل نوجوان کی موجودگی کا انکشاف کچھ بے چینی کا باعث بن گیا ۔نئی روشنی کے پروردہ ،انگریزی بولتے،برمودامیں ملبوس،گاڑیاں بھگاتے ہلا گلا کرتے ،یہ کھاتے پیتے گھرانوں کے نوجوان کسی بھی وقت سرخ بتی کا روپ دھار سکتے تھے ۔سو گھر کی تمام کھڑکیوں پر باہر کی جانب سے بھی پکی چقیں باندھ دی گئیں۔دیواروں پر کانٹے دار باڑ لگا دی گئی ۔۔۔ پردے لگی گاڑیوں میں حجاب کے ساتھ ساتھ آنکھوں پر کالے چشمے بھی نصب کرنا ضروری تھے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات کے باوجود ڈاکڑ اکژ بچیوں کی صحت چیک کرنے کے بہانے ان کے چہروں اور آنکھوں کو بغور دیکھتا ۔کسی ڈھکے چھپے راز کی تلاش میں ۔۔۔ مگر حیران مردہ لٹکے ہوئے چہرے اور جھکی ہوئی نظریں اسے مطمئن کردیتیں۔
پھر وہ حسبِ پروگرام ،نچلی اور اوپری منزل پر موجود اپنی مملکتوں کو راج کرنے میں مصروف ہوجاتا۔۔۔بیڈ روم کا دروازہ لاک ہو تے ہی مردہ لٹکے چہروں پر تجسس ناچنے لگتا،آنکھوں میں چمک لہراتی، روبی خوف کی آڑ لے لیتی رابعہ بے نیازی کا پردہ ڈال لیتی ،مگر انجو کا تجسس اور احتجاج اس کی زبان سے بہہ نکلتا ۔۔۔وہ جیب خرچ سے چوری چھپے خریدئے ہوئے موبائل پر نیٹ کھول کر روبی اور رابعہ کو بھی سات جہانوں کی سیر کروانے لگتی ۔۔۔وہ دونوں بھی سہمی سہمی سکرین پر بکھرے رنگوں میں الجھتی چلی جاتیں ۔
گھنٹوں بند دروازے کے پیچھے ان کی پر اسرار خاموشی ماں کو خوفزدہ کرنے لگتی مگر ڈاکڑ اپنی کامیاب حاکمیت کے نشے میں مسکرانے لگتا ۔ انجو کچن کی کھڑکی کے باہر لٹکی چق میں میں بڑے طریقے سے درزیں بنالی تھیں ۔جن کے درمیان فاصلے سے اس کی شعلہ اگلتی آنکھیں دائیں بازو والے گھر کے دو سجیلے نوجوانوں کو دیکھ سکتی تھیں ۔ جو جانے کس دنیا میں مست کبھی کبھار ہی نظر آتے تھے ۔ان کی بھاری مردانہ آوازیں انجو کے جسم میں سنسنی سی بھر دیتے ۔۔۔انجو کا جی چاہتا ان میں سے کوئی ایک۔۔۔ اچانک ہی اسے اپنے کلاوے میں بھرے۔۔
ان کی سمارٹ سی ماں جب پورچ میں کھڑی انہیں چومتی آتے جاتے تو انجو کے سینے میں سانس اٹک سی جاتی اس لمحے اس کی سوچ 
پر بھی سنسر لازم ہوجاتا ۔
نیٹ کے ذریعے چوری چھپے کھلا دریچہ اب ایک بہت بڑا گیٹ بن چکا تھا ۔ہر طرح کی آمد و رفت کے لئے ۔۔۔تینوں بہنیں وقت کی چال اور رفتارکو سمجھ رہی تھیں۔روبی تو انجو کے احسان تلے دبی تھی کہ گھر میں نیٹ کی اجازت نہ ہونے کے باوجودانجو نے اپنے خفیہ موبائل کے ذریعے شاہد سے اس کی ویڈیو چیٹ ممکن بنادی تھی ۔وہ رات گئے کمبل میں دبکی سکرین پر شاہد کے چہرے سے چہرہ ملائے ، اُبلتے جذبات کو ٹھنڈا کرتی رہتی۔اتنے ماڈرن زمانے میں ،اتنے پوش علاقے میں ایسے طور طریقے ،آس پاس کے لوگوں کو ابنارمل لگے ،پھر اپنے کاندھے اُچک کر سب To Hell With کے انداز میں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔
رات گئے کبھی کبھار تمام خواتین ،ڈاکڑ کے ساتھ ڈربے کی مرغیوں کی طرح ٹیرس پر ڈوپٹے لپیٹ کر بتیاں بجھا کر تھوڑی دیر کو ہوا خورری کے لئے آتیں۔۔۔یوں جیسے مچھلیاں سانس لینے کو سطح آب پر ابھرنے اور پانی میں غوطہ لگانے کے عمل میں ہوں۔
ان چند لمحوں کے دوران بھی ،دبی دبی ،خوف زدہ آوازیں ،پر اسرار سکوت کو توڑنے میں ناکام رہتیں سو اندھیرے کی خاموشی میں چند سسکتی سانسوں کا اضافہ کرکے وہ پھر پردوں اور دیواروں میں چھپ جاتیں۔
بقول انجو ’’بھیڑ بکریوں جیسی ڈروعورتوں کے اس گلے میں صرف انجو ہی میں ’کالی بھیڑ‘ بنے کے جراثیم واضع مقدار میں موجود تھے کبھی کبھار تو وہ جھنجھلا کر برکتے کی خوش بختی پر ناز کرتی ۔برکتے کو چق کی درزوں سے مالی اور دوسرے نوکروں سے باتیں کرتے ،ہنستے دیکھ کر وہ روبی اور رابعہ کو بھی بولا لیتی ۔
’’ دیکھو کتنے مزے سے گپیں لگا رہی ہے ۔۔۔آزاد پرندے جیسی ۔۔۔کاش میں برکتے ہی ہوتی‘‘
یہ سن کر رابعہ کی غنودگی بھری آنکھیں لمحے بھر کو اُبلتیں اور پھر کہیں ڈوب جاتیں ۔وہ ہونٹ بھینچ کر وہاں سے کھسک جاتی۔
روبی مسکرانے لگتی کہ شاہد سے طویل گفتگو کے سلسلوں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ گنگو کا اشارہ پاتے ہی برکتے کیوں سارے کام ٹال کر چپکے سے سرونٹ کوارٹر کی راہ لیتی ہے ۔
ایک دن رابعہ آخربول پڑی ’’ انجو گنگو کو دیکھ کر برکتے کی آنکھیں چمکیں یا وہ اس کے پیچھے سرونٹ کوارٹر میں جائے تمھیں کیا مسئلہ ہے؟
رابعہ تڑپ کر بولی ’’ ہر طرف تو مسئلہ ہے اوپر نیچے آگے پیچھے ۔۔نیٹ پر ،موبائل پر۔۔۔اور ہاں تم بی بی حاجن رات چپکے چپکے کس سے باتیں کر رہی تھیں میرے موبائل پر ‘‘ رابعہ صاف مکر گئی ’’ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے ۔۔۔روبی ہوگی شاہد بھائی کے ساتھ‘‘ اور وہاں سے کھسک لی۔۔۔تب انجو رُخ روبی کی جانب موڑ دیتی گفتگو کا ’’ سچ بتاؤ شاہد بھائی کے ساتھ باتیں کرتے وقت تمھیں کیا لگتا ہے ؟ ویسا ہی جیسا ۔۔۔جیسا ۔۔۔۔‘‘ پھر جب چپ کر جاتی ۔۔۔روبی واش روم میں اپنے جسم کے کرنٹ کو ختم کرنے کے لئے منہ پر یخ پانی کے چھنٹے مارنے لگتی۔
انجو اپنے آنچ دیتے جذبوں اور جسم کو بہلانے کے لئے برکتے کا سہارا لیا ۔۔۔کمر پر خارش کے بہانے دن میں کئی کئی بار برکتے کے کالے بھدے نرم ہاتھ ،انجو کی کمر سہلاتے ۔رفتہ رفتہ انجو کو نشہ سا ہونے لگا برکتے کے ہاتھوں کا ۔ماں نے کئی بار معائنہ کیا مگر نرم و ملائم کمر پر نہ دانے تھے نہ خشکی ۔۔۔بس بر کتے کے ہاتھوں کی رگڑ کی وجہ سے سرخ سرخ دھاریاں تھیں۔
جانے رابعہ ایسے موقع پر کیوں غنودگی سے بھر ی آ نکھوں سمیت کسی کونے کھدرے میں غائب ہوجاتی ۔۔۔خارش سیشن کے دوران انجو اور برکتے کے درمیان معمول سے ہٹ کر بھی گفتگو ہونے لگی ،برکتے اپنے بچپن لڑکپن کے قصے ،گاؤں کے معاشقے ،کھیتوں میں ملاقاتوں اور شادیوں کی رودادیں بھی چسکے لے لے کر سنانے لگی ۔۔۔ان کہانیوں میں پراسراریت تھی۔۔۔ملغوف رومانی کہانیاں جسم و جاں کی فتوحات کے قصے ،نیٹ کی کھلی ولی تصاویر سے بہتر لگنے لگے۔
رابعہ کبھی کبھار ناگواری سے دونوں کو دیکھتی اور کروٹ بدل لیتی ایک دن انجو نے شراتاََپوچھ لیا’’ برکتے اتنے کالے دیو ،حبشی جیسے گنگو کے ساتھ کیسے۔۔۔؟
برکتے کے کالے رنگ میں گلابی رنگ کی پچکاری سی چلی۔۔۔باجی جی مرد کا پیار ،رنگ روپ کا محتاج نہ ہووے جی ۔۔۔یہ تو سانپ کے ڈنگ جیسا ہووے جی ۔۔۔۔زہر کے نشے جیسا‘‘
انجو کے بدن پر سانپ رینگنے لگے ۔۔۔رابعہ چادر تلے کانپنے لگی۔۔۔اسے خیال آیا ۔۔۔باپ اوپری منزل میں ہوتا ہے تو ماں بولائی بولائی پھرتی ہے ۔۔۔باپ نیچے ہو تو اوپر چیزوں کا پٹخنا اور چلانا بڑھ جاتا ہے ۔
برکتے کے خارشی اور مالشی سیشن لمبے ہوتے گئے ۔انجو کے لئے برکتے کے ہاتھ سیاہی چوس بن گئے ۔اس کی ضد ،گفتگو کی کڑواہٹ ،بغاوت کا زہر ۔۔۔برکتے کے ہاتھ چوسنے لگے ۔۔۔دھیرے دھیرے ۔۔۔دیر دیر تک!
ماں نے سُکھ کا سانس لیا۔ڈاکڑ کی عدم موجودگی میں وہ کئی بار اب حنا کے ساتھ اپنے بھائی کے ساتھ شاپنگ وغیرہ کو چلی جاتی کہ گنگو بچیوں کو لانے لے جانے پر مامور تھا۔
لیکن سمندر کی پرسکون سطح کے نیچے جوار بھاٹے اُبل رہے تھے ۔۔۔جلد ہی سونامی آگیا ۔۔۔۔ماں نے منہ لپیٹ لیا۔۔۔بات انجو کی ہوتی تو ۴۴۰ واٹ کا کرنٹ نہ لگتا ۔۔۔یہ تو رابعہ تھی ماں نے گنہ گار کا نام پوچھا ۔۔۔رابعہ ٹک ٹک غنودگی لئے آنکھوں میں دیکھتی رہی ۔برکتے کی طلبی ہوئی ۔۔۔اسے کچھ خبر نہ تھی ۔۔۔۔سب کو سختی سے منع کردیا گیا کسی کے منہ سے بات نہ نکلے۔۔۔
آخر مارپیٹ کے بعد رابعہ نے گنگو کا نام لے ڈالاکہ شہرِنارسائی تک اسی بھدے کالے بے ڈھنگے گنگو کی رسائی تھی ۔Beauty of Beast کا خیال شاید کسی ایسی گھٹن زدہ فضا کے کسی کھلے دریچے سے نکلا ہوگا۔
پردہ دار عورت کہاں جاتی ۔۔۔کئی بار اوپر کی سیڑھیاں چڑھی اتری۔۔۔۔آخر ہمت کر کے حنا کے پاس جا بیٹھی ۔۔۔اسے مشترکہ شوہر کی عزت کا واسطہ دیا ۔۔۔حنا نے طعنہ دینے کو منہ کھولا تو ثمینہ نے اس کے گھنٹوں پر ہاتھ رکھ دئیے’’حنا یہ طعنوں کا وقت نہیں۔۔۔رابعہ اور سونی کی رگوں میں ایک ہی باپ کا خون دوڑ رہا ہے کل کلاں۔۔۔‘‘ حنا نے بات کاٹ کر مدد کا وعدہ کرلیا ۔
ڈاکڑ نے چند دن کراچی جانا تھا ،اس کی غیر حاضری میں رازداری کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کا سوچا گیا۔آخر حنا کی نرسنگ کام آنے والی تھی۔۔۔۔فلائیٹ کینسل ہوگئی ۔۔۔ڈاکڑ اچانک گھر پلٹ آیا ۔کاروائی جاری تھی ۔۔۔ڈاکڑ کو ائرپورٹ چھوڑنے کے بعد چابی مالی کے حوالے کر کے گنگو بیوی سمیت غائب ہو چکا تھا ۔گھر کی عزت کا جنازہ۔۔۔۔ڈاکڑ کے کاندھوں پر رکھ کر۔۔
اور وہ جو بدصورت بھدا گنگو کو گھر پر رکھ کر مطمئن تھا ،سر پکڑ ے اب سوچ رہا تھا کم بخت بہتر شکل و صورت کا ہوتا تو کوئی نہ کوئی خاندانی پیوند لگا کر ٹاٹ کے ٹکڑے کو مخمل بنا دیتا۔۔۔پر اب رابعہ کو زہر کا ٹیکہ لگا دوں یا خود زہر پی لوں؟ 
تبھی وہ رابعہ ۔۔۔جس کی آنکھیں روشنی میں پوری کھل نہیں پائی تھیں ۔۔۔چیختی چلاتی اندر سے برآمد ہوئی ۔۔۔پیچھے پیچھے بوکھلائی ہوئی ثمینہ اور حنا۔۔۔
رابعہ نے شعلہ اگلتی آنکھوں سے باپ کو دیکھا اور سینے پر دوہتر مارتے ہوئے بولی ’’ خبردار جو میرے بچے کو مارنے کی کوشش کی کسی نے۔۔۔۔
گھر میں کسی مرد کو آنے تو دو ۔۔۔۔چاہے وہ گنگو کی ہی اولاد ہو ‘‘
دھڑدھڑ دھڑ ڈاکڑ پر دیواریں اور چھت گرنے لگی تھیں۔
۔۔۔۔۔ ختم شد۔

جُولاہَن: ممتاز شارق، جمشیدپور

  جُولاہَن

  ممتاز شارق، جمشیدپور

                      پروفیسر رضیہ بیگم کواپنے اکلوتے بیٹے شاہد علی کے لئے ایک عرصہ سے جس لڑکی کی تلاش تھی وہ انہیں کے ویمنس کالج کے ایک سمینار کے دوران مل گئی۔ انکی متلاشی نگاہیں بی اے فائنل کی غزالہ بانو پر ٹک گئیں۔ غزالہ بانو کی تنظیمی صلاحیت، گروپ لیڈرشِپ کی اعلیٰ کوائلیٹی کے ساتھ ساتھ اسکی تقریر اور تحریر سے وہ بہت متاثر ہوئی تھیں۔انہیں جب معلوم ہوا کہ ٹاٹا اسٹیل کے چیف انجینئر سیّد امتیازالحسن کی یہ تیسری بیٹی ہے تو انہیں اور بھی تعجب ہوا کیوں کہ انکے گھر پرسیّد صاحب کی دونوں بڑی بیٹیوں کا رابیعہ کے ساتھ آنا جانا رہتا تھا۔ یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ غزالہ سے چھوٹی اُسکی دو اور بہنیں بھی ہیں۔ پانچ سال قبل جب غزالہ کی دوسری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی تو اُس وقت غزالہ غالبا ہائی اسکول کی طالبہ رہی ہوگی۔ ابھی تو ماشاء اللہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اتنی ذہین اور ہونہار ہے کہ بس اسے ہی لاکھوں میں ایک کہا جا سکتا ہے۔
                     گھر آتے ہی رضیہ بیگم نے اپنے شوہر پروفیسرعابد علی انصاری سے غزالہ کے متعلق تمام جانکاریاں شیئر کرتے کرتے اچانک رک گئیں اورایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہنے لگی ” پتا نہیں سیّد امتیاز الحسن صاحب اور ا نکے اہل خانہ کو غزالہ کا رشتہ ایک انصاری فیملی میں منظور ہوگا کہ نہیں۔؟ “ گلاس کا ادھا پانی پینے کے بعد عابد علی کہنے لگے.
                      آپ کا اندیشہ بجا ہے۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ امتیازالحسن کی پہلی بیٹی پٹنہ میں اپنے ہی کسی رشتہ دار کے یہاں بیاہی گئی ہے۔ دوسری بیٹی کی شادی جمشیدپور میں ایک خان برادری میں ہوئی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرے اکلوتے اور ہونہار انجینئربیٹے کے رشتے کو وہ لوگ منظور نہ کریں۔۔۔“ خالی گلاس میں شیشے کے جگ سے پانی اُنڈیلتے ہوئے رضیہ بیگم اپنے موضوع پر واپس آتے ہوئے کہتی ہیں۔ ”بات یہاں شیخ، سیّد، صدیقی یا خان کا نہیں بلکہ اصل معاملہ انصاری کا ہے۔ تقریباسبھی برادریوں کا کسی نہ کسی طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ شادی بیاہ کارواج عام ہے۔ شیخ کے ساتھ سیّد یا صدیقی، شیخ کے ساتھ خان، مگر انصاریوں کی شادیاں غیر انصاریوں میں شاز و نادرہی دیکھا گیا ہے چند ایک کو چھوڑ کر۔ اسلئے مجھے تشویش ہو رہی ہے۔“
                        اپنی عینک کو ناک پر جماتے ہوئے پروفیسر عابد علی بالکل نرم لہجہ میں کہنے لگے۔”بس، اتنی سی بات پر آپ پریشان ہو رہی ہیں۔ رشتے تو آسمان پر طئے ہو چکے ہوتے ہیں۔ بس ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔آپ نے تو تمام عزیز واقارب کے گھروں کو اچھی طرح جھانک لیامگر کہں بھی کوئی لڑکی پسند نہیں آئی۔ اگر شاہد کے ساتھ غزالہ کا نام من جانب اللہ طئے شدہ ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ رشتہ ڈھونڈنے کا جو سلسلہ آپ کا ایک سال سے چل رہا ہے اُس مہم کو مزید جاری رکھتے ہیں۔ کیوں کہ رمضان المبارک کا چاند دس یا گیارہ دنوں کے بعد دیکھنے ہی والا ہے اورآپ کے لاڈلے کی فلائٹ پندرہ رمضان تک ممبئی کے شیواجی ائیر پورٹ پر پہنچنے والی ہے۔ اس سلسلے میں آج ہی شام کو امتیاز الحسن سے بات کرتے ہیں۔“کہتے ہوئے پروفیسر عابد علی اپنے کمرے کی طرف چل پڑے۔
                     دوپہر کے کھانے کے دوران ڈائنگ ٹیبل پررضیہ بیگم کی خاموشی میں چھپے نا اُمیدی کو بھانپتے ہوئے عابد علی نے کہا کہ ”میڈم آپ کالج میں لڑکیوں کو ہسٹری پڑھاتی ہیں۔ورلڈ ہسٹری کے باب میں اسلامی تواریخ سے بھی آپ کو بخوبی واقفیت ہوگی کہ رحمت العالمین حضور اکرم ﷺ قبیلہ قریش کی معزز ترین شخصیت، اعلیٰ حسب نسب کے باوجود حضور ﷺ کی کئی ازواج مطہرات غیر قریش اور غیر قبیلے سے تھیں۔ آپؐ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کا نکاح اپنے غلام زید بن حارثہ سے کروایا۔“
رضیہ بیگم ڈائنگ ٹیبل پر خالی ڈِشیز کو سمیٹتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہنے لگیں۔ ” ہاں، ہاں مجھے ہی کیا؟ساری دنیا بخوبی جانتی ہے کہ مذہبِ اسلام ذات برادری، اعلی و ادنیٰ،حب نسب اور جغرافیائی حدود کو توڑتے ہوئے عالمی برادری کو انسانیت کا درس دیتا ہے۔ تقویٰ کی بنیاد پر انسان کی برتری اور عظمت قائم کی گئی ہے۔ لیکن موجودہ مسلم معاشرہ میں عملی طور پرجو کچھ عام ہے،اس سے بھی آپ بخوبی واقف ہیں۔“ اتنا سنتے ہی پروفیسر عابد علی اپنی بیگم کو سمجھاتے ہوئے کہنے لگے۔”بیگم آپ کا کہنا اپنی جگہ درست ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ ہی کی طرح سوچتے ہیں۔امتیاز الحسن کو میں اپنے کالج کے زمانے سے ہی جانتا ہوں۔ کُھلے ذہن کا ہوتے ہوئے بھی صوم و صلاۃ کا پابند۔سچ کہا جائے تو میری نماز کی پابندی ا نکی صحبت کی دین ہے۔ بی ایس سی،ہم دونوں نے ایک ہی کالج سے کیا اسکے بعد میں علیگڑھ، ایم ایس سی کرنے چلا گیا اور وہ بنگلور سے انجینئرینگ کرنے کے بعد ٹاٹا اسٹیل میں ملازم ہوگئے اور میں لکچرار بن کر چند برسوں بعد آپ کے کالج میں آگیا اسکے بعد آپ میرے ساتھ ہمارے گھر آگئیں۔۔“ اتنا سنتے ہی رضیہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ کے کئی جلترنگ بکھرگئے۔
غزالہ بانو اور شاہد علی کی شادی کے موضوع پرسیّد امتیاز الحسن و انکی اہلیہ ارجمند بانوکے ساتھ پروفیسر رضیہ بیگم و پروفیسر عابد علی کی پہلی میٹنگ میں ہی شک وشبہات کے بادل چھٹ گئے اور اس کے بعد دوسری میٹنگ سے خلوص و اعتماد کے موسم کا آغاز ہوگیا۔رضیہ بیگم کے تمام تر منفی خیالات خاص کر امتیاز الحسن کے اس جملے سے ” میرا تو ماننا ہے کہ نام سے پہلے یا نام کے بعد جوٹائٹل چپکائے جاتے ہیں اسکا استعمال بالکل ختم ہونا چاہئے۔ اس سے ایک وسیع اور مستحکم مسلم معاشرہ کی تشکیل ہوگی۔“ دوہفتے کے بعد بات پکّی ہوگئی اور عید کے پانچویں دین یعنی ۰۲/ اگست کو بغیر لین دین کے شادی کی تاریخ طئے پا گئی۔ نہایت ہی سادگی اور نفاست سے بعد نماز عصر جامع مسجد میں قاضی شہر نے نکاح پڑھایا اورتیسرے دن پروفیسر کالونی میں طعام ولیمہ کا شاندار اہتمام کیاگیا۔ شہر کے سبھی باشعور، تعلیم یافتہ سماجی و سیاسی حلقے اوردانشور ان شہر کی جانب سے دونوں خاندان والوں کی بہت بہت پزیرائی ہوئی اور کئی دنوں تک مقامی اخبارات میں اس شادی کا خاص چرچا رہا۔ خودساختہ اونچ نیچ، اعلیٰ ادنی اور برتری کی ساری فرضی دیواریں مسمار ہو چکی تھیں۔
اس شادی سے سب سے زیادہ خوشی پروفیسر رضیہ بیگم کو ہوئی کیونکہ غزالہ بانو اُنکی پہلی پسند تھی۔شادی کی خوشیوں کے ماحول میں دونوں گھرانے اس قدر شرابور تھے کہ گذرتے وقت کا احساس بھی نہیں ہو پایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا۔
آج شاہد علی کی روانگی کا وقت بھی آگیا۔ غزالہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ آنکھیں سوج گئیں تھیں۔شاہد نے اپنے والدین و اقارب کی موجودگی میں غزالہ کو سعودی بلوانے کے لئے بہت جلد ویزہ بھیجنے کا وعدہ کیا۔ اس پر اس کے دوست و احباب اپنے اپنے طور پر ریمارکس دے رہے تھے۔ ”واہ یار بچپن کی یاری کے لئے کچھ بھی نہیں اور بھابھی کے لئے ابھی سے ویزہ۔۔“ دوستوں کی ہنسی مذاق کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ اچانک ریلوے انکوائری کاونٹر سے ٹرین کے متعلق اعلانات نشر کرنے والی خاتون کی آواز اسپیکرس کے ذریعہ بلند ہوئی ”یاتری گن دھیان دیں، ممبئی جانے والی گیتانجلی ایکسپریس اپنے نردھاریت سمئے سے چالیس منٹ ویلم سے چل رہی ہے۔چھ بج کرپندرہ منٹ پر پلیٹ فارم نمبر ایک پر آنے کی سمبھاونا ہے۔“
اتنا سنتے ہی پلیٹ فارم پر موجود سبھی لوگوں میں ایک عجیب ہلچل سی مچ گئی۔ اور آخر وہ گھڑی آ ہی گئی جس کابے چینی سے انتظار تھا۔ گیتانجلی ایکسپریس رینگتی ہوئی پیلٹ فارم نمبر ایک پر آکر رکی۔ جانے والے مسافر اپنے اپنے کمپارٹمنٹ میں جانے کی کوشش میں اُترنے والے مسافروں سے دَھکّمُ دِھکّا کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے تھے۔ کیوں کہ ٹاٹا نگر اسٹیشن پر صرف پانچ منٹ کا وقفہ تھا۔ دوستوں کی مدد سے شاہد کسی طرح ایک بیگ لیکر اپنے ریزرویشن کوچ میں داخل ہوا کہ سیٹی بجاتی ہوئی ٹرین پلیٹ فارم پر سرکنے لگی۔ آہستہ آہستہ رفتار پکڑتی ہوئی ٹرین کی کھڑکیوں کے قریب سے مسافر ہاتھ ہلا ہلا کر بائی بائی کہہ رہے تھے اور انکے متعلقین نم آنکھوں سے الوداع کہتے ہوئے، مرجھائے چہرے لئے اسٹیشن سے باہر نکل رہے تھے۔
اسٹیشن سے باہرنکلتے ہی شاہد کو الوداع کرنے والے عزیز و اقارب اپنی اپنی سواریوں کی طرف چل پڑے۔رضیہ بیگم کا ڈرائیور بھی
کار لیکر اُنکے سامنے آگیا۔ لیکن غزالہ اپنے والدین کے ہمراہ اُنکی کار کی طرف یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ ”میں اپنی ممی کے گھر جاؤ نگی اور ۔۔“یہ سن کررضیہ بیگم کو عجیب سا لگا وہ لپک کر اُس کے سامنے آئی اور کہنے لگی۔
”بیٹا میرے ساتھ ابھی اپنے سسرال چلو، گھر پرمہمان موجود ہیں، تمہارا انتظار ہو رہا ہے۔ایک دو روز بعد اپنے میکے چلی جاؤگی۔ لیکن ابھی تمہارا میرے ساتھ جانا ضروری ہے۔“ اتنا سننا تھا کہ غزالہ کا غصّہ ساتویں آسمان پر آگیا اور اخلاق و تہذیب کے تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے اُونچی آواز میں جواب دینے لگی۔ ”۔۔ میں آپ کے بیٹے کی بیوئی ہوں، جوٹھے برتن مانجھنے، جھاڑو اور پوچھا کرنے والی خادمہ نہیں۔میرا شوہر جب آئیگا تب میں سسرال جاؤنگی۔میں ایک سیّد گھرانے کی بیٹی ہوں کوئی جُولاہن نہیں۔“
اتنا سُنتے ہی رضیہ بیگم کو ایسا لگا کہ گویا اُسکا سارا وجود شیشے کے مجسمہ کی طرح ایک جھٹکے سے گر کرچور چور ہو گیا ہو۔
٭٭٭٭٭
mumtazshariq435@gmail.com
mobl: 09234783928, 8292452445

نوٹ؛ مورخہ26/ اکتوبر2014  کو ا دارہ ادب اسلامی، جمشید پور کے زیر اہتمام رانچی سے تشریف لائے نامور ناقد و محقق ڈاکتر احمد سجّاد کے اعزاز میں ایک ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں یہ افسانہ پڑھا گیا اور حاضرین نے اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔

آخری پرواز : مہتاب عالم پرویزؔ ( کویت ) AAKHRI PARWAZ – MAHTAB ALAM PERVEZ

   

            آخری پرواز 

              مہتاب عالم پرویزؔ  ( کویت )                         

 

 

                ٭بجلیاں کوند رہی تھیں۔ کبوتر کا ایک خوبصورت جوڑا کسی گھونسلے کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ شام رات میں تبدیل ہوچکی تھی۔ اندھیرے کی گھنی چھاؤں اور خاموشی!

                وہ دونوں کافی سہمے ہوئے تھے۔ اور اپنے بکھرے ہوئے گھونسلے میں اپنی اپنی گردن سکوڑے مستقبل کے سنہرے خواب بن رہے تھے۔ بھوک اور پیاس کی شدّت سے وہ نڈھال ہورہے تھے۔ دونوں پژمردہ سے، خاموشی کی چادر میں لپٹے، چونچ سے چونچ ملائے ایک  دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے، اُن کے چہروں پر بیک وقت غم، پریشانی اور خوشی کے جذبات ہلکورے لے رہے تھے۔

               گھپ اندھیرا— رات کا سنّاٹا، اور رات بھی خود اپنی ہیبت سے سہمی ہوئی تھی۔ ویران درختوں کی شاخوں سے لٹکی ہوئی چمگادڑیں ماحول کی نحوست میں اضافہ کررہی تھیں۔ کبھی کبھی اِس ہولناک سنّاٹے میں بہت سارے پرندوں کے پر پھڑپھڑانے کی آوازیں خاموشی کا سینہ چاک کردیتیں۔

               رات کالامتنا ہی اندھیرا اپنے جو بن پر تھا۔ کہیں دُور مسجدوں سے ’اللہ اکبر‘ کی صدائیں اور مندروں میں بجتے ہوئے ناقوس کی ملی جلی آوازیں ایک ساتھ اُبھر رہی تھیں۔ چہچہاتی ہوئی چڑیوں کا شور تھم چکا تھا۔ شاید وہ بھی احترامِ خداوندی میں چپ ہوگئی تھیں۔ بس ہَوا سے سرسراتے ہوئے پتوّں کی کھڑکھڑاہٹ جاگ رہی تھی اور ایسا گمان ہورہا تھا جیسے پتےّ گنگنارہے ہوں۔

                وقت گزرا، اور سورج کی کرنیں بیدار ہوگئیں۔ درختوں کی اوٹ سے نکلتا ہوا سُورج، ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے ابھی ابھی وہ اس معصوم دھرتی (جس کی پاکیزگی کو انسانی درندوں نے خون کے دھبّوں سے داغدار کردیا) کا سینہ چیر کر باہر آیا ہو—

                سورج کی کرنیں ان کے بکھرے ہوئے گھونسلے میں درآئیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اور ایسا گماں ہورہا تھا جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ آج کا یہ سورج ہم دونوں کے لیے نئی زندگی کا نیا پیغام لے کر طلوع ہوا ہے۔ سورج کی کرنیں پھیل رہی تھیں — پھیلتی رہیں — انھیں سب کچھ عجیب مگر انتہائی خوشگوار لگ رہا تھا یہ نئی زندگی کا پیغام— یہ نئے آشیانے— سب کچھ نیا تھا— آنسوؤں کے دو موٹے قطرے ایک کے رُخساروں پر ڈھلک آئے اور ایک نے اپنی چونچ میں ان آنسوؤں کو سمولیا، اور بڑے ہی پیار بھرے انداز میں کہا۔ ”یہ آنسو زمین میں جذب ہونے کے لیے نہیں، بلکہ میرے وجود میں جذب ہوجانے کے لیے ہیں۔ تم رو کیوں رہی ہو آج تو خوش ہونا چاہیے تم اتنی جلدی گھبراکیوں گئیں — اس طرح نہیں رویا کرتے پگلی، دیکھو آج کا سورج ہم دونوں کے لیے تو طلوع ہوا ہے۔“اور پھر اُن کے درمیان خاموشی کی چادر تن گئی۔

            ”کیا سوچ رہے ہو“—؟

            ”سوچ رہا ہوں، مَیں تو اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا کہ تم اچانک اُجالا بن کر آگئیں مجھے جینے کی نئی اُمید مل گئی، نیا سہارا مل گیا اتنے قریب آکر کہیں تم مجھ سے بہت دُور نہ ہوجاؤ۔“

            ”وہ دیکھو سورج کی کرنیں جب اُن برفیلی چوٹیوں پر پڑتی ہیں تو برف پگھل کر ندی کا رُوپ لے لیتی ہے پھر وہ پہاڑوں، جنگلوں، اور میدانوں کا سینہ چیر کر سمندر کی گود میں جذب ہوجاتی ہے، مَیں بھی اُسی ندی کی طرح ہوں، دیکھنا ایک دن تمھارے پیار کے سمندر میں سما جاؤں گی۔“

            ”کہیں —!“

            ”—“

            ”بات کیا ہے؟ مجھ سے ناراض ہو کیا؟ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہوتو معاف کردو!“

            ”نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔“

            ”پھر گم صُم کیوں ہو، بات کیا ہے؟“

            ”دراصل مجھے جانا ہے— نامعلوم منزل کی اور…“

            ”ایک تو جانے کا کہہ رہے ہو اور دوسرے گم صُم اور اُداس، کوئی تم زندگی بھر کے لیے تو نہیں جارہے ہو— تم کوئی انسان نہیں کہ بے وفا نکلو، مجھے تمھارے وعدے پر اعتبار ہے۔“

            دِنوں کے گننے میں دیر ہُوا کرتی ہے— اُن کے بیتنے میں نہیں۔

            مگر اُن میں سے ایک کو کچھ ایسا لگ رہا تھا کہ اِس جمع تفریق میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔

            جن راستوں پر کبھی وہ دونوں اُڑے تھے اب ان پہ صرف ناکام تمنّاؤں کی اُڑتی ہوئی خاک تھی— کافی بلندی پر وہ دونوں اُڑاکرتے تھے، اُڑتے ہو ئے  گردو غبار سے اُن کا چہرہ اَٹ جایا کرتا تھا— سورج کی گرم چلچلاتی اور تیر چلاتی ہوئی دُھوپ سے اُن کا بُرا حال ہوجایا کرتا تھا۔

            اور اس کے بعد ہی انھوں نے دیکھا آکاش میں منڈلاتے ہوئے ایک باز کو، باز کی کینہ توز نظریں ان کے سارے وجود کو تھرتھرادیتیں۔ ان کے دِلوں پر ایک عجیب سا خوف طاری ہوجاتا اور اُن کا یہ خوف واجب بھی تھا۔ آب و دانہ کی تلاش سے تھک کر کئی شاموں کے بعد وہ اجنبی منزلوں سے نااُمید سا لوٹ آنے سے بے حد خوش تھی۔ بھوک پیاس سے نڈھال مگر خوشیوں کے جذبات سے سرشار—

            انھیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہے۔ باز کی چمکتی ہوئی آنکھیں لگاتار انھیں گھورتی رہیں۔

            اُنھوں نے برسات آنے سے پہلے ہی اپنا آشیانہ بنالیا اور پھر— اچانک جنگل میں خوشی کی لہر دَوڑ گئی، کبوتری نے انڈے دِیے اور ہوائیں گنگنا اٹھیں اور پتیوں کی پُراسرار سرسراہٹ انھیں باز کی آنکھوں کی چمک کی یاد دلاتی رہی اور وہ دونوں اُداسی کے سمندر میں ڈوبنے اُبھرنے لگے۔

            رات کی گھنی چھاؤں — سورج کی گرم دُھوپ—  شام کا دُھندلکا— بارش کا شور اور پھر ایک لامتنا ہی سنّاٹا— اور پھر تمام مناظر دُھواں دُھواں ہوگئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کبوتری کے انڈے اپنے آخری مرحلے میں تھے، ایک چھوٹا سا خاندان بننے ہی والا تھا کہ—

 

            کبوتر کہیں گیا ہوا تھا— آب و دانہ کی تلاش میں۔ جب وہ لوٹا تو اُسے کچھ عجیب سا لگا، انڈے پھوٹے پڑے تھے، کبوتری کا بھی کہیں پتہ نہ تھا۔ نامکمل چوزے خون میں لت پت اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس دُنیا کا مذاق اُڑاتے لگ رہے تھے۔ شاید وہ کہہ رہے تھے کہ اس دنیا کا دستور ہی یہی ہے— یہاں زندگی کی کوئی قیمت نہیں اور موت بڑی سستی ہے— ایک دلدوز چیخ اس کے اندر ہی گھٹ کر رہ گئی، وہ  ُکھل کر نہ چیخ سکا، کہ اُسے ڈر تھا باز یہیں کہیں چھپا بیٹھا ہوگا۔ پھر وہ اُڑا ایک جگہ کبوتری کے پَر بکھرے ہوئے نظر آئے، وہیں پر کبوتری بھی خون میں شرابور تڑپ رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں سے گرم گرم آنسو اُمڈ پڑے۔ اس نے کبوتری کا زخمی سر اپنی گود میں لے لیا۔

            ”مَیں اپنا وعدہ نہیں نبھا سکی مجھے معاف کردو۔“ کبوتری اتنا ہی کہہ سکی۔

            اب کی بار کبوتر کے منہ سے چیخ نکل کر ساری کائنات پر پھیل گئی۔اُس نے سر اُٹھاکر آسمان کی جانب دیکھا، بے رحم باز بڑے ہی شاہانہ اندازمیں پرواز کررہا تھا۔اُسے لگا باز اُس کے گھر میں آگ لگاکر اُس کی نسل کو ختم کرکے اُس کا مذاق اُڑارہا ہے—

            اور پھر نہ جانے کہاں سے اس میں اتنی طاقت آگئی کہ وہ اپنے پر پھیلائے باز کی اور جھپٹ پڑا— باز کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی مگر یہ دیکھ کر اُس کا دل خوف سے کانپ گیا کہ کبوتر کی پشت پر اب جنگل کے سارے پرندے موجود ہیں۔ ظلم وستم کی داستان کا شاید اب اَنت ہونے والا ہے۔

 

                                                           ()()()()()

 

            مہتاب عالم پرویزؔ   (  کویت  )                      

                       

 

 

 

 

 

 

 

گزرے موسم کی تپش : ترنم جہاں شبنم ۔ دہلی

      گزرے موسم کی تپش
      ترنم جہاں شبنم ۔ دہلی

      ’’میں کب سے تمہارا منتظرتھا شفّو! آج مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ تم میرے سامنے کھڑی ہو۔‘‘ خوشی سے کھلکھلاتی سامنے کھڑی لڑکی سے یہ کہتے ہوئے لڑکے نے اپنی بانہیں پھیلاکر اسے خوش آمدید کہا ۔ لڑکی دوڑ کر اس کی باہوں میں جھول گئی۔ میں جو مراقبوں میں رہنے کی عادی ہو چکی ہوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اپنے ماضی کے بھنور سے باہر آئی تھی۔ اور اب اس منظر پہ غش کھا کر پیچھے گرنے کو تیار تھی مگر اس سے پہلے ہی میں نے خود پہ قابو پا لیا تھا۔ ان کھنڈروں میں جہاں انجانے سکون کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کی بھیڑ ہے ۔ جس میں ایک طرف ایک دوسرے سے سر جوڑے محبت کو ایک نیا عنوان دیتے جوڑے ہیں۔ جو جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں اور بھیڑ میں بھی تنہائی ک کا احساس لئے اپنی دنیا میں مست ہیں ۔ اور سکون محسوس کر رہے ہیں۔ تو وہیں دوسری طرف مجھ جیسے بیچین لوگ بھی ہیں۔ جو بھیڑ اور تنہائی دونوں کے شور سے پریشان ان کھنڈرات میں بھٹک رہے ہیں ۔ میں اکثر ہی سکون کی تلاش میں بے سکون ہونے میں یہاں آتی ہوں۔ بڑا گہر ا اور پرانا رشتہ ہے میرا ان کھنڈرات اوراس ویرانے سے ۔ ماضی کی ورق گردانی کرتے ہوئے اکثر میں کانوں پہ لگے ایئر فون پہ غلام علی ،جگجیت سنگھ کی غزلیں یا کبھی رفیع، لتا کے نغمے سنتے ہوئے گھنٹوں اپنا وقت یہاں گزارتی ہوں اور ورق ورق بے سکون ہوتی ہوں ۔ یہاں بیٹھے ان جوڑوں سے مجھے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی کبھی کوئی مجھے اپنی طرف موتوجّہ کرسکا۔ مگر اس جوڑے میں ایسا کچھ تھاکہ جو میری توجہ کا مرکز بن گیا۔ ماضی کے کبوتر نے پھر میرے سر پہ پھڑ پھڑانا شروع کیا تھا،گھبرا کے میں نے اپنا سارا ذہن ان دونوں کی طرف لگا دیا ۔ 
      ’’ شفّو مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے پاس آ گئی ہو ، کبھی نہ جانے کے لئے۔ اُف کتنا تڑپا ہوں میں تمہارے لئے ۔ معلوم ہے مجھے میلوں کے فاصلوں نے نہیں سرحدوں کے فاصلوں نے تڑپایا ہے۔ میلوں کے فاصلے تو میں نے نا جانے کب کے عبور کئے ہوتے مگر اس سرحد کا کیا کرتا؟‘‘ آخری جملہ گہری سانس لیتے ہوئے اس نے کہا ۔ پھر وہ بار بار لڑکی کو چھو کر اس کے ہونے کا یقین کرنے لگا ۔ خوشی کی کرنیں دونوں کے چہرے سے پھوٹ رہیں تھیں ۔ ایک دوسرے کی بانہوں میں سما ئے دونوں اپنی اپنی محبت کا ا ظہار کر رہے تھے۔ ’’ شفّو میں تمہارے حوصلے کو سلام کرتا ہوں جو تم نے اتنا بڑاقدم اٹھایا۔‘‘ ’’یہ میرا حوصلہ نہیں منیر تمہاری محبت ہے جس نے مجھے اتنا بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ورنہ مجھ میں اتنی ہمت کہاں؟ ‘‘ لڑکی کے اس جواب پہ لڑکے نے اسے اپنے اور نزدیک کر لیا تھا ۔ اب لڑکی کبھی لڑکے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس کی آنکھوں کو چومتی تو کبھی لڑکے کے ہاتھوں کو چوم کر اپنی آنکھوں سے لگاتے ہوئے گہرے سکون کا احساس کرتی۔ کبھی لڑکا لڑکی کی پیشانی اور آنکھوں کو چومتا۔ کتنی ہی دیر دونوں یقین اوربے یقینی کے بیچ گھرے ایک دوسرے کو چھو کر ایک دوسرے کو خود کے ہونے کا احساس کراتے ،خوش ہوتے اور کھلکھلاتے رہے۔ جہاں ان کے قہقہوں کا ترنم فضاء کو نغمیت بخشتا ہوا ان کھنڈرات کو بھی تازگی کا احساس کرا رہا تھا۔ مگرپھر اچانک دونو کے بیچ ایک گہری سوچ نظر آئی جس کے ساتھ چہرے کی خوشی ڈوبتے سورج کی طرح اندھیرے میں تحلیل ہوتی گئی۔ 
              ’’شگفتہ بتاؤ نا ! یہ سرحداب تو ہمارے بیچ نہیں آے گی نا ؟‘‘ لڑکا ڈوبتے لہجے میں بولا تھا ۔

              ’’ نہیں آے گی نا اتنا پریشان کیوں ہوتے ہومنیر؟‘‘ لڑکی نے اسے تسلّی دی تھی مگر فکر کی لکیریں اس کی پیشانی پر بھی ابھری تھیں ’’۔تمہیں اپنے اورگھر اپنے وطن کی یاد آئی تو؟‘‘ لڑکے نے دوسرے سوال کے ساتھ سامنے بیٹھی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نامعلوم کیا تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ لڑکی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھی مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ فکرات میں پڑ کر ان خوشگوار لمحوں کو گوانا نہیں چاہتی تھی فوراً ماحول کو تبدیل کرنے کی غرض سے چہرے پہ شوخ سی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی ۔ ’’سنو منیر فیس بک ، یاہو، جی میل، اور اسکائپ کے ذریعہ ہی تو ہماری محبت پروان چڑھی ہے۔ انہی کے ذریعہ گھر والوں سے بھی ملیں گے۔‘‘ ’’واقئی اب تم و اپس نہیں جاؤ گی ؟‘‘ لڑکے نے بے یقینی سے پھر سوال کیا ۔ ’’پاگل ہوئے ہوکیوں جاؤں گی واپس ؟ رخصت ہو کر ایک دن تو ہر لڑکی کو اپنی سسرال جانا ہوتا ہے۔ اب میں اپنی سسرال سے کہاں انے والی ہوں؟‘‘ اس بار لڑکی نے لڑکے سے سوال کیا تھا۔ پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسنے لگے تھے۔ اس ملن پہ شاد و نیاز مستقبل کے سنہرے خواب بن رہے تھے۔ انہیں یوں خوش دیکھ کرمجھے بھی ایک عجیب سے سکون کا احساس ہو رہا تھا۔ آج نا جانے کتنے عرصہ بعد میں نے سکون محسوس کیا تھا۔ شائد اس لئے کہ وہاں سر جوڑے بیٹھے ان جوڑوں سے یہ جوڑا کچھ مختلف تھا۔ یا میری اس کہانی کا ایک حصّہ جسے میں یاد کرنا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے پھر اپنے ذہن کو جھٹکا تھا۔ 
       اچانک لڑکے کو پھر کچھ یاد آیا۔ جس کے ساتھ فضاء میں گونجتے قہقہے کہیں گم ہو گئے۔ ایسا لگا مانو جیسے اُونچی اُڑاان کے پرندوں کے پر کہیں پھنس گئے ہیں اور حادثے کے خوف سے وہ پھڑپھڑا رہے ہوں۔ اس پھڑپھڑاہٹ میں پسینے کی بوندیں دونوں کی پیشانی پر نظر آنے لگی تھیں۔ میں کان پہ ایئرفون لگائے ان سے کچھ فاصلے پہ بیٹھی بہ ضاہر توان سے بے نیاز سی تھی مگر میری توجہ کا مرکز وہ دونوں ہی تھے۔ جو مجھے کہیں گم ہوئی اپنی ُ اس کہانی کا دوسرے پارٹ نظر آئے تھے جو سرحدوں میں بٹ گئی تھی۔ انہیں دیکھتے ہوئے وہ محبت میرے اندر تڑپنے لگی تھی جسے سیاست نے ملکوں اور سرحدوں میں بانٹ دیا تھا ۔ ماضی کی وہ کہانی جس نے مجھے مراقبوں کا عادی بنا دیا تھا جسے میں یاد کرنا نہیں چاہتی تھی آج ایک مختلف انداز میں پھر میرے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔ ان ہی کھنڈروں میں تو کل وہ کہانی گزری تھی اوریہیں آج مجھے اس جیسی یہ دوسری کہانی نظر آرہی تھی۔
یہ قطب مینار کے آس پاس کے وہی کھنڈر ہیں جہاں کبھی قمر نیازی اور میں سکون کی تلاش میں آتے اور گھنٹوں ان ویران کھنڈروں میں سکون تلاش کرتے۔ یہ وہی کھنڈر ہیں جہاں ایک بار قمر نیازی نے مجھ سے کہاں تھا۔ ’’ نشاط میری تعلیم مکمل ہونے والی ہے ۔‘‘ ’’اچھا ! تو اس میں کونسی نئی خبر ہے، مجھے معلوم نہیں ہے کیا جو مجھے اطلاع دے رہے ہو؟‘‘ میں نے قمر کے عجیب سے انداز پہ جھنجلا کے کہا تھا ۔ ’’ارے تم سمجھی نہیں نشاط، چند ماہ بعد میں اپنے وطن واپس لوٹوں گا ، پھر تمہارا کیا ارادہ ہے ؟‘‘ اس نے بڑی فکرمندی سے اپنی باتیں کہی تھین۔ ’’اُوہو!‘‘ گہری سوچھ کے ساتھ میرے منھ سے صرف ’’اُوہو‘‘ نکلا تھا۔ اور پھر موت کا سا سناٹا ٹریفک کے شور سے آباد ویرانے میں چھا گیا۔ گھبراکے میں نے قمر نیازی کو دیکھا تھا جو آنکھوں میں ناجانے کتنی التجائیں لئے میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس کی التجائی نظروں کو دیکھ کر میں نے ہی کہاں تھا ۔ ’’قمر تم یہی رہ جاؤ نا۔ اور پھر ابھی میرا فائنل ایر بھی باقی ہے۔‘‘ ’’ٹھیک ہے نشی پھر اس کے بعد؟‘‘ قمر نے مجھ سے سوال کیا تھا۔ اس کے بعد گہری سوچ اور ایک گہری خاموشی تھی۔ 
        پھر قمر نے ہی اس خاموشی کو توڑا تھا۔ ’’سنو نشی ہم دونوں میں زبردست ذہنی مطابقت ہے۔ اس وجہہ سے مزاجاً بھی ہم ایک سے ہیں ۔ پھر بھی ہرلڑکی کو ایک د ن رخصت ہو کر اپنے شوہر کے دیس جانا ہوتا ہے۔ ایسے میں، میں تمہیں اپنی دلہن بنا کر اپنے ساتھ لے جانے کی اُمید کر سکتا ہوں؟‘‘ اس کے اس سوال پر اب کی بار میں نے اسے التجائی نظروں سے دیکھا تھا۔ یہ وہی سوال تھا جہاں آکر ہم دونوں ہی خاموش ہو جاتے تھے ۔کیوں کہ ہم دونوں کو ہی اس کا جواب معلوم تھا۔ وہ بھی جانتا تھا کہ مجھے اپنی مٹّی کی سوندھی مہک کتنی پیاری ہے ۔ یہاں سے دور جانے کاتصور بھی میرے لئے عذاب ہے۔ اور میں نے اسے بھی اس کے مٹّی کی یاد میں تڑپتے ہوئے دیکھا تھا۔ حصولِ تعلیم کے لئے وہ یہاں موجود ضرور تھا۔ مگراس کا دل و دماغ بھی کہیں اپنی مٹّی کی سوندھی مہک ہی تلاش کرتا تھا۔ اس دن ان کھنڈرات میں بیٹھے ہوئے ہم گھنٹوں اپنے احساسات سے لڑتے رہے ۔ جہاں اس نے یک سرد آہ کے ساتھ مجھ سے کہا تھا ۔ ’’نشاط! کاش یہ مٹّی سر حدوں میں نا بٹی ہوتی۔ اب میں کیا کروں مجھے جانا ہی ہوگا اور اگر تم۔۔۔‘‘ میری آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب دیکھ کر اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ اور پھر ہم دل بھر کے روئے تھے۔ 
        اس دن ہمارے دو نوں کے پرانے یہ کھنڈر۔۔۔۔ مجھے بہت غمگین نظر آئے تھے۔ اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے ہمارے آنسوؤں کو اپنے سینے میں دفن کرتے گئے تھے۔ ان آنسوؤں کی نمی سے فضاء میں جو سوندھی مہک پھیلی تھی اس نے ان کھنڈروں کے بھی کتنے زخموں کو تازہ کیا تھا۔ امیر خسرو کی رباعِیوں کی روحانی موسیقی سے گونجتے اس شہر کے یہ کھنڈر کتنے ہی دؤر کے گواہ ہیں۔ اور کتنی ہی محبتوں کو اپنے سینے میں سموئے ہوئے بھی۔ شائد رضیہ سلطان اور یاقوت کی محبت بھی ان کھنڈر ہوئی عمارتوں میں پروان چڑھی ہو؟ اور مغلوں تک آتے آتے سلیم و انار کلی ،شاہ جہا ں اور ممتازکا دوربھی ان کھنڈرات ہوئی عمارتوں نے دیکھا ہو۔ یہ تومحبت کا وہ شہر ہے جس نے اپنے یہاں، ہر آنے والے کا استقبال کیا ہے او ر ماں کی طرح اسے اپنے کلیجے سے لگایا ہے، خود میں سمویا ہے ۔ کتنی ہی محبتیں اس کے کلیجے میں دفن ہیں۔ گواہ ہیں یہ کھنڈر اس بات کے۔ سرحدیں تو کبھی اس کے بیچ نہیں رہیں ۔ پھر اب کیوں اس مٹّی کو سرحدوں میں قید کر دیا گیا ہے؟ 
         سوچوں کے حصارسے باہر آتے ہوئے میں نے ایک نظر پھر ان دونوں پہ ڈالی ۔ جو پیشانی سے پیشانی ملائے نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے اور فکرمند سے تھے ۔ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ دونوں کے بیچ اب کیا چل رہا ہے۔ کان میں لگے ایک ایئر فون کو کان سے نکال میں بالوں میں چھپا چکی تھی بظاہر ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں ایئرفون پر مصروف ہوں مگر حقیقت میں میں نے اپنا پورا دھیان دونوں کی طرف لگا دیا تھا۔ ’’شگفتہ تم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ کسی صورت بھی مناسب نہیں ہے۔ تم ٹورسٹ ویزا پر یہاں آئی ہو ہماری مہمان ہو ایسے میں تم اچانک اپنے غائب ہونے کا مطلب سمجھتی ہو؟ نہیں نا ؟‘‘ ’’لڑکا لڑکی سے پوچھ رہا تھا اور کچھ سمجھانے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔ ’’ سنو تمہیں ابھی اپنے ٹور کے ساتھ واپس جانا ہوگا ۔ پھر میں اپنے بزرگوں سنگ تمہارا ہاتھ مانگنے تمہارے گھر آؤں گا۔ لیکن اِس وقت تمہیں جانا ہی ہوگا۔‘‘ ’’نہیں منیر نہیں میں اب واپس نہیں جاؤگی میں فیصلہ کر کے آئی ہوں۔ تمہیں معلوم نہیں منیرمیرے گھر والے اس رشتے کے لئے راضی نہی ہوں گے۔ ‘‘ ’’کیوں شگفتہ انہیں مجھ سے کیا پرابلم ہے؟‘‘ ’’تم سے نہیں ان سرحدی فاصلوں سے پرابلم ہے ۔ اگر میں واپس گئی تو پھر ہم کبھی نہیں مل پائیں گے۔ پلیز منیر مجھے خود سے جدا مت کرو ۔ ‘‘ ’’نہیں شفّو تمہیں اس وقت جانا ہی ہوگا تم سمجھ نہیں رہی ہو ۔‘‘ ’’نہیں منیر نہیں میں نہیں جاؤگی۔ اور ابھی کچھ دیرپہلے تو تم بھی مجھ سے مل کر کتنے خوش تھے۔ میرے ہونے کا یاقین کر رہے تھے مجھ سے جدا ہونے کے خوف سے لرز رہے تھے اب کیا ہوا؟ ‘‘ لڑکی اس سے الجھ رہی تھی اور اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی۔ لڑکابرابر اسے منانے اور سمجھانے میں لگا تھا ۔ 
        شام کی بڑھتی دھند کے ساتھ مجھے گھر کی یاد آئی او ر ’گھر ‘ سوچتے ہوئے میں خود پہ ہنس دی تھی ۔ ہم تنہا لوگو ں کی یہی تو ایک خاص بات ہے کہ ہم گھر میں نہیں مکان میں رہتے ہیں جہاں ہمارا انتطار کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ان دونوں کو الجھتا چھوڑ میں نے چلنے کی تیاری شروع کی ۔ لڑکا اب بھی لڑکی کو سمجھا رہا تھا۔ ’’ شفّو !جان میرا یقین کرو مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے ۔ اور جو کچھ میں نے تم سے کہا سچ ہے ۔ مگر اس طریقہ سے ہم کسی طور بھی نہیں مل سکتے ۔ سنوتمہیں معلوم ہے جس مذہب سے ہم تعلق رکھتے ہیں وہ مہمان کو اللہ کی رحمت مانتا ہے۔ اورجس مٹّی کی خوشبو میں میں بسا ہوں میری وہ مٹّی ’’اتیتھی دیو بھوا‘‘ کے ساتھ مہمان میں خدا کو دیکھتی ہے ۔ میں اپنی مٹیّ کی سوندھی مہک کو خاک میں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ لوگوں کو کنارے لگاتے شور کے ساتھ لڑکے کا جملہ بیچ میں چھوٹا تھا ۔ اورایک زلزلہ محبت کے گواہ ان کھنڈروں میں نمودار ہو ا تھا۔ جس کا مرکز سرحدوں میں بٹی سوندھی مٹّی کی مہک تھی۔
********************

شکست : ارشد علی – اسلام آباد، پاکستان

 شکست۔۔۔
  ارشد علی
  اسلام آباد، پاکستان

                   وہ سب سے اکھڑا اکھڑارہنے لگا تھا۔ بات بے بات غصّہ، ڈانٹ ڈپٹ، نوک جھونک لیکن پھر رویّے میں تبدیلی آئی اور وہ ہروقت کھویا کھویا رہنے لگا۔ خالی خالی نظروں سے سب تکتا رہتا۔ بہت غصّہ میں ہوتا تو آنکھیں نکالتا، کچھ بولنے کے لیے ہونٹوں کو جنبش دیتا اور بنا کچھ کہے دوبارہ گم صم ہو جاتا۔ اور اب تیسرا دن تھا اُسے اپنے کمرے سے بھی باہر نکلے۔اس دوران اس کے چہرے کے تاثرات بتدریج تلخی، ٹوٹ پھوٹ سے ہوتے ہوئے ہر شے سے قطعی لاتعلقی کے رنگ میں تبدیل ہوچکے تھے۔
اُس دن جب وہ گھر لوٹا تو خاموشی سے سیدھا اپنے کمرے میں جا رکا۔ چند لمحوں میں سعدیہ بھی آن پہنچی اور اسے بیڈ پر نیم دراز چھت کو گھورتے چند منٹ تک دیکھتے رہنے کے بعد برابر میں آن بیٹھی۔
’کچھ بنا۔۔۔؟‘
’نہیں۔۔‘
’پھراب۔۔؟‘
’پتہ نہیں۔۔۔‘
’آپ کہیں توبھائی سے بات کروں۔۔؟‘
’ہاں۔۔۔ شاید۔۔۔۔ دیکھ لو۔۔۔‘
’نہیں رہنے دیں۔۔۔ پہلے ہی۔۔۔اور بوجھ بڑھے گا‘
’جو بات نہیں کرنی تھی توپوچھاکیوں‘
’پوچھ لیا تو کیا قیامت آگئی۔۔!‘
’تمھیں شاید اندازہ نہیں کہ میں کتنا اپ سیٹ ہوں۔۔‘
’تو میں نے کیا ہے۔۔!میری تو اپنی زندگی اجیرن ہے۔‘
’خدا کا واسطہ ہے، دماغ خراب مت کر۔۔‘
’میں تمھارا دماغ خراب کرتی ہوں۔۔۔ہاں!۔۔ بولو۔۔۔!‘
’او۔۔۔۔۔۔ دفع ہو جا یہاں سے۔۔۔!‘
سعدیہ جو پہلے ہی کھڑی ہو چکی تھی،’ہاں، ہاں۔۔۔ جا رہی ہوں۔۔۔۔ سڑو یہاں‘ کہتے ہوئے تیز تیز قدموں کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔
تب سے وہ کمرے میں اکیلاتھا۔ ویسے بھی گھر میں افراد ہی کتنے تھے۔ وہ، اس کی بیوی اور ایک بیٹی، جو اُن دنوں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ددھیال میں تھی۔
ویسے تو ہر صورتِ حال کا خندہ پیشانی سے سامنا کرنے کی صلاحیت اس میں موجود تھی لیکن اب کی بار نہ معلوم کن وجوہات نے اسے اس درجہ بے سکونی میں مبتلا کیا تھااور مسلسل ان کہے کرب و اذیت میں روزوشب گزارنے پر مجبور تھا۔ اس گھٹن نے جسمانی کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی استعداد کو بھی بری طرح مجروح کیا۔حتٰی کہ ڈاکٹر نے بھی خصوصی طور پر ہدایت کی تھی کہ اسے کسی صورت تنہا نہیں رہنا چاہیے۔ ان حالات پرً اس کا بھائی کامی چند دن اس کی نگہداشت کو موجود رہا، پھر اس کے اصرار اور دیگر وجوہ کے باعث واپس لوٹ گیا۔ باوجود کہ اعجاز کی حالت سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑی تھی اور اب تو وہ بند کمرے میں تنہا سوچوں کے لامتناہی سلسلے سے نبردآزما تھا۔
کمرے میں وہ انتہائی عجیب معاملات میں الجھا رہتا۔ اس کا بیشتر وقت بستر پر گزرتا اور وہ ٹکٹکی باندھے لگاتار کسی شے کو تکے جاتا۔ کبھی وہ گھڑی پر نظریں جمائے ہے تو پھر اسے ہی دیکھتا رہتا اور غائب دماغی کا عالم کہ یہ تک معلوم نہ ہوتا کہ کب سے گھڑی پر نظریں جمائے ہے۔ کبھی پنکھے کے گھومتے پروں کو گننے میں مصروف رہتا۔ بعض اوقات شیلفوں پر رکھی اشیاء کو دیکھے جاتا۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتاکہ ا س کی نگاہیں کسی شے پر نہ ٹھہرتیں اور اس پنچھی کی مانند جسے آزاد فضاؤں سے پکڑ کر کسی پنجرے میں قید کر دیا گیا ہوکمرے کی چاردیواری تو کبھی چھت یافرش سے ٹکراتی رہتی۔ کبھی وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوتا اور اس کا پاؤں ہوا میں یوں حرکت کیے جاتاجیسے کوئی عبارت لکھتا جارہا ہو، جسے وہ آنکھیں کھول کر پاؤں کے تلوے سے مٹا کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیتااور پاؤں کی حرکت کسی نئے انداز میں دوبارہ شروع ہو جاتی۔ کئی کئی بار اسے اپنے ہاتھوں، پیروں سے رسیاں سی نکلتی محسوس ہوتیں جو کسی خوف ناک اژدھے کی مانند اس کے گرد لپٹ جاتیں۔ یہ لمحات اس کے لیے سخت آزمائش لیے ہوئے ہوتے اور وہ بڑی بڑی دیر تک ان رسیوں سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش میں لگا رہتا۔ کبھی اسے یہ لگتا کہ اس کے ہاتھ اورپاؤں ہتھکڑیوں کی مانند بنے کڑوں میں جکڑنے کے بعد ان کڑوں کو رسیوں سے باندھ کر اسے ہوا میں معلق کر دیا گیا ہو۔اسے کمرے کے چاروں کونوں میں وہ کنڈے بھی نظر آتے جن سے ان رسیوں کوباندھا گیا ہوتا۔جس کی وجہ سے اسے اپنا وجود درد کی شدّت سے ٹکڑے ٹکڑے ہوتا محسوس ہونے لگتا۔ لیکن اس کی ان تمام حالتوں سے دماغ بالعموم لاتعلق ہی رہتااور سوچوں کے گنجل میں مسلسل اس تار کی تلاش میں رہتا جس کے دوسرے سرے پر اس کے مسائل کا ممکنہ حل موجود ہو۔۔۔
جیسے ہی رات ہوتی تو ا س کا دل چاہتا کہ وہ گھر سے نکل کھڑا ہو اور جہاں کہیں اسے کوئی انسان نظر آئے اسے جان سے مار ڈالے۔اگلے پل ایسا لگتا کہ اسے کہیں بھاگ جانا چاہیے ، تاکہ تمام رشتوں، ناتوں اور مسائل کی قید سے آزاد ہو کر ازسرِنو اپنی زندگی کا آغاز کرسکے۔ رات بھر ا س کے ذہن میں مختلف نام گونجتے رہتے جن میں سے بعض کو وہ گالیاں دینے لگتا، بعض پر رونے لگتا۔بعض پر اٹھ بیٹھتا اور سر کے بال نوچتے ہوئے دوبارہ بستر پر گر جاتا۔ صبح تک اس اذیت کانتیجہ اس کی نیم بے ہوشی کی صورت میں نکلتا۔ اس دوران اس کا دماغ زہریلے اور گندے مواد سے بھرے ہوئے پھوڑے کی مانند دکھتا رہتا۔اور اس کی سوچوں کا تند دریابھی پتھریلے رستوں پر سر پھوڑ پھوڑ کر تھک جاتا، اس تما م صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس پر اکثر خودفراموشی اور بے حسی کی کیفیت غالب رہنے لگی۔
پچھلے کئی گھنٹوں سے وہ بستر پر ساکت لیٹا تھا اور آنسو بہہ بہہ کر بستر میں جذب ہوتے جاتے تھے کہ اچانک وہ اٹھ بیٹھا، آنسو پونچھے، سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ڈائری نکالی اور لکھنا شروع کیا۔
’’میں تھک گیا ہوں۔۔۔۔دوڑ دوڑ کر تھک گیا ہوں اور اس سطح پر آن پہنچا ہوں کہ مزید دوڑنا تو کجا ۔۔۔ایک قدم اٹھانے کی سکت بھی باقی نہیں اور۔۔۔اگر دوڑو بھی توکیوں۔۔۔!ہر دوڑ ، ہر ریس کا کوئی فنیشنگ پوائنٹ (Finishing Point) ہوتا ہے پر مجھے تو دور دور تک ایسا کوئی مقام نظر نہیں آتاجس تک پہنچنے کی آس میں جسم کو اگلا قدم اٹھانے پر تیار کروں۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں عمر بھراسٹپنی (Stupney) کا کردار ادا کرتا رہا جو دوسروں کی زندگیوں کی گاڑیوں کو چلانے کاباعث تورہا لیکن میری اپنی زندگی کی گاڑی روڈ کنارے کھڑے کھڑے دھول مٹی میں یوں اٹ گئی کہ ریت کاٹیلہ معلوم ہونے لگی۔میں نے بہت سوچا۔۔۔ زندگی کو کئی کئی بار ہرپہلو سے دیکھنے کی کوشش کی۔۔۔ بہت سے فیصلے کرتا اورانھیں رد کرتاچلا گیااور اب مجھے مزید کچھ سوچنا بھی وقت کا زیاں معلوم ہوتا ہے۔
مجھ سے سب کو شکایت ہے کہ میں پہلے جیسا نہیں رہا لیکن کسی نے یہ سوچنے کی کوشش نہ کی کہ کیوں۔۔!حتیٰ کہ وہ بھی دورہٹتے گئے جو۔۔۔۔آخر آدھی رات کو طویل سڑکیں تنہا ناپنے کا کچھ انجام تو نکلنا تھا۔‘‘
’’اماں تھی۔۔۔جوسب سمجھ سکتی تھی جس کے آگے میں بول بھی پڑتا تھا۔ پر وہ بھی یہی کہتی رہی کہ ’ناشکرا ہے تُو تو۔۔۔اور کیا چاہیے۔۔۔‘ آخر کو پھر کہاں جاتا۔ جب ماں ہی نہ سمجھے تو ۔۔۔‘
اُسے اپنے ماتھے پر پسینے کے قطرے دوڑتے محسوس ہوئے جنھیں قمیض کے بازو میں جذب کرنے کے بعد وہ لکھنے لگا۔
’ایسا نہیں کہ اُس کے پاس نہیں گیا۔۔۔ گیا۔۔ وہاں بھی گیا۔۔ پر پتا نہیں وہ بھی ہے کہ نہیں اور اگر ہے بھی تو اسے رونے والے بہت ہی پسند ہیں۔ تبھی کہتا ہے کہ آؤ!بیٹھو اور روتے رہو۔۔۔ جب چاہوں گا تب د وں گا۔ کچھ وقت رویاوہاں پر۔۔ پھر کیا کرتا۔۔ لوٹ آیا۔۔۔اور اب اس کے بعد کوئی آس ہی نہیں بچتی۔‘
’آخر اب میں کیا کروں۔۔۔ کہاں جاؤں۔۔!ہر جانب اندھے کنوئیں اور گہری کھائیاں ہیں۔ مجھے تو کچھ ایسا چاہیے بھی نہ تھا جو نہ مل سکتا۔میں نے تو بس ایسا کندھاچاہا تھاجس پر سر رکھ کر رو سکتا۔ وہ سینہ جس سے لگ کر سوجاتا یا وہ زانو جو کچھ وقت تکیے کا کام دیتا۔۔ پر نہیں ملا۔۔۔ کچھ بھی تونہیں ملا۔۔۔ پھر میں کیوں رہوں یہاں۔۔ جہاں میرے لیے کچھ نہیں۔۔ کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’مجھے کسی کی پروا نہیں۔۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔ بس میری بِٹو۔۔ ہائے!۔۔ بٹوکا۔۔۔ بیٹا!میں تیرامجرم ہوں۔۔۔ دیکھ !تجھے تو پتاہے نا سوہنے۔۔ مجھے تو کتنی پیاری ہے۔ یاد ہے جب تو بیمار ہوتی ہے تو میں ساری ساری رات تیرے سرہانے کھڑا گزار دیتا ہوں۔۔۔ پر اب کیا کروں میری جان!۔۔۔ کیا کروں۔۔۔ ٹانگیں جواب دے رہی ہیں۔۔۔ نہیں کھڑا ہوا جاتااب۔۔۔ کیا کروں۔۔۔ دیکھ! تُو میری طرح کمزور نہ نکلنا۔۔۔اور سنبھال لینا سب کو۔۔۔ کہنا، میرے بابا ایسے نہیں تھے۔ بس بہت مجبور تھے۔چندا!میں کیسے بتاؤں۔۔۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔۔۔ پر میں جی بھی تو نہیں سکتا۔۔۔ میں جیا تو تم سب مر جاؤ گے۔اوریہ ۔۔۔ بس تقدیر کا لکھا سمجھ لینا۔‘
اس نے رک کر بے ربط ہوتی سانسوں کو دوبارہ سینے میں قید کرنے کی کوشش کی۔اور پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا کر پینے لگا۔ جس میں سے زیادہ تر پانی اس کے ہونٹوں کے کونوں سے بہہ کر اس کے کپڑوں پر گرتا گیاجس کا اسے قطعی احساس نہ تھا۔
اس نے دوبارہ سوچوں کو مجتمع کیا اور نگاہیں ڈائری پر مرکوز کر دیں۔
’میں آج تک یہی سمجھتا رہااور سمجھتا ہوں کہ ہمارے اردگرد بسنے والوں اور رہنے والوں کو ہمارے تمام مسائل و مصائب کا اندازہ ہوتا ہے اور جو انجان بنتا ہے وہ جان بوجھ کر مکر بھرتا ہے۔اسی لیے مجھے کسی کو کچھ بتانا، احساس دلانا۔۔۔ انتہائی گھٹیا اور بے کار ساکام لگتا ہے۔ میرے مرنے پر میری لاش کے سرہانے کھڑے وہ تمام جو ہمدردیاں جتانے اور ترس کھانے والے ہوں گے ،جو علی الاعلان کہتے پھرتے ہوں گے کہ کاش ہمیں ملتا،کچھ بولتا۔۔ بتاتا۔۔۔ میں ان سب کو، جھوٹے، فریبی ، مکار، اور دغاباز سمجھتا ہوں۔ میں عمر بھر اپنا بوجھ خود ڈھوتا رہا۔ سو اب جب میں ایسا سمجھنے لگا ہوں کہ مزید اپنا بوجھ نہیں سہار سکتا تومیں جارہا ہوں۔۔۔‘
’کہنے کوتو بہت کچھ ہے، لیکن کیا فائدہ۔۔!بات لمبی ہوجائے گی بناکسی حاصل وصول کے ۔۔۔اور لکھوں بھی تو کیسے۔۔!ورق بھی تو پانی کی دیوار کے پیچھے دھندلاتا جارہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اپنا کبھی نہ سوچا اور آج پہلی بار کچھ اپنی مرضی کرنے جا رہا ہوں۔میں صحیح ہوں یا غلط ۔۔۔ نہیں جانتا۔۔۔ پر مطمئن ضرور ہوں۔۔۔ مجھے کوئی پچھتاو انہیں۔۔۔ ہاں، اتنی درخواست ضرور ہے کہ میرے اس عمل سے جسے تکلیف پہنچے وہ خدارا مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے سب بہت پیارے ہو۔۔۔ پر۔۔۔ میں بہت مجبور ہوں۔۔۔
اللہ نگہبان۔‘
اس نے قلم ڈائری میں رکھتے ہوئے ڈائری بند کی ۔۔۔آنکھیں خشک کیں ، ماتھے سے پسینہ پونچھا، لعاب نگلتے ہوئے حلق کی خشکی کو دور کرنے کی کوشش کی،نتھنوں سے تیز سانس خارج کیا ۔۔۔اور ڈائری رکھنے کے لیے دراز کھولاتو ٹھہر گیا، پھر دراز میں سے کچھ تصویریں نکال کر دیکھنے لگا جونجانے کب سے وہاں یونہی پڑی ہوئی تھیں،تصویریں ہاتھ میں لیتے ہی اسے ایسامحسوس ہونے لگا کہ یہ حقیقت میں اس کے ماں باپ، بہن بھائی ہیں جو اسے الوداع کہنے یہاں موجود ہیں اور وہ ان سب سے باری باری ملتا آگے بڑھنے لگا۔
’کامی۔۔۔!‘ اس نے اپنے بھائی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کا کندھا تھام کر کپکپاتی آواز میں کہا،’امّاں، ابّا کا خیال رکھنا‘
کامی نے جواب میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اور وہ ایک قدم آگے بڑھ گیا۔
’سیمی۔۔۔!‘
’بھائی۔۔۔‘ اس کی سب سے لاڈلی بہن روتے ہوئے اس کے گلے لپٹ گئی۔
’اے پگلی۔۔! یہ کیا ہے‘
’چل ۔۔۔ چُپ کر۔۔۔ ناں۔۔۔ بالکل ۔۔۔ ہوں۔۔۔۔ شاباش۔۔۔‘ یہ کہتے ہوئے اس کے بازوؤں کی گرفت مزید سخت ہوگی۔
’عاشی۔۔‘
’جی بھائی۔۔۔!‘
’تجھے کیا ہوا۔۔۔!‘
’کچھ نہیں بھائی۔۔۔‘
’عاشی۔۔!تُو تو سمجھ دارہے۔ بجائے سب کو سمجھانے کے خود ہی۔۔۔۔‘
’جی بھائی۔۔۔‘
وہ اسے گلے لگاتے ہوئے کان میں دھیرے سے بولا،
’ماموں کا پیار دینا۔۔۔ ہیں۔۔۔!‘
’جی۔۔!‘ اور یک دم عاشی جھینپ سی گئی۔اس کا چہرہ حیا سے لال سرخ ہوگیا اور وہ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو دوپٹے سے ڈھانپتے ہوئے صرف اتنا کہہ پائی۔
’بھائی۔۔!‘
اور وہ آنکھوں میں نمی لیے زیرِ لب مسکراتا آگے بڑھ گیا۔
’نازی۔۔۔!‘
’کچھ بولے گی۔۔ یا ۔۔۔ چُپ سائیں۔۔!‘
وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑی رہی۔اعجاز جب اس کے ماتھے کا بوسہ لے کر آگے بڑھا تو وہ اچانک بولی۔
’بھائی۔۔!واپس کب آئے گا؟‘
اسے یوں لگا جیسے اس کے سینے میں کوئی تیر آن لگا ہو۔ وہ رکا۔۔ایک نظر نازی کو دیکھا اور سسکی لیتے ہوئے بولا،
’میں ۔۔۔ کیا بتاؤں۔۔۔‘ اسے لگا کہ مزید بولنے کی کوشش کی تو اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے وہ آگے بڑھا۔
’اماّں۔۔۔!‘ اور دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیوانہ وار ماں سے لپٹ گیا۔
ماں نے بمشکل خود کو کچھ بولنے کے قابل کرتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، اسے جھکا کر اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
’بس کر اب۔۔۔ نہیں تو میرا دل پھٹ جائے گا،جا۔۔ چل!۔۔۔اور جلدی آنے کی کرنا۔‘
’ماں۔۔!تجھے نہیں پتہ۔۔۔ نہیں پتہ ماں۔۔۔‘ اور آنسو پھر سے اس کے رخساروں پر دوڑنے لگے، جنھیں اس کی ماں نے اپنے دوپٹے میں جذب کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔اور پھر دوپٹے کی وساطت سے ان ماں بیٹے کے آنسو گلے لگ کر رونے لگے۔
وہ آگے بڑھا اور باپ کے سامنے کسی مجرم کی طرح سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔اس کے باپ نے کمال حوصلے سے اس کا کندھاتھپکتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کی تاکید کی۔
چند قدم آگے بڑھ کر اس نے مڑ کر دیکھا تو ا س کے سامنے وہ تمام چہرے تھے جنھیں دنیا میں وہ سب سے پیارا تھا۔
اس کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر سب کو بتائے کہ وہ غلط سمجھ رہے ہیں ، میں اس سفر پر روانہ ہو رہا ہوں جہاں سے وآپسی کا کوئی رستہ نہیں ۔ روک سکتے ہوتو مجھے روک لو، اگر میں ایک بار تمھاری نظروں سے اوجھل ہوگیا تو دوبارہ میری پرچھائیں بھی نہ دیکھ پاؤ گے مگر الفاظ اس کی زبان پر آنے سے پہلے ہی اپنا وجود کھوتے جاتے، ہاتھ کی پشت سے آنکھیں ملتے ہوئے وہ ایک بار پھر آگے کی جانب چل دیا، ابھی چند قدم بھی طے نہیں کر پایا تھا کہ اس کی بہن دوڈتی ہوئی آئی اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔
’بھائی بھائی آج نا ں جا ۔۔۔۔ دیکھ صرف آج آج۔۔۔ چل وآپس چل بھائی۔‘
’نہیں ۔۔ نہیں مجھے جانا ہے ۔۔۔۔ تو ہٹ آگے سے ۔۔۔۔‘
لیکن جب بہن کی ضد زیادہ بڑھی تو اس نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔۔ کمرے میں چرررر۔۔ کی آواز گونجی جس پر فوراٌ اس نے آنکھیں کھولیں،، اس کے ہاتھوں میں ایک تصویر کے دو ٹکڑے تھے،، دامن آنسوؤں سے تر، گریبان منہ سے ٹپکتی رال سے لتھڑا ہوا تھا۔ اور وہ حیرت سے، تصویر کے ٹکڑوں کو دیکھے جا رہا تھا، ان ٹکڑوں کو برابر میں رکھتے ہوئے اس نے دوبارہ تمام تصویروں کو اٹھایا، اور پھر دیکھتے دیکھتے وہ ان تصویروں کو پھاڑنے لگا۔۔۔۔اور اگلے پل ان ٹکڑوں کو ہوا میں اچھالتے ہوئے باتھ روم کی جانب چل دیا۔ تصویروں کے پرزے کچھ دیر پر کٹے کبوتر کی طرح ہوا میں پھڑپھڑائے اور پھر زمین سے آن لگے۔ واش بیسن کا نلکا چلا کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے ا س کی نظر سامنے شیشے میں اپنے عکس پر پڑی ۔۔۔ لال سرخ ابلتی ہوئی آنکھیں،پچکے ہوئے گال، بڑھی ہوئی شیو، بکھرے بال۔۔ وہ ہاتھ لگا لگا کر اپنے جسم کو محسوس کرنے لگا، جیسے خود کو پہچان نہ سکا ہواور اپنی شناخت کرنا چاہ رہا ہو۔ پلک جھپکنے جتنی دیر کے لیے ا س کی سوچ بیدار ہوئی اور ذہن سے یہ خیال گزرا کہ وہ خود کو آخری بار دیکھ اور محسوس کررہا ہے تو اس کی ٹانگیں کانپ اٹھیں۔ سانس سینے میں اٹکتی اورخون رگوں میں ٹھہرتا محسوس ہوا، آنکھوں کے آگے اندھیرا ناچنے لگا۔اس نے ہاتھ بڑھا کر دیوار کا سہارا لیااور اپنی تمام توانائی کو مجتمع کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ باتھ روم سے باہر نکل گیا۔ باہر نکلنے تک بے خودی کی کیفیت پھر سے اس پر غلبہ پا چکی، اور وہ پھر ہر سوچ و احساس سے عاری تھا۔
اس نے دروازے کی جانب نگاہ کی اور پردے کو دروازہ ڈھانپے دیکھ کر کھڑکیوں کی سمت بڑھ گیا۔ چٹخنی چڑھا کر پردے پھیلا دئیے۔ روشن دان بند کیے۔۔۔۔اطراف سے تسلی کر لینے کے بعد وہ کرسی اٹھا کر عین کمرے کے وسط میں لے آیااور اس پر سٹول رکھنے کے بعد کمرے کے کونے میں پرانے سامان کے لیے بنے شیلف پر سے حاصل کی گئی سوتر کی بنی رسّی اٹھا لایا۔غیر ارادی طور پر اس کی مضبوطی جانچنے کے بعد ایک کونے میں گول گرہ دی اور کرسی سے ہوتے ہوئے سٹول پر چڑھ کر دوسرا سرا پنکھے کے اوپر والے کنڈے میں باندھنے لگا۔ کنڈے میں گرہ دینے کے بعداس نے تمام وزن دوبارہ رسّی پر ڈال کرگرہ کی اور رسّی کی مضبوطی کو پرکھا اور اطمینان کر لینے کیبعد آنکھیں موندے دوسرے سرے کو اپنی گردن میں پھنسا کر پھندے کو کسنے لگا۔ یوں لگتا تھا یہ تمام اموروہ خالی الذہنی کی حالت میں میکانکی طور پر انجام دئیے جا رہا ہے، لیکن اس تمام دوران آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے رواں تھے جن سے وہ لاعلم نہیں تو لاتعلق ضرور تھا۔
پھندا کسنے کے بعد وہ جھولنے کو تھا کہ کھٹکے کی آواز سے اچانک دروازہ کھل گیا۔اس نے گھبرا کر تیزی سے آنکھیں کھولیں تو سامنے اس کی بیٹی حیرت زدہ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ بیٹی کو یوں سامنے دیکھ کر وہ یک دم ہوش میں آگیا اور اس کے سوئے ہوئے جذبات بھڑک اٹھے، اعجاز بیٹی کو پکارتا، تیزی سے اس کی جانب لپکا۔ایسا کرنے پر قدموں کے نیچے رکھا سٹول پہلے تیزی سے ڈولا اور پھر جھٹکے سے دور جاگرا۔۔۔

شکنتلا : غزال ضیغم – لکھنؤ،انڈیا

 شکنتلا 
 غزال ضیغم 
 لکھنؤ،انڈیا 
                  شفاّف پانی سے بھرا حوض جس میں سنہری روپہلی ننھی ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں ۔سفید اور گلابی کنول کے پھول دھیرے دھیرے کِھل رہے تھے ۔ان کے گول سبز پتّوں پر پانی کی بوندیں ہیرے کی طرح چمک رہی تھیں ۔
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔خوشبو دار انگنت بیلیں جھول رہی تھیں ۔ایک لمحہ کو پانی میں شکنتلا کا عکس جھلملا یا اور اسکی کھنکتی ہوئی ہنسی جنگل جاگ اٹھا ۔جھر نے بہنے لگے ۔پھلوں نے درختوں کی ڈالیوں کو جھکا دیا ۔
گہری نیند سے د شینت جاگ اٹھا ۔اچانک اسکی نظر انگو ٹھی پر پڑی ۔۔۔۔ارے ابھی تو شکنتلا کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا ۔جنگلی ہوا تھی ساتھ ۔۔۔۔کہاں گئیں تم ۔۔؟
اسنے پی ۔اے کو فون کھڑ کھڑا یا ۔
"ذرا فون نمبر بتا نا شکنتلا کا ۔۔۔؟”
نہ جانے بے چاری آشرم میں کیسی ہوگی ۔میں تو بھول ہی گیا الیکشن لڑ نے کے چکّر میں رہ گیا بر سوں بیت گئے ۔۔
"سر ۔۔۔!”
"یس ۔۔۔۔”
"کس شکنتلا کا نمبر چاہیئے ؟
"واٹ۔۔۔۔؟”
"سر جی میرا مطلب ور مالا شکنتلا ورما ؟سادھنا شکنتلا سوسودھیا ؟ شکنتلا چودھری ؟ساگریکہ شکنتلا آریہ ؟ رومیلا شکنتلا باٹلی والا ؟
"کیا بک رہے ہو ۔۔۔۔؟
(شکنتلا ۔۔۔تمہارا سر نیم کیا ہے پیاری ۔۔جسٹ آئی فارگیٹ )
"سر آپ کے کمپیو ٹر میں کئی نمبر ہیں ۔”
"پیشے سے دیکھو تو ذرا ۔۔۔”
"ساگریکہ ڈانسر ہے 
ور مالا ٹیچر ،رومیلا ٹرانسپورٹ کمپنی میں ہے ،چو دھری ہاؤس وائف ہیں ،سادھنا ٹا ئیپسٹ ہیں ۔۔۔۔”
"دیکھو وہ آشرم میں رہتی تھی رشی جی کے ۔۔ہرا بھرا جنگل تھا خوب گھنا ۔۔دن میں بھی روشنی نہیں نظر آتی تھی اتنی ہر یالی تھی ۔۔وہاں میں ہرن کا شکار کر نے ہی تو گیا تھا ۔۔”
"کس اسٹیٹ کے جنگل میں سر ؟؟”
"یاد نہیں آرہا اسٹیٹ کا نام ۔۔۔”
"سر ۔۔۔تمام جنگل کٹ چکے ہیں ۔۔۔کالے ہر نوں کا شکار شہباز خان کر چکا ہے ۔۔۔اور تمام سفید ہر نوں نے اس خوف سے خود کشی کر لی ہے کہ انکو کوئی قتل نہ کر دے "
"اڈیڈ یٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
"یس سر ۔۔۔۔”
"اچھّا2010۔ٹیلی فون انکوئری سے پو چھو ۔۔۔”
"سر وہ ٹاپ ماڈل مادھو ریما شکنتلم کا نمبر دے رہا ہے ۔۔”
"تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی لے لو ۔!”
(یہی سہی ۔۔

 

…………..

"مانگ” : انس اقبال احمد (لاہور)

 "مانگ”
  انس اقبال احمد (لاہور)
   annas_iqbal@yahoo.com

              ساری زندگی اس نے یوں ہی گزار دی تھی۔ بغیر کسی مقصد کے ۔۔۔بغیر کسی تمنا کے!!!
وہ چلتا تو یوں لگتا کہ بس ہوا کے دوش پہ کوئی تنکا تیرتا جا رہا ہے۔۔۔اڑتا جا رہا ہے‘ کبھی دائیں تو کبھی بائیں ۔۔۔کبھی ترچھا تو کبھی گھومتا۔۔۔دیکھنے والوں کو یوں ہی لگتا جیسے کھڑکی کی چوکھٹ پہ کسی کپڑے سے ادھڑا ہوا کوئی دھاگہ اڑا ہو۔۔۔جو ہوا کے زور سے کبھی ادھر کبھی ادھر زور لگاتا ہے مگر اپنی سطح نہیں چھوڑ پاتا۔اسی طرح وہ بھی اپنے قدموں کو کبھی اکھڑنے نہیں دیتا تھا۔۔۔عجیب سا سکوت تھا اس میں۔۔۔عجیب سی یکسانیت تھی۔مگر اسی یکسانیت میں اس کی زندگی چل رہی تھی۔
ایم اے کیا تھا اس نے۔۔۔ وہ بھی انگریزی میں۔سیدھا سیدھا پڑھتا رہا اور ایک جیسے گریڈز میں ساری دہلیزیں پار کر دیں۔اور سیدھا ایک جیسی رفتار سے چلتا ہوا ایک کالج میں       لیکچرر بھی تعینات ہو گیا‘ اور اب اسی رفتار سے اسو سی ایٹ پرو فیسر کی پوزیشن حا صل کر لی تھی۔
حالانکہ اس بشر کے لوگ جو نمایاں نہیں ہوتے۔۔۔کسی گروپ کا حصہ نہیں ہوتے، کسی اچھے مقام تک جلدی پہنچتے نہیں دیکھے گئے۔ بس کلرک کسی ویگن کے ڈرائیور یا ایسے ہی کسی درجے تک رہتے ہیں۔ مگر شائد اسکی یکساں رفتار نے اسے ایسا بنا دیا تھا کہ وہ غیر محسوس طریقہ سے زمانے کی ہوا کے دوش پہ چلتے ہوئے ‘ سب کی نظروں میں آئے بناء یہاں تک پہنچ گیا تھا۔
               صبح اٹھتا ۔۔۔بچپن کے سکھائے ہوئے طریقوں کے مطابق دعائیں پڑھتا۔
                یہ دعائیں جب تک ماں زندہ تھی روز صبح اٹھ کے اسے سنایا کرتا تھا۔
پھر نماز پڑھتا ۔۔۔نہاتا‘ دانت صاف کرتا۔۔۔نفاست سے استری کئے ہوئے کپڑے(جو ہر رات روٹین کے مطابق کئے جاتیتھے)پہنتا۔ سر پہ تیل لگا کر اسی طرح کھینچ کرمانگ نکالتا جس طرح ماں اپنی زندگی میں کھینچا کرتی تھی۔ماں کے ہاتھ کا پراٹھہ تو اب نہیں ملتا تھا سو خود ہی بناتا۔
                باہر جانے کا راستہ اسکے کمرے کے دروازے کی سیدھ میں صرف ایک صحن کے پار تھا۔مگر وہ حسبِ عادت تین کمرے بائیں ہاتھ کے پار کرتا۔۔۔دوسرے کمرے سے گزرتے ہوئے ہلکی سی آواز میں ایک خالی پلنگ کی طرف منہ کر کے اپنے باپ کو سلام کرتا اور آخری کمرے سے ہوتا ہوا ۔۔۔اپنے کمرے کی طرف پشت کر کے مین دروازے سے باہر نکل جاتا۔یہ اسکی شروع سے ہی روٹین تھی۔بس ایک تبدیلی آئی تھی اسکی زندگی میں۔۔۔وہ تھی جاتے ہوئے گھر کو تالہ لگانا!!!
                کالج کے گیٹ سے اندر تب تک نہیں جاتا تھا ۔۔۔جب تک وہ کسی فقیر کو دس کا نوٹ نہ تھما دیتا!
پھر غیر محسوس طور سے درختوں کے درمیان والے راستے سے ہوتا ہو ا سٹاف روم جا پہنچتا۔اسکا پہلا لیکچر آدھے گھنٹے بعد شروع ہوتا‘ اتنی دیر وہ اپنے ہاتھوں سے کھینچی ہوئی مانگ کو تھپتھپاتا رہتا۔ اس کی وہ بہت فکر کرتا تھا۔اس نے کبھی اپنے بال اور مانگ خراب نہیں ہونے دئیے تھے۔اول تو گھر سے کالج تک کا راستہ پیدل چند منٹوں کی مارتھا‘ اسی لئے ماحول بھی اسکی مانگ کو اسی کی طرح نظر انداز کر دیتا ۔یہ چھوٹے سے جانے پہچانے راستے۔۔۔ جن پہ وہ روزانہ انجان سا گزر جاتا!
مگر لیکچر دیتے ہوئے وہ یکدم انتہائی نمایا ں ہو جاتا۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے سکول میں سبق سناتے ہوئے‘ کمرہ امتحان میں یا دوڑ کے میدان میں سب سے نمایاں ہو جایا کرتا تھا۔ایک عجب سی پھرتی اور جوش اس میں عود آتا تھا!مگر لیکچر ختم ہوتے ہی یوں لگتا جیسے کسی روبوٹ کی بیٹریاں اسکے مقررہ کاموں کے بعد اتار دی گئی ہوں!!اورپھر وہ سب سے اجنبی ہو جاتا ۔ سب سٹوڈنٹ کلاس کے بعد اسے پہچان ہی نہیں پاتے تھے بلکہ اگر کوئی قسمت سے اسے باہر مل ہی جاتا تو اسے یہی محسوس ہوتا جیسے وہ کسی غلط شخص سے ملا ہو!!! حالانکہ لیکچر دیتے ہوئے جب وہ کسی پیرے، شعر یا کسی مضمون کی وضاحت کرتا، تو یہ وضاحت شاعری، نثر اور شعراء کے حوالہ جات کا ایک انتہائی خوبصورت مجموعہ ہوتی ۔خصوصاََ وہ کیٹس اور ورڈزورتھ کو اس طرح سجاتا تھاکہ وہ شاعر بھی اپنی قبروں میں عش عش کر اٹھتے ہونگے! رومانٹک موضوعات پر اسکی آنکھوں میں ایک عجب سی چمک آجاتی ‘ مگر سب سے زیادہ وہ احساسِ محرومی کے ٹاپک پر گرفت کئے ہوئے نظر آتا !
شائد یہ اسکا اپنا جذبہ تھا!!
اکثر اسکے لیکچرز کے دوران لڑکیاں لمبی سانس کھینچ کر یا آنکھ میں کوئی چیز پڑ جانے کا بہا نہ کر کے آنسو روکتی اور چھپاتی تھیں۔مگر کمرے سے باہروہ کچھ نہیں تھا۔
شادی کا اس نے سوچا ہی نا تھا۔۔۔کیونکہ اس بارے اسے بچپن میں کوئی نصیحت نہیں کی گئی تھی!
دوست احباب جو فقط کالج تک محدود تھے، جب بھی شادی کی بات چھیڑتے تو وہ الوؤں کی طرح دیدے پھاڑ کر انہیں تکتا۔ سب کا خیال تھا کہ یہ سوال اس کے کانوں کی بیرونی سطح پہ گھومتا پھرتا اسے اتنا اجنبیت محسوس کروا تا کہ وہ آخر کار اسے باہر ہی دھکیل دیتا!
وہ نہ روتا نہ ہنستا ۔۔۔مگر وہ روتا تھا۔۔۔ایک بات پر وہ بھی اکیلے!!جب کبھی حادثاتی طور پر اسکی مانگ خراب ہو جاتی تو وہ تھوڑی دیر سر پہ ہاتھ رکھے سکتے کی حالت میں کھڑے رہتا۔پھر ہوا کی طرح اڑتا ہوا گھر چلا جاتا۔غسلخانے میں جا گھستا اور ابل پڑتا۔اسے یہی لگتا کہ اسکی ماں کا دل ٹوٹ گیا ہے۔پھر وہ باہر نکلتا۔۔۔بال گیلے کرتا اور کھینچ کر دوبارہ مانگ نکال لیتا۔
آج اسکی زندگی میں ایک تہلکہ مچ گیا تھا۔کہتے ہیں کہ شہرت اور عورت کبھی نہ کبھی اثر ضرور ڈالتے ہیں۔یہ بات کہنے والے نے جس نکتہ نظر سے کی تھی اس کی زندگی میں تو وہ نظریہ بویا ہی نہیں گیا تھا‘ مگر نجانے کیسے اسکے ساتھ کچھ ہو ہی گیا۔
آج اسے ففتھ ائیر کی کلاس اسا ئن کی گئی تھی۔ وہیں اس نے اسے دیکھا۔ وہ ایک خوبصورت مگر سادہ سی لڑکی تھی۔اچھی طرح دوپٹہ اوڑے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اسے خود نہیں معلوم تھا کہ اسکی نگاہ کس جذبے کے تحت بار بار اس لڑکی کی جانب اٹھ رہی ہے! شبا بی خوبصورتی و سادگی۔۔۔ ان صفات سے اسکا کیا لینا دینا‘ مگر وہ بے بس سا مسحور ہوتا جا رہا تھا۔ بار بار اسکے اندر ایک خواہش سی بیدار ہو رہی تھی کہ وہ اسکا نام پوچھے۔۔۔مگر اس نے تو آج تک اپنی کلاس میں’’ انٹروڈکٹری سیشن‘‘ بھی نہیں کروایا تھا۔
پہلی بار لیکچر دینے میں اسے مشکل پیش آرہی تھی۔ اسکی نگاہ جب بھی اس لڑکی پر پڑتی ،بے اختیا ر اسکا ہاتھ اپنے سر پہ جا ٹھہرتا‘ وہ اپنی مانگ ٹٹولتا اور اسکی برقراری محسوس کر کے مطمئن ہو جاتا۔ پہلی بار پڑھاتے ہوئے وہ کسی سٹوڈنٹ کی طرف مرکوز ہو رہا تھا۔ وہ خوفزدہ ہو گیا۔اس نے جلدی میں لیکچر ختم کیا اور ہانپتا ہوا سٹاف روم کی جانب ڈھولتا گیا۔
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیوں؟آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے!!سینتس سالہ زندگی میں پہلی بار اسے کوئی پرایا پن اپنے اندر محسوس ہو رہا تھا!!!مگر اس پرائے پن میں چھپی ہوئی کوئی بے انتہا اپنائیت تھی۔وہ سمجھنے سے معذور تھا۔
گھر پہنچ کر بھی زندگی میں پہلی بار اس نے سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر کچھ سوچا ۔۔۔وہ بھی کسی اور کے بارے میں!!!حالانکہ اس نے کبھی اپنے بارے میں بھی نہیں سوچا تھا۔ بار بار اسکے ذہن میں ایک خیال آتا کہ اس لڑکی کا نام ہی پوچھ لیتا۔۔۔کیوں؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ ہاں۔۔۔اس لڑکی کا خیال آتے ہی وہ اپنی مانگ ضرور ٹٹولتا رہاتھا۔اورپھر وہ سو گیا۔
اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک خوبصورت سر سبز خطہ میں ہے۔ چاروں طرف بادل چھائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک درخت سے بندھے ہوئے جھولے پہ جھولا جھول رہا ہے۔جھولا جھولتے ہوئے یکدم ہوا کی مخالفت سے اس کی مانگ خراب ہو جاتی ہے۔وہ گھبراہٹ میں جھولے سے گر جاتا ہے۔۔۔۔پھر اسکی آنکھ کھل گئی۔ رات کا آخری پہر جا رہا تھا۔وہ جلدی سے اٹھا۔ ہاتھ سر کی طرف گیا۔۔۔مگر گھڑی دیکھ کر واپس لیٹ گیا۔کچھ دیر خواب کے بارے میں سوچتا رہا اور آخر سو گیا۔
اگلے دن پہلی بار اس نے نکلتے ہوئے دوبارہ آئینہ دیکھا تھا۔ مانگ کو برقرار پا کے مطمئن ہو گیا۔لیکچر کے لئے جاتے ہوئے بس اس کے ذہن میں ایک ڈوپٹہ اڑا ہوا تھا اور نام، نام، نام کی گردان چل رہی تھی۔آخر اس نے فیصلہ کر لیا!
کلاس روم میں پہلی بار اس نے انٹروڈکٹری سیشن کروایا۔ففتھ ائیر تھی ۔۔۔اس لیے انہوں نے سمجھا شائد یہ بھی ایک روائت ہے کہ دوسری کلاس میں تعارف ہوتا ہے‘ اسی لئے کسی نے زیادہ حیرت کا اظہار نہیں کیا۔آج اس نے کلاس بھی نارمل طریقے سے پڑھائی تھی۔
واپسی میں اسے صرف ایک نام یاد تھا۔۔۔ماریہ! باقی نام اس نے سنے بھی نہیں تھے!!
آجکل کئی کام پہلی بار ہو رہے تھے!!!
اس رات اس نے پھر خواب دیکھا۔
خواب اسی طرح شروع ہوا۔جھولا جھولتے ہوئے اسکی مانگ خراب ہو جاتی ہے‘ وہ گھبراہٹ میں گر جاتا ہے‘ پھر وہ کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھتا ہے۔ اٹھتے ہوئے وہ عادت کے مطابق سر پہ ہاتھ پھیر کر اپنی مانگ محسوس کرتا ہے۔مگر مانگ خراب ہوتی ہے ۔۔۔و ہ بوکھلاہٹ میں ادھر ادھر اپنا عکس دیکھنے کے لئے بھاگتا ہے۔ ہر بار سر پہ ہاتھ پھیر کر وہ گھبرا جاتا ہے۔ پھر اسکی آنکھ کھل گئی۔
اگلے دن لیکچر کے دوران اسکے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ماریہ کو مخاطب کرے۔جھجکتے جھجکتے آخر اس نے اس سے ایک سوال کر ہیدیا۔ گھبراہٹ میں اس نے سوال اس ’’چیپٹر‘‘ سے پوچھا تھا جو ابھی پڑھایا بھی نہیں گیا تھا۔یقینالڑکی کو جواب آنا ہی نہیں تھا‘ اس پہ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سوال کسی اور چیپٹر سے متعلق ہے۔اس نے اس لاعلمی کو اپنی نا لائقی متصور کیا۔شرمندگی کے تاثرات اس کے گلابی چہرے پر شفقی بہار لے آئے۔ اسکی بڑی بڑی آنکھیں چمکیلی ہوتی گئیں۔اسے لگا کہ ماریہ کی آنکھوں کی بڑھتی ہوئی چمک بڑھتے بڑھتے آئینہ بن گئی ہے۔ اسے اس میں اپنی مانگ ٹھیک سے نکلی ہوئی نظر آنے لگی۔اس نے گھبرا کر پلکیں جھپکائیں۔ اب آئینہ پگھلنے لگا تھا۔ پگھلتے پگھلتے آئینہ آنسوؤں کی ایک جوڑی بن چکا تھا۔ماریہ کی آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو تھے۔ اسے بہت افسوس ہوا! اس نے گھما پھرا کر اس سوال کو اسی سبق سے منسلک کر کے موضوع بدل دیا۔
واپسی پر وہ افسوس کرتا رہا۔پہلی بار دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ اپنی مانگ کو پرکھ نہیں رہا تھا۔کیونکہ آج اسے پہلی بار اپنی مانگ کہیں اور نظر آئی تھی!!!
اس رات اس نے پھر خواب دیکھا!
اس بار منظر وہاں سے شروع ہوا جہاں وہ آئینے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔بار بار اسکے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اسکی ماں اس سے ناراض ہو گئی ہے۔اس کا دل ٹوٹ رہا ہو گا کہ اس نے اس کی اتنی پیار اور محنت سے بنائی ہوئی مانگ خراب کر دی ہے۔منظر بدل جاتا ہے۔ اب وہ درختوں کے ایک جھنڈ سے نکل کر ایک سرسبز میدان میں داخل ہو رہا ہے۔چاروں طرف انتہائی خوبصورت پرندے اڑ رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اس کے بال بکھرے ہوتے ہیں۔۔۔نجانے کیوں پہلی بار وہ خود کو ان بے ترتیب بالوں میں اچھا محسوس کرتا ہے۔ وہ خود میں ایک بانک پن سا محسوس کرتا ہے۔’’ ورڈزورتھ ‘‘کے کھینچے ہوئے منظر میں خود کو وہ’’ بلیک‘‘ کا ایک نائٹ محسوس کرتا ہے۔ یکدم وہ خود کو ایک خوبصورت سفید گھوڑے پر سوار پاتا ہے۔ اس پہ سوار وہ کسی قلعہ کی جانب تیزی سے رواں ہے۔بار بار وہ مانگ بنانے کے لئے سر کی طرف ہاتھ لے جاتا ہے مگر ہر بار گھوڑا دوڑنے سے لگنے والے جھٹکے اسے ایسا کرنے سے روک دیتے ہیں۔
اسے ایک محل میں جانا ہے جہاں اسے اپنی ماں سے ملنا ہے جو ہاتھ میں کنگھی لئے اسکی منتظر ہے۔ یکدم گھوڑا لڑکھڑا کے گر جاتا ہے۔ اسکی آنکھ کھل گئی۔مگر اس دفعہ وہ گھبرایا نہیں تھا!!!
اگلے دن اس نے جان بوجھ کر کئی چیپٹرز چھوڑ کر ایک المیہ سی کہانی کو چنا۔پھر جب اس نے اسے اپنے مخصوص طریقے سے پڑھایا تو پوری کلاس پر جیسے وجد طاری ہو گیا۔ سب گم سم اسے سن رہے تھے۔ہر بار کسی پرزور ادائیگی پر اور کسی قدرتی رنگ میں ڈوبی اداسی کو واضح کرتے وہ مانگ پر ہاتھ پھیر کر ماریہ کو خصوصی دیکھتا۔ وہ ہر شے سے بے نیاز اس کے لفظوں میں محصور گھلتی دکھائی دے رہی تھی۔حالانکہ در حقیقت سب کی یہی حالت تھی‘ مگر وہ کیا کرتا‘ اسے نظر ہی وہی آرہی تھی۔جب تک وہ پڑھاتا رہا اس نے دیکھا کہ سب کرسیاں اور بنچ خالی ہیں۔ کمرے میں صرف وہ اور ماریہ ہیں۔وہ پڑھا رہا ہے۔۔۔ماریہ پڑھ رہی ہے۔ وہ بول رہا ہے۔۔۔ماریہ سن رہی ہے ۔
اچانک سب آکے بیٹھ گئے۔ اسکے لیکچر کا وقت ختم ہو گیا تھا۔
ہوا چل رہی تھی۔ سٹاف روم کی کھڑکی سے سر نکال کر آج اس نے پہلی بار ہوا محسوس کی تھی۔ایک دم ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا‘ اس نے تیزی سے سر پہ ہاتھ رکھ کے بالوں کو خراب ہونے سے بچایا اور سر اندر کر لیا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ماریہ میں وہ کیا دیکھ رہا ہے۔سوچتے سوچتے اسکی آنکھیں چمک اٹھیں۔وہ گھر کی طرف چل پڑا۔
اس نے پہلی بار اپنی ماں کی بند الماری کھولی۔کافی گردوغبار تھا۔اس نے تصویروں والا البم نکالا۔یہ البم اسکی ماں اسے اپنے ساتھ لٹا کر اکثر دکھایا کرتی تھی۔ایک تصویر اسے ہمیشہ بہت اچھی لگتی تھی۔اس تصویر میں وہ دو برس کے لگ بھگ تھا اور اسکی ماں نے اسے اپنی گود میں اٹھایا ہوا تھا۔اس نے غور سے دیکھا تو اس تصویر میں اسکی ماں نے اسی طرح دوپٹہ لپیٹا ہو ا تھا جس طرح ماریہ لیتی تھی۔اسکے علاوہ چہرے کی ساخت میں بھی کافی مشابہت تھی۔اس نے ایک گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے ٹک کر اس تبدیلی کا سوچنے لگا۔
رات اس نے پھر خواب دیکھا۔
اب منظر وہیں سے شروع ہوا جہاں سے وہ قلعے کی طرف جاتے ہوئے گھوڑے سے گرا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ گھوڑے سے گر کر بیہوش ہو گیا ہے۔پھر منظر بدلتا ہے اور وہ ہوش میں آتا ہے۔ وہ خود کو ایک مسہری پر پاتا ہے۔یہ مسہری ایک چار دیواری کے اندر ایک خوبصورت سے لان میں پڑی تھی۔پچھلی طرف ایک مصنوعی آبشار چل رہی تھی۔باہر ہلکا ہلکا ٹریفک کا شور تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے زمانہ بدل گیا ہو۔وہ اٹھا تو اس نے دیکھا کے مسہری کے سر والی جانب ایک آئینہ لگا ہوا تھا۔اس میں اس نے اپنا چہرا دیکھا۔اسکی مانگ نہائت نفاست سے کھنچی ہوئی تھی۔پھر منظر میں یکدم تبدیلی آجاتی ہے۔اسکا سر اپنی ماں کی گود میں ہوتا ہے۔وہ اپنی ماں سے لپٹ جاتا ہے۔
’’امی۔۔۔اتنے برسوں بعد آپ مجھے پہلی بار ملنے آئی ہیں۔۔۔‘‘۔اس نے اپنی ماں کی گود میں سر چھپاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بیٹا ۔۔۔میں تو ہمیشہ تیرے ساتھ ہی رہی ہوں۔ہر روز میں ہی تو تیرے بالوں میں کنگھی کرتی ہوں۔دیکھ میں ہی تو تیری مانگ کھینچتی ہوں۔‘‘۔اسکی ماں نے اسکا چہرا اپنی جانب گھماتے ہوئے کہا۔
’’میری اچھی امی۔۔۔۔اچھا امی ایک بار پھر میرے بال کنگھی کر دو نا۔‘‘اس نے بچوں کی طرح مچلتے ہوئے کہا۔
اس کی ماں نے محبت سے اسکی ناک پہ چوما اورکنگھے سے اس کے بال سنوارنا شروع کر دئیے۔جب وہ سنوار چکی تو اس نے اسکا چہرا آئینے کی طرف پھیر دیا۔
منظر بدلتا ہے اور اسے اپنے گھر والا آئینہ نظر آتا ہے۔اس میں وہ دیکھتا ہے کہ اس کے بالوں میں کوئی مانگ نہیں ہوتی۔سارے بال بڑی نفاست سے اوپر کی طرف الٹے گئے تھے۔وہ حیرت سے اپنی ماں کی طرف گھوم جاتا ہے۔پیچھے مڑتا ہے تو چونک جاتا ہے۔اسکی ماں کے ساتھ اسی طرح کے کپڑوں میں اسی طرح دوپٹہ اوڑھے ماریہ بیٹھی تھی۔
’’امی جی۔۔۔یہ۔۔۔۔یہ ماریہ ہے۔‘‘۔اس نے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بے چینی سے کہا۔
اسکی ماں نے شفقت سے اسکا ہاتھ کھینچا۔۔۔ماتھے پر پیار کیا اور بولی۔
’’نہیں بیٹا۔۔۔اس کا نام تو زندگی ہے!!!‘‘
اسکی آنکھ کھل گئی۔۔۔وہ سیدھا آئینے کے سامنے گیا۔اس نے پہلی بار اپنے بالوں سے مانگ ختم کی۔اسکے ہونٹوں پہ نہائیت دل آویز مسکراہٹ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھید : جمیل عباسی – سندھ،پاکستان

  بھید
  جمیل عباسی 
  سندھ،پاکستان

                               سعیداﷲ صاحب جیسا انسان میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ میٹھی طبیعت، ٹھنڈے ٹھار شخص، پر سکون چہرہ اور صلح کل کے علمبردار۔ جب بھی مجھے وہ راستے میں نظر آتے بھاگ کر ان سے لپٹ جانے کا جی کرتا تھا مگر لڑکیوں کی دوری بنائے رکھنے والی مجبوری آڑے آجاتی۔ صبح کو اسکول جاتے وقت وہ اکثر راہ میں روبرو ہوجاتے۔ اس وقت وہ اپنی بک شاپ کی طرف جارہے ہوتے جو شہر کی مرکزی بازار میں قائم تھی۔ مجھے دیکھتے تو قریب آکر سر پر ہاتھ پھیرتے اورابا کا احوال پوچھتے ۔ ابا ایک رسالے میں سب ایڈیٹر تھے اور مطالعے سے دل رکھتے تھے اس لئے سعیداﷲ صاحب سے اچھی دوستی اور قربت تھی۔ اکثر ان کی شاپ پر جاتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار میں بھی ساتھ چلی جاتی تھی ۔ شاپ پر میرے پہنچتے ہی سعیداﷲ صاحب میرے سر پر ہاتھ پھیرنے کے بعد بک شاپ میں کام کرنے والے لڑکے امتیاز سے کہتے 
                              ”صاحب ذرا ثمینہ بیٹی کواس کی مرضی کی بکس نکال کر دو تب تک میں ندیم میاں سے دو ہاتھ کرلوں۔“ سعیداﷲ صاحب امتیاز کو ہمیشہ ”صاحب“ کہتے تھے اور آنے والوں کو بتاتے ”بھئی ہم تودکھاوے کے لئے ہیں۔ اصل مالک تو امتیاز صاحب ہیں۔ وہی سارا کام کرتے ہیں، دیکھتے ہیں۔ ان کی مہربانی ہے کہ خود کھڑے ہوکر ہمیں کرسی پر بٹھا رکھا ہے۔“ امتیاز مجھے کتابیں نکال کر دیتا اور میں کرسی پر بیٹھ کر انہیں الٹنا پلٹنا شروع کردیتی۔ ادھر ابا اور سعیداﷲ صاحب کی باتیں چلتی رہتیں جو ایک مباحثہ سے ذرا کم درجے پر ہوتیں۔ ابا لیفٹیسٹ، ہر بات اور واقعے کو عقل سے پرکھنے کے عادی، ادھر سعید اﷲ صاحب اپنے ہی مزاج کے تھے۔ کسی بات میں شبہ رکھنا، کسی کو غلط جاننا ان کے مسلک میں ہی نہیں تھا۔ ابا جب کبھی ان سے کسی انسان کی غلط کاری،افسر کی کرپشن یا سیٹھ کو ذخیرہ اندوزی کی خبر کرتے اور اس شخص کے بارے میں کچھ بولنے لگتے تو سعیداﷲ صاحب اس بات کی تسلیمیت سے منکر ہوجاتے۔ وہ بڑی ہی رس بھری زبان سے ابا سے کہتے 
”ندیم صاحب آپ نے اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت پالی ہے یا بھیدوں کو جاننے کا عمل سیکھ لیا ہے؟ چیزیں جیسی نظر آتی ہیں وہیں تک ان کو دیکھا کرو، تم باطن تک پہنچنے کی کوشش کیوں لگاتے ہو؟“ 
                              ”سعیداﷲ صاحب آپ نے آنکھوں پر کھوپے چڑھا کر رکھے ہیں اور آپ کو روز روشن میں بھی دیکھنا پسند نہیں تو کوئی کیا کرے“ ابا ان کی بات پر چڑ جاتے۔
                                ”ندیم صاحب بات یہ ہے آپ باطن کو جاننے کی آرزو رکھتے ہیں اورہم ظاہر تک پہنچنے کے قابل بھی نہیں ہوئے۔ سو ہم کو یہ ظاہر ہی بھاتا ہے اور پسند ہے۔ “ اور پھر ان کے معصوم چہرے پر شوخی کے نرم تاثرات ابھرتے ”بھئی وہ کہتے ہیں نا پسند اپنی اپنی۔“ سعیداﷲ صاحب یہ کہہ کر درمیانہ آواز میں قہقہہ لگاتے اور اسے اس وقت تک جاری رکھتے جب ابا بھی ان کے قہقہے میں شریک ہوجاتے۔
ان دنوں جب میں نویں کلاس میں تھی اور میرا جسم جسمانی تبدیلیوں کی زد میں تھا ، ایک دن میں نے اماں کی اباسے کی ہوئی باتیں سن لیں۔ اماں ابا کو سعیداﷲ صاحب کی بیگم زینت کے بارے میں خبر کر رہی تھیں۔ زینت جو ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں بقول اماں کہ اسکول کے ہی ایک ماسٹرداؤد احمد کے ساتھ ان کے بارے میں کچھ ناصحیح قسم کی باتیں ہورہی ہیں ۔
                              ”شہربانو تم کب سے ایسے خیال رکھنے لگی ہو کہ کسی کے کردار کے بارے میں ناشائستہ سوچو؟“ شایدابا کو اماں کی بات بالکل نہ بھائی تھی ۔
                                 ”اے ہے میں کیوں ایسے کہنے لگی؟؟ پچھلے چھے ماہ سے ہر طرف یہی باتیں ہورہی ہیں۔ تمہیں اس لئے بتا رہی ہوں کہ اپنے دوست کو بتادو کہ وہ اپنی بیوی پر کچھ نظر تو رکھے۔“دو دن بعد جب ابا سعیداﷲ صاحب کے ہاں جانے لگے تو میں بھی ساتھ ہولی۔ ابا نے کنی کترانے کی بہت کوشش کی مگر میں بھی اپنے ہٹ کی پکی تھی۔ ساتھ جاکر ہی دم لیا۔ بک شاپ میں پہنچ کر سعیداﷲ صاحب سے پیار لے کر میں قدرے لاتعلق ہوکہ راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کی بک اٹھاکر پڑھنے لگی۔ ابا نے مجھے لاتعلق محسوس کرکے سعیداﷲ صاحب سے بات چیت شروع کی۔ میرے تمام تر حسیات کا دائرہ ان دونوں کی طرف لگا ہوا تھا۔ رات سے ہی مجھے کھوج لگی ہوئی تھی کہ اس معاملے پر کیا باتیں ہوتی ہیں اور کیا حل نکلتا ہے۔ شاید یہ کھوجی طبیعت ابا سے مجھ میں آئی تھی۔ ابا نے شروعات ادھر ادھر کے واقعات سے کی اور پھر جب اصل بات پر آئے تو ان کے لہجے میں جھجھک آنے لگی۔
                                   ”سعیداﷲ صاحب وہ ایسے ہے کہ بات کچھ مناسب نہیں اور ابھی تک میں خود بھی بات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کر پایا۔ مگر یوں بھی ہے کہ نہ بتانا زیادہ نامناسب لگتا ہے۔“ ابا کی زبان سے اٹک اٹک کر جملہ پورا ہوا۔
”ندیم صاحب نامناسب بات کچھ نہیں ہوتی۔ بات صرف بات ہی ہوتی ہے اور اس کی کوئی شکل تھوڑی ہوتی ہے کہ مناسب یا نامناسب ہو۔“ 
”سعید بھائی وہ بھابھی زینت اور داؤد احمد کے بارے میں کچھ غلط باتیں سننے میں آ ئیں۔ مجھے تو بہت برا لگا۔ پھر جب معلومات لیں تو تصدیق ہوئی کہ واقعی ایسے ہی ہے۔ تو آپ ذرا بھابھی کو سمجھائیں اور خیال رکھیں۔“ ابا نے بات ختم کی تو سعیداﷲ صاحب کے روشن چہرےپر معصومانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
”ندیم صاحب زینت خود سمجھدار ہے اور میں بھلا اس کا کیوں خیال رکھوں گا۔ وہ خود اپنا بہتر خیال رکھ سکتی ہے۔“
”سعید بھائی آپ مجھے اپنے سگوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ آپ کی عزت میری اپنی عزت ہے۔ داؤد کا کردار اچھا نہیں۔ وہ بھابھی کو بہکابھی سکتا ہے۔“
”کیا بہکائے گا ندیم صاحب؟“
                                        ”مجھے ایسے الفاظ کہنے پر معاف کیجئے گا مگر بشیر چپڑاسی کا کہنا ہے کہ زینت بھابھی داؤد کے ساتھ بھاگ جانے والی ہے۔“ یہ کہتے ہوئے شرمندگی اور افسردگی سے ابا کی پیشانی پر پسینے میں بھیگنے لگی۔
”ندیم صاحب مجھے آپ کی محبت اور تعلق میں خلوص کے سوا کچھ نہیں لیکن بھاگتے تو جانور اور غلام ہیں۔ زینت نہ تو جانور ہے نہ غلام۔ “ اتنا کہہ کر ہنس پڑے۔ پھر بات کو جوڑے ہوئے کہنے لگے”زینت ایک آزاد انسان ہے۔ اپنی مختار کل ہے۔ بالفرض محال اگر وہ جانا بھی چاہے تو میں کون ہوتا ہوں اسے روکنے والا؟ اگر وہ میرے ساتھ رہنے میں خوش نہیں ہے تو اسے حق ہے کہ وہ اپنی خوشی تلاش کرے۔ اور اگر وہ اسے کہیں بھی حاصل ہوتی ہے تو مجھے اس کی خوشی میں خوش ہونا چاہے۔ مجھے اس کی مرضی کے خلاف اس کا میرے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں لگتا۔“ یہ کہتے ہوئے بھی ان کے چہرے پر نرم مسکراہٹ دھری تھی۔ ابا کے پاس کہنے کے لےے شاید کچھ نہ تھا۔ کچھ دیر خاموشی ہوگئی۔ پھر سعیداﷲ صاحب بولنے لگے
                                     ”ندیم صاحب اگرچہ جب میں سوچتا ہوں جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ زینت واقعی مجھے چھوڑ کر کسی کے ساتھ چلی جائے تو دل میں پتا نہیں کیوں ایک عجیب زخم زخم کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ مگر میرا خیال ہے میرے اندر ایسی کیفیت کا ہوجانا ٹھیک نہیں ہے۔ شاید جو کچھ میں زبان سے کہہ رہا اس میں مخلص نہیں۔ لیکن میں کوشش کروں گا کہ اپنے آپ کو درست کرلوں۔“ سعیداﷲ صاحب نے بات ختم کی تو ابا اٹھ کھڑے ہوئے اور سعیداﷲ صاحب کو کھینچ کر اپنے گلے سے بھینچ لیا
                                     ”یار پتا نہیں تم کہاں سے یہاں آگئے ہو؟“ بات ختم کرکے ابا جلدی سے بک شاپ سے اتر گئے۔ اتنی جلدی میں تھے کہ مجھے بھی بھول گئے۔ میں دوڑ کر جب ان کے ساتھ جا ملی تو دیکھا اباآنکھیں پونچھتے جارہے تھے۔ مہینہ ایک ہی گذرا کہ زینت سعیداﷲ صاحب کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ رات کو ابا اماں سے باتیں کرتے ہوئے بار بار وقفے لیتے اپنی حالت پر قابو کرتے جاتے تھے
                                       ”شہربانو کیا بتاؤں مجھے جیسے ہی زینت کے جانے کا پتہ لگا میں اسی وقت سعیداﷲ کے پاس جا پہنچا۔ کیا عجیب آدمی ہے۔ مجھے کہنے لگا”ندیم صاحب اگر زینت مجھے کبھی زبان سے کہتی تو میں خود اسے وہاں چھوڑ آتا۔ لیکن زینت کی زندگی ہے، اس کی مرضی ہے۔ میں نے طلاق نامہ لکھواکر اسے پہنچوادیا ہے۔ اور ہاں مجھے اس کے جانے پر تکلیف تو ہوئی پراب کم ہے۔ میرا خیال ہے میں ابھی تک خود درست نہیں کرپایا۔“ سنا تم نے شہربانو۔؟ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ سعیداﷲ اس دنیا کا باسی ہی نہیں۔ وہ جیسے ہم سنتے ہیں نا کہ فرشتوں جیسی معصومیت ،تو بس سمجھو کہ ایسا ہی ہے۔“ 
”اے میاں اب بس بھی کرو۔ ہر وقت سعیداﷲ کے گن گائے جارہے ہو۔ یہ تو بے حیائی کی حد ہی ہے کہ کہتے میں اپنی بیوی کو خود وہاں چھوڑ آتا۔ تم بھی حد کرتے ہو کہ اس بے غیرتی کو فرشتوں کی سی معصومیت کہے جارہے ہو۔“ اماں ابا کی باتوں جلال میں آگئی تھیں۔
                                        ”یہ تمہارے اندرتمہارے ملا والد کا اثر گھسا ہوا ہے۔ او کم عقل جب خود ہی کہتے ہو کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے تو اسے آزادی سے اپنی زندگی گذارنے کا حق بھی تو دو۔ اگر زینت سعیداﷲ کے ساتھ زندگی بتانے میں خوش نہیں ہے تو اسے اختیار حاصل ہونا چاہے وہ جہاں چاہے، جس کے ساتھ چاہے اپنی زندگی گذاردے۔ اور مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اپنا ان چاہا ہونا جاننے کے بعد بھی زندگی اکٹھے گذارنے پر یقین کیوں رکھتے ہیں؟ دراصل ہم لوگ انسان سے نہیں جانور سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ جو پالتو کی طرح ہو ۔اس کی خوشی غمی اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا حتیٰ کہ اس کے غیر اختیاری احساسات کی رسی بھی ہمارے قبضے میں ہو۔ وہ ہر گھڑی ہر پل وہی کرے جو ہماری سوچ اور خواہش کے عین مطابق ہو۔ شہربانو شاید یہ باتیں تمہیں سمجھ نہ آئیںگی لیکن ہم لوگ شادی بھی اس لئے کرتے ہیں تاکہ ایک اور انسان کی زندگی خود گذار سکیں۔“
                                        ”اے میاں تمہاری باتیں مجھے پہلے سمجھ آئی ہیں جو اب آئیں گی؟ اب میں نے چپ کرکے سب سن لیا نا؟۔ اور کوئی بات رہ گئی ہو تو وہ بھی سنا ڈالو تاکہ پھر میں آرام سے سو سکوں۔ نہیں تو پھر نیند سے اٹھا کر سناتے رہو گے۔“ اماں کو ابا کی بات پر تاؤ آرہا تھا۔ اس کے بعد خاموشی ہوگئی۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ ابا اب کچھ دن کم ہی بات کریں گے۔ زینت کے جانے کے چند دن بعد تک سعیداﷲ صاحب اکیلے رہے پھر ان کے ہاں ان کی بہن رضیہ خاتون رہنے کو آگئیں۔ رضیہ خاتون کے بارے میں عجیب عجیب کہانیاں محلے کے گھروں میں سفر کرتی رہتی تھیں۔ ان کی پہلی شادی ایک دیہاتی زمیندار کریم خان سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ ماہ بعد ہی وہ اپنے شوہر کو دیہات میں سے اٹھا کر شہر میں آبسیں۔ چند سال بعد کریم خان کی فوتگی کے بعد انہوں نے اپنے سے کم عمر اور کریم خان کے بھانجے ذوالفقار سے بیاہ کرلیا۔ اسی بنا پر لوگ کریم خان کی بے وقت موت، اس کی دولت ہتھیالینے اور ذوالفقار سے اس کے تعلقات کے بارے میں عجیب عجیب باتیں پھیلاتے تھے۔ مگر ہمارے ہاں ایسے تذکرے کم ہی ہوتے کہ ابا کو ایسی باتیں متوحش کردیتی تھیں۔ خیر میں وقت کے ساتھ میٹرک میں جا پہنچی اور ان دنوں امتحانوں کی سخت تیاریوں میں دن گذارتی تھی کہ ایک شام اچانک ابا پریشانی و بدحواسی کے ساتھ گھر آئے گھر میں رکھے پیسے اماں سے لئے اور اسی طرح بغیر کچھ کہے سنے رخصت ہوگئے۔ اماں کو فکر مندی نے گھیرلیا کیونکہ ابا نے ان کے پوچھے جانے والے سوالات کا کچھ جواب نہ دیا تھا اور نہ ہی ایک لمحے کے لےے گھر میں رکے تھے۔ اماں وضو کر کے چوکی پر جابیٹھیں اور دافع بلیات کا وظیفہ کرنے لگیں۔ مجھے بھی ابا کی عجلت اور ہراساں صورت نے بے چینی میں ڈال دیا۔ میں ممکنہ پریشانیوں کے اندازہ لگاتی صحن میں گھومتی رہی۔ رات کو محلے کی مسجد کے لا ؤڈ اسپیکر سے اعلان سنائی دیا”سعیدﷲ صاحب انتقال کرگئے ہیں، جنازہ نماز کل صبح دس بجے عیدگاہ ادا کی جائے گی“۔ سن کر مجھے یقین نہیں آیا۔ جسم گویا تمام حواسوں سے خالی ہوگیا۔ عجیب سنسناتی کیفیت محسوس ہورہی تھی۔ یہ تب تک مجھ پر طاری رہی جب تک اگلے دن ابا سعیداﷲ صاحب کی تدفین سے فارغ ہوکر گھر نہیں آگئے۔ ابا کے آنے کے بعد میں ان سے لپٹ کر بہت روئی۔ ابا میری کیا ڈھارس بندھاتے خود ان کو آنسوؤں پر قابو نہ تھا۔ کافی دنوں بعد ابا جاکر سعیداﷲ صاحب کی موت پر بولنے کے قابل ہوئے۔ اس رات میں ان کی باتیں سن رہی تھی۔
                                    ”رضیہ جب سے اپنا گھر چھوڑ کر سعیداﷲ کے ہاں آٹھہری تھی مجھے تب سے ہی یہ خیال رہتا تھا کہ وجہ کیا ہے؟ میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس کا شوہر اس کے لئے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گیا ہےاور موجودہ میاں ذوالفقار کی بھی تھوڑی بہت زمینداری ہے تو پھر اپنا بنگلہ چھوڑ کر سعیداﷲ کے گھر رہنا؟ یہ بات میرے ذہن میں سوالات پیدا کرتی تھی اور پھر مجھے سوالوں کا جواب مل گیا۔“ ابا نے اتنی بات کہی پھر ہچکیوں نے ان کی باتوں کا دم گھونٹ دیا۔ ”اور اچھا ہوا کہ سعیداﷲ مر گیا ۔ اگر ایسے الزام کے بعد وہ زندہ رہتا تو میرے اندر اسکے زندہ رہنے پر سوالات پیدا ہوجاتے۔رضیہ نے صرف دوکان اور جگہ پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے معصوم بھائی پر ایسا گندہ الزام لگادیا کہ اس کا دل سہار نہ سکا اور پھٹ گیا۔ میں آفیس میں تھا جب مجھے فون آئی کہ سعیداﷲ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ ہسپتال میں تمہیں یاد کر رہا ہے میں بھاگم بھاگ پیسے اٹھا کر وہاں پہنچا۔ سعیداﷲ مشینوں میں جکڑا ہوا تھا دوتین ڈاکٹر اس کے گرد کھڑے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا کہ میرے پاس وقت نہیں۔ ڈاکٹروں کی کوششیں کچھ کام نہ آئیں گی۔ میری بات سن لو ۔میں اب زندہ نہیں بچنے والا۔ پھر میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنے قریب ہونے کو کہا اور اپنی نحیف آواز میں کہنے لگا”ندیم میاں میں ہمیشہ تمہیں کہتا تھا کہ چیزوں کو ان کے ظاہر سے دیکھا کرو۔ ان کے بھید اور باطن تک نہ جایا کرو مگر میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اس بات کے ظاہر تک نہ رہنا، اس پر اعتبار مت کرلینا۔ رضیہ نے مجھ پر اپنے ساتھ زنا کا الزام لگایا ہے۔ ندیم میاں تم جانتے ہو کہ میں اتنا نیچ اور کمینہ نہیں ہوسکتا۔“ شہر بانو اس جملے کے بعد بھی سعید الله بولتا رہا مگر میں کچھ سمجھ نہیں پایااور پھر بولتے بولتے اس کی ڈوبتی ابھرتی آواز خاموش ہو گئی۔ اتنا کہہ کر ابا ہچکیاں لے کے رونے لگے۔ مجھے اماں کی سسکیاں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ 
                              ”شہربانو مگر ایک اور بات بھی ہے جب کا بھید میری سمجھ سے باہر ہے۔ آج شام قبرستان گیا اور فاتحہ پڑھ کر واپس ہونے لگا تو گورکن نے آکر راستہ روکا۔ کہنے لگا کہ بابو جی ایک عجب بات روز دیکھتا ہوں مجھ ان پڑھ کو سمجھ میں نہیں آتی۔ رات کے آخری پہر میں کتے آکر اس قبر کے گرد بیٹھ جاتے ہیں اور پھر پو پھوٹنے تک تھوتھنیاں آسمان کر طرف اٹھائے روتے رہتے ہیں۔“ٍٍ