جمیلہ کا وجود : پیغام آفاقی
افسانہ
جمیلہ کا وجود
پیغام آفاقی
جمیلہ نے کب خواب دیکھا تھا کہ اس کی آوازریڈیو اور ٹی۔وی۔ پر نہ صرف اپنا سکہ جمالے گی بلکہ کروڑوں سامعین اور زندہ خبروں کے درمیان کھڑی اپنے لہجے کا بامعنی استعمال کرکے جدید ترین دنیا کے سب سے طاقتور ذریعہ تر سیل کو اپنی شخصیت کا اس طرح حصہ بنا لے گی کہ اس کی آواز کے بغیر نیوز پھیکی دکھنے لگے گی۔ بہار کے اس دور دراز گاؤں میں پیدا ہونے والی اس آواز اور پروقار چہرے کی صلاحیت کو تو در اصل اس نوجوان نے ہی پہچانا تھا۔
وہ نوجوان خود بھی کم نہ تھا۔کامرس کی کون سی کتاب تھی جو اس کے أے مشکل تھی۔ کتابوں کو تو اس نے کبھی کوئی مسئلہ ہی نہ سمجھا۔اور آسمانوں پر کمند ڈالنے کا خواب اس کی گھٹی میں تھا۔ میڈیا پر اس کی نظر تھی۔جمیلہ کو دیکھتے ہی اس کو خیال آیا تھا کی اپنی اور جمیلہ کی جوڑی کو وہ ایک بہت بڑی طاقت میں تبدیل کرسکتا ہے ۔بینک میں ایک بڑی ملازمت ملتے ہی اس نے جمیلہ سے شادی کرلی ۔
جمیلہ سے شادی طے ہوتے ہی اس نے پلان کرنا شروع کردیا تھاکہ وہ کیا کیا کرے گا۔ جمیلہ ذہین تھی، خوبصورت تھی۔اور سب سے بڑھ کر خود اعتمادی سے بھر پور تھی۔اس نے جب جمیلہ کو بی۔اے۔ اور ایم۔اے۔ کا امتحان دینے کے لئے کہا تو جمیلہ کے اندر انکور پھوٹنے لگے۔ایک ایسا شوہر ملنا اس کے أے قسمت کی بات تھی جو شوہر اس کے ماحول کی قدامت پرستی سے اس کو ہاتھ پکڑ کر باہر لے جانے کے لئے تیار تھا۔ جمیلہ نے اپنے گھر کے اندر سے ہی کتابوں کے زور پر بی۔اے۔ کا امتحان دیا۔نتیجہ چونکانے والا تھا ۔ وہ کالج میں اول آئی تھی۔
شہاب کو اندازہ ہوگیا کہ اس نے جو سوچا تھا وہ سچ تھا۔ایم۔اے۔ کے امتحان میں بھی جمیلہ اول آئی۔ یہ شہاب کے لئے کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔اس کو تو اب یہ فکر لگی تھی کہ پٹنہ سے دلی کب پہنچے ۔وہ اپنے پٹنہ سے دلی کے تبادلے کی کوشش میں لگ گیا۔اور اس دوران اس نے گھر میں ناولوں اور کہانیوں کی ڈھیر لگادی۔
ایک دن وہ جمیلہ کو ریڈیو اسٹیشن لے گیا۔ وہاں وہ پروڈیوسر سے بات کر کے آیا تھا۔وہاں جمیلہ کا آڈیشن ہوا۔ریڈیو پر جمیلہ کی خوبصورت آواز نے فورا ہی اپنی جگہ بنالی۔وہاں کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر نے شہاب کو مبارکباد دی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ جمیلہ کی آواز نے وہاں کے ریڈیو اسٹیشن کے ماحول میں ایک نیا رنگ گھول دیا ہے۔لیکن جس وقت وہ شہاب کو مبارکباد دے رہے تھے ، شہاب کے کانوں میں جمیلہ کی آواز دور درشن ٹی۔وی۔ سے ابھرتی سنائی دے رہی تھی ۔اور پھر اس آواز کے ساتھ ہی جمیلہ کا چہرہ اسکرین پر ابھرااور ملک کی کروڑوں نظریں خبروں کے سلوٹ کے دوران جمیلہ پر مرکوز ہوگئیں اور جمیلہ کے ساتھ دور درشن کو وہ چہرہ مل گیا جس کی اس میں کمی تھی۔
دہلی کا تبادلہ ہوتے ہی شہاب اس کو لے کر منڈیہ ہاؤس پہنچا۔ جمیلہ کے ساتھ پٹنہ ریڈیو پر نیوز پڑھنے کے سرٹیفیکٹ تھے جو صرف اس کی فائل میں نہیں تھے بلکہ اس کے چہرے پر بھی دکھ رہے تھے۔دہلی میں دریا کی طغیانی سمندر میں اتر چکی تھی۔جمیلہ کو اندازہ ہونے لگا کہ یہاں کامیابی کے لئے صرف آواز اور چہرہ کافی نہیں تھے۔لیکن اسے اپنی شخصیت کی طاقت کا بھی اندازہ تھا۔اس نے ٹھان لیا کہ وہ کسی اور چیز کا سہارا نہیں لے گی۔
شہاب کو جو کامرس کا طالب علم رہ چکا تھااور بنک میں ملازمت کرتا تھایہ محسوس کرتے دیر نہیں لگی کہ عارضی طور پر نیوز پڑھنے کا کام ایک مزدوری جیسا تھا۔اور جمیلہ جہاں پہنچی تھی وہاں مزید کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔اصل پیسہ تو سیریل اور دوسرے پروگرام بنانے میں تھا۔اس پیسے کے سامنے تو بنک سے ملنے والی تنخواہ بھی کچھ نہیں تھی۔اب اس کو اپنی نوکری اور جمیلہ کی نیوز ریڈنگ دونوں میں کمی دکھنے لگی۔وہ دور درشن پر سیریل پاس کروانے کے خواب دیکھنے لگا لیکن تجربے کی کمی کی وجہ سے اسے سیریل پاس کروانے میں کامیابی نہیں ملی۔اس نے دوسروں کے سیریلوں میں جمیلہ کے لئے اینکر کا کام ڈھونڈ لیا۔
دہلی کی سیڑھیاں ذرا اونچی اونچی، دشوار اور پیچیدہ تھیں ۔لیکن چڑھنے والے چڑھ رہے تھے۔شہاب نے جمیلہ کا داخلہ جے۔این۔یو۔ میں ایم فل میں کروایا۔اور کتابوں ا اور رسالوں کی ڈھیر لگادی۔ جمیلہ کو اپنے کیریر میں شہاب کا اس طرح ہاتھ پکڑ کر آگے لے جانا ، جگہ جگہ اہم لوگوں سے اس کا تعارف کروانا، دشوار گز ار راہوں سے آسانی سے لے کر گزر جانا، ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کی صلاحیت کے اظہار کے لئے مواقع پیدا کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔وہ اپنی قسمت پر نازاں تھی ۔اس کو اتنا اچھا شوہر ملا۔اس نے شہاب کے بازوؤں میں وہ سب کچھ پالیا تھا جس کی وہ تمنا کرسکتی تھی۔
شہاب نے اب بلندی کی دوسری گلیاں اور سیڑھیاں بھی دیکھ لی تھیں ۔ بلند و بالا عمارتیں، قیمتی فلیٹس،کاریں ، ہوٹلوں کے کھانے۔ یہ سب گویا اس کا انتظار کر رہے تھے۔اس کے گھر میں ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی آمد بھی ہوچکی تھی۔ایک مکمل خوبصورت فیملی بن چکی تھی۔اب صرف ادھورے خوابوں کو پورا کرنا تھا۔ جمیلہ دل و جان سے شہاب پر فدا تھی۔شہاب کی فکر پرور آنکھوں سے اسے بے حد پیار تھا۔وہ کیا کیا نہیں سوچتا تھا۔کہاں کہاں نہیں جاتا۔روز ایک نئے ارادے سے گھر سے نکلتا۔اور شام تک کچھ نہ کچھ لے کر لوٹتا۔
ادھر جمیلہ نے بھی گھر کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں اور شہاب کے مالی منصوبوں میں حتی ا لامکان شرکت کرنے کی ٹھان لی تھی۔مالی ضرورتیں کئی طرف سے سر اٹھا رہی تھیں۔بچوں کے اخراجات، مکان کا کرایہ، کوئی اپنا مکان لینے کے لئے پیسوں کی ضرورت ، گھر میں کام کرنے کے لئے کمپیوٹر، ٹیبل، ساتھ آنے جانے کے لئے کار۔ جمیلہ آمدنی والے کسی بھی کام سے انکار کرنا نہیں چاہتی تھی۔ریڈیو اور ٹی۔وی۔ پر زیادہ سے زیادہ کام، سیریلوں میں اینکرنگ، اس کے لئے جگہ جگہ انٹرویو کے لئے جانا،بچوں کے لئے کھانا بنا کر جانا، اپنا کھانا ساتھ لے کر جانا۔ادھر شہاب نے بھی جمیلہ کو ہر طرح سے آگے بڑھانے کی ٹھان لی تھی۔اس کی پڑھنے میں مدد کرنا، لکھنے میں مدد کرنا۔ کبھی اسے یونیورسٹی چھوڑنا یا اسے لانا۔کبھی ریڈیو اسٹیشن چھوڑنا یا اسے وہاں سے لانا۔
شہاب نے جمیلہ کے نام سے دور درشن میں ایک دوسراپروجکٹ بھی ڈال رکھا تھا۔مل ملا کر سیریل پاس ہوگیا۔پانچ دس لاکھ کا فایدہ کہیں نہیں گیا تھا۔ جمیلہ اینکرنگ کرلے گی۔وہ کسی ٹیکنیشین کو لے کر شوٹ کر لے گا۔پندرہ بیس دنوں کا کام تھا۔باقی ایڈیٹنگ تو وہ خود دن رات محنت کر کرا کے کر لے گا۔لیکن جب یہ سیریل بننے لگا تو جمیلہ کو اس میں مزہ نہیں آیا۔وہ مشہور لوگوں سے خوبصورتی کے ساتھ بات تو کرلیتی تھی لیکن اس میں وہ شان کہاں تھی جو کروڑوں لوگوں کی ٹکی ہوئی نگاہوں کو اسکرین پر مخاطب کرنے اور ان کی توجہ کو اپنی شخصیت کی کشش سے باندے رکھنے میں تھی۔اس کو اپنے چہرے اور لہجے اور آواز کی طاقت کا پورا احساس تھا اور جب وہ نیوز پڑھتی تھی تو اسے اپنے بام عروج پر ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ اس کو اپنے وجود کو دنیا کے ذریعے تسلیم کئے جانے پر ناز تھا۔ یہ سب کچھ اس کا اپنا تھا۔ اس میں کسی کا شیئر نہیں تھا۔ اس مرتبے کی وہ تن تنہا مالک تھی ۔ جو چیزیں اس کو پیدائشی طور پر ملی تھیں اس کا یہ خالص مظاہرہ تھا۔ اور یہ سب سچ تھا، ایک ایسا سچ جس میں کسی ملاوٹ کا شبہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ وہ تھی۔ صرف وہ۔ صرف جمیلہ۔ یہ سب کچھ ایک نام سے پہچانا جاتا تھا اور وہ نام تھا جمیلہ۔ اس اظہار سے جو مسرت کے چشمے اس کے اندر پھوٹے وہ اسے مزید نکھارنے لگے اور اس کے اس نئے کنفیڈنس نے اس کی شخصیت کو ایک سیلیبریٹی میں تبدیل کردیا۔ وہ جہاں جاتی، جہاں بیٹھتی لوگ اس کا احترام کرتے۔ زندگی میں حاصل کئے ہوئے اس مقام سے وہ مکمل طور پر مطمئن تھی۔ اس کے مقابلے میں ان انٹرویوز میں کیا تھا جہاں صرف کیمرے اور تیکنی شینوں کی موجود گی میں لوگوں سے سوال کرکے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہؤے مائکروفون پر ان کی آواز ریکارڈ کرتی تھی اور کیمرے پر اس کا چہرہ بھی نہیں آتا تھا۔ وہاں نیوز میں وہ دنیا کو بتاتی تھی اور دنیا سنتی تھی۔ ایسی بڑی بڑی خبریں کہ لوگ سناٹے میں آکر اس کے چہرے سے نظریں تک نہیں ہٹاتے تھے۔
نیوز کے چند منٹ جمیلہ کی زندگی کا وہ جنون بن گئے تھے کہ نیوز پر جانے کا ایک موقع بھی وہ چھوڑنا نہیں برداشت کرسکتی تھی۔ وہ اس کا ایک پر سرور نشہ بن چکا تھا۔ یہ ٹی۔وی۔ کا وہ مقبول اسکرین ہی تھا جس کی وجہ سے اسکے نام سے کروڑوں لوگ واقف تھے۔ اور وہ گمنامی کے اندھیرے میں جینے والوں کی طرح نہیں تھی۔ اور بات صرف نیوز کی نہیں تھی کہ نیوز تو اور بھی لوگ پڑھتے تھے، بات اس کی دلنشیں آواز اور دلکش چہرے کی تھی جس کا دنیا بغیر کچھ بولے معترف تھی۔
شہاب کی سوچ مختلف تھی۔وہ سوچتا تھا کہ وہاں نیوز میں جمیلہ کو ایک نیوز پڑھنے کے صرف پانچ سو روپئے ملتے تھے۔ اور یہاں اتنی دیر میں جمیلہ تیس ہزار کا کام کرتی تھی۔اونچی اونچی عمارتوں کے درمیان کوئی فلیٹ لینے کے لئے پانچ سو روپئے سے کیا ہونے والا تھا۔صرف پانچ سو روپئے ۔ اور چھوڑنے کون جاتا ہے ؟ بینک کا ایک سینیئر منیجر۔ٹھیک ٹھاک پیسہ آتو گیا تھا۔ اب کیا ضروت تھی وہاں کام کرنے کی پانچ سو روپئے کے لئے ۔
حسین و جمیل جمیلہ اپنی بہت ساری خانگی معاملات میں الجھ ضرور گئی تھی لیکن یہ سب اسے بہت آسان لگ رہا تھا۔کیونکہ وہ جو سب سے بڑا خواب دیکھ سکتی تھی، اور جو خواب دوسروں کے لئے ایک ناقابل حصول خواب ہو سکتا تھا ، وہ پورا ہوچکا تھا، کروڑوں انسانوں کی نظروں میں ماہ کامل کی طرح دکھائی دینے کا۔ وہ کسی ایسی لڑکی سے زیادہ الگ نہیں تھی جو کسی سپرہٹ فلم کی ہیروئن بن گئی ہو۔ یہ اطمیان اس سے مشکل سے مشکل خانگی مشغولیات کو برداشت کروانے کے لئے کافی تھا۔
سیریل بننے کے بعد جب پیسہ آیا تو شہاب نے ایک بار پھر اپنے گھریلو معاملات سے لیکر نوکری اور جمیلہ کی مصروفیات پراز سرنو غور کیا۔ جمیلہ لکچرر ہوجاتی تو بہتر تھا۔ اچھی تنخواہ، یونیورسٹی کا مکان، یہ سب کچھ بہت ٹھوس بنیاد بن سکتا تھا مزید آگے بڑھنے کے لئے ۔ اور اس بنیاد کے مضبوط ہوتے ہی وہ اپنی نوکری سے آزاد ہوکر سیریل اور فلمیں بنانے کے اپنے نجی خواب بھی پورا کر سکتا تھا۔ اسے بھی نام کا شوق تھا۔ ایک افسر کو کتنے لوگ جانتے ہیں ۔ سیریل کا ڈائرکٹر اور فلم پروڈیوسر ہونے کی بات ہی اور تھی۔ نہ جانے کتنی تمنائیں ابھی تک اس کے اندر چھپی ہوئی کروٹیں لے رہی تھیں ۔ اب منزل بس تھوڑی ہی دوری پر دکھ رہی تھی۔ جمیلہ کے لکچرر بننے کے لئے کچھ ریسرچ اور کچھ لکھنا پڑھنا ضروری تھا۔ اگر وہ چند ادبی کتابیں لکھ دیتی تو یہ اس کو لکچرر کے پوسٹ کی مستحق بنا سکتی تھیں ۔ پانچ سو روپئے کے لئے نیوز پڑھنا تضیع اوقات کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس نے سوچا۔جمیلہ نے ان دنوں میں کچھ بہت اچھے مضامین لکھے تھے جب ابھی شاہد اور رفیعہ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی۔ بچوں کی پیدائش کے بعد پانچ چھ سال یوں ہی ضائع ہوگئے ۔لیکن اگر وہ دوبارہ پڑھنا لکھنا شروع کردیتی ہے تو ریسرچ بھی آسانی سے کرلے گی اور کچھ کتابیں بھی تیار ہوجائیں گی۔
اور اب جمیلہ کی ٹی۔وی۔ اور ریڈیو کی مشغولیت کی وجہ سے یہی کام نہیں ہوپارہا تھا۔ جمیلہ کی مقبولیت کی وجہ سے اسے زیادہ سے زیادہ کام ملنے لگا تھا۔ شروع میں ہفتے میں ایک بار موقع ملتا تھا۔ اس کے بعد تین بار ملنے لگا اور اب پانچ بار ملنے لگا تھا۔آفس کے اندر مقابلہ آرائی بھی شروع ہوگئی تھی کیونکہ اب عارضی طور پر کام کرنے والوں کو مستقل کرنے کے احکامات بھی آگئے تھے۔ اور اب اچھی نیوز پڑھنے والی لڑکیوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ جمیلہ با اخلاق اور ذمہ دار سمجھی جاتی تھی۔ دن ہو یا رات کسی بھی وقت نیوز کے سلسلے میں ڈیوٹی لگنے پر وہ آجاتی تھی۔ آفس کے ذمہ داران اس کے اوپر مکمل بھروسہ کرسکتے تھے۔جمیلہ کی مقبولیت اور آفس میں اس کی برتری میں اس کے اس امیج کا بڑا دخل تھا۔ جمیلہ کے لئے اپنے اس امیج کو برقرار رکھنا ضروری تھا اور کام سے انکار کرنے کو اس کے اندر پیدا ہوتے ہوئے غرور کی پہچان سمجھا جا سکتا تھا۔
جمیلہ جب سے یہاں دور درشن میں آئی تھی ایک شہزادی کی طرح رہی تھی۔ اس نے جو کچھ حاصل کیا تھا اپنی محنت سے کیا تھا۔ اس نے کبھی بھی اس کے لئے نیٹ ورکنگ نہیں کی تھی۔شہاب سے اسے بے حد محبت تھی اور وہ کہیں بھی شہاب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتی تھی۔جو لوگ دور سے ہی اس کی بے حد قدر کرتے تھے اور اسے نیوز کا سپر سٹار مانتے تھے ان کی خوشامد کرنا اسے نہ زیب دے سکتا تھا نہ اس کی ضرورت تھی۔ دلی شہر میں رہتے رہتے اس کو یہاں کے اونچ نیچ کا بہت کچھ اندازہ ہوگیا تھا۔نئی نئی لڑکیوں کے بارے میں وہ طرح طرح کے قصے سن چکی تھی ۔ افسروں کی چاپلوسی کرنا، ان کے ساتھ شام میں خالی وقت میں ریستوراں وغیرہ میں گھومنے پھرنے جانا۔ اور اس کے عوض میں ایک آدھ کام لے لینا۔لیکن ان تمام داؤ پیچ کے باوجود وہ لڑکیاں جمیلہ کے سامنے ابھر نہیں پائی تھیں ۔اور جمیلہ کو ویسا کچھ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ سیدھے گھر سے دفتر آتی تھی اور سیدھے دفتر سے گھر جاتی تھی۔ دفتر جانے کے دوران وہ اپنا موبائل بھی شہاب کے پاس ہی چھوڑ جاتی تھی۔گھر میں جب فون کی گھنٹی بجتی تو وہ اکثر شہاب کو ہی فون اٹھانے کا اشارہ کردیتی۔
جو ایک بات اس کو پریشان کر نے لگے تھی وہ اس کی مسلسل بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں تھیں ۔ جمیلہ کو اس بات کا مکمل احساس ہو چکا تھا کہ اس کی ذمہ داریاں اس کی گرفت سے باہر ہوچکی تھیں ۔ لیکن وہ ہار ماننے کے لئے تیار نہیں تھی۔ ہار ماننا تو اس نے نہ کبھی قبول کیا تھا اور نہ وہ ہار کو تسلیم کرنا چاہتی تھی۔وہ اپنی ذمہ داریوں سے اپنی بھرپور قوت کے ساتھ نبرد آزما تھی کہ اسی دوران شہاب کا تبادلہ شملہ ہوگیا۔جمیلہ نے اس صورتحال کا مقابلہ ڈٹ کر کیا۔اس نے بچوں کی دیکھ ریکھ سے لے کر یونیورسٹی اور ٹی۔وی۔ اسٹیشن تک ہر چیز کو مانو دھاگے میں پروکر ایک مالا بنا لیا اور اسے اپنے گلے میں ڈال لیا۔
جاڑے اور گرمی کے موسموں کی طغیانی سے لے کر جاگنے اور سونے کے اوقات تک تمام چیزوں کو اس نے اپنے دام ہمت میں جکڑ لیا اور جسم و روح کی تمام تر قوتوں کو جمع کر وہ اپنے انگ انگ کو ایندھن کی طرح جلانے لگی۔وہ ایک ایسی کامیاب ماڈرن عورت کا نمونہ پیش کرنا چاہتی تھی جو اپنی زندگی کو انتہائی خوب صورتی سے چلاتے ہوئے جدید زندگی میں اپنے کو ڈھال سکتی تھی۔اس کی روح کی یہ چمک اس کے دو معصوم بچوں کے دلوں تک میں اتر گئی تھی جو اس کے پیار اور ایثار سے اس قدر متاثر تھے کہ انہیں وقت بے وقت ماں کا چھوڑ کر چلے جانا بالکل ہی تکلیف دہ نہیں محسوس ہوتا۔ وہ خوشی خوشی ماں کا انتظار کرتے اور اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کے سائے کو محسوس کرتے تھے۔
اگر اس ماحول میں بچوں کو کوئی اجنبی چہرہ دکھتا تھا تو وہ شہاب کا چہرہ تھا جو حد درجہ غیر جذباتی تھا۔ہمیشہ کوئی اونچی بات سوچتا رہتا، بڑی بڑی باتیں کرنا، جمیلہ کو مختلف طرح کے سجھاؤ دینا، کبھی کاغذوں پر کچھ لکھتا، کبھی کمپیوٹر پر بیٹھ جاتا، جمیلہ کو جو بھی وقت بچوں کے لئے ملتا اس کا بیشتر حصہ شہاب ضائع کر دیتا۔جب بھی شہاب چھٹی لے کر گھر آجاتا بچوں کو ایسا لگنے لگتا جیسے ماں ان سے چھن گئی ہو۔ وہ ماں جو تنہائی میں ہر لمحہ بچوں پر ہی دھیان لگائے ہوئے گھر کا ہر کام کرتی رہتی، اس کا ذہن شہاب کی بتائی ہوئی اسکیموں میں الجھ جاتا، وہ کبھی کوئی اسکرپٹ لکھنے بیٹھ جاتی، کبھی شہاب کی دی ہوئی کوئی کتاب جلدی جلدی پڑھنے لگتی، ان دنوں وہ عموما بچوں کی تفریح کے سارے پروگرام کینسل کردیتی تھی۔
گھر کے اندر کی اس کمی کو شہاب بھی محسوس کرنے لگا تھا۔اس نے اس کا پوری توجہ سے بھرپور تجزیہ کیا۔اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر جمیلہ نیوز کے لئے جانا بند کردے تو گھر کے معمولات نارمل پر آجائیں گے۔نیوز کے پیسوں کی اب کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔اور سب سے زیادہ وقت اسی میں صرف ہورہا تھا۔نیوز کے اوقات غیر متعین ہونے کی وجہ سے گھر کے تمام معمولات بگڑ گئے تھے۔جمیلہ بہت مشکل سے سب کچھ سنبھالے ہوئی تھی ۔ْ ْشاید اس لئے، شہاب نے سوچا ، کہ اس راستے پر اسے شہاب نے ہی لگایا ہوا تھا۔اور ابھی تک اس نے خود کبھی جمیلہ کو منع نہیں کیا تھا۔ وہ تو برسوں سے، جب سے ان کی شادی ہوئی تھی، اس کے بنائے ہوئے اسکیموں پر ، اسی کی رہنمائی میں ہر کام کرتی آئی تھی۔یہ تو اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ فیصلہ کرے کہ جمیلہ کو کیا کرنا ہے ۔ اسے ریڈیو پر نیوز پڑھنے کے لئے اسی نے کہا۔ اس کو ٹی۔وی۔ نیوز کے لئے وہی لے گیا تھا۔ اس نے جمیلہ کو بی۔اے۔، ایم۔اے۔، اور ایم۔فل ۔ کرنے کے لئے کہا۔ جمیلہ نے ہر قدم پر اس کی بات
مانی اور اسی سے جمیلہ وہ سب کچھ کرپائی اور وہ سب کچھ حاصل کر پائی جو اس نے پلان کیا تھا۔ جمیلہ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے یہ تو اسی کو سمجھ میں آتا ہے ۔ یہ فیصلہ اگر وہ جمیلہ پر چھوڑے ہوا ہے تو یہ تو اسی کی لاپرواہی ہے ۔ اور اس کے نتائج اس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس میں جمیلہ کا تو کوئی رول نہیں ۔ اب گاڑی کو اس پٹری سے نئی پٹری پر لے جانا ضروری تھا۔جمیلہ کبھی کبھی بیمار پڑنے لگی تھی۔ یہ شاید اس کے بنائے ہوئے نقوش پر اندھا دھند ، آنکھ بند کرکے پوری جفا کشی کے ساتھ عمل کرنے کا نتیجہ تھا۔کہیں نا کہیں کچھ غلط ہوگیا تھا۔
شہاب کو سوچتے سوچتے جمیلہ پر ترس آگیا۔ وہ اٹھا۔جمیلہ کچن میں چپاتیاں بنا رہی تھی۔وہ وہیں پہنچ گیا۔ جمیلہ کو آدھے گھنٹے کے لئے ریڈیو اسٹیشن جانا تھا۔ اس لئے وہ بجلی کی طرح کیچن کا کام ختم کرنے میں لگی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی نوکرانی اس کی ہدایت پر جلدی جلدی برتن صاف کر رہی تھی۔
شہاب نے جمیلہ کے قریب پہنچ کر اس سے کہا۔
میں سوچ رہا ہوں، تم یہ نیوز والا کام بند کردو۔
کیوں ۔ جمیلہ چپاتیاں سینکتی ہوئی بولی۔
تمہاری مشغولیت بہت بڑھ گئی ہے۔مجھے لگتا ہے تم اتنا سب کچھ نہیں کر پاؤگی۔
ارے نہیں ۔ جمیلہ اس طرح مسکراکر بولی جیسے اس کا خوبصورت چہرہ شہاب کے اظہار شفقت سے پھول کی طرح کھل گیا ہو۔
تم کتنا کام کرلوگی۔
میں سب کرلوں گی۔ آپ فکر نہ کریں ۔
صبح کی نیوز پڑھنے کا شیڈول آگیا تو جمیلہ کو پانچ بجے صبح جانا پڑا۔ اس نے بچوں کو چار بجے صبح اٹھا کر تیار کردیا۔ کتابیں دیں ۔ ناشتہ رکھ دیا۔ کپڑے پریس کئے۔ہاتھ منھ دھلایا۔ یہ سب کچھ وہ اتنے پیار سے مسکراتے ہوئے ، اپنی میٹھی آواز کا جادو جگاتے ہوئے کرتی کہ بچے نیند کی راحت کو بھول جاتے۔جمیلہ کے جانے کے بعد وہ دیر تک اس کی موجودگی کے سحر میں گرفتار رہتے۔ تب تک جبتک اسکول کی گاڑی کا ہارن نہیں سنائی دیتا اور پھر اسکول چلے جاتے۔
آخر کار ایک دن جمیلہ بری طرح بیمار ہو ہی گئی۔ جو کچھ اس نے پچھلے دو تین برسوں میں نیوز پڑھ کر کمایا ہوگا اس سے زیادہ ایک ہفتے میں دواؤں اور الٹراساؤنڈ پر خرچ ہوگیا۔ شہاب کو ایک مہینے کی چھٹی لیکر آنا پڑا۔ یہ دن شہاب کے لئے بہت آزمائش کے تھے کیونکہ ان دنوں بیوی کی تیمارداری سے لے کر بچوں کو اسکول بھیجنے تک ہر بات پر اسے ہی دھیان دینا پڑتا۔ رفتہ رفتہ جمیلہ کی صحت بحال ہوگئی۔ چھٹی سے واپس جاتے ہوئے شہاب اسے نیوز کے لئے جانے سے منع کرگیا۔
چند دنوں بعد ٹی۔ وی۔ اسٹیشن سے فون آیا۔ جمیلہ سے رہا نہیں گیا۔اس نے ہاں کردی۔اور پھر وہی معمول شروع ہوگیا۔ لیکن بیماری کے آرام کے بعد ذہنی طور پر وہ دوبارہ تازہ دم ہو گئی تھی۔ دوبارہ نیوز اسکرین کے سامنے جاتے ہی اس کے اندر جیسے تازہ قوت بھر گئی۔
شہاب کو اپنے ذرائع سے معلوم ہو کہ دوردرشن پر کمیشن اسکیم کے تحت نئے سیریل پاس ہونے والے ہیں ۔وہ فورا چھٹی لے کر گھر آگیا۔ اس بار وہ جمیلہ کو کچھ کہنے سے پہلے اپنا نیا سیریل پاس کرا لینا چاہتا تھا۔ سیریل کے لئے اسکرپٹ لکھنی تھی۔ بازار میں اسکرپٹ لکھنے والے موجود تھے۔ لیکن اس نے سوچا کہ جب یہ کام گھر میں ہی کیا جاسکتا ہے تو باہر پیسہ کیوں دیا جائے۔ اس نے جمیلہ کو موضوع بتادیا۔ جمیلہ اسکرپٹ لکھنے پر لگ گئی۔
ادھر جمیلہ اسکرپٹ لکھنے پر لگی تھی ادھر شہاب کو بار بار خیال آتا کہ اگر وہ پی۔ایچ۔ڈی۔ کرلیتی تو بہت جلد لکچرر شپ کے لئے دروازے وا ہوسکتے تھے۔
شہاب نے دیکھا، جمیلہ کہیں جانے کے لئے تیار ہورہی تھی۔
کہاں جارہی ہو۔
دور درشن۔
مجھے بتایا نہیں کہ جانے والی ہو۔تمہیں بتانا چاہئے تھا۔ تمہیں کب کہاں جانا ہے یہ تو فیصلہ مجھے کرنا ہوتا ہے ۔ یہ میری سردردی ہے۔
میں نے سوچا آپ منع کریں گے۔
میں نے تو تمہیں پہلے ہی منع کیا تھا۔کب سے جارہی ہو ؟
دو مہینوں سے۔
تم نے فون پر بھی کبھی نہیں بتایا۔
بتانے کی کیا بات تھی ۔ سوچا کوشش کرکے خود ہی دیکھ لوں کہ ہوپاتا ہے کہ نہیں ۔ کرنا تو مجھے ہی ہے نا۔ میں نے دیکھا کہ کر سکتی ہوں اس لئے کر رہی ہوں ۔
بتانے کی بات تھی ۔ تم بتاتی تو میں تم کو بتاتا کہ میرا منع کرنا تمہاری بیماری کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ میں نے پکا فیصلہ کرلیا ہے کہ تم اب نیوز پڑھنے نہیں جاؤگی۔ تم نے ذکر کیا ہوتا تو میں تم کو بتا دیتا۔ سیریل میں بہت پیسہ مل جاتا ہے ۔ دو مہینے کی کمائی میں پانچ سال کے لئے سکون ہوجائے گا۔ تم یہ اسکرپٹ مکمل کرو۔
میں آکر کرلوں گی۔
میں اسے جلدی سے تیار کر کے جمع کرنا چاہتا ہوں ۔
میں بات کرکے آجاؤں گی۔ دو چار دن کے لئے منع کردوں گی۔
ریڈیو اسٹیشن پر جمیلہ نے بات کی لیکن شیڈول بدلا نہیں جاسکا۔ صبح کی شفٹ کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ شہاب کو یہ خبر بہت ناگوار گذری۔
تم انہیں آج سے ہی منع کردو۔ کہ دو کہ بیمار ہو گئی ہو۔
ایسا کرنا مناسب نہیں ہے ۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ بہانہ کر رہی ہوں ۔
سمجھنے دو۔ کیا کرنا ہے ۔ تمہیں یہ کرنا ہی نہیں ہے ۔
کرنا کیوں نہیں ہے ۔اتنا پیسہ کما تو لیا۔ اب پیسے کے لئے نیوز کے کام کو چھوڑنا کیا ضروری ہے ۔ جیسے اب تک سب کچھ آگے بڑھا ہے ہم لوگ اور بھی آگے بڑھیں گے۔ کچھ کام پیسے دے کر بھی تو کرائے جاسکتے ہیں ۔ میرا نیوز کا کام چھوڑنا ضروری نہیں لگتا۔
تم کو نہیں لگتا ہوگا لیکن مجھے لگتا ہے ۔ تمہارے بارے میں ساری پلاننگ میں کرتا ہوں ۔
جمیلہ کے ذہن میں یہ جملہ کانٹے کی طرح چبھ گیا۔ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
تمہیں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم اسکرپٹ لکھو۔ ریسرچ پورا کرو۔
میں وہ بھی کر لوں گی ۔آپ جانتے ہیں میں کتنا کام کرلیتی ہوں ۔ آپ کو میری محنت کرنے کی صلاحیت کا اندازہ نہیں ۔
مجھے پورا اندازہ ہے اور میں اسی اندازے کی روشنی میں سارے فیصلے کرتا ہوں ۔اب تم یہ کام نہیں کرو گی۔
ایسا کیوں ؟ میں بھی تو سمجھوں ۔
اب تم نے سوال کرنا شروع کردیا۔
اچانک شہاب کے تیور بدل گئے۔
اب تمہارا سمجھنا بھی ضروری ہوگیا۔
اس میں کیا حرج ہے ۔
تمہیں میرے فیصلے پر بھروسہ نہیں ۔ تم سمجھتی ہو کہ میں غلط فیصلے کر سکتا ہوں ۔ اور تم اس کو درست کرسکتی ہو۔ دیکھتی نہیں یہ بہت سارے کام اٹھانے سے تمہاری اور تمہارے اس گھر کی کیا حالت ہورہی ہے ۔
لیکن میں نیوز پڑھنے جانا چاہتی ہوں ۔ اسکرپٹ کسی اور رائٹر سے بھی تو لکھوا لیا جاسکتا ہے ۔
کیا ملتا ہے وہاں کبھی جوڑا ہے ۔
صرف پیسے نہیں دیکھنا چاہئے۔
مجھے اس سے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔اس سے میری ایک پہچان بنی ہوئی ہے ۔ اس کام کو چھوڑنے کا مطلب میری پہچان کی موت۔ اور دنیا یہ سمجھے گی کہ وہاں مجھ سے بہتر لوگ آگئے ہیں اور میں ہٹا دی گئی۔
تمہاری پہچان ۔ تمہاری اس پہچان کی قیمت ہے پانچ سو رپئے ۔
یہ اس لئے کہ وہاں لوگ پہچان کے لئے ہی کام کرتے ہیں ۔ کئی پیسے والے گھروں کی لڑکیاں صرف اسی وجہ سے یہ کام کرتی ہیں ۔ اور شاید اسی لئے دور درشن کو اس کام کے لئے زیادہ پیسے نہیں دینے پڑتے۔
تو تمہیں اپنی آواز سنانے اور چہرہ دکھانے کا بڑا شوق ہے پوری دنیا کو اور ان دیکھنے والوں کے لئے میری بات کاٹی جارہی ہے ۔
جی نہیں، میں آپ کی بات کاٹ نہیں رہی ہوں ۔ میں سمجھا رہی ہوں ۔ آخر میں بھی سماج کا ایک حصہ ہوں ۔ اور اپنی ایک پہچان بنا رکھی ہے ۔ اس طرح تو میرے وجود کا قتل ہو جائے گا۔
یہ جو تمہارا وجود ہے نا اسے میں نے پیدا کیا ہے۔ اور جو پیدا کرتا ہے اسے مارنے کا بھی اختیار ہوتا ہے کیونکہ وہی بہتر جانتا ہے کہ کب کیا ہونا بہتر ہے ۔ مجھے معلوم ہے اس وجود میں کیا دھرا ہے ۔
اس وجود میں میری روح کی حرارت ہے بلکہ میں جو اتنا کام کرلیتی ہوں یہ انرجی یہیں سے آتی ہے ۔
اس کے شعلے کچھ زیادہ ہی تیز ہورہے ہیں ۔ میں ابھی بجھادیتا ہوں اس آگ کو۔مجھے پتہ ہے کہ میں جس گاڑی کو چلا رہا ہوں اس میں کیسے بریک لگانا ہے۔
جمیلہ خاموش ہوگئی۔
تم نہیں جاؤ گی۔
مجھے مت روکئے ۔ آپ سمجھئے۔
شہاب خاموشی سے جمیلہ کو گھورتا رہا۔
جمیلہ نے اپنا پرس اٹھایا۔ اپنا چہرہ ایک بار آئینہ میں دیکھا۔ شہاب کی طرف دیکھنے کی اس کی ہمت نہیں پڑی۔ وہ پرس لیکر چلتی ہوئی بچوں کے پاس گئی اور انہیں پیار کرکے دروازے تک گئی اور دروازہ کھولنے کے لئے کنڈی پر ہاتھ رکھا کہ شہاب کی آواز گونجی۔
اگر دراوازے سے قدم باہر نکلا تو سمجھو وہیں طلاق۔
جمیلہ وہیں کھڑے کھڑے سرد ہوگئی جیسے اس کی روح کھینچ لی گئی۔ وہ کھڑی نہ رہ پائی تووہیں نیچے فرش پر بیٹھ کر برف ہوگئی۔ اب اس کا چہرہ نہ دروازے کی طرف تھا نہ اندر کی طرف۔ اس کی بے جان آنکھیں بغل کی دیوار پر ٹک گئی تھیں ۔ اس کو گرتے دیکھ کر اس کے بچے دوڑ کر آئے اور اس پر جھک گئے اور اور پھر انہوں نے گھوم کر شہاب کو انتہائی نفرت بھری نظروں سے دیکھا جیسے وہاں جمیلہ کی لاش پڑی ہو اور وہ اپنی ماں کے قاتل کو دیکھ رہے ہوں ۔
ختم شد
آنگن کا پیڑ : شموئل احمد
شموئل احمد
آنگن کا پیڑ
دہشت گرد سامنے کا دروازہ توڑ کرگھسے تھے اور وہ عقبی دروازے کی طرف بھاگا تھا ۔ گھر کا عقبی دروازہ آنگن کے دوسرے چھور پر تھااور باہر گلی میں کھلتا تھا ،لیکن وہاں تک وہ پہنچ نہیں پایا ….آنگن سے بھاگتے ہوئے اس کا دامن پیڑ کی اس شاخ سے اُلجھ گیا جو ایک دم نیچے تک جھک آئی تھی….
یہ وہی پیڑ تھا جو اس کے آنگن میں اُگا تھا اور اس نے مدتوں جس کی آبیاری کی تھی….لیکن بہت پہلے….
بہت پہلے پیڑ وہا ں نہیں تھا ۔ تب وہ بچپن کے دن تھے اور اس کی ماں آنگن کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتی تھی اور جنگل جھاڑ اُگنے نہیں دیتی تھی ۔لیکن ایک دن صبح صبح اس نے اچانک ایک پودا اگاہوا دیکھا تھا۔ پودا رات کی بوندوں سے نم تھا ۔ اس کی پتیاں باریک تھیں اور ان کا رنگ ہلکا عنابی تھا ۔ اوپر والی پتّی پر اوس کا ایک موٹا سا قطرہ منجمد تھا۔ اس نے بے اختیار چاہا اُس قطرے کو چھو کر دیکھے …..ہاتھ بڑھایا تو انگلیوں کے لمس سے قطرہ پتّی پر لڑھک گیا ….اس نے حیرت سے انگلی کی پور کی طرف دیکھا جہاں نمی لگ گئی تھی۔ پھر بھاگتا ہوا ماں کے پاس پہنچا تھا۔ماں اس وقت آٹا گوندھ رہی تھی اور اس کے کان کی بالیاں آہستہ آہستہ ہل رہی تھیں ۔ اس نے ماں کو بتایا کہ آنگن میں ایک پودا اُگا ہے تو وہ آہستہ سے مسکرائی تھی اور پھر آٹا گوندھنے میں لگ گئی تھی۔
ماں نے پودے کو دیکھا ۔ اس کو لگا کوئی پھل دار درخت ہے ۔ باپ کو وہ شیشم کا پودا معلوم ہوا اور موروثی مکان کے دروازے پرانے ہوگئے تھے۔ باپ اکثر سوچتا اس میں شیشم کے تختے لگائے گا۔
وہ صبح شام پودے کی آبیاری کرنے لگا ۔ اسکول سے واپسی کے بعد تھوڑی دیر پودے کے قریب بیٹھتا، اس کی پتیاں چھوتا اور خوش ہوتا۔
ایک بار پڑوسی کی بکری آنگن کے پچھلے دروازے سے اندر گھس آئی ۔ وہ اس وقت اسکول جانے کی تیاری کررہا تھا ۔ پہلے تو اس نے توجہ نہیں دی لیکن جب بکری پودے کے قریب پہنچی اور ایک دو پتیاں چر گئی تو وہ بستہ پھینک کر بکری کو مارنے دوڑا۔ بکری ممیاتی ہوئی بھاگی ۔ غم و غصے سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اس نے آنگن کا دروازہ بند کیا اور روتا ہوا ماں کے پاس پہنچا ۔ ماں نے دلاسہ دیا باپ نے پودے کی چاروں طرف حد بندی کردی۔
اس دن سے وہ بکری کی تاک میں رہنے لگاکہ پھر گھسے گی تو ٹانگیں توڑ دے گا ۔ وہ اکثر گلی میں جھانک کر دیکھتاکہ بکری کہیں ہے کہ نہیں ….؟اگر نظر آتی تو چھڑی لے کر دروازے کی اوٹ میں ہوجاتااور دم سادھے بکری کے گھسنے کا انتظار کرتا رہتا….
ایک بار باپ نے اس کی اس حرکت پر سختی سے ڈانٹا تھا۔
پیڑ سے اس کا یہ لگاؤ دیکھ کر ماں ہنستی تھی اور کہتی تھی :
’’جیسے جیسے تو بڑھے گا پیڑ بھی بڑھے گا۔‘‘
ماں پودے کا خیال رکھنے لگی تھی۔ آنگن کی صفائی کے وقت اکثر پانی ڈال دیتی۔ پودا آہستہ آہستہ بڑھنے لگا …..دیکھتے دیکھتے اس کی ٹہنیاں پھوٹ آئیں اور پتّے ہرے ہوگئے،لیکن پھر بھی پہچان نہیں ہوسکی کہ کس چیز کا پیڑ ہے ۔ باپ کو شک تھا کہ وہ شیشم ہے ۔ ماں اس کو اب پھل دار درخت
ماننے کو تیار نہیں تھی ،لیکن پودا اپنی جڑیں جما چکا تھا اور ایک ننھے سے پیڑ میں تبدیل ہوگیا تھا ۔ اب پتوں پر خوش رنگ تتلیاں بیٹھنے لگی تھیں ….وہ انہیں
پکڑنے کی کوشش کرتا ۔ ایک بار تتلی کے پر ٹوٹ کر اس کی انگلیوں میں رہ گئے…..اس کو افسوس ہوا ۔ اس نے پھر تتلی پکڑنے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ بس تتلی کو دیکھتا رہتا اور جب اڑتی تو اس کے پیچھے بھاگتا ….لیکن آنگن میں گرگٹ کا سرسرانا اس کو قطعی پسند نہیں تھا ۔ اس کے سر ہلانے کا انداز اس کو مکروہ لگتا ۔ ایک بار ایک گرگٹ پیڑ کی پھنگی پر چڑھ گیا اور زور زور سے سر ہلانے لگا ۔ اس کو کراہیت محسوس ہوئی ۔ اس نے پتھر اُٹھایا ….پھر سوچا پتّے جھڑ جائیں گے….تب اس نے پاؤں کو زمین پر زور سے پٹکا….
’’دھپ…..!‘‘
گرگٹ سرک کر نیچے بھاگا تو اس نے پتھر چلا دیا ۔ پتھر زمین پر اچھل کر آنگن میں رکھی کوڑے کی بالٹی سے ٹکرایا اور ڈھن کی آواز ہوئی تو ماں نے کھڑکی سے آنگن میں جھانکا اور اس کو دھوپ میں دیکھ کر ڈانٹنے لگی۔ وہ صبح شام پیڑ کی رکھوالی کر نے لگا ۔ وقت کے ساتھ پیڑ بڑا ہوگیا اور اس نے بھی دسویں جماعت پاس کرلی۔
وہ اب عمر کی ان سیڑھیوں پر تھا جہاں چیونٹیاں بے سبب نہیں رینگتیں اورخوشبوئیں نئے نئے بھید کھولتی ہیں ۔ پیڑ کے تنے پر چیونٹیوں کی قطار چڑھنے لگی تھی اور اس کی جواں سال شاخوں میں ہوائیں سرسراتیں اور پتّے لہراتے اور اچک کر کسی شاخ پر بیٹھ جاتا اور کوئی گیت گنگنانے لگتا ۔
پیڑ کی جس شاخ پر وہ بیٹھتا تھا ،وہاں سے پڑوس کا آنگن نظر آتا تھا ۔ ایک دن اچانک ایک لڑکی نظر آئی جو تار پر گیلے کپڑے پساررہی تھی ۔لڑکی کو اس نے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔ اس کے نقوش اس کو تیکھے لگے ۔ کپڑے پسارتی ہوئی وہ آنگن میں کونے کی طرف بڑھ گئی اور نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ۔ وہ فورااوپر والی شاخ پر چڑھ گیا جہاں سے آنگن کا کونا صاف نظر آتا تھا ۔ لڑکی کا دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا ….یکایک دوپٹّہ کندھے سے سرک گیا اور اس کی چھا تیا ں نمایاں ہو گئیں …..ناگہاں لڑ کی کی نظرپیڑ کی طرف اٹھ گئی …..وہ ایک لمحے کے لئے ٹھٹھکی….دوپٹّہ سنبھالا اور ستون کی اوٹ میں ہوگئی….لڑکی صاف چھپی ہوئی نہیں تھی۔ اس کا ایک پیر اور سر کا نصف حصہ معلوم ہو رہا تھا ۔ لڑکی نے ایک دو بار پائے کی اوٹ سے جھانک کر اس کی طرف دیکھا تو اس کی جواں سال شاخوں میں ہوا کی سرسراہٹ تیز ہو گئی …..
اب وہ خواہ مخواہ بھی شاخ پر بیٹھنے لگا تھا اورلڑکی بھی پائے کی اوٹ میں ہوتی تھی ۔ کبھی کبھی وہ بیچ آنگن میں کھڑی ہوجاتی اور اس کا دوپٹہ ہوا میں لہرانے لگتا اور ……
اور آخر ایک دن اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ لڑکی کو خفیف سا اشارہ کیا….لڑکی مسکرائی اور بھاگ کر ستون کی اوٹ میں ہو گئی ۔وہاں سے لڑکی نے کئی بار مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ….اس کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی…..چیونٹیوں کی ایک قطار پیڑ پر چڑھنے لگی…..
اور وہ گرمی سے السائی ہوئی دوپہر تھی جب لڑکی نے ایک دن عقبی دروازے سے آنگن میں جھانکا ۔ وہ بکری کے لئے پتّے مانگنے آئی تھی ۔ وہ پیڑ کے پاس آئی تو اس نے پہلی بار لڑکی کو قریب سے دیکھا ۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں جمع تھیں۔ ہونٹوں کا بالائی حصہ نم تھا اور آنکھوں میں بسنتی ڈورے لہرا رہے تھے۔
وہ پتّے توڑنے لگا ۔ اس کا ہاتھ بار بار لڑکی کے بدن سے چھو جاتا۔ لڑکی خوش نظر آرہی تھی ۔ وہ بھی خوشی سے سرشار تھا ۔ یکایک ہوا کا ایک جھونکا آیا اور لڑکی کا دوپٹّہ ….
لڑکی کی آنکھوں میں بسنتی ڈورے گلابی ہوگئے….ہونٹوں کے بالائی حصے پر پسینے کی بوندیں دھوپ کی روشنی میں چمکنے لگیں ۔ اس کا ہاتھ ایک
بار پھر لڑکی کے بدن سے چھو گیا…..اور دوپٹہ ایک بار پھر ہوا میں لہرایا اور کچے انار جیسی چھاتیا ں نمایاں ہوگئیں ….. اور وہ کچھ سمجھ نہیں سکا کہ کب وہ لڑکی
کی طرف ایک دم کھِنچ گیا…..اس نے اپنے ہونٹوں پر اس کے بھیگے ہونٹوں کا لمس محسوس کیا …..پہلے بوسے کا پہلا لمس …..اس پر بے خودی طاری ہونے لگی۔
لڑکی اس کے سینے سے لگی تھی …..اور ہونٹ پر ہونٹ ثبت تھے …..اور پیڑ کی جواں سال شاخوں میں ہوا کی سرسراہٹ تھی……زندگی کے آتشیں لمحوں کا پہلا نشہ تھا ….دل کی پہلی دھڑکن تھی …..کسی کے آجانے کا خوف تھا …..اور پیڑ پر چڑھتی چیونٹیوں کی قطار تھی ….
لمحہ لمحہ لمس کی لذّت ہوا میں برف کی طرح اس کی روح میں گھل رہی تھی ….اور شاخیں ہوا میں جھوم رہی تھیں …..اور بے خودی کے ان لمحوں میں پیڑ اس کا ہم راز تھا ….یہ شجر ممنوعہ نہیں تھا جو جنت میں اگا تھا …..یہ اس کے وجود کا پیڑ تھا جو اس کے آنگن میں اگا تھا ….اس کا ہم دم ….اس کا ہم راز …..اس کے معصوم گناہوں میں برابر کا شریک….
اچانک لڑ کی اس سے الگ ہوئی ۔ اس کا چہرہ گلنار ہو گیا تھا اور بدن آہستہ آہستہ کانپ رہا تھا …..وہ بھاگتی ہوئی آنگن سے باہر چلی گئی …..اس نے پتّے بھی نہیں لئے …..وہ دم بہ خود اس کو دیکھتا رہ گیا…..
اس بار پیڑ پر پہلی بار پھول آئے ۔
وقت کے ساتھ پیڑ کچھ اور گھنا ہوا ۔ وہ بھی جوان اور تنومند ہوگیا اور باپ کے دھندے میں ہاتھ بٹانے لگا ۔پیڑ کی موٹی موٹی شاخیں نکل آئیں اور پتّے بڑے بڑے ہو گئے ،لیکن پیڑ پھل دار نہیں تھا ۔ صرف پھول اگتے تھے جن کا رنگ ہلکا عنابی تھا۔ ہوا چلتی تو پھول ٹوٹ کرآنگن میں بکھر جاتے ۔ آنگن اور اوسارا زرد پتّوں اور عنابی پھولوں سے بھر جاتا ۔ماں کو صفائی میں اب زیادہ محنت کر نی پڑتی ۔ شام کو اس کا باپ پیڑ کے نیچے کھاٹ بچھا کر بیٹھتا تھا ۔ وہ ہمیشہ آلتی پالتی مارکر بیٹھتا اورپا جامے کو گھٹنے کے اوپر چڑھا لیتا اور آہستہ آہستہ بیڑی کے کش لگاتا رہتا ۔ اس کی ماں پاس بیٹھ کر سبزی کاٹتی اور گھر کے مسائل پر بات چیت کرتی ۔
اور ایک دن ماں نے اس کی شادی کی بات چھیڑ دی ۔ باپ نے بیڑی کے دوچار کش لگائے اور ان رشتوں پر غور کیا جو اس کے لئے آنے لگے تھے ۔
اور پھر وہ دن آگیا جب ماں نے آنگن میں مڑوا کھینچا اور محلّے کی عورتیں رات بھر ڈھول بجاتی رہیں اور گیت گاتی رہیں اور گیت کی لَئے میں پتّوں کی سرسراہٹ گھلتی رہی ….اس سال پیڑ پر بہت پھول آئے…..
اس کی بیوی خوبصورت اور ہنس مکھ تھی ۔ آہستہ آہستہ اس نے گھر کا کام سنبھال لیا تھا ،لیکن پیڑ سے اس کی دل چسپی نہیں تھی ۔ آنگن کی صفائی پر ناک بھوں چڑھاتی ۔پتّے بھی اب بہت ٹوٹتے تھے ۔ اس کی ماں آنگن کے کونے میں پتّوں کے ڈھیر لگاتی اور انہیں آگ دکھاتی رہتی۔
بیوی نے چار بچے جنے ۔ بچوں کو بھی پیڑ سے دل چسپی نہیں تھی ۔ وہ اس کے سائے میں کھیلتے تک نہیں تھے ۔ نہ ہی کوئی اچک کر شاخ پر بیٹھتا تھا ۔بڑا بیٹا تو پیڑ کو کاٹنے کے درپے تھا ۔ پیڑ اس کو بھدا اور بدصورت لگتا ۔ شاخیں اینٹھ کر اوپر چلی گئی تھیں ۔ ایک شاخ اوپر سے بل کھاتی ہوئی نیچے جھک آئی تھی ۔ تنے کی چاروں طرف کی زمین عموما گیلی رہتی ۔ بارش ہوتی تو وہاں بہت سا کیچڑ ہوجاتا،جس میں پھول دھنسے ہوتے ۔ سوکھے پتّوں کا بھی ڈھیر ہونے لگا تھا ۔ اس کی بیوی صفائی سے عاجز تھی۔ پیڑ بڑھ کر چھتنار ہو گیا تھا ۔
گھر کی ساری ذمہ داریاں اس پر آگئی تھیں ۔ باپ بوڑھا اور کمزور ہوچلا تھا اور زیادہ تر گھر پر ہی رہتا تھا ،لیکن وہ اب بھی پیڑ کے سائے میں
کھاٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتا تھا اور بیڑی پھونکتا رہتا تھا ۔ اس کو اب کھانسی رہنے لگی تھی ۔ وہ اکثر کھانستے کھانستے بے دم ہو جاتا ۔ آنکھیں حلقوں سے
باہر اُبلنے لگتیں۔اور بہت سا بلغم کھاٹ کے نیچے تھوکتا۔پھر بھی اس کا بیڑی پھونکنا بند نہیں ہوتا۔
آخر ایک دن اس کا باپ چل بسا ۔ ماں بین کرکے روئی ….وہ مغموم اور اداس پیڑ کے نیچے بیٹھا رہا….زندگی میں پہلی بار کچھ کھونے کا شدت سے احساس ہوا تھا۔
باپ کے مرنے کے بعد ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی تھیں ۔ وہ اب خود باپ تھا اور بچے بڑے ہوگئے تھے ،جو کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹانے لگے تھے ۔ وہ اب نسبتاخوش حال تھا ۔ اس کا دھندہ جم گیا تھا ۔ اس نے موروثی مکان کی جہاں تہاں مرمت کروائی تھی اور دروازوں میں شیشم کے تختے لگوائے تھے ۔ ایک پختہ دالان بھی بنوالیا تھا ۔ اس کی بیوی نئے کمرے میں رہتی تھی جس سے ملحق غسل خانہ بھی تھا ، وہ ماں کو بھی نئے کمرے میں رکھنا چاہتا تھا لیکن وہ راضی نہیں تھی ۔ باپ کے گذر جانے کے بعد وہ ٹوٹ گئی تھی اور دن بھر اپنے کمرے میں پڑی کھانستی رہتی تھی۔ دیواروں کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑ گیا تھا اور شہتیر کو دیمک چاٹنے لگی تھی ۔ وہ اس کی مرمت بھی نہیں چاہتی تھی ۔ مرمت میں تھوڑی بہت توڑ پھوڑ ہوتی جو اس کو گوارہ نہیں تھا ۔ وہ جب بھی دوسرے کمرے میں رہنے کے لئے زور دیتا تو ماں کہتی تھی کہ اپنی جگہ چھوڑ کر کہاں جائے گی۔۔۔؟ ڈولی سے اتر کر کمرے میں آئی ۔ اب کمرے سے نکل کر ارتھی میں جائے گی۔ ماں کی ان باتوں سے وہ کوفت محسوس کرتا تھا۔
وہ گرچہ خوش حال تھا ،لیکن بہت پر سکون نہیں تھا ۔ اب آسمان کا رنگ سیاہی مائل تھا اور تتلیاں نہیں اڑتی تھیں ۔ اب چیل اور کوّے منڈلاتے تھے اور فضا مسموم تھی ۔ پہلے جب اس کا باپ زندہ تھا تو رات دس بجے بھی شہر میں چہل پہل رہتی تھی ۔ اب علاقے میں دہشت گرد گھومتے تھے اور سر شام ہی دکانیں بند ہوجاتی تھیں ۔ شہر میں آئے دن کرفیو رہتا اور سپاہی بکتر بند گاڑیوں میں گھوما کرتے ۔
پیڑ پر اب کوّے بیٹھتے تھے اور دن بھر کاوں کاوں کرتے ۔کوّے کی آواز اس کو منحوس لگتی ۔ وہ چاہتا تھا اس کا آنگن چیل اور کوّوں سے پاک رہے لیکن اس کو احساس تھا کہ ان کو اڑانا مشکل ہے ۔ وہ آنکھوں میں بے بسی لئے انہیں تکتا رہتا۔
پیڑ کے سائے میں اب بیٹھنا بھی مشکل تھا ۔ پرندے بیٹ کرتے تھے اور آنگن گندہ رہتا تھا۔ ماں میں اب صفائی کرنے کی سکت بھی نہیں تھی اور بیوی کو یہ سب گوارہ نہیں تھا ۔ وہ کبھی کبھی مزدور رکھ کر آنگن کی صفائی کرا دیتا۔
آئے دن کے ہنگاموں سے اس کی بیوی خوف زدہ رہنے لگی تھی ۔ وہ کسی محفوظ علاقے میں رہنا چاہتی تھی ۔ اس کے بچے بھی یہاں سے ہٹنا چاہتے تھے اور وہ دکھ کے ساتھ سوچتا کہ آخر اپنی موروثی جگہ چھوڑ کر کوئی کہاں جائے ۔۔۔؟ اور پھر ماں کا کیا ہوتا ۔۔۔؟ ماں اپنا کمرہ بدلنے کے لئے تیار نہیں تھی ۔بھلا زمین جگہ کیسے چھوڑدیتی۔۔۔؟
لیکن ایک دن وہ اپنا خیال بدلنے پر مجبور ہوگیا ۔ اس دن وہ نشانہ بنتے بنتے بچا تھا ۔ وہ بیوی کے ساتھ سودا سلف لینے بازار نکلا تھا کہ دہشت گردوں کی ٹولی آگئی اور دیکھتے دیکھتے گولیاں چلنے لگیں ۔ ہر طرف بھگدڑ مچ گئی ۔۔۔اس کی بیوی خوف سے بے ہوش ہوگئی اور وہ جیسے سکتے میں آگیا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے کھوپڑیوں میں تڑا تڑ سوراخ ہو رہے تھے۔۔۔ اس سے پہلے کہ پولیس کا حفاظتی دستہ وہاں پہنچتا کئی جانیں تلف ہوگئی تھیں۔۔۔
دہشت گرد آنافانا اڑن چھو ہوگئے۔۔۔شہر میں کرفیونافذ ہوگیا۔
وہ کسی طرح بیوی کو اٹھا کر گھر لایا۔ ہوش آنے کے بعد بھی وہ رہ رہ کر چونک اٹھتی تھی اور اس سے لپٹ جاتی ۔ وہ خود بھی اس حادثے سے ڈر گیا تھا ۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ علاقہ چھوڑ دے گا ،لیکن اب بھی گھر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس کو بس ایک بات کی رٹ تھی کہ کوئی موروثی جگہ چھوڑ
کر کہاں جائے۔۔۔؟
وہ بھی اپنی وراثت سے محروم ہونا نہیں چاہتا تھا ۔ لیکن اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح انسان کی چھاتیوں میں سوراخ ہوتے ہیں اور خون کا فوّارہ چھوٹتا ہے ۔۔۔اور اس کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔۔۔بس شہر میں کرفیو ہوتا ہے ۔۔۔ اور بکتر بند گاڑیاں ہوتی ہیں۔
اس نے سوچ لیا کہ کہیں دور دراز علاقے میں پھر سے بسے گا ۔۔۔لیکن ماں۔۔۔
ماں زار زار روتی تھی اور حسرت سے درو دیوار کو تکتی تھی ۔ آخر ایک دن اس کی بیوی ہذیانی انداز میں چیخ چیخ کر کہنے لگی ۔
’’بڑھیا سب کو مروادے گی۔۔۔‘‘
ماں چپ ہو گئی۔۔۔پھر نہیں روئی۔۔۔اور کمرے سے باہر نہیں نکلی۔۔۔کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔
وہ اداس اور مغموم پیڑ کے پاس بیٹھ گیا ۔ پیڑ جیسے دم سادھے کھڑا تھا ۔ پتّوں میں جنبش تک نہیں تھی ۔ شاخوں پر بیٹھے ہوئے چیل اور کوّے بھی خاموش تھے ۔ صرف ماں کے کھانسنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ کبھی کبھی کسی بکتربند گاڑی کی گھوں گھوں سنائی دیتی اور پھر سنّاٹا چھا جاتا ۔ایک گدھ پیڑ سے اڑا اور چھت کی منڈیر پر بیٹھ گیا ۔ ایک لمحہ کے لئے اس کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ فضا میں ابھری اور ڈوب گئی۔۔۔ اور اس نے جھر جھری سی محسوس کی ۔۔۔جیسے گھات میں بیٹھا ہوا دشمن اچانک سامنے آگیا ہو۔۔۔اس کو لگا گدھ ،بکتر بند گاڑی اور بیمارماں ایک نظام ہے جس میں ہر اس آدمی کا چہرہ زرد ہے جو اپنی وراثت بچانا چاہتا ہے ۔۔۔
ماں اچانک زور زور سے کھانسنے لگی ۔ وہ جلدی سے کمرے میں آیا ۔ماں سینے پر ہاتھ رکھے مسلسل کھانس رہی تھی ۔ وہ سرہانے بیٹھ گیا اور ماں کو سہارا دینا چاہا تو اس کی کہنی دیوار سے لگ گئی ،جس سے پلستر بھربھراکر نیچے گر گیا اور وہاں پر اینٹ کی دراریں نمایاں ہوگئیں۔ دیوار پر چپکی ہوئی ایک چھپکلی شہتیر کے پیچھے رینگ گئی۔
وہ ماں کی پیٹھ سہلانے لگا۔کھانسی کسی طرح رکی تو گھڑونچی سے پانی ڈھال کر پلایا اور سہارا دے کر لٹا دیا۔۔۔ ماں نے ایک بار دعا گو نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا ۔ پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا ۔بیوی چادر اوڑھ کر پڑی تھی ۔ اس کے قدموں کی آہٹ پر چادر سے سر نکال کر تیکھے لہجے میں بولی:
’’تم کو ماں کے ساتھ مرنا ہے تو مرو۔۔۔میں ایک پل یہاں نہیں رہوں گی۔‘‘
وہ خاموش رہا ۔بیوی پھر چادر سے منھ ڈھک کر سو گئی۔
وہ رات بھر بستر پر کروٹ بدلتا رہا اور کچھ وقفے پر ماں کے کھانسنے کی آواز سنتا رہا ۔۔۔آدھی رات کے بعد آواز بند ہوگئی۔۔۔سنّاٹا اور گہرا ہو گیا۔۔۔
اچانک صبح صبح ماں کے کمرے سے بیوی کے رونے پیٹنے کی آواز آئی ۔ وہ دوڑ کر کمرے میں گیا ۔ماں گٹھری بنی پڑی تھی۔ اس کا بے جان جسم برف کی طرح سرد تھا۔۔۔وہ سکتے میں آگیا۔۔۔ بیوی دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔۔۔
ماں کے مرنے کے بعد اس کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا ۔کچھ دنوں کے لئے اس نے بیوی کو اس کے میکے بھیج دیا اور نئے شہر میں بسنے کے منصوبے بنانے لگا۔
ہ اداس آنگن میں بیٹھا تھا ۔ آنگن میں خشک پتّوں کا ڈھیر تھا ۔ہر طرف گہرا سنّاٹا تھا۔ ہوا ساکت تھی ۔ پتّوں میں کھڑ کھڑاہٹ تک نہیں
تھی ۔یکایک گلی میں کسی کتّے کے رونے کی آواز گونجی۔ سنّاٹا اور بھیانک ہوگیا ۔اس کا دل دہل گیا ۔ اس نے کانپتی نظروں سے چاروں طرف دیکھا ۔پیڑ اسی طرح گم صم کھڑا تھا ۔۔۔ چیل اور کوّے بھی چپ تھے۔۔۔اور دفعتاً اس کو محسوس ہوا کہ یہ خاموشی ایک سازش ہے جو چیل کوّوں نے رچی ہے اور پیڑ اس سازش میں برابر کا شریک ہے۔۔۔ تب شام کے بڑھتے ہوئے سایے میں اس نے ایک بار غور سے پیڑ کو دیکھا۔۔۔ پیڑ اس کو بھدا لگا۔۔۔’’وہ اس کو کٹوا دے گا۔۔۔‘‘ اس نے ایک لمحے کے لئے سوچا۔۔۔تب ہی پتّوں میں ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی اور ایک کوّے نے اس کے سر پر بیٹ کردیا۔ اس نے غصّے سے اوپر کی طرف دیکھا۔ کچھ گدھ پیڑسے اڑ کر چھت پر منڈلانے لگے اور اچانک دروازے پر دہشت گردوں کا شور بلند ہوا اور گولیاں چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔
وہ اچھل کر آنگن کے عقبی دروازے کی طرف بھاگا۔۔۔لیکن اچانک کسی نے جیسے کَس کر پکڑ لیا ۔۔۔ اس کو ایک اور جھٹکا لگا اور اس کا دامن پیڑ کی اس شاخ سے الجھ گیا جو ایک دم نیچے تک جھک آئی تھی ۔۔۔ اس نے اسی پل دامن چھڑانا چاہا لیکن شاخ کی ٹہنی دامن میں سوراخ کرتی ہوئی نکل گئی تھی جس کو فوراچھڑا لینا دشوار تھا۔۔۔
دہشت گرد دروازہ توڑنے کی کوشش کررہے تھے اور وہ دامن چھڑانے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔ اس پر کپکپی طاری تھی ۔۔۔ حلق خشک ہو رہا تھا ۔۔۔اور دل کنپٹیوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
اور پیڑ جو اس کا ہم دم تھا ۔۔۔ اس کا ہم راز کسی جلّاد کی طرح اس کو شکنجے میں لئے کھڑا تھا ۔۔۔ایک دم ساکت۔۔۔اس کے پتّوں میں جنبش تک نہیں تھی۔۔۔اور پھر دروازہ ٹوٹا اور دہشت گرد دھڑ دھڑاتے ہوئے اندر گھس آئے ۔۔۔ کوّے کاوں کاوں کرتے ہوئے اڑے اور آنگن میں روئے زمین کا سب سے کریہہ منظر چھا گیا۔۔۔
کاوں ۔۔۔کاوں۔۔۔کرتے کوّے ۔۔۔منڈلاتے گدھ۔۔۔ اور آدمی کا پھنسا ہوا دامن۔۔۔
اس نے بے بسی سے عقبی دروازے کی طرف دیکھا ،جہاں تک پہنچنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔اور پھر حسرت سے یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکا تھا کہ اگر وہ آنگن کے کنارے سے بھاگتا تو شاید ۔۔۔تب تک دہشت گرد اس کو دبوچ چکے تھے۔۔۔
***
ماہنامہ : اُردو آپریشن جھارکھنڈ MONTHLY URDU OPERATION , DEC – 2013
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عالمی پرواز کی ایک نئی اُڑان
بین الاقوامی اُردو ادب کا اُردوپورٹل
فکشن
کا
نیا
آسمان
ماہنامہ اُردو آپریشن (جھارکھنڈ)
شمارہ-3
دسمبر-2013
* سرپرست ڈاکٹراسلم جمشیدپوری
* مدیر خصوصی رضوان واسطی
* مدیر اعزازی جہانگیر محمد
* مدیرہ نغمہ نازمکتومیؔ
* ترتیب مہتاب عالم پرویزؔ
* زیرِاہتمام ’’ عالمی پرواز .کوم ‘‘
www.aalamiparwaz.com
aslamjamshedpuri@gmail.com mahtabalampervez@gmail.com
ایک تحریک
اُردو آپریشن
افسانوں اور ناولوں کا آئینہ
اردو آپریشن میں ہر ماہ تین افسانے شائع ہوں گے۔
ہر افسانے کا آپریشن ماہرین کے ساتھ ساتھ قارئین بھی کریں گے۔
ہر سال دس بہترین افسانوں کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
آپریشن کے نکات
۱۔افسانے کا عنوان خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب
۲۔افسانے کا موضوع خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب
۳۔ افسانے کا بیان نیا ہے ، پرانا ہے، بالکل الگ ہے۔
۴۔افسانے کی زبان بہت خوب ہے۔ماحول کے مطابق ہے، بہت خراب ہے۔
۵۔کیا اس سے پہلے بھی آپ نے ایسا افسانہ پڑھا ہے۔دونوں میں فرق واضح کریں۔ ۶۔افسانے کی پانچ خوبیاں
۷۔افسانے کی تین خرابیاں
۸۔کوئی خاص بات(مثبت یا منفی ) جس نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو۔
قارئین سے گذارش ہے کہ وہ کہانی پڑھ کر ’’ اُردو وآپریشن ‘‘ کے درج بالانکات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے طور پر آپریشن کریں، کہانی کی خوبی اور خامی کو بے جھجھک لکھیں……..
ادارہ
ہندوستان کے مشہور ومعروف افسانہ نگار جہانگیر محمد کا افسانہ ’’ آقا ‘‘ قارئین کی نذر ہے ………
افسانہ
آقا
جہانگیر محمد
* وہ ایک خاردار جھاڑ تھا اس کی نشود نما یوں ہوئی تھی، نہ پھل نہ پھول اور نہ چھاؤں ہیبت ناک اُس کے تنے پر کانٹے ہی کانٹے تھے ہیبت کریہہ اُس کے تمام پتّے، تنے اور جڑ کانٹے سے بھرے ہوئے تھے۔
بن موسم بن برسات اور بن کھیتی اُگ آئے تھے یہ پودے………
جب میں نے اُس کی باغبانی اور حُسن ترتیب کے لئے چھوا تو حیران رہ گیاپھر میرا ہاتھ زخمی ہوا اور بہت دیر تک ہمارا قلم لہو لہان ہوا…….
اُس کا نام حَکم آزاد تھا۔ اس کی ریشہ دوانیاں اورنکتہ چینیاں دل آزاری کا سبب تھیں اور جس کا وہ ایک مکمل باب تھا۔ سارے کرتوت اولجلول حرکتیں اس کی عادت میں شمار تھیں اکثر نا مناسب جملے گڑھنا اُس کا شیوہ تھا۔اُس کی جاہلانہ حر کت سے پڑھے لکھے لوگ بھی نالاں تھے ایسی اُچھی حرکتوں پر بھی وہ خوش فہمی کا شکار رہتاتھا۔ دراصل وہ عُجب کا مریض تھا۔
وہ اپنی آبادی کا نہایت ہی ظالم اور بد دماغ شخص تصورکیا جاتا تھا کوئی بھی اُس سے خوش نہیں تھا۔ کبھی اُس کی زبان سے سماج نے نرم کلام اور خوبصورت جملے نہیں سُنے تھے۔ اُس کی زبان پر ہمیشہ کانٹے دار جھاڑیاں ہی اُگ آیا کرتی تھیں وہ گرگٹ کی طرح ہمیشہ رنگ بدلتا رہتا تھا مغروریت میں ڈوبا کبر اور غرور کا جاہلانہ قصیدہ خوانی کیا کرتا تھا۔ آبادی کے ذہین لوگ اُس سے کترانے لگے تھے جب اُسے کوئی ٹوک دیتا تو وہ فوراکہتا ۔
سوئے ہوئے شیر، سوئے ہوئے سانپ، اور سوئے ہوئے راجا کو کبھی جگانا نہیں چاہیے۔
مریل گھوڑے پر وہ اکڑ کر سوار ہوتاتھا جو اُس کو جہیز میں ملے تھے۔
جب اُس کی بے حیائی ڈھیٹ پن اور ہٹ دھرمی اپنے منتہا پر پہنچنے لگی تو اُس کی طرح بیانی سے کچھ لوگ مرغوب ہو کر اُس کی نازبرداری کرنے لگے اور اس کی عقل فلک شگاف نعروں کی بلندی پر براجمان ہونے لگی حقیقت میں کبر میں ڈوبی ہوئی مونچھ کا جنم اُس کے اندرہونے لگا تھا اور یہ اپنے آپ کو میاں مٹھو کی طرح خود کوآقا سمجھنے لگا تھا۔
ایک دن اُس کا مریل گھوڑا جس پر وہ اکثر سواری کیا کرتا ایک فقیر سے ٹکرا گیا۔
فقیر نے اُس کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی وہ بہت چیخا اور چلایا سب وشتم پر اُتر آیا اہانت بھرے الفاظ میں بولا تو جانتا ہے۔ ’’ میں کون ہوں……؟‘‘
’’ میں آقا ہوں۔‘‘
فقیر نے کہا ۔ ’’ میں اور تجھے نہ پہچانوں اے حَکم آزاد تو جاہل کا باپ ہے اور خود کو آقا کہہ رہا ہے ۔ ‘‘
’’پہلے مجھے پہچان کہ میں کون ہوں…..؟ میں ملک الموت ہوں اور تجھے لینے آیا ہوں……‘‘
اس جملے کی ہیبت سے وہ چکرا یا پھر مریل گھوڑے سے گرا اور وہیں مر گیا۔
دھیرے دھیرے اُس کامردہ وجودسانپ میں تبدیل ہو گیا…….
محلے کے بچے شور مچا رہے تھے۔
اب سوئے ہوئے سانپ کو کون جگائے گا…..؟
۔۔۔۔
افسانہ ’’ آقا ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ
مہتاب عالم پرویزؔ
*جہانگیر محمد کا شمار عصر حاضر کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ جمشید پور میں آپ کو بہت ہی عزّت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ افسانے کے بہترین اُستاد ہیں اور اُن کے تمام شاگردوں کے اندر وہی جلالت شان، فن کمالات بدرجہ اُتم موجود ہے اور یہ آپ کی درسی خدمت کا ثمرہ ہے ۔تیس بتّیس سالوں کے بعد غیر دانستہ طور پرآپ کا افسانہ ’’ حقائق ‘‘ میں پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی ویسے آپ کے افسانے کی ابتدا ۱۹۷۷ء تا ۱۹۷۸ء میں ہو چکی تھی اور آپ کی پہلی کہانی ’’ ایک سفید گلاب ‘‘ جواز میں شائع ہوئی تھی پھر کئی کہانیاں جیسے ’’ لا کا سفر ‘‘ ’’ سُرخ گلاب ‘‘ اور آج کل میں ’’ ممی ‘‘ جیسے مقبول افسانے۱۹۸۳ء میں شائع ہوئے ۔ اور ان دنوں بہت ساری کہانیاں، غزلیں، نظمیں اور آزاد نظمیں میں نے سُنی ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں۔
شہر آہن کے ہی بہت سارے ادیبوں کی نشود نما آپ کے ہی ہاتھوں ہوئی جن میں ،میں بھی شامل ہوں۔
یہ الگ سی بات ہے کہ تصوف کی طرف آپ کا قلمی ملان بہت زیادہ تھا اور آخر میں اپنی زندگی کا بیش تر حصہ آپ نے اُسی میں صرف کر دیا۔آپ کی زندگی کا مقصد دین کی سرفرازی ہے۔
اور آج میں نے مجبوری میں اپنا یہ قلم اُٹھایا ہے اور یہ نئی مراجعت ہے کہ آپ کے افسانے ’’ آقا ‘‘ پر اپنے خیالات اور اپنے تصورات کا اظہار کر سکوں۔ویسے مجھے احساس ہوتا کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں، اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ کہانی کار بھلا کیا کرسکتا ہے، ایک بہاؤ ہے جو اندر کی سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے۔ اور قلم دوڑنے لگتا ہے۔
حَکم اپنے پس منظر میں مکّے کا ابوجہل تھا جو ’’ آقا ‘‘ کا مرکزی کردار ہے۔ مکّے کا یہ سردار اپنے آپ کو سب سے زیادہ عقل مند سمجھتا تھا اسی تاریخی پس منظر میں یہ کہانی وجود میں آئی ہے ۔ سارے معجزے اُسی عقل مند ابوجہل کے سامنے ہوئے۔ کنکری کا کلمہ پڑھنا ، چاند کا دو ٹکڑے ہونا، اور ان سارے معجزوں کو دیکھنے کے بعد بھی حکم ( ابوجہل )ایمان نہیں لاسکا۔ ایسے ہی حالات آج کے معاشرے میں بھی موجود ہیں اور اُس کے ذرّیات ہم لوگوں کو چاروں طرف سے اپنے حصار میں لئے ہوئے ہیں۔ ہمارے سماج کی بھی آج نا گفتہ حالات ہیں ، علم کی انتہا کبر پر ہوگئی ۔ دربار ملکوت کے معلم کو لعنت کا طوق ڈال کراللہ نے راندہ درگاہ کردیا ، حالانکہ علم کی ابتدا اور انتہا طلب ہے اور شیطان کو اُس کے علم کے غرور نے کھا لیاکیونکہ اس پورے روئے زمین پر شیطان لفظ کا نام ونشان نہیں تھا جو بہکا دیتا اُس کو اپنی عبادت ، علم اور معرفت کا غرور کھا گیا جس طرح حَکم آزاد کو اس افسانے میں ملک الموت کھا گیا یہی ہے وقت کا تقاضہ جس پر ہماری نظر ہونی چاہیے اور یہ کہانی اُسی پس منظر میں لکھی گئی ہے۔کہانی علامتی ہے اور ترسیل و ابلاغ کے دروازے کھولتی ہے۔ آ پ بھی سمجھ جائیں گے اگر غور کریں گے تو یہ کہانی آپ کے آس پاس ہی موجود ہے تفہیم کی رسائی ہو جائے گی تو کہانی کھل جائے گی۔
اقتباس کے طور پر ’’ آقا ‘‘ کے چند خوبصورت باب ملاحظہ فرمائیں ………
وہ ایک خاردار جھاڑ تھا اس کی نشود نما یوں ہوئی تھی، نہ پھل نہ پھول اور نہ چھاؤں ہیبت ناک اُس کے تنے پر کانٹے ہی کانٹے تھے ہیبت کریہہ اُس کے تمام پتّے، تنے اور جڑ کانٹے سے بھرے ہوئے تھے۔
بن موسم، بن برسات اور بن کھیتی اُگ آئے تھے یہ پودے………
یہ کتنا خوبصورت استعارہ ہے جو علامتی انداز میں منظر کشی میں کردار کے اردگرد تمام مناظر کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جیسے کوئی نطفہ نا تحقیق کا لاوارث سا پودا نہ علم ،نہ عمل ،نہ کوئی تربیت اور نہ ہی ادب ، بے ادب ، بد نصیب کی روایت اس کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ جب اس کی ریشہ دوانیاں اورنکتہ چینیاں دل آزاری کا سبب بننے لگیں تو کہانی کار اُس کی اصلاح کرنا چاہتا تھا مگر اُس نے تواُس قلم کارکے ہاتھوں کو بھی زخمی کر دیا اورڈس لیا پھر قلم لہولہان ہو اُٹھا اور پھر ایک ایسی کہانی وجود میں آئی جس کا جنم نطفہ نا تحقیق سے ہوا تھا اور جس پر تمام عقل ختم ہو جاتی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا ختم العقل آقانے کبھی سچائی اور حق کو تسلیم ہی نہیں کیا اور کبر میں ڈوبی ہوئی اُس کی عقل کی مونچھیں فلک شگاف نعروں کی بلندیوں پر براجمان ہونے لگیں اور وہیں سے ابتدا ہوئی اس کہانی کی، سارے کرتوت اولجلول حرکتیں اس کی عادت میں شمار تھیں اکثر نا مناسب جملے گڑھنا اُس کا شیوہ تھا۔اُس کی جاہلانہ حر کت سے پڑھے لکھے لوگ بھی نالاں رہتے تھے ایسی اُچھی حرکتوں پر بھی وہ خوش فہمی کا شکار رہتاتھا۔ دراصل وہ عُجب کا مریض تھا۔
ویسے بھی آج کا افسانہ انسانیت کا زوال ،انسانی قدروں کی پامالی اور انفرادیت کی گمشدگی اور بے چہرگی کی شناخت بن گیا ہے یہ انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے اس عظیم انسانی المیے کا شاہد اگر کوئی زمین پر موجودہے تو وہ صرف مخلص اور حساس فنکار ہے جو افسانہ ’’ آقا ‘‘ میں روشن خیالات کی آرا سے صاف اور شفاف دکھائی دیتا ہے ۔ یعنی وہ انسان صرف آدم کا لیدر پہنے ہوئے ہے لیکن فطرتا سانپ کی طرح ڈسنے والا اور اپنے بھائیوں کو ایذا پہچانے والا زہریلا سانپ ہے۔ اُس کی پیش کش اور تکیہ کلام کے اس ایک جملے میں عیاں ہوتی ہے کہ سوئے ہوئے سانپ کو جگانا نہیں چاہیے۔
افسانے کی اصل روح اُس کا کلا ئمکس جس پر تمام لوگوں اور قاری کی نظر نہیں پڑسکی کہ جب کبر و غرور کے نعرے فلک شگاف بلندیوں پر براجمان ہونے لگے، تو وہ ایک چنگھاڑ آتشی تھی جو بجلی کی طرح حکم پر گر گئی اور اُس کی بصارت کو موت کے وقت بھی اُچک کرلے گئی اور اُس کے وجودکو بھی پاش پاش کر گئی قارئین بھی ششدر رہ گئے اور ایک بہاؤ تھا قارئین بھی ان لفظوں کے بہاؤ میں تیرنے لگے۔
دراصل یہی وہ بصارت تھی جو بہت سارے مبصرین کو اپنے ابہام میں بہا لے گئی، سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ بچے سارے شور مچا رہے تھے کہ سوئے ہوئے سانپ کو اب کون جگائے گا…….؟ یہ کیوں …….؟یہ کافی گہرا سوال ہے جو گنجینہ معنی میں اپنے اندر تفہیم کی پوری وسعت رکھتا ہے ۔ کہانی کا علامتی پیرایہ یہ ہے جو شور مچاتے ہوئے بچوں کی شکل میں نئی نسل کے طور پر افسانے کی معراج پر پہنچ گیا۔ جس سے معنی کا طلسم خود ظاہر ہونے لگتا ہے لیکن قارئین اس گہرے رمز کو چھو نہیں سکے یہی کہانی کا کلائمکس ہے جو بہت عبرت ناک ہے۔ موت کے پہلے آدمی کی اصلاح ہو سکتی ہے لیکن موت کے بعد کچھ بھی نہیں اور انجام کے اعتبار سے یہی حَکم کی موت کا بہانا بن گئی اور’’ آقا ‘‘ کے تمام غرور کا خاتمہ ہوگیا ۔ویسے یہ افسانہ کافی عبرت ناک ہے …….
*****
مہتاب عالم پرویز ؔ
مکان نمبر ۱۱ ، کراس روڈ نمبر ۶۔ بی
آزاد نگر ، مانگو جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
جھار کھنڈ ۔ انڈیا
E- mail mahtabalampervez@gmail.com
معروف افسانہ نگار مہتاب عالم پرویزؔ کا افسانہ ” کہانی کا دوسرا رُخ ” قارئین کی نذر ہے۔
کہانی کا دوسرا رُخ
مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۱۱ ، کراس روڈ نمبر ۶۔ بی
آزاد نگر ، مانگو جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
جھار کھنڈ انڈیا
E- mail mahtabalampervez@gmail.com
’’تم کہانیاں لکھتے ہو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہر لڑکی کو اپنی کہانی کا کردار بنالو۔۔۔ ‘‘
’’آخر سنبل نے تمھارا کیا بگاڑا ہے کہ تم اُسے بدنام کرنے پر تلے ہو۔‘‘
’’تم اُسے حاصل نہ کرسکے تو، اُسے پانے کا اب یہ راستہ اختیار کیا ہے۔‘‘
’’میں تمھیں اپنے خاندان کا سب سے اچھا لڑکا سمجھتی تھی، پر تم اتنے ذلیل بھی ہوسکتے ہو۔ یہ میرے وہم و گماں میں نہ تھا۔‘‘
یہ ساری باتیں اتنی تلخ تھیں کہ ایک لمحے کے لیے میں مبہوت ساہو کر رہ گیا۔۔۔
میں ایک دم ہی پھٹ پڑا۔۔۔
’’دیکھئے میری خاموشی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے وجود سے میرا آخری لباس بھی نوچ لیں۔۔۔آخر آپ کہنا کیا چاہتی ہیں۔۔۔ ؟‘‘
’’وہی جو تمھیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جانتے ہو تمھاری وجہ سے اُس نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے۔‘‘
’’میں نے ایسا کون سا گناہ کردیا کہ اسے اتنی زحمتیں اٹھانی پڑیں، یہ ساری باتیں کسی کی پھیلائی ہوئی افواہ ہے، جس کا ہم شکار ہورہے ہیں۔‘‘
’’مانا یہ ساری باتیں جھوٹی ہیں تو حقیقت پر اب زیادہ دِنوں تک پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔‘‘
’’ہاں میں سنبل سے پیار کرتا ہوں، اور یہ افسانہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، اب مجھے اپنی تباہیوں کا کوئی غم نہیں، بلکہ ڈرتا ہوں اس کی رُسوائیوں سے۔۔۔ اور صرف اسی لیے تو اب تک خاموش ہوں۔‘‘
اور اُس شام جب سنبل سے ملاقات ہوئی تو میں اسے دیکھ کرچونکا تھا۔ اس کی خوبصورت آنکھوں میں روز کی طرح کاجل کی لکیریں تھیں جو اس کی خوبصورت آنکھوں کے اسرار کو وسعت بخشتی تھیں۔۔۔ چہرے پر ہلکے میک اپ کاٹچ دیا گیا تھا جس سے اس کے سانولے سلونے چہرے پر نکھار آگیا تھا۔ اُس کے یا قوتی ہونٹ جو مجھے بے حد پسند تھے، اس وقت مجھ سے مخاطب تھے، پر نہ جانے کیوں ان یا قوتی ہونٹوں پر گلے شکوؤں کا ایک جال تھا جس کے ایک ایک لفظ کی گتھی کو سلجھاتے سلجھاتے میرا ذہن خود ہی اُلجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ جیسے کہیں کچھ غلط تھا۔۔۔ کوئی بھرم۔۔۔ کوئی سراب۔۔۔
لیکن اس سے پہلے کہ میں اُس سے ان جملوں کی وضاحت طلب کرتا، وہ جاچکی تھی۔ اور میرا وجود اس کے ان جملوں میں اٹک کر رہ گیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے اندر کوئی شیشہ ٹوٹ کر بکھر گیا ہو۔۔۔ اور اندر۔۔۔ بہت اندر سے غیر مطمئن تھا میں۔۔۔ یہ سب جیسے میرے زوال کا آغاز تھا۔
مجھے لگا کہ پودا اب ثمر آور ہوچکا ہے۔ جہاں محبت کے نہیں، بلکہ نفرت کے زہریلے اور کریہہ، بدہیئت، پھول اُگ آئے ہیں اور یہ پودے ان ہاتھوں کے تھے جنھیں میں کل تک اپنا ہم راز سمجھتا تھا۔
اور تب مجھے احساس ہوا کہ یہ سب ہمارے ساتھ کتنی بڑی سارش ہے۔
لیکن۔۔۔ !
لیکن۔۔۔ کاش تم بھی تو سمجھ پاتیں۔۔۔
اب ہر طرف جدائی کا موسم ہے۔۔۔ شاید ہماری قسمت میں وصال کے اتنے ہی لمحے آئے تھے۔ ہر طرف خوابوں کی برسات ہورہی ہے۔ شاید اب آنسوؤں سے چراغ جلیں گے۔۔۔ اور۔۔۔
اور۔۔۔ اُس رات کتنا رویا تھا میں، نہ جانے کیوں؟
باتیں ہوئیں، اور ختم بھی ہوگئیں۔۔۔ اور لوگ باگ پرانے قصّے، کہانیوں کی طرح اس سانحے کو بھی اپنے اندر کسی گوشے میں گم کرکے نئے قصّوں کی تلاش کرنے لگے۔
لیکن میرے اندر لمحہ لمحہ اندھیرا بڑھتا رہا۔۔۔ جیسے میں یوں ہی یادوں کے شور میں راتیں کاٹنے کا عادی ہوگیا تھا۔
کمرے کے اس تاریک ماحول میں جہاں ہماری محبت کے نقوش آویزاں تھے، جہاں زندگی کی ساری علامتیں موجود تھیں، اب وہاں زندگی کا چراغ گہری سیاہی کے گھیرے میں تھا۔ اور یہ سب کچھ تو صرف اس کی بدولت تھا۔ اُس دن کے بعد سے میری ویران زندگی میں وہ بہار دو بارہ لوٹ کر نہ آسکی اور میں سرابوں کا اسیر خوابوں کے جزیرے میں تنہا رہ گیا۔ اپنی بے گناہی کی لاش اپنی ہی کاندھوں پر اٹھائے آنسو بہاتا ہوا، بے سمت، نامعلوم منزلوں کی طرف گامزن۔۔۔
سامنے کارنس پر سنبل کی تصویر رکھی ہوئی ہے۔
وہی خوبصورت آنکھیں۔۔۔ وہی یاقوتی ہونٹ اور سوالوں کا وہی سلسلہ۔۔۔
کاش۔۔۔ سنبل میں تمھیں یقین دلاسکتا پر تم نے اس کا موقع ہی نہیں دیا اور جب تمھاری ناراضگی کا راز معلوم ہوا اُس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی۔
ایشٹرے میں سگریٹ سلگ رہی تھی لیکن اُسے اٹھاکر ہونٹوں تک لے جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ ان یاقوتی ہونٹوں ۔۔۔ ان خوبصورت سی کجلائی آنکھوں، اور اس سانولے سلونے چہرے کو اپنی ویراں آنکھوں سے لگانے کی خواہش اب میرے اندر کسی برساتی گڈھے کی طرح خشک ہوچکی تھی۔۔۔ خوشبوؤں میں ڈوبی ہوئی تمھاری تحریر کے بے شمار حروف لفظ بہ لفظ نہ جانے کتنی بار پڑھ چکا ہوں، لیکن ایک بھی لفظ میرے ذہن کے آئینے پر اپنا پیکرنہیں بنا سکا۔۔۔ زندگی ایک سوال بن کر رہ گئی۔
اکثر رات گئے تمھاری یادوں کا ہالہ اُس وقت ٹوٹ ٹوٹ کر منتشر ہونے لگتا ہے جب اُس بے باک عورت کی تیکھی باتیں میرے وجود کو کچوکے لگاتی ہیں۔
’تم کہانیاں لکھتے ہو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہر لڑکی کو اپنی کہانی کا کردار بنالو۔۔۔ ‘
اُس وقت نہ جانے کتنی ہی کرچیاں میرے سینے میں پیوست ہوجاتیں اور میرے کاندھے پہ میری بے گناہی کی لاش احتجاج کرنے لگتی ہے۔
مجھے احساس ہوتا کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں، اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ کہانی کار بھلا کیا کرسکتا ہے، ایک بہاؤ ہے جو اندر کی سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے۔ اور قلم دوڑنے لگتا ہے۔
اُس بے باک عورت کی تیکھی باتیں آج بھی میرے وجود کوکچوکے لگارہی ہیں اور میں غیر مطمئن، جیسے میری کوئی بڑی ہی قیمتی شے مجھ سے چھین لی گئی ہو یا کھوگئی ہو۔
سنبل سے بچھڑ جانے کے بعد اس کا سب کچھ میرے پاس ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں تھا۔ آج ایک دم سب کچھ ویسا نہیں جیسا پہلے کبھی ہوا کرتا تھا ۔
اب میری زندگی کا دائرہ بے حد محدود ہوگیا تھا۔
گھر کا مذہبی ماحول۔۔۔ پابندیاں۔۔۔ سماج کا پھیلا ہوا خوفناک جبڑا۔۔۔ زندگی اور۔۔۔ موت۔۔۔ اورسبھوں کے اپنے اپنے فلسفے ۔۔۔نشیب و فراز۔۔۔ تضادوں کی دنیا۔۔۔ امّی کی آدرش وادی باتیں۔۔۔ حق اور باطل کے وہی پرانے قصّے۔
میں پھر لوٹ آیا اپنی کتابوں کی دنیا میں جو مجھے کبھی بے حد عزیز تھیں۔
اب زندگی کو اپنے ڈھنگ سے سمجھنا ضروری تھا۔
آدمی اس پوری بھیڑ میں اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ بھیڑ موجود ہے لیکن اس کا چہرہ ۔۔۔ گردنوں کے اوپر جانوروں کے خوفناک چہرے ٹکائے لوگ ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔
واقعی زندگی کو اب اپنے طور پر ہی دیکھنا ہوگا۔
کتنی گہرائیاں تھیں ان کتابوں میں، اُن دِنوں کی یادیں اب بھی میرے اندر محفوظ تھیں۔ جنھوں نے مجھے آہستہ آہستہ سمیٹ لیا تھا اور میں ساری باتیں بھلاکر صرف کہانیاں لکھنے میں مصروف ہوگیا۔ یہی ایک سبیل تھی جہاں اپنے شناخت کے گم ہوجانے کا کوئی خوف نہ تھا۔ کیونکہ سفید کاغذ پر بکھرے ہوئے سیاہ حروف میری شناخت کا المیہ نہیں تھے۔
تیکھے ناک نقشے والی وہ عورت جسے لگاتار بچّوں کی پیدائش نے ایک ایسی دہلیز پر لاکھڑا کیا تھا۔ جہاں سے فرار کی کوئی صورت نہ تھی۔
اس کی کرنجی آنکھیں جس پر بیتی زندگی کے آثار۔ گلاب کی پنکھڑیوں سے عنابی ہونٹ اور جسم کے نشیب و فراز آج بھی اس بات کا اعلان کررہے تھے کہ یہ عورت جوانی میں کافی خوبصورت رہی ہوگی۔
اور آج اس کی چھاتی سے لپٹا اس کا ڈیڑھ سالہ بیٹا اُس کے وجود سے اپنے حصّے کا آخری قطرہ بھی چوس لینے کی کوشش کررہا تھا۔
گھر کی ساری چیزیں بے ترتیبی سے پھیلی ہوئی تھیں اور بچیّ کھیل کود میں مصروف تھے۔
اس کا شوہر، جسے ہر لمحہ اپنی بڑھتی عمر کا احساس تھا، اندر ہی اندر اپنے آپ سے ڈرا ڈرا سا رہتا تھا۔ ویسے بھی اس کے بالوں کی گاڑھی سیاہی اب ملگجے اندھیروں میں بدل رہی تھی۔
ذہن کو تھکادینے والی دن بھر کی مصروفیت نے اُس کے اندر عجیب چڑچڑاپن پیدا کردیا تھا۔ دفتر سے لوٹتے ہیں بیوی پر برس پڑا۔
’’تم نے کبھی بّچوں کی طرف توجہ دی ہے۔۔۔ تم ماں ہو۔۔۔ اور۔۔۔ ماں۔۔۔ ‘‘
’’تو میں کیا کروں۔۔۔ ؟ تم تو دفتر کے بعد بھی سیر سپاٹے میں مصروف رہتے ہو اور چھوڑ جاتے ہو مجھے اس قید خانے میں، جہاں ان حرامزادوں کی دیکھ بھال اور تمھاری ضرورتوں کو پورا کرتے کرتے میں خود ہی تھک سی جاتی ہوں اور یہ پلّہ تو میری گود چھوڑتا ہی نہیں، جب دیکھو میری چھاتی سے منہ لگائے رہتا ہے۔۔۔ ایک پل کے لیے اگر اسے ہٹالوں تو اس گھر میں قیامت آجائے گی۔‘‘
’’بچیّ آخر بچیّ ہیں اور وہ اتنے باشعور نہیں کہ انھیں سمجھایا جاسکے۔‘‘
’’کیا تم ان کے باپ نہیں۔۔۔ ؟ جب یہ تم سے نہیں ڈرتے تو میرا احترام خاک کریں گے۔ یہ مانا کہ میں نے ان پلّوں کو جنم دیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ان کو پیدا کرنے میں سارا قصور میرا ہی ہے۔ اور ویسے بھی تم نے آج تک مجھے ان پلّوں کو نام کے سوا دیا ہی کیا ہے۔ ایک پھول سی بچی مانگتے مانگتے تھک گئی ہوں۔ اس سے تو کہیں اچھا ہوتا کہ میں بانجھ ہوتی۔‘‘
’’میں جانتا تھا تم یہی کہو گی۔‘‘ پھر وہ خاموش ہوگیا اور بجھا بجھا سا نہ جانے کن خیالوں میں گم ہوگیا۔۔۔
ہر شام ایسا ہی ہوتا۔۔۔
دن بھر کی تھکا دینے والی محنت سے تھک ہار کر جب وہ دونوں بستر پر ہوتے تو بیٹی کی خواہش اس کے وجود میں انگڑائیاں لینے لگتی۔ اور اس شخص کا ہاتھ اُس عورت کی چھاتی کی طرف بڑھنے لگتا، جہاں پہلے ہی سے اس کا ڈیڑھ سالہ بیٹا اپنا حق جمانے کے لیے موجود ہوتا۔
رات کی تاریکی میں اس کی کنپٹیوں کے سفید بال واضح ہوجاتے لیکن نہ جانے کن جذبوں کے تحت وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوجاتا۔۔۔ اور خواہشوں کی گرفت مضبوط ہوتی چلی جاتی۔
اچانک بچّے کے رونے کی آوازنے اس کی خواہشوں میں ایک ٹھہراؤ سا پیدا کردیا۔۔۔ لیکن خواہشیں تھیں کہ اپنی تکمیل کی سعی میں مصروف تھیں۔
بچے رو رہے تھے۔
’’اب چھوڑو بھی، دیکھتے نہیں بچے رو رہے ہیں۔‘‘
’’تو میں کیا کروں۔۔۔ حرامزادے بے وقت ہی روتے رہتے ہیں۔‘‘
’’میں کہتی ہوں نا۔۔۔ چھوڑو میں اُسے دودھ پلاتی ہوں۔‘‘
’’تم بھی کیسی باتیں کرتی ہو، ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔‘‘
’’کیا کبھی تم نے سوچا ہے۔ دن بھر کی تھکادینے والی محنت کے باوجود جب تم اپنے وجود کا سارا بھار میرے وجود پر ڈالتے ہوتو مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب میں کافی کمزور ہوگئی ہوں اور جب تم ڈھیر ہوجاتے ہو اور تمھاری ساری تھکن میری شریانوں میں اُترتی چلی جاتی ہے تو پھر انھی سوالوں کی بازگشت مجھے ایسا سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ اگر اس بار بھی لڑکی پیدا نہ ہوئی تو؟‘‘
’’اب چھوڑو بھی اِن روز روز کی باتوں کو۔‘‘
اور وہ معصوم بچہ اب بھی روئے جارہا تھا۔
’’ارے اس حرامزادے کو چپ بھی کراؤ، نہیں تو اٹھاکر باہر پھینک دوں گا۔ مجھے کل صبح دفتر بھی جانا ہے خواہ مخواہ میری نیند خراب ہورہی ہے۔‘‘
اور اُس عورت نے نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے اپنی چھاتی سے لگالیا۔
اس عورت کی زیادہ تر راتیں ایسی ہی گزرتی تھیں، جیسے وہ ان راتوں کی عادی ہوگئی ہو۔
پھر وہی معمول۔۔۔ وہی زندگی۔۔۔ اور ۔۔۔ وہی سب کچھ۔۔۔ !
اور آج وہ شخص وقت سے پہلے لوٹ آیا ہے۔
یہ پہلا اتفاق ہے کہ گھر میں مکمل سناٹا ہے۔ اندر بچوں کے شور اور ہنگامے کی جگہ خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اُسے حیرت ہوئی۔
لیکن بیڈ روم سے آتی ہوئی سرگوشیوں نے اُس کے وجود کو جھنجھوڑکر رکھ دیا۔
’’ڈارلنگ۔۔۔ ! تمھیں لڑکی چاہیے بس اتنی سی بات۔‘‘
اُس سے اور وہاں رُکا نہیں گیا جیسے اندر کہیں زلزلہ آگیا ہو، لیکن وہیں پھر سوچ کی دنیا آباد ہوگئی۔
وہ سوچنے لگا۔۔۔ مجھے اس عذاب کو جھیلنا ہی ہے تاکہ آنے والی نسل کی حوّا وجود میں آسکے۔
وہ واپس لوٹ آیا اجنبی راستے کی طرف، اور فخر محسوس کرنے لگا کہ یہ سارے بچے میرے ہی وجود کا حصّہ ہیں۔
***
مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۔ ۱۱ کراس روڈ نمبر ۶ ۔ بی
آزاد نگر، مانگو ، جمشید پور ۔832110
E mail mahtabalampervez@gmail.com
مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘
( MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR ( KAHANI KA DOOSRA RUKH
ڈاکٹر شاداب علیم
شعبۂ اردو
سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ
اردو افسانے کا کارواں خرا ماں خراماں دس دہا ئیاں طے کرچکا ہے۔ اس مختصر مدت میں اس کو اپنی بقا کے لیے مختلف چو لے بدلنے پڑے ۔کبھی رومان پسندی کی ردا اوڑھی، تو کبھی سماجی حقیقت نگاری کا جبہ پہنا، کبھی ترقی پسندی کا عمامہ سر پر رکھا ،تو کبھی جدیدیت کے دو شالے میں پناہ لی۔ اس طرح ہمارا افسا نہ کبھی تخلیق کا مرہون منت نہیں رہا بلکہ اس میں عہد بہ عہد فنی و فکری سطح پر بہت سی تبدیلیاں ہو تی رہیں۔شاید انہی کے باعث وہ آج بھی ترو تازہ اورسرسبز و شاداب ہے۔
اردو افسا نے کی تاریخ میں وہی افسانہ نگار اہم تصور کئے گئے جنہوں نے تازہ ہواؤں کا خیر مقدم کیا اور تقلید سے انحراف برتتے ہو ئے نئی نئی فضا ؤں سے اکتساب فیض کیا۔یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا اور آج بھی مہتاب عالم پرویز ؔ جیسے افسانہ نگار ہمارے افسا نوی ادب کو اپنی تازہ کا ری کے باعث صرف نئے رجحان ہی سے نہیں بلکہ نئے امکانات سے بھی آ شنا کرارہے ہیں۔
مہتاب عالم پرویزؔ اپنی کہا نیوں کا مواد اپنے گردو پیش سے منتخب کرتے ہیں اور پھر ان افسا نوں کو اپنی زبان کی چاشنی سے شیرینی عطا کرتے ہیں۔ ان کی کہا نیوں میں جدیدیت کا رنگ وا ضح نظر آ تا ہے۔زیر نظر افسا نہ ’’کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ ایک معمہ یا ایک پہیلی نظر آتا ہے ۔عام قاری کہانی مکمل ہونے کے بعد کہانی کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہوجاتا ہے اور کہانی میں جدیدیت کی چیستانی تکنیک قاری کے دماغ کو الجھادیتی ہے۔مہتاب عالم پرویزؔ نے کہانی میں ماضی اور حال کو اس طرح پرودیا ہے کہ ایک سے دوسرے کو الگ کرنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے ۔
کہانی کا آغاز الزام تراشی سے ہوتا ہے۔افسانہ نگار پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے کہانی کی ہیروئن ’سنبل ‘ کو اپنی کہانی کا کردار بناکر سماج میں بدنام کردیا ہے۔یہی الزام سنبلؔ اور افسانہ نگار کے بیچ جدائی کی وجہ بن جاتا ہے۔اس سے قبل کہ افسانہ نگار الزامات کا جواب دے پاتا سنبلؔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے دور ہوجاتی ہے ۔جس کا اظہار افسانہ نگار ان الفاظ میں کرتا ہے:
’’میں سرابوں کا اسیر خوابوں کے جزیرے میں تنہا رہ گیا ۔اپنی بے گناہی کی لاش اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے آنسوبہاتا ہوابے سمت،نامعلوم منزلوں کی طرف گامزن۔‘‘
افسانہ نگار اپنی کہانی کے جواز میں ایک آفاقی حقیقت بیان کرکے اپنی بے گناہی ان الفاظ میں ثا بت کرتا ہے:
’’مجھے احساس ہوتا ہے کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں ، اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں ۔کہانی کار بھلا کیاکرسکتا ہے ،ایک بہاؤ ہے جو اندر کی سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے اور قلم دوڑنے لگتاہے۔‘‘
افسانہ نگار کی خود کلامی کے دوران مہتاب عالم پرویز ؔ بلا کسی تمہید ایک نئی کہانی کا آغاز کردیتے ہیں ۔ایک مڈل کلاس اوسط ہندوستانی جوڑے کی کہانی دفتر میں کام کرنے والا ایک ادھیڑ مرد اور گھر کی چہار دیواری میں قید ایک ادھیڑ عمر عورت کی کہا نی ،جو کئی لڑکوں کی ماں ہے ،گھر کی نوکرانی ہے ۔بچوں کی آیا ہے۔اور مرد کی جنسی تسکین کا ذریعہ بھی۔ لیکن جو ایک لڑکی کی پیدائش کی شدید خواہش رکھتی ہے۔وہ اپنے شوہر سے بے حد نالاں ہے کیوں کہ:
’’ایک پھول سی بچی مانگتے مانگتے تھک گئی ہوں۔ اس سے تو کہیں اچھا ہوتا کہ میں بانجھ ہوتی‘‘
یہ مسئلہ دونوں کے درمیان مستقل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ عورت کو یقین ہے کہ اس کا شوہربیٹی پیدا کر نے کے قابل نہیں ہے۔ایک روز جب شوہر وقت سے قبل گھر لوٹتا ہے ،تو گھر میں بچوں کا شور و ہنگاموں کانہ ہونا اسے حیرت میں ڈال دیتا ہے لیکن جلد ہی اس کو خاموشی کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے جب وہ بیڈ روم سے آتی ہوئی آواز سنتا ہے ۔
’’ڈارلنگ تمہیں لڑکی چاہیے ۔بس اتنی سی بات ‘‘
یہ سن کر وہ چپ چاپ واپس لوٹ جاتا ہے اور کہانی ختم ہوجاتی ہے ۔ قاری کو حیران چھوڑ کر ۔کہانی کے اس حصے میں کہی گئی کئی باتیں تسلیم کر نے کے لیے ذہن تیار نہیں ہو تا۔ایک مڈل کلاس عورت کی لڑکی کے لیے اس قدر شدید خواہش کہ وہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے اپنا جسم غیر مرد کے حوالے کردے بعید از قیاس ہے ۔آج کے سماج میں جب کہ مرد عورت پر مکمل طور پر حاوی ہے اور لڑکیاں رحم مادر ی میں قتل کی جارہی ہیں، ایک لڑکی کی خواہش کے لیے ایک گھریلو عورت کا اس حد تک گر جانا حقیقت سے دورہے ۔ایک لڑکے کے لیے اگر کوئی عورت ایسا قدم اٹھائے تو کسی حد تک مانا جاسکتا ہے۔لیکن شاید حقیقت اور افسانے میں یہی فرق ہے کہ نا ممکن حقیقت ،افسانہ بن جاتی ہے۔
اگر مذکورہ بالا حقیقت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی عورت کا کردار قابلِ یقین نہیں ۔بد ترین عورت کے لیے بھی اس کی اولاد تذکیر و تانیث کی قید کے بغیر اس کے وجود کا حصہ ہوتی ہے۔عورت کا ماں بننا اس کے وجود کی تکمیل ہے۔کہانی کار نے ماں کی زبان سے……..
’’یہ پِلّا تو میری گود چھوڑ تا ہی نہیں ۔‘‘
’’یہ مانا کہ میں نے ان پلّوں کو جنم دیا ہے۔‘‘
یا
’’ویسے بھی تم نے آج تک ان پلّوں کے نام کے سوا دیا ہی کیا ہے۔‘‘
جیسے جملے قبول کرنے سے ذہن انکار کر دیتا ہے ۔بیٹی کی خواہش کتنی بھی شدید سہی مگر ماں کے لیے بیٹے پلّے ہوجائیں یہ ممکن نہیں۔
حیران قاری جب کہانی کو سمجھنے کے لیے باریک بینی سے کہانی کا دوبارہ مطالعہ کر کے کہانی کی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کہانی کی اول اور آخری حصے کے تسلسل کی حقیقت کھلتی ہے ۔ وہ یہ کہ کہانی کاآخری حصہ یعنی مرد و عورت کی کہانی در اصل سنبل ؔ کی کہانی کا ’’ فلیش بیک ‘‘ ہے۔
مہتاب عالم پرویز ؔ نے آج کے پیچیدہ سماج کی ایک پیچیدہ کہانی تحریر کی ہے۔اگر وہ کہانی کے حال اور ماضی کی جانب ذراسا اشارہ کردیتے تو کہانی گنجلک نہ ہوکر ایک واضح کہانی بن جاتی۔اس پیچید گی کو مہتاب عالم پرویز ؔ نے ایک تکنیک کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن اس تکنیک نے کہانی کی ترسیل کو دشوار بنا دیا ہے۔
ہر فن کار اپنے اظہار میں خوش شگفتگی اور حسن کارانہ فنی رویوں کو سب سے زیا دہ اہمیت دیتا ہے۔کیوں کہ مواد اور خیال قاری کے لیے ثا نوی حیثیت رکھتے ہیں۔ فن کار اپنے خیالات و احساسات کو قاری یا سامع تک پہنچا نے کے لیے لفظوں کا سہا را لیتا ہے۔ لفظ یا اظہار بیان خوبصورت نہ ہوں تو بہتر خیال بھی اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔مہتاب عالم پرویزؔ صا حب اس فن سے بخو بی وا قف ہیں۔
کہانی میں اول تا آخر مہتاب عالم پرویز ؔ کی زبان کی چاشنی بر قرار رہتی ہے۔کہیں کہیں تو ان کی نثر نثری نظموں کا مزہ دیتی ہے۔ملاحظہ ہو:
’’دیکھیے میری خاموشی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے وجود سے میرا آخری لباس بھی نوچ لیں۔‘‘
ایک جگہ ان کے جملے کا نوں میں اس طرح شہد گھول دیتے ہیں:
’’ اس کی خوب صورت آنکھوں میں روز کی طرح کا جل کی لکیریں تھیں جو اس کی آنکھوں کے اسرار کو وسعت بخشتی تھیں۔‘‘
یا یہ:
’’اب ہر طرف جدائی کا موسم ہے۔شاید ہماری قسمت میں وصال کے اتنے ہی لمحے آئے تھے ۔ہر طرف خوابوں کی برسات ہو رہی ہے ۔شاید اب آنسوؤں سے چراغ جلیں گے۔‘‘
کہا نی کے بیا نیہ کے دوران مہتاب عالم پرویز ؔ چپکے سے تلخ حقائق اور کام کی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔جیسے’’باتیں ہوئیں اور ختم بھی ہوگئیں ۔اور لوگ باگ پرانے قصے ،کہانیوں کی طرح اس سانحہ کو بھی اپنے اندر کسی گوشے میں گم کرکے نئے قصوں کی تلاش کرنے لگے۔‘‘
یا
’’ گھر کا مذہبی ماحول ،پابندیاں ، سماج کا پھیلاہوا خوفناک جبڑا ،زندگی اور موت اور سبھوں کے اپنے اپنے فلسفے ،نشیب و فراز ، تضادوں کی دنیا ،امی کی آدرش وادی باتیں حق اور باطل کے وہی پرانے قصے ۔‘‘
مہتاب صاحب آج کی تیز رفتار اور پیچیدہ زندگی میں بے چہرگی کو بھی خو بصورتی سے بیان کرتے ہیں جو کہ جدیدیت کی خاص پہچان ہیں:
’’آدمی اس پوری بھیڑ میں اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے ۔بھیڑ موجود ہے لیکن اس کا چہرہ ،گردنوں کے اوپر جانوروں کے چہرے لگائے لوگ ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔‘‘
مہتاب عالم پرویز ؔ کی یہ کہانی پلاٹ کی پیچیدگی اورزبان کی شیرینی کے بہا ؤ میں بہتی چلی جاتی ہے۔قاری کہا نی کو لطف لے لے کر آخر تک پڑھتا ہے۔دیکھا جائے تویہ کہانی آج کی پیچیدہ سماج کی ایک پیچیدہ کہا نی ہے۔جہاں حقائق بعید از فہم ضرور لگتے ہیں مگر کیا آج کا سماج بعید از فہم نہیں؟
***
ڈاکٹر شاداب علیم
شعبۂ اردو
سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ
گمشدہ قبرستان : ڈاکٹرریاض توحیدیؔ ۔وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر
گمشدہ قبرستان
ڈاکٹرریاض توحیدیؔ ۔وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221.
غروب آفتاب کے ساتھ ہی اُس کی نظر یں مشرقی پہاڑی والے درّے پر جم جاتی تھیں ۔ کالی رات کے سیاہ سائے پھیلنے کے ساتھ ساتھ اُس کی نظروں کے سامنے مایوسی کا غبارہ چھا جاتا اور وہ کھڑکی بند کرکے فریم میں مقید مسکراتے فوٹو کو اپنے سینے سے لگا کر زارو قطار رونا شروع کردیتی ۔ جدائی کے کر بناک لمحوں کے درمیان ، رات کے سناٹے میں پہاڑی درّے سے صرف ایک ہی در دناک آوازاُس کے کانوں سے ٹکراتی رہتی ۔۔۔ میں واپس آونگا ۔۔۔ میں واپس آوں گا ۔۔۔
واپس آنے والی یہ پُر اُمید آواز اب نا اُمید ی کا صحرا بن کر سلطانہ کی روح میں سراب بن کر اُتر چکی تھی کیونکہ لمحوں نے اب برسوں کا روپ دھارلیا تھا ۔ وہ بیوہ کے خوفناک لفظ سے ایسے ڈرتی تھی جیسے کوئی تندرست انسان زہر یلے سانپ کے ڈسنے سے ادھ مرا پڑا ہو۔ اُس کے زخمی دل کا مرہم صرف ماں کی ایک دُعا تھی۔۔۔سدا سہاگن رہو بیٹی ۔۔۔ لیکن جب جدائی کے غمگین جذبات کی تیز و تند لہر یں دل سے اُٹھ کر اس کی سوچ پر اثر انداز ہوجاتی تو اعتماد کے پہاڑ میں وسواس کا آتش فشاں گرم ہوجاتا اور وہ اُمید کے بھنور میں پھنس کر سوچتی کہ وہ بیوہ ہیں یا سہاگن ۔۔۔؟
سلطانہ کا مسکن سلطان پورتھا۔ سلطان پور، وادی کا ایک خوب صورت گاؤں تھا۔ فلک بوس پہاڑوں کے درمیاں واقع یہ گاؤں ایک تابناک تاریخ کا حصّہ رہا تھا۔ اس کی اپنی ایک شاندار تہذیب تھی، اپنا ایک شاندار تمدن تھا۔ زندگی کی سانسیں خوشگوار ماحول میں چلتی تھیں۔ گاؤں کے لوگ خوشبودار فضاؤں کے آزاد پنچھی معلوم ہوتے تھے ، لیکن ان آزاد پنچھیوں کی آزادی اس وقت چھن گئی جب خوشبودار فضاؤں پر سیاہ بادلوں کی کڑکتی بجلیوں نے آگ کے شُعلے برسانا شروع کردیئے ۔ ہر طرف کالا دھواں پھیل گیا اور گھر گھر سے ماتم کی دھنیں بجنے لگیں۔
برسوں پہلے سلطان پور کے بلند پہاڑوں سے کالی بلاؤں کا ظہور ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان خوفناک بلاؤں نے طاقت کے بل پر سلطان پور کو اپنے خونین شکنجے میں اس طرح سے کَس لیا کہ ہنستے مسکراتے چہرے مر جھے مرجھے سے نظر آنے لگے ۔ دہشت کی وجہ سے ہر انسان نفسیاتی مریض بنتا گیا اور گلستان قبر ستان بنتے گئے۔
گاؤں کے اسی پُر آشوب ماحول میں سلطانہ جوان ہوگئی ۔ رشتے آنے لگے، مشورے ہوتے رہے اور آخر کار سلطانہ کا رشتہ گاؤں کے ایک ایسے خوب روبہادر نوجوان سے طے ہوا جو نام کا ہی نہیں بلکہ دل کابھی سلطان تھا۔ بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ صالح فطرت بھی تھا اور ہر کسی کی مدد کرنے میں پیش پیش رہتا تھا۔ ایک دفعہ جب گاؤں کے ایک غریب کسان کی گائے مرگئی تو غریب کسان کے گھر سے آہیں اور سسکیاں اُٹھنے لگیں۔ سلطان سے غریب کا یہ صدمہ برداشت نہ ہوا اور اُس نے گھر کی گائے بلا معاوضہ غریب کسان کو دے دی۔ کُشتی میں اُسے کوئی بھی پچھاڑ نہیں سکتا تھا اور کبڈی کے کھیل کاتو وہ چمپئن ہی تھا۔ کھیتی باڑی اُس کا پیشہ تھا۔ وہ سال بھر اپنے ہی کھیت کھلیانوں میں محنت مزدوری کرکے روزی روٹی کماتا تھا ۔ گاؤں کی اکثریت بھی زراعت کے پیشے سے ہی وابستہ تھی۔ پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد اگر چہ کم تھی تاہم گاؤں کے اکثر بچے اب اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔
ایک صبح تمام گاؤں والوں کو کڑکتی سردی میں گھروں سے باہر نکالا گیا اور ایک بڑے میدان میں یخ بستہ برف کے اوپر بٹھا یا گیا۔ چارجانب ہتھیار بند پھیلے ہوئے تھے ۔ خوف و دہشت کی بلاؤں نے ہا ہا کار مچاتے ہوئے نوجوانوں کو چن چن کر اپنی گرفت میں لینا شروع کردیا ۔ ان کے کپڑے اُتا ر اُتار کر انہیں ننگے بدن پیڑوں سے باندھا گیا ۔ ٹارچر شروع ہو گیا ۔چیخ و پکار سے پیڑوں پر بیٹھے پرندے بھی سہم گئے۔ سلطان کو بھی پیڑ پر اُلٹا لٹکایا گیا اور درجن بھر بندوق بردار اُس پر ٹوٹ پڑے۔ گاؤں کے بے گناہ نوجوانوں کو بے رحمی سے مارتے مارتے دیکھ کر گاؤں والے شور مچانے لگے ۔جرأت کا مظاہرہ کرکے سلطانہ اندھی بندوقکے سامنے کھڑی ہوگئی اور ظالموں کے ہاتھوں سے سلطان کو چھڑوا نے کی کوشش کرنے لگی۔ کمانڈر نے پر رُعب آواز میں اسے پیچھے ہٹنے کو کہا۔
’’آپ لوگ بندوق کا رعب جما کر انہیں کیوں ظلم کا نشانہ بنارہے ہو۔‘‘ سلطانہ احتجاج کرتے ہوئے بول پڑی۔
’’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ گاؤں کے نوجوان دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔‘‘
’’دہشت گرد ۔۔۔ کون۔۔۔؟‘‘ سلطانہ کا پارا چڑھنے لگا’’جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر گھسیٹ کر ہمیں یہاں لایا۔‘‘
’’ہمارے کام میں دخل مت دو ۔‘‘ کمانڈر نے گالی دیتے ہوئے اُسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔
سلطانہ نے بھی جذبات میں آکر اُس کے منہ پر کراراتھپڑ مارا۔ لوگ بھی زور دار احتجاج کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے اور بندوق بردار گرم ماحول دیکھ کر وہاں سے فرار ہوگئے۔
شادی کا دن تھا ۔ سلطانہ کو بڑے دھوم دھام سے سُسرال لایاگیا۔ نصف رات کے وقت اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور آناً فاناً نقاب پوش افراد کی ایک ٹولی گھر کے اندر گُھس گئی۔ سلطان کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد خانہ کو بھی بندوق کی نوک پر گھر سے باہر نکالا گیا۔ سلطانہ کو کمرے میں ہی بند کیا گیا۔ سلطان کے ہاتھ رسیوں سے باندھے گئے۔ ہر طرف خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ سیاہ بادلوں کی کڑکتی بجلی نے پھولوں کی سیج کو بھسم کر ڈالا۔ جمہوریت کے ایوان ہلنے لگے۔ وحشی کی جھپٹ سے مظلوم ہر ن کی پُردرد چیخ اندھیرے میں گونج اُٹھی۔ سلطان ظالموں کے شکنجے کو توڑ کر کمرے کی طرف دوڑ پڑا۔ سلطانہ بستر پر بے حس پڑی تھی۔ سلطان نے درندے کے ہاتھ سے بندوق چھینی اور گردن پکڑ کر اُسے گھسیٹتے ہوئے مکان سے باہر لایا۔ نقاب پوش سلطان پر ٹوٹ پڑے اور اسے زنجیروں میں جھکڑ کر پہاڑی کے او ر چل پڑے۔ سلطانہ ٹوٹے قدموں سے کھڑکی پر کھڑی ہوگئی۔ اندھیرے کی وجہ سے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ پہاڑی درّے سے صرف ایک آواز آرہی تھی ، سلطانہ میں واپس آونگا ۔۔۔ میں واپس آونگا۔
گزرتے وقت کے کرب انگیز لمحوں نے سلطانہ کے دل و دماغ کو شل کر کے رکھ دیا تھا۔ امید کے ہر ے بھرے پتے زرد ہوتے جارہے تھے۔ عید کا چاند نکل آیا تھا۔ خوشی کے ان لمحات میں بھی سلطانہ کی سوچ پر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ رات کا کھانا کھانے کے ساتھ ہی وہ بستر پر لیٹ گئی۔ آنکھ لگتے ہی اُسے خواب میں سطان نظر آیا جو باہیں پھیلا پھیلا کر کہہ رہا تھا:
’’سطانہ کل مجھ سے ملنے آنا ، ہم پھر سے ملیں گے ۔ اب ہمیں کوئی ظالم جُدا نہیں کرسکتا۔‘‘
سلطانہ کی نیند اچانک ٹوٹ گئی۔ وہ کھڑکی کھول کر پہاڑ کی طرف دیکھنے لگی۔ وہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ وہ مایوس ہو کر دوبارہ بستر پر لیٹ گئی۔ اس نے آنکھیں تو بند کر لی لیکن نیند کوسوں دور بھاگ چکی تھی۔ صبح تک اس کی آنکھوں میں عجیب وغریب مناظر آتے رہے۔ عید کی گہما گہمی چار سو پھیلی ہوئی تھی ۔ سلطانہ کے قدم نا چاہتے ہوئے بھی قبرستان کی جانب بڑھنے لگے ۔ قبرستان پچھلی دو دہائیوں سے سینکڑوں مظلوموں کو اپنی گو دمیں سُلاتا آیا تھا۔ قبرستان میں پہنچ کر سلطانہ کو ایک سبزر نگ کا کتبہ نظر آیا۔ کتبے پر ’’گمشدہ قبرستان ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہاں کشمیر کی گمشدہ نسل دفن تھی۔ گمشدہ قبرستان ایسی ہزاروں گمنام قبروں کا مسکن تھا جس میں عدمِ تشدد کا فلسفہ جمہوریت کا کفن اوڑھے ہوئے دفن تھا۔ قبرستان مظلوموں کی آہوں اور سسکیوں سے ماتم کدہ بنا ہوا تھا ۔ کوئی ماں اپنے گمشدہ بیٹے کو ڈھونڈ رہی تھی اور کوئی معصوم بچہ اپنے گمشدہ باپ کی قبر تلاش کررہا تھا، لیکن کسی کے ہاتھ مایوسی کے سوا کچھ بھی نہ آتا تھا ۔ چار سو حشر کا سماں بپا تھا ۔ا س حشر نما عالم میں سلطانہ کے ٹوٹے قدم ایک گمنام قبر کے نزدیک خود بہ خود رُک گئے۔ وہ قبر کو غور سے دیکھنے لگی۔ اُسے ایسامحسوس ہو رہا تھا کہ قبر اسے کہہ رہی ہے کہ سلطانہ تیرا سلطان میری گود میں سو رہا ہے۔ ظالموں نے اُسے ٹکڑ ے ٹکڑے کرکے میرے حوالے کر دیا تھا۔ سلطانہ لرزتے وجود کے ساتھ وہاں سے چیختی چلاتی گھر کی جانب دوڑپڑی ، نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ !کمرے میں داخل ہوتے ہی اُس نے سلطان کا فوٹو
سینے سے لگا یا اور خون کے آنسوں بہانے لگے۔
رات کے سیاہ سائے دن کے اُجالے پر چھاجانے لگے۔ ہتھیاروں سے لیس درجن بھر نقاب پوش گھر کے اندر نمودار ہوگئے۔ گھر کے اندر سناٹا چھا گیا ۔ خوف کے مارے سلطانہ کا دل بیٹھنے لگا۔
’’تم نے ہمارے خلاف کیوں ہیومن رائٹس کمیشن میں کیس دائر کر دیا ہے؟‘‘ کا لاافسر دانت دکھاتے ہوئے پوچھ بیٹھا ۔
’’کہاں ہے میر اسلطان؟‘‘ سلطانہ سہمی سہمی آواز میں بول پڑی’’مجھے میرا سلطان لوٹا دو۔‘‘
’’وہ دہشت گردوں کے ساتھ کام کرتا ہے۔‘‘ وہ پھنکارتے ہوئے بول پڑا۔’’ تم اس کاغذ پر انگوٹھا لگاؤ۔‘‘
’’مجھے میر اسلطان واپس لا کر دو ۔‘‘ سلطانہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار نکل پڑی ’’تو ہی میں سفید کاغذ پر انگوٹھا مارونگی۔‘‘
ظلم کی ننگی تلوار ہوا میں رقص کرنے لگی۔ سلطانہ کے دل سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ سر خ خون سے سفید کاغذپر انگوٹھا لگ گیا۔ جدائی کی آخری سانسیں دم توڑ نے لگیں ۔ ہوا کے ایک تیز جھونکے سے کھڑکی کے پٹ کُھل گئے۔ سلطان پور کے گھر گھر سے ماتم کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ کالی بلاؤں کے خونین پنجوں نے گلستان کے رنگ برنگے پھولوں کو ریزہ ریزہ کرکے رکھ چھوڑا تھا۔ سلطانہ کی آس بھری نظریں پہاڑی کے اُس درّے پر جم چکی تھیں جہاں بھیانک اندھیرا تھا۔۔۔ صرف بھیانک اندھیرا!
Email.drreyazbhat@yahoo.in
mob.9906834877
بھول : افسانہ نگار: بیان اسعد مصطفیٰ – مترجم: ابو فہد، نئی دہلی
بھول
افسانہ نگار: بیان اسعد مصطفیٰ
مترجم: ابو فہد، نئی دہلی
ہردن کی طرح آج بھی وہ اپنے مرحوم خاوند کی زیارت کے لیے جارہی ہے، عطر میں رچی بسی اور سفیدخوبصورت پھولوں کا گلدستہ اٹھائے ہوئے۔ جیسے وہ اس کے انتظار میں ہمیشہ کی طرح باہیں پسارے کھڑے ہونگے۔ اسے اپنے خاوند کا یہ انداز بڑا اچھا لگتا تھا حالانکہ زندگی کی طویل رفاقت میں انہوں نے کبھی بھی اسطرح باہیں پھیلاکراس کا استقبال نہیں کیا تھا۔ اوروہ خودبھی یہی پسند کرتی تھی کہ وہ بھی اسی طرح باہیں پھیلا کر ان کا استقبال کیا کرے گرچہ اسے اپنے خاوند سے بہت زیادہ محبت کبھی نہیں رہی کیونکہ وہ ہروقت غصہ میں رہتے تھے، اول فول بکتے تھے اور معمولی باتوں پر ہتھے سے اکھڑ جاتے تھے۔وہ ہمیشہ اسے الزام دیاکرتے تھے کہ وہ اپنی حماقتوں اور نادانیوں کے باعث ان کے لیے پریشانیوں اور مسلسل سردردی کی بڑی وجہ ہے۔
وہ جب جب بھی اپنے مرحوم خاوند کی زیارت کے لئے گھر سے نکلاکرتی تو محبت اورشوق کی ایک انجانی کیفیت سے سرشار ہوجاتی، اور اِس وقت جب وہ گھر سے نکل رہی تھی تو وفورِ شوق اور جوش محبت سے اس کے جسم کا ہربن مو جیسے غش کھارہا تھا۔اس نے سب سے قیمتی لباس زیب تن کیا ، اتنا مہنگا لباس اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں پہنا تھا۔اس کے پاس بے حساب قیمتی جوڑے تھے جو اس کی اپنی الماری میں بھرے رہتے تھے،اس کے خاوند نے ان میں سے کسی جوڑے میں اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔جب وہ زندگی کی بساط پر اس کے ساتھ تھے تو اس نے کبھی اپنے آپ پر کچھ خاص توجہ نہیں دی تھی، ان کے لیے حسین نظر آنے کے لئے اس نے کبھی کچھ اہتمام نہیں کیا تھا، حتی کہ وہ اپنے چہرے پرکسی قسم کا پاؤڈر تک بھی نہیں لگاتی تھی اور نہ ہی کسی طرح کی خوشبو استعمال کرتی تھی۔۔۔۔۔ مگر ان کے گزرجانے کے بعد نہ جانے کیوں اسے یہ سب کچھ بہت اچھا لگنے لگا تھا۔آج وہ ان کے پاس سولہ سنگارکے ساتھ اور سب سے قیمتی جوڑے میں جانا چاہتی تھی۔جیسے وہ زندگی کی بساط پر آج بھی اس کے ساتھ ہوں اور وہ پہلے سے طے شدہ تفریحی پروگرام پر جارہے ہوں۔
تروتازہ سفید پھولوں کا گلدستہ ، جسے اس نے گرد وغبار سے محفوظ رکھنے کی غرض سے خوبصورت کاغذی لفافے میں لپیٹ لیا تھا، اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی کے ساتھ تھام رکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کہیں سے کہیں تک بھی غم کی پرچھائیاں نہیں تھیں بلکہ ان کی جگہ شوق کا نقرئی عکس جھلک رہا تھا۔اس کی نظریں اس کی نازک کلائی پر بندھی ہوئی خوبصورت گھڑی کی طرف بار بار اٹھ رہی تھیں۔جیسے اسے دھڑکا لگا ہوا ہوکہ وہ دیر کردے گی۔
مقبرہ کے قریب پہنچ کر اس نے اپنے بالوں کو درست کیا جنہیں تند ہواؤں نے پریشاں کردیا تھا۔اورسفید پھولوں کے گلدستے کو سینے سے چمٹالیا۔
دوسری طرف فٹ پاتھ پر ایک آدمی سست رفتار سے چل رہا تھا۔ اْس کے بر عکس اْ س آدمی کے کپڑے میلے تھے، بال پریشاں تھے اور اس نے عجیب سی پراگندہ سی ہیئت بنا رکھی تھی۔اور تو اوراس کی کلائی پر گھڑی بھی نہیں تھی۔جیسے اسے اس بات کی پرواہ ہی نہ ہو کہ وہ دیر کردے گا۔اس نے قبرستان کے ٹھیک محاذات میں آکر سڑک کو عبور کیا۔۔۔ اور اس طرح دونوں ایک ساتھ قبرستان میں داخل ہوئے۔
’’تم کس کے لئے آئے ہو ؟‘‘ عورت نے پوچھا۔
’’اپنی بیوی کے لیے۔‘‘
عورت نے اجنبیت اور حقارت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اْس کے سراپا کا جائزہ لیا۔اسے یہ سب بہت عجیب سا لگا۔اور حیران کن بھی۔
’’اور تم ؟ ‘‘ آدمی نے بھی وہی سوال دہرایا۔
’’ اپنے خاوندکے لئے۔‘‘
’’خاوندکے لئے۔۔؟ ‘‘وہ جیسے حیرانیوں کے سمندر میں سرتاپا غرقاب تھا۔ اس نے اس کے لپِے پتے چہرے اور شوخ لباس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اوراٹکتے اٹکتے پوچھا۔’’کیا تم ان کی موت سے خوش ہو۔؟‘‘
’’اس قدر نہیں جس قدر میں ان سے ملنے کی مشتاق ہوں۔ ‘‘
’’جب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو تمہارے اس شوق پر غم کی اور خود تمہاری اپنی ذات پر غم خواری کی کیفیت کا طاری ہونا ضروری تھا۔مگر اس کے برعکس تم تو وفورشوق سے سرشار نظر آرہی ہو۔‘‘
یقینا! لیکن میں چاہتی ہوں کہ وہ مجھے اچھی حالت میں دیکھیں، اور اس سے انہیں خوشی ملے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ مجھے کالے کپڑوں میں دیکھیں اور اس سے انہیں تکلیف پہنچے۔۔۔۔کالے کپڑے بے وقوف عورتیں پہنا کرتی ہیں۔کالا رنگ محبت کی علامت نہیں ہوسکتا، کسی اور چیز کی علامت ہو تو ہو۔۔۔۔۔ مجھے ان سے محبت ہے۔‘‘
’’ مجھے بھی اس کی موت کا بہت دکھ ہے۔ میں اس کے وجود کے علاوہ دوسری ہر چیز سے بے پرواہ ہوں، اس کے بعد میری اپنی ذات بے معنیٰ ہے۔ یقیناًمیں اپنی بیوی سے بے حد پیار کرتا ہوں۔‘‘
دونوں ایک دوسرے کے مقابل دو الگ الگ قبروں پر بیٹھ گئے۔عورت نے پہلے قبر کو بوسہ دیا اور پھرتازہ سفید پھولوں کا گلدستہ قبر پر رکھا۔۔۔ دوسری قبر پر آدمی کی ہچکیاں جو لمحہ بہ لمحہ تیز تر ہوتی جارہی تھیں ، قبرستان کی گھری خاموشیوں میں گہرائی تک اترتی چلی جارہی تھیں، گرم اور نمکین آنسوؤں کے قطرے قبر کی مٹی میں جذب ہورہے تھے۔وہ بہت غم زدہ دکھائی دے رہا تھا ، اس کے ہونٹوں پر دعائیہ کلمات جاری تھے اور اس کے ہاتھ قبر کی مٹی کو بار بارچھو رہے تھے۔
عورت نے آدمی کی طرف دیکھا اور زیر لب مسکرائی۔ پھر اس کے قریب گئی اور اس کو سفید تازہ پھولوں کے گلدستے سے نکالا ہوا ایک پھول عنایت کیا اورکہا: ’’ شاید میں انہیں کھودوں ! لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرے ہوئے لوگوں سے زیادہ محبت نہیں کی جاسکتی۔ لو یہ لو۔۔۔ اس کو سنبھال کر رکھو۔اس نے شادی شدہ زندگی کے طویل عرصے میں مجھے کبھی کچھ اہمیت نہیں دی۔۔ آدمی نے اس کے ہاتھ سے پھول لیا ، اپنی بیوی کی قبر پر رکھا اور دونوں ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے دور جاتی ہوئی ایک ہی سڑک پر چل دئیے۔
سل فش : عروج فاطمہ
افسانہ
سل فش
عروج فاطمہ
آفرین تم سل فش ہو ۔۔۔۔ آفرین اک لمبا سانس لیتے ہوئے خاموش ہوگئی اور مونیب
اپنی باتوں میں مگن رہا میرے ماں باپ نے بچپن سے میرے لیے بہت کچھ کیا ہے ُان
کی مجھ سے بہت ُامیدیں وابستہ ہیں آج جب وہ پڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں تو کیا
میں ُان کی ُامیدیں توڑ کر تم سے کیسے شادی کر لو ۔ جبکہ وہ تمہیں پسند نہیں
کرتے جب تم میرے گھر میں چلتی پھرتی ُانہیں نظر آؤ گئی تو ُانہیں بہت ُدکھ ہو
گا ۔ میں ُانہیں ُدکھ نہیں دے سکتا ۔ انہوں نے اب تک جو کچھ میرے لیے کیا ہے
آج ُاس سب کا احسان لوٹانے کا وقت ہے ۔ تم نے تو میرے لیے کچھ نہیں کیا ؟ تو
پھر میں تمہارے لیے تم سے کیسے شادی کر لوں ۔ آفرین تم بہت اچھی لڑکی ہو تم
اپنا گھر بسا لو ۔ مجھے بھول جاؤ ۔ضروری تو نہیں کہ جو ہم سوچیں قسمت ہمیں وہی
دے ۔ آفرین فون پر خاموشی توڑتے ہوئے بولی مونیب آپ کو جو بھی کرنا ہے آپ کرو
۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی مطلب نہیں میں آپ کو اب کبھی دوبارہ فون نہیں کروں گئی
اگر آپ کو کوئی کام ہو تو مجھے مسیج کر دینا ۔ مگر مونیب اپنے ذہین سے یہ بات
نکال دے کہ میں کہیں اور شادی کروں گی اور اپنا گھر بسا لو گی ۔ میری زندگی آپ
سے آپ تک ہی محدود ہے ۔ اتنا کہنا ہی تھا کہ آفرین کی بولنے کی سکت آخر ختم
ہوگی وہ آنسوؤں کے سمندر میں ڈوب چکی تھی اور شاید مونیب بھی سمجھ چکا تھا کہ
وہ کیوں نہیں بول رہی ۔ ۔ ۔ ۔ سل فش کا لفظ آفرین کی روح تک کو گھائل کر چکا
تھا اور وہ اس ُپرانے زمانے میں جا چکی تھی اور یاد کر رہی تھی کہ ُاس نے کتنی
قربانیاں دی ہیں مونیب کے لیے ۔ اور آج مونیب نے اک لمحے میں ُاسے سل فش بول
دیا ۔
آفرین آج سے چار سال پہلے کی سوچ میں گم تھی جب وہ مونیب سے پہلی بار ملی تھی
۔ اور کب دوستی ہوئی اور کب دوستی نے پیار کا روپ دھار لیا دنوں کو خبر نہ
ہوئی ۔ دنوں بس پیار میں بہتے چلے گے اور تین سال گزر گے اب آفرین نے مونیب کو
کہنا شروع کر دیا تھا کہ شادی کرو ۔ میرے گھر والے میری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔
مگر مونیب کے خواب بہت زیادہ تھے شاید ُاسے ُان خوابوں کو پورا کرنے کیلئے
مزید وقت درکار تھا ۔ مگر آفرین اپنے گھر سے بھی مجبور تھی ۔ آفرین نے مونیب
کو کہا کیا ہم منگنی کر لیں ؟ اس طرح دونوں کی مشکل آسان ہو جائے گی ۔ اور
مونیب بھی آفرین کو کھونا نہیں چاہتا تھا ُاس نے بھی ہاں کر دی ۔ مونیب نے کہا
تم اپنے گھر میں بات کرو اور میرے بارے میں بتاؤ ۔ اور کہو کہ میری فمیلی رشتہ
لے کر آئی گئی تمہارے لیے ۔
آفرین جو بہت ہی خاموش طبعیت کی مالک سب سے دور ہی رہتی تھی ۔ اور آفرین کے
گھر کا ماحول اتنا ایڈونس بھی نہیں تھا ۔ آفرین نے سب سے پہلے دو نفل پڑھیں
اور رو رو کر خدا کی بار گاہ میں دعا کی کہ یا الله میں بہت بڑا قدم ُاٹھانے
جا رہی ہوں میرا ساتھ دینا آفرین مونیب سے اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتی
تھی ُاس نے بہت حوصلہ کر کے اپنے گھر میں بات کی ۔ بات کا منہ سے نکلنا تھا کہ
جو قیامت آئی وہ شاید ایک لڑکی ہی سمجھ سکتی تھی کہ ُاسے کس کس طرح کی سوالات
کا سامنا کرنا پڑا ۔
ماں آفرین سے سخت ناراض تھی ماں نے کہا کیا تمہیں ہم پر بھروسہ نہیں تھا کے
ہم تمہارا اچھی جگہ پر رشتہ کریں گے ؟ بھائی تم کسی سے پیار کرتی ہو ؟ اوہ آج
کل کے لڑکے ٹائم پاس کرتے ہیں وہ شادی وغیرہ کے چکر میں نہیں آتے ۔ تم کس کی
باتوں میں آ گئی ہو ؟ آفرین بھائی کی بات ٹوکتے ہوئے مونیب مجھ سے پیار کرتا
ہے وہ ٹائم پاس نہیں کر رہا وہ مجھ سے شادی کرئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں بھائی
وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا یہ کا وہم ہے وہ ایسا نہیں ہے ۔ بھائی نے کہا تم
جیسی لڑکی کو تو اندھیرے کمرے میں قید کر دینا چایئں جہاں تم سورج کی اک کرن
کو بھی ترسو ۔ اور باپ نے کہا ایسی بیٹی کو تو قتل ہی کر دینا چاہیں جس کو
اپنے ماں و باپ کی عزت کا پاس نہ ہو ۔
آفرین ایک مجرموں کی طرح گھر والوں کی عدالت میں بس خاموشی سے سزایئں سن رہی
تھی اور دل میں اپنے رب کی تسبیح کر رہی تھی کہ میرے لیے میرا الله ہی کافی ہے
۔ ۔ ۔ یہ ایسی تسبیح تھی جو آفرین کو بہت حوصلہ اور مضبوتی بخش رہی تھی ۔ وہ
تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں تھی ۔ خیر جب سزایئں سنانا ختم ہوا تو بھائی نے
مونیب کا نمبر طلب کیا آفرین نے نمبر دینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ مونیب کو
کھونا نہیں چاہتی تھی ۔ کیونکہ ُاس وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔ آفرین نے کہا کہ
اس کے گھر سے رشتہ آئے گا ۔ آپ لوگ پھر بات کرنا ۔ گھر والوں نے آفرین کو
بولانا چھوڑ دیا ۔ آفرین تنہا اپنے کمرے میں گھنٹوں روتی رہتی یا جانماز پر
بیٹھ کر خدا سے باتیں کرتی رہتی جب آفرین کو اس کا موبائیل واپس ملا تو ُاس نے
سب سے پہلے مونیب سے رابطہ کیا اور ُاسے خود پر گزری ہر قیامت کا بتایا ۔۔۔۔۔
اتنا بتانا تھا کہ مونیب نے کہا جو گھر والے کہتے ہیں آفرین وہ کر لو مجھے
بھول جاؤ ۔ مونیب کے منہ سے یہ بول نکلنے تھے کہ آفرین کی تو جیسے ہستی ہی مٹ
گئی ہو ۔۔۔۔ آفرین بہت روئی مگر ُاس نے اس بات کا علم اپنے گھر میں نہیں ہونے
دیا کہ اب وہ بلکل بکھر چکی ہے آفرین یہی کہتی رہی آپ لوگ اجازت دے تو مونیب
کے گھر والے آئے ۔ مگر دل میں کہیں نا کہیں یہ خلش تھی کہ جس کی خاطر ُاس نے
یہ سب کیا ُاس نے بھی تنہا چھوڑ دیا ۔ آفرین تو بس جیسے خدا کی ہی ہو گئی تھی
اسے دنیا سے کوئی مطلب ہی نہیں رہا ۔
وقت گزرتا رہا اور آہستہ آہستہ گھر والوں کے روایوں میں کچھ بہتری آتی گی ۔۔
اور ادھر آفرین کی دعایئں بھی رنگ لے آئی ایک دن اچانک سے مونیب کا میسج آیا ۔
پہلے دونوں میں لڑائی ہوئی پھر آہستہ آہستہ شکوئے اور شکایات کہاں گم ہو گئے
کہ آفرین کو کچھ یاد ہی نہ رہا ۔ کہ مونیب نے ُاسے کس وقت تنہا کیا تھا ۔
آفرین مونیب کو پھر کھونا نہیں چاہتی تھی شاید اس لیے وہ اچھے دوستوں کی طرح
رہنے لگے آفرین مونیب سے کسی بھی بات کا ذکر نہیں کرتی تھی ۔ اور دیکھتے
دیکھتے پھر ایک سال گزر گیا ۔ آج آفرین جو مونیب کی آس میں اپنے گھر والوں کے
لائے کافی رشتے ٹھکرا چکی تھی ۔ وہ دل سے مونیب کو بس اپنا مان چکی تھی اور آج
پھر جب کافی عرصے بعد آفرین نے مونیب کو شادی کا کہا تو مونیب نے کہا تم سل فش
ہو ۔
بتاؤں آفرین تم نے میرے لیے کیا…. کیا ہے جو میں تمہارے لیے اپنے ماں باپ
کی مرضی کے خلاف تم سے شادی کر لوں آفرین مونیب کو یہ سب باتیں یاد کرانا
چاہتی تھی مگر نہیں آفرین نے کہا ٹھیک ہے مونیب آپ کو جو کرنا ہے آپ کرو مگر
یاد رکھنا میرے لیے خدا کا معجزہ ضرور ہو گا ۔ ہم ملے گے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔
آفرین کا دل ُاسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ مونیب کو روک لے مگر پھر ُاس کا خدا
پر یقین کہتا تھا کہ کیا تم مونیب کی منیت کرو گی جبکہ وہ فیصلہ کر چکا ہے
جانے کا ۔ اور جانے والے کب رکتے ہیں ؟ شاید آفرین کو اپنا خاموش رہنا ہی
بہتر لگا اور اپنا ہر معاملہ خدا کے سپر کر دیا . کیونکہ آفرین اگر کہتی بھی
تو کیا کہتی کہ ُاس نے مونیب کے لیے کیا کیا ہے ؟ شاید آفرین کے لیے مونیب کی
خوشیاں آج بھی بہت معنی رکھتی تهی اپنی خوشیوں سے بھی زیادہ ۔ لیکن مونیب آج
بھی آفرین کو سل فش سمجھتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ ُاسے صرف اپنے ُسکون کے لیے مونیب
سے شادی کرنی ہے .پهر آفرین بہت روئی اور مونیب جو اس کا رونا سن نہیں سکتا
تھا ُاس نے کال بند کر دی ۔ آفرین آج پھر اپنے خدا پر ُامید لگا کر خاموشی سے
بیٹھ گئی ہے ۔
اور دیکھو تو خدا کی قدرت ابھی ایک ماہ نہیں گزرا تھا کہ مونیب اپنی فیملی کے
ساتھ آفرین کے گھر آگیا اور خوش اسلوبی سے دونوں کا رشتہ طے پایا ۔ اور چند ہی
دنوں ہی دنوں کی شادی ہو گی ۔ اور آج آفرین اپنے گھر میں بہت خوشی سے زندگی
گزار رہی ہے ۔ اور کیوں نہ گزارتی اس نے تو خدا پر چھوڑا تھا ۔ تو خدا کیسے
کسی کو اپنے گھر سے مایوس کر سکتا تھا ۔ خدا تو خدا ہے اور وہ بڑا ہی کریم و
رحیم ہے آفرین کو معجزے کا انتظار تھا اور آفرین کے لیے ُاس کے خدا نے آخر
معجزہ کر ہی دیا ….
ختم ُشد
Email address : Aroojfatimalucky1@gamil.com
میں کیا کروں ؟ : خطیب الرحمان پرویز
میں کیا کروں ؟
خطیب الرحمان پرویز
دربھنگہ ہا ؤس،شاہین باغ،ابوالفضل انکلیو
جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔25
دفتر سے گھر لوٹتے وقت اچانک ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی …….’’ اشتیاق رکو میرے یار …….‘‘ آواز کچھ جانی پہچانی لگی اس لئے میرے قدم خود بخودرک گئے ۔نظریں ادھر ادھر دوڑائیں تو دنگ رہ گیا ۔ سلطانہ ایک بیوٹی پارلر کی پر کھڑی مسکرا رہی تھی ۔میں بھی مسکراتا ہوا اس کے قریب جا پہنچا ۔علیک سلیک سے فارغ ہو کر میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات اس سے کر ڈالے۔اس نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ۔’’اشتیاق تمہیں معلوم ہے کہ ہم لوگ کتنے سالوں کے بعدمل رہے ہیں ……..‘‘؟
’’یہی کوئی بارہ سالوں کے بعد ……..‘‘!! میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس سے کہا ۔
’’اور اتنے سالوں کی باتیں چندمنٹوں میں ہی جان لینا چارہے ہو……. ‘‘؟اس نے اپنے پرس سے قلم اور کاغذکا ایک ٹکڑا نکالتے ہوئے کہا ۔
تمہیں بتا نہیں سکتا ہوں میں کتنا خوش ہوں تم سے مل کر ،اتنے سالوں کے بعدجو ملاقات ہوئی ہے ۔بہت ساری باتیں کرنے کو دل چاہ رہا ہے…….میں جذباتی ہوتے ہوئے اس سے کہا ۔
’’چلو بتاؤ ‘‘….
’’کیا۔‘‘
’’ارے با با اپنا فون نمبر بتاؤ گے اور کیا……اس نے شوخی سے دیدے گھوماتے ہوئے کہا ۔ اس کے اس شوخی کے لئے میں بالکل تیار نہیں تھا ۔ چھپ سا گیا۔ مگر فورا ہی سنبھل کر اسے اپنا سیل اور گھر کا فون نمبر دیا اور رسمی ملاقات کے بعد اپنے منزل کی جانب چل پڑا۔
پورے راستے میں سلطانہ کے متعلق ہی سوچتا رہا۔ کتنی تبدیلی آگئی ہے آج کے سلطانہ اور کل کی سلطانہ میں ۔ کل تک جس سلطانہ کی آنکھوں میں ڈوب جا نے کو دل چاہتا تھا آج اسی آنکھوں میں ویرانی چھائی ہوئی تھی،چہرے کی رنگت ،لوگوں کے لئے مر کوز نظر ہوا کرتی تھیںآج اس کی رنگت سانولے پن میں بدل چکی تھی ، کل تک جس جسم کی سڈول پن نوجوانوں کے لئے قیامت ڈھا نے کے لئے کافی تھے آج وہی جسم لاغر وکمزور نظر آرہا تھا ۔ ان سب سے جد ا جو تبدیلی سلطانہ میں دیکھنے کو ملی وہ یہ کہ جس سلطانہ کو میں نے ہمیشہ نقاب میں دیکھا تھا آج وہ پوری طرح بے نقاب تھی ۔اس نے گہرا میک اپ کر رکھا تھا ،چھوٹے آستین کے کپڑے اور بالکل ٹانگوں سے چپکا ہوا ٹائٹس زیب تن کر رکھا تھا ۔اس کی آواز میں پہلے جیسی کھنک بھی نہیں تھی البتہ اس کے مزاج میں اب بھی شوخی باقی تھی ۔اس سے ملاقات کے وقت میں ایک بات نوٹس کر رکھا تھا کہ آس پاس کے دکاندار اوررا ہگیربڑے غور سے اسے دیکھ رہے تھے اور وہ پریشان سی نظر آرہی تھی ۔میں ان تمام باتوں کو سوچتا ہوا اپنے گھر پر آگیا اور پھر روز کی طرح لوگوں سے ملاقات میں مصروف ہوگیا۔اس طرح کئی روز گزر گئے میں سلطانہ سے نہ ہی مل سکا اور نہ ہی بات کرسکا ۔کیونکہ میں نے اس کے گھر کا نہ ہی پتہ پوچھا تھا اور نہ ہی اس کے گھر کا فون نمبر مانگا تھا ۔سوائے اس کے فون کے انتظار کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
ایک دن اچانک میرے سیل پر سلطانہ نے فون کیا ۔’’آج شام سٹی کافی ہاوس میں ملوگے……. ‘‘؟
’’ ہاں ! مگر ان لڑکوں میں اور مجھ میں ایک بات کا فرق ہے ۔ اس کی زندگی میں خوشیاں آئیں اور ابھی بھی بر قرار ہیں اور میری زندگی میں خوشیاں چند دنوں کے لئے آئیں اور چلی گئیں۔ ’’ سلطانہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔ میں نے آہستہ سے اس کے آنکھوں پر اپنی ہتھیلی رکھ کر اس کو دلاسہ دیا ۔ اس نے آنسوؤں کو خٰشک کرتے ہوئے کہا ……’’ تحسین کو پتنگ اڑانے کا جنون کی حد تک شوق تھا ۔ایک شام وہ پتنگ اڑاتے ہوئے چھت سے گر پڑے۔ان کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ۔ چہرے کے علاوہ تمام بدن چور ہو گیا ۔وہ نہ اب بول سکتے ہیں اور نہ ہی مسکراسکتے ہیں ۔بالکل زندہ لاش ہیں ……..‘‘
اتنا سننا تھا کہ میرا سارا وجود پسینے سے شرابور ہو گیا ، ہاتھ پیر میں کپکپی طاری ہو گئی،دماغ میں عجب قسم کے ٹیس کا احساس ہو نے لگا ۔ میں نے چند منٹوں کے لئے آنکھیں بند کر لیں ۔جب تک اس نے اپنے آنسوؤں کو خشک کر لیا تھا۔ میں نے بیرے کو بلایا ۔ بل اور ٹپس کی رقم اداکیااور کافی ہاؤس سے باہر آگیا۔ سلطانہ کو جلدی تھی میں نے صرف اتنا کہامیں تمہارے شوہر سے ملنا چاہوں گا……..!!
’’ مل لو مگر کوئی فائدہ نہیں ۔ نہ ہی تم ان سے پوچھ سکتے ہو اور نہ ہی وہ کچھ بتا پائیں گے…….‘‘.!! اس نے افسردہ ہو کر کہا ۔اور اپنے گھر کا پتہ بتاکر چلی گئی۔
دفتر میں میں کافی مصروف تھا ۔ صبح سے رات گئے میٹنگ ، لوگوں سے رابطہ قائم کرنا ، سالانہ رپورٹ تیار کرنا ،ریجنل سنٹر پر فورمنس کو آخری شکل دینے میں وقت گزرتا گیا ۔اس بیچ نہ ہی سلطانہ سے بات ہو سکی اور نہ ہی ملاقات۔جب بھی اس سے ملنے کی کوشش کرتا تو کوئی نہ کوئی کام سر پر آدھمکتا۔ اس طرح کئی مہینے گزر گئے۔ایک دن وقت نکال کر میں اسکے بتائے ہو ئے پتے پر جا پہنچا۔دروازے پر دستک دینے پر ایک بچی نے دروازہ کھولا۔اس نے نہ ہی میرا نام پوچھا اور نہ ہی وجہ، صرف اتنا کہا آئیے بیٹھئے ،ابھی ممی بزی ہیں ۔ میں نے اس بچی کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جاؤ بیٹے اپنی ممی سے کہنا اشتیاق انکل آئے ہیں ………‘‘
’’جی اچھا ۔!‘‘اس لڑکی نے بڑے روکھے انداز میں مجھ سے کہا …….میں نے ٹیبل پر مٹھائی کا پیکٹ رکھ کر گھر کا معائنہ کیا ۔کافی سلیقے سے سلطانہ نے اپنے گھر کو سجا رکھا تھا۔اس کے یہاں کافر نیچر ،سازوسامان ،رہن سہن اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ میں جو کچھ سوچ رہا ہو ں وہ غلط تھا ۔ سلطانہ بہت خوش ہے اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔وہ اپنے دونوں بچوں کو مزے میں پال پوس کر بڑا کر لے گی ۔میں تو خواہ مخواہ پریشان ہو رہا تھا ۔سلطانہ کسی طریقے سے اپنے بیمار شوہر اور بچوں کی پرور ش کر رہی ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔مگر یہاں تو بالکل الگ ماحول تھا ،آرام وآرائش کی تمام چیزیں اس کے یہاں میسر تھیں ۔مجھے کچھ حد تک سکون ملا چلو یہ خوش ہے ،اس کے سسرال والے اس کی مدد کر رہے ہیں ،تحسین کمرے کے ایک کونے میں لیٹا ہوا تھا ۔اس کا جسم لکڑے کے مانند سوکھ گیا تھا ۔اس نے آنکھوں کے اشارے سے کچھ پوچھنا چاہا میں نے اشارے میں ہی اسے پریشان نہ ہونے کو کہا ۔اسی درمیان دوسرے کمرے سے سلطانہ نمودار ہوئی اس کے ساتھ ایک اور شخص تھا۔مجھے دیکھ کر وہ ٹھٹھک سی گئی ۔مگر وہ شخص بڑے شوخ اندازمیں بائی بائی کہتاہو ا چلا گیا ۔اور سلطانہ میرے پاس والے صوفے پر آبیٹھی ۔
تم آنے سے پہلے فون توکر لیتے کہیں بہت زیادہ انتظار تو نہیں کر نا پڑا …….اس نے کہا۔
’’نہیں کوئی بات نہیں ہے میں اچانک ہی آکر سب کچھ دیکھنا چاہتا تھا ۔‘‘میں نے بالکل روکھے انداز میں اس سے کہا ۔
’’تحسین کو دیکھا تم نے ۔ بس یہی ہے میری زندگی ۔بیوٹی پارلر جانا ،دونوں بچوں کی پرورش کرنا اور تحسین کی خدمت کرنا ۔اس نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا ۔
میں نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور پوچھا ‘ وہ شخص کو ن تھا ۔جو تمہارے ساتھ کمرے سے ابھی باہر نکلا ……
’’ او!وہ ٹی وی میکنک تھا ……‘‘ اس نے لا پرواہی سے جواب دیا۔
’’جھوٹ وہ کوئی میکنک شیکنک نہیں تھا ۔ مجھے تمہارے متعلق تمام باتیں معلوم ہو چکی ہیں ۔لوگوں نے اشارے سے بتایا تھا ۔میں نے اسے بکواس سمجھ کر ٹال دیاتھا ۔مگر آج خود اپنی نگاہوں سے دیکھ لیا ہے تو مجھے شرم آتی ہے تمہیں اپنا دوست کہنے پر ۔یہ ٹھاٹ باٹ ،آرام وآرائش اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تم کسی پریشانی میں مبتلا نہیں ہو ۔تمہیں کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔تم تو پہلے سے اچھے پوزیشن میں ہو ۔اور ہو گی بھی کیوں نہیں آخرکو تمہارا دھندا جو زوروں پر چل رہا ہے ……..‘‘
’ اشتیاق! اب چپ بھی ہو جاؤ۔تم میرے دوست ہو اس لئے میں نے سارا غم تم سے شیئرکر لیا، ورنہ میں کسی کے سامنے اپنا دکھ درد نہیں بانٹتی۔ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم اس طرح میرے گھر میں آکر مجھے ذلیل کرو …….‘‘اس نے میری بات کو کاٹتے ہوئے کہا ۔
’’ سچائی کڑوی لگی نا…………..‘‘میں نے اس سے کہا۔ وہ کچھ دیر تک خاموش آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں ، اس آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں ، آنکھو ں میں آنسوڈبڈبا گئے تھے ۔اس نے آنسوؤں کو خشک کر تے ہو ئے بڑے افسردگی کے ساتھ کہا ۔‘‘آخر تم بھی مرد ہو نہ ۔ عورتو ں کی مجبوریاں تمہیں کیا معلوم ………‘‘ میں نے کہا۔
’’سوال اٹھتا ہے ۔تم نے جو کچھ سنا اور کہا وہ سچ ہے ۔میں دھنداکر رہی ہوں ۔روزانہ ایک دو مردوں کو سنبھالتی ہوں ۔اپنے ملنے والوں سے جھوٹ بولتی ہوں ،مگر اس دھندے میں تم مردوں نے ہی پہنچایا ہے ۔مردوں کو چھوڑو تم جیسے دوستوں نے ہی میری عصمت کو پامال کیا ہے ۔تمہیں میرے متعلق کیا معلوم ہے ؟کچھ نہیں صرف سنی سنائی باتوں میں آگئے ۔ سچائی یہ ہے کہ تحسین ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم تھے ۔حادثہ کے بعد کمپنی نے سرے سے ہی پلڑا جھاڑ لیا ۔بچے بچائے رقموں سے کام چلتا رہا ۔میرے والدین بھی اس قابل نہیں تھے کہ میری مدد کرتے۔تحسین کے والدین پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کر چکے تھے،انکے ایک بڑے بھائی ہیں اچھے عہدے پر فائز ہیں مگر ان کے پاس وقت نہیں ہے وہ مہینے دو مہینے میں دو چار گھنٹوں کے لئے آتے ہیں ۔کئی مرتبہ ان سے مدد کی درخواست کی مگروہ ٹال گئے ۔ایسے میں گھر کے اخراجات کے لئے مجھے ہی کچھ کر نا تھا ۔پڑھائی کام آئی میں نے بیوٹی پارلر کا کورس کر رکھا تھا ۔ایک دن تحسین کے ایک خاص دوست نے مجھے بیوٹی پارلر جوائن کرنے کے لئے کہا،میں نے حا می بھر لی ۔ایک دو ماہ تو ٹھیک ٹھاک کام چلتا رہا مگر ایک دن اچانک میر ے ساتھ ایک ایسا حادثہ ہواکہ بتا نہیں سکتی ۔کیونکہ اس بیوٹی پارلر کی آڑ میں جسم فروشی کا دھنداچل رہا تھا ۔میں بھی اس دلدل میں جا پھنسی۔کافی اذیتیں دی گئیں ،مارا پیٹا گیا،عریاں تصویریں اتار کر بلیک میل کیا گیا ،اس طرح میں اس دھندے میں جکڑ کر رہ گئی ۔ تنگ ہاتھ اچانک کھل گیا ،پیسوں کی فراوانی ہو گئی ،تحسین کے علاج کے لئے اب مجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،بچوں کی تعلیم کیلئے بھی مجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔دنیا والے صرف اتنا جانتے ہیں کہ میں ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہوں اورگھر کا خرچ چلاتی ہو ں ۔اور ہاں میں تنہااس دھندے میں نہیں ہوں اونچے معاشرے کی کئی ایسی لڑکیاں اور عورتیں ہیں جن کی لوگ عزت کرتے ہیں مگر ان کی حقیقت سے لوگ واقف نہیں ہیں ۔میں ان خوش قسمت عورتوں میں نہیں ہوں ۔لوگوں کو میرے متعلق آہستہ آہستہ سب کچھ معلوم ہوگیا ۔اس طرح جو کام بیوٹی پارلر میں ہوا کرتا تھا وہ کام میرے گھروں پر بھی چوری چھپے ہو نے لگا ۔ابھی ابھی جس شخص کے متعلق تم پوچھ رہے تھے وہ میرا کلائنٹ تھا ۔میں کیا کرتی ۔میرے سامنے صرف دو ہی راستے تھے ایک خود کشی اور دوسرا اپنے حالات سے سمجھوتہ ……‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں تمام باتوں سے مجھے آگاہ کیا ۔مجھے اس کی باتیں سن کرکچھ عجیب سا لگا ۔
پھر بھی میں نے اس سے کہا ۔’’سلطانہ جاب کو چھوڑ سکتی تھی ۔‘‘
’’جاب چھوڑکر کہا ں جاتی ،کیا کرتی ،میں جو کچھ بھی کررہی ہوں کوئی اپنی مرضی سے تو نہیں کر رہی ہوں، میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔میں ہر مر تبہ خون کے آنسو روتی ہو ں ۔میں اس مجبور شخص کو چھوڑ کیسے سکتی ہوں ؟دو کم سن اور نابالغ لڑکی کو اس وحشی دنیا کے حوالے کیسے چھوڑدیتی ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو ے میرے ساتھ جو کچھ ہوا اسی قسم کا کام میرے بچوں کے ساتھ بھی ……..؟ ہر گز نہیں ۔میں ایسا کسی بھی قیمت پر ہونے نہیں دوں گی۔میں مجبور ہوں میری مجبوری سمجھو۔ اس نے دردبھرے انداز میں کہا تو میں خاموش ہو گیا ۔اپنے شوہر اور دو بچوں کے لئے مرتے جیتے سلطانہ کو دیکھ رہا تھا ۔میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا ۔میں جلد از جلداس کی مجبور زندگی سے نکل جانا چاہتاتھا ۔تبھی سلطانہ نے کہا ۔’’اشتیاق زبانی جمع خرچ تو سبھی کرتے ہیں مگر
پہل کوئی نہیں کرتا ۔تم نے بھی نہیں کیا ۔کیا اتنا کچھ جان لینے کے بعد تم مجھے اور ان دو معصوم بچوں کو اپناؤگے ۔؟تحسین کی زندگی کے لئے میری مددکروگے۔؟
’’سلطانہ ۔۔۔۔۔!!!‘‘میں نے چیختے ہوئے کہا۔
’’ بس ہو گئی نہ ساری ہمدردیاں ،آگئے نہ اوقات پر ۔۔۔!!!سوچو اگر میں تحسین کی جگہ پر ہوتی تو وہ کیا کرتے، سماج والے ، گھر والے ،دوست واحباب اور خود تحسین فورا دوسری شادی کر لیتے او ر مجھے اپنی زندگی سے نکال دیتے ۔کیونکہ وہ مرد ہیں انھیں اس کی اجازت ہے مگر میں ایک عورت ہوں مجھے ایک شوہر کے زندہ رہتے دوسری شادی کرنے کا حق نہیں ہے۔ تو پھر میں کیا کروں ۔؟تحسین کو کتوں کی طرح مرنے کے لئے چھوڑدوں ، یا پھر بچیوں کو سڑکو ں پر لٹنے کے لئے چھوڑ دوں ۔ تم ہی بتاؤ میں کیا کروں ۔ ‘‘؟
وہ میرے کندھے پر اپنے سر رکھ کر رورہی تھی۔ اور میں لاجواب ہو کر خلاء میں گھور رہا تھا……..
*****
دھوپ : وحید احمد قمر
|
دھوپ لندن ۔ انگلستان میں ایک پُر بہار مقام پر اس کا انتظار کر رھا تھا ۔ جھیل کے نیلے پانی پر ڈھلتے سورج کی شعاعیں اپنا عکس ڈال رہی تھیں ۔ رنگ برنگے پھول کھلے ھوئے تھے ایک طرف گلاب کے پھولوں کی باڑ لگی ہوئی تھی ۔ شوخ رنگوں کے پرندے جھیل کے پانی پر اڑانیں بھر رھے تھے ۔ چاروں طرف اونچے اونچے درخت سر اُٹھائے کھڑے تھے ۔ درختوں کی چوٹیاں سورج کی شعاعوں سے سنہری ہو رہی تھیں ۔ بلند سرخ سرخ پہاڑ سورج کی روشنی میں نہائے ھوئے تھے ۔ ان پہاڑوں پر کہیں کہیں سبزہ عجب دلکش منظر پیش کر رہا تھا ۔ قریب ہی ایک آبشار شور مچا رہا تھا ۔ اس کا پانی پتھروں میں سے راستہ بناتے ہوئے ایک ندی کی صورت اختیار کرگیا تھا ۔ یہ ندی ٹیڑھے میڑھے راستوں سے ہوتی ہوئی کچھ دور جا کر جھیل میں گر جاتی تھی ۔ جہاں میں کھڑا تھا وہ شاید کبھی سڑک رہی ہوگی کیوں کہ اس کی حالت بہت خستہ تھی ۔ ممکن ھے کسی زمانے میں یہاں لوگوں کی آمد و رفت رہی ھو مگر اب تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عرصے سے یہاں کوئی نہ آیا ہو ۔ یہ معدوم ہوتی سڑک پہاڑ کے پیچھے تک چلی گئی تھی ۔ دور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی زخمی سانپ بل کھائے جا رھا ھو یا شاید یہ میری نظروں کا دھوکہ تھا مگر نہ جانے کیوں اس بل کھاتی ہوئی سڑک کو دیکھ کر سیاہ سانپ کا تصور میرے ذہن میں اُبھر آیا تھا ۔ اچانک کسی پرندے کی سُریلی آواز نے مجھے چونکا دیا اور بل کھاتی سڑک سے میری نظریں ہٹ کر اس پرندے کو تلاش کرنے لگیں ۔ جھیل کا پانی مزید نیلا ہوگیا تھا ۔ گلاب جو جھیل کے کنارے لگے ہوئے تھے ۔ ہوا کے سہارے جھک جھک کر جھیل کے پانی کو چوم رہے تھے ۔ سریلی آواز والا پرندہ ندی کے پُل پر بیٹھا تھا ۔ وہ بار بار سریلی آواز نکالتا اور گردن اونچی کر کے نیلے آسمان کی وستعوں میں کچھ ڈھونڈنے لگتا ۔ شاید وہ اپنے ساتھیوں سے بجھڑ گیا تھا کیوں کہ اس کی آواز میں ہجر کا غم جھلک رہا تھا ۔ اپنی آواز میں اس نے شاید کوئی درد بھرا نغمہ چھیڑ دیا تھا ۔ میں جیسے مسحور سا ہوگیا مگرجلد ھی مجھے احساس ہوا جیسے میرا دل اس کے لیے افسردہ ہو گیا ہے ۔ جبکہ آج کے دن مجھے خوشگوار موڈ میں ہونا چاھئیے کیوں کہ آج کا دن میرے لیے بڑا اھم دن ہے ۔ اور ویسے بھی کسی کے غم میں گھلنے سے کیا فائدہ ! جب کہ اپنے غم ہی اتنے زیادہ ہوں ۔ میں سر گھما کر آبشار کو دیکھنے لگا ۔ پانی مسلسل بہہ رہا تھا ۔ نہ جانے یہ اتنا بہت سارا پانی کہاں سے آتا ھے ، کہنے والے کہتے ہیں کہ مدت سے یہ آبشاریوں ہی رواں ہے ۔ یہ پانی ختم کیوں نہیں ہوتا ؟ عرصہء دراز سے یہ اسی طرح گر رہا ھے اور شاید اسی طرح گرتا رہے گا ۔ جھیل کا پانی تو جوں کا توں رہتا ہے ۔ ٹھرا ٹھرا پرسکون ۔ پھر یہ آبشار اتنا شور کیوں مچاتا ہے ؟ مگر یہ شور بےہنگم تو نہیں ۔ یہ تو ایک مخوص لَے کے ساتھ گر رہا پے ۔ مزید غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پانی بھی نغمہ سرا ہو ۔ مگر اس کا نغمہ غموں اور دکھوں سے آزاد لگتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طربیہ نغمہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر میرا دل اس نغمے میں کھو گیا ۔ درخت جھومنے لگے ، پھول لہلہانے لگے ۔ شوخ رنگوں والے پرندے سریلی آوازیں بکھیرنے لگے ۔پہاڑ یہ نغمہ سُن کر مزید سرخ ہو گئے اور پہاڑوں پر لگا سبزہ ترو تازہ نظر آنے لگا ۔ میں ایک طرف بیٹھا خاموشی سے فضاؤں میں بکھرے اس نغمے کو سُن رہا تھا ۔ اُفق پر سرخ لہرہے لہرانے لگے ۔ ۔ سورج اب مغرب کی طرف جھکنے لگا تھا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے سرخ انگارے جیسا سورج ڈوبتا چلا گیا ۔ درخت اب ہیولے بنتے جا رہے تھے ۔ درختوں کے ہیولے اور شفق کی جھلک نہایت دلکش منظر پیش کر رھے تھے ۔میں بڑی بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ حالانکہ مجھے علم تھا کہ وہ ہمیشہ دیر سے آتی ہے مگر نہ جانے کیوں میرا دل بیتاب ہو رہا تھا ۔اب تو سورج بھی غروب ہوگیا تھا اور پر طرف ملگجا اندھیرا پھیل گیا تھا مگر مجھے علم تھا کہ جب وہ آئے گی تو بےشمار چاند نکل آئیں گے ۔ ہزاروں جگنو فضا میں بکھر کر کئی فانوس بنا دیں گے جن سے تیز روشنی پھوٹ نکلے گی ۔ سفید چاندنی ہر طرف بکھر جائے گی اور کائنات مسکرا اٹھے گی ۔ میرے جسم کو جھٹکا سا لگا تھا ۔ میں نے لیٹے لیٹے برتھ سے نیچے نگاہ دوڑائی ۔ ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر رُکی تھی ۔ میں ٹرین کو کوسنے لگا ۔ جس کے رُکنے کی وجہ سے میرا سپنا ٹوٹ گیا تھا ۔ مگر ایسا پہلی بار تو نہ ہوا تھا ۔ یہ سپنا تو میں عرصے سے دیکھ رہا تھا ۔ اب تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے میں نے سینما کے پردے پر کسی فلم کا حصہ دیکھا ہو ۔ تھوڑی دیر تک تو میں سپنے کی لطافتوں کا مزہ لیتا رہا ۔ پھر نیچے اُتر کر ٹرین کے دروازے پر آکھڑا ہوا ۔ پلیٹ فارم ذیادہ تر سنسان نظر آیا ۔ اکا دُکا مسافر آ جا رہے ھے ۔ مگر گرمی اور دھوپ کی وجہ سے ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی تھی ۔ میں نے رومال سے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو صاف کیا اور واپس اپنی سیٹ پر آ بیٹھا ۔ میرے کمپارٹمنٹ میں میں میرے علاوہ چند مسافر ھی تھے ۔ جو اونگھ رہے تھے ۔ میں سیٹ پر پاؤں پھیلا کر نیم دراز ہوگیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔ ٹرین نے دوبارہ رینگنا شروع کر دیا تھا ۔ ذرا دیر بعد مجھے اپنے قریب ہی چند آوزیں سُنائی دیں ۔ میں نے آہستگی سے آنکھیں کھول دیں میرے سامنے ایک باوقار خاتون کھڑی ہوئی تھیں ۔ جنہوں نے ہلکے سبز رنگ کی ساڑہی پہنی ھوئی تھی ۔ اور پلّو سے سر ڈھانپ رکھا تھا ۔ میں جو لمبی سیٹ پر نیم دراز تھا جلدی سے ٹانگیں سکیڑ کر اُٹھ بیٹھا ۔ وہ خاتون بڑی شگفتگی سے بولی ” کیا تم اکیلے ہو بیٹے ” میں نے ان کے لہجے کی شیرینی سے لطف ادوز ہوتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا ” میرا بیگ یہاں رکھا ہے میں ابھی آتی ہوں ۔” یہ کہہ کر انہوں نے اپنا بیگ سیٹ پر رکھا اور پچھلے کمپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئیں ۔ میں سوچنے لگا کہ اچھا ہی ہوا کچھ ہمسفر مل جائیں گے ورنہ ابھی تک میں اہنی سیٹ پر تنہا بیٹھا بور ہوتا آرہا تھا ۔ ابھی کافی سفر باقی تھا ۔ میں نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں اور اس وقت آنکھین کھولیں جب وہ خاتون ساڑھی کا پلّو سنبھالتی ہوئی میرے قریب بیٹھ رہی تھی ۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے سامنے بھی کوئی بیٹھا ہے ۔ دھیرے دھیرے اپنی نگاہیں اس کی طرف اٹھائیں ۔ نیلے رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس اس لڑکی نے اچھی طرح اپنے سر کو آنچل سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ میں اس کے چہرے کی جھلک نہ دیکھ سکا ۔ کیوں کہ سبز ساڑھی والی خاتون مری طرف متوجہ ہو گئی تھیں ۔ ” اس کی آنکھوں میں بلا کی معصومیت جب کہ سرخ و سفید چہرے کی دلکشی انوکھی تھی ۔ ایک مالاکوتی حسن ۔ ۔۔ یوں محسوس ھوتا تھا جیسے کوئی اپسرا دنیا کی سیر کرنے کے لیئے آسمانوں سے اتر آئی ھو ۔ لیکن وہ کوئی آسمانی پری نہ تھی اسی دنیا سے تعلق رکھتی تھی ، پھر بھی اس دنیا کی نہ لگتی تھی ۔ جو چیز اسے سب سے جدا کرتی تھی وہ اس کا بے پناہ حسن نہ تھا بلکہ حسن ، معصومیت اور پاکیزگی کے دلکش امتزاج نے اسے وہ تمکنت عطا کر دی تھی جو اسے عام حسین لڑکیوں سے ممتاز کرتی تھی ۔ ۔ وہ ساحل کی ٹھندی ریت پر ننگے پاؤں چل رھی تھی ۔ وقفے وقفے سے لہریں آتیں اور اس کا اسکرٹ بھگو جاتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ |
آہ …… گلفشاں شبیر AAH…… GULFASHAN SHABBIR
آہ ……
گلفشاں شبّیر
کبیر نگر ، جمشیدپور
سنسان سڑ ک تھی ۔میں وہاں تنہا کھڑی تھی بارش کا موسم تھا بجلی کڑک رہی تھی میں اپنی سواری ’’ بس ‘‘ کا انتظار کر رہی تھی۔ شاید کہ میر ی بس بھی چھوٹ چکی تھی میں بہت پریشان حال پیدل سڑک پر چلنے لگی ، بارش کا فی تیز تھی سڑک پر دور ، دور تک کو ئی مسافر نظر نہیں آرہا تھا ، میں ڈری سہمی چل رہی تھی تھوڑی دورچلنے کے بعد سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی کٹیا دکھائی دی ، میں بہت حیر ان وپریشان تھی کہ سنسان جگہ پر یہ کٹیا جس سے کسی کے کراہنے کی آواز آرہی تھی میں یہ آواز سن کر کافی بے چین ہو گئی اور میر ے قدم خو د بخود اس کٹیا کی طرف چل پڑے ، لیکن کٹیا کے قریب جاکر میں کشمکش میں پڑ گئی کہ اندر جاؤں یانہ جاؤں ، کافی ہمت کر کے میں اندر گئی تو دیکھاکہ ایک بوڑھی سی عورت اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کی فریاد کر رہی ہے ، شا ید وہ عورت بے ہوشی کے عالم میں ایک ہی رٹ لگا رہی تھی اور میری بے چینی بھی بڑھ گئی اور ان کے قریب جاکر میں نے کہاکہ ماں کیا بات ہے۔ ؟
وہ پانی پانی کہہ رہی تھی اور ان کی حالت بہت خراب تھی بخار بھی کافی تیز تھا مجھے بہت حیر ت ہوئی کہ وہ اکیلی یہاں رہتی ہے۔؟ اور ان کے گھر میں کو ئی نہیں ہے ۔؟
بہرحال میں نے اس بوڑھی عورت کو اٹھاکر پانی پلایا ، پانی پی کربوڑھی عورت نے کہا کہ میں اب ٹھیک ہوں ، دوادے دو، میں نے دوادیا اور کہا کہ آپ اکیلے یہاں کیا کر رہی ہیں ؟ جواب دئے بغیر وہ لیٹ گئی ، میں ان کو پریشان کر نا نہیں چاہتی تھی پھر میں واپس اپنے گھر کو لوٹ گئی ،لیکن میر اذہن ودل اور دماغ اس کٹیا میں لگارہا آخر یہ عورت اس سنسان جگہ پر اکیلے کیا کر رہی ہے ۔؟ کسی طرح رات گذری ،صبح ہوتے ہی میں پھر اس بوڑھی عورت کے گھر پہنچی تو کیا دیکھتی ہوں کہ اس عورت کی حالت میں کافی سد ھار ہے ، میں نے کہا کہ آپ مجھے پہچانتی ہیں۔؟
ہاں ، رات میں تم آئی تھی ، شکر یہ ،میری حالت کے پوچھنے کا ۔
میں وہاں بیٹھ گئی اور بوڑھی ماں سے پوچھنے لگی کہ ماں ! آپ یہاں اکیلی رہتی ہیں۔ ؟
بس وہ عورت زار و قطار رونے لگی ۔
مجھے تعجب ہو ا اور کہا کہ میں آپ کا دل دکھانا نہیں چاہتی ، آپ نہیں بتانا چاہتی ہیں تومت بتائیے۔
پھر اس نے کہا کہ نہیں ……تم بیٹھو ۔
میں بیٹھ گئی ۔
اور کہنے لگی ، مجھ بدنصیب کی داستان کیا سنو گی ……؟
میں دو بیٹوں کی ماں ہوں ، دونوں بچوں کو میں نے بہت ہی دلار وپیار سے پالا ، ابھی بچے چھوٹے تھے کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ، دونوں بچوں کی ذمہ داری مجھ پر تھی ایک بیٹامیراپالاہو اہے جب چار سال کی عمر اس کے ماں باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا ، میں نے اس کی سرپرستی اپنے ذمہ لے لی تھی، اس طرح میرے دو بیٹے ہوگئے ، دونوں کو بہت ہی پیار سے پالا ، محنت ومشقت سے ان دونوں کوپڑھایا ،لکھایا اور پھر دونوں کی شادی کر ائی۔
میری عمر کے چند سال اور بیت گئے ،میں نے محسوس کی کہ اب ان دونوں کے اندر اپنی ذمہ داری سمجھنے کی صلاحیت ہوگئی ہے ، میں نے اپنے دونوں بیٹے اکبر واسلم کو بلایا اور کہاکہ میری زندگی کے چند لمحے رہ گئے ہیں ، میں اپنی جائیداد ( گھر وکھیت وغیر ہ )تم دونوں بھائیوں میں تقسیم کر دیناچاہتی ہوں ، تاکہ تم دونوں میرے بعد اپنی زندگی اچھی طرح گذار سکو، یہ سن کر اکبر واسلم نے انکار کردیا ، اور کہا نہیں ماں اس کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن میں نے ان دونوں کی بات پر توجہ نہیں دی ، اپنی جائیداد دونوں میں تقسیم کردی ، چنددنوں بعد میرے بیٹے اکبر کی حرکتوں پر مجھے حیرانی ہونے لگی ، وہ اپنی بیوی کے بہکاوے میں آکر مجھ سے کہتاکہ ماں آپ کب تک یہا ں رہیں گی ، کچھ دن چھوٹے بیٹے اسلم کے پاس گھوم آئیے، میں نے کہا کہ نہیں میں یہاں ٹھیک ہوں ،۔
بلاآخر مجھے زبردستی اسلم کے گھر چھوڑ آیا ، جب میں اسلم کے گھر گئی ، تووہاں کی حالت اتنی اچھی نہیں تھی ان کی آمدنی کم تھی ، لیکن اسلم نے مجھے کافی عزت دی اور کہا کہ ماں اب آپ یہیں رہیںِ ، میں ان لوگوں کی تنگدستی دیکھ کر وہاں نہیں رہناچاہتی تھی ،اور دودن کے بعد پھر میں اکبر کے پاس آگئی ، مجھے دیکھتے ہی میری بہوکا مزاج خراب ہوگیا ، میرے بیٹے اکبر نے مجھ سے کہا کہ ماں آپ پندرہ دن میرے پاس اور پندرہ دن اسلم کے پاس رہیں ، یہ سن کر حیران ہوئی اپنی پرورش پر ، شاید میری پرورش میں کوئی کمی رہ گئی ہے ۔
خیر پندرہ دن اکبر کے گھر اور پندرہ دن اسلم کے گھر باری ، باری میری زندگی گذرتی گئی ، اسلم کے گھر مجھے کافی عزت ملتی ،میں اسے ڈھیرساری دعائیں دیتیں ، اسلم بیٹا میرابہت خیال رکھتا ، شام جب وہ گھر آتاتو کہتا کہ ماں کو میں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاؤں گا ، جب میں سونے لگتی توبیٹا میرا پیر دباتا اور میں آرام سے سو جاتی ، اور دل میں یہ خیال کرتی کہ کسی نیک کام کااجر مجھے مل رہاہے ، میرے پندرہ دن پورے ہوچکے تھے ، میں اکبر کے گھر آگئی جس نے میری زندگی کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ، آج اس کے گھر میرا پہلا دن شروع ہوا ، میر ی بہو نہایت ہی ذلت کے ساتھ پیش آتی ،کھانے کو نہیں دیتی ، اکبر جب شام کو گھر واپس آتا تو مجھ سے خیر یت پوچھنے کے بجائے اپنی بیوی سے کہتا کہ ماں نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا ؟یہ سن کر میراکلیجہ کٹ جاتا، مجھے اکبر کبھی کھانا کھانے کے لئے نہیں پوچھتا ، ان کے بچے مجھے دادی نہیں کہتے، بوڑھیا، بوڑھیاکہہ کر پکارا کرتے، ان کے گھر میرے رہنے کے لئے کوئی کمرہ نہ تھا ،باہر سہن میں ٹین کے شیڈ کے نیچے چارپائی لگا کر سوجاتی جب ان لوگوں کو میری یاد آتی تو مجھے روکھاسوکھا کھانا دے دیاکرتے، اس طرح میری زندگی کٹتی رہی ، اور میں خون کی آنسو روتی کہ یاخدامجھ سے کیا غلطی ہوئی جو ایسی سزامل رہی ہے اپنی اولاد کے ہاتھوں،اسی درمیان ایک دن اسلم مجھ سے ملنے آیا اور کہا ماں ! مجھے اپنے کاروبار میں کافی فائد ہ ہو ا اور یہ آپ کی دعاؤں کاہی اثر ہے، ماں! آپ میرے ساتھ ہی رہیں ، لیکن ماں نے اسلم کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں اکبر سے مل کر ہی جاؤں گی ، تم جاؤ میں ایک دو دن میں آجاؤں گی ، جب شام کو اکبر گھر آیا تو ماں نے کہا کہ میں اسلم کے گھر جاناچاہتی ہوں ، اکبر نے کہا جاؤ آج سے وہیں رہنا ، یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے ،یہ سنکر میرادل رونے لگا مگر میں برداشت کیا اور اسلم کے گھر چلی گئی اسلم کے گھر پر میں بہت ہی آرام وسکون کی زندگی گذارہی تھی، کیوں کہ اسلم اپنی ماں کا خا ص خیال رکھتا،جاڑے کے موسم میں رات کے وقت اسلم ماں کے کمرہ میں لکڑی جلاکر ماں کو آرام پہونچاتا۔
کچھ دنوں بعد ماں نے اسلم سے کہا کہ بیٹا میں اکبرکے گھر جانا چاہتی ہوں مجھے ان لوگوں کی یاد آرہی ہے ، بے چاری بوڑھی امّاں آخر ماں ہی توتھی میں اکبر کے گھر چلی گئی لیکن وہ مجھے دیکھ کر خوش نہیں ہو ا پھر بھی میں نے خیر یت پوچھی ، اور کہاکہ بیٹا میں تم
لوگوں کے پاس رہنا چاہتی ہوں اکبر نے اجازت تودیدی مگر اس نے بے رکھی ظاہر کی ، جاڑے کے موسم میں وہ مجھے باہر سونے کے لئے کہتا، سوتے وقت میں کہتی بیٹا میں اندر آجاؤں، بیٹا کہتا ہے اندر روم میں جگہ نہیں ہے آدھی رات کو اچانک چارپائی ٹوٹ جاتی ہے ، میں نے پھر آواز لگائی بیٹا میں اندر آجاؤں میری چارپائی ٹوٹ گئی ، تو بیٹا نے کہا کہ چٹائی لو اور باہر سو جاؤ، بیٹے کا یہ جملہ سن کر میرے دل سے ایک آہ نکلی کہ کاش میرے نصیب میں ایسی کو ئی اولاد نہ ہوتی ۔
اس رات میں نے کڑاکے کی ٹھنڈک برداشت کی اور بڑی مشکل سے رات گذاری ، صبح ہوئی تو میں نے دیکھا میری بہو اپنے بستر سے نہیں اٹھ پارہی ہے اسے فالج کا اٹیک ہواتھا وہ بہت بری حالت میں تھی ، اس کے تھوڑی ہی دیر بعد یہ خبر ملی کہ میرے پوتے کااکسیڈینٹ ہوگیا ہے اور اسپتال میں موت و حیات کے بیچ کھڑاہے اور یہ خبر میرے اکبر پر پہاڑ کی طرح ٹوٹی ، پھر کچھ ہی دیر بعد میری بڑی پوتی اپنے میکے لوٹ آئی اس کے شوہر نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیایہ سن کرمیرا لڑکا گھبرایا یہ ڈھیر ساری مصیبتیں مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی میں خود پریشان تھی کہ میں کیاکروں ، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا کہ اکبر کوکمپنی والے نے نوکری سے برخاست کر دیا، ان سارے غموں کو دیکھ کر میرے بیٹے پر توقیامت آپڑی تھی آخر وجہ کیا تھی مجھے خود سمجھ میں نہیں آرہاتھا ایک ہی رات میں یہ ساری مصیبتیں آپڑی ، میرے بیٹے کی حالت مجھ سے برداشت نہیں ہورہی تھی ۔
اتنے میں اچانک اکبر نے کہا کہ …….م …..مم ……ماں ……ا ے ماں مجھے معاف کردو،قسم خداکی مجھے تیر ی بددعا لگ گئی ،معاف کر دوماں ، ماں نے کہا نہیں بیٹا ہرگز میں نے تمہیں بددعانہیں دی ، بلکہ رات کڑاکے کی سردی میں میرے دل سے ایک آہ نکلی تھی شاید اسی آہ نے میرے بچے کو بربادکر دیا ،میں اپنے بیٹے کی پریشانی کو برداشت نہیں کر سکتی ، میں نے اکبر بیٹاسے کہا کہ بیٹا میں معاف کر تی ہوں اور اللہ تعالیٰ بھی تمہیں معاف کر ے گااور بخداجب تک میں اپنے کانوں سے تمہاری بہتری وبھلائی کی خبر نہ سن لوں مجھے موت نہیں آئے گی اسی لئے آج میں اس سنسان کٹیا میں ہر روز اور ہروقت اپنے بیٹے اور ان کے آل واولاد کی سلامتی کے لئے دعاکرتی ہوں میراخداضرور میری فریاد سنے گا۔
پھر میں نے دیکھا کہ دروازے کے راستے سے کوئی اندر آیا اور وہ شخص ماں کہتا ہوا داخل ہو ا……
اور خوش ہوکر کہا کہ ماں تیری دعا قبول ہوگئی ، تمہاری بہوٹھیک ہوگئی ، تمہارا پوتا بھی سلامت ہے ،پوتی اپنی سسرال چلی گئی اور آپ کی دعاسے میری نوکر ی بھی لگ گئی ،اب ہم سب ساتھ رہیں گے ماں ،چلو ماں گھرچلیں ، پھر میں نے اس بوڑھی ماں کے منہ سے یہ الفاظ سنے….. اللہ تیر اشکر ہے ، اس کے بعد میں نے ان کو اٹھایا کہ ماں اٹھو ،اٹھو ماں ،لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
شایدان کی روح پرواز کر چکی تھی۔
*****
گلفشاں شبّیر
کبیر نگر ، جمشیدپور
سپنوں کا محل : عابد علی خاں
عابد علی خاں
سپنوں کا محل
پارو نے جب سے ہوش سنبھالا خود کو کچرے کے ڈھیر پر ہی پایا تھا۔ وہ دِن بھر اپنی بڑی بہنوں کے ساتھ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ننگے پاؤں گھوم پھر کرکاغذ ، گتّا،خالی بوتلیں، لوہے اور پلاسٹک کے ٹکڑے اور جو بھی اُسے مل جاتا وہ اپنے چھوٹے سے بورے میں بھر لیتی۔ شام ہونے تک جو کچھ بھی ہاتھ آجاتا اُسے کسی کباڑیئے کی دُکان پر فروخت کردیا جاتا۔
اِسی جدّو جہد میں اُس کا بچپن اُس کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ۔جیسے ہی اُس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ۔ اُس کے بابانے اُس کی شادی بھیکو نام کے ایک شخص سے کردی۔جو عمر میں اُس سے کافی بڑا تھا۔ بھیکو ریلوے لائن کے ساتھ ایک جھونپڑپٹّی میں رہتا تھا۔
شادی کے بعد اُسے کچرے کے ڈھیروں میں سے کچھ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اب وہ کئی اچھے گھروں میں صاف صفائی کا کام کرنے لگی تھی ۔ اُس کا شوہر بھیکو کسی فیکٹری میں کام کرتا تھاوہ کام پر کم ،زیادہ تر گھر پر ہی پڑا رہتا ۔
پارو جس بستی میں بیاہ کر آئی تھی یہاں لوگوں کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر تھی ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور کیچڑ کے گڈھے تھے ۔ جھونپڑیوں کے اِرد گرد بہت سی غیر قانونی فیکٹریاں اور کارخانے آباد تھے ۔ جہاں بے شمار نقلی چیزیں تیار ہوتی تھیں ۔ ان فیکٹریوں اور کارخانوں سے خطرناک جان لیوا دُھواں اور گیسیں نکلتی تھیں ۔ مگر اِس علاقے کے لوگ اِن ہواؤں میں سانس لینے کے عادی ہوچکے تھے ۔
یہاں پلنے والے مچھروں سے تو اُن لوگوں کی دوستی ہوگئی تھی ۔ مچھروں کے کاٹنے سے اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ شاید اِسی لیے وہ بڑے مزے کی زندگی گزارتے نظر آتے تھے ۔
پارو کی جھونپڑی ریلوے لائن کے بالکل ساتھ تھی۔ یہاں ہر دو منٹ کے بعد ایک لوکل ٹرین گزرتی تھی ۔جس کا بے ہنگم شور اُسے کاٹنے کو دوڑتا ۔شادی کے بعد پہلے پہل تو اُس کے لیے یہاں گزارا ہوا ایک ایک منٹ بھاری تھا،وہ اُکتا جاتی تھی ، بے چینی اور بے بسی کی حد تک۔ کبھی تواُسے محسوس ہوتا ٹرینوں کا یہ شورو غل ایک دِن اُسے نگل جائے گا۔ پھر وہ دھیرے دھیرے اِن سب چیزوں کی عادی ہوتی گئی ۔
دِن بھر کام کرنے کے بعد پارو جب گھر لوٹتی تواُسے گھر کے سبھی کام بھی کرنے ہوتے تھے۔اُس کا شوہر بھیکو اُس سے ایک ایک پیسے کا حساب لیتا ۔پارو جو کچھ بھی کما کر لاتی اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیتی۔
بھیکو رات کو بستی کے کئی آوارہ بدمعاش لڑکوں کے ساتھ تاش کھیلتا اور پھر دیر رات گئے شراب کے نشے میں دُھت گھر میں داخل ہوتا۔ کھانا مانگتا اور پارو سے جھگڑا کرتا۔
پارو کو اُس کی ان حرکتوں پر بالکل بھی غُصّہ نہیں آتا تھا کیونکہ یہ معمول اُس بستی کے سبھی مردوں کا تھا۔ اِس لیے وہاں کی عورتیں اپنے شوہروں کے ایسے ناز نخرے اُٹھانے کی عادی ہوچکی تھیں ۔
اِسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے کئی سال گزر گئے ۔ اِس عرصہ میں اُن کے کوئی اولاد بھی نہ ہوئی ۔ مگر اب اُن کی مالی حالت پہلے سے کافی بہتر ہو چکی تھی ۔ اب پاروکو شہر کی کئی اچھی کوٹھیوں میں جھاڑو پوچھاکا کام مل گیا تھا۔ وہاں سے اُسے اچھے پیسے مل جاتے تھے ۔
پارو کی آمدنی میں اضافہ دیکھ کر بھیکو نے کام کرنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ وہ دِن بھر جھونپڑی میں آرام کرتا رہتا ۔ رات کودیر تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ جوا کھیلتا ۔
اُس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ پارو کہاں کام کرتی ہے اور اُس کی تنخواہ کتنی ہے۔ اُسے تو صرف روپیوں سے مطلب تھا۔ پارو نے بھی اُسے زیادہ حساب دینا بند کردیا تھا ۔ وہ ہرروز اُس کے ہاتھ پر اتنے روپے دھر دیتی جس سے اُس کا دِن مزے سے کٹ جاتا۔
اب پارونے اپنے شوہرسے چھپا کرکچھ روپے بھی جوڑناشروع کردیئے تھے۔ وہ سوچتی تھی جب اُس کے پاس بہت سے روپے ہوجائیں گے ۔ وہ اِس گندی بستی سے نکل کر ایک اچھا سا مکان خریدلے گی اور آرام سے اپنی زندگی بسر کرے گی۔
دوسری طرف بھیکو کو بھی بھنک لگ چکی تھی کہ پاروچوری سے کچھ روپے بچا کر جھونپڑی میں کہیں چھپا دیتی ہے ۔ اُس نے پارو کے کام پر جانے کے بعد جھونپڑی کی تلاشی لینی شروع کردی تھی ۔
پھر ایک دِن اُسے وہ لفافہ مِل گیا جس میں ایک نوٹوں سے بھرا پرس اور کچھ قیمتی چیزیں رکھی تھیں۔یہ سب دیکھ کر وہ حیران تھا ۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ پارو کے پاس اتنے روپے کہاں سے آئے ۔
مگر اُسے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔بھیکو نے اُس لفافے کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد اُسی جگہ رکھ دیا۔ تاکہ پارو کو کوئی شک نہ ہو۔ پارو کے گھر لوٹنے پر بھیکو نے اُس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
اُس دِن کے بعد بھیکو کے مزاج میں کافی بدلاؤ آگیاتھا۔ اب اُس نے پارو کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ پارو بھی اپنے شوہر کے اِس رویئے سے بہت حیران تھی اور خوش بھی ۔ کئی بار پارو کو محسوس ہوتا کہ شاید اب بھیکو پہلے سے سدھر گیا ہے ۔
لیکن ایک روز اُس کا یہ وہم بھی ٹوٹ گیا جب رات گئے بھیکو شراب کے نشے میں دھت گھر میں داخل ہوا ۔ وہ شراب کے نشے میں اپنے کئی دوستوں کو گالیاں دے رہا تھا۔ پارو کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ اُس نے ایسی حالت میں بھیکو سے کچھ پوچھنا بھی ٹھیک نہیں سمجھا ۔لیکن اُسے اِس بات کا اندازہ تو ہوگیا تھا کہ ضرور کسی دوست کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے ۔
وہ رات بھر بہت سی باتیں سوچتی رہی ۔ صبح ہوتے ہی اُس نے جب دیکھا بھیکو کافی دن چڑھے تک گہری نیند میں سویا ہے، تو اُسے بھیکو کی اِس بات پر بڑا غُصّہ آیا ۔ اُس کا جی چاہا کہ بھیکو کو بستر سے نکال کر کھڑا کر دیے اور پوچھے رات بھر وہ کہاں تھا اور اب دوبارہ اُس نے شراب کیوں پی ہے ۔
ابھی وہ انہیں خیالوں میں گم تھی کہ اُس کے کانوں میں بہت سے لوگوں کے چیخنے، چلانے کی آوازیں سُنائی دیں ۔ پارو نے جلدی سے باہر نکل کر دیکھا۔ جہاں کئی جھونپڑیوں پر لوگوں کا ازدھام جمع تھا ۔ ہر طرف عجب پُر اسرار گمبھیر سنّاٹا طاری تھا۔ کچھ گھروں سے لوگوں کے رونے ، چیخنے اور چلّانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔
پارو کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اُس نے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ لڑکوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ رات گئے زہریلی شراب پینے سے بہت سے لوگوں کی موت ہوگئی ۔
یہ الفاظ سنتے ہی پارو کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔ اُسے فوراً بھیکو کا خیال آیا ۔ وہ یکلخت پیچھے مُڑی اور بھیکو کے پلنگ کی طرف دوڑی ۔
وہاں بھیکو کی لاش پڑی تھی اور اُس کی جیب سے پارو کا وہی پرس باہر نکل رہا تھا جس میں پارو نے بہت سے روپے اُس سے چھپا کر جمع کئے تھے۔
پارو کے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا ، اُس کے سپنوں کا محل ٹوٹ کر پاش پاش ہوگیااور وہ بھیکو کی لاش سے لپٹ کر بین کرنے لگی۔
***
Abid Ali Khan
Sadewala, Maler, Malerkotla (Punjab)
E-mail : abidalikhan55@gamil.com
Mobile : 098781-98938