ایک زندہ کہانی : نورالحسنین
ایک زندہ کہانی
نورالحسنین
وہ آج بھی اسی طرح میرے کمرے میں میرے مقابل بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا، تاریکی آسمانوں سے اُتر رہی تھی اور ٹریفک کا شور کم ہوتا جارہا تھا۔ میں پلنگ پر نیم دراز ہوگیا تو وہ اپنی کرسی کھسکا کر میرے اور بھی قریب آگیا اور پھر حسب معمول اُس کے ہاتھ میرے پیروں کو دبانے لگے۔ میں نے اُس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ اب بھی اسی طرح بھولا بھالا اور معصوم نظر آرہا تھا لیکن میں نے اُسے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اُن دنوں جب وہ بہت چھوٹا تھا وہ ہمک ہمک کر میری طرف بڑھتا اور میں اُسے دانٹ ڈپٹ کر دور کر دیتا وہ چاہتا تھا کہ میں اُس سے باتیں کروں …….لیکن اس سے باتیں کرنا تو کُجا میں نے تو کھلے دل سے لپٹا کر کبھی اُسے پیار بھی نہیں کیا۔ وہ مچلتا، بلبلاتا اور میں اُسے اُسی طرح چھوڑ کر اپنے بلڈاگ کی زنجیر تھامے نکل جاتا،سچ پوچھو تو وہ میرے لیے کبھی اہم رہا ہی نہیں لیکن وہ آج بھی اُسی طرح مجھے پیار کرتا ہے ……ہمک ہمک کر ……
ایک سرد آہ میرے وجود سے نکلی اور میں نے اپنے آپ کو بہلانے کی خاطر ریکٹ میں سے ایک تازہ رسالہ اُٹھایا اور ورق گردانی کرنے لگا۔
” بابوجی ….. آپ نے کئی برسوں سے کوئی کہانی نہیں لکھی۔؟“
میں نے رسالہ واپس ریکٹ میں پھینک دیا اور اس کی طرف دیکھا۔
ایک زندہ کہانی اُس کی آنکھوں میں کسی پکے ہوئے پھل کی طرح جھول رہی تھی ……میں نے نظریں نیچی کر لیں۔
” بابوجی …….کیا آپ بھی کہانی پر اُٹھائے گئے سوالات سے خوف زدہ ہیں۔ اور اس لیے آپ نے بھی …..؟“
” میں نے ہمیشہ کہانی لکھی ہے ……“میری آواز قدرے اونچی ہوگئی اور وہ گھبرا گیا، ” آج جن مسلوں پر بحث ہورہی ہے وہ میرے لیے بے سود ہیں۔“
”تو پھر …….؟“
میں خاموش ہوگیا۔ اس نے ایک لمحہ میرے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر چپ چاپ پاؤں دبانے لگ گیا۔
میں نے ایک بار پھر ریکٹ میں رکھی ہوئی اپنی بے شمار کتابوں کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا۔ اتنی جلدی بھلادیا کم بختوں نے مجھے، صرف دس برسوں کی غیر حاضری نے میرا نام، میری شہرت، میری عظمت، سب کچھ فراموش کر دیا۔؟ یہاں تک کہ اب کسی تنقید کے حوالے میں میرا نام تک ٹانکا نہیں جاتا۔ اتنا غیر اہم تو نہیں ہوں میں۔؟ اور وہ …… وہ نومولود افسانہ نگار میرے سامنے سینہ پھلا کر چلنے لگے ہیں۔ کم بخت ایسی کہانیوں پر اتراتے ہیں جنھیں اگر نا بھی لکھا جاتا تو ادب کا کوئی نقصان نہ ہوتا۔ارے میں آج بھی کہانی لکھوں گا تو اُن سے دس
برس آگے کی کہانی لکھوں گا ….. لیکن میں محض ضد میں کیوں لکھوں۔؟ جس شخص نے ساری زندگی اپنے ہی طئے کردہ موضوعات پر کہانیاں لکھی ہوں وہ بھلا طیش میں آکر کیوں قلم اُٹھائے گا …….؟ میں اپنے آپ سے اُلجھنے لگا …….کتنا اطمینان تھا مجھے کہ ادب میں اب میری عظمت کو کوئی چیلینج نہیں کر سکتا۔ میں نے دیا بھی تو بہت کچھ …….. اور شاید یہی وہ اطمینان تھا جس نے ایک روز مجھے مشورہ دیا تھا کہ اب اگر میں ایک حرف بھی نہ لکھوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چنانچہ میں نے ادب سے ریٹائرٹمنٹ کا اعلان کردیا۔کتنی بڑی غلط فہمی تھی مجھے …… میں سمجھتا تھا کہ میرا یہ اعلان موضوعِ بحث بن جائے گا۔ ادبی حلقوں میں ہنگامہ بر پا ہوجائے گا۔ احتجاجی خطوط آئیں گے۔ رسائل وہ اخبارات میرے ریٹائرٹمنٹ پر واویلا مچائیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ اُلٹا یار دوستوں نے میرے اس اقدام کو سراہا، تعریفیں کیں، اور مجھے مبارک بادی کے تار بھیجے ……تب مجھے پتہ چلا کہ ادب کا سفر اور اُس کا مسافر کیا ہوتا ہے۔ اس احساس کے ساتھ ہی میں اندر سے ٹوٹ پھوٹ گیا۔ کئی بار طبیعت چاہی کہ اپنی قسم واپس لے لوں، لیکن ہمت نہ کر سکا اور آج اپنی ہی قید اپنی زندگی کاٹ رہا ہوں۔
میں اپنی ہی سوچوں میں اُلجھ رہا تھا اور وہ چپ چاپ میرے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ اچانک مجھے ہوش آیا کہ رات بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا، وہ بڑے خلوص سے میری خدمت کیے جارہا تھا۔
” اب بس بھی کرو……اور جاؤ ……تمہاری بیوی تمہارا انتظار کر رہی ہوگی۔؟“
” وہ فورااُٹھ کھڑا ہوا جیسے اسے بھی اسی جملے کا انتظار تھا۔ اُس نے میرے پائنتی سے کمبل کھینچی اور پھر اُسے میرے جسم پر ڈالتے ہوئے بولا، ” بابوجی ……لائٹ بھی آف کردوں …….؟“
” نہیں …….آج میں نئی نسل کو پڑھوں گا۔“ لیکن یہ جملہ میری زبان سے نہ نکل سکا اس کے بجائے میں نے کہا، ”تم جاؤ …… میں خود ہی آف کرلوں گا۔“
وہ فوراکمرے سے باہر نکل گیا۔ دروازے کھلے ہوئے تھے۔ اس کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ اچانک مجھے احساس ہوا جیسے وہ مجھ سے دور نہیں بلکہ اور بھی قریب ہوتا جارہا ہے۔ میں تڑپ کر اُٹھ بیٹھا اور فورااپنے کمرے دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے لگا۔ مجھے اس کے قدموں کی دھمک میں اپنی شکست کا احساس ہونے لگا اُس کے قدم جیسے جیسے مجھ سے دور ہوتے جارہے تھے اُن کی چاپ لفظوں کا جامہ پہن کر مجھ سے سرگوشیاں کرنے لگیں تھیں۔ میں فوراپلنگ پر دراز ہو گیا۔ آنکھیں بند کرلیں اور کانوں پر ہاتھ رکھ لیے …… اب میری آنکھوں میں وہی گھنا اندھیرا تھا اور اوپر اُسی تیز روشنی کے ساتھ بلب جل رہا تھا۔
” یہ لائٹ کس نے آف کر دی …..؟“
میں غصّے سے پلٹا تو اندھیرے نے سرگوشی کی ، ” میں نے ……. اس گھر میں میں بھی رہتی ہوں …… ایک زندہ کہانی …… لیکن کبھی تم نے پوچھا کہ مجھے کیا چاہیے۔؟“
” دیکھو …….اس وقت میں ایک بہت ہی اہم کہانی لکھ رہا ہوں ……!“ میں نے دوبارہ لائٹ آن کیا۔ وہ شب خوابی کے لباس میں بال کھولے کھڑی تھی۔ نیند سے بوجھل اُس کی آنکھوں میں عجیب خمار تھا۔ ایک لمحے کے لیے میرے بدن میں بھی ہلچل پیدا ہوئی
اور ممکن تھا کہ میں اپنے سامنے بکھرے ہوئے کاغذات کو سمیٹ لیتا لیکن کہانی کا کلائمکس بیچ میں آگیا اور میں نے اپنی نظریں پھر ایک بار اُن بے جان کاغذوں پر مرکوز کر دیں اور قلم کو تیزی سے چلانے لگا۔
وہ قہقہہ مار کر ہنسی۔
میں نے قلم کی رفتار اور تیز کردی…….
” میں کہتی ہوں ……….اب بس بھی کرو۔ میں اس دو ٹکے کی کہانی سے کہیں زیادہ اہم ہوں۔“
” تم ……..؟“ میرے چہرے پر طنز اُبھر آیا، ” میری کہانی عورت کی کمزور شخصیت نہیں بلکہ اس کائنات میں اُلجھی فکری بساط کا وہ رزمیہ ہے۔ جس کا اور اور چھور کوئی نہیں جانتا …………“
” اچھا………..؟“ وہ میرے مقابل آکر بیٹھ گئی اور میری آنکھوں سے میرے دماغ میں رینگنے والی کہانی کا جائزہ لینے لگی۔ میری کہانی شرماکر ذہن کے پردوں میں کہیں چھپ گئی۔ اُس کے چہرے پر بھی طنز اُبھر آیا اور میں جلدی جلدی اس کہانی کو سمیٹنے لگا لیکن سرا ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ میں اپنے آپ میں اُلجھنے لگا اور وہ مجھے بُری طرح گھورنے لگی۔ میں نے قلم کو ایک بار پھر کاغذ کی سطح پر رکھا لیکن وہ کسی ذبح کیے ہوئے مرغ کی طرح گردن لٹکا کر میری اُنگلیوں میں جھول گیا۔ میں نے بیزاری سے نظریں اوپر کیں۔ اُس کی زلفیں شانوں سے ڈھل کر زمین پر آچکی تھیں۔ اُس نے میری طرف نیم باز نظروں سے دیکھا …….. ” کیوں زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کر رہے ہو ………؟ مجھے اب نیند آنے لگی ہے۔“
میں نے غصّے سے قلم کو دھکا دیا تو وہ بے معنی جملوں کو جنم دینے لگا۔
” کوئی فائدہ نہیں …… کب تک یونہی لکھ لکھ کر کاٹتے رہوگے۔؟“
” تم خدا کے لیے جاؤ یہاں سے …….. اور سوجاؤ ……..“
” اور تم۔؟“ اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے نظریں چرالیں اور اپنی لکھی ہوئی تحریر کو دوبارہ پڑھنے لگا اور وہ ناراضگی سے بڑبڑاتی ہوئی واپس چلی گئی۔
میں پھر ایک بار اپنی کہانی کے تانوں بانوں میں اُلجھ گیا۔
صبح کہانی کے ادھورے کلائمکس کے ساتھ جب میں بیدار ہوا تو میرا بیٹا میرے لکھے ہوئے کاغذات سے ایک زبردست بحری بیڑہ آنگن کے حوض تیار کر چکا تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگی مشقیں کر رہا تھا۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں غصّے سے دھاڑا تو میری بیوی میرے مقابل آکر کھڑی ہوگئی۔ اُس نے ایک لمحہ میری کیفیت کا جائزہ لیا اور پھر اس کے لبوں پرطنز پھیل گیا۔، ”تمہاری کہانی کے ذریعہ کوئی سماجی بیداری تو پیدا ہونے والی نہیں تھی ……..شکر کرو کہ کم از کم ایک معصوم کے چہرے پر مسکراہٹ تو کِھل اُٹھی۔“
میرا دل بے اختیار چاہا کہ بِلّو کو خوب سزا دوں، لیکن میں بیوی سے اُلجھ گیا، ” سماجی مقصدیت کا عامیانہ اظہار تو عام انسان یا صحافی یا پھر سیاسی لیڈران کرتے ہیں۔ میں ایک ادیب ہوں۔“
” اور تمہارے ادب کا مقصد ……..؟
”کم از کم تم جیسے جاہلوں کی نمائندگی نہ کرے۔“
” جو ادب سماج سے کٹ کر لکھا جاتا ہے وہ محض لفاظی ہوتا ہے۔“
” اور جو ادب تمہاری طرح کے جمِ غفیر کے لیے لکھا جاتا ہے وہ ادب نہیں ہوتا بلکہ ادب کے نام پر مذاق ہوتا ہے۔“
” کاش ایسا مذاق کبھی تم بھی کرتے۔“
” میں اپنے عہد کا ایک ذمّہ دار افسانہ نگار ہوں۔ میرا مذاق بھی سمجھنے کے لیے تمہیں دوسرا جنم لینا پڑے گا۔“
”تمہارے ادب کو کوئی ایک بار ہی پڑھ لے یہی بہت ہوگا۔ اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ اسے سمجھنے کی حاطر کوئی دوسرا جنم بھی لے گا۔“ اور پھر وہ ہمیشہ کی طرح پیر پٹختی ہوئی میرے سامنے سے نکل گئی۔ میں نے ٹیلی وژن کا بٹن آن کیا۔ چھوٹے اسکرین پر بھی ھنگامہ تھا
”ارے بھی کیوں ہنگامہ کر رہے ہو۔؟ اٹھ گیا ہوں ………“ میں نے سر سے کمبل کھینچا لائٹ ابھی تک اُسی طرح جل رہی تھی۔ میں نے فورااُسے آف کیا اور دروازہ کھول دیا ……. میرے سامنے میرا بیٹا نہایت مودب کھڑا تھا۔
” بابوجی آج آپ نے اُٹھنے میں بڑی دیر کردی …….. انجنا کے اسکول کو دیر ہو رہی تھی۔ وہ تو چلی گئی اور……“
” تو تم بھی چلے جاؤ…….میرا کیا ہے …….؟ “ میں نے بہت ہی دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ وہ سٹپٹا گیا، ” آپ کا ناشتہ میز پر لگا دیا ہے …….“
” بہت بہت شکریہ۔“ میرا لہجہ معمول کے مطابق ہو گیا۔ وہ صدر دروازے کی طرف بڑھا اور میں ماچس اور سگریٹ کی ڈبیا کو تلاش کرنے لگا۔
میرے بدن پر شاور سے گرم پانی گر رہا تھا۔ مجھے عجیب سی لذّت محسوس ہو رہی تھی۔ طبعیت بے احتیار چاہی کہ اسی طرح بیٹھا رہوں ……… اور پھر شاید میں بہت دیر تک یونہی بیٹھا رہا۔
” آپ آخر جھاواں کیوں نہیں رگڑتے۔؟“
” تم اگر رگڑ دوگی تو ……..؟“
جھاواں میری پیٹھ پر گدگُدیاں کرنے لگا۔
” کیسا لگتا ہے ………؟“
” بہت اچھا ………تم رگڑتی ہو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔“
” لیکن تمہاری کسی کہانی میں ایسی گد گدی نظر نہیں آتی۔؟ آخر تم کب تک کاغذ کی سطح کو عقاب کی چونچوں سے زخمی کرتے رہوگے ………،“ اور پھر وہ کھلکھلاکر ہنس پڑی۔
میں نے کچھ کہنا چاہا، لیکن گرم پانی کے شاور کے نیچے میرے سارے ہی الفاظ گونگے ہوگئے ……
ناشتے سے فارغ ہوکر میں باہر نکلا تو چوراہے پر مجھے نومولود افسانہ نگاروں کی ٹولی نظر آئی۔ میں نے اپنا راستہ بدل دیا لیکن دوسرے ہی لمحے مجھے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں رُک گیا۔ پلٹ کر دیکھا۔ وہی لوگ تھے۔ میرے چہرے پر بیزارگی چھاگئی۔
” جناب ادب سے ریٹائرٹمنٹ کے بعد بھی آپ کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی …….؟“
” ارے کمال کرتے ہو تم بھی …..بھیّا جب تک یہ لکھتے تھے آدم بیزار تھے اور اب لکھنا چھوڑ دیا تو ادب بیزار ہوگئے۔“
میں نے اُنھیں اور ان کے سوالوں کی طرف حقارت سے دیکھا اور جونہی قدم اُٹھایا قہقہے گونج اُٹھے۔
” ضائع ہو گیا بیچارہ …… اتنا کچھ لکھا، لیکن ادب کے بدلتے ہوئے رُجحانات نے سب پر پانی پھیر دیا ……. اب گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے۔“ پتہ نہیں کس نے بھپتی کسی تھی …….. آواز میرے اندر سے اُٹھی تھی یا میرے کانوں میں اوپر سے پہنچی تھی، میں فیصلہ نہ کر سکا۔اور تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا قریبی ہوٹل میں داخل ہوگیا ……. وہاں بھی کچھ نئے ادیب و شاعر بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن کے سامنے تازہ اخبار پھیلا ہوا تھا، اور غالبا اس میں چھپی کسی نظم پر زبردست بحث ہو رہی تھی۔ میرے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ دوڑ گئی……. جو نسل اخبارات میں چھپ کر ہی اپنے آپ کو عہد آفرین سمجھنے لگتی ہے اور مقامی تبصروں پر ایمان لے آتی ہے۔ وہ ادب کے کون سے نئے گوشے وا کر سکتی ہے۔؟ ادب کتنی ٹیڑی کھیر ہے اس کا اُنھیں اندازہ ہی نہیں ہے۔ میں نے ادب کے ساتھ ایک لمبی عمر تک نباہ کیا ہے۔ کیسے کیسے تجربے کیے ہیں۔۔ زبان کی سطح پر، اسلوب کی سطح پر کرداروں کی سطح پر ……. وہ میں ہی جانتا ہوں۔ لس نے کہانی کو روایت سے نکال کر جدیدیت کے مزاج سے آشنا کیا۔ لفظوں کی معنوی سطح قائم کی، علامت، تمثیل، استعاروں کے دروازے کھولے۔ اپنی راتوں کی نیندوں کو حرام کیا۔ فرحت بخش لمحات کا گلا گھونٹا۔ فن کے اعتبار کو حاصل کرنے کی خاطر اپنے اور بیگانوں کے اعتبار سے ہاتھ دھویا۔ بیوی کے طنز کے نشتر برداشت کیے۔ اپنے سکون کو غارت کیا۔ حد یہ کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی داؤ پر لگادیا ……. لیکن ادب نے مجھے پھر بھی کیا دیا ………؟ البتہ آج بھی میرا بیٹا میری خدمت اُسی خلوص اور محبت سے کرتا ہے ……… لیکن میں نے اُسے کیا دیا؟ کچھ بھی نہیں …….. کتنی بار ایسا ہوا کہ وہ اپنی توتلی زبان سے مجھے رجھانا چاہتا تھا اور میں نے اُسے ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کر دیا۔ اُسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا باپ جو گھر کی چار دیواری میں اس کی خاطر محبت کے دو بول نہیں کہہ سکتا تھا کاغذ پر کس فراغ دلی سے امرت بانٹتا ہے۔ وہ ہمک ہمک کر میری طرف آتا اور میری پھٹکار سن کر لوٹ جاتا۔ رفتہ رفتہ اس کے اور میرے درمیان اجنبیت کی ایک دیوار کھڑی ہوگئی اور وہ زیادہ تر اپنی ماں کے پاس ہی رہنے لگ
۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ وہ اپنی کوئی بات کہنے کی خاطر بے تابانہ دوڑتا ہوا میری طرف آتا اور جونہی ہماری نظریں چار ہوتیں وہ سب کچھ بھول جاتا۔ ایسے وقت اس کی حالت دیکھنے کے لائق ہوتی ……. وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگتا اور پھر ملول سا لوٹ جاتا۔
میرے روئیے نے میری بیوی کو بھی میرا شاکی کر دیا تھا۔ وہ بات بات پر مجھ سے اُلجھنے لگتی۔ طنز کے تیر چلاتی۔ بد زبانی کرتی۔ میرا مذاق اُڑاتی۔ بار بار مائیکے جاکر بیٹھ جاتی۔ میرے دوستوں اور رشتہ داروں میں میری برائیاں کرتی لیکن میں نے پرواہ ہی نہیں کی ….. میں سمجھتا تھا کہ میں ان سب باتوں سے بہت بلند ہوں۔ میرا ادب میرے لیے آبِ حیات ثابت ہوگا اور آبِ حیات کی خاطر مجھے سب کچھ تیاگ دینا چاہیے۔
اور میں نے بہت کچھ تیاگا بھی …… لیکن یہ نئی نسل، سہل پسند، ناقدین کے طئے کردہ راستوں پر سفر کرکے اپنے آپ کو بڑا فنکار سمجھنے لگی ہے۔ کہانی پن کو صرف بیانیہ سمجھ رہی ہے اور بیانیے کو افسانہ کا اصلی جوہر ……بھلا سپاٹ بیانیہ کبھی اپنی وقعت حاصل کر سکے گا۔؟ میں نے اپنے آپ کو تسلی دی اور چائے کے گھونٹ حلق سے نیچے اُتارنے لگا۔ میرے چاروں طرف گرم گرم بھاپ پھیل رہی تھی۔
حسب معمول شام کو میں اپنے کمرے میں تھا۔ تاریکی آسمانوں سے اُترنے لگی تھی۔ میرے کمرے کے سارے ہی دروازے اور کھڑکیاں کھلے ہوئے تھے۔ میں چپ چاپ بیٹھا دور تک جاتی ہوئی سڑک کی اُداسیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک میرے کانوں سے بِلو کی آوازیں ٹکرائیں، ” نہیں انجنا ……میرا باپ اس قابل نہیں ہے کہ اُس سے محبت کا برتاؤ کیا جائے …… تم نہیں جانتیں …..میری ماں نے اپنی زندگی کا ایک ایک پل کیسے بتایا ہے، لیکن بحیثیت ادیب اُن کا مقام بہت بلند ہے۔ ممکن ہے یہ دھائی اُنھیں فراموش کر رہی ہو۔۔ لیکن تم دیکھنا جب بھی ادب کا کوئی صحیح ناقد پیدا ہوگا، میرے باپ پر زبان بھی فخر کرے گی ……..“
” اور تم …….؟“
” میں …….میں تو اپنے بابوجی کے نزدیک ہمیشہ ہی وہ بے معنی لفظ رہا ہوں جسے ان کے قلم نے یونہی لکھ دیا تھا ……“ اس کی آواز بھراگئی تھی …….. نہیں شاید میں بھرا گیا تھا۔ مندگی میں پہلی بار کسی بے معنی تحریر کے بامعنی ہونے پر مجھے سوچنا پڑا تھا۔ بے اختیار میری طبعیت چاہی کہ اپنی ساری ہی کتابوں کو آگ لگا دوں اور دوڑتا ہوا جاکر اُسے اپنے سینے سے لگالوں ……. اُسے اتنا چوموں کہ ماضی تا حال سارے ہی فاصلے طئے ہوجائیں ……. میری آنکھیں بھیگ گئیں ……اور میں بے چینی کے عالم میں ٹہلنے لگا ……
وہ حسب معمول میرے کمرے میں داخل ہوا۔ میں نے فورااپنی آنکھیں خشک کر لیں اور چپ چاپ پلنگ پر لیٹ گیا۔ وہ کرسی کھسکا کر میرے قریب آگیا اور پھر ہمیشہ کی طرح اس کے ہاتھ میرے پیروں کو دبانے لگے۔ میں نے اس سے کچھ نہیں کہا اور چپ چاپ اس کے چہرے کو تکنے لگا۔ اُس نے گردن اُٹھائی تو مجھے پھر ایک بار اُس کی آنکھوں میں وہی بے چین زندہ کہانی کسی پکے ہوئے پھل کی طرح جھولتی ہوئی نظر آئی۔ اچانک میرے تخلیقی سوتے جاگ اُٹھے اور میں اُٹھ بیٹھا اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔ اُس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں بولا، ” بِلو…….. ٹیبل پر کاغذات اور قلم رکھ دو۔میں آج اس کہانی کو لکھنا چاہتا ہوں جس کی خاطر یہ کائنات پیدا کی گئی ہے۔ میں اُ سے دیوانوں کی طرح آفاق میں ڈھونڈھتا رہا اور وہ زمین پر بکھری ہوئی تھی۔ میرے قدموں سے لپٹی ہوئی تھی لیکن میں اُسے پہچان نہ سکا ………آج جب میں نے اپنے درد سے بلند ہوکر اور اپنے وجود کو سمیٹ کرتمہاری آنکھوں میں جھانکا تو وہ مجھے نظر آگئی۔وہ تو تمہاری آنکھوں میں چھپی بیٹھی تھی۔۔۔ میں پھر سے لکھنا چاہتا ہوں ……… کم از کم ایک زندہ کہانی ………“
بِلو کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور اس کے ہاتھ پہلی بار میرے پیروں سے بلند ہوکر میرے گلے میں حائل ہوگئے اور میں بے احتیار اُس کے ماتھے کو چومنے لگا۔
٭٭٭٭٭
تمام شد
چیخ….گلفشاں شبّیر : CHIKH : GULFASHAN SHABBIR
افسانہ
گلفشاں شبّیر
چیخ……..
٭ وہ ایک چیخ تھی …….
ایک ایسی چیخ کہ جس کی بازگشت اور اُس کی گونج آج بھی میرے کا نوں میں گونج رہی ہے وہ میری زندگی کا ایک ایسا سانحہ تھا جسے میں شاید ہی بھول پاؤں ……
رات بھر موسلا دھار بارش ہو تی رہی تھی صبح بستر سے اُٹھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔جنوری کامہینہ اور یہ با رش، دل چا ہ رہا تھا گرما گرم کافی پیتا رہوں اور بستر سے لپٹا رہوں میں نے جب گھڑی پر نگاہ ڈالی تو دیکھا صبح کے نو بج چُکے تھے اور کھڑکی کے باہر سے ہلکی ہلکی دھوپ نظر آ رہی تھی میں اُٹھا اور ٹیرس پر آگیا میری نظر سامنے پارک پر پڑی،جہاں بلا کی ایک خو بصورت لڑکی تتلیوں سے کھیل رہی تھی گلابی گلابی اُس کے گال، گلاب کی پنکھڑیوں سے اُس کے عنابی ہونٹ، سُنہرے بال اور بڑی بڑی نیلی جھیل سی بیکراں آنکھیں اور اُس کے چہرے کو بار بار چھوتی ہوئی اُس کی بالوں کی ایک ضدی لٹ اُس کے حُسن میں اور اضافہ کر رہی تھی اور میں اُسے دیکھتا ہی رہ گیا نہ جانے کیوں میں اُس لڑکی کی خو بصورتی پرمیں مر مٹا بلکہ یوں کہا جائے ایک ہی نظر میں مجھے اُس لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیااور جب میں نے اپنی نظر اُس کے پورے سراپے پرڈالی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی اُس لڑکی کے کپڑے سے ایسے لگ رہا تھا جیسے برسوں پُرانے ہیں اور کئی جگہ سے پھٹے بھی ہوئے ہیں جہاں سے جھانکتا ہوا اُس کا گورا گورا جسم………
نہ جانے کیوں میری آنکھیں اُس کے وجود پر ثبت ہو کر رہ گئیں …….یا پھر اس کی کشش مجھے خودبخود اس کے سحر میں مبتلا کرنے لگی تھی۔
اور جب میں اس سحر سے آزاد ہوا تو مجھے ایسا لگا شاید غُربت نے اُسے بے حال کردیا ہے یاواقعی یہ غریب گھرانے کی ہو لیکن میری نظراُس کے کپڑوں پر نہیں، اُس کی بے بسی پر نہیں اُس لڑکی پر ہی ٹکی رہی اُسے دیکھنے کے بعد میری ٹھنڈک بھی غائب ہو گی جیسے میرے اندر کوئی طوفان اُٹھنے لگا ہو…….
تھوڑی ہی دیر میں وہ وہاں سے چلی گئی اور میں کافی دیر تک اُسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور اُسی کے بارے میں سوچتا رہادوسرے دن پھر میں نے اُسے دیکھا اُس انجان لڑکی کے انتظار میں، میں پہلے سے ہی ٹیرس پر موجود تھا۔ آج وہ اُس پارک میں ایک پیڑ کے گول گول چکر لگا رہی تھی آج بھی اُس نے کل والا ہی کپڑا پہن رکھا تھا جو ڈوپٹے سے بے نیاز تھا۔ گول گول گھومنے کی وجہ سے اُس کے جسم کے نشیب و فراز تھرک رہے تھے۔ اور جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے کپڑوں سے جھانکتا ہوا اُس کا گورا گورا جسم اور اُس کے دلکش وجودکے مخصوص حصے کو کبھی روپوش اور کبھی عیاں کررہے تھے۔میں اُس کے اس کھیل سے حیران تھا مگر مجھے مزا بھی آرہا تھا وہ پیڑ کے چکر لگاتے لگاتے پیڑ کے نیچے بیٹھ گئی اور تھوری ہی دیر میں وہ پھر اُٹھی اور دوڑ کر سڑک پر آگئی اور محلے کی طرف جانے لگی……
میں نے اُسے آواز دی۔
” سُنیے ……“
اُس نے پلٹ کر میری طرف بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اُس نے کوئی جواب دیا میری بے چینی اور بھی بڑھ گئی۔
آج صبح جب وہ لڑکی مجھے نظر نہیں آئی تو میری بے چینیاں مجھ سے سوال کرنے لگیں اور میں خاموش تھا۔
آخر وہ کیوں نہیں آئی……؟
اور پھر میرے قدم خودبخود محلے کی طرف اُٹھ گئے اُن راستوں کی طرف جن راستوں سے میں نے اُسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
راستے بھر طرح طرح کے سوالوں میں گھرا خود سے ہی اُلجھتا رہا…… وہ پاس کے ہی محلے کی لڑکی تھی کئی گھر والوں سے میں نے پوچھا کسی نے کچھ نہیں بتایا بلکہ لوگ خاموشی سے میرا منھ تکنے لگتے یالوگ جان بوجھ کر اُس لڑکی کے بارے میں بتانا نہیں چاہتے تھے……. کیوں آخر کیا بات ہے۔
اُس لڑکی کے لئے میری چاہت اور زیادہ بڑھنے لگی میں نے ایک عورت سے کہا میں جلد سے جلد اُس لڑکی کے گھروالوں سے ملنا چاہتا ہوں تا کہ اُن لوگوں سے اس پیاری سی لڑکی کا ہاتھ مانگ سکوں۔
اُس عورت نے بلا جھجھک کہا تم پا گل ہو کیا …….؟
نہیں تو۔
دراصل میں اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں آپ اُس کے گھر کا پتہ بتادیں ….
وہ عورت مجھے حیرت سے دیکھنے لگی اور پھر کہاتم یہاں نئے آئے ہو کیا …..؟
میں نے کہا ہاں۔ میں یہاں گھومنے آیا ہوں۔
اس لئے تمہیں کچھ نہیں پتہ اُس عورت نے کہا تم اُس سے شادی کیسے کر سکتے ہو بلکہ کوئی بھی لڑکا اس لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔
لیکن کیوں۔؟میں نے اُ س عو رت سے کہا۔
وہ عورت مجھے اُس لڑکی کے گھر لے گئی لڑکی کا ٹوٹااور جلا ہواگھر تھا وہ لڑکی اپنے گھر میں ایک چار پائی پر لیٹی ہوئی تھی میں بہت حیران تھا جوان لڑکی اور اس طرح بالکل اکیلی اور ایسی حالت میں …. اس کے گھر والے کہاں ہیں۔؟میں نے اُس عورت سے پوچھا۔
اس عورت نے کہا وہ لوگ اب اس دُنیا میں نہیں رہے تم اس کی داستان سُن کر واپس چلے جاؤ گئے بابو۔
میں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اب میں اس کے بغیر واپس لوٹ جاؤں۔ بتائیں تو ایسی کیا بات ہے۔
اُس عورت نے کہا کچھ مہینے پہلے یہاں دہشت پھیلی ہوئی تھی دہشت گرد گھروں میں گھس کر لوٹ مچاتے اور لڑکیوں کی آبروکے ساتھ کھلواڑ کرتے ایک دن اُن لوگوں کی نظر اس لڑکی پر پڑی اور وہ لوگ ایک رات اس لڑکی کے گھر میں گھس کر بہت بد سلوکی کرنے لگے اس لڑکی کے ماں باپ نے اُسے بچانے کی بہت کوششیں کی لیکن خود کو بچا نہ سکے دہشت گردوں نے بہت بے مروتی کے ساتھ اُس لڑکی کے ماں باپ کو ایک کوٹھری میں بند کر کے اُس کوٹھری میں آگ لگاکراُنہیں زندہ جلنے پر مجبور کر دیا اور پھرلڑکی کو بے آبرو کیا دہشت گردوں نے اُس لڑکی کے ساتھ حوس کا ایک ایسا ننگا کھیل کھیلا کہ اس لڑکی کی عزت تار تار ہوگئی اور یہ صدمہ برداشت نہیں کرسکی اور پاگل ہوگئی۔
یہ لڑکی پاگل ہے، میری چیخ نکل گئی یہ اتنی پیاری لڑکی پاگل ہے۔؟
ہاں بابو۔
پاگل ہی نہیں یہ ماں بھی بنے والی ہے۔ اُس کالی رات کی دہشت گردی کا ہی پاپ ہے اس کی پیٹ میں اور جب یہ پیدا ہوگا اس محلے کی سر زمین میں تو دہشت گردی گلیوں گلیوں ننگی گھومے گی اب بتاو کیا تم کرو گئے اس لڑکی سے شادی۔؟
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور واپس آگیا۔
لیکن میرے اندراتنی بے چینی تھی کہ رات ٹہلتے ٹہلتے گز گئی…….
میں اُس لڑکی سے واقعی بے پناہ محبت کرنے لگا تھا اُ س کی ساری سچائی جاننے کے بعد بھی میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی بلکہ میری محبت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا اور میں اب بھی اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور صبح ہوتے ہی میں پھر اس کے محلے میں گیا اور اُس عورت سے ملا اور کہا میں اب بھی اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں لوگ حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ لیکن کسی نے کچھ نہیں کہا۔
اور ایک شام…….
میں نے اس لڑکی سے شادی کر لی اور اُسی محلے میں اُس لڑکی کے ساتھ ہی رہنے لگا….
وہ صرف اس لئے کہ میرا بھی اس دُنیا میں کوئی بھی نہیں تھا میں جاتا بھی تو کہاں جاتا میرے ماں باپ بھی شہر کے ایک فساد میں مارے گئے تھے اور میری زندگی بھی اُس رات کے بعد سے کالی اور سیاہ ہوگئی تھی۔ ویسے میں نے سُنا تھا کہ ہر رات کے بعد سویرا ہوتا ہے اور ورشا کو پاکر میری زندگی میں ایک سویرا ہی تو آگیاتھا جہاں سے میں نے اپنی زندگی میں ڈھیر ساری تبدیلیاں دیکھی تھیں۔ اور پھر میرے اس سفر میں جو بھی پریشانیاں حائل تھیں میں اُن تمام پریشانیوں سے ہر لمحہ لڑنے کے لئے تیار تھا۔
میں نے شہر کے مشہور سائیکیاٹرسٹ سے و رشاؔ کا علاج بھی شروع کروادیا تھا ایسے بھی وہ حمل سے تھی ورشا کے ساتھ ہوئے حادثے کی ساری داستان میں ڈاکٹر کو پہلے سُنا چکا تھا اور پھر ڈاکٹر نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ اس بچے کی پیدائش کے بعد یقین سے کہتا ہوں کہ ورشاٹھیک ہو جائے گی تھوڑا وقت ضرور لگے گا اور رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہو جائے گا اور ویسے بھی وقت ہر زخم کو مندمل کر دیتا ہے۔
لیکن لوگوں کی کچھ باتیں ہر روز میرے دل پر ایک نئے زخم کا اضافہ کرتی تھیں۔ میں جب بھی ورشا کو لے کر ڈاکٹر کے پاس جاتا اور وہاں سے لوٹتا تو میں یہ محسوس کرتا کہ محلے والے مجھے کن آنکھیوں سے دیکھ رہے ہیں اُس میں سے زیادہ تر آنکھیں لڑکیوں کی ہوتیں اور ان کن آنکھیوں کے ساتھ ان ہی لڑکیوں کی تیکھی تیکھی باتیں میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتیں ……
”ورشا تو پاگل تھی ہی اور دوسرا بھی اس کی محبت میں پاگل ہو گیا ہے ہم لوگ مر گئے تھے کیا…..؟ جو اس پاگل نے اس پاگل لڑکی سے شادی کر لی۔“
”ٹھیک ہی کہا ہے کسی نے کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔“
”یہ بھی کوئی محبت ہے۔؟“
”ہاں اسی کو اندھی محبت کہتے ہیں۔“
لوگوں کی تیکھی تیکھی باتیں میرے دل و دماغ پر نشتر چبھوتی رہیں …….
اور
اسی حالت میں ایک رات ورشا نے ایک پھول سی بیٹی کو جنم دیا بیٹی بالکل ورشا کی طرح پیاری تھی جسے وہ ہر وقت اپنے آغوش میں لئے رہتی تھی میں نے اس کے علاج میں کوئی کمی نہیں کی تھی لیکن کبھی فائدہ دکھائی بھی دیتا تھا اور کبھی نہیں بھی میں ہمیشہ یہی سوچا کرتا ورشا ٹھیک بھی ہو گی یا نہیں۔؟
دیکھتے ہی دیکھتے پنکی دوماہ کی ہوگئی تھی اور ان دنوں ورشا کے اندر بھی ڈھیر ساری تبدیلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میں نے سوچا کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئیں۔
بیٹی کی پیدائش کے بعد ورشا پہلے سے کہیں اور زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی۔
اور پھر ایک رات مجھ سے رہا نہیں گیا…..
وہ بے خبر بستر پر سوئی ہوئی تھی اور اُس کے پہلو میں پنکی بھی گہری نیند میں تھی میں بھی اُس کے دوسرے پہلو میں جاکر لیٹ گیا یہ پہلا اتفاق تھا کہ میں شادی کے بعد ورشا کے پہلو میں اس طرح سے لیٹا ہوا تھا میں اُسے اپنے وجود میں سمو لینا چاہتا تھا کہ اچانک وہ ایک چیخ کے ساتھ اُٹھی اور میری طرف نفرت کی نگاہ سے دیکھا اُس نے جب تک پنکی کو اپنی گود میں اُٹھا لیا تھا اور چیخ چیخ کہہ رہی تھی نہیں تم ایسا نہیں کرسکتے ……..
٭٭٭٭
گلفشاں شبّیر
جبِلَّت : ابوفہد
جبِلَّت
از ……ابوفہد
ایسا لگ رہاتھا جیسے ہر شخص ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔ جیسے سب کو ایک ہی ٹرین پکڑنی ہے یا جیسے بیک وقت سب کے نانا مر گئے ہیں اور انہیں مٹی میں شرکت کرنی ہے اور اس لیے ہر شخص کو جلدی ہے۔ جیسے شہر کے تمام مکانوں نے اپنے اپنے مکینوں کو بیک وقت روڈ پراُگل دیا ہے۔ جس طرح آتش فشاں اپنے پیٹ کی غلاظت اگلتا ہے اورپھرسب کو بیک وقت صدر بازار چوک کی طرف ہانک دیا ہے۔سائیکل رکشا، آٹو رکشا،کار، بس اورٹرک سے لے کر بڑی سے بڑی دیو ہیکل گاڑیوں تک جسے دیکھو وہ اِدھر ہی کومنہ اٹھائے چلی آرہی ہے۔چیختی چلاتی ہوئی اوربلا وجہ پُووووں پُووووں کرتی ہوئی۔
انہی جلد باز اورپریشان حال لوگوں میں سب انسپیکٹرجاویداختر بھی تھے۔وہ صدر بازارکی طرف جارہے تھے۔ مگر جب صدربازار کے چوک پر بے ہنگم ٹریفک میں پھنس گئے اور نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہ آئی تواپنی موٹر سائیکل کنارے لگائی اور محض جذبہ خیر سگالی کے طور پر ٹریفک کنٹرول کرنے لگے۔حالانکہ وہ جانتے تھے کہ بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے۔
اس چوک پر حکومت اور عوام کی پیدا کردہ مشکلات کراس (+)کا نشان بناتی تھیں بالکل اسی طرح، جس طرح شمال اور مشرق کی طرف سے آتی ہوئی خستہ حال سڑکیں ایک دوسری کو قطع کرتی ہوئی کراس کا نشان بنا رہی تھیں۔ یہاں حکومت کی طرف سے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا کچھ انتظام نہ تھا یہاں تک کہ ریڈ لائٹ بھی نہیں تھی اور عوام کے پاس اس مشکل کا سامنا کرنے کا کچھ ذریعہ نہ تھا یہاں تک راہ چلنے کے عام اصولوں کی پاسداری بھی گویا ان کی شانِ خانویت کے خلاف تھی۔اس طرح یہاں کی مشکلات دو طرفہ تھیں۔اور جب وہ صدر بازار کے اس چوک پر باہم ملتی تھیں تو کراس کا نشان بناتی تھیں۔شہر کے اس الگ تھلگ حصے کانام خان پور اس لیے رکھا گیا تھا کہ یہاں خان برادری بڑی تعداد میں آباد تھی۔
جاوید صاحب سول ڈریس میں تھے، اور پسینے میں شرابور ہورہے تھے۔ابتدا میں ان کی آواز دھیمی تھی، لہجہ نرم تھااور زبان پر شائشتہ الفاظ تھے۔ بھائی صاحب ذرا پیچھے ہوجاو، اس لاری کو نکلنے دو تھوڑا صبر کرو ایک منٹ،ایک منٹ …ہاں آپ آجاو۔ وہ اپنی طرح دار اور نستعلیق شخصیت کے فام میں رہنا چاہتے تھے۔جو ان کی عوامی پہچان تھی۔
جاوید صاحب جب چھٹی پر ہوتے تھے تو بالکل ہی الگ شخصیت کے مالک ہوتے تھے، نستعلیق اور طرح دار شخصیت کے مالک۔ لوگ یقین ہی نہیں کرپاتے تھے کہ یہ وہی جاوید صاحب ہیں جنہیں وہ تھانے میں گرجتے برستے سنا اور دیکھا کرتے ہیں۔انہوں نے اپنی شخصیت کو اِس طرح دولخت کرلیا تھا کہ ان کی شخصیت کے دونوں متضاد پہلو ایک دوسرے سے اسی طرح جدا رہتے تھے جس طرح ایک ہی سمندر میں کھارا اور میٹھا پانی ایک دوسرے بالکل جدا اور الگ رہتا ہے کہ یہ اُس میں شیرینی نہیں گھولتا اور وہ اِسے نمکین نہیں بناتا۔
تقریبا آدھاگھنٹہ گزر چکا تھا اور وہ ابھی تک اپنی شخصیت کے اسی پہلو سے کام چلا رہے تھے، دفعتاً ایک نوجوان لڑکے نے اپنی موٹر سائیکل آگے بڑھادی اور لاری کا راستہ رک گیا، لاری نے ابھی ایک دو قدم ہی بڑھائے تھے کہ اس لڑکے کی جلد بازی نے ایک بار پھر اس کا راستہ روک لیا۔ جاوید صاحب نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔ مگر لڑکے پر جیسے کچھ اثرہی نہ ہوا، وہ لا پرواہی کے ساتھ اسی جگہ پر کھڑاکاندھے اچکاتا رہا۔
جاویدصاحب اند رہی اندر تاو کھاکر رہ گئے، انہیں لگا کہ ان کی جون بدل رہی ہے، جیسے وہ اپنی تھانے والی جون میں آرہے ہوں۔ پر ایک دم انہیں خیال آیا کہ اِس وقت وہ تھانے میں نہیں ہیں اورنہ ہی ڈیوٹی پر ہیں، سو اپنی طرح داری اور نستعلیقیت کو باقی رکھنا ضروری ہے، انہوں نے غصہ تھوک دیا اور لڑکے کو جانے کی اجازت دیدی۔لڑکا بدستور اسی طرح بے پرواہ بنا ہوا تھا۔
”آپ آجائیں میڈم۔“جاوید صاحب لاری کو نکالنے کے بعد دوسری سمت میں سب سے آگے موجود ایک فربہ رو عورت سے مخاطب ہوئے۔ میڈم نے اسکوٹی اسٹارٹ کی، لبوں پر مسکان سجائی اور جاوید صاحب کے پہلو سے سن سے نکل گئیں۔انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی جام سے نکل سکیں گی مگر جاوید صاحب کی کوشش سے ایسا ممکن ہوگیا تھا۔ ایسے میں ایک مسکان تو بنتی تھی۔
اسکوٹی اسٹارٹ ہونے اور زن سے گزرجانے تک کا سارامنظر ابھی جاوید صاحب کی آنکھوں میں اپنی ڈوبتی ابھرتی کیفیت میں تھا کہ ان کے عقب سے ایک لمبی سی کالی ہونڈا سٹی نے دوسری طرف جمع بھیڑ کے اندر سے منہ چمکایا۔ جاوید صاحب اپنے عقب میں گاڑی کی آہٹ محسوس کرکے اس طرح پلٹے جس طرح کنفو ماسٹر عقب سے حملے کو روکنے کے لئے پلٹتا ہے۔جاوید صاحب نکلتے ہوئے قد کاٹھ کے مالک تھے۔اور ابھی ان کی عمر ہی کتنی تھی، یہی کوئی پینتیس، اڑتیس کے آس پاس رہی ہوگی۔ان کے جسم میں بلا کی پھرتی تھی، وہ اپنے شکار پر عقاب کی طرح گرتے تھے۔
کالی ہونڈا سٹی کی ڈرائیونگ سیٹ میں ہاتھی کے بچے جیسا ایک کالا بھجنگ آدمی اس طرح پھنسا ہوا تھا جیسے کوئی وھیل مچھلی ساحلی دلدل میں پھنس گئی ہو۔اس کے کالے، موٹے ہونٹوں کے درمیان اس کے دانت اس طرح چمک رہے تھے جس طرح اندھیرے کمرے میں ریڈیم کی تسبیح کے دانے چمکتے ہیں۔وہ بالکل بے پرواہ دکھائی دے رہا تھا، جیسے وہ کسی دوسرے علاقے کا ہو اوروہ ان کی تھانے والی جون سے واقف نہ ہو۔جاوید صاحب کی آنکھوں میں خون اتر آیاتھا،انہیں لگا جیسے یکا یک ان کا وجود تھانے والی جون میں تبدیل ہورہا ہے۔انہوں نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیااور کچھ دیر دم سادھے کھڑے رہے۔ایسا کرکے وہ بدلتی جون پر قابو پانا چاہتے تھے کیونکہ ایسے وقت جون کا بدلنا خود ان کے لیے بھی مصیبت کھڑی کرسکتا تھا۔
جب وہ عام آدمی کی جون سے تھانے والی جون میں بدلنے لگتے تھے تو ان کے اندر ایک پلک چھپکنے کے وقفے میں بے شمار تبدیلیاں پیدا ہوجاتی تھیں۔ دورانِ خون تیزہوجاتا تھا،جسم کے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے تھے، آنکھوں میں شعلے اتر آتے تھے اور پنڈلیوں اور بازوں کے پٹھے تن جاتے تھے۔ جب کبھی یہ حالت پیش آتی تھی تو وہ اس لائق نہیں رہ پاتے تھے کہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ سکیں، وہ اِ س صورت میں نہ تو کالی رات میں ٹپکتی اولتیوں کے بارے میں سوچ سکتے تھے،نہ گھر کے چمن میں کھلے ہو ئے سرخ گلاب کے بارے میں،نہ ہی خوبصورت چہروں پر تاحد نگاہ پھیلی ہوئی مسکان کے بارے میں، یہاں تک کے جنت کے بارے میں بھی نہیں۔ اور تو اور، اس حالت میں وہ اپنی شادی کی پہلی رات کے بارے میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔حالانکہ اس رات کے سب سے زیادہ خوبصورت پلوں کو انہوں نے اپنے دل کے نہاں خانے میں بڑے قرینے سے سجا کر رکھا ہواتھا، کہ وقت بے وقت کام آیا کرتے تھے،خاص کر تنہائیوں کے کرب انگیز وقتوں میں۔ یہ خوبصورت پل راعینہ کی عدم موجودگی میں راعینہ کا نعم البدل تھے۔ان کا یہی خیال تھا گرچہ خیال حقیقت کے مثل نہیں ہوسکتا۔آگ کا تصور کسی بھی انسان کے وجود کو خاکستر نہیں کرسکتا یہاں تک کہ خود آگ کے اِس تصور کو بھی نہیں۔ مگر جاوید صاحب ایسا خیال کرتے تھے کہ راعینہ کا خیال راعنیہ کا وجودِ ثانی ہے۔
اور جب جون پوری طرح بدل جاتی تھی تو ان کے بیشتر حواس خواب آور کیفیت میں چلے جاتے تھے۔اُس وقت جو اعضائکام کرتے تھے وہ بس ان کے ہاتھ اور پیرتھے اور ان کی شعلہ بار آنکھیں۔اُس وقت ان کا منہ صرف جھاگ اگلنے کے کام آتا تھا۔
”ایک کلو آلو، دو کلو پیاز، پانچ روپے کا ہرا دھنیا اور پانچ کی ہری مرچیں۔ہری مرچیں چاہے مت لانا۔۔۔۔اُوووں۔۔۔اچھا لے آنا تھوڑی سی،پانچ کی ملتی ہی کتنی سی ہیں؟؟ اور ہاں ایک کلو گوشت اور آدھا کلو لہسن بھی لیتے آنا۔اور جلدی آجانا، کبھی دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکنے لگو۔“راعینہ کے لہجے میں شوخی تھی اور آواز میں خاص قسم کی ترنگ۔حالانکہ وہ انتیس، تیس کے آس پاس کی دھان پان سی عورت تھی مگر جب وہ ترنگ میں آکر بولا کرتی تھی تو اس کی آوازمیں شعلے سے لپکتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔اس کی آواز تلوار کی دھار کی طرح باریک تھی، جیسے دیاسلائی کے مثل کسی عورت کی ہوتی ہے۔
”بیگم! تمہیں خیال رہنا چاہئے کہ تم ایک تھانے دار سے مخاطب ہو۔“ جاوید صاحب نے اپنے چہرے پر مصنوعی رعب پیدا کرنے کی کوشش کی مگر ان کے ہونٹوں پرنادانستہ نمودار ہونے والا تبسم ان کے تصنع آمیز رعب کی چغلی کھا رہا تھا۔ایسے موقع پر جاوید صاحب چڑھ بھی جاتے تھے محض یہ سوچ کرکہ وہ نوٹنکی باز کیوں نہیں ہیں۔
”ایسا ہے کہ اپنی اِس تھانے داری کو تھانے تک ہی رکھا کروسرپر سوار کرکے گھر تک مت لایا کرو۔“
جس دن جاوید صاحب چھٹی پر ہوتے تھے راعینہ کی طبیعت بڑی کھلی کھلی رہتی تھی، و ہ اس روز جی بھر کر نہاتی تھی، نئے کپڑے زیب تن کرتی تھی اور جاوید صاحب کا من پسند کھانا بناتی تھی، اس دن اس کی شوخیاں بلند فشارِ دم کی طرح جوش وترنگ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں۔اس باعث اس کا گندمی رنگ سرخی مائل رنگ میں تبدیل ہوجاتا تھا۔جاوید صاحب کو یہ رنگ بہت بھاتا تھا اور ان کے من میں نوٹنکی باز بننے کی خواہش جاگتی تھی۔
آج جاوید صاحب چھٹی پر تھے اور آج بھی وہ جی بھرکر نہائی تھی، بنارسی ساڑی زیب تن کی تھی اور آج وہ گوشت کی کوئی لذیذ ڈش بنانا چاہتی تھی۔وہ کافی دیر سے جاوید صاحب کو کہہ رہی تھی مگر وہ تھے کہ ٹل کرہی نہ دیتے تھے۔
”اچھا! تو اب یہ بھی بتادو کہ کون کون سی چیزکہاں کہاںتک رکھا کروں۔“ راعینہ کے سرخی مائل رنگ نے انہیں آج پھر نوٹنکی باز بننے پر آمادہ کیا۔
”اچھا اب جاو گے بھی یا۔“راعینہ کو کھانا بنانے کے لیے دیر ہورہی تھی اور وہ اس وقت مستی کے موڈ میں نہیں تھی۔
”ویسے تم اس ساڑی میں بہت اچھی لگ رہی ہو۔“
”حضور! میری تعریف کے لیے ساری رات پڑی ہے، مجھے پہلے یہ سامان لادیجئے۔“ راعینہ نے اپنے دونوں ہاتھ اس طرح جوڑے جیسے پجاری مورتیوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں۔
اِس وقت خلاف معمول گھر سے نکلتے وقت کا یہ منظر ان کے دماغ پر چھاگیا۔ پر یہ اچھا ہی ہوا کہ اس سے بدلتی ہوئی جون کو روکنے میں کافی مدد ملی۔وہ اسی لئے راعینہ کے خیال کو اس کا نعم البدل کہتے تھے کیونکہ اکثر اوقات راعینہ کا خیال بھی خود اس کے سالم گرم وجود کی طرح ان کے فیصلے لینے کی قوتوں پر اثر انداز ہوجایا کرتا تھا۔
”چل تو نکل پہلے تجھے زیادہ جلدی ہے نا“ انہوں نے سادھا ہوا دم چھوڑا اور بدقت تمام بدلتی جون پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ کالی گاڑی میں حرکت ہوئی اور ایک چھوٹے ہاتھی اِتنا بوجھ اٹھائے بھیڑ کے درمیان سے زن سے نکل گئی۔
مزید آدھے گھنٹے کی محنت سے انہوں نے بھیڑ پر قابو پالیا تھا پر چوک پر ٹریفک کو پوری طرح بحال کرنے کے لئے ابھی تقریبا اتنا ہی وقت اور درکار تھااور جاوید صاحب کو جلدی تھی۔
”جلدی آجانا، کبھی دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکنے لگو۔“راعینہ کے الفاظ ان کے کانوں میں گونج رہے تھے، مگریہ ان کی بری عادت تھی کہ وہ جس کام پر ہاتھ ڈالتے تھے اسے پورا ہی کرکے چھوڑتے تھے۔اس وقت بھی وہ ٹریفک کو پوری طرح بحال کرنا چاہتے تھے حالانکہ یہ ان کے فرائض میں نہیں تھا۔
انہی ایمرجنسی کے مارے ہوئے لوگوں میں ایک بنگالی بھی تھا جوخان پورکی غریب بستی کی طرف جانے کے لیے صدر بازار کے چورک پر جاوید صاحب کی طرف سے اجازت ملنے کے انتظار میں بڑی دیر سے چپ چاپ کھڑا تھا، اس کی بچی بیمار تھی اوراسے گھر جانے کی جلدی تھی اس لیے اس نے سواری نہیں اٹھائی تھی۔حالانکہ ابھی شام کا دھندلکا ہی تھا۔دوسرے دنوں میں وہ دیر رات تک سواریاں ڈھویاکرتا تھا، مگر آج وہ وقت سے پہلے گھر پہونچنا چاہتا تھا۔اسے اپنی بچی کو ڈاکٹرکے پاس لے کر جانا تھا۔
اس کے برابر میں کھڑے ہوئے ایک نوجوان نے دیکھا کہ راستہ صاف ہے اور جاوید صاحب اس کی طرف نہیں دیکھ رہے ہیں تو اس نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بائک دوڑادی اور ذرا دیر میں یہ جا وہ جا۔۔۔۔نوجوان کو اس طرح چوری چھپے نکلتے دیکھ بنگالی کے من میں بھی اسی طرح چوری چھپے نکلنے کا خیال گزرا مگر پھر جاوید صاحب کے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھ لینے کے ڈر سے ایسا کرنے سے باز رہااسے جاوید صاحب کی دوسری جون کے بارے میں اچھی طرح معلوم تھا۔ ویسے اس کی بستی کا تقریبا ہر آدم زاد خواہ وہ مرد ہو یاعورت یا کوئی معصوم بچہ،جاوید صاحب کی ہر دوجون کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا۔اور بنگالی اس با ت سے بھی ناواقف نہیں تھا کہ ان کی جون بدلنے میں ایک پلک چھپکنے بھر کا وقت لگتا ہے۔جون نہیں بدلتی تو دنوں اور ہفتوں تک نہیں بدلتی مگر جب بدلتی ہے تو ایک سکنڈ کے ہزارویں حصے میں بدل جاتی ہے، اب چاہے وہ گھر میں ہوں یا شاہراہ عام پر۔
جس طرف وہ کھڑا ہوا تھا اس طرف کا ٹریفک کافی دیر سے رکا ہوا تھااور جاوید صاحب اپنے من میں یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اب اِس طرف کے لوگوں کو بھی جانے دیں۔مگر بنگالی ان کے دل کی بات کیسے جان سکتا تھا بھلا۔وہ تو دوسرے لوگوں کی طرح یہی سوچ سکتا تھاکہ جاوید صاحب بلا وجہ ادھر کے ٹریفک کو روکے ہوئے ہیں۔ بنگالی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اس پرایک ایک پل گراں گزررہاتھا، نہ جانے بٹیا کا کیا حال ہوگا،اس کی ماں اوپر تلے کے پانچ بچوں کی موجودگی میں اس پر دھیان بھی نہیں دے پارہی ہوگی اس نے کئی بار سوچا کہ اُسے بھی دیگر لوگوں کی طرح موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور جاوید صاحب کے عقب سے چوری چھپے کھسک لینا چاہئے۔ مگر پتہ نہیں اس وقت وہ اپنی کونسی افتادِ طبع کے باعث ضرورت سے زیادہ شریف بنا ہوا تھا۔ حالانکہ وہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، اس نے اپنی عمر کا ایک زمانہ اُلّھڑ بازیوں میں گزارا تھا، جب وہ کسی طُرّم خاں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔
پھر یکا یک جانے ایسا کیا ہوا کہ بنگالی کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا۔ اس نے اپنی تمام تر ہمت جمع کی، سینے میں خوب ساری ہوابھر کر سینے کو چوڑا کیااور پھر رکشا کے پینڈل پر اپنے پورے وزن کے ساتھ کھڑا ہوگیا عین اُسی لمحے میں جب بنگالی نے اگلے اور پچھلے بریک پراپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کی، جاوید صاحب نے ایک قدم پیچھے ہٹایااور پھر پورے جسم کے ساتھ اس کی طرف گھومیرکشا بھی اپنی جگہ چھوڑ چکا تھااور جاوید صاحب بھی۔۔۔۔بنگالی کے پسینے چھوٹ گئے، اس نے پوری طاقت سے بریک لگائے، مگر تب تک جاوید صاحب رکشا سے ٹکرا چکے تھے، ایک لمحے کو انہیں لگا کہ وہ ہوامیں اچھال دئے گیے ہیں۔مگر ان کے مضبوط اعصاب اوربلا کی پھرتی نے انہیں گرنے سے بچالیا۔انہوں نے بنگالی کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھا، اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے، پہاڑ جیسے ڈیل ڈول والا آدمی جاوید صاحب کی ہیبت سے سمٹ کر رائی بن گیا تھا۔بنگالی بھول چکا تھا کہ اس کی کوئی بٹیا بھی ہے اور اسے بخار بھی ہے۔اور اس کی بیوی اس کی راہ دیکھ رہی ہے۔اِس وقت تواس کے کاسہ سر میں جاوید صاحب کی تھانے والی جون دھماچوکڑی مچائے پھررہی تھی۔
”معاف کردو صاب غلطی ہوگئی۔“بنگالی اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکاکہ اس کا موقع بھی کہاں تھا۔اس کے ہاتھ پیر کاکپکپا رہے تھے اور حلق سوکھ کر کانٹا ہوگیا تھا۔
بنگالی کی یہ حالت دیکھ کر جاوید صاحب کے سوکھے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور پھر اچانک جانے ایسا کیا ہوا کہ یکایک ان کی جون بدل گئی ان کے سارے حواس خواب آور کیفیت میں چلے گئے،جس طرح کمپیوٹر سلیپنگ موڈ میں چلا جاتا ہے۔طرح داری اور نستعلیقیت نے چولا بدل لیا اورعقل پر تاریکی کا پردہ پڑ گیا اب بس ان کے ہاتھ تھے جو غریب وجود پر ہتھوڑوں کی طرح اندھا دھند برس رہے تھے۔ ایک زبان تھی جس پرمغلظات کی سلسبیل لگی ہوئی تھی حرامی کی اولاد۔۔سوو ر کے بچے۔۔۔ میں کیا تمہارے باپ کا نوکر ہوں،جو یہاں ایسی تیسی کروارہا ہوں دکھائی نہیں دیتا عقل کوکیا گھاس چرنے کے لیے چھوڑدیا ہیاورایک عدد منہ تھا جو صرف جھاگ اگلنے کے کام آرہاتھا۔
ابھی وہ اسی تھانے والی جون ہی میں تھے، ہاتھ پیر گو تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے مگر زبان پر مغلظات کی سلسبیل بدستورلگی ہوئی تھی کہ اچانک ایک لال بتی والی گاڑی آگے پیچھے دو گاڑیوں کے جلو میں زناٹے بھرتی ہوئی نمودار ہوئی اور جاوید صاحب ایک پلک چھپکنے کے عرصہ میں یا اس سے بھی بہت کم وقت میں پتھر کی مورتی میں تبدیل ہوگئے اور جب تک ان گاڑیوں سے اڑنے والی دھول بیٹھ نہیں گئی جاوید صاحب اسی طرح بت بنے کھڑے رہے، نہ ان کا وہ ہاتھ جس کے ذریعہ وہ انسپیکٹر تیج پال چوہان کو سیلیوٹ مارا کرتے تھے، پیشانی سے ہٹ سکا اور نہ ان کی آنکھوں کی پتلیاں اِدھر اُدھر گھوم سکیں۔
دیر رات گئے جاوید صاحب گھر پہونچے تو راعینہ جلی بھنی کھڑی تھی دیکھتے ہی شروع ہوگئی۔
”دیکھا!! وہی ہوا نا جس کا مجھے ڈر تھا۔ لگ گئے ناگپیں ہانکنیکم از کم ٹائم تو دیکھ لیا ہوتا۔“
جاوید صاحب کے لب سلے ہوئے تھے، انہوں نے خالی تھیلا ایک طرف پھینگا اور باہر آنگن میں پڑی چارپائی پر دراز ہوگئے۔ راعنیہ نے جلد ہی تھانے والی جون کی آہٹ محسوس کرلی اور پھر اس نے بھی اِس طرح لب سی لئے جیسے ان کے درمیان کبھی دَہن تھا ہی نہیں۔
کالے دیوؤں کا سایہ : ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
کالے دیوؤں کا سایہ
ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
وڈی پورہ ہندواراہ کشمیر 193221
غروب آفتاب کے ساتھ ہی کالے دیوؤں کا خوفناک سایہ بستی کی خاموش فضا پر آندھی بن کر چھا جاتا اور شل زدہ ذہنوں میں ماتم کی دھنیں بجنا شروع ہوجاتیں۔ خوف کا سائرن بجتے ہی خون آلودہ دلوں کی دہشت ناک لہروں سے غمگین سوچوں میں وحشت ناک ارتعا ش پیدا ہوجاتا۔ معصوم بچے رات بھر ماں کی چھاتی سے لپٹ جاتے اور والدین ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹنے پر مجبور ہوجاتے۔
برفیلے پہاڑوں کے دامن میں بستی کے بیچوں بیچ کالے دیوؤں کی ویران گھاٹی کے پھاٹک کے سامنے برفیلے گالوں کے درمیان مرے ہوئے کتوں کا عفونت انگیز ڈھیر راہ چل رہے لوگوں پر وحشت طاری کررہا تھا۔ خون میں لت پت یہ کتے اپنی عادت نہ چھوڑ نے پر اپنی جان کھوبیٹھے تھے۔ رات کے اندھیر ے میں جب کالے دیوبستی میں گھسنے کی کوشش کر تے تو ان کے ناپاک عزائم کو بھانپتے ہی ان بے زبانوں کا احتجاج شروع ہو جاتا۔ ان بے زبانوں کا احتجاج جب کالے دیوؤں کی ناکامی کا سبب بنتا گیا تو انہوں نے ان کتوں کو بستی والوں کے وفادار محافظ سمجھ کر انہیں ہلاک کر نے کا آپریشن شروع کردیا اور اس بے زبان مخلوق کی نسل کشی کا سلسلہ شروع ہوا
کالے دیوؤں کا یہ منحوس سایہ کئی دہائیوں سے بستی کے اوپر چھایا ہوا تھا اس جنت نُما بستی کے روح پر ورمشک بار ماحول کو ان بدصورت کالے دیوؤں کی بد بودار سانسوں نے پلیگ زدہ بنائے رکھا تھا اور ان خبیث روحوں کی جابرانہ موجودگی کی وجہ سے بستی کے عنبر آگیں چمن زاروں، چَھر چَھر کرتے آبشاروں، پُر فریب کہساروں اورحُسن خیز سبزہ زاروں پر منحوسیت کے سیاہ سائے چھائے ہوئے تھے۔ پتہ نہیں یہ چنڈال فطرت بدصورت مخلوق کن بدتہذیب ویرانوں سے نکل کر ہاتھی کے دانت دکھائے بستی کے ریشم مزاج انسانوں کے سروں پر موت بن کر سوار ہوچکی تھی۔ چمنستان کے باغیرت باغبان لگاتار ان بے غیر ت حملہ آوروں کو بھگانے کے وظائف پڑھتے رہتے تھے، پربستی کا نصیب ہی جانے کہ یہ بد فطرت مخلوق وظائف کے اثر کو بے اثر بنانے کے لئے بستی کے ہی چند کالے بھیڑوں کی ناپاک نفسیات کو اپنے آسیبی حربوں سے متاثر کرجاتے اور وہ کم ظرف شعبد ہ بازاپنے کرتبوں سے ان کی موجودگی کو دوام بخشنے کی راہیں ہم وار کرنے میں اپنے کرتب دکھاتے رہتے۔
یہ بدفطرت کالے دیوبستی کے کسی بھی گھر میں بے دھڑک گھس جاتے اور اپنی خون خوار آنکھوں کا رعب جماتے ہوئے بستی کے مکینوں کی بے بسی اور بے کسی کے ساتھ جس طرح سے چاہتے کھلی اڑاتے رہتے۔ اگر کوئی انسان اپنی آن بچانے کے لئے ان درندوں سے اُلجھ پڑتا تو ان وحشیوں کے خونخوار پنجے اس مظلوم کو نوچ نوچ کر لہولہان کر جاتے اوران کے معصوموں کو پلک جھپکتے ہی جھپٹ کرلے جاتے۔ بستی کے لوگ ان آدم خوروں کے بجائے ان بے زبان کتوں کی وفاداری اور انسان دوستی کے شکر گزار نظر آتے تھے۔ جورات کے گھنے سائے میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بستی کے لوگوں کو بھونکتے بھونکتے ان ظالموں کی آمد کا اشارہ کرتے رہتے۔
پھاٹک کے سامنے مارے گئے کتوں کی بدبو سے جب کالے دیو تنگ آگئے تو انہوں نے بستی کے لوگوں کو حکم جابری سنایا کہ وہ ان خون آلودہ کتوں کو اپنے اپنے کاندھوں پر اُٹھا کر دور کسی نالے میں پھینک دیں۔ بے بس لوگ حکم جابری کی تعمیل کرتے ہوئے کتوں کو کاندھوں پر اُٹھائے جارہے تھے کہ اچانک انہیں مردہ کتوں کے ڈھیر میں ایک خوبصورت نوجوان کی لاش پر نظر پڑی۔ وہ خوف زدہ ہو کر ڈھیرسے پیچھے ہٹنے لگے۔ انہیں پیچھے ہٹتے ہی کالے دیو آگ بگولہ ہو کر چلانے لگے:
”سالے ……! پیچھے کیوں ہٹے……؟ ان کتوں کو جلد ی جلدی یہاں سے ہٹاؤ، ہوا میں بدبو پھیل رہی ہے۔“
”ان …… ان میں ایک انسانی لاش بھی ہے۔“ ایک نوجوان لرزتی آواز میں بول پڑا۔
”اُس کو بھی یہاں سے دفع کر و اور ان کتوں کے ساتھ کسی نالے میں ڈال دو“ کالی غار سے ایک طنز آمیز آواز آئی۔
”لیکن……!“
”سوال مت کرو،نہیں تو تو بھی کُتے کی موت مرے گا۔، سالا“ ایک اور خوفناک آواز نوجوان کے کانوں سے ٹکرائی۔
کالے دیو”جشن زیتون“ منانے کا پروگرام بنا چکے تھے۔ بستی کے بچوں کو ہدایت ملی تھی کہ وہ رنگارنگ پروگرام بنانے کے ساتھ ساتھ ”شاخ زیتون“ کے موضوع پر بھی تقریر تیار
کریں۔ دوسرے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ معصوم الوقت نے بھی پروگرام میں شرکت کرنے کا ارادہ کرلیا اور ”شاخ زیتون“ کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام سامعین سے داد تحسین پائی۔ کالے دیوؤں کا رہبر بھی معصوم الوقت کے امن پسند خیالات سے خوش ہوا اور وہ اپنے امن کے مہان دیوتا کے بنائے ہوئے خوشنما سفید رنگ کبوتر، جس کی چونچ میں ”شاخ زیتون“ رکھی ہوئی تھی، معصوم الوقت کو انعام میں دیتے ہوئے جشن شاستری پڑھنے لگا:
”ہمیں بے حد خوشی ہورہی ہے کہ بستی کے نوجوانوں میں امن کی روح جاگ اُٹھی ہے۔ اُن کی آنکھیں روشنی کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ میں آپ لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ بستی کے اندر اب کسی قسم کا کالا سایہ نظر نہیں آئے گا۔ آپ لوگ صرف اپنی بستی میں زیتون کے پیڑاُگانے کا وعدہ کیجئے۔“
”جشنِ زیتون“ ختم ہوتے ہی معصوم الوقت خوشنما سفید رنگ کبوتر کو لے کر گھر کی جانب دوڑ پڑا۔ وہ گھر والوں کو اپنے انعام کی خوشخبری سنانے کے لئے بے قرار ہورہا تھا۔ وہ جونہی کالے دیوؤں کی پھاٹک کے قریب پہنچا تو اُسے رکنے کی آواز سنائی دی۔ چند منٹوں کے بعد اُسے دوسرے لوگوں کے ساتھ مردہ کُتے اُٹھانے کا حکم ملا۔ اُس کے انکار کرنے پر کالے دیوؤں کی آنکھوں میں خون پھیلنے لگا۔ اُس کے ہاتھ میں اپنے دیوتا کے خوش نما سفید رنگ کبوتر کو دیکھتے ہی ایک دیو پوچھ بیٹھا:
”یہ کبوتر تم کو کہا سے ملا؟“
”جشنِ زیتون والے پروگرام میں شاخِ زیتون سے متعلق میری تقریر سے خوش ہو کر آپ کے رہبر نے مجھے یہ کبوتر انعام میں دے دیا۔“ معصوم الوقت نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”ہمیں شاخِ زیتون کا فلسفہ سکھاتا ہے“یہ کہتے ہوئے کالے دیوؤں نے اُسے مردہ کتوں کے ڈھیر پر پھینک دیا۔
”نہیں ……! یہ سراسر ظلم ہے۔ تمہاری اس وحشت ناک حرکت سے مہان دیوتا کے امن پسند آدیشوں کا خون ہورہاہے۔ آپ صفائی کرم چاریوں کی مدد سے ان کتوں کو یہاں سے ہٹا سکتے ہیں۔“ معصوم الوقت کے منہ سے شاخ نبات کے میٹھے میٹھے الفاظ نکل رہے تھے۔
”ہمیں شنانتی کا منتر سکھا رہا ہے۔ سالا“ ایک بدصورت دیو اُس پر اپنے خونخوار پنجوں سے وار کرتے ہوئے بول پڑا۔
معصوم الوقت کے جسم سے خون کے فوارے نکل پڑے۔ چند ہی لمحوں کے اندر اندر شاخِ نبات کی مٹھاس اُس کی شریا نوں میں زہر بن کر دوڑ نے لگی۔ اور مہان دیوتا کا سفید کبوتر جھیل کے سُرخ پانی میں پھڑ پھڑاتے ہوئے سرخ مائل ہوتا گیا۔ کالے بادلوں کی خوفناک بجلیاں چار سو گرجنے لگیں۔ بے بس مخلوق بدحواسی کے عالم میں خون آلودہ کتوں کے ساتھ ساتھ معصوم الوقت کی خون ٹپکتی لاش کو بھی اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے جارہے تھے اور کالی آندھی ان کے شل زدہ کانوں کو کالے دیوؤں کے سرہنگ کا قومی پیغام سُنا رہی تھی:
”اگر جنت کے وارثین، اپنے بچوں کے ہاتھوں میں شاخِ زیتون تھما دینگے تو انہیں شاخ نبات سے نوازا جائیگا۔“
email:drreyazbhat@yahoo.in
Mob.9906834877
” قطب مینار’’ : پیغام آفاقی
"قطب مینار’’
پیغام آفاقی
میں دروازے کے اندر داخل ہوا تو سامنے قطب مینار تھا جو قوت الا سلام مسجد کا ایک ایسا بچا ہوا انگ ہے جو کافی حد تک سالم ہے۔ مسجد کا باقی جسم کئی صدیوں کے گزرنے کے دوران کمزور ہونے کی وجہ سے گر تے گرتے لگ بھگ کھنڈروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔اسی احاطے میں گھومتے ہوئے مجھے وہ ادھورا مینار دکھائی دیا جو تو دے کی شکل میں تھا۔ یہ مینار علاؤالدین خلجی نے بنوانا شروع کیا تھا۔ اس کے ذہن میں ابھر کر آسمان چھوتا ہوا تصور پوری طرح مجسم ہونے سے رہ گیا تھا۔ لیکن یہ سین آم کی کسی ایسی گٹھلی کی طرح لگ رہا تھا جس میں انکور ایک لمبی سانس روکے اس موسم کے انتظار میں ہو جو اس کی معنویت اور چہرے کو پہچانتا ہو۔وہ تو دہ سامینار وہاں جوں کا توں تھا، جب کہ اس کے روبرو کھڑے قطب مینار کا اوپری حصہ ٹوٹ کر کہیں تاریخ کے ملبے میں گر گیا تھا۔ یہ نامکمل مینار جس کا قدصرف ساڑھے چوبیس میٹر ہے، اس کے نقشے کا تصور کرتے ہوئے اس کی اندرونی عظمت ہمارے تخیل کے اندر آسمان چھوتی ہے۔میں وہاں سے باہر سڑکوں پر آیا تو کچھ بدل گیا تھا۔ مجھے بار بار یہ احساس ہونے لگا کہ میرے اندر بھی تو دہ کی طرح کوئی چیز موجود ہے۔ کچھ دنوں بعد یہ احساس شدت اختیار کرنے لگا اور میں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہو گیا۔ چونکہ میرے اندر موجود اس تودے میں اور قطب مینار کے احاطے میں موجود اس تودے میں کوئی مماثلت تھی اس لیے میں اپنے اندر کے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اس تودے کے معاملے پر ذہن کو مر کوز کرکے غور کرنے لگا کہ جس معمار نے اس مینار کا نقشہ بنایا ہوگا اس نے اپنے سامنے ایک عریض و طویل کینوس بچھایا ہوگا اور اس پر ایک پتھر سے دوسرے پتھروں کے جڑنے کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسی تصویر بنائی ہوگی جس کا پتھر وں کے جسم میں وجود میں آنا عین ممکن تھا۔ تو کیا وہ نقشہ بھی ادھورا تھا؟علاؤالدین خلجی کی اچانک موت اور کسی بادشاہ کے اس بلندی کے تصور تک نہ پہنچ پانے کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ یہ نقشہ ادھورا تھا۔جس معمار نے نقشہ بنایا ہوگا اس کے دل کو ایک چوٹ ضرور لگی ہوگی اور اسے محرومی کا احساس ضرور ہوا ہوگا کہ علاؤالدین خلجی کی موت اس کے تصورات کو کیسے مسمار کر گئی۔ اس معمار کی محرومی میں اور میرے اندر موجود زخم کے اس ٹیس میں کیا کوئی فرق ہے جو ٹیس مجھے بار بار تلملا دیتی ہے۔میرا جسم اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک ایسا قطب کمپلکس بن گیا ہے جس میں سربلند میناروں کے ساتھ ساتھ بے شمارتودوں کے نقشے بنانے والے معمار مایوس فقیروں کی طرح بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھ آسمان کی طرف دعاؤں کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ یہ تودے معنی کا لباس پہننے کے لیے بیقرار ہیں۔ میں اب تو دوں کونہ کھوٹا ماننے کے لیے تیار ہوں نہ ادھورا۔ یہ تودے وقت کی زمین میں پڑے ہوئے وہ بیج ہیں جو مناسب موسموں میں پیڑ بن کر وقت ہی کی پہاڑیوں پر لہلہاتے ہیں۔ اسی احاطے میں جو مینار مکمل شکل میں دکھائی دیتا ہے یعنی قطب مینار وہ مکمل، قابل دیداور جیتا جاگتا ہے۔ اور اس کی تصویریں لی جاتی ہیں، لیکن در حقیقت اب اس کے اندر دیکھنے کو بچا ہی کیا ہے۔ دیکھنے کو جو کچھ بچا ہے وہ تو اس تودے کے اندر پوشیدہ ہے جو ابھی سامنے نہیں آ سکا، لیکن جو اپنے اندر ہاتھی کے پاؤں جیسے حوصلے لیے کھڑا ہے۔مجھے لگنے لگا کہ نا مکمل رہ جانا مکمل ہونے سی زیادہ اہم بات کی نشاندہی کرتا ہے۔مجھے وہ لوگ سطحی لگنے لگے جو تکمیل کو ہی کامیابی کی نشانی سمجھتے ہیں۔ مجھے لگا کہ لوگ میری ذات کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔وہ میری نوکری ، میرے گھر، میری اور کئی چیزوں کا، جو مجھے حاصل ہوئی ہیں، ذکر کرتے ہیں۔ لیکن میرے اندر جو تو دہ ہے اس کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ خاموش بھی ہے اور نظروں سے اوجھل بھی۔ وہ کھردرا بھی ہے اور بدہیت بھی۔ لیکن وہ ان سب باتوں کے باوجود ذات سے ابھرنے والی ہر چیز کی ان داتا کو کھ کی طرح ہے۔میری زندگی کے سب مینار پتھروں کے ہیں۔ لیکن یہ تو دہ زندہ ہے اور مسلسل بڑھتا اور پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ قطب مینار ایک ایسی پر فریب حقیقت ہے جو طوفانوں سے ٹوٹ کر گر جاتی ہے اور اس کی مرمت کرنی پڑتی ہے۔ اسی لیے ہر چند کہ آپ کے سامنے جو مینار ہے اس پر آسمانی آیتیں لکھی ہوئی ہیں اور میرے اندر کا تودہ بے لباس ہے، لیکن میرا بے لباس ہونا میرے اندر موجود امکانات کی گواہی دیتا ہے۔قطب کمپلکس کا احاطہ میرے جذبہ ارتقا کے لیے نشان راہ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا، اینٹ اور پتھروں سے کھیلنے والے معمار بھی کبھی کبھی جانے انجانے کچھ کچھ ایسا چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی مینار نور کی صورت میں ہماری رہ نمائی کرتا ہے اور کبھی ملبہ امکان کی صورت میں ہمیں متحرک کرتا ہے۔ میں وہاں سے نکل کر دلی کے گلی کوچوں میں گھومتا ہوا میناروں اور ادھورے جسموں، دونوں قسم کے لوگوں کا بغور مطالعہ کرتا رہا۔ اس سے میں دھیرے دھیرے اپنے بہت سارے دوستوں سے کٹتا چلا گیا۔ خصوصاً ان سے جن کو میرا تنہا بیٹھے کچھ کچھ سوچنا اٹ پٹا سا لگتا تھا۔ ان کو میں نے دیکھا کہ وہ ہر بات کو کھنکھناتے سکوں کے الفاظ میں سننا چاہتے تھے۔ جو بات صرف لکھی جا سکتی ہو ، اس کا ان کے نزدیک گویا کوئی وجود ہی نہیں ۔ یہ سوچ ایک وبا بن چکی تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھروں کے ترشے تر شائے ٹکڑوں کی قیمت مقرر ہے، لیکن تودے کی کوئی قیمت نہیں۔ ایسے میں ناکامیوں کی قدرو قیمت کو پہنچاننے والے جو ہری چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔میں نے ان دنوں میں یہ دیکھا کہ تمام دیے بجھے پڑے ہیں۔ عظیم رہ نماؤں کے تصور کوغیر حقیقی بات سمجھ کر رد کیا جا چکا ہے۔ بڑے بڑے ذمہ دار افراد بھی اب محض قطب مینار بننے کے چکر میں گرفتار ہیں۔ ہر اونچا اور کامیاب شخص پتھر کے ٹکڑوں پر اپنا نام لکھوانے میں مصروف ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے آزادی برصغیر کی قوت الا سلام مسجد ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہی ہے۔ اور داہنی طرف وہ جگہ خالی ہے، جہاں کبھی ایک تودہ ہوا کرتا تھا۔میرے ذہن و روح پر ایک سوال کوڑے کی طرح برستا رہا کہ کیا کوئی علاؤالدین خلجی اب پیدا ہو گا؟ کوئی جو بڑے خواب دیکھ سکے اور جو اس خواب کی تعبیر کا آغاز کر دے۔ اس بے حد حقیقت پسند دنیا میں151 قطب مینار سے تین گنا اونچا 151 اور کم از کم ایک ملبہ ہی چھوڑ کر مر جائے۔سوال اٹھتے رہے ۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم سب نا کامیوں سے ڈرتے ہیں؟محض اس لیے کہ کوئی ناکامیامیوں کی تصویریں نہیں لیتا….اور ہم سب کچھ تصویریں کھنچوانے کے لیے کرتے ہیں؟ہمیں ہمارے اندر کا کوئی درد پریشان نہیں کرتا بلکہ ہم باہر کے کیمروں کے تقاضوں سے پریشان ہو اٹھتے ہیں۔اور کیمرے ہیں کہ امکانات کی تصویر نہیں کھینچ سکتے۔مجھے لگا کہ ہماری مہم جوئی میں کچھ کمی ہے۔ ہمارے یہاں کی سیاحت گری میں کچھ کھوٹ ہے۔ ہماری نگاہیں تکمیل کی تلاش میں رہتی ہیں اور ان چیزوں کو قطعی نہیں دیکھتیں جو اپنے اندر بڑی بڑی دھڑکنیں دبائے بیٹھی ہیں۔ اس سے تاریخی معاملات کے بارے میں اندازہ لگانے میں بھی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ کیوں کہ جو کچھ تو دہ رہ گیا وہ ابھی تاریخ کاحصہ نہیں بناہے اور وہ کسی بھی وقت ابھر کر سامنے آسکتا ہے اور حقیقت میں سر گرمِ تخلیق انکوروں جیسے ان تودوں کا خاتمہ ممکن ہی نہیں کیوں کہ وہ تو معماروں کے ذہن کی پیداوار ہیں اور معماروں کے ذہن خاموشی کے ساتھ اپنے علاؤالدین کے انتظار میں رہتے ہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ طوفانوں سے قطب مینار ٹوٹ کر گرتے تو ہیں، لیکن اگر کوئی ان تودوں کو توڑ پھوڑ کر ان کے ٹکڑوں کو ادھر ادھر بکھیر دے تو بھی معمار ذہنوں پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ ان کی جبلت مسلسل متحرک اور زندہ رہتی ہے۔ مجھے لگا کہ ہم زوال کا شکار ہیں۔ یہاں جہاں سیاست دانی سیاست بازی میں بدل گئی ہے، دنیا کے بڑے بڑے مذہب زندگی کی بازی کے مہرے بن گئے ہیں، جہاں بادشاہ موقع ملنے پر پیدل کی چال چلنے میں بالکل نہیں ہچکچاتے۔جہاں بوتا ہونا آئیڈیل بن گیا ہے۔ اور جہاں علاؤالدین خلجی کی طرح آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھنے کا کسی کو شوق نہیں ہے۔ اسی ماحول کا پیدا کر دہ ہے وہ درد جو میں اپنے اندر کے تودے میں محسوس کر رہا ہوں۔اس دن کے بعد جس دن میں اچانک قطب کمپلکس میں داخل ہوا تھا تو سامنے قطب مینار تھا، میں کئی بار اس تودے کی زیارت کو جا چکا ہوں کیوں کہ اس سے میرا قطب کمپلکس منور ہوتا ہے۔ لیکن چند روز پہلے جو کچھ ہوا وہ میں آپ کو بتاؤں گا151 ہوا یہ کہ اس دن جب میں اپنے کچھ مہمانوں کے ساتھ قطب کمپلکس میں گیا تو مجھے لگا کہ قطب مینار تو اپنی تکمیل کو پہنچ کر اپنے زوال کا انتظار کر رہا ہے۔یہ میرے لیے ایک عجیب وغریب احساس تھا۔گیٹ کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی میری نگاہوں کے سامنے کا سارا منظر بدل گیا تھا اور مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ میرا کیمرہ بیکار ہی میرے کندھے پر لٹک رہا ہے کیوں کہ اب میں جوکچھ دیکھ رہاہوں اس کے لیے کیمرہ کی نہیں قلم کی ضرورت تھی۔میں پیچھے مڑ کر دہ کیمرہ گاڑی میں رکھ آیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک ہم لوگ قطب کمپلکس میں گھومتے رہے۔وہاں سے آنے کے بعد میں اپنے ماحول میں ٹٹول ٹٹول کر چھونے کی کوشش کرتا ہوں اس معمار کو جولامتنا ہی فضاؤں میں مسلسل بنتے بگڑتے میناروں کے ڈرافٹ بناتا ہے۔اور میری سیاحت گری میں تبدیلی آ گئی ہے۔ اب میرے کندھے میں کیمرے کے بجائے ایک چھوٹا سا تھیلا لٹکتا ہے جس میں ایک نوٹ بک ہے اور ایک ننھا سا قلم ہے جو داہنے، بائیں دونوں جانب سے روانی سے چلتا ہے اور مسلسل اس معمار کی تصویر بناتا ہے جو ہے تو لیکن پتہ نہیں کدھر ہے۔
نا دان : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
رمضان کے منظر نامے کو عمدگی سے سمیٹے ہو ئے ایک منفرد کہانی
نا دان
”سلام علیکم امی جان!“
”سلام علیکم ابو جان!“
”چاند دکھائی دے گیا ابو جان……..“
ثنا نے تیز قدموں سے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔اتنے میں با ہر سے ساجد دوڑتا ہوا آیا۔ اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے بولا۔
”رمضان کا چاند دکھ گیا ہے۔ سب کو سلام علیکم۔ابو……….آج سے تراویح شروع ہو جائیں گی نا؟“
”ہاں بیٹا ساجد……آپ اچھے بچے ہیں۔ آپ تراویح کی نماز کے لیے میرے ساتھ چلئے گا۔“مرزا حشمت علی نے بیٹے کو سمجھایا۔
پورے محلے میں شور شرابہ شروع ہو گیا تھا۔ مسجدوں سے اعلان ہو رہا تھا۔ رمضان کی اہمیت بتائی جا رہی تھی۔ سحر اور افطار کا وقت بھی بتایا جارہا تھا۔ بچے شور مچاتے ٹولیوں کی شکل میں ٹوپیاں لگائے اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔ خرید و فروخت کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ دودھ، ڈبل روٹی۔ شیر مال۔لچھے،کھجور،فینی وغیرہ کی فروخت ہونے لگی۔
رمضان بھی کس قدر رحمت کا مہینہ ہے۔ گیارہ مہینے الگ۔ رمضان کا مہینہ الگ۔ خدا کی رحمتیں اور برکتیں ایسی عام ہوتی ہیں کہ کوئی بد نصیب ہی ان سے محروم رہتا ہوگا۔نماز کا اہتمام بڑھ جاتا ہے۔ مساجد اتنی بھر جاتی ہیں گویا محلے کے محلے مسلمان ہو گئے ہوں۔ ہر طرف سروں پر ٹوپیاں نظر آتی ہیں۔بچے اور بوڑھے خاص کر زیادہ تعداد میں نظر آنے لگتے ہیں۔ بچوں کے تو جیسے مزے ہی آ جاتے ہیں …….سحری میں آنکھ کھل گئی تو سحری کھائی۔ شام کو افطار میں بھی انواع و اقسام کی چیزیں۔ روح افزا کا شربت۔ رمضان میں اس کا مزا دو گنا ہو جاتا ہے۔ طرح طرح کی پکو ڑ یاں۔ آلو، بیگن،پالک، گوبھی کی پکوڑیاں ……..چھولوں کی چاٹ، فروٹ چاٹ، انڈے کے پکوڑے، بریڈ پکوڑا،لسّی،غرض اتنی نعمتیں کہ عام دنوں میں رئیسوں کے یہاں بھی اہتمام نہ ہو پائے۔یہی نہیں اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہو تا ہے کہ ہر ایک عمل کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ گویا ایک وقت کی نماز کے ساتھ69نمازوں کا ثواب فری…….نفل پڑھو، فرض کا ثواب پاؤ۔شیطان کو بھی بیڑیوں میں جکڑ کر قید کردیا جاتا ہے……
”ابو رمضان کے مہینے میں کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہیے نا۔“ساجد نے مرزا شجاعت علی سے دریافت کیا۔
”ہاں بیٹا ساجد۔اس ماہ غلط کام نہیں کرنا چاہیے، لیکن بہت سے لوگ روزے نہیں رکھتے، جب کہ وہ رکھ سکتے ہیں …..کچھ لوگ صرف دکھا وے کے روزے رکھتے ہیں۔ نماز نہیں پڑھتے۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ غلط کام بھی کرتے ہیں۔اسی لیے ساجد اللہ نے بُرے کاموں کی سزا کو بھی اس مہینے میں بڑھا دیا ہے۔
”ابو جان میں بھی روزہ رکھوں گا۔ اب میری عمر دس سال ہو گئی ہے۔ میں اپّی سے چھ سال ہی تو چھوٹا ہوں ……..مجھے سحری میں اُٹھا دینا۔“
مرزا شجاعت علی بہت ہی نیک اور ایماندار مسلمان تھے۔ وہ روزے نماز کے سخت پابند تھے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے گھر میں بھی اسلامی ماحول بنانے کی کوشش کی۔بیگم زمانی بھی اپنے شوہر سے کسی طرح کم دیندار نہیں تھیں۔ ہر وقت تسبیح کا ورد رکھتیں۔ نمازیں پڑھتیں۔ قرآن کی تلاوت کرتیں۔ ان کے دونوں بچے، بیٹی ثنا اور بیٹاساجد بھی والدین کی طرح دین دار تھے۔ ثنا پڑھنے میں بھی بہت تیز تھی۔ گھر کے کام کاج میں بھی ثنا ہمیشہ دلچسپی لیتی۔ گھر پر خادمائیں تھیں۔ پھر بھی ثنااپنے والدین کی خد مت کرتی۔ دادا،دادی کی ہر بات کا خیال رکھتی۔ ساجد بھی نیک بچہ تھا۔ وہ بڑوں کا کہنا مانتا تھا۔ اس نے قرآن مکمل کرلیا تھا۔ نمازیں پڑھنے لگا تھا۔ اپنے ابو کے ساتھ جمعہ اور اکثر مغرب کی نماز پڑھنے مسجد جاتا تھا۔
مرزا شجاعت علی کے گھر میں رمضان کا انتظار تقریباً ایک ماہ قبل سے ہو تا تھا۔ مکان کی سفیدی ہو رہی ہے۔ سارا گھر الٹ پلٹ، نوکر چاکر لگے ہیں۔ ایسا ما حول بن جاتا گو یا شادی کا گھر ہو۔ رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام ہو تا۔ دعائیں مانگی جاتیں۔ اس بار بھی سب کچھ مکمل تھا، صرف چاند کی خوشخبری با قی تھی۔ چاند کی خبر آتے ہی سا را نظا رہ بدل گیا۔ بیگم زمانی سحری کے کھانوں کے انتظام میں لگ گئیں۔ ثنا ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔ مرزا شجاعت علی عشاء کی اذان ہوتے ہی، ساجد کے ہمراہ مسجد چلے گئے…….بیگم زمانی،ثنا، ثناکی دادی اور پڑوس کی آمنہ، ان کی بیٹی حاجرہ…..سب نے مل کر عشاء اور ترا ویح کا اہتمام کیا…….تراویح کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر سب بستروں میں جا گھسے۔
صُبح تین بجے بیگم زمانی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ بیدار ہوئیں،پہلے وضو کر کے تہجد ادا کی۔ ثناکو جگایا۔ سحری کا انتظام کیا۔ چار بجے مرزا شجاعت علی کو اُٹھایا۔ ساجد کی آنکھ خود بخود کھل گئی تھی…….وہ بہت خوش تھا۔ سب نے ایک ساتھ سحری کھائی۔ثنانے بہت آہستگی سے اپنی امی کے کان میں کچھ کہا…….امی نے بھی آہستگی سے ثنا کو سمجھا دیا۔
”اللہ اکبر…..اللہ اکبر……….“مؤذن کی آواز گونجی۔
”روزہ بند کرلو……..ابو سحری کا وقت ختم ہو گیا۔ سب لوگ کلی کرلیں اور روزہ کی نیت بھی……..“ساجد نے سارے گھر میں شور مچا دیا۔
عورتوں اور لڑکیوں نے گھر پر نماز کا اہتمام کیا۔ مرزا حشمت علی مسجد میں نماز پڑھ کر آئے اور بو لے:
”بھئی میں ذرا سا سو لوں۔ میری نیند پو ری نہیں ہوئی……“ مرزا حشمت بستر پر دراز ہو گئے۔
”رمضان میں بس نیند پو ری نہیں ہوتی۔ بیٹا ساجد آپ بھی سو لیں ……..“ بیگم زمانی کی بات پر ساجد بو لا،
”نہیں امی مجھے تو نیند نہیں آ رہی۔“
”امی آج میرا پہلا روزہ ہے۔ آپ افطار کی دعوت کرو نا۔ میرے دوستوں کو بھی بلاؤ نا……. میں سب سے کہہ دوں ………….“
”ہاں بیٹا۔ آج آپ کا پہلا رو زہ ہے۔ آپ دھیان رکھیے کچھ بھی کھانا پینا نہیں اور ہاں آج شام کو آپ کے ساتھ افطار پر بہت سے مہمان ہوں گے۔ آپ اپنے دوستوں سے بھی کہہ دیجئے۔“
یہ سنتے ہی ساجد نے چھلانگ لگائی اور سیدھا فرش پر……اُلٹے سیدھے چپل پہن کر اپنے دوستوں کے پاس رفو چکر ہو گیا۔
مرزا حشمت علی صُبح نو بجے اُٹھے۔ بیگم زمانی نے اُنہیں شام کو افطار کی دعوت کے اہتمام کے بارے میں بتایا۔ اچھا بیگم میں تو آفس جا رہا ہوں۔وہاں سے گاڑی اور ڈرائیور بھجوا دوں گا جو سامان منگوانا ہو کہہ دینا اور اپنے میکے فون کرکے خبر کر دیجئے۔ تقریباًسو لوگوں کے کھا نے کا اہتمام کرا دیتا ہوں۔ میں میزبان ہو ٹل فون کردوں گا۔ بریانی، قورمہ، روٹی وغیرہ سب وقت پر آ جائے گا…….
گھر کا ماحول تبدیل ہو چکا تھا…….شام کی دعوت کے اہتمام میں سا رے لوگ مصروف ہو گئے۔ ثناانٹر کالج میں پڑھتی تھی۔ ساجد پانچویں کلاس میں تھا۔ وہ تیار ہو کر اسکول جانے لگا۔
”ثنا باجی…….آج آپ اسکول نہیں جارہیں۔“
”ہاں۔ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
”آپ نے روزہ تو رکھا ہے نا……….؟“ ساجدنے شرارتاً آنکھیں مٹکا تے ہوئے پو چھا۔
ثناایک لمحے کو تو گھبرا گئی۔ اُس نے بیگم زمانی کی طرف دیکھا۔ بیگم زمانی نے ساجد کو دس روپے دیتے ہوئے کہا:
”ساجد لو یہ رو پے۔ انہیں راستے میں کسی فقیر کو دے دینا۔ بیٹے صدقہ کرنا چاہیے…….“
دوبجے کا وقت تھا سارے گھر میں افرا تفری کا ماحول تھا۔ ساجد کا رکشہ رکا۔ وہ طوفان کی طرح گھر میں داخل ہوا۔ بیگ ایک طرف پھینکا اور سیدھا سامنے والے کمرے میں جا گھسا۔ اچانک ساجد کو کمرے میں دیکھ کر ثناگھبرا گئی۔
”باجی آپ کیا کھا رہی تھیں ……..؟“ساجدنے ثنا کا منھ چلتے ہو ئے دیکھ لیاتھا۔
”کچھ نہیں ….. ساجد…….. میں بھلا کیوں کھانے لگی۔“
”نہیں مجھے لگا، جیسے آپ کچھ کھا رہی ہیں۔“
”چلو کپڑے تبدیل کرو۔“یہ کہتے ہوئے ثناگھبرا ئی گھبرائی سی با ہر آ گئی۔ ساجدکے ذہن میں کھچڑی پک رہی تھی۔ میں نے باجی کو منھ چلاتے ہو ئے دیکھا۔ باجی منع کررہی ہیں ……… یہی سوچتے سوچتے اس نے کپڑے تبدیل کیے۔ ظہر کی اذان ہو گئی تھی۔ اس نے وضو کر کے نماز پڑھی اور امی کے سمجھا نے پر سو نے کی کوشش کرنے لگا۔ اُسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی۔ تھو ڑی تھوڑی بھوک بھی ستا رہی تھی۔ بہت دیر بعد اُسے نیند آگئی۔
دو رویہ قطا روں میں لوگ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ سروں پر ٹوپیاں، سامنے انواع و اقسام کی اشیاء۔ سب کی نظریں گھڑی پر۔ساجد شیروانی میں خوب جم رہے تھے۔ سائرن کی آواز پر سب نے افطار شروع کیا۔ بہت گہما گہمی تھی۔ کافی مہمان تھے۔ افطار کے فوراً بعد کھانا اتار دیا گیا۔
”اطمینان سے کھائیں …….نماز کا اہتمام یہیں ہو جائے گا۔ قاری شفیق صاحب نماز پڑھائیں گے۔“مرزا شجاعت علی سبھی مہمانوں سے کہہ رہے تھے۔
ساجد نے مردانہ محفل میں افطار کیا۔ افطار کے فوراً بعد وہ گھر کے اندر گیا۔ اندر بہت سی مہمان عورتیں تھیں۔ممانی، خالہ، پھوپھی، پڑوس کی آ منہ چاچی،بلقیس خالہ فرزانہ باجی،شبانہ باجی،…….سب افطار میں مصروف تھیں۔اچانک اس کی نظر ثناپر پڑی۔ ثنا سر جھکا ئے افطار کرنے میں مصروف تھی۔ ساجد کو دوپہر کی بات یاد آ گئی۔
”ثنا باجی…….. آپ افطار کررہی ہیں۔ آپ نے تو روزہ رکھا ہی نہیں ……؟“ ساری عورتیں کبھی ساجد کو، کبھی ثناکو اور کبھی ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ بیگم زمانی ہکا بکا بیٹے کو تک رہی تھیں۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموش رہنے کا اشارہ کررہی تھیں۔ مگر ساجد کہاں ماننے والا تھا۔ وہ اور زور سے بولنے لگا۔
”آپ دو پہر میں کھا رہی تھیں۔ میں نے دیکھا تھا۔ آپ سمجھیں میں نے نہیں دیکھا……“
ساجد آنا فاناپیچھے مڑا اور پل جھپکتے ہی غائب ہو گیا۔
ثناسر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی۔ روہانسی ثنا نے بیگم زمانی کی طرف دیکھا۔ اُ سے یہ بھی علم تھا کہ آج ان کا بھی روزہ نہیں ہے۔
•••••••
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
صدر شعبہ اردو
سی سی ایس یونیورسٹی،میرٹھ
aslamjamshedpuri@gmail.com, 09456259850
دس سروں والا بجوکا : پرویز شہریار
دس سروں والا بجوکا
پرویز شہریار
یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب پریم چند کی کہانی کا ’ہوری‘ پچہترسال کا ہو چکا تھا۔ سارے بال سفید ہو چکے تھے۔ چونکہ وہ ایک کسان کا بیٹا تھا، اس لیے ہاتھ پاؤں کے پٹھے اور عضلات اب بھی صحیح سلامت تھے۔البتہ اب وہ اونچا سننے لگا تھا۔افرادِ خانہ کا خیال تھا کہ باپو اپنے مطلب کی بات بہت جلدی سن لیتے ہیں لیکن جس میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ بات انھیں سنائی نہیں پڑتی، چاہے ان کے آگے ہم اپناکتنا بھی گلا پھاڑ لیں۔
دریں اثنا،ہوری کا بیٹا گوبردھن پڑھ لکھ کر دہلی آئی آئی ٹی میں پروفیسر ہو گیا تھا۔ سونا اور روپا بھی اپنی اپنی سسرال سدھار چکی تھیں۔اس کے بیٹے نے ہوری کو بہت سمجھایا تھا کہ زمانہ بدل چکا ہے اب کھیتی باڑی چھوڑ کے وہ بھی شہر میں آکر آرام سے رہے اور زندگی کے بقیہ دنوں کا لطف اُٹھائے۔گوبردھن ہوری کو اپنے ساتھ رکھنے کو تیار تھا، لیکن ہوری نے اس کی ایک نہ سُنی۔
”ماٹی ہمارا جیون ہے۔“ہوری نے کہا تھا۔”اس سے جنموں کا ناطہ ہے۔ اسے ایک دم سے ہم کیسے چھوڑ دیں۔“
بچے بے بس تھے۔ انھوں نے ہوری اور دھنیا کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ وہ اپنے اپنے بچوں کے کیر ئر کو لے کر فکر مند تھے۔ ان کے اپنے مسائل تھے۔انھیں اپنے بچوں کی خوشیاں بھی عزیز تھیں۔
دراصل، گاؤں اور شہر کے معیارِ زندگی میں بڑا فرق آچکا تھا۔نشست و برخاست کے آداب میں بڑا بدلاؤ آگیا تھا۔شہر میں گوبر کا اپنا ایک رُتبہ تھا، ایک حیثیت تھی۔ اُس کے احباب کا ایک اچھا خاصا حلقہ تھا۔
کہتے ہیں کہ بیٹا اگر اپنے دوستوں سے اپنے باپ کا تعارف کراتے ہوئے شرمائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ خاندان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہوری اور دھنیا جب کبھی اپنے بیٹے کے یہاں جاتے تو ان کے دوستوں کی آمد پر انھیں گھر کے اندرونی کمروں میں منتقل کر دیا جاتا تھا، مبادا مہمان ان دیہاتوں کودیکھ کر ان کا تمسخر نہ اُڑائیں۔
یہ بات ہوری کو اندر سے کھائے جاتی تھی اور اسے ایک ہتک سی محسوس ہوتی تھی۔ اس بار ہوری اور دھنیا شہر گئے تو جلدی ہی گاؤں واپس لوٹ آئے۔اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ فصل کی کٹائی کا وقت نزدیک آگیا تھا۔گاؤں آتے ہی انھیں بڑی راحت محسوس ہوئی تھی۔ گاؤں میں انھیں ہر طرف شناسا چہرے نظر آتے۔لوگ باگ آکر ہوری کاکا سے ان کا حال چال پوچھتے۔ یہ سب ہوری کو اچھا لگتا تھا۔”یہاں کتنی اپنائیت ہے، لوگوں میں۔ گاؤں کی مٹی تک سے پاؤں مانوس ہیں۔“ہوری نے سوچا۔”اجنبی دھرتی پر قدم لڑکھڑانے سے لگتے تھے۔“
گاؤں میں رہ کر وہ خود کو بہت سکھی محسوس کرتے تھے۔
وہ دونوں بیٹا کے پاس ہوتے تو انھیں گاؤں کی یاد ستاتی اور جب گاؤں واپس جاتے تو انھیں اپنے پوتے، پوتیوں کی یادیں فکر میں مبتلا کر دیتی تھیں۔دھنیا اکثر بیمار رہنے لگی تھی۔ اسے زیادہ سوچ فکر کرنے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔ڈاکٹروں نے اسے زیادہ چنتا نہ کرنے کی صلاح دی ہوئی تھی۔دھنیا کا بس ایک ہی ارمان رہ گیا تھا۔وہ اپنی پوتی کی گود ہری دیکھنا چاہتی تھی۔
وہ اپنے تین تین بچوں کی شادیوں میں ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نہ کرپائے تھے۔لیکن اب وہ کافی فارغ البال ہوچکے تھے۔اب ان کی خواہش تھی کہ بڑی پوتی نین تارا کی شادی وہ بہت دھوم دھام سے کریں گے۔بڑھاپے میں دونوں ایک دوسرے کی سوچ سے اس قدر مانوس ہوچکے تھے کہ ایک کے ذہن میں کیا چل رہا ہے دوسرے کو خود بخود پتا چل جاتا تھا۔دونوں میں، اب بھی وہی پرانی ہم آہنگی برقرار تھی بلکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید پختگی آگئی تھی۔
جب دھنیا نین تارا کی دھو م دھام سے شادی کرنے کی بات سوچ رہی تھی تبھی ہوری بول اٹھا ”گیہوں ں کی پکی ہوئی بالیاں کٹائی کے لیے تیار کھڑی ہیں۔“گیہوں کی لہلہاتی ہوئی سنہری بالیوں کی طرف ہاتھ سے دکھاتے ہوئے ہوری نے اپنی بات جاری رکھی۔”لکشمی دیوی کی کرپا سے اب کی فصل اچھی آئی ہے۔سوچتا ہوں۔نین تارا کا منگیتر آئی اے ایس آفیسر ہے اس کی شادی بھی اسی شان سے ہونی چاہیے۔امسال مزدوروں کی پائی پائی مزدوری چکادی ہے۔اس لیے نسچنت ہوں کہ پورے کا پورا گیہوں سیدگے سرکاری گودام میں پہنچا کر اچھی رقم کھڑی کرلوں گا۔
دھنیا چین کی لمبی سانس لی۔”شکر ہے تمہیں میری ترکیب سمجھ میں آگئی ورنہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وہی رونا روتے کہ ادھیہ بٹائی کے دینے پڑیں گے۔
…..ابھی دھنیا نے اپنا آخری جملہ زبان سے ادا کیا ہی تھا کہ وہ کھیت کے آخری سرے پر جہاں زمین اور آسمان مل رہے تھے،کچھ دیکھ کر ٹھٹک سے گئے ہھیاروں سے لیس نکسلیوں کا پورا قافلہ نہر کے کنارے سے گزر رہا تھا۔دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا تھا گویا چیوٹیوں کی لمبی سی لکیر اپنے صراط مستقیم پر رینگ رہی ہے۔لیکن اصل میں،اس لرزہ بر اندام کر دینے والے منظر نے کچھ دیر کے لیے ان کے اوسان خطا کر دیے تھے۔آئے دن نکسلیوں ہلا بول سے زمین زمین داروں کی نیند یں حرام ہورہی تھیں۔
اس نے سوچا۔”یہ معمولی سی چیونٹیاں بھی اگر اکھٹی ہو جائیں تو کتنی شکتی شالی ہوجاتی ہیں۔“ اچانک اسے محسوس ہواجیسے بے شمار چیونٹیاں اس کے اعصاب پر،اس کے دل و دماغ پر رینگتی چلی آرہی ہیں۔اس خیال سے لمحہ بھر اس کا سارا بدن سہر اٹھا اور اس کی زبان گنگ ہوگئی۔
لیکن مستقبل کا خواب اتنا زبردست تھا کہ اس کے میٹھے میٹھے رس سے وہ دونوں ایک بار پھر مسرور ہو اٹھے۔پکی ہوئی فصل دو تین روز میں کٹنے والی تھی۔کھیت کے بیچو بیچ بجوکا کھڑا آج کچھ عجیب انداز سے مسکرا رہا تھا۔ہوری نے محسوس کیا،اس کی معنیٰ خیز مسکراہٹ کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے جس سے وہ محظوظ ہورہا ہے۔لیکن دوسرے ہی لمحہ اس نے ایسے لایعنی خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا۔بجوکا بھی بھلا مسکرا سکتا ہے؟ اس نے اسے گھر کے پھٹے پرانے کپڑوں سے بنا کر خود اپنے ہاتھوں سے اس کھیت میں کھڑا کیا ہے۔اس میں اتنا سعور کہاں کہ وہ مسکرا بھی سکے۔ضرور یہ اس کا وہم ہوگا۔معااس کے دماغ میں بیتے دنوں کی یاد تازہ ہوگئی۔
دور غلامی میں جب انگریزوں کا راج پاٹ تھا۔لال پگڑی اور خاکی وردی والا ایک سپاہی بھی گاؤں سے گزرجاتا تو اسے دیکھ کر لوگ باگ خوف سے کانپ اٹھتے تھے۔اس قدر رعب تھا کبھی ان کا ہم ہندوستانیوں پر۔
لیکن اب ہم آزاد ہیں۔ہماری اپنی حکومت ہے۔پرشاسن بھی اپنا ہے۔اپنی عدالت ہے اور پولیس بھی ہماری اپنی ہے۔نہ مہاجن گلا دباتا ہے نہ لگان کی وصولی کا خوف ہے اور نہ ہی زبردستی۔کیسے اچھے دن آگئے ہیں۔جیسے دن چاہے جیؤ۔جیسے جی چاہے کھاؤ۔جیسے جی چاہے پیؤ!
”سنا ہے نکسلیوں نے بڑے ٹھا کر کے بیٹے کو اگوا(اغوا) کرلیا ہے؟“
دھنیا نے جب اپنی مری سی آواز میں ہوری سے دریافت کیاتو اس کے چہرے سے گہری تشویش ظاہر ہورہی تھی۔
”ہاں!پر اس سے ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے۔“ہوری نے قدرے لا پروائی سے جواب دیا۔”پھروتی کی رقم نہ ملنے پر انھوں نے اسے جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی ہوئی ہے۔“ ہوری نے یہ بار کچھ اس انداز سے کہی گویا دھنیا کو فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
لیکن …. دھنیا اس جواب سے با لکل بھی مطمئن نہ تھی۔ اس کے باوجود ہوری سے مزید سوال پوچھ کر اسے پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی۔وہ چپ چاپ ہوری کے پیچھے پیچھے پگڈنڈی پر قدم جما کر برابر چلتی رہی۔شہر سے آکر سب سے پہلے وہ اپنے کھیت پر گئے تھے۔وہاں سے جب سب کچھ ٹھیک ٹھیک پایا تو گھر آکر دونوں نے اطمینان کی سانس لی تھی۔
ہوری لمبی مسافت سے تھک چکا تھا۔اپنے ہاتھ منھ پونچھنے کے بعد انگو چھا کندھے پر پھینکتے ہوئے اس نے کہا۔
”میں ثابت کردوں گا کہ گوبر دھن کا خیال غلط ہے۔
میرا بڑے شہر کو ہجرت نہ کرکے گاؤں میں رہنے اور اپنے پرکھوں کی زمین پر کاشت کرنے کا فیصلہ کتنا صحیح ہے۔“
دھنیا گڑ کی کچھ بھیلیاں اور ایک لوٹا کنوے کا تازہ کھینچا ہوا ٹھنڈا پانی رکھ کر ایک طرف بیٹھ گئی اور حقہ کے لیے چلم تیار کرنے لگی۔
”ایشور کی دیا سے آج ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں۔“ دھنیا نے کہا ”ہم پوتی کی شادی میں دل کھول کر خرچ کرنے کی چھمتا رکھتے ہیں۔“
دھنیا!تم بس دیکھتی جانا،ہم اپنی پوتی کا بیاہ کس دھوم سے دھام سے کریں گے۔“
ہوری نے یہ بات چیلم کا کش لگاتے ہوئے کہی۔”دنیا،سماج سب عش عش کرتے رہ گائیں گے۔“
ان کے یہ جذبے اور یہ سوچ ہوری ہوری اور دھنیا کو ایسے بڑھاپے میں بھی اندر سے توانائی اور سر خوشی بخش رہے تھے۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔دھنیا نے جا کے باہر کا دروازہ کھولا ڈاکیہ کھڑا تھا۔اس نے دھنیا کے ہاتھوں میں ایک خط تھما دیا۔وہ دونوں خط پا کر اچانک حیران رہ گئے۔
دھنیا نے ہوری کے ہاتھ میں خط دیتے ہوئے پوچھا۔’]سب ٹھیک ہے نا؟ خط میں بیجھنے والے کا نام پتا نداردتھا۔
ہاتھ میں خط لیے وہ دونوں حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔تھوڑے پس و پیش کے بعد لفافہ چاک کیا تو خط کے مضمون نے انھیں ایک دم ہلا کر رکھ دیا۔
ہوری کاکا لال سلام!
ہماری عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ گیہوں کی فصل میں سے ایک چوتھائی کے حصے دار تم بھی ہو۔ہم تمہاری پوری فصل نہیں اٹھائیں گے۔پورنیماشی کی را ت تمہارے گیہوں کی کٹائی ہوجائے گی۔تم اپنے حصے کا گیہوں دالان میں رکھواؤ گے یا منڈی بجھواؤ گے اس تمہیں پورا پورا ادھیکار ہے۔
جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اسی رات بتا دینا کہ کیا کرنا ہے؟
اور ہاں! خبردار جو کسی بھی طرح کی ہوشیاری دکھائی یا پولیس میں خبر کی، تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔
پرندوں سے حفاظت کرنے والا
تمہارااپنابجوکا
ہوری نے خط کا آخری فقرہ پڑھا تو بجوکا کا زہر خندمسکراہٹ میں لپٹا ہوا چہراہ ایک دم سے اس کے تصور میں گھوم گیا۔بجوکا کے راون کی طرح دس سر نکل آئے تھے اور وہ اس کی بے بسی پر زور زور سے قہقہے لگا رہا تھا۔
ہوری نے انگوچھے سے اپنے ماتھے کے پسینے پونچھے اور زیرلب بڑ بڑا یا۔
”اب پتا چلا۔کولین اس وقت کھیت میں کھڑا کیوں مسکرا رہا تھا۔“
دھنیا کچھ نہ سمجھ سکی اور وہ خالی خالی سی ہو ری کا منہ تکتی رہ گئی۔
٭٭
پرویز شہریار
آقا : جہانگیر محمد
افسانہ
(آقا)
جہانگیر محمد
* وہ ایک خاردار جھاڑ تھا اس کی نشود نما یوں ہوئی تھی، نہ پھل نہ پھول اور نہ چھاؤں ہیبت ناک اُس کے تنے پر کانٹے ہی کانٹے تھے ہیبت کریہہ اُس کے تمام پتّے، تنے اور جڑ کانٹے سے بھرے ہوئے تھے۔
بن موسم بن برسات اور بن کھیتی اُگ آئے تھے یہ پودے………
جب میں نے اُس کی باغبانی اور حُسن ترتیب کے لئے چھوا تو حیران رہ گیاپھر میرا ہاتھ زخمی ہوا اور بہت دیر تک ہمارا قلم لہو لہان ہوا…….
اُس کا نام حَکم آزاد تھا۔ اس کی ریشہ دوانیاں اورنکتہ چینیاں دل آزاری کا سبب تھیں اور جس کا وہ ایک مکمل باب تھا۔ سارے کرتوت اولجلول حرکتیں اس کی عادت میں شمار تھیں اکثر نا مناسب جملے گڑھنا اُس کا شیوہ تھا۔اُس کی جاہلانہ حر کت سے پڑھے لکھے لوگ بھی نالاں تھے ایسی اُچھی حرکتوں پر بھی وہ خوش فہمی کا شکار رہتاتھا۔ دراصل وہ عُجب کا مریض تھا۔
وہ اپنی آبادی کا نہایت ہی ظالم اور بد دماغ شخص تصورکیا جاتا تھا کوئی بھی اُس سے خوش نہیں تھا۔ کبھی اُس کی زبان سے سماج نے نرم کلام اور خوبصورت جملے نہیں سُنے تھے۔ اُس کی زبان پر ہمیشہ کانٹے دار جھاڑیاں ہی اُگ آیا کرتی تھیں وہ گرگٹ کی طرح ہمیشہ رنگ بدلتا رہتا تھا مغروریت میں ڈوبا کبر اور غرور کا جاہلانہ قصیدہ خوانی کیا کرتا تھا۔ آبادی کے ذہین لوگ اُس سے کترانے لگے تھے جب اُسے کوئی ٹوک دیتا تو وہ فوراکہتا ۔
سوئے ہوئے شیر، سوئے ہوئے سانپ، اور سوئے ہوئے راجا کو کبھی جگانا نہیں چاہیے۔
مریل گھوڑے پر وہ اکڑ کر سوار ہوتاتھا جو اُس کو جہیز میں ملے تھے۔
جب اُس کی بے حیائی ڈھیٹ پن اور ہٹ دھرمی اپنے منتہا پر پہنچنے لگی تو اُس کی طرح بیانی سے کچھ لوگ مرغوب ہو کر اُس کی نازبرداری کرنے لگے اور اس کی عقل فلک شگاف نعروں کی بلندی پر براجمان ہونے لگی حقیقت میں کبر میں ڈوبی ہوئی مونچھ کا جنم اُس کے اندرہونے لگا تھا اور یہ اپنے آپ کو میاں مٹھو کی طرح خود کوآقا سمجھنے لگا تھا۔
ایک دن اُس کا مریل گھوڑا جس پر وہ اکثر سواری کیا کرتا ایک فقیر سے ٹکرا گیا۔
فقیر نے اُس کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی وہ بہت چیخا اور چلایا سب وشتم پر اُتر آیا اہانت بھرے الفاظ میں بولا تو جانتا ہے۔ ’’ میں کون ہوں……؟‘‘
’’ میں آقا ہوں۔‘‘
فقیر نے کہا ۔ ’’ میں اور تجھے نہ پہچانوں اے حَکم آزاد تو جاہل کا باپ ہے اور خود کو آقا کہہ رہا ہے ۔ ‘‘
’’پہلے مجھے پہچان کہ میں کون ہوں…..؟ میں ملک الموت ہوں اور تجھے لینے آیا ہوں……‘‘
اس جملے کی ہیبت سے وہ چکرا یا پھر مریل گھوڑے سے گرا اور وہیں مر گیا۔
دھیرے دھیرے اُس کامردہ وجودسانپ میں تبدیل ہو گیا…….
محلے کے بچے شور مچا رہے تھے۔
اب سوئے ہوئے سانپ کو کون جگائے گا…..؟
۔۔۔۔
ببول کے کانٹے : ڈاکٹرریاض توحیدیؔ
ببول کے کانٹے
ڈاکٹرریاض توحیدیؔ
کشمیر(انڈیا)
پرنسپل کے ٹیبل پر کالج کی تمام ضروری فائلیں تہہ در تہہ پڑی ہوئی تھیں اور پرنسپل ایک ایک کرکے فائلوں کو چیک کر رہا تھا ۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور چہرے پر مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔ تمام فائلیں صحیح ہونے کے باوجود نہ جانے کیوں پر نسپل کچھ زیادہ ہی ڈپرس دکھائی دے رہا تھا حالانکہ چند دنوں پہلے ہی بہترین کار کردگی کے اعتراف میں U.G.C کی ٹیم کی طرف سے اس کالج کو ” Grad-A” کے زمرے میں لایا گیا تھا اور خود پرنسپل کو، اس کی ایمانداری اور اپنے پیشے میں اچھی کار کردگی کے عوض کئی ایوارڈ زسے نوازا گیا تھا۔ اُس کے بہت سارے شاگرد اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور انھیں پرنسپل کے شاگرد ہونے پر فخر تھا ۔ لیکن آج اُسے سب کچھ عجیب سالگ رہا تھا ۔ جس کالج میں وہ شان سے قدم رکھتا تھا آج کالج کے احاطے میں قدم رکھتے ہوئے اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کسی بڑے قید خانے میں داخل ہو رہا ہے اور اُس کا آفس جیل کا پنجرہ بن گیاہے اور وہ خود کوئی بڑا مجرم ہے جس کو آج سزا ملنے والی ہے۔ اُس کا ذہن اُستاد کے مقدس پیشے کے بارے میں سوچنے لگا کہ سماج میں استاد کا رتبہ سب سے برتر مانا جاتا ہے اور قوم کوبنانے میں ایک استاد کلیدی رول ادا کرتا ہے اور اُس کی تعلیم و تربیت ہی سے ایک آدمی ، انسان بن جاتا ہے۔ پرنسپل کا ذہن ابھی اسی ادھیڑ بن میں الجھا ہوا تھا کہ چپراسی نے آفس میں داخل ہو کر منسٹر کے آمد کی اطلاع دے دی ۔ یہ سنتے ہی اُس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔
آج وزیر تعلیم کو کالج کا دورہ کرنا تھا۔ وزیر تعلیم نے چند مہینے پہلے ہی اپنی وزارت کا قلمدان سنبھالا تھا اور یہ اُس کا پہلا دورہ تھا۔ یہ منسٹر چند سال پہلے اس کالج میں زیر تعلیم تھا ۔ وہ ایک بڑے سیاسی لیڈر کا لڑکا تھا اور کالج میں ہمیشہ غنڈہ گردی کرتا رہتا تھا۔ کئی بار کالج کے اسٹاف اور اسٹوڈنٹس نے پرنسپل کے سامنے اُس کی غیر شائستہ حرکتوں کی شکایت کی اور پرنسپل بھی اُس کو سُدھر نے کی نصیحتیں کرتا رہا لیکن وہ اپنی بُری عادت سے باز نہیں رہا ۔ آخر کا ر ایک دن اُسے کالج سے نکالا گیا وجہ یہ تھی کہ امتحان کے دوران جب اُسے نقل کرنے سے روکا گیا تو وہ غنڈہ گردی کرنے پر اتر آیا اور پرنسپل کے گریبان پر ہاتھ ڈالا ۔ یہ غنڈہ گردی کی انتہا تھی ۔ اُسے پولیس کے حوالے کیا گیا اور ساتھ ہی بیڈ کریکٹر کی سر ٹیفکیٹ بھی اُس کے ہاتھ میں تھما دی گی۔
وقت گزرتا گیا۔ الیکشن کا وقت قریب آرہا تھا۔ ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے اُسے منڈیٹ ملا اور الیکشن جیتنے کے بعد اُسے وزیر تعلیم بنایا گیا۔
منسٹر بڑے کر وفر کے ساتھ پرنسپل کے آفس میں داخل ہوا ۔ اُس کے ساتھ دوسرے کئی بڑے افسران بھی تھے ۔ کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے کالج کا ریکارڈ طلب کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک افسران نے ان فائلوں کا بغورجائزہ لیا ۔ تمام افسران نے ریکارڈ صحیح ہونے کی تصدیق کی اوراپنی رپورٹ منسٹر کے سیکرٹری کے حوالے کردی ۔ سیکر ٹری نے یہ رپورٹ منسٹر کو تفصیلاً بتادی ۔ رپورٹ سننے کے بعد منسٹر نے پرنسپل سے تیز لہجے میں پوچھا :
’’ ہمارے پاس شکایت آئی ہے کہ اس کالج میں نقل کی وبا پھیل چکی ہے۔ امتحان کے دوران ہر ایک لڑکے سے پیسہ لیا جاتا ہے اور پھر انھیں نقل کرنے کی چھوٹ دی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اس کا لج کا رزلٹ دوسرے کالجوں کے مقابلے میں ہمیشہ اچھا نکلتا ہے آپ لوگ سرکاری کرسی کا غلط استعمال کرتے ہو۔‘‘
’’ یہ سراسر غلط الزام ہے، اس کالج کا جو بھی طالب علم اچھے نمبرات لے کر پاس ہوجاتا ہے وہ اساتذہ کی محنت اور اس طالب علم کی قابلیت کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ نقل کرنے کی چھوٹ ۔ ویسے تو آپ خود اس بارے میں اچھی طرح سے جانتے ہیں۔‘‘ پرنسپل نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کردی۔
یہ سنتے ہی منسٹر کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہوگیا اور پرنسپل کو معطل کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ ایک پریس رپورٹر نے جب اس معاملے پر پرنسپل سے کچھ کہنے کو کہا تو پرنسپل نے اپنے آفس سے نکلتے ہوئے کہا۔
’’ جمہوریت ایک ببول پیڑ کی طرح ہے جس کے نوکیلے کانٹوں کو عوام جانے انجانے میں اپنے ووٹو ں سے تاج کی صورت عطا کرتے ہیں اور کاغذی پیرہن پہنے ہوئے لوگ صرف زخمی ہوجاتے ہیں۔‘‘
email.drreyazbhat@yahoo.in