ٹیکسیاں : قُربِ عبّاس، لاہور پاکستان
ٹیکسیاں
قُربِ عبّاس، لاہور پاکستان
زینت کی کلائی میں چوڑیا ں کھنکتی تھیں، مگر شاہد ان کی کھنک کو کب سنتا تھا وہ تو اپنے اندر بجنے والے سکّوں کی چھنکار کے تابع تھا۔
سورج کی ٹھنڈی روشنی کمرے میں داخل ہوچکی تھی۔ زینت نے آنکھیں کھولیں اور انگڑائی لی تو جسم پر طاری نیند کے خمار کی میٹھی سی تسکین کو محسوس کیا، چوڑیوں کی کھنک سے پہلو میں لیٹے شاہد کی آنکھ کھل تو گئی لیکن زینت نے جیسے ہی اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھا تو شاہد کو یاد آیا کہ وہ اٹھتے ہی سگریٹ ضرور پیتا ہے، سو اُس نے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ اٹھایا اور سلگانے لگا۔ زینت کے ماتھے پر بل آئے:
"ضروری ہے کہ آنکھ کھلتے ہی آپ سگریٹ پئیں؟”
"ہوں۔۔۔” شاہد نے ہلکی سی آواز میں کہا اور گہرا کش لگایا۔
"اس کا دھواں مجھے چڑھتا ہے۔ "
"تو باہر چلی جایا کرو۔” شاہد نے لاپروائی کے ساتھ جواب دیا
جواب سن کر زینت نے سگریٹ چھیننے کی کوشش کی تو وہ جھنجھلا کر بولا:
"عجیب واہیات عورت ہو۔ بھئی اگر دھواں نہیں پسند تو باہر چلی جاؤ۔ ایسی بچگانہ حرکتیں کرتی اچھی نہیں لگتیں ۔ "
"بچگانہ نہیں ہے، میرے سر میں۔۔۔”
"میرے کپڑے رکھ دئیے تھے؟ ” شاہد نے زینت کی بات سُنے بغیر سوال آگے رکھ دیا۔
"جی رکھ دیئے تھے۔ "
"اور جو ڈاکیومنٹس میں کل لے کر آیا تھا، وہ بھی؟”
"جی وہ بھی رکھ دئیے تھے۔ "
"ہوں۔۔۔ کپڑے استری کر دو، مجھے جلدی نکلنا ہے۔” شاہد نے بستر سے اٹھتے ہوئے کہا اور باتھ روم میں چلا گیا۔
زینت نے ریمورٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا تو ویمن ڈے کی خصوصی نشریات کا لوگو سکرین کے ایک طرف کونے میں گھوم رہا تھا اور ایک خوبصورت نوجوان عورت ہاتھ میں ٹیبلٹ لیے کہہ رہی تھی:
"دھرتی کی زرخیزی اور شہر کی خوشحالی کے لیے مصر کی عزّا اور بابل کی عشتار کے مندروں میں عورت کو ویشیا بنا کر بیٹھا تو دیا گیا مگر دورِِ حاضر میں عورت اپنا مقام سمجھ رہی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پاؤں پڑی مکار تہذیبوں کی آہنی زنجیر یں پگھل رہی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب عورت کی عظمت کو ہر معاشرہ نا صرف تسلیم کرے گا بلکہ اسے اس کا اصل مقام بھی دینے پر مجبور ہو جائے گا۔
اُن عورتوں کو میرا سلام جو اپنے وجود کی پہچان رکھتی ہیں اور اُن عورتوں کے لیے ہمدردی جنھیں معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا ہیں۔”
زینت نے یہ چند جملے سن کر سر جھٹکا اور ٹی وی بند کر کے کپڑوں والی الماری کی جانب بڑھی۔
کپڑے استری کیے، جوتے پالش کیے، ایک مرتبہ پھر سے سارے سامان کا جائزہ لیا جو شاہد کی ضرورت کا تھا اور کچن میں جا کر ناشتہ بنانے لگی۔ شاہد نے نہا کر کپڑے پہنے اور میز پرناشتے کے لیے آ بیٹھا۔
ناشتے سے فارغ ہوکر اٹھا تو زینت نے پوچھا:
"آپ پنڈی کس کے گھر رکیں گے؟”
شاہد نے کاغذات کو دیکھتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔”ہے ایک دوست۔”
زینت برتن سمیٹتے ہوئے بولی ” وہ۔۔۔ کہتے ہیں وہاں سے میوے سستے اور اچھے مل جاتے ہیں، اگر وقت ملے تو لیتے آئیے گا۔”
شاہد کلائی پر گھڑی باندھے ہوئے بیگ کی جانب بڑھا اور بولا "ہاں تمہارے میوے لینے ہی تو پنڈی جا رہا ہوں۔ ” یہ کہنے کے بعد وہ بیگ اٹھا کر دروازے کی طرف چل پڑا۔ زینت کچھ کہنے کے لیے پیچھے تک آئی ، اس کا منہ اور باہر کا دروازہ ایک ساتھ کھلے، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی دروازہ زور دار آواز میں بولا
"چُپ۔۔۔۔۔!”
اور زینت کا منہ بند ہوگیا۔
اچھا یہ رات بھی بہت بڑی کہانی باز ہے۔ اتنی بڑی کہانی باز کہ دن اس کے قصّے سنتا سنتا چکرا کر اس کی گود میں آگرتا ہے۔۔۔ دن رات کی آغوش میں گر چکا تھا۔۔۔ اندھیرے کا راستہ کاٹ کر روشنیاں پھیلنے لگی تھیں، سردی کی طرح بازار کا شور بھی عروج پر تھا اور پنڈی صدر کے ہجوم میں شاہد کی نگاہیں ٹیکسی تلاش کر رہی تھیں۔
ایک ٹیکسی اس کے قریب آ کر رکی، ڈرائیور نے سر نکال کر شاہد کو مخاطب کیا "جی سر کدھر جانا ہے؟”
"کسی بھی مناسب سے ہوٹل میں لے چلو، جہاں رات ٹہرنے کا انتظام ہوجائے۔ "
ٹیکسی والے نے اپنی مونچوں کو تاؤ دیا اور بولا ” ہوں۔۔۔۔ جی آجائیں۔ لے جائیں گے۔”
ٹیکسی میں سوار ہو کر شاہد نے ڈرائیور سے کہا ” قریب ہی کسی مناسب ہوٹل میں لے چلو۔ بس رات ہی کاٹنی ہے۔”
"سر جی۔۔۔ ہوٹل بھی مل جائے گااور باقی سب کچھ بھی مل سکتا ہے۔۔۔ "
"باقی سب کچھ؟”
"پانی وانی، بچی شچی ۔۔۔”
"نہیں نہیں۔۔۔ اس کی ضرورت نہیں۔ بس میں تو۔۔۔”
"او چلو جی۔۔۔ میں نے تو ایسے ہی کہا۔ ” ڈرائیور نے بات پلٹی
ٹیکسی چلنے لگی۔ ابھی کچھ ہی منٹ ہوئے تھے کہ سگنل پر رکنا پڑا، برابر ہی ایک پیلی ٹیکسی آ کر رکی جس میں منہ پر بے تکا میک اپ تھوپے کچھ عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح بھری ہوئی تھیں۔ شاہد نے اس طرف دیکھا تو ان میں سے دو مسکرانے لگیں۔
"یہ کیا طریقہ ہے، ایک ٹیکسی میں کس طرح سے یہ عورتیں بھری بیٹھی ہیں۔۔۔” شاہد انکی طرف دیکھتے ہوئے نیچی آواز میں بولا
” او جی شام ہوگئی ہے۔ ان کا کام شروع ہوگیا ہے۔ یہ ساری ایک ایک کر کے اترتی جائیں گی اور پھر رات گیارہ بارہ بجے تک ٹیکسی خالی۔” بتی ہری ہوئی تو گاڑی دوبارہ چلنے لگی۔
"اچھا۔۔۔۔ عجیب بات ہے۔ ” شاہد نے بات آگے بڑھائی
"آپ کو ضرورت ہے تو بتائیں جی۔۔۔ ابھی میڈم کو فون کر لیتے ہیں۔ "
"نہیں نہیں۔۔۔ میں نے کیا کرنا ہے۔ "
"جو سارے کرتے ہیں” ڈرائیور نے بیک ویو میرر میں سے شاہد کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا۔
"یہ میڈم کون ہے؟”
"سر جی بچیاں سپلائی کرتی ہے۔ میرے پاس نمبر ہے اسکا۔”
"اچھا۔۔۔ کیا گاہک گھر لے جاتے ہیں؟”
"ہاں جی اور کدھر۔ پردیسی لوگ ہوٹل میں لے جاتے ہیں۔ "
"ہوٹل؟ مگر ہوٹل والے کیسے ۔۔۔”
ڈرائیور نے بات کاٹی "اوجی سب چلتا ہے۔ہوٹل والے کو کیا پتا کہ بیوی ہے یا ٹیکسی۔۔۔”
"ہاں یہ تو ہے۔” شاہد کے اندر سکّے چھنکنے لگے۔۔۔
"تو پھر کروں کال جی؟”
"کال۔۔۔ نن۔۔۔ نہیں رہنے دو” شاہد کچھ گھبرایا۔
"سر جی کچھ نہیں ہوتا۔ گرنٹی ہے میری” یہ کہہ کر ڈرائیور نے گاڑی ایک طرف لگائی اور موبائل نکال کر نمبر ملانے لگا۔
کچھ ہی دیر کے بعد آبادی سے کچھ دور دونوں ٹیکسیاں کھڑی تھیں اور شاہد اس ٹیکسی کے قریب کھڑا تھا جس میں بھیڑ بکریوں کی طرح عورتوں کو بھرا گیا تھا۔
ایک بے تحاشہ موٹی عورت ‘میڈم ‘ جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی نے ٹارچ کی روشنی پیچھے بیٹھی عورتوں کے چہروں پر ڈالی، شاہد جھک کر دیکھنے لگا۔ ہر ایک اپنا منہ سامنے رکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو "مجھے لے کر جانا۔۔۔ اسے نہیں۔۔۔ ادھر دیکھو مجھے۔۔۔” مگر ان پانچ میں سے ایک تمام باتوں سے بے نیاز بیٹھی دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔ چہرے پر سنجیدگی تھی ، نین نقش تیکھے تھے، عمر جوانی اور ادھیڑ پن کے درمیان جھولا جھول رہی تھی لیکن آنکھوں میں چمک تھی ، اسے دیکھ کر شاہد کے سکّوں کی چھنکار اور تیز ہوئی۔ میڈم کو پیسے دے کر اسے اپنی ٹیکسی میں بیٹھا لیا۔۔۔
ایک ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لینے کے بعد شاہد اور وہ عورت جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو عورت نے ایک گہری سی انگڑائی لی ، اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اتنی عورتوں کے درمیان پھنس کر بیٹھنے سے اسکی ہڈیاں آپس میں گڈمڈ ہوگئی تھیں اور اب اس انگڑائی کے بعد ساری کی ساری اپنی اپنی جگہ پر درست ہوئیں، چہرے پر ایک اطمینان سا اتر آیا ۔ صوفے پر بیٹھتے ہی اس نے اپنے پرس میں سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی اور سگریٹ سلگانے لگی۔
شاہد اسکی طرف پلٹا "یہ کیا ہے۔۔۔؟”
"سگریٹ ہے اور کیا ہے؟”
"مگر تم عورت ہو اور اس وقت جب ۔۔۔”
"عورت ہوں تو؟ سگریٹ کی ڈبی پر لکھا ہوا ہے کہ ‘صرف مردوں کے لیے’؟ اور اسکا کوئی وقت بھی ہوتا ہے؟” اس نے سر جھٹکا اور ایک کش لگا کر پھر بولی ” میں ناں ! اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ایک سُوٹا تو ضرور لگاتی ہوں۔۔۔ "
شاہد نے اپنے ہونٹ بھینچے ، بیڈ پر بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولے اس دوران وہ ایک طرف بیٹھی سکون کے ساتھ سگریٹ پیتی رہی۔ ہر کش گہرا لگاتی، پھر اس کا دھواں بہت آرام کے ساتھ منہ سے خارج کرتی اور ہونٹوں پر مسکان لیے اس دھوئیں کو فضا میں بکھرتا دیکھتی رہتی۔ جوتے اتارنے کے بعد شاہد بیڈ پر بیٹھا کڑھتا رہا، اسے ابھی سے اس کے منہ سے آنے والی دھوئیں کی ناگوار سی بو محسوس ہونے لگی تھی۔
"نام کیا ہے تمہارا؟”
"کیوں نام کا کیا کرنا ہے؟ ” وہ مسکراتے ہوئے بولی اور سگریٹ بجھا کر شاہد کے قریب آبیٹھی ” میرا نام نوشی ہے۔
اور بھئی دیکھو۔ کوئی فالتو کی حرکت نہیں کرنے دوں گی، ہر بات نہیں مانوں گی اور پہلے بتا دوں کہ جو مرد جانوروں کی طرح کاٹتے ہیں وہ بلکل بھی اچھے نہیں لگتے۔ "
"ہدایات والی کوئی کتاب مجھے دے دو پڑھ کر شروع کرتےہیں”
شاہد کی بات سن کر نوشی نے زوردار قہقہہ لگایا ، آنکھوں میں اسی وقت ایک شرارت سی بھر گئی۔۔۔ شاہد نے قہقہے کی آواز سنتے ہی باہر کے دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔ اور پھراس کے چہرے کی طرف ۔۔۔ اندر کے سکّوں کی چھنکار اس قہقہے کی سی سنائی دی ، وہ اس کی طرف کھسکا ، دونوں کاندھوں پر ہاتھ رکھے اور لبوں کو دیکھتا ہوا منہ قریب لے گیا۔۔۔ جیسے ہی شاہد قریب ہوا اسے بے حد تیز عِطر کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ ناک سکیڑ کر پیچھے ہٹ گیا:
"یہ کیا بے ہودہ سا پرفیوم ہے؟”
وہ سنجیدہ ہو کر بولی "جو میں نے لگایا ہے؟”
"ہاں تو اور کیا۔ اتنا گھٹیا۔۔۔ سر چکرا گیا میرا تو۔”
"سر تو چکرائے گا ۔۔۔ ہم غریب لوگ ہیں، سو پچاس کی شیشی لے سکتے ہیں، تمہاری طرح مہنگی مہنگی خوشبوئیں لگانے کی اوقات نہیں ناں۔” یہ کہہ کر وہ پھر شاہد کے قریب ہوئی۔۔۔
"ارے بھئی۔۔۔ نہیں! مجھ سے کچھ بھی نہ ہوگا ایسے تو۔۔۔ تمہارا پرفیوم بہت ہی واہیات قسم کا ہے۔ ” شاہد نے اسے پرے دھکیلا
وہ مسکرائی۔۔۔ "صاحب اب خوشبو بدن سے اڑنے کا انتظار کروں پھر۔۔۔ "
"نہیں تم ایسا کرو ۔۔۔ کہ نہا لو۔۔۔”
"اتنی سردی میں؟ نہ بھئی یہ تو نہیں ہوگا۔ ویسے بھی کام پر نکلنے سے پہلے نہا کر آئی ہوں۔ "
"مگر میں ایسے کچھ کر نہیں سکتا۔ یہ کام کرنا ہے تو کم از کم تمہیں پرفیوم ہی اچھالگانا چاہیئے ۔”
اس مرتبہ وہ ہنسی "اے ہَے۔۔ ۔ سارے پیسے خوشبو کی شیشی پر لگا دوں۔ گھر کچھ نہ بھیجوں۔ ایک باری لگو تو سہی تھوڑی دیر کے بعدیہ خوشبو کچھ نہیں کہے گی۔ "
"تھوڑی دیر کے بعد کچھ نہیں کہے گی۔۔۔ بکواس! تم بس نہا لو۔۔۔”
"کمال کرتے ہو جی۔۔۔ اتنی سردی میں نہا لو، نہالو۔۔۔ ایک ہی رٹ لگائی ہے۔ تم نہا کر دکھا ؤ تو مجھے۔” وہ تلخ لہجے میں بولی
"میں کس لیے نہاؤں۔۔۔؟ "
"کیوں کہ مجھے تم سے بدبو آرہی ہے سچ کہوں تو۔ میں نے تو پھر بھی کچھ نہیں کہا۔ کیوں کہ میرا تو کام ہے ۔تم سے بھی گندے بدبودار اور شکل کے گھٹیا لوگوں سے کبھی نہیں کہا اور تم کیسے ہو جو کہتے ہو نہا لو۔ سردی نہ ہوتی تو مان بھی لیتی۔ "
"بہت بد زبان عورت ہو تم تو۔۔۔”
وہ کھلکھلا کر ہنس دی "صاحب۔۔۔ عورت بدزبان ہی ہوتی ہے۔۔۔ عورت بدزبان ہی ہوتی ہے جب اپنے دل کی کہتی ہے۔۔۔”
"دل کی۔۔۔ نہیں تم ہو ہی عورت کی گھٹیا قسم ۔۔۔”
وہ پھر ہنسی ” صاحب۔۔۔ عورت تو ایک قسم کی ہی ہے، اس کو قسموں میں تم نے بانٹا ہے۔ ورنہ عورت تو عورت ہی ہے۔ تمہارا قصور نہیں، تم شریف نظر آتے ہو۔ اور تم جیسے شریف اپنی بیویوں کے بگاڑے ہوئے ہوتے ہیں۔۔۔ لگتا ہے تمہاری بیوی بھی جی جی کر کے آگے پیچھے گھومتی ہوگی۔۔۔ وہ بے چاری ہوتی ناں تو ابھی جا کر ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں لگا کر آتی۔۔۔”
شاہد کے ماتھے کے بل بڑھ گئے ۔۔۔ "خبردار اپنی ناپاک زبان سے میری بیوی کا ذکر بھی مت کرو۔ وہ شریف عورت ہے اور تم۔۔۔”
"اور میں ایک بدنام۔۔۔ بری، ناپاک۔۔۔ لوفر۔۔۔ رنڈی۔۔۔ گشتی۔۔۔ ٹیکسی۔۔۔سب کی جھوٹی مو ٹی معشوقہ ۔۔۔ اور وہ صرف ایک شریف عورت۔۔۔۔” اس کی ہنسی میں طنز تھا۔۔۔
اب بھلاسماج جس کو دیوتا ہونے کی سند دے وہ کسی داسی کی زبان سے ہونے والے اس قدر گہرے وار کیسے سہہ سکتا ہے ؟ یہ کیفیت اسے مسلسل توڑ رہی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس عورت کو بالوں سے پکڑ ے اور گھسیٹ کر باہر نکال دے، وہ چاہتا تھا کہ اپنی آواز کی دھمک سے اس کی تیکھی اور ترش باتوں کو دبا لے۔۔۔ لیکن یہ ممکن نہ تھا۔اسے تو اپنی آواز بھی کمرے میں سے باہر نکلتی محسوس ہو تی تو وہ دھیمی کر لیتا۔
بس اتنا کہہ سکا۔ "مجھے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کرنا ، میرے پیسے واپس کرو اور دفع ہو جاؤ۔”
وہ کچھ دیر اس کے چہرے کو تکتی رہی اور پھراپنا پرس اس کے سامنے کرتی ہوئی بولی "لو۔۔۔ جتنے پیسے نکلتے ہیں نکال لو۔۔۔ ” چہرے پر ایک سنجیدگی تھی اور آنکھوں میں غصے کی جھلک ۔
شاہد نے اس کی طرف نہ دیکھا اور بولا "خود نکلا دو۔۔۔”
نوشی نے پرس میں سے کچھ پیسے نکالے اور شاہد کے طرف بڑھا کر بولی ” بس اتنے ہی ہیں۔ "
کم پیسوں دیکھ کر شاہد نے کہا ” یہ بھی نہیں چاہئیں۔ "
"کیوں؟ کیوں کہ یہ ناپاک ہیں؟ رکھ لو رکھ لو۔۔۔ تم جیسے شریفوں کے پاس سے ہی ملے ہیں۔ "
"چلو تمہیں شریف اور بے غیرت کا فرق تو پتا ہے۔ ” شاہد کی نظروں میں ایک حقارت تھی۔
"ہاں، ایسا ہی ہے جی۔۔۔ ہم گندی ہیں۔ کیوں کہ تمہاری بیویوں جیسی نہیں ہیں ناں۔ اور یہ بھی اچھا ہے کہ ہم ان جیسی نہیں ہیں۔ کیوں کہ ہم کچھ دیر کے لیے اپنا جسم بیچتی ہیں۔ اس کے بعد آزاد ہوتی ہیں۔ ہم کسی بازار میں جائیں، کسی مرد سے آنکھ لڑائیں، ہنسیں کھیلیں ہمیں روکنے والا کوئی نہیں۔۔۔ پر ایک بات کہوں صاحب جی؟ اصل ٹیکسیاں تو تمہاری بیویاں ہوتی ہیں، جو روٹی کپڑا مکان اور نام کی خاطر اپنا جسم بیچتی ہیں اور ساتھ اپنی مرضی بھی۔ وہ تو سوتی بھی تمہاری مرضی سے ہیں، جاگتی بھی تمہاری مرضی سے ہیں، بولتی بھی تمہاری مرضی سے ہیں، ہنستی بھی تمہاری مرضی سے ہیں، باہر کی ہوا بھی تمہاری مرضی سے کھاتی ہیں، جیتی بھی تمہاری مرضی سے ہیں۔۔۔ ہم بیویاں نہیں ہیں صاحب جی۔۔۔ تمہاری مرضی ہم پر نہیں چلتی ناں۔۔۔ اسی لیے تو تم شریفوں کو اچھی نہیں لگتیں۔۔۔” دونوں کے بیچ میں کچھ پل کی خاموشی رہی ، شاہد آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھتا رہا ۔وہ پھر مدھم سی آواز میں بولی:
” یہ سستے عطر شروع شروع میں ہمیں بھی اچھے نہیں لگتے۔۔۔ لیکن صاحب جی بعد میں ناں بُرے بھی نہیں رہتے۔۔۔ کیوں کہ انکی خوشبو تیز ہے۔۔۔ اور آزاد بھی۔۔۔
ہماری ناں ۔۔۔زندگی میں بہت دکھ ہیں پر اتنے گِلے نہیں ۔ اتنا وقت ہنسنے میں گزرا ہے کچھ دیر کے لیے رو بھی لیا تو کیا ہوگیا۔۔۔۔؟ ہنسنا ہو کہ رونا۔۔۔ اس میں مرضی تو اپنی ہے ناں۔۔۔
ویسے پتا ہے کیا۔۔۔ بیوی اور ٹیکسی۔۔۔ دونوں ہی ٹوٹی پھوٹی اور خالی عورتیں ہیں۔۔۔ فرق بس اتنا ہے کہ ایک کو پوری عمر کے لیے ایک ہی مرد خرید لیتا ہے ۔۔۔ اور مجھ جیسی روٹی کی خاطر رو ز بکتی ہے۔۔۔ "
یہ کہتے ہوئے کمرے کے سرد ماحول میں نوشی نے محسوس کیا کہ جلتا ہوا پانی کا ایک قطرہ اس کی آنکھ میں سے نکل کر گال پر آیا ہے، وہ مسکرائی اور اپنی ہتھیلی سے رخسار خشک کیا ادھر شاہد کے چہرے سے بھی حقارت کے تاثرات ختم ہوچکے تھے، آنکھیں سکڑ کر نیچے ڈھلک چکی تھیں، اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن نوشی نے اپنی بات جاری رکھی؛
"پر دل خوش ہوتا ہے جب کسی ایسی عورت کو دیکھتی ہوں جو ٹیکسی ہے نا بیوی۔۔۔ صرف عورت ہے۔۔۔ اندر باہر سے۔۔۔مکمل عورت۔۔۔ نیچے سے اوپر تک۔۔۔جس کا جسم خریدا جاتا ہے نا مرضی۔۔۔”
اس ایک ساعت کے لیے کمرے کی ہر شے پر مکمل سکوت طاری ہوچکا تھا۔ رات جیسی کہانی باز بھی اپنی گہرائی بھول چکی تھی، اپنا اثر کھو چکی تھی۔۔۔ نوشی نے سرد آہ کے ساتھ ماحول کے سحر کو توڑا اور اٹھتے ہوئے بولی:
"اور رکھ لویہ پیسے ۔۔۔ ڈرو مت۔۔۔ پاک ہیں، صاف ہیں، اگر نوٹوں میں ہمارے گندے بلاؤز کی بدبو ہو بھی تو کون پہچانے گا۔۔۔؟ وہی ناں۔۔۔ جس نے ہمیں سونگھ رکھا ہے۔۔۔۔؟” یہ کہہ کر اس نے آزاد ، لا پرواہ لیکن کچھ کچھ جھوٹا قہقہہ لگایا اور باہر کے دروازے کی جانب چلنے لگی شاہد بھی اٹھ کھڑا ہوا نوشی کی طرف قدم بڑھایا ، شاہد کا منہ اور باہر کا دروازہ ایک ساتھ کھلے مگر اس سے پہلے کہ کوئی لفظ اس کے منہ سے نکلتا، دروازہ زوردار آواز میں بولا؛
"چُپ۔۔۔!”
اُس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور اندر موجود سکے ایک ایک کر کے زمین پر گرنے لگے۔۔۔
چھنکار سے خالی۔۔۔
بے وزن۔۔۔
اور کھوٹے سکّے۔۔۔
جنتِ گُم گشتہ : لیاقت علی ۔ بہاول پور ۔ پاکستان
جنتِ گُم گشتہ
لیاقت علی ۔ بہاول پور ۔ پاکستان
میں متوسط طبقے کا ایک قلیل آمدنی والا فرد ہوں اور اپنے طبقے کے بے شمار انسانوں کی طرح مجھے بھی اپنی بہت سی خواہشات کو آنے والے کسی اچھے وقت تک ملتوی کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ یہ بات اَب میں محض مشاہدے ہی نہیں تجربے کی بنیاد پر کر سکتا ہوں کہ یہ اچھا وقت ندی کے دومتوازی کناروں کی طرح پاس رہ کر بھی کبھی ہاتھ نہیں ملا پاتا۔
مجھے پہلے پہل جب ملازمت ملی تو میری تنخواہ دس ہزار روپے تھی۔ والدہ نے والد کی وفات کے بعد ذمہ داریوں سے سبکدوشی کی آخری کاوش کے طور پر میری شادی کر دی۔ گبِن نے رومن امپائر کے زوال کے اسباب کہاں سے شروع کیے تھے یہ توشاید میں نہ بتا سکوں،ہاں مگر میری زندگی کے زوال کی داستان اُسی روز سے شروع ہوئی جب میں سرپر سہرا باندھے معزز ہونے کا مصنوعی تاثر دے رہا تھا۔پھر دھیرے دھیرے مجھے احساس ہونے لگا، میں اپنے ہی بہن بھائیوں، اماں اور برادری سے ملنے والی کچھ رعایتوں کو گنوا بیٹھا ہوں۔ اَب میں اور میری بیوی اپنی الگ سماجی شناخت رکھتے ہیں، جسے چاہ کر بھی میں اُس لڑی میں نہیں پرو سکتا جس کا کبھی میں ایک اٹوٹ حصہ ہوا کرتاتھا۔ راہ و رسم کے تقاضوں کی صورت بھی ویسی نہ رہی جیسی پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔ پہلے نہ کسی کے سکھ دُکھ میں شرکت میری انفرادی ذمہ داری تھی اور نہ ہی کبھی کسی کو میرے جانے نہ جانے سے شکایت پیدا ہوئی تھی۔ میں یونی ورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور میرے اخراجات اتنے ہی تھے کہ اماں ہر یکم کو جب مجھے پندرہ سو تھماتیں تو میں سوچتا میں ان پیسوں کا کیا کروں گا؟ عجب بے فکری کا زمانہ تھا۔ میری لاپرواہیوں کے باوجود دوست احباب، بہن بھائی سب خوش تھے۔لیکن شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا میں ذمہ داریوں کے نام پر عجیب طرح کی توقعات کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہوں۔ میرا وہ رَکھ رَکھاؤ کہ جس میں کبھی بے نیازی شامل تھی اَب لجاجت شامل ہونے لگی ہے۔ میری لاپرواہیوں ہی نہیں بسا اوقات ہٹ دھرمیوں کو بھی خندہ پیشانی سے جھیلنے والے میرے اپنے اَب میری خطاؤں کی تاک میں رہنے لگے ہیں۔ میں جو پہلے دن چڑھے سو کر اُٹھنے کا عادی تھا اَب صبح سویرے اُٹھ بیٹھا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اَب نیند نہیں آتی بلکہ اس لیے کہ سبھی کو لگتا ہے شادی کے بعد ارسلان وہ نہیں رہا۔ اس کا تو جی ہی نہیں چاہتا کہ بیوی کے پہلو سے نکلے ۔ حالانکہ یہ بات بھی میں اپنے تجربے کی بنیاد پر وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ شادی کے بعد جس پہلو سے نکلنے کی شدید تر خواہش ایک نارمل انسان میں پیدا ہو سکتی ہے وہ بیوی کا پہلو ہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن چھوڑیے یہ ایک الگ کہانی ہے۔
مجھے اَب صبح سویرے جاگ کر یہ یقین دلانا پڑتا کہ دیکھیے میں وہی ارسلان ہوں جو کبھی پہلے ہوا کرتاتھا۔ مجھ میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میرا کمرہ گھر کی بالائی منزل پر تھا اور شادی سے پہلے دن میں نجانے کتنی بار میں اوپر جاتا اور نیچے اُترتا مگر نہ مجھے اور نہ ہی کسی اور کو اِس کا دھیان رہا کہ میں کب گیا اور کب پلٹا۔ لیکن اَب میں محسوس کر رہا تھا میرے اوپر جانے اور نیچے اُترنے کا مکمل حساب نوٹ ہونے لگا ہے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ میں اپنے ہی کمرے کی طرف سب سے نظریں بچا کر یوں گیا گویا کوئی چور ہوں اور پکڑے جانے سے خوف زدہ ہوں! ایسے میں اگر کسی کی نگاہ مجھ پر پڑ گئی تو اوّل تو اُس نے کم از کم اتنی بلند آواز میں ضرور اپنا تبصرہ نشر کیا جواَماں کی کمزور سماعت اور بند کواڑوں کے باوجود اُن تک پہنچ جائے۔
’’بھئی ارسلان کا دل اَب نیچے کہاں لگنے والا ہے۔۔۔!‘‘
یہ نہ بھی ہوا تو کوئی معنی خیز مسکراہٹ یا خبردار کرنے والی شکنیں پیشانیوں پر ضرور عیاں ہوتیں اور میں اپنے لہجے میں خوشامد کی حد تک مٹھاس گھولے اِن شکنوں کو دور کرنے کے جتن کرنے لگتا۔ میرے اَماں کے پاس اُٹھنے بیٹھنے یا باتیں کرنے کے کوئی طے شدہ اوقات نہ تھے۔ میرا حافظہ برا نہیں مگر اس کے باوجود میں ذہن پر جتنا بھی زور ڈالوں مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کب کب اَماں کے پاس بیٹھتا اور کب کب اُٹھتا تھا۔ یہ سب معمولات کسی ضابطے کے اسیر نہ تھے۔ جب چاہا، جس قدر چاہا بیٹھ گئے، جب چاہا نکل گئے۔ جس بات کو چاہا مان لیا، جسے چاہا ہنسی ہنسی میں اُڑادیا۔ شکایت میں تلخی اور محبت میں کوئی بناوٹ نہ تھی۔ لیکن اَب نجانے کیا ہوا کہ میں دیکھ رہا تھا مجھے اَماں کو باقاعدہ وقت دینا پڑ رہا ہے۔ خود اَماں ہی نہیں میں بھی گھڑی کی سوئیوں کا محتاج ہونے لگا ہوں جو بتاتی ہیں کہ ہاں محبت اور خلوص کا دورانیہ مکمل ہوا جاؤ، اَب تم جا سکتے ہو۔ اور اگر یہ دورانیہ کہیں میری خواہش یا اَماں کی توقع سے میچ کر جاتا تو میں اطمینان سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا جاتا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو مجھے بہرحال انتظار کرنا پڑتا۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ دفتر سے لوٹا تو میری طبیعت ناساز تھی اور تھکاوٹ سے میرا بدن دکھ رہا تھا مگر محبت کے اس متعین دورانیے کو بہرحال مجھے نبھانا تھا سو میں اَماں کی چارپائی کے ساتھ رکھی کرسی پر نیند سے اونگھتا، لُڑھکتا بیٹھا رہا کہ مبادایہ سمجھ لیا جائے کہ ارسلان واقعی بدل گیا ہے۔۔۔!
دوسری جانب شمائلہ جو آغاز میں کسی گلدان کی طرح تھی کہ جسے جہاں چاہا سجا دیا، جب چاہا ہٹا لیا، اَب مزاحمت کرنے لگی۔ میں کہتا آؤ نیچے چل کر بیٹھتے ہیں اَماں خفا ہوں گی۔ وہ پوچھتی کیا اَماں نہیں جانتیں میں آپ کی بیوی ہوں؟ میں جھلّا کر کہتا تکرار مت کرو، وہ تنک کر جواب دیتی تو اصرار بھی مت کریں۔ اَماں ہی کیا گھر میں کوئی بھی بیمار پڑ جاتا تو میں اُس سے تقاضا کرتا کہ وہ تیمار داری کے سارے تقاضے نبھائے اور سچ تو یہ ہے وہ یہ تقاضے نبھاتی۔ ایسے میں مجھے عجب اطمینان کا احساس ہوتا۔ اُسے دوڑ دوڑ کر کام کرتے دیکھتا تو لگتا کوئی میرے کندھوں پر لدابھاری بوجھ دھیرے دھیرے اُتار رہا ہے۔ میرے اندر کے کمزور پڑتے مرد کو جیسے کوئی سہارا ملتا اور لہجے میں قدرے تحکم شامل کرتے ہوئے میں بھی بلند آواز میں (اتنی کہ اَماں کی کمزور سماعتوں تک پہنچ جائے) کہتا شمائلہ فارغ ہو کر میرے لیے چائے کا ایک کپ بھی بناتی آنا۔۔۔۔ ! لیکن پھر ایک روز وہ خود بیمار پڑ گئی۔ آدھے سر کے درد سے وہ پانی سے نکلی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔ میں خود اس موذی مرض کا شکار رہا ہوں اور جان سکتا ہوں کہ یہ کتنا شدید ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اطلاع میں جب نیچے اَماں اور بھابیوں کو دینے اُترا تو میں نے شعوری طور پر لہجے میں لاپروائی سی شامل کرتے ہوئے کہا :
’’اَماں ذرا شمائلہ کو تو دیکھ لیں کہتی ہے میری طبیعت خراب ہے۔‘‘
یہ ’کہتی ہے‘ میں نے کچھ اِس انداز میں کہا جیسے مجھے تو یقین نہیں آپ ہی دیکھ آئیں۔ کچھ ہی دیر میں اَماں اور بڑی بھابھی اوپر آگئیں۔ شمائلہ بدستور درد سے کراہتی اپنے سر کو گھٹنوں میں دبائے ہاتھوں سے دبانے لگی تو میرا جی چاہا میں اُس کا سر دَبا دوں مگر پھر نجانے کیوں میںیہ حوصلہ نہ کر سکا۔ اَماں اور بھابھی کچھ تسلیاں اور ٹوٹکے بتاتیں واپس اُتریں تو میں خود اُٹھا اور اُس کا سر دبانے لگا۔ وہ غصے سے بولی :
’’آئندہ اگر کبھی آپ نے مجھے کسی کی تیمار داری کا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا؟‘‘
مجھ سے کوئی جواب نہ بن پایا اور میں خاموش ہو گیا۔ عین اُسی لمحے چھوٹی بھابھی بھی خبر گیری کو اوپر آگئیں۔ مجھے شمائلہ کا سردباتے دیکھ کر اُن کی ہنسی یوں چھوٹی گویا کسی مزاحیہ فلم کا کوئی بہت عمدہ منظر دیکھ لیا ہو۔ پھر کیا تھا آتے جاتے گھر میں اَب یہ طعنہ بھی سننے کو ملنے لگا کہ ارسلان تو بیوی کا غلام ہے ۔ اور بیوی کس کس کی غلام ہے ۔۔۔۔؟ یہ کوئی دیکھتا نہ دیکھنا چاہتا۔ نتیجتاً میں کسی کو تو کیا سمجھاتا اُلٹا اپنی بھڑاس شمائلہ ہی پر نکالتا، اُلجھتا اور اپنی مردانگی کی تشفی اُن نام نہاد اُصولوں سے لینا چاہتا جنہیں خود میرا اپنا دل بھی ماننے پر آمادہ نہ تھا۔ آئے روز خبر ملتی، آج فلاں صاحب مجھ سے خفا ہیں تو آج فلاں۔۔۔۔!
خفگی کا سبب کیا ہے۔۔۔؟
سلام نہیں کیا۔۔۔ کیا تو دل سے نہیں کیا۔۔۔ آئے تو حال نہیں پوچھا۔۔۔ گئے تو رکنے کو نہیں کہا۔۔۔!
اور نتیجتاً مجھے اپنی اُن کوتاہیوں کا اعتراف بھی کرنا پڑتا جن کی سرے سے مجھے خبر ہی نہ تھی۔ اُدھر رات شمائلہ دن بھر کی بپتا مجھے سناتی تو میں چلّا اُٹھتا کہ خدا کے لیے اپنے معاملات خود سلجھاؤ، مجھے مت بتاؤ کہ کس نے کیا اور کیوں کہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہ معاملات واقعی خود سلجھانے لگتی تو پھر مجھے ہی شکایت ہوتی کہ کیا ضروری تھا کہ تم سب کو یوں جواب دو؟ مجھ سے تو پوچھ لیا ہوتا۔۔۔!
نیچے اَماں کے پاس بیٹھتا تو وہ چھوٹتے ہی کہتیں:
’’دیکھو احسان میاں بیویوں کو یوں سر پر نہیں بٹھا لینا چاہیے۔ بہن بھائیوں اور ماں باپ کا بھی کوئی حق ہے کہ نہیں؟‘‘
میں دھیرے سے کہتا ’’اَماں ایسا کون سا حق ہے جو میں پورا نہیں کر رہا؟‘‘
میرے سادہ سے اس سوال پر اماں کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور وہ غصے سے کانپنے لگتیں۔ اُن کا بی۔پی شوٹ کر جاتا اور ہمیشہ کی طرح وہ دھمکی دیتیں کہ کتنے دن مزید جی لوں گی میں؟ آؤ تم خود گلا دبا دو میرا، جان چھڑاؤ اس بے کارکے بوجھ سے۔۔۔! میں لپکتا اور اماں کے پاؤں دبانے لگتا۔ انہیں گلے لگاتا، ماتھے پر بوسے دیتا۔ وہ گالیاں دیتیں میں مسکراتا رہتا اور سرنیہواڑے کہتا:
’’اَماں جوتے مار تیرا خون ہوں نا جو سزا دے قبول ہے پر دیکھ ایسا مت کہا کر تجھے اَبا کا واسطہ اماں ایسا نہ کہا کر۔‘‘
اَماں کا غصہ قدرے ٹھنڈا پڑنے لگتا اور وہ شمائلہ کو صلواتیں سنانے لگتیں کہ جب سے یہ حرام زادی آئی ہے تو وہ نہیں رہا۔۔۔!
کبھی کبھی میں سوچتاہوں کیا میں واقعی وہ نہیں رہا؟
لیکن نہیں میں نے پہلے اتنی باتوں کا خیال کب رکھا تھا؟ وہ سبھی باتیں، تبصرے اور شکایتیں جو میں آسانی سے کر لیا کرتا تھا اَب اُن سے گریز برتتا پھر بھی آئے روز مجھے کسی نہ کسی کٹہرے میں ملزم بنا کر کھڑا کر دیا جاتا۔ میری لااُبالی اور لاپروائی کی عادت توجہ اور پرواہ میں بدل گئی تھی مگر شکایتیں تھیں کہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ ایسے میں خبر ملی شمائلہ اُمید سے ہے۔ ڈاکٹر نے چیک اَپ کیا اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ مکمل احتیاط اور آرام کا مشورہ دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ کوتاہی مت کیجئے گا۔ ڈاکٹر کی ہدایات اور شمائلہ کی موجودہ ضروریات نے مجھے مزید اُلجھن میں ڈال دیا۔ میری بھوک، پیاس، کپڑوں اور ضرورتوں کا خیال مجھ سے زیادہ بھابیوں کو رہنے لگا۔ ارسلان کو وقت پر کھانا نہیں ملتا۔۔۔ ناشتہ بھی پتہ نہیں کرتا ہے یا نہیں، کپڑے بھی دُھلے ملتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔! یہ وہ شکایتیں تھیں جو مجھے ہونی چاہیے تھیں لیکن مجھے نہیں تھیں۔ میں اپنے کام خود کر سکتا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔ تب کبھی کسی کو نظر نہ آیا کہ اپنے یہ کام میں خود کرتا ہوں۔ لیکن اَب مجھے ا ستری پکڑے کسی نے اپنی ہی پینٹ استری کرتے، بوٹ پالش کرتے یا ڈبل روٹی پر جیم لگاتے دیکھ لیا تو بلند آواز میں یوں پوچھا گویا کوئی انہونی ہو گئی ہو۔
’’ارسلان بھائی آپ خود کپڑے استری کر رہے ہیں!‘‘
’’خود جوتے۔۔۔!‘‘ ’’خود چائے۔۔۔!‘‘
خود، خود، خود۔۔۔ گویا خود کام کرنا بڑی ہزیمت ہو۔ اُدھر یہ پکار اماں کی کمزور سماعتوں سے ٹکراتی تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھتیں، اپنا چشمہ سنبھال کر باہر نکل آتیں اور غصّے سے پہلے مجھے اور پھر شمائلہ کو گالیاں دینے لگتیں۔ میں بڑھتے ہوئے فساد سے گھبرا کر کہتا اَماں اُس نے بہت کہا میں کر دیتی ہوں مگر میں خود اپنی مرضی سے یہ کام کررہا ہوں۔ میری صلح جوئی کی سبھی کاوشیں بے کار جاتیں اور میں واپس کمرے میں جاتا تو شمائلہ مجھ پر برسنے لگتی کہ ’’بہت برداشت کر لیا ہے میں نے۔ حد ہوتی ہے ہر چیز کی، جس کا جب جی چاہتا ہے بے وجہ مجھے گالیاں دینے لگتا ہے۔‘‘ میں پہلے کمرے کی چٹخنی چڑھاتا اور پھر اُسے پیار سے لُبھاتا، سمجھاتا کہ پلیز تم ٹینشن مت لو تمہارے لیے اچھا نہیں ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایات اُسے یاد دِلاتا اور بالآخر اُسے سمجھا کے یوں گھر سے نکلتا گویا کسی جیل سے نکل کر جا رہا ہوں۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ شمائلہ کی غذا کا بھی خصوصی خیال رکھیں او راُسے فروٹ اور جوس لازمی دیں۔ سو اَب دفتر سے واپسی پر مجھے یہ فروٹ اور جوس بھی خریدنا پڑے۔ میں نے آغاز میں بتایا تھاناں کہ میں متوسط طبقے کا ایک قلیل آمدنی والا شخص ہوں جس کی تنخواہ دس ہزار روپے ہے۔ اِن دس ہزار روپے سے میرے اخراجات بمشکل پورے ہوتے تھے پھر بھی ایک مریض کے لیے ضرورت کے یہ پھل بہرحال مجھی کو خریدنا تھے۔ لیکن میری پریشانی اُس وقت اَماں کے بی۔پی کی طرح شوٹ کر گئی جب تیسرے روز متواتر جوس کے دو پیکٹ، چار کیلے، دو سنگترے اور ایک سیب شاپر میں بالائی منزل منتقل ہوتے دیکھ کر بھابھی نے سوال اُٹھایا کہ ہمارے میاں گھر میں جو لائیں وہ پہلے اَماں کے کمرے میں آئے اور پھر برابر تقسیم ہو اور یہاں محترمہ کے لیے پھلوں کے شاپر بالا ہی بالا اوپر کی منزل کو منتقل ہو جائیں؟
بھابھی کے اس سوال نے اُس دِیا سلائی کا کام کیا جو بظاہر ننھا سا ایک شعلہ اُگلتی ہے مگر بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔ بڑے بھیّا کو بھی احساس ہوا بیگم نے کچھ غلط تو نہیں کہا۔ اَماں کو بھی لگا یہ اُن کی کھلم کھلا توہین نہیں تو اور کیا ہے کہ اشیاء اُن کے کمرے میں تقسیم کے عمل سے گزرے بغیر براہِ راست منتقل کر دی جائیں۔ وہ غصّے سے تلملا اُٹھیں۔ ایک فلک شگاف گالی انہوں نے مجھے دی اورلپک کر باہر نکلنے کی کوشش میں بستر پر گر گئیں۔ میں تین تین سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اُترا۔ ڈاکٹرز کے نسخے، ہدایات اور مجبوریاں سب جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر رَد کر دیے گئے اور اَماں نے اپنی زندگی کا آخری فیصلہ سنایا۔۔۔’’اس لاڈلی کو لے کر اس گھر سے دفع ہو جاؤ۔‘‘ میں حسبِ روایت اُن کو لپٹ گیا، ماتھے پر بوسے دیے اور قدموں میں سر رکھ کر بلک بلک کر رونے لگا۔ لیکن اماں دیکھتے ہی دیکھتے برف کے کسی پتلے کی مانند سرد ہو گئیں۔ خون کے چند قطرے دائیں جانب اُن کے لڑھکتے ہوئے نتھنے سے نکلے اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں.
یہ تیرے پُر اسرار بندے : نورالحسنین
یہ تیرے پُر اسرار بندے
نورالحسنین
مسیح نے کہا تھا، ” بدن میں ایک ہی عضو نہیں، بلکہ بہت سے ہیں، اگر پاؤں کہے چونکہ میں ہاتھ نہیں اس لیے بدن کا نہیں، تو وہ اس سبب سے بدن سے خارج تونہیں، اور گر کان کہے چونکہ میں آنکھ نہیں اس لیے بدن کا نہیں، تو کیا وہ بدن سے خارج ہوگیا؟ نہیں، اگر سارا بدن آنکھ ہی ہوتا تو سُننا کہاں سے ہوتا؟ اگر سُننا ہی سُننا ہوتا تو سونگھنا کہاں ہوتا؟ مگر فی الواقع خدا نے ہر ایک عضو کو بدن میں اپنی مر ضی کے موافق رکھا ہے۔ اگر وہ سب ایک ہی عضو ہوتے تو بدن کہاں ہوتا؟ مگر دیکھو ، اعضا تو بہت ہیں لیکن بدن ایک ہی ہے۔ پس آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی کہ میں تیری محتاج نہیں، اور نہ سر پاوں سے کہہ سکتا کہ میں تمہارا محتاج، بلکہ بدن کے وہ اعضا جو اوروں سے کمزور ہوتے ہیں، بہت ضروری ہوتے ہیں، اور بدن کے وہ اعضا جنھیں ہم اوروں کی نسبت ذلیل جانتے ہیں اُن ہی کو زیادہ عزت دیتے ہیں اور ہمارے نا زیبا اعضا بہت زیادہ زیبا ہوجاتے ہیں حالانکہ ہمارے زیبا اعضا محتاج نہیں، مگر خدا نے بدن کو اس طرح مرکب کیا ہے کہ جو عضو محتاج ہے اُسی کو زیادہ عزت دی جائے، تاکہ بدن میں تفرقہ نہ پڑ ے، بلکہ اعضا ایک دوسرے کی برابر فکر رکھیں۔“
اُس نے ایک بار اپنے آپ کا جائزہ لیا، آسمان کی طرف دیکھا، یہ دُنیا نہ صرف بچوں سے ہے، نہ صرف نوجوانوں سے، نہ صرف بوڑھوں سے، نہ مردوں سے، نہ عورتوں سے۔ یہ سب بھی ایک طرح کا جسم ہیں۔ پھر بڑھاپا نازیبا کیوں؟
وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہا تھا۔ چاروں طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا، اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔ اُس نے نظریں سامنے کیں، اُس کی طرح بہت سارے افراد بھی مارننگ واک کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ کوئی سست قدم تھا۔ کوئی تیز تیز چل رہا تھا۔ کچھ عمر رسیدہ لوگ تھے۔ جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور وہ کچوے کی چال سے مارننگ واک کا لطف اُٹھا رہے تھے۔ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ ایک مہینہ پہلے ہی کلکٹر کے باوقار عہدے سے سبکدوش ہوا تھا، اور اُس کے دماغ میں اُس کی ملازمت کا پہلا دن تھا جب وہ اپنے آفیس کو جانے سے پہلے چرچ گیا تھا اور انجیل ِ مقدس پر ہاتھ رکھے فادر کہے رہے تھے، ”تم زمین کا نمک ہو، لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہا تو وہ کس چیز سے نمکین کیا جائے گا؟ پھر وہ کسی کام کا نہیں، سوائے اس کے کہ اُسے باہر پھینکا جائے اور آدمیوں کے پاؤں کے نیچے روندا جائے۔ تم دُنیا کا نور ہو، جو شہر پہاڑ پر بسا ہو وہ چھپ نہیں سکتا، اور چراغ جلاکر پیمانے کے نیچے نہیں بلکہ چراغ دان کے اوپر رکھتے ہیں تو اس سے گھر کے سب لوگوں کو روشنی پہنچتی ہے۔ اسی طرح تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے، تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمانوں پر ہے تمجید کریں۔“
یہی وہ عہد نامہ تھا، جو اُس نے ملازمت کے پہلے ہی دن سے اُس پر عمل کرنا شروع کردیا تھا۔ ساری زندگی اِسے ہی حکم کی طرح بجا لایا۔ نہ کبھی اپنے قلم سے کسی کو نقصان پہنچایا، نہ کبھی رشوت لی، نہ زبان سے کبھی کوئی ایسا لفظ نکالا جس سے کسی کی دل آزاری ہو، لیکن ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے ایک ہی مہینے کے اندر۔۔۔۔
طنزیہ ہنسی اُس کے چہرے پر پھیل گئی، اُس کا بیٹا اُسے مشورہ دے رہا تھا، ” ڈیڈ اب آپ کو بھی مارننگ واک کرنا مانگتا !“
اُس نے سوالیہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا، تو کیا ہم ریٹائرڈ ہوتے ہی بوڑھا ہوگیا؟ لیکن آواز اُس کے حلق سے نکلی ہی نہیں۔
” آپ واکننگ کرے گا تو آپ کا ہیلتھ بھی اچھا رہے گا۔“
”ہوں!“ اُس نے ہنکاری بھری اور بیٹے کی طرف دیکھا، جو اپنی ٹائی کی ناٹ کو درست کر رہا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ ریٹائرڈ ہوتے ہی ہمارا ہیلتھ بھی ڈاؤن ہوگیا؟
”ڈیوڈ۔۔!“ اُس نے بیٹے کو آواز دی۔ جو بیگ اُٹھا کر اپنے آفیس کے لیے نکل رہا تھا۔
” ڈیڈ۔۔۔ شام کو بات کرے گا۔ یو نو۔۔ ابھی ہم کتنا لیٹ ہوگیا ہے۔“ اور پھر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔ وہ بھی اپنی جگہ سے اُٹھا اور دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ ڈیوڈ نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کی جانب دیکھا، ہاتھ ہلایا اور پھر زن سے اُس کی کار گیٹ سے باہر نکل گئی۔
اُس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔مارننگ واک کرنے والوں کا ایک ریلا تیزی سے چلتا ہوا اُس سے آگے نکل گیا۔
” ہیلو مسٹر جان۔!“
اُس نے پلٹ کر دیکھا، ”ہیلو مسٹر پرشوتم ! ہاؤ ڈو یو ڈو؟“
”فائن سر!“ پرشوتم کے چہرے پر بڑی تازگی تھی۔
” مسٹرپرشوتم۔۔۔!“ اُس نے اُسے نیچے سے اوپر تک دیکھا، ” تم بھی مارننگ واک کے لیے نکلا ہے؟“
”نو سر!“ اُس کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ تھی، ”مجھے کیا ضرورت؟ نو بی پی، نو شوگر۔۔ أئی یم کوئیٹ ویل سر۔!“
جان کا سر جھک گیا۔ بی پی تو ہم کو بھی نہیں ہوا، شوگر بھی نہیں، پھر ڈیوڈ ہم کو مارننگ واک کا کیوں بولا؟ وہ سوچنے لگا۔
”کیا سوچ رہے ہو سر؟“
”اوہ۔۔ نو۔۔ کچھ بھی نہیں۔“
جان نے قدم آگے بڑھایا، لیکن اُس کا دماغ ابھی تک اُسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ پرشوتم کا عمر ہم سے صرف چھ مہینے ہی کم ہے۔ چھ مہینے بعد یہ بھی ریٹائرڈ ہوجائے گا۔ پوز کرتا ہے سالا، جیسے چھ برس چھوٹا ہے۔
”سر بُرا نہیں ماننا، مگر آپ کے بھلے کے لیے کہتا ہوں۔“
جان نے اُس کی طرف دیکھا۔
” آپ کو غصہ بہت جلد آتا ہے، مگر اب کنٹرول کرنا چاہیے ورنہ نقصان آپ ہی اُٹھائیں گے۔“
”اوکے۔۔ اوکے۔۔۔!“ اُس نے لاپرواہی سے جواب دیا اور تیزی سے آگے نکل گیا۔ اُس کے دماغ میں اب بھی وہی جملے گونج رہے تھے۔ وہ پھر سوچنے لگا، یہ لوگ ایسا کیوں سوچتا ہے کہ آدمی ریٹائرڈ ہوتے ہی بیمار ہوجاتا ہے۔؟ کمزور ہوجاتا ہے؟ اُس کو مارننگ واک کرنا چاہیے؟ ہم تو ابھی پوری طرح فٹ ہے۔ سب کے برابر شام کو دو پیگ شراب بھی پیتا ہے۔ اُس کی نظریں سڑک پر پھینکے ہوئے کوک کے خالی ٹین پر پڑی اور اُس نے حقارت سے پوری قوت کے ساتھ اُسے لات ماری، لیکن عجلت میں پیر لچک گیا اور پیر کی اُنگلیاں جھنجھنا اُٹھیں۔ وہ سڑک کے کنارے لگے میل اسٹون پر بیٹھ گیا اور تکلیف سے کراہنے لگا۔ سورج نکل چکا تھا۔ روپہری سنہری کرنیں زمین پر پھیل رہی تھیں۔ جب ذرا تکلیف کم ہوئی تو اُس نے جھک کر دیکھا، اسٹون پر لکھا تھا، حیات پور ساٹھ میل۔۔۔ اُسے ہنسی آگئی، وہ بیٹھا بھی تو اُس اسٹون پر جو حیات کے ساٹھ برسوں ہی کا حوالہ دے رہا تھا۔ اُس نے پھر ایک بار نظریں سامنے کیں، مارننگ واک کے متوالے خوف کی چادر اوڑھے آگے پیچھے قدم اُٹھا رہے تھے۔ اُس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
”اور یسوع مسیح کو پکڑھنے والے اُسے کائفا نامی کاہن سردار کے پاس لے گئے۔ جہاں فقیہ اور بزرگ جمع ہو گئے تھے اور کاہن سرداراورصدر عدالت یسوع مسیح کو مار ڈالنے کے لیے اُس کے خلاف جھوٹی گواہیاں ڈھونڈھنے لگے تھے۔“
وہ نڈھال قدموں سے گھر پہنچا
اب اُس کا روز کا یہی معمول بن گیا تھا۔ برسرِ روزگار احباب کے گھر اُس نے آنا جانا چھوڑ دیا تھا حالانکہ اُن میں سے کئی ایک ایسے تھے جو اُس کی وجہ سے ابھی تک اسی شہر میں ٹِکے ہوئے تھے۔ کئی لوگوں کے نجی معاملات اُس نے ہی سلجھائے تھے۔ روپیوں پیسوں سے کتنے ہی لوگوں کی مدد کی تھی، اپنے سرکاری اثر و رسوخ کی وجہ سے اُس نے ہمیشہ ہی دوسروں کی بھلائی کا کام کیا تھا۔ لیکن اب وہ سب کے لیے غیر ضروری ہوگیا تھا۔ وہ بھی گھر کے باہر نہیں نکلتا تھاکیونکہ اب اُس کا گرم جوشی سے استقبال کوئی بھی نہیں کرتا تھا۔ جو بھی سامنے آتا، دعا سلام کے بعد یہی ایک سوال کرتا،طبیعت کیسی ہے؟ حالانکہ ریٹائرڈمنٹ کے بعد شاید ہی اُس نے بستر پکڑا ہو، یا پھر بنا مانگے مشورے شروع ہوجاتے، کھانے پینے کی ہدائتیں، یوگا کی تلقین، گھرہی میں آرام کرنے کی باتیں ، ٹریفک کی بد انتظامیوں کے گلے شکوے، جبکہ اُسی سڑک پر یہ سب بھی تو چلتے پھرتے ہیں۔ بیٹا کار کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا، ڈرتا ہے کہ کہیں اُسکاایکسیڈنٹ نہ ہوجائے، جبکہ برسوں سے وہ خود ہی کار ڈرائیو کرتا آیا ہے۔ بلکہ ریٹائرڈمنٹ کے آخری دن بھی وہ اپنے آفیس سے گھر تک خود ہی کار ڈرائیو کرتا ہوا آیا تھا۔ لیکن اِس کے دوسرے ہی دن سے یہ فیصلہ ہوگیا کہ اب اُسے بریک اور ایکسیلٹر میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔
”ڈیڈ۔۔ ہم کھانا لگا دیا ہے۔ تم بھی ہمارے ساتھ ہی کھائے گا؟“
بہو کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اُس نے اخبار کو تپائی پر رکھا اور اُٹھتا ہوا بولا، ”اوہ۔۔ یس۔۔ چلو، کیا بنایا ہے؟“
”بنایا تو بہت کچھ ہے۔ بٹ ڈیڈ وہ ڈیوڈ بولا آپ کے کولسٹرال کو بڑھنا نہیں مانگتا، اس لیے ہم آپ کے لیے۔۔۔“
”اوکے۔ اوکے۔۔!“ اُس نے جملہ پورا ہونے نہیں دیا۔
”ڈیوڈ بولتا تھا، کولسٹرال ہائی ہوجائے تو ہارٹ اٹیک آتا ہے، اور ڈیڈ یو نو۔۔ اِدھر سے اسپتال کتنی دور ہے!“
”یو اینڈ یور ہسبنڈ آر جینیس “ اُس نے تعریفی طنزیہ انداز میں آنکھیں مٹکائیں، ” ہم کو اٹیک آیا تو ہم مر ہی تو جائے گا؟“ وہ اُس کے پیچھے پیچھے قدم اُٹھانے لگا، ”اسی لیے تو روزی تمہارا ہسبنڈ اور ہمارا اکلوتا بیٹا ہمارے اکاؤنٹ سے سارا روپیہ نکال لیا ہے کہ بعد میں کون جھنجھنٹ اُٹھائے گا؟“
روزی کے چہرے پر کھسیانی ہنسی تھی لیکن اُس کے گلے کا سونے کا لاکٹ اصلی چمک دکھا رہا تھا۔
وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا اور بد مزہ کھانوں کے نوالے توڑنے لگا اور اُس کے نتھنوں میں مرغن کھانوں کی سوندھی سوندھی خوشبو مہک رہی تھی۔ اُس نے نظریں اُٹھائیں، کھڑکی کے باہر دیکھا، تیز دھوپ میں ہر چیز چمک رہی تھی۔ اشوک کے اونچے اونچے درختوں اور چنبیلی کے منڈوے سے بلند ہوتے ہوئے آنکھوں کے دائرے وسیع ہوتے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ ناریل کے درختوں کے جھنڈ سے پرے فٹ بال گراؤنڈ آگیا، اور گراؤنڈ کی دوسری جانب جھیل تھی۔ جھیل میں لہریں اُٹھ رہی تھیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈبکیاں لگا رہے تھے۔ آسمان میں پرندے اُڑ رہے تھے، اور گیند اُس کے پیروں میں ایسی تھی جیسے مقناطیس سے لوہا چپک جاتا ہے۔ وہ بہت تیزی سے مخالف ٹیم کے گول پول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پہلے جوزف نے اُس کے پیروں سے گیند لینا چاہا اور ڈاچ کھاکر پیچھے رہ گیا۔ پھر وکرم پوری طاقت کے ساتھ اُس کے مقابل آیا لیکن گیند کو اُس کے پیروں سے جدا نہ کر سکا، ایک جھکائی کے ساتھ ہی وہ چھوٹی ڈی میں داخل ہوگیا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے گول کیپر مستعید تھا۔ بس ایک کک، اور ٹیم کی فتح تھی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ کِک لگاتا اور گیند گول کیپر کو ڈاچ دیتے ہوئے گول پول میں داخل ہوتی، ایک زنانی چیخ اُبھری۔۔ شبیر۔۔۔۔!
اور شبیر میری اُٹھی ہوئی کِک کو نیچے آنے سے پہلے ہی گیند کو لے اُڑا، اور وہ پھر ایک بار سینٹر پر ٹپ کھاتے ہوئے اُس کے گول پول کی طرف چلی جا رہی تھی۔ اُس نے رُک کر مخالف ٹیم کے گول پول کی طرف دیکھا۔ بہت سارے لوگوں کے درمیان ایک لڑکی کھڑی تھی۔ سفید لباس میں وہ فرشتوں کی طرح نظر آرہی تھی۔ اُس کے سنہرے بال ہوا میں اُڑ رہے تھے، اور وہ اب بھی شبیر کے لیے تالیاں بجارہی تھی۔
اُس کی ٹیم ہار گئی تھی۔ شبیر اُس کا بھی دوست تھا۔ بچپن کا دوست۔ میچ کے بعد جب اُس نے اُس لڑکی کی طرف اشارہ کیا تو شبیر نے زور سے قہقہ لگاتے ہوئے اُسے بتایا وہ اُس کی پچھلے دو برس سے پڑوسن ہے۔ بہت اچھی لڑکی ہے۔ اُس کی بے تکلف دوست ہے۔ پھر اُس نے اچانک اُس کی طرف غور سے دیکھا تھا اور پوچھا تھا، ”جان تو بھی تو کرسچین ہے۔ چل میں تیرے کو اُس سے انٹرڈیوس کراتا ہوں۔
پنکی لنڈا سے وہ اُس کی پہلی ملاقات تھی۔ میچ ہار کر بھی اُس نے زندگی کا سب سے بڑا انعام جیت لیا تھا۔ زندگی کے چالیس برس دونوں نے میاں بیوی بن کر گزارے۔اس نے زندگی میں اُس کے ہاتھوں کبھی بد مزہ کھانا نہیں کھایا تھا۔بات بات پر ہنسنے مسکرانے والی پنکی لنڈا،ہر مشکل گھڑی میں ڈھال بن کر ڈٹ جانے والی پنکی لنڈا،اپنے سکھ تیاگ کر اس کے دکھ درد بانٹنے والی پنکی لنڈا ہنستے ہنستے ہی اس کی زندگی سے اچانک چلی گئی۔تابوت میں لٹاتے ہوئے بھی اسے یقین نہیں آتا تھا کہ وہ سچ مچ ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کے بعد اس نے کسی دوسری عورت کا چہرہ نہیں دیکھا۔ اپنی ساری زندگی اپنے دونوں بچوں کے لئے وقف کردیا۔ پہلے روزی کی شادی کی اور بعد میں بیٹے کی۔
”ڈیڈ آپ کیا سوچتا ہے؟ پلیز کھانا ٹھنڈا ہوتا ہے!“
”اوہ سوری!“اور وہ پھر چکھتے مکھتے نوالے حلق سے نیچے اتارنے لگا۔
روز و شب اسی طرح گزر رہے تھے۔بیماریوں کی صفائی دیتے دیتے اب اسے بھی احساس ہونے لگا تھا کہ واقعی وہ کمزور ہو گیا ہے۔مشوروں نے اسے بہت حد تک اپنا اسیر بنالیا تھا۔ اس میں تبدیلیاں آنا شروع ہو گئی تھی۔ اب جب بھی وہ مارننگ واک کے لیے نکلتا۔ اس کے جسم پر اوورکوٹ، سر پر ہیٹ اور گلے میں مفلر پھنسا ہوا ہوتا، اس کے مزاج میں عجیب سی سنجیدگی آگئی تھی۔ اس نے لوگوں سے ملنا جلنا تو ترک کر ہی دیا تھااب گھر کے لوگوں سے بھی بات چیت بہت کم کرتا تھا۔ مارننگ واک کے بعد یا تو وہ گھرمین اخبار پڑھتا رہتا،یا پھر بستر پر لیٹا رہتا اور اپنی ہی سوچوں میں گم رہتا۔عجیب عجیب بیماریوں کی علامتیں اُسے اپنے اندر دیکھائی دینے لگتیں اور گھبراہٹ کے مارے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتیں۔
”ڈیڈ…… تم کو اب پابندی سے چرچ بھی جانا منگتا!“ اس کا بیٹا پھر ایک بار اس کے مقابل بیٹھا تھا۔
”چرچ___وہ تو ہم پہلے روز جاتا تھا۔“
”ڈیڈاب آپ کو روزجانا منگتا۔“
”او کے کل سے ضرور جائے گا۔“اس کی آواز بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”گڈ ڈیڈ! موت تو سب کو آئیگا بٹ جب آپ یسوع مسیح سے ملے گا تو وہ آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوگا۔“
اُسے اچانک محسوس ہوا جیسے موت کا فرشتہ دروازے پر کھڑا ہے۔
”اور جب یہ فانی جسم بقاء کا جامہ پہن چکے گا، تو وہ قول پورا ہوگا، جو لکھا ہے کہ موت فتح کا نغمہ ہوگی، مگر خدا کا شکر ہے جو ہمارے خدا وند یسوع مسیح کے وسیلے سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔ بس ائے میرے عزیز بھائیوں ثابت قدم اور قائم رہو، اور خدا وند کے کام میں ہمیشہ افزائش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہوکہ تمہاری محنت خداوند میں بے فائدہ نہیں ہے۔“
دوسرے ہی دن وہ چرچ کی طرف جا رہا تھا۔ چرچ تک پہنچنے کے لیے اُسے مین سڑک کو چھوڑ کر اُس پگڈنڈی پر بھی چلنا تھا جو جو چھوٹی سی پہاڑی پر واقع چرچ تک پہنچاتی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہا تھا۔ پہاڑی پر چرچ کی عظیم الشان عمارت کھڑی تھی۔ چاروں کونوں پر بڑے بڑے بُرج بنے ہوئے تھے۔ اُن پر مثلث نما گنبد تھے۔ اور گنبدوں کے اوپر صلیبیں استادہ تھیں۔ چرچ کا عالی شان بلند دروازہ کھلا ہوا تھا۔ لوگ عقیدتوں میں ڈوبے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔
آج کچھ بھیڑ زیادہ ہی تھی۔ اُس نے دل میں سوچا اور جلدی جلدی قدم اُٹھانے لگا۔ پہاڑی کی بلندی پر پہنچ کر اُس نے نیچے کی طرف دیکھا، ڈھلان پر غریبوں کی بے شمار جھونپڑیاں تھیں اور اُن کے ننگ دھڑنگ بچے ادھر اُدھر گھوم رہے تھے۔ اُس نے جھونپڑیوں سے نظریں اُٹھاکر چرچ کی عالیشان عمارت کی طرف دیکھا۔ چرچ کے بلند دروازے پر ایک خوبصورت حلقہ بنا ہوا تھا۔ اور اُس میں ماں مریم کی نہایت خوبصورت سنگ مرمر کی مورتی تھی۔ بے اختیار وہ دل ہی دل میں بدبدایا، مدر یہ غریب لوگ ہی اب تک تیرے سے جڑا ہوا ہے۔ جیسے مسیح کے ٹائم پر بھی وہ مسیح کے ساتھ تھا۔ تم اُن کے واسطے کچھ کیوں نہیں کرتا،ہم سمجھ گیا، کیونکہ اگر یہ خوش حال ہوگیا تو یہ جگہ چھوڑ دے گا اور بلڈنگوں میں آباد ہوجائے گا۔ تم اکیلا رہ جائے گا۔ بٹ مدر ہم تم کو بتاتا ہے، یہ انڈیا ہے۔ یہ جب تک دُنیا کے میپ پر رہے گا اِدھر سے غریبی نہیں جائے گا۔ تمہارا پڑوسی ہمیشہ باقی رہے گا۔
وہ چرچ میں داخل ہوا۔ اندر کی جگمگاہٹ دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ چھت پر لٹکے ہوئے بڑے بڑے فانوس روشن تھے۔روشنی سے ہر چیز جگمگا رہی تھی۔ عالیشان فرنیچر تھا۔ معبد مقدس کے چبوترے پر بے شمار موم بتیاں روشن تھیں۔ اُس پر ایک چھوٹی سی سنگی تپائی تھی، اور اُس پر انجیل ِ مقدس رکھی ہوئی تھی۔لوگ دو رویہ بینچوں پر بیٹھے ہوئے تھے، اور رئیس شہر کا انتظار کر رہے تھے۔ جو حال ہی میں منتخب ہوا تھا۔ وہ بھی ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔سامنے کی دیوار پر یسوع مسیح کا نہایت خوبصورت پورٹریٹ بنا ہوا تھا۔ وہ اب بھی صلیب پر موجود تھے۔ چرچ کے کا رندے،نن اورپادری کا نصاب مکمل کرنے والے طلباء کے ہم آہنگ گیتوں اور گھنٹیوں کی آوازوں سے ساری فضا گونج رہی تھی۔ پورے ماحول پر تقدس کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ اچانک پچھلے راستے سے رئیس شہر،پادریوں کے جھرمٹ میں چرچ میں داخل ہوا۔ سب لوگ اُس کے استقبال کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حمد کی لئے تیز ہوگئی۔ گھنٹیوں کے بجنے کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔
بڑے پادری نے اُسے معبد ِ مقدس کے چبوترے کی طرف لے کر گیا۔ چرچ کے اُصولوں کے مطابق اُسے لباس ِ فاخرہ عطا کیا گیا۔ روشنی پوری شدت کے ساتھ رئیس کلیسا کے چہرے پر پڑی اور جان حیران نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔ پادری نے اُس کے ہاتھوں میں عصائے کلیسا تھما دیا تھا۔ وہ سب معبد مقدس کے چبوترے کے اطراف چکر لگانے لگے۔ اُن کے پیچھے پیچھے بہت سارے پادری تھے۔ جن کے ہاتھوں میں شمعدان تھے۔ اُن میں سے بعض نے جلتے ہوئے لوبان کے تھال اُٹھا رکھے تھے۔
جان اُس وقت پھٹی پھٹی آنکھوں سے سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ یہ پیٹر بلیک مارکیٹر رئیس ِ شہر کیسے بن گیا؟ مدر مریم تم دیکھ رہا ہے۔ پادری معبد خاص کے چبوترے سے لگ کر حمد و ثنا میں مصروف تھا، اور جان کے دل و دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے۔ ائے مقدس مسیح تم ادھر فانوسوں کی جھوٹی روشنیوں میں جگمگاتا ہے۔ چوتھے آسمان سے زمین کو نہیں دیکھتا، دیکھ تیرے چاہنے والے آج بھی جھونپڑیوں ہی میں بستا ہے۔ ائے عظیم الشان چرواہے تیری اُس بھیڑ کو ان بلیک مارکٹیوں نے پھاڑ ڈالا ہے۔ ائے ہمیشہ زندہ رہنے والے مقدس باپ کے مقدس بیٹے تم کو ایک بار پھر زمین پر آنا مانگتا۔۔۔۔۔
دکھ اور غصے سے اُس کا سر پھٹا جا رہا تھا۔ وہ خاموشی سے چرچ سے باہر نکل گیا اور بنا سوچے سمجھے اُس کے قدم اُٹھ رہے تھے۔ اچانک اُسے احساس ہوا کہ غصے کے باعث اُس کی دھڑکن تیز ہوگئی ہے ۔ اُس کے پیر کپکپانے لگے ہیں، ”مسیح ہم ساری زندگی تیرے عہد نامہ سے بندھا رہا، تیرے بتائے ہوئے راستوں پر چلتا رہا، تم ہم کو کیا دیا؟ ایک کمزور بدن، اور جیتے جی وہ غذا جس میں کوئی لذت نہیں؟ تم اُن کو وہ سب دیا جو تمہارے راستے پر کبھی چلا ہی نہیں، رشوت خور، بلیک مارکیٹر، کالا روپیہ جمع کرنے والا معبد ِ خاص تک پہنچ گیا اور ہم۔۔۔۔ ہم چرچ سے باہر۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہا تھا۔ دھوپ میں تیزی آنا شروع ہو گئی تھی۔ سڑکوں پر ٹریفک بڑھ گئی تھی۔ چاروں طرف ایک شور تھا۔ اُسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب جھیل کے قریب پہنچ گیا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے تا اُفق جھیل کا پانی پھیلا ہوا تھا۔ آسمان میں پرندے اُڑ رہے تھے۔ وہ جھیل کے کنارے بنی ہوئی سنگی بینچوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا، اور جھیل کے اُس حصّے کی طرف دیکھنے لگا جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تیر رہے تھے۔ ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے۔ ایک دوسرے پر پانی اُچھال رہے تھے۔اِدھر اُدھر اور بھی لوگ تھے جو سنگی بینچوں پر بیٹھے جھیل کا نظارہ کر رہے تھے۔ناریل کے درختوں کے جھنڈ سے پرے وہی فٹبال کا میدان تھا اور غالباً اب بھی کوئی میچ کھیلا جارہاتھا۔وقفے وقفے سے سیٹیاں گونج رہی تھیں۔ اس نے ایک طائرانہ نظر گراونڈ پر ڈالی اور پھر سوچوں میں گم ہو گیا۔اُس کا دل اب بھی عجیب عجیب وسوسوں سے گھِرا ہواتھا۔پتہ نہیں وہ کب تلک سوچتا رہا۔اُس نے اپنی آنکھیں بھی موندلیں تھیں۔شاید وہ اپنی ہی سوچوں سے نبرد آزما تھا کہ ٹھیک اسی وقت کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اُس نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور پلٹ کر دیکھا۔نیلی جینس پینٹ اور پیلی جرسی میں ملبوس کوئی جانی پہچانی صورت دکھائی دے رہی تھی۔
”جان۔۔۔میرے کو نہیں پہچانا___؟یار۔۔۔۔ میں شبیر ہوں۔تیرے بچپن کا دوست!“
”شبیر___“ وہ اُچھل کر کھڑا ہو گیا اور اس کے گلے لگ گیا،”کدھر تھا تم مین اتنے دنوں سے؟“
”گوا میں۔۔۔وہاں میرا فشیری کا بزنس ہے۔“وہ اسے لے کر دوبارہ بینچ پر بیٹھتا ہوا بولا”اور تم___“یہ کیا سونگ اُٹھایا ہے بوڑھے کی مانند،یہ اوور کوٹ،گلے میں بیماروں کی طرح مفلر،آنکھوں میں اس قدراُداسیاں ……میرے یار کیا ہو گیا ہے تم کو__؟“
”کچھ نہیں یار۔۔۔ابھی ہم اِدھر اپنی ڈیوٹی سے ریٹائرڈ ہو گیا ہے۔“جان کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔
اُس نے اُس کی مایوسیوں کو پڑھ لیا تھا۔ اُسے جان پر ترس آنے لگا، ”جان___! تم صرف ڈیوٹی سے ریٹائرڈ ہوئے ہو،زندگی سے نہیں۔“اُس نے اپنی چھاتی کو پُھلایا،”مجھے دیکھ عمر تو میری بھی بڑی ہے۔لیکن میں بوڑھا نہیں ہوا۔ وہ……وہ اُدھر اپنا فٹبال کا گراؤنڈ تھانا……ارے اب بھی ہے،میں وہیں پر تھا۔لڑکے میچ کھیل رہے تھے اور میرا دل باربار اُچھل رہاتھا کہ میں بھی کھیل میں شامل ہوجاؤں ……“ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور جان کے مقابل کھڑا ہوتے ہوئے گویا ہوا،”تم کو یاد ہے نا۔ہم دونوں اسی گراؤنڈ پر تو کھیلا کرتے تھے۔“
”ہوں __“ جان کے لبوں سے آہستہ سے نکلا۔
”اور جان! کھیل کے بعد یہی جھیل تھی جس میں ہم دونوں گھنٹوں تیرا کرتے تھے؟یاد آیا نا۔“
جان کی آنکھوں میں لمحہ بھر کے لئے چمک پیدا ہوئی۔”شبیر تم سالا بالکل بوڑھا نہیں ہوا۔“
”ہوتا بھی کیسے__؟“ شبیر نے قہقہہ لگایا،”میں تمہاری طرح گورنمنٹ جاب میں تھوڑا ہی تھا جو ریٹائرڈ ہو کر بوڑھا ہوجاتا؟ دیکھ……اب بھی فٹ ہوں!“اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنائیں اور ہاتھوں کو ہوا میں لہرایا،”مگر تم گورنمنٹ کے غلام ریٹائرڈ ہوتے ہی اپنے آپ کو خود ہی بوڑھا بنالیتے ہو، یار جیو جی بھر کر جیو! زندگی ایک ہی بار ملتی ہے……“وہ پھر بینچ پر بیٹھ گیا،”چل جان میرے کو بتا تیرے کو بلڈ پریشر ہے؟“
”نہیں تو…….!“ جان نے فوراً جواب دیا۔
”میرے کو بھی نہیں ہے اور شوگر___؟“
”وہ بھی نہیں ہوا ابھی تک!“
”گڈ! لیکن تم پھربھی احتیاط کا کھانا کھاتے ہونگے۔لوگوں کے ڈراؤنے مشوروں کو سچ سمجھتے ہونگے…….جان! اس بکواس سے باہر نکلو،یہ کیا بیماروں کی طرح بیٹھے ہو، چلو آج ہم دونوں پھر ایک بار اس جھیل میں نہاتے ہیں، اور دیکھتے ہیں اُس ٹارگیٹ تک پہلے کون پہنچتا ہے؟ ‘‘
جان نے حیرت سے کبھی شبیر کی طرف اور کبھی جھیل کی طرف دیکھا۔ پھر اُس کے چہرے پر مسکراہٹ کِھل اُٹھی۔ اُس نے گلے سے مفلر کو نکال پھینکا اور اوورکوٹ کو اتارتے ہوئے شبیر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا،”ہوجائے…….ابھی دیکھیں گا، کس میں ہے کتنا دم!“
شبیر کا قہقہہ جھیل کی لہروں پر اُچھلتا ہو افٹ بال کے گراؤنڈ سے ہوتا ہوا آسمانوں میں گونجنے لگا۔
٭٭٭
Noor ul Hasnain
1-12-31 pargati colony ghati
Aurangabad
431001(M.S)
mob: 09890849736
مجرم کون : مہوش حبیب
مجرم کون …
(مہوش حبیب)
عالیہ کے مرتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا۔وہ خون میں لت پت چارپائی پر پڑی تھی۔زمین بھی خون سے رنگین ہوگئی تھی۔ عورتیں جوان لڑکی کی لاش کو دیکھ کر دھاڑیں مار مار کررو رہی تھیں اور بچے اور مرد افسردہ کھڑے تھے۔ یہ میت اس بے چاری اور بے بس لڑ کی کی تھی جس کے گھر والوں نے بچپن ہی میں اس کے ماموں کے بیٹے حماد کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑ دیا تھا۔
”بے چاری کو محبت کی سزا ملی ہے،بھائیوں نے ظلم کیا ہے۔ آخر اس نے محبت کر کے کونسا گناہ کر لیا تھا۔“
بچپن ہی میں عالیہ کی منگنی اس کے ماموں کے بیٹے حماد سے کر دی گئی تھی۔جب عالیہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ حماد سے محبت کرنے لگی اور حماد بھی عالیہ کو بے پناہ چاہتا تھا۔وہ دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے اور ان کے گھروں میں تھوڑا ہی فاصلہ تھا۔وہ کسی نہ کسی کام کے بہانے دن میں ایک دو بار ضرور مل لیتے تھے۔ان کے پیار کے دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ ایک دن حماد کے ابو کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور وہ ا نتقا ل کرگئے۔اس کے بعد گھر کی ساری ذمہ داریاں حماد پہ آ ن پڑیں دونوں چھوٹی بہنوں اور بھائی کی تعلیم کے اخراجات بھی حماد کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا اسے ابھی کوئی ملازمت بھی نہیں ملی تھی اسی وجہ سے اپنے باپ کا پیشہ سنبھالا اور کاشتکاری کرنے لگا۔
ادھر عالیہ کے گھر والے اسکی شادی کے بارے میں فکر مند تھے او ر حماد کے گھریلو حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ عالیہ کی شادی حماد سے کرنے سے انکار کر رہے تھے۔جب عالیہ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ مسلسل پریشان رہنے لگی اور اسی پریشانی کا راز معلوم کرنے کیلئے ایک شب اسکی ماں اسکے کمرے میں آئی اور اس سے اسکی پریشانی کے بارے میں پوچھا تو عالیہ نے رو تے ہوئے اپنے دل کا حال ماں سے کہہ دیا۔
”میں حماد سے پیار کرتی ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتی ہوں وہ میرا منگیتر ہے اور میں اسی کے ساتھ ہی خوش رہ سکتی ہوں۔“
اسکی ماں اسکو سمجھاتے ہوئے کہا۔
”بیٹی! تجھے تو پتہ ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں، ہمارااورانکامعیار یکساں نہیں۔۔۔۔۔۔ تُو اسے بھول جا ۔۔۔“
لیکن عالیہ اپنے فیصلے پر ڈٹی رہی اور کسی بھی طرح حماد کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئی۔
شام کے وقت سب لوگ کھانے کی میز پر جمع ہوئے تو ان میں عالیہ کا بڑا بھائی جمال کھانے پرانکے ساتھ شامل نہیں تھاتو نسرین پوچھنے لگی۔”آج جمال صبح سے گھر نہیں آیا اور صبح مجھے بِنا بتائے چلا گیا تھا خدا خیر کرے‘‘عالیہ کی ماں اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
”بہو! آپ پریشان نہ ہوں،وہ آجائے گا مجھے بتا کر گیا تھا وہ سلمان کے گھر گیا ہے الیکشن سر پر ہیں نا!اس سے کچھ مشورہ کرنے گیا ہے۔“
جمال رات گئے واپس آیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر سو گیا صبح ناشتہ کی میز پر سب کو سلام علیک کہہ کر مبارکباد دی اور کہا کہ…….
”کل رات میں نے عالیہ کی شادی کی بات سلمان کے ساتھ پکی کر دی۔“
نسرین بات کاٹتے ہوئے بولی…..”ہاں بھئی! میں تو خود بہت خوش ہوں کہ اتنے امیر گھرانے میں ہماری عالیہ کا رشتہ ہونے جا رہا ہے۔“
عالیہ یہ سب باتیں سن کر پریشان ہو گئی اور کھانا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے اپنی امی اور بھابی کو شادی سے صاف انکار کر دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ”اگر میری شادی حماد کے علاوہ کسی اور سے کریں گے تو میں اپنی جان دے دوں گی مگر کسی اور سے شادی نہیں کروں گی“ اب عالیہ ہر وقت پریشان رہتی اور سوچوں میں کھوئی رہتی۔جب حماد کو اس بات کا پتا چلا کہ عالیہ کی شادی کسی اور سے ہو رہی ہے تو اسکی حالت اور بھی ابتر ہوگئی اور وہ اپنے ہوش کھو بیٹھا۔صدف جو حماد کے پڑوس میں رہتی تھی اس نے عالیہ کو اس بات کی خبر دی تو وہ کسی کوبِنا بتائے دیوانہ واربھاگتی ہوئی حماد کے گھر پہنچتی ہے اور اس سے گلے لگ کر رونے لگی اور ساتھ جینے مرنے قسمیں کھائی گئیں۔
”میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دونگا۔“حمادنے اسکو سہارا دیتے ہوئے کہا۔
”حماد! میں تمہارے بنا مر جاؤں گی،میں کسی اور کی نہیں ہو سکتی،میں تمہاری ہوں،صرف تمہاری۔۔۔ “
گھر میں عالیہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے ایک تہلکہ مچا ہواتھا۔جمال اور ندیم دونوں بھائی بھاگتے ہوئے حماد کے گھر عالیہ کا پتہ لینے گئے تو وہ انھیں وہاں مل گئی اسکے بھائیوں نے اسے واپس گھرلانے کی کوشش کی تو وہ حماد کی امی سے دیوانہ وار لپٹ گئی اور واپس جانے سے انکار کر دیا۔اور کہتی ہے”نہیں۔۔۔ میں سلمان سے شادی نہیں کرونگی۔“وہ نہیں پر زور دیتی رہی۔
مگر اسکے بھائی اسے اس بات پر رضا مند کر کے واپس لے گئے کہ وہ اسکی شادی حماد سے ہی کریں گے اور اسکی مرضی کے خلاف نہیں جائیں گے۔لیکن اگلے ہی دن جب حماد کھیتوں میں جانے لگا تو جمال اور ندیم اس سے پہلے ہی کھیتوں کی طرف جانے والے راستے میں چھپ کر بیٹھ گئے اور جب وہ نہر کے کنارے گھنے درختوں کے جھنڈ میں سے گزرنے لگا تو انھوں نے اسے پکڑ لیا اور بہت مارا یہاں تک کہ اسے لہو لہان کر دیا اور بار بار اس سے یہی منوانے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ خود عالیہ سے شادی کرنے سے انکار کر دے تاکہ یہ بات سنتے ہی عالیہ کے دل میں بھی حماد کیلئے نفرت آ جائے ااور وہ حماد کا نام لینا بھی گوارہ نہ کرے لیکن جب وہ یہ سب کرنے میں ناکام رہے تو اسے ادھ موا کر کے وہیں چھوڑ کر واپس چلے آئے ان سب حالات سے گزرنے کے باوجود حماد نے اس بات کا کسی سے ذکر نہ کیا کہ کہیں انکی یہ بات سن کر حماد کے گھر والے اسے عالیہ سے شادی کرنے سے منع نہ کر دیں۔
گھر پہنچتے ہی دونوں بھائی عالیہ کے ساتھ جھگڑا کرنے لگے ااوراسکو مارنے پیٹنے لگ گئے کہ وہ حماد کے گھر کیوں گئی تھی۔؟ جمال نے غصے سے عالیہ کو مارتے ہوئے کہا۔
”تو ہماری مرضی کے خلاف جائے گی،سلمان سے شادی نہیں کرے گی۔۔۔۔ یہ خیال تجھے کیسے آیا۔؟ ہم اگلے جنم میں بھی تجھے حماد کا ہونے نہیں دیں گے۔“
اسی اثناء میں جمال نے عالیہ پر فائر کر دیا۔ عالیہ ساتھ پڑی ہوئی چارپائی پڑی۔ عالیہ کی ماں جب بازار سے واپس آئی تو عالیہ کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی اور بے اختیار رونے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔
”میری بیٹی کو کیا ہو گیا۔۔۔۔ اسکی یہ حالت کس نے کر دی۔۔۔۔۔ ارے!کس نے یہ ظلم ڈھایا ہے۔۔۔۔“
نسرین اپنی ساس کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے کہ اتنے میں رونے کا شور سن کر پڑوس کے بچے،مرد اور عورتیں انکے گھر دوڑے چلے آتے ہیں اس ہنگامے کے دوران ندیم گھر سے نکل جاتا ہے اور تھانیدار سے جاکر ملتا ہے اسے رشوت دیکر کہتا ہے کہ ”ہمارے گھر پہ ایک حادثہ ہوگیا جمال بندوق صاف کر رہا تھا کہ اچانک گولی چل گئی اور عالیہ کو لگ گئی اور وہ مر گئی۔“
تھانیدار پیسے لیتے ہوئے کہا…… ”آپ بے فکر ہو جائیں آپکو کچھ نہیں ہو گا میں سب سنبھال لونگا۔“
تھانیدار نے رشوت لے کر عالیہ کے قتل کا کوئی ایکشن نہیں لیا لیکن وہ یہ سوچتا رہا کہ انسان کی قیمت نوٹوں کے بدلے میں کتنی کم ہوگئی ہے،کیا محبت کر کے عالیہ نے جرم کیا تھا۔؟اگر ایسا ہے تو جمال نے خود کیوں لومیرج کی تھی۔؟
تھانیدار کو رشوت تو مل گئی لیکن حق دار کو اس کا حق نہ مل سکا۔۔۔ چاہنے والے کو اسکا پیار نہ مل سکا۔ ۔ ۔ جمال نے بہن کو مار کر معاشرے میں اپنی عزت تو بچا لی لیکن حقیقت سے منہ نہ چھپا سکا ۔ ۔ ۔ وہ محبت کا مجر م ۔ ۔ ۔ ۔ معاشرے کا مجرم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیار کا مجرم ہی نہیں بلکہ خدا کا بھی مجرم بن گیا ۔ ۔ ۔ ۔
٭٭٭٭٭
مسیحا : ناصر علی وارثی
مسیحا
ناصر علی وارثی
ایک ماہ سے بھی کم وقت میں , میں ڈاکٹر بن کر گاؤں سے شہر آگیا تھا۔۔۔۔۔
یہ ایک دلچسپ بات ہے جو نہ تو پہلے کبھی دیکھی، سوچی اور سنُی ہو گی۔لوگ ڈاکٹر بن کر شہر سے گاؤں جاتے ہیں لیکن میں گاؤں سے ڈاکٹر بن کر شہر آیا تھا۔شہر کے ڈاکٹروں کے قصے تو پہلے سن رکھے تھے مگر دیکھنا پہلی بار نصیب ہو رہا تھا۔بہر حال ڈاکٹر، ڈاکٹر ہی ہوتا ہے گاؤں کا ہو یا شہر کا۔
میں نویں جماعت میں پڑھتا تھاایک رات میری آوارگی کو دیکھتے ہوئے گھر والوں کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا کہ کل شام سے تم گاؤں کے ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس ڈاکٹری سیکھنے جایا کرو گے۔میں دل ہی دل میں خوش تو ہوا کہ اب ہم بھی ڈاکٹر بن جائیں گے۔لوگ ہماری عزت کریں گے، اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پہ نادم بھی تھا کہ میں اور ڈاکٹر۔۔۔۔۔اوہ!! وہ انگریزی کیسے پڑھنی ہے۔؟ گولیوں کے نام کیسے یاد کرنے ہیں۔؟ ٹیکا کیسے لگاناہے۔؟ خون کا بہاؤ کیسے دیکھنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔
لیجئے۔۔۔۔ صاحب ہم پہلے دن ڈاکٹر بننے کے شوق میں اپنے ڈاکٹر صاحب کی دکان پر پہنچے۔دکان کیا تھی بس اپنے گھر کی بیٹھک میں ایک الماری تھی اور ایک کرسی،میزپر دل کی دھڑکن دیکھنے والا پائپ رکھا ہوا تھا۔ساتھ میں ایک دو پنسل اور کاغذ بھی پڑے تھے۔وہ شاید اس لیے تھے کہ ڈاکٹر صاحب مریض کو نسخہ لکھ کر دیتے تھے۔
دکان کے باہر ایک پرانا نیم کا درخت تھا وہیں دو کرسیا ں باہر نکال کر مریضوں کے انتظار میں بیٹھ جاتے تھے۔اُس دن گاؤں میں لوگ کم بیمار ہوئے یا پھر اُس دکان میں ہی کم آئے۔۔۔یاد نہیں۔ ہاں یہ
ضرور یادہے کہ ہم دکان کے باہر بڑے فخریہ انداز میں ڈاکٹر بن کر بیٹھتے تھے اور یہ فخریہ انداز اُس وقت اور بھی بڑھ جاتا تھا جب بڑے ڈاکٹر صاحب وہاں موجود نہ ہوتے تھے۔مگر ساتھ والے گھروں کے سامنے بندھی بکریاں اور بھینسیں اس بات کا ثبوت دے رہی تھیں کہ شاید بڑے ڈاکٹر صاحب تھوڑا بہت ان کی ڈاکٹری کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔خیر یہ تو مریض کے آنے پر ہی منحصر تھاکہ کس طرح کا مریض آتا ہے۔یہاں سب چلتا ہے۔
گاؤں کے ڈاکٹر عموما سرجن ہی ہوتے ہیں اور وہ بہت محنتی اور اعلیٰ ذہن کے مالک ہوتے ہیں کیوں کے چائے کی دکانیں،ہوٹل،سا ئیکلوں کے کاریگر، ڈاکٹری اور حکمت وغیرہ وغیرہ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر عوام کی خدمت کیلئے دستیاب ہیں۔یاد رہے کہ یہ سرجن شہروں کے سرجنوں کی طرح نہیں ہوتے جن کو کہا جائے کہ میرا بایاں گردہ خراب ہے نکال دو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ صاحب نے دائیں طرف کا نکال دیا ہے۔
ہمیں ڈاکٹری سیکھتے ہوئے آج تیسرا دن تھا۔دکان پر پہنچتے ہی پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کسی گھر میں مریض دیکھنے گئے ہیں۔ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر صاحب کے آنے سے پہلے تک مریضوں کو دوا دے دی جائے۔لیکن پھر سوچا کہ کہیں ان کا آپریشن وغیرہ ہی نہ کرنا ہو۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ڈٖاکٹر صاحب واپس تشریف لائے اور خاموشی سے اپنی الماری میں ایک نسخہ تیار کرنے لگے۔دو منٹ بعد ہی ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے جب ڈاکٹر صاحب نے ہمارے ہاتھ میں ایک عدد ٹیکا تھماتے ہوئے حکم دیا کہ فلاں گھر میں اس لڑکے کے ساتھ جاؤ اور مریض کے ٹیکا لگا آؤ۔آج ہم پہلا ٹیکا لگانے جا رہے تھے۔میرے ڈر اور حیرانی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے مجھے چار آنکھیں دکھائیں اور پیار بھرے لہجے میں آہستہ سے قریب ہوکر فرمایا ”کوئی بات نہیں بس آرام سے لگا دینا اس پہ کون سے منتر پڑھنے ہیں“۔
دوسروں مریضوں کے سامنے ہم اپنا وقار نہ کھونے کے ڈر سے جلد ہی مان گئے اور یوں ہم نے مریض کے گھر کی راہ لی۔
دل کی کیفیت۔۔۔۔دھک دھک۔۔۔بازو۔۔۔قدموں کے ساتھ ساتھ اور چوڑے ہوتے جارہے ہیں۔گاؤں کی وہ گلیاں جہاں لوگ مرے اُلٹے نام لیتے نہ تھکتے تھے آج اُس گلی میں کوئی نظر نہیں آرہا۔ ہم نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کوئی نظر آئے اور ڈاکٹر صاحب ہاتھ میں پکڑا ٹیکا اس کو دکھائیں مگر بے سود۔ ایک تو مریض صاحب بھی نا۔۔۔۔ کتنا نزدیک گھر ہے ان کا۔۔۔ اتنے میں ہم مریض کے دروازے پر تھے۔
اندر سے ایک عورت کی آواز۔۔۔۔۔وے مر جانیاں!! ڈاک ٹر شاب نوں اندر لیہ آ۔۔
ایک طرف گھر کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی جہاں درختوں کی چند شاخوں کی مدد سے پردہ کرنے کی بیکار کوشش نظر آ رہی تھی۔ دیکھ کر حیرت ہوئی یہ تو ہمارے گاؤں کا بوڑھا کوچوان تھا جس کے پاس ایک ہی ٹوٹا پھوٹا تانگا تھا جو کہ اس کی روزی روٹی کا باعث تھا مگر دوسری طرف خوشی یہ تھی کہ اگر ٹیکا غلط لگ گیا تو خیر ہے۔یہ بوڑھا ہی ہے جس کے مرنے پر گھر والے مجھے زیادہ نہ کوسیں گے۔ دل کو اس بات پر بھی تسلی تھی کہ یہ اَن پڑھ اور غریب ہی ہیں اگر بوڑھا مر گیا تو میرے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرسکیں گے۔
ڈاکٹر صاحب خود کیوں نہیں آئے۔؟
بوڑھے کے استفسار پر ہم نے بتایا کہ دکان پر مریضوں کا کافی رش تھا۔ الحمد اللہ میں بھی ڈاکٹر ہوں۔میں آپ کے ٹیکا لگا دوں گا۔
نہ چاہتے ہوئے بوڑھے نے پوچھا کہ بازو پہ لگانا ہے یا پھر اُلٹا لیٹ جاؤں۔؟۔۔چلو بازو پر ہی لگا دو۔ میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور پھر اُلٹا لیٹنے کو کہا مگر بوڑھا بازو پر ہی ٹیکا لگانے کے لئے ڈٹا رہا۔ جلد ہی عورت کی مداخلت سے بوڑھا اُلٹا لیٹ گیا۔
بوڑھے سے زیادہ شاید میں گھبرایا ہوا تھا۔۔۔مگر میں تو ڈاکٹر ہوں۔۔۔
”چاچا جی اگر آپ کو درد ہو تو بتا دینا۔“
اور یوں کانپتے ہاتھوں سے آرام آرام سے ٹیکا لگا دیا۔ ایک ٹیکا لگاتے ہوئے تین سے چار بار پوچھا کہ آپ کو درد تو نہیں ہو رہا ہے۔؟ ڈر تو اپنا تھا اور فکر اس کے درد کی۔۔۔۔۔
لو جی ٹیکا لگ گیا۔
”مجھے ذرابھی درد نہیں ہوا۔تم نے تو ڈاکٹر صاحب سے بھی اچھاٹیکا لگایا ہے۔ اللہ تجھے بڑا ڈاکٹر بنائے۔“
ساتھ میں اس قسم کی دعائیں خاتون کی طرف سے بھی ملیں۔
”پُتر بیٹھ جا۔چا پی کے جانا۔“
گھر کے صحن میں چھوٹے سے چولہے میں آگ جلاتی ہوئی خاتون کی آواز آئی۔چائے پینے کو دل تو کر رہا تھا مگر ایک اور بھی ڈر تھا کہ پتہ نہیں ٹیکا ٹھیک بھی لگا ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔کیونکہ بوڑھے کو درد نہیں ہوا۔ اس سے پہلے کہ بوڑھے کو کچھ ہو مجھے یہاں سے نکل جانا چاہیے۔
”وہ۔۔۔آ۔۔۔۔خالہ دکان میں مریض بہت ہیں اس لیے مجھے جلدی جانا ہے۔
میں جلدی سے اُن کے گھر سے نکلا اور ڈاکٹر صاحب کو ٹیکا لگنے کی خوشخبری سنائی۔پھر کیا تھا اگلے پانچ روز تک موت سے متعلق مسجد سے ہونے والے اعلانات بڑے غور سے سنتا رہا۔
پتہ نہیں میری قسمت اچھی تھی یا پھر کوئی نیکی کام آ گئی تھی کہ ان دنوں موت کے فرشتے کا گاؤں میں آنا نہ ہوا۔ یا تو کسی دوسرے گاؤں کے دن تھے یا پھر۔۔۔۔اپنے ذہن کے مطابق سوچ لیں۔یہ بھی شہادتیں موصول ہوئیں کہ مولوی صاحب بھی ان دنوں مصروف تھے۔بہر حال واللہ عالم ہم تو ڈاکٹر بن گے تھے۔کوئی مرے یا بچے اس سے غرض نہیں۔
کوئی کتنا ہی سنگدل کیوں نہ ہو انسانیت کا جذبہ ہرکسی کے دل میں ضرور ہوتا ہے۔ہماری یہ سنگدلی اس دن ہم پر عیاں ہوئی جب ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بتایاکہ ”کسی بھی انسان کے ڈاکٹر بننے کے لیے سب سے پہلی اصلاح۔۔۔۔۔ اس کے اندر انسانیت کی رحم دلی کو ختم کرنا ہوتا ہے۔“ ڈاکٹر صاحب کی یہ بات سنتے ہی میں تھوڑا گھبرایا۔
”مگر ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔ ڈاکٹر تو مسیحا ہوتا ہے۔؟“۔
”ہاں ہاں وہ مسیحا تب ہی بنے گا جب کسی کے پیٹ کو چیر سکتا ہو۔کسی کی ٹوٹی ٹانگ کو ہاتھ میں پکڑ سکتا ہو۔ جب اس کے پاس اتنا حوصلہ ہو گا تب ہی وہ مسیحائی کر سکے گا۔ورنہ حادثے کا نشانہ بننے والے لوگوں کی حالت دیکھ کر مریض کو چھوڑ کر ڈاکٹر صاحب کو دودھ یا جوس وغیرہ پلانا پڑ جائے“۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ باتیں میرے دل کو بھلی لگیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ڈاکٹر تو ہر کوئی بن سکتا ہے مگر مسیحا بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔تمھارا ڈاکٹر بننا اتنا ضروری نہیں جتنا کہ مسیحا۔“
یہ وہ بات تھی جو شاید ایک پڑھا لکھا ڈاکٹر بھی نہ کر سکتا ہو کیونکہ وہ تو ڈاکٹر ہے اگرچہ مسیحا نہیں۔مگر گاؤں کا ڈاکٹر جیسا بھی ہو مسیحا ضرور ہوتا ہے۔ایک دن ایک مریض آیا جس کے پیٹ کا آپریشن ہوا تھا۔اور اس کے ٹانکے خراب ہو چکے تھے۔ کچھ دن تو ڈاکٹر صاحب نے اس سے طبع آزمائی کی مگر بے سود۔آخر ڈاکٹر صاحب نے اسے کہا۔۔۔۔۔
”کل تم شہر میں بڑے ہسپتال میں آنا۔ میں نے اُدھر اپنے بڑے ڈاکٹر سے بات کی ہے۔تم کو اُن سے ملواؤں گا اور اُن سے مشورہ لیں گے۔
مریض نے آنے کی حامی بھر لی۔ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر صاحب نے مجھے پابند کیا کہ آپ بھی ان کے ساتھ آؤ گے۔میں دل ہی دل میں خوش ہوا کہ اب مجھے بھی شہر کے ڈاکٹر سے ملنے کا موقع ملے گا اور اب ان سے بھی ڈاکٹری سیکھوں گا۔
رات کو میں گھر آیا اورا پنی تیاری شروع کر دی۔گھر والوں نے بھی اجازت دے دی۔ کہاں میں اور کہاں شہر کے بڑے ڈاکٹر۔کل ان سے ملنا ہے۔میں پھولے نا سما رہا تھا۔گاؤں میں سب کو بتاؤں گاکہ میں شہر سے ڈاکٹری سیکھ کر آیا ہوں۔یہ خیالات دل میں لے کربستر پہ لیٹ گیا کہ اچانک یاد آیا اپنے کپڑے تو استری کیے ہی نہیں۔جلدی سے اُٹھا اور ٹرنک میں سے سب سے نیا سوٹ نکالا۔اس کو اچھی طرح تہہ لگا کر اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا تا کہ یہ اچھی طرح سیدھا ہو جائے۔ادھر خوابِ خرگوش میں جانے کے لیے بستر پہ لیٹتا ادھر اپنی تیاری یاد آ جاتی اور پھر اُٹھ کر کچھ نہ کچھ کرنے لگ جاتا۔
صبح صبح باہر کھیت میں نالے پر جا کر مُنہ دھویا۔کیکر کے درخت کی ٹہنی توڑ کر مسواک کی۔پھر گھر آ کر اپنا نیا سوٹ سرہانے کے نیچے سے نکالا۔اس کی تہہ کھولی تو ایسے لگ رہا تھا جیسے دھوبی سے دھلوا کر سیدھا کروایا ہو۔بہر حال اس کی تہہ کے نشانات ضرور تھے۔آٹھ بجے وہ مریض میرے گھر آگیا۔
”آج کیسا دن ہے کہ مریض میرے گھر آ رہے ہیں“۔ دل ہی دل میں خوش ہوا اور اُسے باہر ہی انتظار کرنے کو کہا۔دس روپے کا گلا سڑا نوٹ دس ہزار سمجھ کر اپنی نیچے کی جیب میں ڈالا۔تین چار خالی کاغذ اس نیت سے اپنی جیب میں ڈال لیے کہ شاید کوئی نسخہ لکھنا پڑجائے۔جیب کو بھرنے اور خو د کو ڈاکٹر ظاہر کرنے کے لیے تین چار اسٹیکر بھی جیب میں ڈال لیے جو کہ سیرپ والی شیشی کے اوپر لگے ہوتے ہیں وہ ایک دن پہلے ہی ڈاکٹر صاحب کی دکان سے لے آیا تھا۔
ہم آٹھ بجے ٹانگے پر بیٹھ کر شہر کے بڑے ہسپتال پہنچے۔کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد ہمارے گاؤں کے ڈاکٹر صاحب مل گئے۔
میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی ادھر بڑے ڈاکٹر ہی ہوں گے۔ان کا اپنا علیحدہ سے کمرہ ہو گا۔ہم وہاں جائیں گے تو ہماری خاطر مدارت ہو گی۔مگر سب کچھ میری سوچ کے بر عکس نکلا۔وہ تو ایک بڑے ڈاکٹر صاحب کے دروازے پر کھڑے ہونے والے چوکیدار تھے۔انہوں نے ہمیں ملا کر ایک طرف کھڑا ہونے کو کہا اور خود اندر اپنے ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔ان کے کمرے کے سامنے ایک بڑا سا گھاس کا پلاٹ تھا جس میں رنگا رنگ پھولوں کے پودے لگے ہوئے تھے۔سامنے برآمدے میں کافی تعداد میں مریضوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں رکھی گئی تھیں۔مریض زیادہ ہونے کے سبب لوگ گھاس کے پلاٹ میں بیٹھے تھے۔ہم بھی ان کے ساتھ جا بیٹھے۔
مریضوں کا نہ ختم ہونے والا تانتا بندھا ہوا تھا مگر وہ بڑے ڈاکٹر صاحب مزے سے اپنی کُرسی پر بیٹھے تھے۔جیسے جیسے دن گزرتا گیا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ہمیں بھی چار پانچ گھنٹے انتظار کرنے کے بعداپنے ڈاکٹر صاحب سے دوبارہ ملنے کا موقع ملا۔انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ شہر کا ہسپتال ہے یہاں ہر کوئی اپنی جگہ بڑا مریض ہے مگر باری پہلے اُسی کی آئے گی جس کی سفارش بڑی ہو گی۔آپ فکر نہ کریں میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہہ دیا ہے۔جلد آپ کو بلا لیں گے“۔یہ ڈاکٹر صاحب کے مزاج پر منحصر تھا کہ وہ کس مریض کو کب اور کیسے دیکھتے ہیں۔ مزاج، فیس اور سفارش کے ساتھ بدلنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
کچھ ہمارے جیسے مریض صُبح ہم سے بھی پہلے کے آئے بیٹھے تھے۔ کچھ مریضوں سے ذراآشنائی بڑھانے اور خود کو ڈاکٹر بن کر ان کی میسحائی کرنے کا موقع ملا۔تو معلوم ہوا کہ جناب ایک دن پہلی رات کو ہی ڈاکٹر صاحب کے دروازے پر نمبر لگائے بیٹھے ہیں۔
دن ڈھلنے لگاتھا۔ مریضوں کے علاوہ ان کی دیکھ بھال کرنے والے بھی مریض بننے لگے تھے۔مگر وہ تو بڑے ڈاکٹر صاحب ہیں۔ نمی دانم چہ حالِ من۔پھر بھی بڑے ڈاکٹر صاحب سے ملنا اور ان کو اپنی ڈاکٹری کے متعلق بتانے کا شوق دل میں تھا۔خداخدا کرکے ہمارا نمبر بھی آگیا۔ہم اندر گئے ایک موٹا سا آدمی اپنی کرسی پر براجمان تھا۔آدھی ادھوری بات سننے کے بعد ساتھ پڑی چارپائی (اسٹر یچر) پر لیٹنے کو کہا۔ہاتھوں پر شاپر کے دستانے چڑھاکر دو تین مرتبہ پیٹ میں لگے ٹانکوں پر ہاتھ لگایا اور اُٹھنے کو کہا۔ہمارے ڈاکٹر صاحب سے کچھ باتیں کی اور فارغ ہوگیا۔انہوں نے باہر آکر ہمیں بتایا کہ آپ کے ٹانکے بالکل ٹھیک ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے ہی پٹی کرنے کا کہہ دیا ہے۔میں دل ہی دل میں مسکرایا۔”بس اتنا سا کام تھا سارا دن ذلیل کیا۔۔۔۔۔ اورپیسے الگ سے اور احسان سر پر۔ میری ڈاکٹری اس سے اچھی ہے کم از کم کسی کو ذلیل تو نہیں کروں گا۔“
اپنے ٹانگے پر بیٹھتے ہوئے اور گھر واپس لوٹتے ہوئے اپنے اس سفارشی اور مظلومانہ نظام کے متعلق سوچ رہا تھا۔کیا میں اس نظام کو بدل سکتا ہوں۔؟ کیا غریب اور وہ لوگ جن کے پاس بڑی سفارش نہیں وہ بھی اس نظام کے تحت چل سکتے ہیں۔؟ نہیں بالکل نہیں۔
تیسرے دن مجھے شہر منتقل ہونا تھا۔مگر اس عزم کے ساتھ کہ میں ڈاکٹر نہیں بلکہ مسیحا بنوں گا۔۔۔۔
٭٭٭٭
اِبتدا اُسی کہانی کی…. : مہتاب عالم پرویزؔ IBTEDA USI KAHANI KI…… MAHTAB ALAM PERVEZ
اِبتدا اُسی کہانی کی …….
مہتاب عالم پرویزؔ
کویت
E – Mail mahtabalampervez@gmail.com
٭ وہ رات، بڑی عجیب تھی۔
اندھیرے میں ڈوبی ہوئی، ہوا کی سرسراہٹوں کا مسلسل احساس، اور ایک عجیب بے یقینی کی کیفیت میں ڈوبا تیز تیز چلتا ہوامیں — تھم جاتا چل پڑتا، کبھی آہستہ، کبھی تیز کہ دفعتاجیسے ہواؤں کے دوش پہ رقصاں میرا جسم تھم گیا— بالکل اس طرح جیسے ہوا ُپرسکوت ہوگئی ہو— ایک عورت میرے سامنے کھڑی تھی۔
مَیں فورا گھبراکر پیچھے ہٹ گیا۔
”کون ہو تم، اور یہاں اتنی رات گئے، کیا چاہتی ہو۔“
”کچھ نہیں میرے ساتھ آؤ۔“
مَیں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا، چلتے چلتے یکایک محسوس ہوا کہ آبادی سے دُور نکل آیا ہوں اور ایک گلیارہ مجھے اس مقام تک لے آیا، یہ مقام کیا ہے، اجاڑ اور ویران…
خوف کا پرندہ میری رگوں میں پرداز کرنے لگا۔
وہ چل رہی تھی۔ مَیں بھی چلتا رہا… اب اس کے قدم ایک مکان کی جانب اُٹھ رہے تھے۔ مکان کیا تھا دُنیا اور دنیا والوں سے بچاؤ کی ایک سبیل تھی۔صرف ایک کمرے سے روشنی جھانک رہی تھی۔ اُس نے دروازے پر دستک دی تو اندر قدموں کی چاپ سنائی دی۔ دھیرے سے دروازہ کھلا اور روشنی کی چادر پھیل گئی۔
تجس لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔
وہ ہاتھ پکڑکر مجھے اپنے مکان کے عقب میں لے گئی۔ اور پہلو بہ پہلو چلتے ہوئے میرا شانہ تھام لیا۔
”مجھے جانے دو!“ الفاظ اچانک میری زبان سے پھسل گئے۔
یہ سن کر اس نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا ”نئے نئے معلوم ہوتے ہو۔“
”آخر… آخر تم مجھے یہاں کیوں لے آئی ہو؟“
”یہ شہر کی بدنام گلیاں ہیں، ریڈ لائٹ ایریا، ابھی تک بالکل بھولے نظر آتے ہو!“
اچانک میری آنکھیں حیرت و استعجاب سے پھیل گئیں۔
اس کا برہنہ شباب سنگِ مرمر سے ترشے ہوئے تاج محل کی طرح میری آنکھوں میں سمٹ آیا۔ مَیں نے آنکھیں موند لیں۔ اور کہا ”اپنے جسم کو کپڑوں میں ہی لپٹے رہنے دو نہیں تو شرم کے آبگینے کو چوٹ لگے گی۔ خوبصورتی کے ساتھ حیا نہ ہو تو حسن کی قیمت ہی کیا۔؟“
”تم جانتے ہو—“ اُس نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”آشا پورنا منقسم عورت ہے اور اس کے ہرایک حصّے کی اپنی مخصوص قیمت ہے۔ اب اُس کی حیا، اُس کے حسن اور خوبصورتی کی قیمت ہی کیا۔ مَیں اپنے منقسم وجود کو بیچتی ہوں۔ اور اس وقت مَیں تم سے بکنے کے لیے تیار ہوں۔“
اُس کے لہجے میں عجیب سی تلخی اُبھرآئی تھی۔
”کیا مل جاتا ہے تمھیں روز؟ اور تم خود کو بیچتی ہی کیوں ہو۔؟“
میرے ان سوالات نے اُس کے پھول سے چہرے پہ رنگوں کی تبدیلی کا ایک مسلسل عمل شروع کردیا۔ لب کھل کر کانپنے لگے، جیسے ہوا کا جھونکا پتیوں کو لرزنے پر مجبور کررہا ہو، آنکھیں ڈبڈباگئیں شاید ذہن میں لپٹی ہوئی کفن پوش یادیں تازہ ہوگئی تھیں۔
مَیں نے اُس کے وجود پر پڑے ہوئے پردے کو سرکانے کی کوشش کی تو کتاب زیست کے نہ جانے کتنے ہی اوراق وہ یکے بعد دیگرے سناتی چلی گئی۔
”ایسی ہی ایک رات—
اندھیری اور بیکراں، ایک لاش کی طرح، سرد اور خاموش، ایسی ہی ایک رات جب میری ماں کی چوڑیاں ٹوٹی تھیں۔ ایک کونے میں گم سُم بیٹھی آنگن میں سفید چادر سے لپٹی بابوجی کی لاش کو تک رہی تھی۔ رشتہ داروں نے بابوجی کی ارتھی کو کاندھا دینے کے بعد پلٹ کر بھی نہ دیکھا تھا۔ ان مصیبت کے دِنوں میں ایسا لگا جیسے بابوجی کے ساتھ وہ سارے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ اُن کی موت کے بعد گھر کی چیزیں بکنے لگیں۔ ماں محنت مزدوری کرکے اپنا اور میرا پیٹ پالتی رہی۔ بابوجی کے مرنے کے بعد ماں کی صحت بھی پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ ماں، بابوجی کے غم میں کانٹا ہوئی جارہی تھیں۔ چہرہ خزاں کے پتوّں کی طرح زرد اور خشک ہوچکا تھا۔ اکثر جب بھی وہ مجھے دیکھا کرتیں تو ان پہ اُداسی اور بھی زیادہ مسلط ہوجاتی۔ دن بدن ان کی صحت گرتی گئی، اور وہ بھی اس کیفیت میں مدتوں مبتلا رہ کر اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
میرا مستقبل اندھیروں میں ڈوب چکا تھا۔ مَیں اندر سے ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہی تھی۔ اور جب بھی خود کو جوڑنے کی کوشش کرتی کہیں نہ کہیں سے کوئی خوف سر اُبھارنے لگتا۔
مَیں نئی نئی جوان ہوئی تھی۔ یہ عمر کی وہ نازک منزل تھی جہاں تھوڑی سی لغزش بھی مجھے بدنامی کے کھنڈروں میں دھکیل سکتی تھی۔ اس لیے سہج سہج قدم رکھتی مَیں جوان ہوتی رہی۔ یکایک محسوس ہوا، جیسے زندگی کے پھیلاؤ، باہر کے جھمیلوں، اور اس شور و شرمیں نمایاں کچھ آنکھیں آواز دینے لگی ہیں۔ مَیں ان سب باتوں سے بے نیاز جوان ہوتی رہی۔ اور اس قابل ہوگئی کہ کسی پرائیویٹ فرم کے ٹائپ رائٹر پر انگلیوں کے رقص دکھاکر زندگی کی طویل راہوں کو تھکے تھکے قدموں سے ہی سہی، طے کرسکوں۔
مَیں کافی خوش تھی۔ اِنٹرویو دینے کے بعد سوچ رہی تھی کہ یہ نوکری مل گئی تو زندگی کے پھیلاؤ کی ساری اُلجھنیں سلجھ جائیں گی۔
لیکن؟
ایسا نہیں ہوا۔ناآسودہ خواب میری جواں آنکھوں میں کروٹیں لینے لگا۔ وہ خواب اور بھی جواں ہوتا رہا۔
مجھے نوکری نہ مل سکی۔ اور ملتی بھی کیسے؟ مَیں یتیم اور بے سہارا جو تھی۔ نہ کوئی سہارا تھا، نہ کوئی گوشہئ عافیت اور نوکری کی تلاش کا مسئلہ جوں کا تُوں تھا۔ اگر کوئی مدد کے لیے آگے بڑھتا تو معاوضہ چاہتا تھا۔ میرے جسم کا معاوضہ!
اور وہ ایک رات—
مجھے صرف اتنا یاد ہے۔ کوئی سایہ میرے وجود سے لپٹا تھا اور میں کسی بچے کی طرح سُبک رہی تھی۔ اُس رات مجھے بڑا عجیب سا لگا تھا۔ جیسے میرے وجود سے زندگی نچوڑلی گئی ہو۔ جب مَیں نے اپنے وجود کو ٹٹولا تو بے اختیار خیال آیا کہ کاش میں مرجاتی، لیکن مجھ میں چھپی روندی، کچلی، بھوکی فاقہ زدہ اور کمزور عورت نے ایسا کرنے سے روک دیا—
اور پھر—
اپنے جسم سے لپٹے ہوئے جسموں کی حرارت مجھے دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح جھلساتی رہی، اور مجھے اپنے جُرم کا احساس رُلاتا رہا…
اور میری جوان آنکھوں میں کروٹیں لیتا ہوا وہ ناآسودہ خواب؟ جسے وقت نے خلاؤں میں بکھیر دیا تھا۔ پھر وہ خواب میری آنکھیں کبھی نہ دیکھ سکیں، کاش وہ خواب میری آنکھوں میں جنم نہ لیتا۔
میری ماں کی تمنا تھی کہ میں آرام دِہ اور خوش گوار زندگی گزاروں، لیکن وقت کا بہاؤ مجھے یہاں تک لے آیا تھا، مَیں جب بھی ان بدنام گلیوں اور گھناؤ نے ماحول کے پھیلاؤ اور دائرے سے بھاگنے کی کوشش کرتی، میرے اندر سے کوئی پکارتا۔
کہاں۔؟
باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ میرے قدم واپس لوٹ جاتے اور مَیں، بے بس تنکے کی طرح وقت کے دھارے کے ساتھ بہتی رہی……..
مَیں نے ماں کی تمنا کو ہلکتے اور مچلتے ہوئے دیکھا۔ اور میری جوان آنکھوں میں کروٹیں لیتا ہوا وہ ناآسودہ خواب۔؟
تم خود ہی سوچو کیا کوئی شخص جانتے ہوئے بھی اس گھناؤنے وجود کو اپنائے گا۔؟ یہ سماج میرے اس گھناؤنے وجود سے کھیلتا رہا ہے، لیکن جب بھی اپنی زندگی میں شامل کرنے کا وقت آیا تو میری زندگی سے کٹ کر علیحدہ ہوگیا۔
مَیں ایک بٹی ہوئی عورت جو ٹھہری۔
اب میرا وجود ایک خشک درخت ہے، اور میرے ارمان جن میں مایوسیوں کی آڑے ترچھے شگاف پڑچکے ہیں، جو ایک پھٹی ہوئی دیوار کی طرح شکستہ ہیں۔
میری کہانی سن کر تمھیں مجھ سے نفرت تو ضرور ہوئی ہوگی۔“اتنا کہہ کر اُس کی آواز رندھ گئی اور آنسو ڈھلک ڈھلک کر اُس کے رُخساروں پر پھیلنے لگے۔
سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی آشا پورنا اس وقت ایک ایسی حُور لگ رہی تھی۔ جو راہ بھٹک کر اس دنیا میں چلی آئی ہو۔ لمبے لمبے سیاہ گیسوؤں کے درمیان اُس کا گورا گلابی چہرہ بڑا حسین لگ رہا تھا۔ اور شانوں پہ بکھری گھٹاؤں جیسی زلفوں کے بیچ گم ہوتی ہوئی مانگ کسی سنسان پگڈنڈی کی طرح ُپراسرار لگ رہی تھی۔
”اب تم اِدھر نہیں میرے ساتھ رہوگی آشاپورنا، اگر تمھیں اعتراض نہ ہوتو، کیوں نہ ہم دونوں ایک نیا جیون، ایک نیا گھربسالیں۔“
آشا پورنا کی آنکھیں برس پڑیں اور وہ میرے شانے سے لگ کر بلک بلک کر رونے لگی۔ جیسے وہ کوئی لمبا سفر طے کرکے تھک کر منزل کے قریب آگئی ہو۔
صبح کا سویرا رات کی سیاہی کو آہستہ آہستہ دور کررہا تھا، جس میں آشا پور ناکی سسکیاں معدوم ہوتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔
اُفق پر درختوں کی اوٹ میں سورج نے آنکھیں کھول دیں۔
آشا پورنا اس وقت تیز بارش کے بعد اچانک نکل آنے والی ساون کی دُھوپ جیسی نکھری ہوئی تھی۔ جیسے اُبھرتے ہوئے سورج کی ساری تمازت اُس کے چہرے نے جذب کرلی ہو۔ اور لبوں پر موسمِ بہار میں کھلے شاداب پھولوں سا تبسم تھا۔
اس گھناؤنی دُنیا سے دُور آشا پورنا میرے ہمراہ ایک سنہری مستقبل کی جانب گامزن ہوچکی تھی۔
اور پھر ایک اور رات—
جگمگاتے عروسی جوڑے میں ملبوس، زیورات سے سجی سنوری، خوشبوؤں میں بسی ہوئی، آشا پورنا میرے پہلو میں سمٹ آئی تھی۔
میری بانہوں کا حصار مضبوط ہوگیا— جیسے اُسے ساری کائنات، سارے سماج سے بچاکر خود میں جذب کرلینا چاہ رہا تھا۔
مَیں نے اس کی پلکوں پر نمی اور آنکھوں کو سسکتے ہوئے دیکھا اور سمٹے ہوئے درد کا لہو اس کی خوبصورت آنکھوں سے ٹپک کر اس کے رخساروں پر پھیل گیا۔ جس میں ماضی کی چند تصویریں دھندلارہی تھیں اور درد کے سائے کانپ رہے تھے۔
”ارے! تم رونے کیوں لگیں۔؟ یہ رات ہر لڑکی کی زندگی کا خوبصورت سپنا ہوا کرتی ہے۔ اور تم اس رات کا استقبال ان آنسوؤں سے کررہی ہو، زندگی کے سفر میں بعض مقامات تلخ، تکلیف دِہ اور دیر پا تو ہوتے ہی ہیں آشا پورنا!اور تم بیتی ہوئی زندگی کی باتوں کو یاد کررہی ہو۔؟“
پھر اُس نے اپنے آنچل سے ان آنسوؤں کو پونچھ ڈالا۔ جیسے وہ سارے درد بھلا بیٹھی ہو۔
وقت اپنی رفتار میں یکساں تھا— سفر— سفر— ہنوز— سفر! اور سفر کا ایک موڑ یہ تھا کہ گاؤں کے آسودہ ماحول میں ایک رات ایک معصوم کلکاری گونجی اور آشا پورنا ایک پھول سی بچّی کی ماں بن گئی۔
سماج کے بندھنوں سے دُور رِشتوں کے ماحول میں پیدا ہونے والی ساوتری جب پل کر جوان ہوئی تو شباب کی خوشبو، بجلی کی طرح ہر سمت بکھر گئی۔ یہ خوشبو ہواؤں میں پرواز کرتی ہوئی پہاڑوں سے اُتری اور وادیوں میں پھیل گئی۔اور وہاں سے اُبھری تو بادلوں کی آغوش میں گم ہوگئی۔ اور جب بارش ہوئی تو زمین میں بوئے گئے بیج کو زندگی مل گئی، اور ہر سودھنک رنگ بکھر گئے۔
شہروں کی بلندو بالا عمارتوں میں رہنے والے انسان نما بھیڑیوں کے نتھنوں سے جب یہ خوشبو ٹکرائی اور آنکھوں نے ان نیرنگیوں کو محسوس کیا تو وہ چونک پڑے کہ آخر اتنے دنوں تک ان کے احساس کس طرح دل کی قبروں میں سوئے رہے۔؟
پھر ایسا ہوا کہ—
فضاؤں میں زہر گھل گیا۔
عجیب منظر تھا—
زندگی کے ٹھہرے ہوئے تالاب میں آنکھوں کے جامد بلبلے پھوٹنے لگے اور دُور تک دائرے بنتے چلے گئے۔ تالاب میں دفعتاہل چل مچ گئی۔
چار سُو آنکھیں ہی آنکھیں تھیں، بے شمار کہ ان سے دامن بچانا ممکن نہ تھا۔دو چہروں کی شناخت ایک عجیب مسئلہ پیدا کررہی تھی کہ یہ بھی ناممکن سی بات ہوکر رہ گئی تھی۔
قانون کی زنجیروں سے آزاد خون آلود انسانی ہاتھ، فضاؤں میں جشن منارہے تھے اور مٹھیوں میں دَبے نوٹوں کی پھڑپھڑاہٹ جاگ رہی تھی، پوری فضا خونی چھینٹوں سے داغ دار ہوگئی تھی، سارا ماحول دھواں دھواں تھا۔ آسمان سُرخ ہوچکا تھا۔
مَیں نے آنکھیں موند کر ایک لمبی سانس کھینچی، اور سماج کی ستم ظریفیوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
کبھی آشا پورنا نے میرے ساتھ زندگی گزارنے اور سماج کا ایک حصّہ بننے کے جو خواب دیکھے تھے۔ آج اُن کی تعبیریں دُھندلاگئی تھیں۔ اور اس کا وجود اب بھی ناآسودہ تھا۔ اور جسے وقت کے لمحوں نے تاریخ کے ایسے مقام پہ لاکھڑا کیا تھا جہاں سے واپسی کبھی نہیں ہوتی۔
آشا پورنا زندگی کے اُس چوراہے پر آج پھر لوٹ آئی ہے۔ اپنے ساتھ بے شمار سوالوں کا بوجھ اُٹھائے۔
ساوتری کا کیا ہوگا کہ اب وہ جوان ہوچکی ہے۔؟
ہوتا کیا، وہی ہوا کہ آشا پورنا کی کہانی جہاں سے شروع ہوئی تھی پھر اُسی موڑ پر پہنچ گئی— اُسی موڑ پر کہ اب یہاں سے ایک اور نئی کہانی کی ابتدا ہورہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭
مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۱۱ ، کروس روڈ نمبر ۶۔ بی
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۔ 832110
جھارکھنڈ ، انڈیا
E – Mail mahtabalampervez@gmail.com
برزخ : ثناء غوری
افسانہ
برزخ
ثناء غوری
”یہ پیشنٹ پچھلے ایک سال سے ہمارے پاس ہے۔ ہم نے اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کرلی مگر……..“
ڈاکٹرنے اپنے ساتھی کو کیس سمجھاتے ہوئے بتایا۔
”اس طرح کومے میں جانے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟“
”اچھا سوال ہے ڈاکٹر زریاب! کومے میں جانے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کوئی میجر ایکسیڈنٹ، جس میں ذہن کے کسی ایسے حصے میں چوٹ لگ جائے جس کے ناکارہ ہونے سے انسانی جسم مفلوج ہوجاتا ہے یا پھر کوئی شدید ذہنی صدمہ کہ جس کو برداشت کرنے کی انسانی دماغ صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ اس کیس میں پیشنٹ کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ گھر والوں کے مطابق یہ ایک عام گھریلو زندگی گزار رہی تھی۔ کسی قسم کا صدمہ بھی نہیں۔ ایک صبح اسے بے ہوش پایا گیا اور فوری طور پر ہاسپیٹل پہنچادیا گیا جہاں اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ یہ پیشنٹ نیند کی حالت ہی میں کومے میں جاچکی ہے۔اور کوئی سوال ڈاکٹر زر یاب؟“
”اسٹرینج…….تو ڈاکٹر ضیغم!اب پیشنٹ کے حوالے سے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسے کب تک ہوش آسکتا ہے؟“
”ویل ینگ داکٹر!ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ کئی سال تک اسی حالت میں بھی رہ سکتی ہے اور چند لمحوں میں بھی ہوش آسکتا ہے۔خوش قسمتی سے کل رات سے ہم اس کی پَلز کو بہترنوٹ کر رہے ہیں۔ بی پی کافی اسٹیبل ہے۔ امید کی کرن تو نظر آرہی ہے۔“
”اس کا مطلب ڈاکٹر ضیغم یہ ہماری آواز سْن سکتی ہے؟“ڈاکٹر زریاب کی آنکھوں میں تجسس تھا۔
”شاید ہاں …….یاشاید نہیں۔ میڈیکل سائنس اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں بتاتی۔ اس پیشنٹ میں پلَس پوائنٹ یہ ہے کہ فزیکلی اسے کوئی اور مرض نہیں، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بہت جلد ری کور کر سکتی ہے۔ اگر یہ چاہے تو……. کومے کے ایسے پیشنٹ میں یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں اپنی وِل پاور کتنی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس صورت حال سے نکال سکے۔
so let hope for better "
young doctors move to another patient.”
————————————————————————————
خیال درخیال دائرے بنتے چلے گئے۔ اندھیروں کے اندر سیاہ اورنیلے سیا ہی ما ئل دائرے اپنا حصار بناتے گئے۔وہ اپنے اردگرد کھڑے ڈاکٹرذ کی آوازیں نہیں سن سکتی تھی۔ وہ اس وقت کہاں تھی؟یہ وہ خود نہیں جانتی تھی۔
یہاں بہت سارے لوگ سفید چادر میں لپٹے ہوئے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کئے بیٹھے تھے۔ کوئی کسی کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تاحدِنظر انسانوں کا سفید جنگل پھیلا ہوا تھا……. لیکن مکمل سْکوت…….سْکوت ایسا تھا کہ جیسے اس زمین پر وہ اکیلی بیٹھی ہو۔ سب ہی تو چپ تھے۔ شاید ہر کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ وہاں خوف نہ تھا۔ وہاں نہ نفرت تھی نہ محبت، نہ آگ اور نہ پانی۔ پتا ہی نہ چلتا تھا کہ کون زاہد ہے اور کون بدکار۔ وہ بہت پْرسکون تھی وہاں۔ہلچل تھی تو فقط اتنی کہ اتنے عرصے بعد اسے وہی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جنھیں وہ بہت پہلے سْننے کی عادی تھی۔ کچھ گھنٹوں سے وہ آوازیں بڑھتی چلی جارہی تھیں اور اس کا سکون گھٹتا جارہا تھا۔وہ یہ آوازیں سْننا نہیں چاہتی تھی۔ گر چہ ان آوازوں سے اسے بہت محبت تھی۔ لیکن اس کی محبتیں اْس وقت، اس سکون کی کیفیت میں اسے جھنجھوڑ رہی تھیں۔وہاں موجود ہر شخص اسی سکون کے ساتھ بیٹھا تھا۔ شاید یہ آوازیں صرف اْسے ہی سْنائی دے رہی تھیں۔ شاید وہاں بیٹھا ہر شخص صرف اپنی اپنی آوازوں کی اذیت میں تھا۔ شاید اسی لئے سب خاموش تھے۔رفتہ رفتہ آوازیں بڑھتی گئیں، بڑھتی گئیں، چیخ بنتی گئیں، گْڈمڈ ہوتی چلی گئیں۔
”میری بیٹی میری شہزادی…….“
”تمھارا باپ مرگیا…….“
یہ کیا پڑھائی کرے گی…….“
”بولو قبول ہے، قبول ہے…….بولو…….“
”تم میری زندگی ہو……“
”تم ہماری عزت ہو، ہمارا مان ہو……“
”آپ بہت قابل اور ذہین خاتون ہیں …….“
”دیکھئے گا، آپ کتنی جلدی آگے بڑھیں گی…….“
”یہ دیکھئے! آپ کی بیٹی پیدا ہوئی ہے…….“
”کتنی بیٹیاں پیدا کرے گی…….“
”کیا کروگی پڑھ لکھ کر…….“
”کچھ بھی ہو وہ تمھارا گھر ہے…….“
”تم سے کہا نا، تمھیں یہ کام نہیں کرنا…….“
”تم اس دنیا کی مخلوق ہو بھی کہ نہیں …….“
”ناکارہ عورت…….“
”بدچلن آوارہ…….“
شور بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ختم ہوتی جارہی تھی۔ وہ اتنی تکلیف میں تھی کہ جیسے اس کے سارے جسم سے خون رس رہا ہو۔ لیکن گھاؤ کہیں نظر نہ آتا ہو۔
اس کی نبض اچانک تیز ہوجاتی۔ سرہانے بیٹھی نرس بار بار گھبرا کر میٹرریڈنگ نوٹ کرتی اور واپس بیٹھ جاتی۔ لیکن اسے ہوش نہ تھا کہ اس کے باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ اس کے اندر کی آوازیں چیخے جارہی تھیں۔ شور بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کانوں کو بند کرنا چاہا۔ وہ تکلیف کی شدت سے گھٹنوں کے بَل زمین پر گرپڑی۔ اچانک آواز آئی:
”شازمین!“
”شازمین!!“
اس نے نگاہیں اوپر اٹھائیں۔ یہ تو وہی چہرہ تھا۔ اسے چھونے کے لیے وہ آگے بڑھی، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چہرہ آئینے میں تبدیل ہوگیا…….ایک شفاف خوب صورت آئینہ۔اس نے اپنے آپ کو اس آئینے میں دیکھنا چاہا۔ وہ اپنی گردن کو دائیں بائیں حرکت دے کر اس آئینے میں دیکھ رہی تھی۔ شاید آج پہلی بار اس نے اپنے آپ کو غور سے دیکھا۔ وہ بہت خوب صورت تھی۔ کمر تک لہراتے سیاہ گھنگریالے بال، شفاف جلد اور سبز آنکھیں۔خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے اسے جیسے یقین نہ آیا ہو۔ اپنی انگلیاں آئینے پر پھیرتی اور پھر اپنا چہرے چھوتی۔ اپنے آپ میں مگن۔ اس نے خود سے کہا۔
”شازمین یہ تم ہو…… سچ میں یہ تم ہی ہو؟ اتنے وار کھانے کے بعد تو تمھارا چہرہ مسخ ہوگیا ہے۔ تم تو خود اپنے آپ کو دکھائی نہ دیتی تھیں۔“
”ہاں یہ میں ہی ہوں۔ ہاں یہ تو میرا ہی چہرہ ہے۔“ وہ اس حیرت کدے میں کھوئی ہوئی تھی کہ پھر آواز آئی۔
”شازمین!“
”شازمین!!“
اس نے بجلی کی سی تیزی سے یہاں وہاں دیکھا۔ پر وہ نہیں تھا۔ آواز تو اسی کی تھی لیکن وہ کہیں بھی تو نہ تھا۔ایک بار پھر وہ خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔ایک بار پھر وہ خود سے مخاطب تھی۔
” وہ مجھے اپنی انگلیوں کی پوروں میں جذب ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ میں مکمل سکوت کی حالت میں زمین پر لیٹی آنکھیں بند کئے اسے اپنے وجود میں جذب ہوتا محسوس کرتی ہوں۔ وہ ایسا حصہ ہے میرے جسم کاجہاں دھڑکنوں کا کارخانہ رواں دواں ہے۔ میری پہلی سہمی ہوئی خواہش……..
یہ کائنات پہلی محبت کے لفظ کی چھاؤں میں وجود میں آئی۔ میرا مسئلہ تو میری آخری محبت ٹھہرا۔ مجھے نفرت ہے اپنے آپ سے کہ مجھے تم سے عشق ہے لیکن مجھے اس دبے ہوئے جذبے سے کراہیت محسوس ہوتی ہے۔ کہتے ہیں عورت ماں بنتی ہے تو اپنے اندر ایک نئے وجود کی پیدائش اسے سرشار کر دیتی ہے، سرمایہء حیات…….مکمل عورت بننے کی نوید۔ عشق بھی تو ایک وجود کو جنم دے رہا ہے میرے اندر۔ انسانوں نے جسم کو نوچا، بہ ظاہر مکمل عورت بن گئی، مگر روح…….روح کو فرشتے تک نہ چھو سکے۔ میری روح میں تمھارا عشق پل رہا ہے۔ چھو گیا ہے مجھے۔ تم مکمل انسان صحیح لیکن لمحہ لمحہ ہر گزرتے دن تم پھر سے صورت پا رہے ہو میرے اندر۔ ایک تمھاری ماں نے تمھارے جسم کو جنم دیا، ایک میں کیسی پاگل جوگن کہ تمھاری روح کو اپنے بدن میں پلتا دیکھتی ہوں۔ تم سانس لینے لگے ہو میرے اندر۔ لیکن تمھارا وجود نو ماہ کے عرصے میں مکمل ہو کر مجھ سے الگ نہیں ہوگا۔ میں کانپ جاتی ہوں یہ سوچ کر کہ نو ماہ، نو سال، نو صدیاں …….جب تک دنیا قائم ہے……. روحیں فنا نہیں ہوتیں۔ جسم مرتے ہیں اور تم تو پل رہے ہو میرے اندر۔ رفتہ رفتہ میری آنکھیں تمھاری آنکھیں ہو جائیں گی……. میرے لب تمھاری زبان بولیں گے……. میری روح کے کونے کونے پر تم قابض ہوجاؤگے۔ اے میری سہمی ہوئی خواہش! بخش دے مجھے…….یہ روگ مجھے بدروح بنا کر چھوڑے گا۔“
غم سے نڈھال ہو کر وہ گھٹنوں میں سر دیے سسکیاں لے رہی تھی کہ کہیں کوئی اس
کی آواز نہ سْن لے۔ اسے ایسے ہی گْھٹ گْھٹ کر رونے کی عادت تھی۔
اچانک اسے زیورات کی چھنکار سنائی دی۔ اس نے سر اْٹھا کر دیکھا۔ اْس کا وجود آئینے میں سے باہر آگیا تھا۔ وہ حیرت سے پلکیں جھپکاتی اپنے سامنے کھڑی دوسری شازمین کو دیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ کیا……. وہ تو سفید چادر میں لپٹی ہوئی تھی مگر اس کے سامنے کھڑی شازمین نے سْرخ لباس پہنا ہوا تھا۔سرْخ لباس میں ملبوس شازمین مسکرائی اور بہت پیار سے ہاتھ آگے بڑھا کر کہنے لگی۔
”گھبراؤ مت، میں تمھاری زندگی ہوں، تمھیں اپنے ساتھ لے جانے آئی ہوں۔ آؤ میرا ہاتھ تھام لو۔“
——————————————————————————–
آئی سی یو میں نصب میٹر کی آواز تیز ہوتی جارہی تھی۔ شازمین نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ نگرانی پر مامور نرس کو لگا کہ اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ لیکن نہیں، نبض تیز ہورہی تھی۔ سانس تیز ہوتی جارہی تھی۔ آنکھیں کھلیں اور بند ہوگئیں۔
نرس یک دم چلائی۔
”او مائی گاڈ، پیشنٹ کو ہوش آرہا ہے……. ڈاکٹر…….ڈاکٹر!“
ڈاکٹر بھاگتا ہوا آیا اور شازمین کے سرہانے آکھڑا ہوا۔ Call the other doctors imedediately اگلے دس منٹ اس لڑکی کی زندگی کے لیے بہت اہم ہیں۔ پیشنٹ کے ساتھ کون کون ہے؟“
”باہر اس لڑکی کا شوہر موجود ہے۔“
”بلاؤ اسے فوراً…….“
”یہاں …… آئی سی یو میں؟“
”ہاں، یہ ضروری ہے۔“
—————————————————————————–
سفید کپڑوں میں لپٹی شازمین لال کپڑوں میں ملبوس شازمین کو دیکھتی رہی۔لال کپڑے پہنے شازمین کے لبوں پر اب بھی مسکراہٹ تھی۔
”آؤ میرا ہاتھ تھام لو، میں تمھیں دنیا کی ہر خوشی دوں گی۔ تم جس راستے کو اختیار کرنا چاہو یہ تم پر ہے۔ اپنے حصے کی خوشیاں لے لو اس دنیا سے۔ تم کرسکتی ہو۔ چلو میرے ساتھ۔ میں تمھیں لینے آئی ہوں۔“
”نہیں میں تمھارے ساتھ نہیں جاؤں گی۔ تمھارے سْرخ لباس سے مجھے خون کی بو آتی ہے۔ تم دھوکا ہو، فریب ہو۔ خوشیوں کی نوید دے کر تم مجھے زندگی کی دوزخ میں جھونک دو گی۔ مجھے بھروسا نہیں تم پر۔“
لال کپڑوں میں ملبوس شازمین نے محبت سے ایک قدم آگے بڑھایا۔
”چلو، دیکھو زندگی تمھیں پکار رہی ہے۔ تمھارے بچے تمھیں پکار رہے ہیں۔ اور وہ جو تمھارا ہم سفر تھا……. دیکھو……. سنو اس کی آواز……. وہ تمھیں پکار رہا ہے۔
”میرا وقت ہوگیا مجھے جانا ہے۔ مجھے چند روز کی خوشیاں نہیں چاہئیں۔ اپنے حصے کی مسرتیں میں دنیا سے چھیننا چاہتی تو بہت پہلے چھین لیتی، لیکن مجھے چھیننا نہیں آتا ہے۔ میں جانتی ہوں، میرے لئے راستہ بنانا مشکل نہیں۔ اپنی خوشیوں کو پانا ناممکن نہیں ……. لیکن ……“
لال کپڑوں والی شازمین اب بھی ہاتھ آگے کئے کھڑی تھی۔
سفید کپڑے میں لپٹی شازمین کو اب باہر کی دنیا کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ یہ اس کے ہم سفر کی آواز تھی۔
———————————————————————————–
”شازمین آنکھیں کھولو، خدا کے لئے آنکھیں کھولو۔ میں تم سے اپنے ہر سلوک پر معافی مانگتا ہوں۔ آنکھیں کھولو شازمین…….ڈاکٹر کچھ کیجیے۔“
”ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ اس وقت اس کی اپنی وِل پاور پر ہے کہ یہ خود کو کومے سے باہر لا سکے۔ آپ بات کیجیے اس سے، یہ آپ کو سْن سکتی ہے۔“
”شازمین واپس آجاؤ۔ اٹھو شازمین۔“
”شازمین نے ایک دفعہ آنکھیں کھولیں۔ اسے اپنے ہم سفر کا چہرہ نظر آیا اور اس نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔
سفید کپڑوں میں لپٹی شازمین نے قدم پیچھے ہٹانے شروع کردئے۔ وہ لال لباس پہنے شازمین سے دور ہوتی جارہی تھی…….دور اور دور۔ اچانک سرخ کپڑوں میں ملبوس شازمین غائب ہوگئی۔
باہر کی دنیا کی آوازیں آنا بند ہوگئی تھیں۔ ا
آئی سی یو میں مکمل خاموشی چھاگئی تھی۔ ای سی جی مونیٹرنگ مشین کی بیپ بند ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر کی آواز نے سکوت توڑ دیا۔
I am sorry she is no more.
چوراھا : الحاج چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز ۔ یونان
چوراھا
الحاج چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز ۔ یونان
برگد کا بوڑھا پن اس کے گھنے ریشوں کوگلے کی مالا بنا کر دھرتی تک بچھا چکا تھا۔سرحدی گاﺅں کے اس درخت کو نمایاںحیثیت حاصل تھی کیونکہ یہ عین وسط میں تھا۔کسیکے ہاں مہمان کی آمد ہوتی ،اس برگد والے چوراہے کی نشانی بتا دی جاتی تو اس کو منزلِ مقصود تک پہنچنے میں دقت نہ آتی۔
سرِشام گاﺅں کا چوکیدار چوراہے میں نصب کئے ٹنڈ منڈمصنوعی چھتے پر لالٹین کو آگ دکھا کر روشنی کی ابتدا کرتااور گاﺅں کے سب دیئے ٹمٹمانے لگتے ، چرند پرند اپنے مسکنوں میںگھس جاتے لیکن چاروں طرف کمسن بچے مخصوص آوازیں نکالے اپنے ساتھی اکٹھا کر لیتے۔ ایک طرف بچیاں راگ الاپ رہی ہوتیں تو دوسری طرف” پٹھو گرم “عروج تک پہنچ جاتا۔آنکھ مچولی اور چور سپاہی کے شور و غل میںلڑکیاں بول میری مچھلی کتنا پانی“ اور”کوٹلہ چھپاکی جمعرات آئی اے “شروع کر دیتیں۔ کولاں ان کھیلوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیئے فیجاں کو ساتھ ملا لیتی۔ اس کے برعکس فتو ردِعمل دکھانے کے لیئے نیناں سائیں کا سہارا لیتا۔
نیناں سائیں بیچارہ کیا کرتا ،وہ تو بچپن سے سب کو کھیلتے دیکھ کر مسکرانے کا عادی تھا۔لڑکوں کے جمگھٹ اور ان کی کھینچاتانی میں عید پر سلا کڑھائی والا کڑتہ اچھو کی آمد پر تار تار ہو نے سے بچ کیا۔بزرگوں کی آوازیں یکے بعد دیگرے آنی شروع ہو گئیں ۔نہ چاہتے ہوئے بھی دبدبے اور بارعب بلاوے پر قدم گھر کی چوکھٹ پر رکھنے پڑتے اور میدان خالی ہو جاتا۔
مولوی فضل کریم فجر کی اذان کہتا اور بابا چوکیدار ”جاگ بھئی جاگ اوئے “ کی ڈیوٹی ختم کرکے پیتل لگے ساموں والی لاٹھی کسی پتھر پر مار کرآواز پیدا کرنے کی بجائے کندھوں کو اچکاتا ہوا مسجد کی راہ لیتا۔فضا میںخنکی اور ہوا میں معطر خوشبوئیںقدرتی نظاروں کی عکاسی کرتیں۔ہر سو درختوں کے پتوں کی اوٹ میںپرندے چہچہاتے خداوند کریم کی حمد و ثنا میں ہمہ تن مصروف نظر آتے ۔ایک تہائی بچے بھی اپنے بزرگوں کے نقشِق قدم پر چلتے چلتے مسجد کی راہ لیتے ہوئے بابا چوکیدار سے پوچھتے۔۔۔
بابا آپ رات ساری جاگتے رہتے ہیں ؟
ہاں بیٹا تم جو سوتے ہو۔
آپ کو ڈر نہیں لگتا کیا ؟
ڈر،کس بات کا ؟
چور کا ۔۔۔!!
چور کا کیا کام ہمارے گاﺅں میں۔۔
پھر ۔۔پھر بھوت پریت تو ہوتے ہوں گے!!
بابا چوکیدار بچوں کی معصومیت پر ہنس دیتااور کہتا اللہ کا نام لو بیٹا۔چلو نماز پڑھو ،کوئی بد بلا تمہارے قریب نہیں آئے گی۔
نماز کے بعد چاروں طرف کسان ہل پنجالی کندھوں پہ اٹھائے اپنے بیلوں کی جوڑی میں کھو جاتے۔ہر سو گھنٹیاں بج اٹھتیں۔فضا گیت الاپنے لگتی۔پو پھٹ جانے کے لیئے مچلتی نظر آتی۔ہر ایک متحرک،سریلی سروں میںمگن اپنے اپنے کاموں پر چل نکلتا۔چوراہے پر مڈ بھیڑ ہوتی اورخلوص بھرے سلاموں کا تبادلہ ہوتا۔چرواہا اپنے ریورڑ کے ساتھ ہری بھری وادیوں کی راہ لیتا۔ کچھ بڑے حقہ تازہ کیئے گڑ گڑ کرتے ، مخصوص چال چلتے کھیتوں کی راہ ناپتے نظر آتے۔ ہر گھر سے دھواں اٹھتا اور خالص دیسی گھی کے پراٹھے اپنی خوشبو ہل چلانے والے نتھنوں تک پہنچا دیتے۔
مٹی کے برتن یکے بعد دیگرے بجنے لگتے اور مہندی لگے ہاتھ دہی کو بھنور سے نکال کر لسی کی قوت میں بدل دیتے۔ باجرے کی روٹی اور تازہ مکھن سر پر رکھ کر لچکتی مٹکتی کمر بازو کی تکون بنائے جب چوراہے کو پار کرتی تو بوڑھا برگد اپنے پتوں کو حرکت دینے لگتا۔بادِ نسیم پھولوں کی نرم شاخوں کو چھیڑ کر پتیوں تک اپنی رسائی حاصل کر لیتی۔
مشرق سے طلوع ہونے والا شمس اپنی سنہری کرنوں کا جال بچھانے لگتا تو بوڑھا برگد سورج کی پہلی کرن چوٹی پر جذب کرکے دن کی تصدیق کر دیتا۔بہت سی کھڑکیوں کے پٹ کھلتے ۔بچے ادھ کھلی آنکھوں میںمعصوم انگلیاں پھراتے، مژگاں جھپکاتے کن انکھیوں سے بوڑھے برگد کی چوٹی پر دھوپ دیکھ لیتے۔کولاں اور فیجاں گوبر کی ٹوکریاں سر پہ اٹھائے منجھے مداری کی مانندہاتھوں کو بالترتیب حرکت دیتیںاور لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ کی ڈگر پر کولھے مٹکاتی کھلے میدان میں پہنچ جاتیں۔گوبر میں گھاس پھوس باریک کرکے ملا دی جاتی اور مختلف اقسام کے موٹے پتلے اوپلے سجا کرواپس چوراہے سے گذرتیںتو بوڑھا برگدان کی ہر داستان پر اپنے تنے سے قوت اچھال کر ریشوں میں بھر دیتا۔
نیناں سائیں نے ابھی سنِ بلوغت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا ہی تھا کہ بابا چوکیدار کی اچانک موت نے لاٹھی کا بوجھ اس کے نازک سے کندھوں پر ڈال دیا۔اپنے باپ کو دفن کرتے وقت اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پہرہ دینا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ وہ تو چھلاوے سے ڈرتا تھا لیکن۔۔۔ایک عرصے سے اس کے باپ کوکچھ نہیں ہوا تھا پھر ۔۔۔ اسے ۔۔۔ اسے بھی کچھ نہیں ہو گا۔لوگ کیا سمجھیں گے میں بزدل ہوں،نہیں،ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔۔تفکرات کی عمیق گہرائیاں مکڑی کے جال کی مانند اور الجھتی گئیں،وہ خیالات میں اتنا کھویا کہ دروازے پر دستک نہ سن سکا۔
نیناں ۔۔۔۔۔۔!!
کو۔۔۔ کک۔۔۔ کون ہے؟ وہ یک دم چونک سا گیا اور یکایک دروازے کی جانب قدم بڑھائے ۔
میں دروازے پر نہیں ادھر دیوار کی منڈیر پر ہوں۔۔۔۔!!
آں ۔۔ ہاں کولاں کیا بات ہے ؟
دیکھو نیناں اندھیروں میں گم ہونا اچھی بات نہیں۔ سرِ شام جلنے والے سب چراغ تمہارے منتظر ہیں۔ ہمت کرو اور چوراہے کی لالٹین جلا دو۔ روشنی کے بغیر گاﺅںویران ہے۔ہم غریبوں کے گھروندوں میں ٹمٹماتے چراغوں کی روشنی ہوتی ہی کتنی ہے ؟ ذرا ہوا چلی اور اندھیرے غالب ۔پھر تم یہ الزام اپنے اوپر کیوں لیتے ہو۔کیا تم چاہتے ہو بھٹکے مسافر اور بھٹک جائیں۔ منزل تو مل ہی جاتی ہے لیکن مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے اور ساتھ ساتھ وقت بھی برباد ہوتا ہے۔۔۔!!
نیناں آنکھیں جھپکائے لاٹھی اٹھا کے چل دیا۔ جب وہ شمع روشن کر رہا تھا تو کولاں کا دل بلیوں اچھل پڑا۔ اس کو جیسے پر لگ گئے۔ وہ فضاﺅں میں اڑتی چلی گئی اور سارے گاﺅں کے دیئے روشن ہو گئے ۔رات کا سناٹا ختم ہو گیا جب سب چوراہے میں اکٹھے ہو گئے۔بلاوے پر آنے والی کولاں خلافِ توقع برگد والے میدان میںسب سے پہلے آ کر مٹی میں پاﺅں دبائے اپنے ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں سے ترتیب دے ہی رہی تھی کہ ادھر سے اچھو آ نکلا اور اپنے پاﺅں کی ایک ٹھوکر سے گھروندا برباد کرتا نکل گیا۔کولاں سوالیہ صورت بنائے صرف دیکھتی رہ گئی۔آہستہ آہستہ کھیل کا میدان جمتا گیا۔ہر ایک اپنی بساط کے مطابق کھیل کو دکرکے جاتا رہا۔ دور کہیں سے ” جاگ بھی جاگ اوئے “ ” خبردار “ کی آوازابھرتی اور ڈھلتی رہی۔ کولاں تھکے ہارے جواری کی طرح منوں بھاری قدم اٹھاتی گھر کی چوکھٹ تک پہنچ گئی۔
رات کا تیسرا پہر اپنی تمازت کھو رہا تھا۔ سات ستاروں کا جھرمٹ اپنا راستہ طے کرکے سمت بدلنے کو تھا۔کبھی کبھار کتوں کے بھونکنے کی آوازرات کے سناٹے کا سکوت توڑ دیتی ۔مائیں سائیں کرتے درخت دل میں انجانے خوف بپا کر رہے تھے ۔ کولاں کی آنکھوں سے نیند بہت دور بھاگ گئی۔لاٹھی کی آواز پہ اس نے کان دھر لیئے۔۔”خبردار“کی آواز ابھری اور اس کے دل میں مسرت و شادمانی کے شادیانے بج اٹھے۔نیناں تم کتنے اچھے ہو۔ تم کیا جانو میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں۔کولاں کے قدم خودبخوددروازے کی جانب بڑھتے گئے۔۔!!
جاگ بھئی۔۔۔۔۔ کولاں۔۔۔۔ تم ابھی تک سوئی نہیں ؟
تم خود ہی تو کہہ رہے ہو ، ” جاگ بھئی جاگ اوئے “ پھر میں کیسے سو سکتی ہوں۔تم گاﺅں کا پہرہ دو اور میں تمہارا پہرہ دوں گی۔ جب تک تمہاری آواز ابھرتی رہے گی، میری آنکھیں کھلی رہیں گی۔ادھر تمہاری آواز دبی تو ادھر میری آنکھیں بند۔
یہ۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہوکولاں ؟
سچ ہی تو کہہ رہی ہوں نیناں ۔ رات کو جاگوں گی اور صبح خوب سوﺅں گی۔ ابھی کیا سونا ، وہ دیکھ مولوی فضل کریم اذان دینے جا رہا ہے۔ جا نماز پڑھ کے سو جا نیناں، صبح ہو گئی ہے۔ ارے چوراہے کی شمع بڑھا کے آنا تھا ۔ جا جلدی سے ۔ کل تیل ختم ہو گیا تو رات کیسے بیتے گی۔گھبرانا نہیں نیناں، ابھی کام نیا نیا ہے ناں،کچھ دنوں بعدسب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
موسمِ گرما شباب پر تھا ،کڑکتی دھوپ ہر ذی روح پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ چرند پرند زبان نکالے درختوں کی اوٹ تلے سستانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ چھوٹے بڑے برگد کے سائے میں ڈیرا جمائے رحمت کے منتظر تھے۔ مائی تاجاں کب سے سوکھے کیکر کے کھردرے تنے کے ساتھ اپنی پشت کھجاتے ہوئے خارش مٹانے میں کوشاں تھی۔ بچے برگد کے ریشوں کو جھولا بنائے اپنے اپنے کرتب دکھا رہے تھے۔بابا نتھابائیں کان پہ ہاتھ دھرے ” ہیر آکھیا جوگیا چوٹھ بولیں،تے کون رٹھڑے یار مناوندا ای “ سنانے پر تلا ہوا تھااور لوگ تھے ” سیف الملوک “سننے کی فکر میں تا کہ بارش آئے ، پپیہے کی پی پی بند ہواور کوئل کی کو کو سن سکیں۔مائی تاجاں ببول کی جان چھوڑ ابھی چوپال میں آ کے بیٹھی ہی تھی کہ گارے مٹی اور کیچڑسے بھری بالٹی اس کو سر سے پاﺅں تک نیا روپ دے گئی، پھر مائی تاجاں کے منہ میں جو آیا کہتی چلی گئی۔ سب کے سب ہنس رہے تھے ۔ایک دو بوڑھے آنکھ دبا کر مصنوعی غصہ دکھانے لگے،یہ کیا ہو رہا ہے ، مائی تاجاں سے تمہارا کیا مذاق !! شرم نہیں آتی ایسا کرتے ہوئے ۔ چلو دفع ہو جاﺅ ، کنوئیں سے تازہ پانی نکالو اور مائی کو نہلا دوکہا ہی تھا کہ دوسری بالٹی اسی مقدار میں انڈیلی گئی جو رہی سہی کسر پوری کر گئی۔
مائی تاجاں اندھا دھند پیٹنے لگی اور سب کو بددعائیں دیتے ہوئے سر پہ پاﺅں رکھے وہاں سے رفو چکر ہو گئی۔بس مائی کے الفاظ ابھی سب کے کانوں میںرس گھول رہے تھے کہ آوارہ بادل مغرب کی اوٹ سے نمودار ہوئے ۔ ہلکی سی گن گرج ہوئی ۔سب کے چہرے مسکرا اٹھے۔مائی تاجاں کو کندھوں پہ اٹھایا گیا۔ واہ مائی واہ ، ادھر منہ سے نکلیں صلواتیں،ادھر ہوئی رحمت۔ مان گئے مائی ، یہ ہوئی ناں لگن اللہ میاں سے۔یہ لو نئے کپڑے اور گھر جا کے بدل لینا۔بادل آتے گئے ایک دوسرے سے گلے مل کراور گہرے ہو گئے۔ جب اپنا وجود سنبھالنے سے قاصر ہوئے تو دھڑا دھڑ برس پڑے۔گاﺅں میں جیسے عید تھی،ہر ایک چوراہے والے میدان میں پہنچ کر بدن کو موسلا دھار بارش میں دھونے لگا۔ چرند پرند اپنے جھلسے اجسام کو تقویت دینے لگے۔گاﺅں کی نالیاں صاف ہوتی گئیں ۔ درختوں کے پتے دھل کے مزید نکھر گئے۔گھاس پھوس کی ہریاول میں اور تازگی عود کر آئی۔
بوڑھے برگد نے مدت کی پیاس بجھا کر اپنی کونپلیں مزید نکھار دیں۔ہر کس و ناکس باچھیں بیضوی حد تک پھیلائے بتیسی باہر نکالے خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔جب کوئی مستی میں جھوم کر پھسل جاتاتو ھرّے کی آوازکچے مکانوں کی دیواروں تک جا ٹکراتی۔
مستری شریف نے ہینڈل گھما کر انجن کو حرکت دی۔چمنی سے نکلا دھواں گڑوی سے ٹکرایا اور تک تک کرتی آوازسے گاﺅں کے مکینوںکو دعوتِ عام دے دی۔ لوگ جوق در جوق گندم اٹھائے اپنی باری پر گرم گرم آٹا بارش سے بچا کر گھر لے جاتے رہے۔نیناں سائیں وہیں کا وہیں جامد تھا۔مستری صاحب کی نظر پڑی تو پوچھ بیٹھا۔۔۔ نیناں تم کیسے آئے ۔
گندم پسوانے ۔
کس کی ہے یہ گندم ؟
کولاں کی۔
اوہو بابا کھولو ناں گتھی کا منہ، یا میں انجن بند کر دوں۔تمہیں پتہ نہیں تیل کتنا مہنگاہے ۔ گندم پستی رہی اور نیناں چکی کے پاٹوں کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔بجلی کڑکی ، اس کے خیالات کا مد و جذر اور بکھر گیا۔پرانے ٹاٹ کا تکونی چھاتہ آٹے پر ر کھے وہ پانی میں چھپک چھپک ننگے پاﺅں چلتا رہا۔آنکھیں چندیانے والی روشنی کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔بجلی کوندی ، برگد کی چند شاخوں سے گذری اور نیچے بندھی کالی بھینس کے سرخ خون میں اپنی پیلاہٹ ہمیشہ کے لئیے چھوڑ گئی۔ نیناں کی آنکھیں اس تابناک منظر کو برداشت نہ کر سکیں ۔وہ سکتے کے سے عالم میں جام ہو کے رہ گیا۔کولاں باہر نکلی ۔ نیناں کے سر سے بوجھ اتار کر پوچھتی رہی۔۔۔ کیا بات ہے نیناں ؟ سردی لگ رہیہےتمہیں یا بجلی سے خوف زدہ ہو۔ ۔۔۔بجلی کا نام سنتے ہی نیناں کو جیسے جھٹکا سا لگا۔ وہ چلا اٹھا۔۔۔
کولاں ۔۔۔ وہ۔۔۔ کولاں ۔۔۔ وہ تو ۔۔۔ تم ۔۔۔ تمہاری کالی بھینس ۔۔۔
کیا ہوا بھینس کو ۔۔۔ ارے کچھ بتاﺅ گے بھی۔۔۔ نیناں بتاﺅ ناں کیاہوا آخر ؟ سنی ان سنی کیئے وہ سرپٹ بھاگ نکلا۔ کولاں بھی اس کی تقلید کر رہی تھی ۔ جب برگد کے نیچے پہنچے تو بھینس کے قریب کالے ناگ کو بھی جھلسے پایا۔بارش کچھ لمحے تھم گئی لیکن آنکھوں کے انمول موتی بارش کی صورت اختیار کر گئے ۔ لوگ اکھٹے ہو کر چہ میگوئیاں کرتے رہے ۔ کچھ صبر و تحمل کا دلاسہ دے کر چلتے بنے۔چکی کے پاٹ رک گئے ۔ چمنی سے نکلی تک تک مدھم سے مدھم تر ہو کر ختم ہو گئی۔ بوجھل بوجھل قدموں سے گھر کی دہلیز تک ابھی پہنچے ہی تھے کہ کولاں کے اندھے باپ نے ٹٹول کر بھینس تک کا راستہ کم کرنا چاہا۔
نہیں بابا نہیں حلق سے نِکلی دلسوز آواز نے سکوت توڑ ڈالا۔۔۔ تو لوگ سچ کہہ رہے ہیں بیٹی ۔۔۔ نہیں بابا تمہاری گائے ڈیوڑھی میں بندھی ہے ۔ بھینس تو میری تھی۔ ۔۔۔۔۔یہی غم تو کھائے جار ہاہے۔
نیناں ۔۔۔۔تم نے دیکھا اندھیرا کتنا چھا گیا ہے ، کالے بادل ہیں ناں اس لیے جا جلدی سے شمع روشن کر دے ۔ وہ نظریں نہ اٹھا سکا ،زمین پر کچھ ڈھونڈھنا چاہتا تھا لیکن گھٹنوں تک پانی اس کے خیالات کو منتشر کر گیا ۔
آج بارش کا پانچواں دن تھا۔ سورج کی کرنوں کا نام ونشان تک مفقود تھا ، چاروں طرف مختلف انواع کے گھنے بادل اپنی سرمستی میں مگن کسِی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھے ۔
سیلاب بڑھتا گیا ، ستلج راوری کے گلے ملاتو نالہ میدانی علاقوں کا پانی لے کر اس کے جوش میں طغیانی برپا کر گیا ، ننھے منے ہاتھ زمین میں تنکے گاڑے سیلاب کی پیمائش کر نے لگے لیکن چند ہی لمحوں بعد پانی اس سطح کو چُھو کر تنکے ساتھ بہالے جاتا ۔
معصوم چہروں کی رنگت سفیدی میں بدلتی گئی ، طویل قامت شجرا پنے تنے پانی میں ڈبوئے سیلاب کی گہرائی ثابت کر رہے تھے ، کچے گھروندے کب تک اپنا وجو دبرقرار رکھتے ، پانی کا تیز ریلا دیواروں کو ہلا کر رکھ دیتا ، اور جب کوئی مکان زمین بو س ہونے لگتا تو پانی اس کو تہہ تک پہنچنے کی مہلت نہ دیتا ، اک خوفناک آواز سناٹے کو توڑ کر دور جاتے جاتے اپنی غم گُساری کی داستان چھوڑ جاتی ۔ ہر جانب اذانوں کی گونج پورے ماحول کو قیامت خیز بنا دیتی ۔ بچے چونک کراٹھتے چھت اور دیواروں کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ کر زبردستی منہ چُھپا لیتے ۔
رات بھر مکان گرِتے رہے ۔ گرہستی بکھرتی رہی ، ہر شے پانی کے بھنور میں پھنس کر پستی رہی ،گھمبیرآوازوں سے خیریت پوچھنے والے آنکھیں جھپکا نہ سکے ۔زندہ دل جوانوں کی کاوش شہتیر اکھٹے کر کے بیٹرا تیار کر گئی ۔
نیناں لالٹین ہاتھ میں تھامے اس پر سوار ہو گیا ۔ایک دولمبے بانس ساتھ رکھ لیے جہاں مدد کرو کی آواز ابھری وہیں بیٹرا جوانوں کی انتھک محنت سے پہنچ جاتا ۔ انسانی جانیں محفوظ مقامات تک پہنچائی جانے لگیں ۔
گاﺅں میں ایک ہی کشتی تھی ، پنچائیت والوں کو کیا معلوم کبھی ایسا موقع بھی آئے گا، جب درخت گِرتا ۔پرندے اپنی دلسوز آواز نکالے بے یارومدد گا ر اندھیرے میں اڑنے لگتے ۔ تھک ہار کے چوٹ کھاتے اور پانی میں دم توڑ دیتے ۔اکا دکا سانپ کنارے کی بجائے بیٹرے پر چڑھنے کی کوشش میں مارا جاتا ۔
گھر تباہ ہوتے رہے ۔ اناج بکھرتا رہا ،کسان کی تمام پونجی پانی کی نذر ہوتی رہی ۔ وہ دیکھتا رہا ،کر بھی کیا سکتا تھا ، بڑے شوق سے خریدے بچوں کے کھلونے پانی میں بہتے رہے ، کئی سُرخ جوڑے سہاگ سے قبل پانی میں ڈوبتے ابھرتے رہے ۔ پھولوں والے صندوقوں میں بند نئے کپڑے اور سونے کی بالیاں چاندی والی جھانجھروں سمیت عید سے پہلے سیلاب نے پہن لیں ۔۔۔۔۔!!
فیجاں کو اندھیری رات کے زہریلے سانپ نے ڈس لیا۔ بیٹراوہاں پہنچا لیکن احتیاطی تدابیر کے ناوجود اس کا جسم نیلگوں ہوگیا، اس کی پنڈلی کو بڑی مضبوطی سے باندھ رکھا تھا لیکن وہ ایسی سوئی کہ باوجود سب اٹھانے والوں کے ابدی نیند میں چلی گئی ۔۔۔۔۔!!
اندھیری رات اپنے انجام کی حدود میں داخل ہو چکی تھی ۔ ہر طرف آہ و بکا جاری تھی ، سیلاب پورے علاقے کی ہر چیز کو ہڑپ کر تا جار ہا تھا ۔۔۔
نینا ں نے فیجاں کے چہرے پر نظر دوڑائی تو دم بخود رہ گیا ۔ اسے کولاں کا خیال آگیا ۔ وہ بڑی تیزی سے بیٹرے کا رُ خ موڑ کر چل دیا ، ابھی آدھی مسافت بھی طے نہ کر پایا تھا کہ کولاں کا مکان ایک دھماکے سے پانی میں گرا اور خوف وہراس کے چھینٹے نیناں کی آنکھوں میں تازیانہ بن کے لگے ۔ وہ بانس کی گرفت مضبوط کئے کشتی کواور زور دے کر چلانے لگا ۔
بھنور میں ہچکولے کھاتے دوپٹے پر والہانہ لوٹ پڑا ۔ ڈھلکے وجود کو کندھے پر اٹھائے وہ بیڑے پر پہنچا تو دُور ایک میلی پگڑی کے تمام بل سیدھے تیرتے نظر آئے ۔ نیناں کا دل پھٹ گیا آنکھوں میں اندھیر ا چھانے لگا ۔ سر میں ٹیسیں اٹھنے لگیں ۔ وہ حسرت بھر ی نگاہوں سے ہر طرف دیکھتا رہ گیا لیکن پگڑی اپنی عزت برقرار رکھے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی ۔
نیناں کو لاں کو الٹا لٹا کر پانی اس کے پیٹ سے نکالتا رہا لیکن اجڑی آنکھیں نہ جانے خلاﺅں میں کیوں اٹک کے رہ گئیں ۔ ایک ہیولا سانمودار ہوا۔ بڑھتے بڑھتے اس کے باپ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے ہاتھ رک گئے ۔ دماغی قوت با پ کے چہرے پر مرکوز ہو کے رہ گئی ۔ معاً دوسری دھندلی تصویر ابھرنے لگی ۔
کولاں کے باپ کو سامنے پا کر ہا تھوں کو پھر جنبش ہوئی ،وہ ایک نظر کولاں کو اور دوسری جانب دو نوں بزرگوں کو یکے بعد دیگرے دیکھتا رہا ۔ اچانک کولاں کی سانسیں سینے کے اُبھار کو نمایاں کر گئیں ۔ بزرگوں کے چہرے دھندلے ہو کر خلاﺅں میں بکھرگئے ۔ وہ ششدر رہ گیا ۔ شاید یہ اس کا خیال تھا ورنہ ۔۔۔۔کولاں کولاں دیکھو ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔
کولاں کی اجڑی اجڑی نگاہیں نہ جانے کیا ڈھونڈھنا چاہتی تھیں ۔ بالآ خر مدھم آواز سے اس نے سکوت توڑا ۔نیناں میں کہا ں ہوں ؟
تم میرے ساتھ ہو ۔
لیکن اتنا اندھیرا کیوں ہے ؟تم نے آج چوراہے کی شمع روشن نہیں کی ۔ وہ کچھ جواب نہ دے پایا ۔ غمگین ہو گیا ۔
نیناں تم بولتے کیوں نہیں ؟
ہاں بول تو رہا ہوں اور جب بانس کے آخری سرے کو دونوں ہاتھوں سے وہ پانی میں ڈبو کر زور لگا رہا تھا تو کولاں حقیقت کی طرف لوٹ آئی ۔ وہ ایک دم زور سے چیخی ۔ میرے باباکہاں ہیں ؟ تم نے مجھے ان کے ساتھ جانے نہیں دیا ۔ وہ پانی کی جانب بڑھنے لگی ، چپو ہاتھ سے چھوڑ کولاں کو سنبھالا دیئے وہ کنارے کی جانب رواں دواں ہو گیا ۔ کنارے کھڑے مرد وزن ، بچے بوڑھے سب کی آنکھیں اُمیدو یاس کے انمول موتی بکھیرے ان کا والہانہ استقبال کر رہی تھیں ۔
گاﺅں میں سب سے اونچے مقام پر دو خیمے لگا دیئے گئے جن میں اسی گاﺅں کے تازہ پناہ گزین مقید ہوکے رَہ گئے ۔ ان خیموں کی چھت اس بحری بیڑے کی تھی جو سمندر کی طوفانی لہروں کے رحم و کرم پر آخری ہچکولے کھا رہا ہو ۔ زادِراہ سیلابی پیٹ ہضم کر گیا لیکن بچوں کے پیٹ کا مسئلہ سب کو تڑپا کے رکھ گیا ۔ مقدور بھر گندم ۔ چاول اور چنے جو میّسرآیا کچا پکا بُھون کر بچوں میں تقسیم کر دیا ۔ کیچڑ لگی مڑی تٹری جیبوں میں دانے بھر کے بچے شرارتیں بھول گئے اور سہمے سہمے کونے میں دبکے اپنے پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے لگے ۔
سب ایک جگہ محدود ہو کے رہ گئے ان میں نہ کوئی امیر تھا اور نہ ہی مفلس ،سب کے چہروں پر ایک جیسی اُداسی تھی ، دُور دُور تک پانی ہی پانی نظر آرہا تھا ، شاید اونچائی پر چند گھروندے جزیرے کا سماں پیش کر رہے تھے ،سیلاب کا زور ٹوٹا ضرور لیکن بارش چھٹے دن بھی اپنے کر تب دکھا رہی تھی ، نچلی سطحوں پر جا بجا ریلوے لائن میں بچھے لکڑی کے تختے اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکے اور کوسوں دُور بہہ گئے ۔ کئی جگہوں پر ایسے لگا جیسے سڑک تھی ہی نہیں ۔
ساتویں دن بارش کم ہوئی اور سورج کی کِرنیں بادلوں کی اوٹ میں تانک جھانک کرنے لگیں ۔ سیلاب اپنی تباہ کاریاں کر کے ان کے نشانات باقی چھوڑ گیا ۔ درختوں پہ لگے تنکے اور جھاگ کی لکیریں اس بات کی غماز تھیں کہ محدود سے چند جزیروں میں پناہ گزین آدھ ایک میٹر کی اونچائی میں اپنی سانسوں کو گِن چکے تھے ۔
بہت سے لوگوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ سیلاب سے بچ گئے تو ہمیشہ کے لیے یہ گاﺅں چھوڑ دیں گے لیکن آباﺅ اجداد کی پرانی یادیں چھوڑنا اتنا آسان نہ تھا ۔ مصّمم ارادوںمیں جھول آ گیا ۔ پھر سے کدال چلنے لگے ۔ مٹی گوندھ کر دیواریں پروان چڑھنے لگیں ۔ ایک نیا عزم اور ولولہ عَود کر آیا ، چہل پہل ہونے لگی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے ۔ زندگی اس ڈگر پر چلنے لگی ۔ چوراہا پھر سے آباد ہو گیا ۔ برگد بہت سی کہانیاں اپنے متین تنے میں چھپائے مہکنے لگا ، فرق صرف اتنا تھا کہ اب کولاں کے ساتھ فیجاں نہیں تھی ، وہ اکیلی اوپلے بنا کر واپس لوٹتی تو برگد اُداس و پریشان اپنی کو نپلوں تک کو ساکت کر دیتا ، جن کے مکان دوبارہ تعمیر ہو گئے وہ خیمے سے سدھارے لیکن کولاں کا دل با با کے بغیر سُونا ساتھا ۔ اچھّو کی ماں کولاں کو دلاسہ دینے آئی اور اپنے گھر چلنے کو کہا ۔ اچھّو نے بھی لاکھ زور لگایا لیکن کولاں نے انکار کر دیا ۔
بس ایک دو روز کی بات ہے نیناں مکان بنار ہا ہے اپنے گھر میں کم ازکم بابا کی یاد تو تازہ رہے گی ۔ وہ ٹوٹی دیواروں کو بابا کو پھسل کر پانی میں گرنے تک بغور دیکھتی رہی ۔ نیناں نے کندھا جھنجھوڑ کر اس کو عمیق گہرائیوں سے نکالا ۔ وہ دن بدن خاموش رہنے لگی ۔
گاﺅں میں پھر دیئے ٹمٹمانے لگے ۔ دُور و نزدیک سب کے رشتہ دار خیر یت پوچھنے آ رہے تھے ۔ اچھو کا ماموں بھی آیا ۔ میدان بچوں سے دوبارہ بھر گیا ، اچھو اپنے ماموں کی بڑائی کرنے میں مصروف رہا ۔ اِدھر اُدھر کی گپیں ہانکنا اور ڈھینگیں مار کر اپنے آپ کو برتر ثابت کر نا اس کی عادت کا لازمی جزو تھا ۔
گھر میں بڑا بیٹاہونے کے ناطے ماں کی آنکھ کا تار ا ضِدی بھی تھا ۔ دیر تک کھیل کود ہوتارہا ۔ آہستہ آہستہ تھک رہا کر سب گھر کی راہ لے چکے ۔ اچھو کو کیا سوجھی ایک دم اچھل کر اپنے دونوں ساتھیوں کو کہنے لگا ، یار کیوں نہ کر آج نیناں کو چھلا وا بن کر ڈرایا جائے۔دوسروں نے ہاں میں ہاں ملائی ، تھے تو بچے ہی ، جومن میں آیا کہہ دیا ، اچھو دونوں کو چھوڑ سیدھا گھر گیا ، ماموں کو رائفل کندھے پر لٹکائے ، ٹخ ٹخ پاﺅں جمائے نپی تلی فوجی چال میں دوستوں کے ساتھ آملا ، سب نے ایک پروگرام بنایا کہ مختلف آوازیں نکال کر نیناں کو ڈرائیں گے ، وہ کھیلنے کو آتا تو نہیں چلو اسی بہانے وہ بھی محفوظ ہو گا ۔
ہواتیز چل رہی تھی ہرطرف گردو غبار مرغولے بنائے آسمان کی سمت اُٹھ رہاتھا ۔۔۔ درختوں کی سائیں سائیں بڑھتی جارہی تھی ، چرند پرند اپنے مسکنوں میں دبکے بیٹھے تھے ۔ بہت سے چراغ تندو تیز ہو ا کے جھونکوں کی تاب نہ لا سکے اور اپنے وجو د سے اٹھتے دھوئیں میںاپنی تمازت کھو بیٹھے ۔ نیناں کی آواز اور نزدیک آتی گئی ، تینوں اوپلوں کی آڑلے کر چھپ گئے ۔ نیناں کی لاٹھی برگد والی اینٹ پر پڑی لیکن آواز طوفانی جھکڑمیں تحلیل ہو کے رَہ گئی ۔ خبردار ۔۔۔۔۔۔!!
تم بھی خبردارہوجاﺅ ۔ اچھوبھاری آواز میں بولا ۔نیناں نے کوئی نوٹس نہ لیا۔
رک جاﺅ نیناں ورنہ بھسم کر دیئے جاﺅ گے خادو اور امجد یکجا ہو کر بولے ۔
ارے جاﺅ ۔ ساری زندگی میرا با پ نہیں ڈرا۔ میں کیوں ڈرنے لگا ۔
میں کہتا ہوں رک جاﺅ ورنہ گولی چلادوں گا ۔
جاگ بھئی جاگ ۔۔۔۔۔پھر گولی چلی اور نیناں کی کھوپٹری میں چھید کر گئی ۔ تیز ہوا کا آخری تھپیڑا چورا ہے کی شمع کو ہمیشہ کے لیے بجھا چکا تھا ۔ تینوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ بندوق میں گولی تھی یہ توہمیں معلوم نہ تھا ۔ ٹریگر تو بے اختیار دب گیا ۔ اب کیا ہو گا ۔ وہ سب تتر ّ بترّ ہوگئے ،نیناں تڑپتے تڑپتے اس چوراہے میں دم توڑ گیا ، جہاں شمع سے نکلا تازہ دھواں اس پر ماتم کناں تھا ۔ چند لو گ باہر نکلے ضرور لیکن اندھیری رات میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے پھر سوگئے ۔ کئی ایک نے محض یہ سوچا کہ شاید سر حد پر متعین چوکی کے کسی رکھوالے نے کِسی اسمگلر کو وطنِ عزیز کی سرزمین پر ا سمگلنگ کرنے سے روکا ہو گا۔
کولاں خواب دیکھتی رہی ۔ بڑے سہانے خواب ۔ نیناں کے سربندھے سہرے میں وہ جھانکنا چاہتی تھی ۔ نیناں گنجان لڑیوں کو اٹھا نہیں رہا تھا ۔ گھوڑے پہ بیٹھا وہ سفید لباس تن زیب کئے کتنا وجیہہ او ر خوبصورت لگ رہا تھا ۔ شہنائی کی گونج دور و نزدیک پھیلتی گئی ۔ کولاں سُرخی لبادہ اوڑھے ہاتھوں میں حِنا کی رنگت اُجاگر کئے چھوئی موئی ہوتی جارہی تھی۔ اچانک گھوڑا رُک گیا ۔ پیچھے رہنے والے باراتی آہستہ آہستہ جمع ہوتے گئے ۔ شہنائی کے گیت رُخ بدلنے لگے ۔ڈھولک پہ پڑنے والی تھاپ مدھم ہوتی گئی ۔ پھر تیز ہوا چلی اور نیناں کا گھوڑا اچانک آسمان کی جانب اڑنے لگا ۔ کولاں ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھی ۔
یہ اندھیرا کیوں ہواجاتاہے ؟شاید دیئے میں تیل ختم ہوگیا ۔ ماچس میں پڑی آخری دو تیلیاں اس نے جلائیں لیکن وہ بھی ہواکے جھونکوں سے چراغ روشن نہ کر سکیں ۔ اسے کوفت ہونے لگی ۔ معاًاس کی نظر چوراہے کی جانب اُٹھ گئی ۔ وہ شمع بھی بجھ چکی تھی ۔ اس کا دل اور بے زار ہو گیا ۔ نیند کو سوں دُور بھاگ گئی ۔ اس نے کان کھڑے کر لیئے ۔ رات قریب قریب ختم ہونے کو تھی ۔ وہ نیناں کی آواز نہ سن سکی ۔ نہ جانے وہ کہاں ہوگا۔ میں جلدازجلد شادی کر کے اسے اپنی اور بچوں کی رکھوالی پر مامور کر دوں گی ، ہم سے نہیں ہوتی سب کی رکھوالی ۔ کوئی اور کام ڈھونڈھ لیں گے ۔ مولوی فضل کریم نے فجر کی اذان دی اور چوراہے میں ایک شور برپا ہو گیا ۔ کولاں کے قدم بڑھتے گئے ۔ وہاں اوندھی پڑی نیناں کی لا ش لاٹھی ہاتھ میں تھامے بہت کچھ کہہ گئی ۔
کولاں کی نگاہیں لاش پر مرکوز ہو گئیں ۔ مُنہ سے ایک لفظ نہ نکلا ۔ آنکھیں جیسے خشک ہو کے برسنا بھول گئیں ۔ کاٹو تو خوں نہیں ۔ جسم بُت بن کے رَہ گیا ۔ لوگ اسے پکارتے رہے وہ کِسی کا جواب نہ دے پائی ۔ پولیس آئی تفتیش ہوئی اور تینوں پر مقدمہ چلایا گیا ۔ لا ش پوسٹ مارٹم کے بعد دفنا دی گئی ۔ نیناں کی یاد دل سے نکا لنا مشکل مرحلہ تھا ۔ وہ بے ریا امنگوں کا پرستارتھا ۔ کِسی کو گزند پہنچانا اس کے زمرے میں شامل نہ تھا ۔ پھر اسے کیوں مارا گیا ؟ کولاں ہر روز دیوار پر ایک لکیر کا اضافہ کرتی گئی ، پھر لاشعوری طور پر گھنٹوں نیناں سے باتیں کرتی رہتی ، دل کے تار تھے جو بج اُٹھتے ۔ ہونٹوں پہ مصائب کے قفل لگ چکے تھے ۔ و ہ اگر زندگی کے دن گھسیٹ رہی تھی تو کِس لیے ؟ ہاں ابھی نیناں کی آواز عدالت میں لگائی جاتی تھی ۔ اس کی روح وہاں پر بھی اشاروں کنائیوں میں اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کرتی ہوگی ۔ آج سال کے بعد آخری کڑی مقدمے کا اختتام کرنے والی تھی ۔ تانگہ چوراہے میں رُکا اور اچھو ساتھیوں سمیت بری ہو کر آگیا ۔ اس واردات کو حادثاتی واقعہ قرار دیا گیا ، دیوار پر کوئلے سے کھینچے جانے والی لکیر پوری نہ ہوسکی ۔ ہاں نیناں جاگو اور آنکھیں کھولو۔۔دیکھو ۔۔ میں آگئی ہوں ۔ میں نے کہاتھا ناں، ” جب تمہاری آواز نہیں آئے گی تو میری آنکھیں بند پاﺅ گے “۔
۔۔۔۔۔۔۔۔اصلاحی پہلو۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ ہر کہانی معاشرے کی آئینہ دار ہوتی ہے اس آئینے میں ہم اپنے خوب صورت چہرے بھی دیکھ سکتے ہیں اور مکروہ چہرے بھی ۔ اچھے بُرے کر دار بھی ، معاشرتی ناہموار یاں بھی اور اخلاقی کو تاہیاں بھی اور اگر ہم چاہیں تو ان عبرت نشان کہانیوں سے اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں ۔
تحریر : الحاج چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز ۔یونان
برف میں آگ : شموئل احمد
شموئل احمد
برف میں آگ
سلیمان کو اپنی بیوی کسی جزدان میں لپٹے ہوئے مذہبی صحیفے کی طرح لگتی تھی جسے ہاتھ لگاتے وقت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کی شادی کو دس سال ہو گئے تھے،لیکن وہ اب بھی سلیمان سے بہت کھلی نہیں تھی۔سلیمان اس کو پاس بلاتا تو وہ پہلے ادھر ادھر جھانک کر اطمینان کر لیتی کہ کہیں کوئی ہے تو نہیں …..خاص کر بچوں کی موجودگی کا اس کو بہت خیال رہتا تھا۔جب تک اس کو یقین نہیں ہوجاتا کہ بچے گہری نیند سوچکے ہیں وہ سلیمان کو پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتی تھی۔
سلیمان کو شروع شروع میں سلطانہ کے اس رویہ سے بہت الجھن محسوس ہوئی۔ اس کو لگا اس کے ساتھ صحبت کرکے وہ کسی گناہ لازمی کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن اس کی زندگی میں جب رضیہ داخل ہوئی تو اس پر عقدہ کھلا کہ بیوی اور محبوبہ میں فرق ہے اور یہ کہ زندگی میں دونوں کی اپنی الگ اہمیت ہے۔
رضیہ، سلیمان کی محبوبہ تھی اور اس میں وہی گن تھے جو محبوبہ میں ہوتے ہیں۔ وہ بوسے کا جواب بوسے سے دیتی تھی۔ سلیمان جب اس کو اپنی بانہوں میں بھینچتا تو اسی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتی بلکہ اکثر بوس و کنار میں پہل کر بیٹھتی اور جب وہ آہستہ آہستہ سر گوشیاں سی کرتی کہ…..جانی….کہاں رہے اتنے دن…..تو سلیمان پر نشہ سا چھانے لگتا تھا۔ لذت کی یہ گراں باری اس کو سلطانہ کے ساتھ کبھی میسر نہ ہوئی تھی۔ سلطانہ اس کو بند گٹھری کی طرح لگتی تھی جس کی گرہیں ڈھیلی تو ہوجاتی تھیں لیکن پوری طرح کھلتی نہیں تھیں۔ جب کہ رضیہ اس کے برعکس تھی۔ وہ بیڈ روم میں شیلف پر رکھی ہوئی اس کتاب کی طرح تھی جس کی ورق گردانی وہ اپنے طور پر کرسکتا تھا اور جب بھی اس نے رضیہ کی کتاب الٹی پلٹی تھی تو لذّت کی سرشاری کا ایک نیاباب ہی اس پر کھلا تھا …..رضیہ کہتی بھی تھی …..یہی فرق ہوتا ہے جان من، بیویاں حق زوجیت ادا کرتی ہیں اور محبوبہ خزانے لٹاتی ہے۔
رضیہ کا خیال تھا کہ عورت صرف محبوب کی بانہوں میں ہی خود کو پوری طرح آشکارا کرتی ہے….شوہر اگر محبوب ہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ فرض نبھاتی ہے …..اس کے پیار میں فرض کا احساس غالب رہتا ہے…..“
اس کی اس بات پر سلیمان نے ایک بار اس کو ٹوکا تھا۔
”اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے شوہر سے پیار نہیں کرتیں ….“
رضیہ اپنی بانہیں اس کی گردن میں حمائل کرتی ہوئی بولی تھی۔
”میری جان ….میں شوہر سے پیار کرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں ….اس لئے اپنا فرض نبھاتی ہوں ….لیکن پیار فرض نہیں ہے……“
اس پر سلیمان نے اس کا طویل بوسہ لیا تھا۔
”پھر پیار کیا ہے….؟“
”یہ ہے پیار……ایک مرد اس طرح اپنی بیوی کو نہیں چومتا….پیار بندھن نہیں ہے۔
”پیار کا مطلب ہے تمام بندھنوں سے ماورا ہوجانا….“
”واہ کیا بات ہے“……سلیمان ہنسنے لگا۔
”دیکھو….ہم کتنے فری ہیں ……کتنے آزاد ….. میاں بیوی کا بندھن ملکیت کا بندھن ہے جس میں مالک کوئی نہیں ہے…..دونوں ہی غلام ہیں ……. دونوں کاایک دوسرے پر قبضہ ہے ….. اور پیار قبضہ نہیں ہے…..“
سلیمان لاجواب ہوگیا۔
ٍ ”ایک بات بتاؤں ….؟“یکایک رضیہ مسکرائی اور پھر شرما گئی۔
”بتاؤ….“
”نہیں بتاتی…“
”بتاؤ میری جان….“ سلیمان نے اس کے گالوں میں چٹکی لی۔
”جب میں اپنے شوہر کی بانہوں میں ہوتی ہوں تو تصور تمہارا ہی ہوتا ہے…..تمہارا تصور میرے لئے محرک ہے….. تب جاکر کہیں میں …..“ سلیمان نے اس کو بے اختیار لپٹا لیا۔
”اور میری بانہوں میں ….“
”تمہاری بانہوں میں مکمل آزادی محسوس کرتی ہوں …..کوئی حجاب نہیں رہتا میں ہوتی ہوں۔ ایک سیل رواں ہوتا ہے ….ندی کی تیز دھار ہوتی ہے …..اور پھر …. اور پھر سیل رواں بھی نہیں ہوتا…..ندی بھی نہیں ہوتی …..میں بھی نہیں ہوتی۔سلیمان رضیہ کی اس بات پر عش عش کر اٹھا تھا۔
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود سلطانہ سے اس کے تعلقات خوشگوار تھے۔بلکہ جوں جوں رضیہ سے اس کی وابستگی بڑھتی گئی سلطانہ کی قدرو قیمت بھی اس کے دل میں بڑھتی گئی اور یہ محسوس کرنے لگا کہ سلطانہ شرم و حیا کی پابند ایک وفا شعار بیوی ہے،جس میں وہی تقدس ہے جو ایک شوہر اپنی بیوی میں دیکھنا چاہتا ہے۔ مثلاسلطانہ کا ہمیشہ نرم لہجے میں باتیں کرنا….اس کا ہر حکم بجا لانا….سب کو کھلاکر خود آخیر میں کھانا ….یہ سب ایک نیک طینت بیوی کے ضروری وصف ہیں جو سلطانہ میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔
سلیمان کو اکثر یہ سوچ کر حیرت ہوئی تھی کہ دس سالہ ازدواجی زندگی میں سلطانہ نے آج تک اس سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی، نہ ہی اپنے لئے کبھی ایسی کوئی فرمائش کی تھی جوسلیمان کو الجھن میں ڈالتی۔ شادی کے بعد شروع شروع کے دنوں میں اس نے ایک بار پوشاک کے معاملہ میں اس کو یہ مشورہ ضرور دیا تھا کہ وہ اپنے لئے پرنس سوٹ سلوائے۔ سلیمان نے گرچہ یہ محسوس کیا تھا کہ سلطانہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ اس کو پرنس سوٹ میں دیکھے،لیکن بند گلے کا کوٹ اس کو پسند نہیں تھا۔ اس نے اس کی اس بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی اور سلطانہ نے پھر کبھی اصرار نہیں کیا تھا۔ انہیں دنوں وہ اکثر گڑ بھر کر کریلے کی سبزی بھی بناتی تھی۔ سلیمان نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ سلطانہ یہ سبزی بڑے چاؤ سے بناتی ہے لیکن کریلے کا ذائقہ اس کو پسند نہیں تھا۔اس نے سبزی ایک دو بار صرف چکھ کر چھوڑ دی تھی۔
سلیمان اپنی ازدواجی زندگی سے مطمئن تھا۔سلطانہ نے اس کو تین خوبصورت بچے دئے تھے۔ وہ امور خانہ داری میں طاق تھی اور گھر کا ہر چھوٹا بڑا کام خود ہی انجام دیتی تھی۔سلیمان خانہ داری کی رقم اس کے ہاتھ میں دے کر مطمئن ہوجاتا تھا۔
رضیہ اکثر سلطانہ کے بارے میں پوچھتی رہتی تھی،لیکن وہ زیادہ باتیں کرنے سے گھبراتا تھا۔ کبھی کبھی رضیہ کوئی چبھتا ہوا جملہ بول جاتی اور
سلیمان کو لگتا وہ اس کا امیج توڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایک بار جب وہ سلطانہ کی تعریفیں کررہا تھا کہ وہ کس طرح گھر کا کام نبٹاتی ہے تو رضیہ بر جستہ بول اٹھی تھی کہ ……اس سے کہو ہر وقت دائی بن کر نہیں رہے……بیوی کو کبھی عورت بن کر بھی رہنا چاہئے…..
سلیمان کو یہ بات لگ گئی تھی۔ اس کو احساس ہوا تھا کہ واقعی سلطانہ ہر وقت کام میں لگی رہتی ہے۔ کبھی فرصت کے لمحوں میں وہ اس کو اپنے پاس بلاتا بھی ہے تو کام کا بہانہ بنا کر اٹھ جاتی ہے،لیکن پھر ا س نے اپنے آپ کو یہ کہہ کر سمجھایا تھا کہ سلطانہ دراصل ایک سوگھڑ عورت ہے اور سوگھڑ عورتیں اسی طرح گھر کے کاموں میں لگی رہتی ہیں۔
ایک دن کپڑے کی خریداری کے لئے سلیمان بازار کی طرف نکلا۔ ساتھ میں سلطانہ بھی تھی۔ ایک دو دکان دیکھنے کے بعد وہ ریمنڈ ہاؤس میں گھسنا ہی چاہ رہا تھا کہ سلطانہ کے قدم رک گئے۔ وہ ٹھٹھک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کا منھ حیرت و استعجاب سے کھل گیا۔
”کیا ہوا؟“ سلیمان نے پوچھا۔
”یہ تو الیاس بھائی ہیں۔“ سلطانہ کا چہرہ تمتما رہا تھا۔
سلیمان نے سامنے دکان کی طرف دیکھا۔ پرنس سوٹ میں بلبوس ایک خوبرو آدمی کاؤنٹر کے قریب کھڑا تھا۔
”یہاں سے چلئے…..“سلطانہ آگے بڑھتی ہوئی بولی۔ چلتے چلتے سلیمان نے ایک بار مڑ کر پھر اس آدمی کی طرف دیکھا۔
سلطانہ آگے سنٹرل وسترالیہ میں گھس گئی۔
”کون تھے؟“
”بھائی جان کے دوست تھے۔“
”اگر جان پہچان ہے تو ملنے میں کیا حرج ہے….؟“
”مجھے شرم آتی ہے….“
سلطانہ کے چہرے پر پسینے کی بوندیں پھوٹ آئی تھیں۔ خریداری کے بعد دکان سے نکلتے ہوئے سلطانہ نے ایک دو بار گردن گھما کر ادھر اُدھر دیکھا۔ ریمنڈ ہاؤس کے قریب سے گذرتے ہوئے سلیمان نے ادھر اُچٹتی سی نظر ڈالی۔
رستے میں سلطانہ سبزی کی دکان پر رکی۔ سبزیاں اور پھل خریدتے ہوئے وہ گھر لوٹے تو شام ہوگئی تھی۔ سلیمان ٹی وی کھول کر بیٹھ گیااور سلطانہ کھانا بنانے میں لگ گئی۔
خبریں سننے کے بعد سلیمان کھانے کی میز پر بیٹھا تو کریلے کی سبزی دیکھ کر اس کو حیرت ہوئی۔ بہت دنوں کے بعد سلطانہ نے پھر گڑدار کریلے بنائے تھے۔ اس بار سلیمان نے پوری سبزی کھائی۔ کھانے کے بعد وہ کچھ دیر تک ٹی وی دیکھتا رہا، بستر پر آکر لیٹا تو سلطانہ ایک طرف چادر اوڑھ کر سوئی ہوئی تھی۔سلیمان کو عجیب لگا۔ یہ انداز سلطانہ کا نہیں تھا۔ کچھ دیر بغل میں لیٹا رہا پھر اس نے روشنی گل کی اور سلطانہ کو آہستہ سے اپنی طرف کھینچا ….وہ اس کے سینے سے لگ گئی۔ سلیمان کو اپنے سینے پر اس کی چھاتیوں کا لمس بھی پر اسرار لگا۔ اس کو حیرت ہوئی کہ اس کا بدن پہلے اتنا گداز نہیں معلوم ہوا تھا۔ تب وہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکا کہ سلطانہ کی سانسیں کچھ تیز چل رہی ہیں۔ کمرے کی تاریکی میں اس نے ایک بار سلطانہ
کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی اور پھر اس کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا ….اور دفعتا سلیمان نے محسوس کیا کہ سانسیں اور تیز ہوتی جا رہی ہیں ….. اور جیسے سانس کے ہر زیرو بم کے ساتھ بند گٹھری کی گرہیں اپنے آپ کھلنے لگی ہیں ….. کھلتی جا رہی ہیں ….
سلیمان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ ایک لمحہ کے لئے اس کو رضیہ کی یاد آئی …..اور پھر اس کا چہرہ پسینے سے بھیگ گیا،سلطانہ کے بدن پر اس کے بازوؤں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی…..سلیمان کو لگا اس کی بانہوں میں سلطانہ نہیں ہے…. کوئی اور ہے…..
٭٭٭٭٭٭٭
طلسم : انجینیرفرقان سنبھلی
افسانہ نگار: انجینیرفرقان سنبھلی
طلسم
فتح اندلس سے قبل بادشاہ راڈرک اپنے گساروں کے ساتھ گھوڑے دوڑاتے ہوئے تیزی سے قلعہ کی طرف چلا جا رہا تھا۔ جسے اس نے حال ہی میں فتح کیا تھا۔ فتح کی چمک چہرے پر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک اس نے گھوڑے کی باگیں کھینچ لیں گھوڑے بھیانک ہنہناہٹ کے ساتھ رکتے چلے گیے۔
”سپہ سالار۔۔۔۔۔۔یہ پہاڑیوں کی اوٹ میں کون سی عمارت دکھائی دے رہی ہے“
”حضور۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو وہی طلسماتی عمارت نظر آتی ہے جسکی اطلاع ہمارے مخبروں نے دی تھی“
”اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم یہ عمارت دیکھنا چاہتے ہیں“
”میری درخواست ہے حضور۔۔۔۔۔۔۔کہ پہلے دربار سے فارغ ہو لیں“
”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔لیکن ہم جلد از جلد اس عمارت کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں یہ عمارت ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے“
بادشاہ راڈرک کا د ربار لگا ہوا تھا۔ بادشاہ نے ضروری احکام صادر بھی نہیں کیے تھے کہ اچانک دو نہایت بوڑھے شخص نمودار ہوئے۔ انہوں نے زمانہ قدیم کے لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ وہ اپنی سفید قباؤں کے ساتھ کمر پر پُراسرار قسم کی چوڑی بیلٹ باندھے ہوئے تھے جس پر بارہ برجوں کے نشان بنے ہوئے تھے۔ ہر برج کے نشان کے ساتھ کئی کئی چابیوں کے گچھے لٹکے ہوئے تھے۔ ان بوڑھوں میں سے ایک نے بادشاہ کو بتانا شروع کیا۔
”ہرقل اعظم نے قدیم شہر کے قریب ایک قلعہ نما شاندار عمارت تعمیر کرائی تھی جس میں ایک طلسم بند ہے۔ عمارت کا راستہ بڑے وزنی پھاٹکوں سے بند کیا گیا ہے اور اس پھاٹک میں قفل بڑھے ہوئے ہیں۔ ہر نئے تخت نشین کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان میں اپنے قفل کا اضافہ کرے۔“
”اس کا کیا مطلب ہے“ راڈرک حیران ہوا۔
بوڑھے نے کہنا جاری رکھا۔
”جو بادشاہ اس طلسم کو کھولنے کی کوشش کریگا وہ تباہ و برباد ہو جائیگا“
اتنا کہہ کر بوڑھا خاموش ہو گیا۔ دربار میں سناٹا پَسرا ہوا تھا۔ اب دوسرے بوڑھے نے بولنا شروع کیا۔
”ہم نسل در نسل اس طلسم کے محافظ ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ جس نے بھی اس طلسم کو افشا کرنے کی کوشش کی ہے وہ برباد ہو گیا۔۔۔ تو۔۔۔۔اے بادشاہ آپ سے ہماری التجا ہے کہ آپ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح اس طلسم پر اپنا کفل ڈال دیں۔“
بوڑھے ان مفروضات کو بیان کرکے غائب ہو گئے۔ لیکن بادشاہ راڈرک سمیت تمام درباریوں کو اشتیاق میں مبتلا کر گئے۔ ان میں سے کچھ خائف تھے تو کچھ اس طلسم کا راز دریافت کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ راڈرک بھی اسی گروہ میں شامل تھا۔
دربار برخواست ہو گیا تو راڈرک نے اپنے حجرۂ خاص میں شاہی مشیروں اور عہدے داران کا اجلاس منعقد کیا۔
”میں اس طلسم کا راز دریافت کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہوں“
”حضور۔۔۔۔۔بوڑھوں نے جو کچھ بیان کیا ہے اسکی روشنی میں آپکی یہ کوشش خطرناک ہو سکتی ہے“ ایک مشیر نے کہا۔
”مجھے خطروں سے کھیلنے کا شوق ہے“
”پھر بھی آپ کو وہاں نہیں جانا چاہئے۔ اور اگر جانا ہی ہے تو پیش روؤں کی طرح اس طلسم پر اپنا قفل ڈال کر واپس آجاناچاہئے“وزیر نے صلاح دی۔
”ہاں۔۔۔۔۔۔اس میں کوئی حرج نہیں“۔ وزیر کی صلاح پر اجلاس میں عام رائے قائم ہو گئی تو بادشاہ کو ضد چھوڑنی پڑی۔ طے پایا کہ بادشاہ کے ساتھ وزیر اور چند معتمد خاص قفل ڈالنے کی مہم پر جائیں گے۔
اگلے ہی دن راڈرک کا قافلہ پہاڑی کی طرف روانہ ہو گیا۔ راڈرک نے دیکھا کہ بہت اونچی پہاڑی پر ز مرد اور سنگ مرمر سے بنا پرانا لیکن خوبصورت برج قائم ہے۔ اس پہاڑی کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں جنہوں نے اس برج کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ گویا اس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ راڈرک کا قافلہ جب برج والی پہاڑی کے نزدیک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ برج پر بڑی کاریگری سے طرح طرح کے نقش کندہ کیے گئے ہیں۔ یہ نقش سورج کی کرنوں کے پڑنے سے ہیرے کی طرح چمک رہے تھے۔ برج والی اس عمارت تک پہنچنے کے لئے پہاڑیوں کو کاٹ کر راستہ بنایا گیا تھا۔ راستہ جہاں ختم ہو رہا تھا وہاں ایک بڑا سا پھاٹک لگا ہوا تھا جس کے بیچ و بیچ بہت سے تالے (قفل)لٹکے ہوئے تھے راڈرک کو بوڑھوں کی بات پر اب یقین ہو چلا تھا۔ یہ وہی تالے تھے جو اپنے اپنے دور حکومت میں اس سے پہلے گذر چکے بادشاہوں نے پھاٹک پر لگائے تھے۔ راڈرک کا قافلہ اب پھاٹک کے بالکل نزدیک پہنچ چکا تھا۔ راڈرک نے دیکھا کہ تمام تالے بالکل ایک جیسے ہی تھے اور ان پر سابقہ بادشاہوں کے نام کندہ تھے۔ پھاٹک پر راڈرک کے پہلے کے آخری بادشاہ کا تالا بھی لگا ہوا تھا۔ اچانک چار ہاتھوں نے ایک بڑا سا تالا راڈرک کی طرف بڑھایا جس پر راڈرک کا نام کندہ تھا راڈرک نے حیران ہو کرادھر ادھر نظریں گھمائیں تو اسے دائیں بائیں کھڑے وہی دو بوڑھے دکھائی دیے جو اس کے دربار میں آئے تھے۔انہوں نے ہی راڈرک کے نام والا تالا پکڑ رکھا تھا۔ بوڑھوں نے بادشاہ سے پھر التجا کی۔
”حضور۔۔۔۔۔۔آگے بڑھیے اور اپنے نام کا قفل ڈال دیجئے“
”نہیں۔۔۔۔۔۔“بادشاہ کی گرجدار آواز سن کر بوڑھے اور اس کے ساتھ آئے درباری بھی اچھل پڑے۔
”نہیں۔۔۔۔۔۔ہم یہ تالا بعد میں لگائیں گے پہلے اس طلسم کا راز دریافت کریں گے“
بادشاہ کی بات نے دھماکہ کیا تھا جس کے اثر سے پورا قافلہ ہل گیا۔
”یہ کیا کہہ رہے ہیں بادشاہ حضور۔۔۔۔۔۔۔۔طے تو یہ ہوا تھا کہ آپ قفل ڈال کر واپس ہوجائیں گے“ وزیر نے ہمت کرکے منھ کھولا۔
”ہاں۔۔۔۔۔۔لیکن اب ہمارا ارادہ بدل گیا ہے۔ ہم اس طلسم کا راز دریافت کرکے ہی پھاٹک پر قفل ڈالیں گے۔
”لیکن تب آپ قفل ڈالنے لائق نہ رہیں گے حضور“۔ بوڑھوں نے بے خوف ہوکر ایک سر میں جملہ ادا کیا۔
”دیکھا جائے گا۔۔۔۔۔۔“ راڈرک نے انہیں تالے کھولنے کا حکم دیا۔
شاہی حکم سے مجبور ہو بوڑھوں نے تالے کھولنے شروع کیے۔ ایک ایک کر جب سارے تالے کھل گئے تو راڈرک نے کہا۔
”میں اندر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم میں سے کوئی واپس جانا چاہے تو جا سکتا ہے“
کہتے کہتے راڈرک نے قدم پھاٹک کے اندر رکھ دیئے۔ اس کے پیچھے اس کا پورا قافلہ بھی اندر داخل ہو گیا۔ اندر گھپ اندھیرا تھا۔ کچھ دیر بعد جب انکی آنکھیں ذرا دیکھنے لائق ہو ئیں تو راڈرک کو محسوس ہوا کہ یہ ایک کمرہ ہے جس کے دو طرف دروازے ہیں۔ جس طرف کے دروازے پر ہلکی روشنی دکھائی دے رہی تھی راڈرک اور اس کا قافلہ اسی طرف بڑھ چلا۔ ابھی وہ دروازے سے کچھ دور تھا کہ ایک دم کمرہ روشنی سے نہا اٹھا۔ سبھی حواس باختہ ہو کر دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔
راڈرک کی نگاہ اچانک دروازے کی طرف اٹھی تو اس کی چیخ نکلتے نکلتے بچی۔ دروازے پر ایک گرز بردار مجسمہ نصب تھا۔ جس کے منھ سے بار بار یہ تنبیہ ہو رہی تھی۔
”خبردار۔۔۔۔۔۔۔اندر جانے والا تباہ و برباد ہو گا۔۔۔۔۔۔۔میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں“
اس مجسمہ کے ہاتھ میں بڑا سا فولادی گرز تھا۔ راڈرک اور اس کے قافلے نے نہایت خوف کے عالم میں دیکھا کہ مجسمہ کے ہاتھ میں تھما گرز بار بار زمین پر گررہا تھا جس سے ہیبت ناک آواز نکل رہی تھی راڈرک نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہویے زور سے کہا۔
”میں کسی بری نیت سے اندر نہیں جا رہا ہوں۔۔۔۔میں یہاں کا بادشاہ ہوں۔مجھے اندر جانے دو۔“
راڈرک کی آواز نے جادو کا سا اثر کیا۔ مجسمہ کے ہاتھ کا اوپر نیچے ہوتا گرز ٹھہر گیا۔ خبردار کی آوازیں بھی آنی بند ہو گیں۔ مجسمہ میں گھر گھر اہٹ ہوئی اور وہ اپنے پیروں پر ہی گھوم کر ٹھیک راڈرک کے سامنے رک گیا۔ اسکی دہشت ناک آنکھیں راڈرک پر مرکوز تھیں جسیے کہ وہ راڈرک کے بادشاہ ہونے کی تصدیق کرنا چاہتی ہوں۔ اچانک مجسمہ نے راستہ خالی کر دیا۔
راڈرک کا قافلہ دروازہ پار کر گیا۔ اندر پر طرف جادو بکھرا پڑاتھا۔ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ہیرے جواہرات کے ڈھیر لگے تھے۔ ان کی آنکھیں ہیروں کی چکا چوندھ سے چندھیاگئیں۔ راڈرک کے قافلے میں شامل لوگ ہیرے جواہرات پر للچائی نگاہیں ڈالنے لگے۔ ان ہیرے جواہرات کے ڈھیروں کے بیچ و بیچ ہر قل اعظم کی نصب کردہ میز رکھی تھی۔ میز پر ہیرے جڑاؤ ایک صندوق پہ رکھا تھا۔ راڈرک ڈرتے ڈراتے اس صندوقچے کے قریب پہنچا۔ اس نے صندوقچہ کا قفل کھولا اور ڈھکن اٹھا دیا۔ یہاں ایک اور حیرت انکی منتظر تھی۔ صندوقچے کے اندر ایک گڈے نما بت کھڑا تھا۔ اچانک اس بت کے اندر سے آواز آئی۔
”اس صندوقچہ میں طلسم کا راز ہے اسے بادشاہ کے علاوہ کوئی اور تلاش نہیں کر سکتا۔۔۔اور بادشاہ بھی سن لے۔۔۔۔۔۔۔اسے خبردار رہنا چاہیے کہ جو کچھ اس پر ظاہر ہوگا وہ اس کی موت سے پہلے پہلے ضرور ہو کر رہے گا“
راڈرک کے وزیر اور دوسرے لوگوں نے جب یہ سنا تو انکے چہرے فق ہو گئے۔ انہوں نے بادشاہ سے لوٹ چلنے کا اصرار کیا۔ مگر بادشاہ کہاں ماننے والا تھا۔ اس نے صندوقچے کے اندرہاتھ ڈالا ایک قدیم پیپرس کا غذ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس پر چندگساروں اور جلی ہوئی کشتیوں کی تصویریں نقش تھیں۔
بت کے اندر سے پھر آواز آئی۔
”اونا فرمان بادشاہ۔۔۔۔۔۔۔دیکھ۔۔۔۔۔۔۔غور سے دیکھ۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی وحدانیت کا اقرار کر چکے ہیں اور ظالموں کا صفایاکر نے سر سے کفن باندھ کر نکل چکے ہیں۔
راڈرک کی نگاہیں پیپرس کاغذ پر جم گئیں۔ اس نے بہ غور تصویروں کودیکھا اور انہیں پہچاننے کی کوشش کی۔تبھی یوں لگا جیسے وہ تصویریں نہیں کوئی چلتی پھرتی دنیا دیکھ رہا ہے۔ تبھی روشنی دھند لانے لگی اور اس دھند لکے میں اسے مدھم سا منظر نظر آنے لگا۔جو دھیرے دھیرے صاف ہونے لگا۔تصویر وں میں نقش لوگ حرکت میں آچکے تھے۔ پیپرس کاغذ جنگ کے میدان میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ایک طرف صافہ باندھے لوگوں کی جماعت تھی تو دوسرے فریقین کے گلوں میں کراس لٹک رہے تھے پھر گھوڑوں کے دوڑنے اور ہتھاروں کے چلنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ تلواریں اور گرز چمکنے لگے ہر طرف حشر برپا دکھائی دے رہا تھا۔منظر بدلتے رہے کب تک یہ سلسلہ جاری رہا کوئی نہیں جان سکا سارا قافلہ مبہوت تھا اور اب جو منظر سامنے تھا اس میں صافہ باندھے لوگوں کے لشکر نے طارق ؔ زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دئے تھے۔ دوسرالشکر منتشر ہو گیا تھا۔ ان کا سردار جس نے سر پر شاہی تاج پہن رکھا تھا گھوڑے کو تیز تیز بھگائے لئے جا رہا تھا۔ طارقؔ کا لشکر اس کے پیچھے تھا۔ بھاگتے بھاگتے وہ گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑا اور تبھی سارے منظر غائب ہو گئے۔
بادشاہ راڈرک اور اس کے کافلے پر اس بری طرح خوف طاری ہوا کہ وہ وہاں سے اندھا دھند باہر کی طرف بھاگے کسی نے بھی ہیرے جواہرات کی طرف نہیں دیکھا جو کہ اب سلگتے انگارے بن گئے تھے۔ وہ جیسے ہی کمرے کے اندر داخل ہوئے تو ایک اور حیرت ان کی منتظر تھی۔ گرز بردار پہریدار غائب تھا۔بدحواسی کے عالم میں وہ یہاں سے بھاگ کر پھاٹک کے باہر آئے جہاں انکے گھوڑے کھڑے ہوئے تھے۔ یہاں ایک دوسری حیرت سے ان کا سامنا ہوا۔ اس پر اسرار عمارت کے رکھوالے دونوں بوڑھوں کی لاشیں پھاٹک پر پڑی ہوئی تھیں۔ بادشاہ نے وقت گنوانا بہتر نہیں سمجھا اور فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ وہ بھاگتا چلا جا رہا تھا بھاگتا چلا جا رہا تھا۔بھاگتے بھاگتے جب اسے احساس ہوا کہ قافلے کے گھوڑوں کی ٹاپیں اس کے پیچھے نہیں آرہی ہیں۔ تو اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔۔۔اس نے دیکھا پہاڑی پر ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔پتھر آگ کی شدت سے چٹخ رہے ہیں اور اوچھل اوچھل کر اِدھر اُدھر لڑھک رہے ہیں۔ اسکا قافلہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔مارِخوف راڈرک کے ماتھے پر پسینہ چھلک آیا۔ اس نے گھوڑے کو مزید ایڑ لگائی اور گھوڑا سرپٹ دوڑنے لگا۔۔۔۔۔بھاگتے بھاگتے وہ میلوں کا سفر طے کر چکا تھا لیکن اس کا محل اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ دوڑتا رہا دوڑتا رہا۔۔۔۔۔۔اور اچانک اس کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی۔۔۔۔۔۔۔راڈرک ایک چیخ مارتا ہوا زمین پر گر پڑا۔
(ختم)
انجینیر محمد فرقان سنبھلی
دیپا سرائے چوک سنبھل
یو پی۔244302
موبائل:09568860786
ای میل:f.sambhli@gmail.com