گھر لوٹ کے جانے کا تصّور : عذرا نقوی
گھر لوٹ کے جانے کا تصّور
عذرا نقوی
آج جمعے کی شام تھی اسلئے بطحیٰ کے بازار میں بہت بھیڑ تھی ۔ہمیشہ کی طرح ٹیکسیوں اور پرائیوٹ کاروں کادریا سا بہہ رہا تھا۔ سار ابازار برقی روشنیوں سے روشن تھا۔ الکٹرونک سامان بنانے والی مشہور کمپنیوں ، سونی ،ایل جی، سنسو ئی ، سیمسنگ کے بڑے بڑے بورڈ وں سے سجی دکانیں ہمیشہ کی طرح پررونق تھیں ۔ فٹ پاتھ پر سستی گھڑیوں کے ڈھیر اور چائنا کے بنے سستے کھلونوں اورکپڑوں کی دکانوں کے سامنے کافی بھیڑ تھی۔ پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے والے ُ پل پر مردوں کے غول کے غول لدے ہوئے تھے۔ اکا دکا کوئی عورت کالے برقعے میں چھپی اپنے شوہر کے ہمراہ نظر آجاتی تھی ۔
زبیر نے اپنی ٹیکسی ہرمال دو ریال والی دکان سامنے کھڑی کردی جس کے اندر چائنا اور تائیوان کا سستا مال بھر ا ہوا تھا ۔ حا لانکہ وہاں (ممنوع الوقوف ) نو پارکنگ کا بورڈلگا تھا مگر جمعے کی شامُ پل کے قریب اسی دکان کے سامنے ہی اشتیاق نے مغرب کی اذان سے پہلے ملنے کو کہا تھا… اب بس وہ جلدی آ جائے ورنہ ٹریفک پولس والا آگیا تو مشکل ہوجائے گی… زبیر نے ڈرائیور سیٹ سے سر ٹکا کر پاؤں پھیلا تے ہوئے سوچا۔ تھوڑی ہی دور پر ماڈرن طرز کی بڑے بڑے شیشوں کی کھڑکیوں والی پرنس سلمان بلڈنگ میں نیاشاپنگ سینٹر جمگمگا رہا تھا۔ اسے خیال آیا کہ ابھی چند برس پہلے یہاں اس عالی شان پرنس سلما ن بلڈنگ کی جگہ پر بڑا سا کھلا میدان تھا ،جمعہ کی شام سب یہاں ہی جمع ہوا کرتے تھے۔پاکستانیوں کا زیادہ تر اڈٌا دوسرے محلے شمیسی میں ہوتاتھا۔ یہاں، سوڈانی، یمنی، ترکی، مصری، یوپی والے، ملیالی، حیدرآبادی،،راجستھانی ، بہاری لوگوں کا قبضہ تھا۔ بھانت بھانت کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں۔ یہ لوگ جو مزدور، کاریگر وغیرہ تھے ریاض اور آس پاس کے گاؤں سے اور شہر سے دور فیکٹریوں سے ہر ہفتے آکر یہاں ہی ملتے تھے ۔اب وہ میدان نہیں رہا اور اس کی جگہ یہ بلڈنگ بن گئی تو ان لوگوں نے اپنی اپنی ملنے کی جگہیں پل کے نیچے ، مختلف گلیوں میں یا کسی پارکنگ لاٹ میں مقرر کر لیں ہیں۔
زبیر نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے سوچا کہ مغرب کا و قت ہونے والا تھا … اشتیاق نہ جانے کہاں رہ گیا۔ ابھی اذان ہو جائے گی تو یہاں کھڑے رہنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ اشتیاق پرسوں چھٹی پر انڈیا جا رہا ہے.اس کے ہاتھ کچھ سامان اورخط گھر بھجوانے تھے… پچھلے ہفتے گھر سے اماں کاخط آیا تھا پھپی کے دیور کا بیٹااشتیاق جو برتنوں کی ایک دکان پر سیلز مین ہے چھٹی پر انڈیا آنے والا ہے اس کے ہاتھ خط اور سامان بھجوا دینا۔
اماں کی فرمائشوں کی ایک لمبی لسٹ تھی … اب دوسری بہن کی شادی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ،تکئے کے غلاف اورچادریں اگر ابھی سے نہ تیار کی ہوئیں تو مشکل ہوجائے گی اس لئے ایک تھان اچھی والی کیٹی کے کپڑے کاھیج دینا…اور پروین کی شادی کے بعد سسرال میں پہلی عید ہے اس کو عیدی کا جوڑا، اور کچھ برتن اور میوہ مٹھائی تو بھیجنی ہی ہے اس کے لیے بھی ایک اچھا جوڑا بھجوا دینا … زرینہ کو عید پر سعودیہ عرب سے آیاہو جوڑا نہ ملا تو وہ لوگوں میں شان سے کیا دکھائے گی لہذا زبیر نے خود ہی اسکے لئے بھی ایک جوڑا کپڑا لے لیا۔ دونوں بچوں کے لیے کپڑے تو لینے ہی تھے ۔اما ں کوکچھ نہ بھیجوں تو زن مریدی کا طعنہ مل جاتا ہے ، اس لیے ان کے برقعے کا کپڑا بھی خریدلیا …رمضان شروع ہونے والے ہیں اس لیے بادام اورکھجوریں تو بھیجنی ہی ہیں… زبیر نے فرمائشوں کے علاوہ خود ہی سوچ کرسارا سامان خریدکر پیکٹ بنا کر تیار کرلیاتھا۔ اماں کہتی ہیں کہ سحری میں سعودیہ کے بادام کی ترٌی (حیریرہ ) اچھی بنتی ہے ،ادھر انڈیا کے بادام بہت چھوٹے چھوٹے ہو تے ہیں۔ زبیر نے سوچ کر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی…
’’اب خدا جانے اشتیاق کے پاس سامان لے جانے کی کی جگہ ہوگی کہ نہیں.‘‘زبیر نے سوچا۔اشتیاق خریداری کے سامان سے لد پھندا پُل سے اترتا نظر آیا۔ قریب کی کئی مسجدوں سے اذان کی آواز آئی تو اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی، اور جلدی سے دروازہ کھول کر اشتیاق کو اندر بٹھا کر چلدیا ۔اشتیاق کو چنو بھائی کے روم پرجا کر بھی ا ن سے بھی کچھ سامان لینا تھا۔
’’بھیا بہت راہ دکھائی، ہم تو تہرے انتظار میں کبو سے کھڑے ہیں ‘‘۔ جب اپنی طرف کا کوئی آدمی مل جاتا ہے تو نہ جانے کیوں ادبدا کر زبیر اپنی ہی بولی میں بات کرنے لگتا تھا۔
’’ کا بتائی زبیر بھائی ، دو سال بعد چھٹی جا رہے ہیں تو سامان کھریدے کا تو پڑی نا‘‘۔
’’کتنے دن کی چھٹی پر جارہے ہو؟‘‘ زبیر نے اس کے خریداری کئے ہوئے تھیلوں اور کارٹنوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
’’اب دیکھو، تین مہینے کی اکزٹ ری اینٹری لگی ہے۔ کفیل تو ہمارا بھلا آدمی ہے، لیکن اگر اگر زیادہ دن غائب رہے تو فرنٹ نہ ہوجائے ۔اور پھر چھٹی پر زیادہ دن گھر رہیں تو وہاں بھی اماں ابا اور سب گھر والوں کا دم پھولنے لگتا ہے کہ کہیں واپس سعودیہ نہ گئے تو کیا ہوگا ۔‘‘ اشتیاق نے کہا ۔
’’ہم سے کیا کہتے ہو بھائی ۔دس برس سے یہی کہانی چل رہی ہے ‘‘ ۔
زبیر نے تیزی سے یو ٹرن بناتے ہوئے کہا ۔
بازار میں جگمگاتی دکانوں کے پیچھے پتلی سی گلی میں ایک پرانی بلڈنگ میں چنو بھائی کا گھر تھا۔ گلی کے اندر داخل ہوتے ہی باسی مچھلی کو بو نے بتا دیا کہ یہا ں پر بنگلہ دیشیوں کا ڈیرا ہے۔ چنو بھائی کے چھوٹے سے خستہ حال فلیٹ میں حسب عادت بھیڑ لگی تھی۔یہ ہی وقت ہوتا ہے جب ہندوستان سے ٹیلی فون کی لائن ملتی ہے ۔وہا ں کا آپریٹر جہاں چاہو وہاں کا نمبر ملا دیتا ہے اور لوگوں کے لئے پچاس ریال میں آدھے گھنٹے گھر پر فون کرلینا گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ یوں عام فون سے کرو تو اس سے دگنے پیسے لگتے ہیں۔ دوسرے کمرے میں فون پر کوئی چیخ چیخ کر باتیں کر رہا تھا۔
’’ اماں! سلام علیکم ۔ خیریت ہے…کیا؟ …اب دیکھئے زیادہ دماغ خراب نہ ہو شکیل کا…سار ا دن آوارہ گردی ہی تو کرتا ہے ہیرو بن کر ۔سارا دن پھول پور کے بازار میں چائے کی دکان پر بیٹھنے سے فرصت ہو توکچھ کرے گا نا۔ ارے کیایہاں ویز ا پیڑ پر لٹکتے ہیں اماں جو بھیج دوں۔ کاہے نہیں کھیتی باری دیکھتا۔ کوئی لاٹ صاحب ہو گیا ہے ہائی اسکول کرکے ، کیا کہیں گورنر لگ جائے گاکیا… ہاں ! ہاں ! بھیجے تو تھے پیسے پچھلے مہینے، مل گیا ڈرافٹ ‘‘۔
ایک صاحب چنو بھائی سے پوچھ ہے تھے۔
’’ ایک پیٹی کتنے کی پڑ رہی ہے آجکل …اور کتنے دن میں پہنچیں گے پیسے گھر پر ، ذرا ایمرجنسی ہے، اور بھیا گارنٹی ہے نا پہنچے کی ؟‘‘۔
چنو بھائی کو غصہ آگیا۔
’’ تم کاہے نہیں اپنا پیسوا بنک سے بھجوا دیتے اگر اتنی ہی پریشانی ہے تو۔ ہم تو لاکھوں ریال روز ادھر سے ادھر کرتے ہیں‘‘۔
اسی دوران دوسر ے فون پر چنو بھائی ا ن لوگوں کے نام اور فون نمبر لکھ رہے تھے جو اپنے گھروں سے ہی انڈیا کے آپریٹر کے ذریعے فون پربات کرنا چاہتے تھے۔
’’کہوچنو بھائی، بہت مال توڑ رہے ہو‘‘ ۔زبیر نے پرانے صوفے پر سے الم غلم سامان سمیٹ کر اس پرنیم دراز ہوتے ہوئے کہا، اس کی کمر دکھ رہی تھی ۔
’’ارے کہاں کا مال۔ اب تو یہ سالے کیرالا والے پندرہ پندرہ ریال میں موبائل سے فون کراتے پھر رہے ہیں بازار میں.. .اب تو اس دھندے میں کچھ نہیں رکھا ہے۔ ہٹاؤ ان باتوں کو ،آج بہت بڑھیا نہاری پکائی ہے کھا کر جانا‘‘۔چنو بھائی نے چائے کا پانی گیس کے چولہے پر چڑھاتے ہوئے کہا۔ چھوٹے سے کچن میں نہاری کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
’’ ارے بھیا ! ہم پوریبا ارہر کی دال کھانے والے کب سے نہاری ، پائے کھانے لگے‘‘۔زبیر نے ہنس کر کہا۔
اشتیاق بول پڑا ۔’’ اب سعودیہ میں آکر بھی ارہر کی دال کھائیں تو پھر یہاں آئے کا فائدہ۔ ‘‘
کھانے کے دوران چنوبھائی گاؤں کی باتیں کرتے رہے۔ پرانی اسکول کے زمانے کی باتیں، چھپ کر گاؤں میں نوٹنکی دیکھنے کی باتیں ، گھر کے مسائل ، وغیرہ۔کھا نا کھاکر جب وہ فارغ ہوئے تو رات کے نو بج گئے تھے۔چنو بھائی کے گھر سے نکل کر کوئی سواری لینے کے لئے وہ گاڑی مین سڑک پر لے آیا ۔ بازار کی بھیڑاور رونق کچھ اور بڑھ گئی تھی،مگر اس کے دل میں جیسے زیرو واٹ کا بلب سا جل رہا تھا۔ وہ یوں ہی بے دھیانی سے شہر کی چکنی چمکتی سڑکوں پر گاڑی چلاتا رہا۔
’’ اب ایسا لگتا تھا کہ اس شہر کی سڑکوں پر گاڑی خود بخود مڑ جاتی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے کتنی نئی بلڈنگیں ریاض میں بن گئی ہیں‘‘..کنگڈم ٹاور کی بلند وبالا عمارت پر جلتی بجھتی روشنیوں پر نظر ڈالتے ہوئے اس نے سوچا۔اس کے سامنے ہی یہ عمارت بننی شروع ہوئی تھی۔ دن رات نہ جانے کتنے ہندوستانی اور پاکستانی مزدو ر اس کے بنانے میں لگے ہوئے تھے۔علیا کے فیشن ایبل بازار سے گذر کر وہ شہر سے باہر نکل آیا … اس نے گاڑی بے ارادہ ہی ٰئر پورٹ والی ہائی وے پر موڑدی .. . رات میں صحرا کا سناٹا اسے اچھا لگ رہا تھا۔
’’ چلو ٹھیک ہے‘‘ …اس نے سوچا … ایک کوئی سواری ائر پورٹ سے اٹھا کر روم پر جاکر جلدی سو جایا جائے،آج کے ڈیڑھ سو ریال تو ٹیکسی کمپنی کو دینے کے ہو ہی گئے ہیں۔ ایئر پورٹ کے ٹرپ سے کچھ اور کمائی ہوجائے گی… بس کافی ہے …آج وہ کچھ زیادہ ہی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔آج کا فی وقت گھر سامان بھیجنے کی خریدارسی میں نکل گیا تھا ۔
وہ ایئر پورٹ والی سٹرک پر چل رہا تھااور سوچوں کاسفر بھی جاری تھا… تین سال ہو گئے گھر گئے ہوئے …پچھلے مہینے کسی کے ہاتھ زر ینہ کا خط آیا تھا کہ اب مجھے اپنے بچوں کے لئے بھی سوچنا چاہئے…۔ ابھی تو میری ہی دو بہنیں شادی لائق ہیں۔ چھوٹا بھائی نہ جانے کتنے سال سے بی ا ے میں فیل ہورہا ہے کچھ نہیں کرتا … چھ بیگھا زمین ہے اپنے پاس، اس میں کتنا غلہ پیدا ہو سکتا ہے.. ریڈلائٹ پر کھڑا وہ سوچ رہا تھا …
لائٹ ہری ہوئی تو جیسے خود بخود گاڑی چل پڑی ۔ ائیر پورٹ سے ایک مصری فیملی کو بٹھا کر ان کی منزل پر پہنچایا اور پھر سیدھا اپنے روم پر چلا گیا ۔الیا س اور اعظم ابھی نہیں آئے تھے۔ الیاس درزی کی دکان پر کام کرتا تھا اور اعظم اس کی طرح ٹیکسی چلاتا تھا۔ اعظم کا معمول تھاکہ رات کو بارہ بجے کے بعد آتا تھا اور ساتھ میں کوئی نہ کوئی ویڈیو فکم کا کے کر آتا تھا۔ فلم دیکھ کر ہی سوتا تھا۔زبیر اس کی اس عادت سے بہت بیزار تھا، لیکن آج وہ خود ہی ایک دیڈیو کیسٹ وی سی آر پر لگا کر آرام سے لیٹ گیا۔بھاڑ میں جائے سورایاں اور ٹیکسی … اس نے سوچا۔
اسکرین پر شلپا شیٹھی برائے نام کپڑے پہنے ٹھمکا لگارہی تھی۔’’ جوانی کا عالم بڑا بے خبر ہے، دوپٹے کا پلو کدھر کا کدھر ہے‘‘ ۔’’ لاحول ولاقوۃ، ‘‘ وہ بے ارادہ کہا اٹھا، لیکن ویڈیو بند نہیں کیا۔ اس کی آنکھیں مندنے لگیں۔ شلپا کے چہرے میں اسے اپنی بیوی زر ینہ کا چہرہ نظر آنے لگا۔ تین برس ہوگئے گھر گئے ہوئے ۔ چھوٹے والے بچے کی تو شکل بھی ابھی میں نے نہیں دیکھی ہے… زرینہ سے تنہائی میں ملنے کے لئے بھی اپنے ہی گھر میں کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اماٌں کابس نہیں چلتا کہ مجھے اپنے کولھے سے لگائے بیٹھی رہیں ۔ رات کو بہت مشکل سے چھت پراپنے کمر ے میں جانے کا وقت ملتا تھا ۔ اماں کا خیال تھاکہ بیوی کہیں پٹی نہ پڑھا دے کہ میں ڈرافٹ اس کے نام بھیجنے لگوں… شلپاشیٹھی کے پتلی کمر جھٹکے کھا رہی تھی۔ دیڈیو چلتا رہا اور وہ سو گیا۔
رات بھر خواب میں دھان کے کھیت ، گاؤں کی گلیاں ، زرینہ ، ریاض کی سڑکیں، ہوائی جہاز، جانے کیا کیا گڈ مڈ ہوتا رہا۔ صبح اٹھا تو بالکل باہر جانے کو دل نہیں چا ہ رہا تھالیکن سات بجے صبح اسکول کے کئی بچوں کو اسکول لے جا کر چھوڑنا ہے ورنہ گڑ بڑ ہوجائے گی۔ اس کام کے اچھے پیسے مل جاتے ہیں اس لئے اٹھنا تو پڑے گا ہی زبیر میاں .. . اس نے خود سے باآواز بلندکہا
’’ اٹھ چندا تیرا وہ ہی دھندا ‘‘
جلد ی سے منہ دھوکر ، کپڑے بدل کر نکل کھٹر ا ہوا۔ چارگھروں سے بچوں کو لیا او راسکول چھوڑنے کے بعدناشتہ کرنے اپنے مخصوص بوفیہ(چھوٹا ہوٹل ) پہنچ گیا۔ وہ ناشتہ اسی وقت اسی جگہ کیا کرتا تھا۔ کڑک چائے پیتے ہوئے اس نے سگریٹ سلگایا۔آج فاروق بھٹی بھائی کاؤنٹر پر نہیں تھے ۔ ان کے ساتھی بشیر بھائی نے بتایا ۔
’’ وہ ، وہ تو جی قصیم گئے ہوئے ہیں ۔پرسوں ان کے رشتے کے چچا فوت ہوگئے ۔ وہی چا چا جو قصیم کے ایک گراج میں پچھلے بیس برس سے کام کر رہے تھے ‘‘۔بشیر بھائی پتیلے سے چھولے مرغ کا سالن پتیلے پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بولے۔
’’جی! بندے نے اپنے خاندان کو کیاسے کیا بنا دیا پاکستان میں .. بیٹیوں کی شادیاں دھوم سے بڑے بڑ ے گھروں میں کردیں۔ اب بڑے لڑکے کوبھی بلوا نے والے تھے…ویزا نکلوانے والے تھے بیٹے کے لئے ….بس یوں ہی چپ چپاتے رات کو سوتے میں ہی گذر گئے…اللہ کی مرضی….ان کی میت پاکستان بھجوانے کا انتظام کرنا تھا…. اسی کے لئے فاروق ریاض بھائی گئے ہیں. ..میت بھجوانے میں بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑ تی ہے…اب دیکھو کتنے دن لگتے ہیں‘‘
’’یوں ہی چپ چپاتے رات کو سوتے میں گذر گئے ‘‘۔
زبیر ہوٹل سے نکلا تو دن بھر یہ جملہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔وہ سواریوں کو ان کی منزلوں پر چھوڑتا رہا۔ سڑکوں کے چکر لگاتا رہا……سوچوں کا لامتناہی سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا…وہ گویا خود سے ہی دل ہی دل میں الجھتا چلا جارہا تھا.۔اب کچھ زیادہ سواریاں بھی نہیں ملتیں … ایک سواری کے لئے تین تین ٹکیسیاں لپکتی ہیں … کیوں؟ …، کب تک ، میں اس چکر میں لگار ہوں…
وہ خود سے الجھتا رہا … ہائی اسکول پاس کرکے یہاں آگیا تھا سوچا تھاکہ دو چار سال یہاں رہ کر کچھ پیسے جمع کرکے ایک دکا ن گاؤں میں کھول کر بیٹھ جاؤں گا۔ ۔پہلے سال یہاں کی کمائی سے وہ ادھار چکایا جو سعودیہ کے ویز ے اور ٹکٹ کیلئے ایجنٹ کو دینے کے لئے لیا تھا۔ اس کے بعد … لیکن اس کے بعد …سارے گھر کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کا بوجھ اور سعودیہ سے گئے ڈرافٹوں کاکچھ ایسا جاد و کہ واپس جانے کی بات ہی نہیںآتی تھی۔ گھر والے بھی میرے واپس آنے کی بات کرنا بھول گئے…
بہنوں کو اچھے جہیز او ر کھاتے پیتے گھرانوں کی تمنا… اماں کویہ فکر کہ چھوٹے بھائی کے لئے یاتو وہاں سے ویزا خریدکر بھیجویا انڈیا میں ہی کسی دھندے کے لیے رقم مہیا کرو …او ر وہ لاٹ صاحب ہیں کہ ٹیری کاٹ کے پتلون او ر شرٹ پہن کر ، ہاتھ میں سیکو گھڑی لگا کر گھومنے سے فرصت نہیں۔ ٹوان ون، دیڈیو سے دل بہلاتے ہوئے چھ سال سے بی اے کر رہے ہیں . . اور اب تو موبائل کا خرچہ بھی ان کا دینا پڑتا ہے…..اور اباٌ ….وہ تو دروازے کے باہر چارپائی ڈالے سعودیہ والے ہونہا ر بیٹے کی تعریف کرتے ہوئے ملنے والوں کی چائے پلاتے رہتے ہیں ۔ ان کو یہ ارمان کے اب دروازے پر بیٹھک کا ایک پکا کمرہ بن جائے … .
میری بیوی زرینہ کو یہ فکر کہ اب تک تو بھائی بہنوں کے لئے کمایا اب اپنے بال بچوں کا بھی تو سوچو۔ ابھی واپس آنے کی بات مت کرنا… .یہ سلسلہ دس برس سے ہے… کیوں … کب تک؟ زبیر احمد کون ہے وہاں تمہار ا منتظر …کیا جب لوگ سعودی عرب نہیں آتے تھے تو کیا زندہ نہیں رہتے تھے…وہ بڑبڑانے لگا۔
دوپہر کی دھوپ بہت تیز ہوگئی تھی اس کی آنکھوں میں چبھنے لگی تھی۔ اسکول کے بچوں کو اسکول سے لے کران کے گھروں کو پہنچاکر وہ جلدی سے کھانے کے لئے مدینہ ہوٹل بھاگا۔ ورنہ ٖعصر کی اذان ہوجاتی ہے تو ہوٹل بند ہوجاتا ہے۔ ہوٹل میں جہاں بہت سے ٹیکسی ڈرائیور روز کھانا کھانے آتے تھے وہیں زبیر کا بھی مہینے بھر کا دو نوں وقت کا کھانا بندھا ہوا تھا۔ کون اپنے آپ پکانے کے چکر میں پڑے۔ شروع شروع میں روم پر پکایاجاتا تھا۔ مگر دن بھر تھکنے کے بعد کھانا پکانے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔ آج مدینہ ہوٹل میں کچھ عجب سا ماحول تھا۔ کئی ٹیکسی ڈرائیور اردو نیوز اخبار پر جھکے ہوئے تھے۔اس نے پشاور والے خان بھائی سے ہنس کر پوچھا۔
’’ کیاہو ا گل محمد خاں ؟ کیا آج تمہارا نام ہے لاٹری کے انعام میں ؟ ‘‘
’’ نئیں جی ، لاٹری نہیں نکلی، اب ہم سب یہاں سے نکلنے والا ہے‘ ‘۔ اس نے اخبار زبیر کی طرف بڑھا کر کہا۔
اخبار میں بڑی سی سرخی تھی کہ’’ سعودی عرب میں غیر ملکی لوگوں کے ٹیکسی چلانے پر پابندی، چھ ماہ کے بعد صرف سعودی شہری ہی ٹیکسی چلائیں گے۔‘‘
زبیر کا دل دھک سے رہ گیا۔……اگر ئی خبر سچ ہوئی تو کیا ہوگا …گھر والوں کو کیسے بتاؤں گا ……دل نے چپکے سے کہا…..کاش یہ خبر سچ ہوتو کتنا مزہ آئے… گھر کے باہر نیم کی چھاؤں میں چارپائی ڈال کر گرمی کی دوپہریں کاٹی جائیں….سردیوں میں چارپائی دھوپ میں ڈال کر محلے پڑوس والوں سے باتیں کروں….ہاں اگر یہ خبر سچ ہوجائے تو ….اس کے دل میں ایک ترنگ سی لہرائی۔
زبیر نے کھانے میں آج اسپیشل قورمے کا آرڈر دیا۔ جو اس کے روز والے کھانے کے پیسوں میں شامل نہیں تھا ۔جم کر کھاناکھایا اور کھانے کے بعد سیدھا روم پر آکرآرام سے پلنگ پر لیٹ گیا …’’.اب جو ہو سو ہو‘‘… اس نے خود سے کہا…اور منہ تک چادر تان لی۔بہت دنوں بعد وہ بالکل بے خبر سویا تھا۔
***
عذرا نقوی
کوکھ کی تلاش : شبنم راہی
کوکھ کی تلاش
شبنم راہی
’’ارے ساب یہ لاسیں(لاشیں)کیا ہیں!یہ تو ماس کے ٹکڑے ہیں ٹکڑے ،وہ بھی ایسے کہ جیسے کسائی کی دکان سے لا کے یہاں پھینکے گئے ہوں ۔اور ساب سارے کے سارے چھوریاں لوگوں کے ہیں اس میں چھورا توایک ناہی۔ لاسوں کے نام پہ کچڑا ہے کچڑا ‘‘۔
بھیڑ سے گھرے ایک گڈھے میں اترے سپاہی نے یہ کہتے ہوئے اپنے افسر کو اطلاع دی ۔ اور یہ سنتے ہی صحافی حضرات نے بھی ایک بار پھر بھیڑ کو چیر نا شروع کر دیا ۔وہ بھی اپنا کیمرہ اور بیگ سنبھالتے ہوئے اس گڈھے کے اوپرکھڑاہوکر ایک کے بعد ایک تصویریں اتارنے لگا۔ تصویریں اتارتے ہوے اور وہاں کامنظر دیکھتے ہوے اس کا دماغ چکرانے لگا تھا ۔ اسے لگا کہ جیسے وہ خود سے اپناقابو کھودے گا۔کیونکہ گڈھے میں موجود لاشوں کے نام پر واقعی ادھورے وجود میں لڑکیوں کاکچڑا ہی تھا۔
کچھ دیر پہلے جب کسی نے گاؤں میں کچھ بچوں کی لاشیں ملنے کی خبر دی تھی ۔تب وہ ایک عام صحافی کی طرح خبر کی طرف بھاگاتھا۔راستے بھر خبرکے تعلق سے بہت سی باتیں اس کے دماغ میں گھومتی رہی تھیں کہ معصوم بچوں سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟ ان معصوموں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟اور بھلا انہیں کوئی کیوں مارے گا؟پھر اس نے خود ہی یہ سوچا تھاکہ ہوسکتاہے کہ ان کے ماں،باپ کی کسی سے کی کوئی رنجش رہی ہو،جس کا بدلا دشمنوں نے ان کی اولاد سے نکالاہو،مگر یہاں حالات کی نوعیت ہی کچھ اور تھی۔
صحافی حضرات افسران سے خبرکی بابت تفصیلی جانکاری حاصل کرنے میں لگے تھے۔افسران کا ماننا تھا کہ گڈھے میں سے برآمد شدہ گوشت کے لوتھڑے ان بچیوں کے ہیں جنہیں انکی پیدائش کے مقرر وقت سے قبل ہی جنس کی جانچ کے بعد حمل میں ہی ختم کردیا گیا تھا۔حمل میں انہیں چند سانیں تو عطاکی گئی تھیں،مگر شاید بیٹی ہونے کے ناتے انہیں دنیا میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اور ان کی وہ ادھوری سانسیں توڑکر کچڑے کی شکل میں گڈھے میں لاکر ڈال دی گئی تھیں۔
ان لوتھڑوں کی تصویریں اتارتے ہوئے وہ اس بے نام سی کیفیت کی زد میں آتا جا رہا تھا جس سے وہ خود خوفزدہ رہتا تھا۔ اور اِس وقت بھی وہ یہ سوچ کے پریشان تھاکہ کہیں کوئی عجیب وغریب حرکت یہاں نہ کر بیٹھیں۔گھبراکر ذہن بٹانے کے لئے اس نے اِدھر اُدھر دیکھا مگر ہر طرف اسے زار وقطار روتی چیختی ان بچیوں کا شور ہی سنائی دے رہا تھا۔ایسا شور جو اس کے کان کے پردے پھاڑتا ہوا اسے الجھاتا ہوااس کے دماغ پر چوٹ کر رہاتھا۔ ایسا شور جو چیختی ہوئی بچیوں کے کرب اور آہوں کا احساس کرا رہا تھا۔ ۔۔۔ایسا شور جو اس کے احساس کو جھنجھوڑ کر شعور کو بیدارکرتا ہوا اسے پاگل بنا رہا تھا۔ایسا شور جو صرف اس کے کانوں تک پہنچ رہاتھا۔ایسا شور جو اسے اس کے وجود کی اہمیت بتارہاتھا۔ایسا شور جو اس کے وجود میں لغزش پیدا کر رہا تھا۔ایسا شور جو آنے والے وقت میں اس کے وجود کے لئے سوالیہ نشان بھی بنا رہاتھا۔
افسران کا بیان رکارڈ کرتے ہوئے بھی وہ اُس ماحول اور اپنے اندر کے شور سے پریشان تھا،اس کا دم گھٹنے لگا تھا،اسے لگا تھا کہ جیسے کو ئی اس کا گلا دبارہاہے۔اور دم بس نکلنے ہی والا ہے۔گھٹن اور خوف سے ایک چیخ اس کے اندر بلند ہوئی۔’’ میری ماں مجھے بچالے‘‘۔اور اُس کی اس پکار کے ساتھ زاروقطارروتی چیختی ان بچیوں نے اور تیز آواز کے ساتھ رونا شروع کردیا تھا۔ شور اب اس قدر بڑھ چکاتھا کہ اسے خود کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔بمشکل تمام خود کو سنبھالتے ہوئے وہ ایک پتھر پر جا بیٹھا۔او ر گھبراکر اپنے دونوں ہاتھ سختی سے اپنے دونوں کانوں پر رکھ کر لیے۔مگر تب تک شور اس کے کان کے پردوں کو چیر کر دماغ سے ٹکراتا ہوا آنکھوں کے سامنے منظربنانے لگا تھا۔
اُس نے دیکھا گھبرائی ہوئی ایک حاملہ عورت ’’بچاؤ ، بچاؤ‘‘ کہتی ہوئی اپنا پیٹ پکڑے ہوئے چاروں طرف بھاگ رہی ہے اور ہربار اس کے پاس سے ’’بچاؤ ، بچاؤ‘‘ کی دو آوازیں اُبھرتی ہیں۔ایک آواز اس کی ہے اور دوسری اس کی کوکھ میں پل رہی ایک معصوم بچی کی ہے۔ کچھ عورتوں اور مردوں کی بھیڑ یہ کہتے ہوئے اس کے پیچھے ہے۔’’ارے کلموہی ہمیں ونش چلانے والا چاہئے ہے ۔ اس مہنگائی میں کہاں کھپائیں گے اسے۔۔۔۔۔۔چل ختم کر اس جھگڑے کو۔۔۔ ‘‘ تب’’ بچاؤ ،بچاؤ ‘‘کہتی ہوئی وہ عورت دوسری طرف کو بھاگتی ہے۔مگر وہاں سفید اپرن پہنے مرد اور عورت ڈاکٹر اسے گھیر کر ایک کمرے میں لے جاتے ہیں،جہاں ہاتھ میں بڑے بڑ ے قصائی والے چھرے لئے وہ ڈاکٹر کوکھ میں پل رہی بیٹیوں کو ختم کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ وہاں اس عورت جیسی اور بھی کئی عورتیں موجود ہیں۔ تب ان سب کوکھوں سے التجا کرتی ہوئی معصوم بچیوں کی پکار سنائی دیتی ہے۔ ’’ ہمیں مت مارےئے ہمیں جنم لینے دیجے۔ ہم بھی دنیا دیکھنا چاہتے ہیں،ہم بھی دنیا میں آنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
لیکن وہ ڈاکٹر چاروں طرف کے اس شور سے بے خبر ایکدم شانت ہیں اسپتال میں لگے اس پوسٹر کی طرح جس میں منہ پر انگلی رکھ کر ’’ش۔۔۔ ش۔۔۔ ش۔۔۔ شششش‘‘ کہتے ہوئے خاموش رہنے کا اشارہ کیا گیا ہے ۔ اور وہیں اس کے برابر میں لگے کئی اور پوسٹر کچھ شرمندہ سے ہیں جس میں ایک پہ لکھا تھا ۔’’ بھرون ہتیہ پاپ ہے۔‘‘اوردوسرے پہ لکھا تھا۔ ’’بچّے کے جنم سے پورولنگ کی جانچ قانونا اپرادھ ہے‘‘۔
گھبراکر اس نے کانوں کے ساتھ ساتھ اب آنکھیں بھی سختی سے بند کر لیں ۔مگر سکون پھر بھی نہیں ملا۔اب اسے لگا کہ جس زمین پر وہ بیٹھا ہے اُس جگہ کا وزن پہلے سے کچھ زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے زمین کا توازن بگڑ رہا ہے اور زمین نیجے کودھسنے لگی ہے۔ اور وہ بھی آہستہ، آہستہ زمین کے ساتھ اند ر کو دھنستا جارہا ہے۔پھر زمین ایک ایسی جگہ جاکر رُک جاتی ہے جہاں صر ف مرد ہی مرد ہیں۔بے نور اور بے رونق جگہ ہے جہاں کائنات کی پری عورت کا نام ونشان تک نہیں ہے۔اور وہ مرد اپنے ادھورے پن سے خونخار ہوکر ایک دوسرے کو نوچ کھسوٹ رہے ہیں۔
غش کھاکر اب وہ پیچھے کو گرتا ہے۔ مگر احساسات اس کے شعور کو جھنجھوڑنا اب بھی نہیں چھوڑتے ہیں۔ پھر ایک ایسے جہان میں لے جاتے ہیں جہاں کا منظر یہاں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ وہاں اُن بچیوں کے شور سے زیادہ بھیانک مردانہ شورہے ۔۔۔ ۔۔۔ اور وہ شور ہے اُن مرد بچوں کی روحوں کا ہے جو اس دنیا میں آنا چاہتی ہیں مگرانہیں جنم دینے والی ایک کوکھ انہیں نصیب نہیں ہے۔اور اُن بچوں کی وہ روحیں بھی بچیوں کی روحوں کی ہی طرح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں۔’’ہم بھی دنیا دیکھنا چاہتے ہیں‘‘،’’ہم بھی دنیامیں آنا چاہتے ہیں‘‘۔’’ہمیں جنم دینے والی ایک کوکھ چاہئے،ایک ماں چاہئے۔۔۔ہمیں ایک کوکھ دو۔۔۔۔‘‘تب گھبراکے اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے ایک ایسی دلخراش دہاڑلگائی کہ زمین و آسمان دونوں لرزگئے۔اور شور کرتی وہ روحیں سہم کر دہاڑتے اس شخص کے ادھور ے جملے میں الجھ گئی جو کہہ رہا تھا ۔ یا اللہ کیا اب آدم زاد کی پسلی سے ۔۔۔ ۔۔۔ ؟
***
Shabnam Rahi
R-13, Nafees Road, Batla House
Jamia Nagr, New Delhi- 25
E-mail: shabnamrahi@gmail.com
تیری سا دگی کے پیچھے : ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری
افسانہ
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری
تیری سا دگی کے پیچھے
ثانیہ خوشی سے بے قا بو ہو تے ہوئے اپنی سہیلی ثمرین سے لپٹ گئی۔
’’ارے….ارے….کیا ہو گیا….؟‘‘ ثمرین نے ثا نیہ کو سینے سے لگاتے ہو ئے کہا۔
’’آج تو غضب ہو گیا……میری تو جیسے قسمت ہی جاگ اٹھی….‘‘ ثانیہ نے بے تحا شہ ثمرین کے ہا تھوں کو چومنا شروع کردیا۔ثمرین اس بے مو سم برسات سے گھبراتے ہو ئے بو لی۔
’’یار کچھ بتائے گی بھی یا…….؟‘‘
’’ارے آج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچا نک ایک چینل پر میرے آئیڈیل معروف فکشن نگار حشمت ضیاء کا انٹرویو آرہا تھا۔‘‘ثانیہ کے چہرے پر خوشی کے رنگوں کا آنا جانا،اُ سے حسین بنا رہا تھا۔
’’دھت تیرے کی…..یہ بھی کوئی بات ہوئی۔میں سمجھی تو نے ٹاپ کیا ہے۔‘‘ثمرین کے لہجے کا جوش ختم ہوچکا تھا، جیسے آگ پر پانی کے چھینٹے مار دیے گئے ہوں۔
’’تجھے پتہ ہے حشمت ضیاء کی عمر کیا ہے؟ وہ ساٹھ کے آس پاس ہیں۔ان کی شہرت کے سبب ہزا روں فین ہیں ان کے۔تو کوئی روگ نہ پال لینا۔‘‘ثمرین نے سمجھ داری کا مظا ہرہ کرتے ہو ئے کہا۔
’’ارے وہ بات نہیں ہے، جو تو سمجھ رہی ہے۔مجھے کوئی پیار ویار نہیں ہوا ہے۔ میں تو ان کا بے حد احترام کرتی ہوں۔ تجھے پتہ ہے مجھے ان کا انداز پسند ہے۔ کیا زبان لکھتے ہیں۔ابھی گذشتہ دنوں’آج کل‘ میں ان کی کہانی’’رشتوں کا کھوکھلا پن‘‘ شائع ہوئی تھی۔کیا کہانی تھی یار….کتنی فنی مہارت سے کہانی کے تانے بانے بُنے تھے،لگتا تھا بَیا چڑیا نے تنکوں کو آ ڑا ترچھا ایک دوسرے میں پرو کر خوبصورت سا گھونسلہ بنایا ہو۔کہانی پڑھتے جاؤ اور واقعات کے پیچ و خم میں گرفتار ہوتے جاؤ۔آج کل کے ما حول پر کتنی عمدہ کہانی تھی۔ آج ہر طرف لڑ کیوں کو ہوش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا باہر کیا گھر،عزیز، قرابت دار، خون کے رشتے تک اب اعتبار کے لائق نہیں رہے۔حشمت ضیاء نے سگے ماموں کے ذریعے بھانجی کو ہوس کا نشانہ بنانے کی کہانی کو اس قدر فن کاری اور عمدہ زبان کے ساتھ تحریر کیا تھا کہ قاری سحر زدہ ہو جاتا ہے۔میں تو لرز اٹھی تھی۔مجھے ایسے رشتہ داروں کی شکل میں موجود درندوں سے نفرت ہو گئی ہے۔‘‘
’’ہاں…….ہاں……اب بس کر…..مجھے پتہ ہے ان کی یہ کہانی بہت مقبول ہوئی تھی۔در اصل جو بھی سماج کی صحیح عکاسی کرتا ہے،اسے سب پسند کرتے ہیں۔تو کچھ زیا دہ ہی ایکسائٹیڈ ہو رہی ہے۔‘‘
’’ثمرین….میں تو حشمت ضیاء کو اپنا آئیڈیل مانتی ہوں۔مجھے بھی کہا نی کار بننا ہے۔میں بھی سماج کی دکھتی ہوئی رگوں کو چھیڑوں گی اور ایسا درد آگیں نغمہ الا پوں گی کہ میری کہانی ہر کسی کی کہانی ہوگی۔لڑکیوں پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف مجھے آواز بلند کرنی ہے۔ مجھے مظلوم خوا تین کا سہارا بننا ہے۔ حد ہو گئی ہے۔جدھر دیکھو….عورتوں اور لڑکیوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔دہلی کی میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘ ثانیہ کے چہرے پر جوش، غصہ اور نفرت کے رنگوں کی آمیزش تھی۔
……………….
ثانیہ اور ثمرین دو سہیلیاں تھیں۔ دو نوں بی اے فرسٹ ائر کی طالبہ تھیں۔ ثا نیہ جذبا تی قسم کی لڑ کی تھی ۔وہ عام زندگی گذارنے کے حق میں نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ خود کو دوسروں سے الگ رکھتی تھی۔ آج کے نو جوانوں کی طرح فلمی ہیرو ہیروئین یا کر کٹ اسٹارز کو اپنا آئیڈیل بنانے کے بجائے اس نے ادیب و فن کار کو اپنا آئیڈیل بنایا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ سماج میں تبدیلی، سوچ بدلنے سے آ سکتی ہے اور سوچ کو قلم سب سے زیا دہ متاثر کرتا ہے۔ ایک ادیب یا مصنف بڑی آ ہستگی سے وہ سب کچھ کہہ جاتا ہے جو بڑے بڑے طا قت ور لوگ نہیں کہہ پاتے۔ ثمرین سیدھی سا دی زندگی گذا رنے وا لی عام سی لڑ کی تھی لیکن وہ بلا کی ذہین تھی۔ اس کا خیال تھا کہ تعلیم کے زمانے میں صرف تعلیم کے حصول پر توجہ صرف کر نی چاہیے،باقی باتیں بعد میں۔دو نوں میں گہری دوستی تھی۔ دو نوں ایک سا تھ ہی ہاسٹل میں رہا کرتی تھیں۔ ثمرین،ثانیہ کی ادب نوا زی کے بارے میں جانتی تھی۔اسے یہ بھی علم تھا کہ ثا نیہ حشمت ضیاء کی بہت بڑی فین ہے۔ ان کے افسا نے اور ناول ثا نیہ شوق سے پڑھتی تھی۔ یہی نہیں ان کے افسا نوی مجمو عے اور ناول خرید کر اپنے کمرے میں سجا رکھے تھے۔اخبارات سے تراش تراش کر حشمت ضیاء کی تصا ویر جمع کر کے اس نے اچھا خاصا البم بنا رکھا تھا۔
’’ہیلو……..‘‘ ثمرین کی کانپتی ہو ئی آواز ابھری
’’ ہیلو…..‘‘جی کون……؟
’’میں……میں…..ثانیہ….. ثانیہ……بول رہی ہوں……..‘‘
ثمرین نے بمشکل تمام حلق میں اٹک رہے جملوں کو آواز عطا کی۔ اس نے مو بائل کا اسپیکر آن کردیا تھا۔ ثانیہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں۔ برسوں سے جس کو دیکھنے اور سننے کی خوا ہش تھی، آج اس کی آواز سما عتوں سے ٹکرا ئی تو دل خوشی کے مارے قلانچیں بھر نے لگا۔
’’ جی…… ثا نیہ صا حبہ……بتائیے…‘‘
’’میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں….مجھے آپ کا قلم بہت پسند ہے۔ کیا انداز تحریر ہے؟
’’شکریہ…..ثا نیہ صا حبہ….آپ کہاں رہتی ہیں؟
’’ جی مراد آ باد….،کالج ہاسٹل میں‘‘
’’ اوہ….آپ تو میرے ہی شہر کی ہیں۔ میں ریلوے روڈ پر ہوں۔کبھی آ ئیے…….‘‘
’’ جی…… ضرور……. مجھے آپ کا ہر افسا نہ اچھی طرح یاد ہے۔آپ نے’’ رشتوں کا کھوکھلا پن‘‘ میں بڑا کمال کیا ہے۔؟
’’بھئی واہ شکریہ! در اصل میں تو حقیقت کوہی کہانی میں ڈھالتا ہوں۔اب تو ہم بھی آپ کے منتظر رہیں گے۔‘‘
’’ مجھے تو زمانے سے آپ کو دیکھنے کا انتظار ہے۔‘‘
’’وقت ہو تو کل آ جائیے….حشمت ولا، ریلوے اسٹیشن کے پاس۔‘‘
’’ جی بہتر…..‘‘
……………….
ثانیہ بے حد خوش تھی۔ آج اس کی برسوں کی خوا ہش کی تکمیل ہو نے وا لی تھی۔ حشمت ضیاء اردو افسا نے کا ایک بڑا نام تھا۔حشمت ضیاء کی آواز سن کر ثا نیہ خو شی سے بے قابو ہوئی جا رہی تھی۔ اس نے حشمت ضیاء سے ملنے کی پو ری تیاری کی تھی۔ اپنا سب سے اچھا سوٹ زیب کر کے خود کو سنوارا تھا ۔اس نے ثمرین کو بھی اپنے ساتھ چلنے کو را ضی کرلیا تھا۔
’’ ثمرین تم بھی چلو نا…….تم با ہر میرا انتظار کرنا، میں صرف 10؍ منٹ میں آ جاؤں گی۔‘‘ثمرین ثانیہ کا ساتھ نبھا تی رہی۔
دو نوں ریلوے روڈ پر واقع حشمت ولا کے سا منے پہنچ گئی تھیں۔سڑک پر بہت ٹریفک تھا۔ سا منے ایک ٹرک کھڑا تھا۔ ثا نیہ نے ثمرین کو با ہر ٹرک کے پاس انتظار کر نے کو کہا اور خود حشمت ولا پہنچ گئی۔بیل بجا کر انتظار کر نے لگی۔ دروازہ کھلا۔
’’آپ…..‘‘ حشمت ضیاء خود دروا زے پر تھے۔ ’’جی …میں ثانیہ ۔‘‘ثا نیہ مبہوت سی انہیں دیکھ رہی تھی۔ حشمت ضیاء لمبے قد کے خوبرو جوان لگ رہے تھے۔با لوں کی سفیدی اور چہرے پر ہلکی ہلکی جھریاں عمر کا اعلان کررہی تھیں۔رنگ کالا ضرور تھا مگر برا نہیں لگ رہا تھا۔
’’اندر آئیے!‘‘
’’ جی سر! ‘‘ ثا نیہ، حشمت ضیاء کے پیچھے پیچھے ڈرائنگ روم میں پہنچ گئی تھی۔ بڑا شاندار گھر تھا۔ ثا نیہ تو گھر کی اشیاء کو دیکھ کر حیران تھی۔گویا کسی محل میں آ گئی ہو۔
’’آپ تشریف رکھیں‘‘حشمت ضیاء اسے صو فے پر بٹھا کر اندر چلے گئے تھے۔ ثا نیہ بہت خوش تھی۔ اس کے ذہن میں حشمت ضیاء کے افسا نے اور ناول یکے بعد دیگرے آ رہے تھے۔حشمت ضیاء کے کردار ہمیشہ ظلم و نا انصا فی کے خلاف جدو جہد کرتے ہیں۔
’’لیجئے چا ئے ،لیجئے…….‘‘ حشمت ضیاء کی آواز پر وہ گھبرا کر سوچتے سوچتے، ماضی سے حال میں آ گئی تھی۔
’’ آپ کیوں تکلیف کررہے ہیں؟ نو کر وغیرہ…….؟
’’نہیں ثا نیہ صا حبہ آج میں گھر پر اکیلا ہوں….‘‘
’’ اور سنا ئیں…….حشمت ضیاء چائے کا کپ لے کر صو فے پر اس کے قریب بیٹھ گئے تھے۔
’’جی……‘‘ ثانیہ دور ہو نا چاہ رہی تھی، وہ اٹھی ہی تھی کہ حشمت ضیاء نے اسے وہیں بٹھا دیا۔
’’ آپ بھی کمال کرتی ہیں……چلئے بتائیں آپ کو میری کون سی تخلیق زیا دہ پسند ہے۔‘‘ثانیہ حشمت ضیاء کے بے تکلف رویے پر حیرت زدہ تھی۔
’’ مجھے آپ کی زیا دہ تر کہا نیاں اور ناول پسند ہیں۔ در اصل آپ کے کرداروں میں ظلم و تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کا جو جذبہ ہے، اس نے مجھے بے حد متا ثر کیا ہے۔‘‘
’’آپ ریلیکس ہو کر بیٹھ جائیں۔اسے اپنا ہی گھر سمجھیں،اب آپ میری فین ہیں،کوئی غیر نہیں…..‘‘
یہ کہتے ہوئے حشمت ضیاء نے صوفے کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پاؤں پھیلا دیے تھے۔ ثا نیہ چونک پڑی تھی۔ خوف کی لہر اس کے بدن میں لہرا ئی تھی،مگر اس نے اپنے ڈر کو ظا ہر نہیں ہونے دیا۔اسے اس کی چھٹی حس نے خطرے کا احساس کرا دیا تھا۔ وہ گھبرا رہی تھی۔ پو رے گھر میں وہ دو نوں ہی تھے۔اگر ایسے میں حشمت ضیاء…… وہ اس سے آگے نہیں سوچ پائی۔نہیں،نہیں….حشمت ضیاء ایسے نہیں ہو سکتے،وہ تو بڑے فن کار ہیں…ابھی وہ خیالات کے آنگن میں ڈری،سہمی ٹہل ہی رہی تھی کہ ایک ہاتھ اس کی پشت سے چپک گیا ۔اس کے بدن کا خون جم گیا تھا گویا اس کی کمر پرکوئی بڑی سی چھپکلی چپک گئی ہو۔ ذہن میں آویزاں فرشتہ نما قد آدم، شیشے جیسے جسم میں شگاف پڑ گیا تھا۔ تحفظ کا احساس، رگ و پے میں سرا یت کر گیا۔ اس سے تو ثمرین کو بھی ساتھ لے آ تی تو بہتر ہو تا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔اس سے قبل کے لمحے کے کسی بھی حصے میں پشت چپکا سانپ اس کے جسم سے لپٹ جاتا اور اپنی گرفت مضبوط کرتا، وہ بجلی کی سی سرعت سے صو فے سے اٹھ کھڑی ہوئی، پو رے جسم کی طاقت سمیٹ کر دوڑ پڑی۔ کالا ناگ بھی لہراتا ہوا اس کے پیچھے ہولیا۔اس نے صدر دروا زے کو پار کیا۔ با ہر آ گئی۔ سڑک کی دوسری جانب ٹرک کے پاس ثمرین کھڑی نظر آ ئی۔
’’ثمرین….ثمرین…..‘‘ وہ بد حوا سی میں چلا رہی تھی۔
ثمرین نے ثا نیہ کی آواز پر گھبرا کر حشمت ولا کی جانب دیکھا۔ایک کالا ناگ ثا نیہ کا تعاقب کررہا تھا۔ وہ دوڑ کر سڑک پار کرنا چاہتی تھی۔ دو سری جانب سے ثا نیہ دوڑ رہی تھی۔ اسی لمحے اچا نک ایک برق رفتار کار اپنا توا زن کھو بیٹھی اور دوسری جانب کھڑے ٹرک سے جا ٹکرا ئی۔ بہت زور دار دھماکہ ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے متعدد دھماکوں سے پو را علاقہ دہل اٹھا۔ ٹرک اور کار کے پر خچے اُڑ گئے تھے۔ آگ اور دھوئیں کے با دلوں نے پو رے علا قے کو گھیر لیا تھا۔ آس پاس کی دکانیں، گاڑیاں وغیرہ نذر آتش ہو گئی تھیں۔چیخیں اور کرا ہیں فضا میں بلند ہو رہی تھیں۔
آنافا ناسائرن کے شور نے علا قے کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ پولیس نے پو رے علا قے کو سیل کردیا تھا۔ لاشوں اور زخمیوں کو اٹھا یا جا رہا تھا۔ نیم مردہ ایک لڑ کی کو بھی پو لیس نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
………………
ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں خبروں کا بازار گرم ہوگیا تھا۔
مراد آ باد میں خود کش بم دھما کے سے ریلوے روڈ لرز اٹھا۔
دہشت گردوں کا ارادہ ریلوے اسٹیشن کو اڑانے کا تھا۔
مشتبہ دہشت گرد تنظیم آئی ایم کی خا تون رکن نیم مردہ حالت میں گرفتار
………………
کئی ماہ بعد……….
معروف افسا نہ نگار حشمت ضیاء کی کہانی’’دہشت گرد لڑکی‘‘ شائع ہو ئی جسے خاصی مقبولیت مل رہی تھی۔اُدھر جیل میں بند ثانیہ نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ صبح کا اُ جالا اندھیرے کو نگلنے کی تیاری کررہا تھا۔
***
Teri Sadgi Ke Peechhe
by
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu
CCS University, Meerut
Tel : 09456259850
Email : aslamjamshedpuri@gmail.com
ٹی شرٹ : ڈاکٹرصادقہ نواب سحر
ٹی شرٹ
ڈاکٹر صادقہ نواب سحر
سالانہ جلسہ اس سال’’شری رنگ بھون‘‘ میں رکھا گیا تھا کیونکہ کالج کا آڈیٹوریم چار ہزار طلبا کے لئے ناکافی تھا۔ شام چار بجے تقریباً آدھا درجن سجی سجائی ، ساڑیوں میں ملبوس لڑکیاں پوجا کی تھالی میں ننھا سا دیا لئے کھڑی تھیں۔ انہیں مہمانانِ خصوصی کے آتے ہی ان کی آرتی اتار کر، تھالی میں رکھی ہلدی اور کم کم لگانا تھا۔ آئے ہوئے مہمان کچھ روپے تھالی میں رکھ دیتے۔ فوٹو گرافر کو کھٹا کھٹ تصویریں نکالنی تھیں۔ وہیں نادرہ نے لڑکیوں کے پیچھے اس عجیب لکھاوٹ والی ٹی شرٹ کو دیکھا۔
’’تمہیں پتہ ہے یہاں کیا لکھا ہے؟‘‘
’’ہاں‘‘ ٹی شرٹ میں سے وہ بے شرمی سے بولا۔
’’کیا لکھا ہے بتاؤ تو!‘‘
’’آج کل تو ٹی وی پر ایڈ ورٹائز کرتے ہیں‘‘ وہ جواب بچا گیا، بوکھلا کر بولا ’’یہ تو اچھی بات ہے نا؟۔۔۔۔۔ ایک طرح سے میں سرکار کی مدد ہی کر رہا ہوں۔‘‘
’’ٹی وی کی بات اور ہے۔‘‘
’’آپ کو یہاں موجود لڑکیاں دکھائی نہیں دیتیں؟‘‘ وہ ذرا سا چڑ گیا تھا،‘‘ کیسے کیسے کپڑے پہنتی ہیں! بتاؤں؟‘‘
ہاں بتاؤ تو! مجھے تو کوئی قابل اعتراض حالت میں نظر نہیں آتی۔‘‘
’’بتاؤں!۔۔۔۔۔ ابھی بلا کر بتا سکتا ہوں۔‘‘ وہ جوش میں آگیا۔
’’بالکل بتاؤ‘‘۔ نادرہ نے ہال میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔
’’جانے دیجئے بیکار میں برا مان جائیں گی۔ دوست ہیں۔‘‘ وہ اپنے جوش کو قابو میں کرتے ہوئے بولا ’’مگر ہاں! ایسی ٹی شرٹ صرف میں ہی نہیں پہنے ہوں۔ اور بھی ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے پورے گروپ نے پہن رکھی ہے۔
۔۔۔۔۔ ان سے تو آپ کچھ کہتی نہیں۔‘‘
’’مجھے تو کوئی نظر نہیں آرہا۔‘‘
’’ویسے میں اِس کالج کا نہیں ہوں۔ ممبئی یونیورسٹی میں مینیجمنٹ کا اسٹوڈنٹ ہوں۔‘‘
’’ابھی ہمارا علاقہ پولوٹ نہیں ہوا ہے۔‘‘
’’کیا بات کرتی ہیں؟ کتنے لڑکے لڑکیاں، کیا کیا کرتے ہیں، آپ کو پتہ نہیں کیا؟‘‘
’’جو چھپ کر کرتے ہیں، ان پر ہمارا بس نہیں۔ ان کو کیسے روکیں؟ ۔۔۔۔۔ پھر تم تو کھلے عام کر رہے ہو۔ یعنی برائی کو عام کر رہے ہو۔۔ آج کل تو ۔۔۔۔‘‘ نادرہ زیادہ بحث کرنا نہیں چاہتی تھی، بات ادھوری چھوڑ کر وہاں سے ہٹ گئی اور اسٹاف کے لئے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بی اے کے دوسرے سال کی لڑکیاں لاونی اچھی کر رہی تھیں۔ خوبصورت مہاراشٹری نوواری کاشٹا ساڑی میں وہ غضب ڈھا رہی تھیں۔
’’ڈھولکی چا تالا وَر ، گھنگھرانچا بولا وَر
می ناچتے ، می ڈولتے،
عشقاچہ دربارات‘‘
نادرہ نے محسوس کیا کہ سچ مچ ڈھولکی کی تال پر گھنگھروؤں کے بول عشق کے دربار میں گونج اٹھے ہوں۔
رقص ختم ہوتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا کہ اِتنے میں وائبر یٹر پر رکھا ہوا فون تھر تھرانے لگا۔ شور و غل سے نکل کر فون اٹھانے کے لئے نادرہ نیچے آئی تو دیکھا وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر نا درہ کا جی پھر سلگ اٹھا
’’جوزف ڈی میلو‘‘
’’تمہاری ماں نے دیکھی ہے یہ شرٹ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کچھ بولی نہیں؟‘‘
’’کیوں بولیں گی‘‘۔
’’پڑھنا آتا ہے انہیں؟‘‘
’’کیا میڈم! آپ تو الزام لگائے جارہی ہیں۔‘‘
اس نے شکایتی لہجے میں کہا۔
’’اس میں الزام کی کیا بات ہے؟ بہت سے ماں باپ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔‘‘، نادرہ پلٹی اور موبائیل فون لگانے لگی۔ تو پیچھے سے اس نے آواز دی۔
’’آپ کے بیٹے کا نام روشن ہے نا؟‘‘
واقعے کے اس موڑ کے لئے وہ تیار نہیں تھی۔ آخر روشن کیوں آگیا یہاں!، نادرہ نے سوچا۔
’’ہاں۔‘‘
’’وہ میرا دوست ہے۔‘‘ وہ یک لخت نرم پڑ گئی۔
’’چھٹیوں میں روشن میرے بھائی کی کلاس میں گٹار سیکھنے جاتا تھا۔‘‘
نادرہ نے سوچا،’ اس سے پہلے کہ جوزف یا اس کا میوزک ٹیچر بھائی توڑ مروڑ کر اپنے انداز میں یہ واقعہ روشن کو بتائے،۔۔میں ہی اسے بتادوں۔ کوئی غلط فہمی ہمارے رشتے میں نہ پیدا ہوجائے۔‘
’’آج گیدرنگ میں ایک لڑکا عجیب سی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا‘‘۔
’’ہیو اے سیف سیکس نا!۔۔۔۔ آپ نے اسے بھاشن تو نہیں دے دیا؟‘‘، روشن نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
’’ہاں ٹوکا تو، تبھی تو اس نے اپنا نام بتایا۔۔۔۔ جوزف ڈی میلو!‘‘ روشن کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
’’آپ کو کیا ضرورت تھی، اسے ٹوکنے کی؟‘‘ ایک سکنڈ کا وقفہ لے کر اس نے ماں سے سوال کیا۔ پھر جواب بھی جیسے خود اسی نے دیا ’’آج کل توٹی وی پر اشتہار دکھاتے ہیں!‘‘
’’تم بھی وہی کہہ رہے ہو، جو وہ کہہ رہا تھا۔‘‘ نادرہ کو بیٹے سے اس جملے کی توقع نہیں تھی۔
’’ٹھیک تو ہے۔۔۔۔‘‘
’’کیا ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’اب میرے دوست میری ہنسی اڑائیں گے۔ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا۔‘‘ وہ اپنی رو میں کہتا گیا ۔
ہال سے کچن کی طرف جاتے ہوئے نادرہ نے احساس کیا۔’اب میرے طلبا‘‘ صرف میرے طلبا نہیں رہ گئے۔ بیٹے کی عمر کے ہوگئے ہیں ۔۔۔ میں نے غلطی تو نہیں کی جوزف کو ٹوک کر؟‘، وہ خود سے سوال کرتے ہوئے ہال اور کچن کی درمیانی سرونگ ونڈو سے ہال میں کھڑے ہوئے بیٹے کا منہ تکنے لگی۔
’’آپ کو کیا کرنا ہے ان کے پہناوے سے؟….آپ کا جاب تو صرف پڑھانا ہے۔ میں بھی یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ ہمارے پروفیسر کچھ نہیں بولتے!‘‘
’’میں تو سمجھی تھی۔ تم تو کم سے کم ایسے نہیں ٹوکوگے۔ تم تو ایسے کپڑے نہیں پہنتے نا؟‘‘
’’پہن تو سکتا ہوں، مگر پہنتا اس لئے نہیں کہ میرے گھر والوں کو پسند نہیں ہوگا…
چھوٹا شہر ہونے کی وجہ سے آپ کے اسٹوڈنٹس کو ایکسپوژر نہیں ملتا۔ وہی حال آپ کا بھی ہے۔ آپ نہیں جانتیں۔ نئے زمانے کے اسٹوڈنٹس کیسے ہوتے ہیں۔…… اور ہمارے پروفیسر!….. بولتے تو کیا! ارے وہ تو لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ بھی پیتے ہیں، ڈرنکس بھی لیتے ہیں۔‘‘ وہ منہ پھیر کر کھڑا ہوگیا۔
نادرہ دھیرے سے ہال میں لوٹ آئی ۔بیٹے کے بہت قریب آگئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی، ’’ ٹھیک ہے بیٹا…‘‘
**
Dr.Sadiqua Nawab Saher
Associate Professor & H.O.D. Hindi Dept.
K.M.C.College,
Khopoli, Dist.Raigad,
Maharashtra
pin: 410203
مہندی رچے ہاتھ : اقبال حسن آزاد
مہندی رچے ہاتھ
اقبال حسن آزاد
دور کہیں پہیوں کی گڑگڑاہٹ اُبھری۔
کوئی ٹرین گذر رہی تھی ۔پھر وہ آواز معدوم ہوگئی۔اب ہر طرف سناٹا تھا اور ایک دبیز تاریکی۔اس کی آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھیں۔دونوں پپوٹے آپس میں یوں پیوست ہو گئے تھے گویا کسی نے انہیں گوند سے چپکا دیا ہو۔اس نے زور سے چلانا چاہا مگر اس کے حلق سے کوئی آواز نہ نکل سکی۔اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔وہ گہری،اندھیری اور دبیز دلدل میں دھنستا جا رہا تھا ۔ساتھ ہی ساتھ اس کے سارے احساسات بھی زرد موسم کے پتوں کی طرح اس کا ساتھ چھوڑے جا رہے تھے مگر امید کا ایک ننھا سا ستارا زندگی کی علامت بن کر جھلملا رہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس ستارے کے ذرا نیچے باریک سا چاند طلوع ہوا۔پھر اس کے کانوں میں خوشگوار ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ایک چہکار گونجی۔
’’ابا!ابا!! میرے لئے نئے کپڑے…..‘‘ایک بچی کی معصوم فرمایش۔
’’اور میرے لئے بہت سارے کھلونے……‘‘ایک توتلی آواز۔
’’اور تمہارے لئے…..؟‘‘اس نے شرات آمیز نظروں سے سلمہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ستارہ جیسی آنکھوں والی نے اسے ایک لسٹ تھمادی۔چوڑیاں، مہندی،ساڑی،بلاؤز اور نہ جانے کیا کیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے رو پہلا چاند غروب ہو گیا مگر وہ روشن ستارہ اب بھی جھلملا رہا تھا۔اس کا جی چاہا کہ زور زور سے رونا شروع کر دے مگر اب اسے خود پر کوئی اختیار نہ تھا۔وہ نہ چیخ سکتا تھا،نہ چلا سکتا تھا اور نہ ہی رو سکتا تھا۔
اچانک اس کانوں میں کسی غم زدہ عورت کے رونے کی آواز آئی ۔اس نے اپنی چھاتی پر دو ہٹّر مارا۔چوڑیوں کے ٹوٹنے کا چھناکا ہوا اور پھر ایک ساتھ کئی عورتیں رونے لگیں۔اس نے بچی کھچی طاقت کو یکجا کر کے اپنے جسم کو جنبش دینا چاہا۔اس دفعہ وہ کامیاب رہا مگر اسے اپنے بائیں بازو میں زبردست ٹیس محسوس ہوئی ۔اس کے منہ سے ایک ہلکی سی کراہ نکلی۔پھر ایک ساتھ کئی آوازیں اس کے پردۂ سماعت میں ارتعاش پیدا کرنے لگیں۔
’’اس ڈیڈ باڈی کو یہاں سے شفٹ کرو۔‘‘پہلی آواز آئی۔
’’اسٹریچر لاؤ۔‘‘ددسری آوازآئی۔
اس نے زور سے سانس لی اور پھر اس کی آنکھیں آپے آپ کھل گئیں۔اس نے نظریں گھما کر چاروں طرف دیکھا۔وہ کسی ہسپتال کا جنرل وارڈ تھا ۔پورا کمرہ بھانت بھانت کے لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔دا ہنی جانب والی بیڈ پر ایک لاش پڑی تھی۔ایک بے حال سی عورت لاش کے پائتانے بال بکھرائے بے سدھ پڑی تھی۔ اس کی کلائیاں سونی تھیں مگر ہتھیلیوں پر مہندی رچی تھی۔چوڑیاں تو توڑی جا سکتی ہیں مگر مہندی کا رنگ اتنی جلدی چھڑایا نہیں جا سکتا۔تین مرد،جن کے شیو بڑھے ہوئے تھے،بیڈ کے ارد گرد کھڑے تھے۔دو چھوٹے چھوٹے بچے خالی نظروں سے لاش کو تکے جا رہے تھے۔یہ نظارہ دیکھ کر وہ ایک بار پھر بے ہوشی کے دلدل میں دھنسنے لگا۔پھر وہی دبیز تاریکی …..مگر وہ ننھا ستارہ اب بھی جھلملا رہا تھا ۔پھر وہ ستارہ اس کی نگاہوں کے قریب آتا گیا یہاں تک کہ اس نے ایک دودھیا بلب کی شکل اختیار کر لی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انگنت دودھیا بلب اس کے چاروں طرف روشن ہو گئے۔ساڑیوں کی اس بڑی سی دکان میں بڑی ہما ہمی تھی ۔وہ کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا نہایت مشاقی کے ساتھ گاہکوں کو ساڑیاں دکھانے میں مشغول تھا۔دکان میں بس عورتیں ہی عورتیں تھیں۔جب وہ کوئی خوبصورت ساڑی کاؤنٹر پر پھیلاتاتو یہ سوچے بغیر نہیں رہتا کہ یہ اس کی بیوی پر کیسی لگے گی۔بس چند دنوں کی بات ہے ۔عید میں وہ اپنے گھر پر ہوگا …..بیوی بچوں کے ساتھ…..اس نے ساری تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ایک روز سیٹھ جی نے دریافت کیا۔
’’کہیے نسیم میاں!ریزرویشن ہو گیا؟‘‘
’’نہیں جناب! بہت کوشش کی ۔ٹریولنگ ایجنٹ کے پاس بھی گیا۔تتکال میں ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔کسی گاڑی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
’’اب آپ کیسے جائیے گا؟‘‘
’’اب تو جنرل بوگی میں جانا ہوگا۔‘‘
’’مگر اس میں تو بڑی پریشانی ہو گی۔‘‘
’’اب کیا کیا جائے۔جانا تو ہے ہی۔‘‘
عید کے دو روز قبل جب وہ اسٹیشن پہنچا تو بھیڑ دیکھ کر اس کے پسینے چھوٹ گئے۔جنرل بوگی میں تل رکھنے کی جگہ نہ تھی۔ایک قلی کو روپے دے کربس بیٹھنے بھر کا انتظام کر پایا تھا۔اپنا سوٹ کیس اس نے سیٹ کے نیچے رکھ دیا ۔وہ کرتا پائجامہ پہن کر ہی نکل کھڑا ہوا تھا ۔سال بھر کی کمائی اس نے تھیلی کی شکل میں پیٹ پر باندھ رکھی تھی۔بوگی میں کسی نے سگریٹ سلگا لیا تھا جس کا کڑوا دھواں کئی مسافروں کو ناگوار گذر رہا تھا مگر کسی نے اسے منع کرنے کی ہمت نہیں کی ۔کیا پتہ وہ پلٹ کر چاقو نکال لے۔آج کل تو لوگ ذرا ذرا سی بات پر دوسروں کی جان لے لیتے ہیں۔اس نے اپنی سانس روک لی ۔اس کا سر چکرانے لگا ۔اس نے اپنے ہاتھوں سے دھوئیں کو بکھیرا اور پھر ایک زور کی سانس لی۔
’’چائے!گرم چائے!!‘‘پتہ نہیں کہاں سے ایک چائے والا لوگوں کو الانگھتے پھلانگتے وہاں تک آپہنچا تھا ۔اس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی نے چائے والے کو اشارے سے بلایا۔
’’لیجئے چائے پیجئے۔‘‘چائے کا کلہڑ تھامے ایک ہاتھ اس کی جانب بڑھا ۔اس نے انکار کرنا چاہا مگر اس سے پہلے پھر وہی اصرار کرتی آواز اُبھری۔
’’لیجئے نا!‘‘اور اس کا ہاتھ بے اختیار کلہڑ کی جانب بڑھ گیا۔
پہلا گھونٹ…..چائے گرم تھی۔میٹھی بھی مگر ایک ہلکی سی بے نام تلخی لئے ہوئے۔
دوسرا گھونٹ…..ویسی ہی گرم اور تلخ۔
تیسرا گھونٹ…..پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ایک گہری تاریکی ۔بس ایک ننھا سا ستارہ جھلملا رہا تھا ۔پھر اس ستارے سے ایک ساتھ کئی شعائیں پھوٹیں اور اس کی آنکھوں میں چبھنے لگیں۔اس نے بڑی بے چینی محسوس کی ۔اس نے ایک زور کی سانس لی اور اس کی آنکھیں خود بخود کھل گئیں۔نظروں کے سامنے سفید چھت تھی اور اس سے لٹکتا سیلینگ فین۔اس نے اُٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ۔اس نے نظریں گھمائیں۔کھڑکی کھلی تھی اور صبح کا سورج اپنی تیز کرنوں کے ساتھ اس کے سامنے روشن تھا۔اس کے بائیں ہاتھ میں اب تک چبھن ہو رہی تھی ۔بیڈ کی بائیں جانب ایک خالی بوتل لٹکی ہوئی تھی اور ایک سرنج اس کے بائیں بازو میں کھبی ہوئی تھی۔اس نے بدقت تمام اپنے جسم کو موڑا اور پھر اپنے داہنے ہاتھ سے سرنج نکال کر اٹھ بیٹھا۔اس کے جسم پر صرف میلا کچیلا پائجامہ بچا تھا۔د ا ہنی جانب والا بیڈ خالی تھا ۔زمین پر ہرے کانچ کی چوڑیوں کے ٹکرے بکھرے پڑے تھے۔وہ بستر پر پیر لٹکا کربیٹھ گیا اور خالی خالی نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا ۔اسے کچھ بھی نہ یاد تھا کہ وہ کون ہے،کہاں سے آیا ہے اور کہاں جانا ہے۔ذہن کسی دھلی ہوئی سلیٹ کی طرح سادہ تھا۔اچانک ایک بوڑھی عورت ہاتھوں میں ایک بوسیدہ سی چادر لئے ہوئے آئی اور بغیر کچھ کہے اس نے وہ چادر اس کے جسم پر ڈال دی۔اس نے اس بوڑھی عورت کو غور سے دیکھا ۔جھریوں بھرا چہرہ،سفید ساڑی،ننگی کلائیاں۔سر پر بے ترتیبی سے پھیلے ہوئے سفید بال اور شفیق آنکھیں۔ار ے یہ تو اماں ہیں۔اماں یہاں کیسے آگئیں۔انہیں گذرے ہوئے تو ایک زمانہ بیت گیا۔پھر اس بوڑھی عورت نے اشارے سے دریافت کیا۔
’’بھوک لگی ہے؟‘‘اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔بوڑھی عورت اس کا ہاتھ پکڑ کر اسپتال سے باہر لے گئی۔مین گیٹ سے ذرا ہٹ کر چائے کی ایک چھوٹی سی دکان تھی ۔اس بوڑھی عورت نے دو بسکٹ اور ایک گلاس چائے اس کی جانب بڑھایا۔یہ چائے گرم تھی اور میٹھی بھی۔مگر اس میں تلخی کا شائبہ تک نہ تھا۔چائے پینے کے بعد اس کی آنکھیں پورے طور پر کھل گئیں۔اب وہ سب کچھ صاف صاف دیکھ سکتا تھا ۔اس نے دیکھا سڑک کے کنارے ایک نیم عریاں لاش پڑی تھی ۔لاش کا منہ کھلا ہوا تھا اور اس کی پتھریلی آنکھیں آسمان پر ٹکی ہوئی تھیں۔اسے اُس مردے کا چہرہ جانا پہچانا سا لگا ۔پھر اسے یاد آ گیا۔یہ بھی اس کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور شاید اسے بھی چائے پیش کی گئی تھی۔بوڑھی عورت کہہ رہی تھی۔
’’یہ بے چارہ تو مر گیا۔پرماتما کی کرپا سے تم بچ گئے۔‘‘
اب ہر شے بالکل صاف اور واضح تھی ۔اسے صرف یہ نہ معلوم تھا کہ ہسپتال تک کیسے پہنچا۔بوڑھی عورت نے اس کی یہ مشکل بھی حل کر دی۔اس نے بتایا کہ رات کو کسی وقت ایک سپاہی ان دونوں کو ایک ٹھیلے پر لاد کر لایا تھا اور ہسپتال کے عملے نے دونوں کو الگ الگ بیڈ پر لٹا کر ایک ایک بوتل چڑھا دی تھی۔وہ دوسرا شخص مر گیا تو اسے ہسپتال سے باہر زمین پر رکھ دیا گیا۔اس نے لاش کی جانب ایک بار پھر دیکھا۔اسے جھرجھری سی آگئی اور اس نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں۔
بوڑھی عورت جا چکی تھی۔مگر اس کی دی ہوئی چادر اب تک اس کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی اور اب جبکہ زندہ ہونے کا احساس اس کی رگ رگ میں سما چکا تھاتو زندگی کے سارے مسائل بھی اس کے سامنے آن کھڑے ہوئے تھے۔یہی مسائل تو انسان کو زندہ رکھتے ہیں۔اپنے لئے جینا تو وہ کب کا چھوڑ چکا تھا۔اب وہ صرف دوسروں کے لئے زندہ تھا ۔اور جن لوگوں کے لئے وہ جی رہا تھا ان کے پاس خالی ہاتھ کس طرح جائے گا ۔مگر جانا تو تھا ہی ۔وہ ڈگمگاتے قدموں سے پوچھتے پاچھتے اسٹیشن تک پہنچ گیا۔وہاں پہنچ کر وہ پلیٹ فارم کے ایک کنارے بیٹھ رہا۔اب کیا ہوگا؟ بچوں کے کپڑے،کھلونے،بیوی کے ملبوسات،چوڑیاں…..ہرے کانچ کی چوڑیاں۔چھن چھناتی ہوئی…..چھن چھن چھن۔
چھن کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول دیں۔کسی نے اس کے آگے ایک سکہ پھینک دیا تھا۔پھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے سکے گرتے رہے اور وہ خالی خالی نظروں سے بس انہیں دیکھتا رہا۔دور بیٹھا ایک فقیر دزدیدہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔کئی گھنٹے یوں ہی گذر گئے۔دو بجے اس کے شہر کی جانب جانے والی گاڑی آئی تو وہ اُٹھا اور زمین پر پڑے سکوں سے بے نیازانہ آگے بڑھ گیا ۔دور بیٹھا فقیر کسی چیل کی طرح جھپٹا اور اپنے غلیظ ہاتھوں سے سکے بٹورنے لگا۔وہ ٹرین میں سوار ہو کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ رہا۔
جس وقت گاڑی اس کے شہر پہنچی شام گھِر آئی تھی۔وہ اسٹیشن سے باہر نکلا اور ڈگمگاتے قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھا۔مغرب کی اذان ہو رہی تھی اور گلی میں سناٹا تھا ۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے اس کی بیوی کی آواز آئی۔
’’لگتا ہے کوئی افطار مانگنے آیا ہے۔‘‘اس نے پھر کنڈی کھٹکھٹائی۔ کمزوری اس قدر شدید تھی کہ اس سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا۔وہ دروازے سے لگ کر بیٹھ گیا۔اسے برتنوں کے رکھنے اور اُٹھانے کی آواز آئی ۔اس نے چاہا کہ آواز دے مگر نقاہت نے اس کی زبان کو گویا بے جان کر رکھا تھا۔پھر دروازہ کھلا اور مہندی رچا ایک ہاتھ افطار کی پلیٹ لئے سامنے آیا۔
’’سلمہ…..میں ہوں ،میں۔‘‘اس نے کہنا چاہا مگر اس کے حلق سے کوئی آواز نہ نکل سکی۔بوڑھی عورت نے جو چادر اسے اُڑھائی تھی وہ ابھی تک اس کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی اور اس کا ایک کونا زمین پر پڑا ہوا تھا۔مہندی رچے ہاتھ نے افطار کی پلیٹ چادر پر اُلٹ دی اور پھر دروازہ اندر سے بند ہو گیا۔
***
Eqbal Hasan Azad
Shah Colony,Shah Zubair Road,Munger 811201
email:eqbalhasan35@yahoo.com
mob:9430667003
سٹی بس : محمد حنیف خان
سٹی بس
محمد حنیف خان
شعبہ اردو ممتاز پی جی کالج
میڈم پشپا نے صا ف طور سے فیصلہ کن انداز میں کہا نہیں سریش اب میں سٹی بس سے سفر نہیں کروں گی ،خواہ مجھے یہاں کھڑے ہوکر دو گھنٹہ سواری کا انتظارکیوں نہ کر نا پڑے ،اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا لوگ اپنی عمر کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ،سریش نے تعجب خیز نظروں سے دیکھتے ہو کہا نہیں میڈم وہ کیا تھا بھیڑ بہت تھی اس لئے آپ کو ایسا لگا اور آپ کی عادت بھی نہیں، شاید یہی سب سے بڑی آپ کی پریشانی ہے آپ چلئے تو اور اس نے چہرے پر آثار دیکھنے کے لئے اپنی نگاہیں مر کوز کردیں حالانکہ اس کو سڑک سے دفتر آتے وقت راستے میں ہی اندازا ہو گیا تھا کہ میڈم اب سٹی بس سے تو سفر نہیں کریں گی پھر بھی اس نے سو چا چلو دیکھتے ہیں اس سے’ اندازہ ‘بھی ہو جا ئے گا۔وہ کس بات کا اندازا لگا نا چاہتا تھا یہ نہیں بتایا میں نے پو چھا بھی کہ سریش تم کس بات کا اندازا لگانا چاہتے تھے تو ہنس کر میرا سوال ٹال گیا ۔میں نے اضطرابی کیفیت کے ساتھ پہلو بدلتے ہوئے پو چھا مگر ایسا کیوں ؟تم کو کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اب سٹی بس سے سفر نہیں کریں گی ؟ہزاروں لوگ سٹی بس سے سفر کرتے ہیں پھر ایسی کیا وجہ تھی کہ میڈم پشپا ایسا نہیں کریں گی تو اس نے جواب دیا اصل میں ان کو اندازا نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس بس سے سفر کی عادی تھیں مگر ان کو جلدی تھی اس لئے سوار ہو گئیں اور جب اتریں تو فیصلہ کر لیا کہ اب وہ کبھی اس بس سے سفر نہیں کریں گی خواہ تاخیر کی وجہ سے با س ان کو باہر کا ہی راستہ کیوں نہ دکھا دے ۔میں بڑے کشمکش میں تھا کہ ایسا کیوں ؟مگر وہ مسکرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا یا ر ہر کوئی ان بسوں میں نہیں چل سکتا ۔
در اصل تیز رفتار میٹرو سٹی کی زندگی میں اسپورٹ بائک میں اٖضافی اسپیڈ کی طرح تیزی آگئی تھی ۔ہر کوئی اسی رفتار سے اپنی زندگی گذار رہا تھا ،ضروریات کو پوری کرنے کے لئے لوگ مشینوں سے زیا دہ خود میں تیزی لا رہے تھے اسی لئے تو دو دو دفاتر میں ملازمت عام بات تھی ۔اور مو بائل کمپنیوں نے تو کئی شفٹوں میں ملازمت کے زیادہ امکانا ت پیدا کر دئیے تھے ۔سریش بھی پارٹ ٹائم ایک مو بائل کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا وہ رو زانہ شام کو پانچ بجے اپنے دفتر سے نکلنے کے بعد موبائل کمپنی میں پارٹ ٹائم ملازمت کے لئے نکل جاتا ،اس کی تیزی دیکھنے کے لائق ہوتی، ایک بار میں اس کو سڑک پر مل گیا مگر سورج غروب ہو نے کی طرح وہ بہت تیزی سے وہاں سے یہ کہتے ہو ئے رفو چکر ہو گیا کہ یار پھر ملیں گے اگر یہ والی چھوٹ گئی تو دوسری کے لئے بہت دیر تک انتظار کر نا پڑے گا ۔اس کے دفتر سے ہو تے ہوئے صرف دو بسیں ہی جاتی تھی اس لئے اس کے لئے بھی پریشانی تھی یہی وجہ تھی کہ میں نے اس کی اس جلدی کا برا نہیں مانا ۔اس نے بتا یا تھا کہ ایک تو 323اور دوسری 420نمبر کی بسیں ہی ادھر سے گذرتی ہیں۔420کا ہندسہ سنتے ہی میں نے ہنستے ہو ئے کہا تھا اماں سریش پھر تو اس کی سواریاں بھی بڑی 420ہو ں گی ۔تو وہ بھی ہنسنے لگا۔ معلوم نہیں سٹی بس کارپوریشن انتظامیہ کے پاس ایسی کون سی مجبوری آگئی تھی کہ انہوں نے آئین کی دفعہ 420کو بس کا نمبر بنا دیا تھا ۔اسی دفعہ کے تحت فریب دہی کر نے والو ں کو سزا دی جاتی ہے ۔سریش کو اتنی جلدی رہا کر تی تھی کہ اس نے کبھی اس جانب تو جہ ہی نہیں دیا تھا ۔اس نے خود بتایا کہ میں نے کبھی اس ہندسہ کی جانب توجہ ہی نہیں دی مگر ایک دن وہ کھڑا بس کا انتظار کر رہا تھا اور پاس ہی کھڑی چند لڑکیاں آپس میں ہنسی چوہل کر رہی تھیں جو روزانہ اسی بس سے آتی جاتی تھیں اور غالبا ایک ہی دفتر میں ملازمت بھی کر تی تھیں ۔یہ لڑکیاں آپس میں بات تو کر رہی رہی تھیں مگر بار بار مڑ مڑ کر پیچھے والی سڑک کی طرف بھی دیکھ رہی تھیں شاید ان کو کسی کاانتظار بھی تھا ۔اتنے میں دبلی پتلی شریر قسم کی ایک لڑ کی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور زور سے بولی لو 420 آگئی۔سریش خود منتظر تھا اس لئے یہ ہندسہ سنتے ہی فورا جدھر سے بس آتی تھی دیکھنے لگا ۔مگر وہاں تو کچھ نہیں تھا جب اس نے مڑ کر دیکھا تو ان میں ایک اور گول مٹو ل لڑ کی کا اضافہ ہو چکا تھا ۔پکوڑی کی طر ح ناک اور کمر سے نیچے اتر تی ہو ئی جینز دیکھ کر سریش کی طبیعت مکدر ہو گئی اب اس کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ 420یہ کس کو کہہ رہی تھی ،اور وہ آپس میں کہہ بھی رہی تھیں کہ میں سمجھ رہی تھی آج420کی 420چھوٹ جا ئے گی مگر تو آ ہی گئی ۔اتنے میں بس بھی آگئی اور سب اچک اچک کر بیٹھنے لگے ابھی سریش نے دروازے کا کنڈا ہی پکڑا تھا کہ بس چل دی اور اس نے چند قدم کنڈے کو پکڑے پکڑے دوڑ لگائی اور وہ بھی بس کے اندر پہنچ گیا۔بس سواریوں سے بالکل ٹھسا ٹھس بھری ہو ئی تھی ،لوگ جنس کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کے پیر پر پیر دھرے اس طرٖح کھڑے تھے کہ سانسیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں اور دن بھر کے کام سے نکلا پسینہ ناک میں گھس رہا تھا ۔ڈرائیور بڑے تیزی سے بس چلا رہا تھا کیو نکہ اس کو معلوم تھا کہ یہ میٹرو سٹی ہے جہاں کی زندگی بہت فاسٹ ہے ۔جب اچانک ڈرائیور بریک لگا تا تو تمام سواریا آپس میں مدغم ہو جاتیں ۔اور کسی کو اس بات کی سدھ نہ ہو تی کہ کس کا ہا تھ کہاں پہونچا اور ہاتھ ہی کیا پورا جسم ادھر کا ادھر ہو جا تا بھلا ایسے میں کو ئی کیا سو چتا ۔اسی بریک کا فائدہ اٹھا کر نو جوان ہی کیا بوڑھے منچلے بھی اپنی جھری بھری انگلیوں کو ورزش کرا دیتے ۔اور آپس میں اس طرح باتیں کر تے رہتے گویا ان کو کسی بات کی خود خبر نہیں ۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو صرف موڈ فریش کر نے کے لئے شام کو سٹی بس سے سفر کرتے کیونکہ اگر کچھ دفاتر شام پانچ بجے بند ہوتے تو کچھ اسی وقت کھلتے بھی تھے جس کی وجہ سے بسوں میں کافی بھیڑ بھاڑ ہوتی اور لوگوں کو ذوق کی تسکین کا مو قع مل جاتا ۔
سریش نے کھک کھسک کر ایک کو نے میں کھڑے ہو نے کی جگہ بنا لی اور چپ چاپ کھڑا ہو گیا تھا ۔روزانہ سٹی بس میں سفر کی عادت ہو چکی تھی اس لئے اس کو پریشانی نہ ہو تی اور وہ سکون سے کھڑے ہو نے بھر کی جگہ اپنے لئے بنا ہی لیتا ۔مگر وہ لوگ جو پہلی بار سفر کر رہے ہوں اور خاص طور سے شام کے وقت تو ان کا کچو مر نکل آتا اور اگر وہ مضبوط اعصاب کے نہ ہو تے تو بس سے اتر نے کے بعد قسم کھا لیتے کہ اب وہ بھول کر کبھی سٹی بس میں میں نہیں سفر کریں گے ۔ایک دن سریش کا ما مو زاد بھائی گاؤں سے یہاں ٹہلنے آیا تھا اس نے ضد کی کہ وہ مو بائل والا آفس ضرور دیکھے گا کیونکہ اس نے ابھی تک صرف موبائل کسٹمر کیئر آفس میں بیٹھنے والوں سے فون پرہی بات کی تھی جن کو دیکھنے کی خواہش اس کے دل میں رہ رہ کر اٹھ رہی تھی ۔کئی بار سریش نے منع بھی کیا کہ تم میرے ساتھ مت چلو سٹی بس میں پریشا ن ہو جا ؤگے مگر وہ نہیں مانا اس لئے مجبورا اس کو ساتھ میں لا نا پڑا ۔بس پر سوار ہو نے سے پہلے سریش نے اس کو سمجھا دیا تھا کہ دیکھو بس رکتے ہی بہت تیزی سے چڑھنا اور اسی تیزی سے اترنا بھی مگر اس بات کا خیال رہے کہ چڑھتے یا اتر تے وقت چوٹ نہ لگے ۔لیکن اس کو ابھی اس طرح کا کو ئی تجربہ نہیں تھا اس لئے اترتے وقت چوٹ لگ ہی گئی ۔اور اندر جو گردی تھی اس نے پہلے سے ہی اس کو پریشان کر رکھا تھا اس لئے اس نے اتر تے ہی وہیں کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک لگا ئی۔جس پر سریش نے کہا بیٹا میں نے کہا تھا نا کہ مت چلو مگر تم نہیں مانے تو اس نے کہا بھیا مجھے نہیں معلوم تھا مگر اب آج کے بعد کبھی نہیں ۔
سریش پیچھے ایک کونے میں دبکا کھڑا تھا دفعتا اس کی نظر میڈم پشپا پر پڑی جنہوں نے ابھی چنددنوں قبل آفس جوائن کیا تھا ۔نائٹ شفٹ میں ان کی بھی ڈیوٹی تھی حالانکہ اس شفٹ میں ان کو دیکھ کر سریش کو بڑی حیرت ہو ئی تھی مگر بعد میں جب معلوم ہواکہ میڈم کا شوہر سے طلاق ہو چکا ہے کیونکہ ان کو بچے نہیں ہو رہے تھے اس لئے ان کے پتی دیو نے یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ میں کب تک تم کو جھیلوں گا ۔میڈم اپنے بوڑھے ماں باپ پر بو جھ نہیں بننا چاہتی تھیں اور انہوں نے نائٹ میں یہاں جوائن کر لیا تھا اور شہر میں ایک کمرہ کرایہ پر لے کر تنہا رہ رہی تھیں ۔پشپا میڈم بڑی پریشان پریشان سی لگ رہی تھیں ،سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بھی سیٹوں کی رو کے درمیان خالی جگہ میں کھڑی تھی جہاں لوگ ایک دوسرے کے پیر پر دھرے کھڑے تھے وہ بار بار کسمسا کر اپنا چہرہ باہر نکالتیں مگر بریک لگنے کے ساتھ ہی ان کا توازن بگڑ جاتا ۔ان کا توازن کچھ تو بریک سے بگڑ جاتا اور کچھ چلتے ہو ئے ہا تھ بگاڑ دیتے ۔ان کی پریشانی سریش سمجھ رہا تھا مگر ایسی جگہ تھیں کہ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا حالانکہ اس پریشانی کی اصل وجہ اس کو نہیں معلوم تھی وہ تو بس سے اتر نے کے بعد اس کو معلوم ہو ئی ۔وہ ان کو اس پریشانی سے نجات دلانے کی ترکیب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک نو جوان نے سامنے کھڑے ادھیڑ عمر کی جیب پر ہاتھ صاف کر دیا مگر اس کی شامت اعمال کہ پکڑ لیا گیا ۔پھر کیا تھا پہلے تو ایک شور ہوا اور شروع ہوگئی اس کی دھنائی اب بس کے اند رکا ماحول ہی کچھ اور ہو گیا لیکن بس پانی کی طرح بہے جا رہی تھی ۔اچانک ایک موٹر سائیکل سوار بس کے سامنے آگیا اور ڈرائیور اس کو بچانے کے کے لئے بریک پر پر چڑھ کر کھڑا ہو گیا ۔اور لوگ ایک دوسرے پر آگئے سریش جو ابھی تک دبکا کھڑا تھا اچانک بریک لگنے سے سامنے والی عورت کے اوپر پہونچ گیا اور جھینپ کر ’’سوری‘‘ بولا اور پھر اپنی جگہ کھڑا ہو گیا ۔
بس اپنے منزل کی طرف بڑی تیزی سے جا رہی تھی تھوڑی دیر بعد وہ اسٹاپ بھی آگیا جہاں سریش اور میڈم پشپا کو اتر نا تھا ۔چند سکینڈ کے لئے بس رکی سریش تو جلدی سے نیچے آگیا مگر میڈم پشپا ابھی بھیڑ سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ وہ پھر چل دی۔جس سے میڈم کا پارا ساتویں آسمان پر پہنچ گیا اور چلا ئیں ’’روکوروکو‘‘پیچھے سے میڈم کوپکڑ کر ایک صاحب سہارا دیتے ہو ئے بولے ’’ارے بھائی میڈم کو نکلنے دو ‘‘سہارا دینے والے شخص نے میڈ م کی بانہوں کو کچھ اس طرح پکڑ رکھا تھا کہ دونوں ہاتھ کے انگوٹھو کے علا وہ اس کی ساری انگلیاں بانہوں سے نکل کر آگے کی طرف آ گئیں تھیں جس کو میڈم نے بھی محسو س کیا اور جھٹکے سے اس کا ہا تھ اپنے جسم سے دور کر دیا اور نیچے اتر آئیں ۔ میڈ م کا نیچے اترنا تھا کہ بس آگے بڑھ گئی مگر میڈم بس کو جاتے ہوئے وہیں کھڑی دیکھ رہی تھیں اور سریش آگے بڑھ آیا اس نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو میڈم کھڑی تھیں ۔سریش نے کہا آئیے میڈم کیا دیکھ رہی ہیں؟ تو انہوں نے اپنے نتھنوں سے ’’ہونہہ‘‘ کی آواز نکالی اور بڑ بڑاتے ہو ئے کہا بس کے نمبر کی طرح سواریاں بھی 420ہیں اور چل دیں جب وہ سریش کی پاس پہونچیں تو اس نے پو چھا میڈم کھڑی کیا دیکھ رہی تھیں ؟میڈم نے جواب دیا میں کھڑی سوچ رہی تھی کہ جو بس کے باہر لکھا ہے وہ اندر کیوں نہیں ؟سریش نے بڑی تعجب سے ان کی طرف دیکھتے ہو سوال کیا، کیا لکھا تھا میڈم ؟ انہوں نے تاسفانہ انداز میں جواب دیا ’’کرپیا اچت دوری بنائے رکھیں ‘‘اور زمین میں نظریں گڑائے ہو ئے سریش کے ساتھ دفتر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
محمد حنیف خان
شعبہ اردو ممتاز پی جی کالج
ارادت نگر ڈالی گنج لکھنو
haneef5758@gmail.com
9359989581
اور سرحد کھو گئی ؟ : محمدفرقان سنبھلی
محمدفرقان سنبھلی
اور سرحد کھو گئی ؟
گلریز تیز تیز قدموں سے دیوانہ وار منزل کی طرف بڑھا چلا جا رہا تھا ۔ فراق یا ر میں اسکی حالت مجنوں سے کسی طور کم نظر نہیں آتی تھی ۔ بڑھی ہوئی داڑھی، پینٹ کے اوپرنیچا کرتا جسکے اوپری بٹن کھلے ہوئے تھے ۔ کافی عرصے سے نہیں تراشے گئے لمبے لمبے با ل جوہوا کے جھونکے سے اُتر کر اس کے ماتھے پر دراز ہو جاتے تو کبھی سائڈوں میں ڈھلک جاتے ۔ انہیں سنبھالنے کی فرصت اور خیال گلریز کے دماغ میں آہی نہیں رہا تھا ۔ چلتے چلتے وہ کتنا فاصلہ طے کر چکا ہے اسکی اسے خبر نہیں تھی لیکن اسے لگ رہا تھا کہ منزل اب دور نہیں ہے ۔
’’اے نوجوان۔رکو۔۔۔کہاں جا رہے ہو ‘‘۔
ایک کڑک آواز نے گلریز کو چونکا دیا تھا ۔ سامنے ایک فوجی اسکی طرف گن تانے کھڑا تھا ۔ ’’میں انار سے ملنے جا رہا ہوں صاحب ۔‘‘ گلریز نے بنا مرعوب ہوئے جواب دیا ۔
’’انار۔۔۔۔کون انار؟‘‘
’’میری منکو حہ ہے صاحب اُدھر‘‘۔ اس نے سامنے کچھ فاصلے پر بنے مکانات کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔
’’کیا ۔۔۔۔۔وہاں ۔۔۔۔۔تم وہا ں نہیں جا سکتے ‘‘۔ کڑک آواز پھر گونجی ۔
’’لیکن کیوں صاحب ۔۔۔۔۔کل تک تو میں یہاں سے وہاں آرام سے جایا کرتا تھا ۔‘‘
’’لیکن اب نہیں جا پاؤ گے ۔۔۔۔چلو واپس جاؤ۔‘‘
’’لیکن ۔۔۔۔وہاں میری انار ۔۔۔۔۔‘‘۔
’’کہا نا واپس جاؤ ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔جاکر دوسری دلہن بھی ڈھونڈلو ‘‘۔
فوجی کے بھدّے مذاق پر وہ تلملا کر رہ گیا ۔ ابھی وہ واپسی کے لیے مڑ نا ہی چاہتا تھا کہ ایک دو شیزہ سے فوجی کی جھڑپ سن کر رک گیا ۔
’’بھائی ۔۔۔۔۔میری ماں بہت بیمار ہے ۔۔۔۔مجھے ادھر دوا لینے جانا ہے ۔۔۔۔۔مجھے جانے دونہ ۔‘‘
’’لیکن تمہارے محلہ میں بھی تو ڈاکٹر ہیں انہیں کیوں نہیں دکھاتی ہو۔‘‘
’’بھائی ۔۔۔۔۔مجھے جانے دونہ ۔۔۔۔۔ادھر جو ویدھ جی رہتے ہیں انکی جڑی بوٹی میری ماں کو بہت فائدہ کرتی ہیں ۔۔۔۔ انہیں ویدھ جی کی دوائی سے جلد آرام آ جاتا ہے ۔۔۔۔۔مجھے جانے دونہ بھائی ۔‘‘
’’دیکھو ۔۔۔۔۔میری بات مانو ۔۔۔اور وہیں کسی ڈاکٹر سے علاج کرانے کی عادت ڈال لو۔۔۔۔اب تم لوگ اس طرف نہیں جا سکتے ۔‘‘
(۲)
ابھی دو شیزہ پوری طرح مطمئن نہیں ہوئی تھی کہ ایک بڑے میاں آکر فوجی گروپ سے بھِڑ گئے ۔
’ارے فوجی بیٹا۔۔۔۔۔دیکھو ۔۔۔۔ادھر میرا بیٹا شدید بیمار ہے ۔۔۔۔مجھے اسے دیکھنے جانا ہے۔۔۔۔ مجھے کچھ دیر کے لیے ادھر جانے دو نہ ۔۔۔۔۔بھگوان تمہارا بھلا کرے گا بیٹا۔‘‘
’’ارے کہا نا کہ ا ب تم لوگ ادھر کبھی نہیں جا سکتے ۔ چلو واپس جاؤ ۔‘‘ فوجی نے انہیں بھی ٹرکا دیا ۔ لیکن بڑے میاں کہاں ماننے والے تھے ۔
’’میں کیوں نہیں جا سکتا ادھر ۔۔۔۔میرا بیٹا رام سنگھ ادھر بیمار ہے ۔۔۔۔موت زندگی کے بیچ جنگ چل رہی ہے ۔۔۔۔۔تم کیسے نہیں جانے دو گے مجھے ؟۔۔۔۔مجھے اپنے بیٹے سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا سمجھے۔‘‘ کہتے کہتے بڑے میاں کا گلا رندھ گیا تھا ۔ فوجی بھی کچھ نا دم سا ہو گیا ۔
’’بابا۔۔۔۔میں مجبور ہوں ۔۔۔۔اب آپ دونوں کے درمیان یہ سر حد حائل ہو گئی ہے ۔۔۔میں اگر آپ کو جانے بھی دوں ۔۔۔۔تو ادھر کے فوجی آپ کو مار ڈالیں گے ۔‘‘
’’اچانک یہ سرحد کہاں سے قائم ہو گئی ۔کل تک تو یہاں کچھ بھی نہیں تھا ۔‘‘ گلریز نے فوجی سے پوچھا جواب تک چپ چاپ کھڑا تمام باتیں سن رہا تھا ۔
’’ہاں تم ٹھیک کہتے ہو نوجوان۔۔۔۔۔یہ سرحد آج ہی قائم ہوئی ہے۔‘‘
’’لیکن کیوں۔‘‘ گلریز کا لہجہ احتجاج سے بھر پور تھا ۔
’’اس لیے کہ اب ہم آزاد ملک کے باشندے ہیں ۔۔۔۔۔ہم آزاد ہیں ۔۔۔۔اب ہم سر اٹھا کر جئیں گے اور ہمارا ملک جنت نشاں بنے گا۔‘‘ فوجی کی آنکھوں میں جگنو چمک اٹھے تھے ۔
’’لیکن ایسی آزادی کس کام کی فوجی بیٹا ۔۔۔۔کہ ہم اپنوں سے ہی دور کر دیے جائیں ۔‘‘ بڑے میاں کی کرب زدہ آوازپر فوجی خاموش رہ گیا ۔
’’اور انکل انکل ۔۔۔ہمیں تو آپ وہاں جانے دیں گے نہ ۔۔۔۔ہم وہاں روز کھیلنے جاتے ہیں۔‘‘ ایک 5-4سال کے بچے نے اچانک فوجی کی پینٹ کھینچ کر سوال کیا تو وہ سکتے میں رہ گیا ۔ بچے کو وہ کیا جواب دے اسکی سمجھ میں ہی نہیں آیا ۔
’’اور صاحب جی ۔۔۔۔۔مجھے اپنی بھیڑ بکریاں چرانے بھی جانا ہے وہاں اچھی اچھی گھاس ہوتی ہے نہ ۔‘‘ ایک سات آٹھ سال کے میلے کچیلے کپڑے پہنے بچے نے کہا تو بے اختیار فوجی کی آنکھیں بھی نم ہو اٹھیں ۔
’’نہیں میرے بچوں اب تم بھی وہاں نہیں جا سکتے ۔ یہاں اب سرحد قائم ہو گئی ہے جو تمہیں وہاں جانے سے روک رہی ہے ۔‘‘ نم ہوئی آنکھوں کا راز عیاں نہ ہو اس لیے فوجی نے دوسری طرف منھ گھما لیا ۔
(۳)
’’اللہ اس سرحد کو غارت کر دے ۔‘‘ دو شیزہ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر اونچی آواز میں دعا کی تو بر بس سبھی کی آوازیں اس کے ساتھ ملتی چلی گئی ۔
’’آمین۔۔۔۔۔آمین۔۔۔۔ثم آمین۔‘‘
کہکشاں کا خوبصورت سیارہ ۔ زمین ۔ جو شاید واحد سیارہ ہے جہاں انسانی مخلوق بستی ہے ۔ اسی زمین کے ایک ملک کی کو کھ سے دوسرا ملک پیدا ہوا تھا ۔ ملک کے وجود میں آنے سے قبل ایک خونریز داستان وجود میں آئی تھی جس نے نئے ملک کے قیام کی بنیاد رکھی تھی ۔ قیام ملک سے قبل سوچا یہی گیا تھا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو گی اور ترقی و خوشحالی کا دور دورا ہو گا ۔ لیکن یہ ممکن کیسے ہوتا ۔ جب ممالک کا قیام فریب ، مکاری، عیاری اور عوام کی خواہشوں کے خلاف ہوا تھا ۔ غیر یقینی کی فضا ، دلوں میں غبار زبان پر شکوے شکایات اور الزام تراشیاں ۔ ایسے میں خوشحال معاشرہ کا تصور چہ معنی دارد ۔ بہر حال دونوں ممالک کے درمیان ایک خط تقسیم قائم کر دی گئی ۔ جس کے قیام نے ایک ہی نسل علاقہ اور ماحول تک کو دو خطوں میں تقسیم کر دیا ۔ خط تقسیم کے ذریعہ قیام پذیر سرحدوں کے پس منظر میں جو خونی تصادم کار فرما تھے اسی کا نتیجہ تھاکہ دونوں طرف کے عوام میں ایک دوسرے کے لیے شدید غصہ تھا ۔ لیکن خونی رشتوں کی مہک بھی کہیں نہ کہیں انہیں ایک دوسرے سے باندھے ہوئے تھی ۔ سرحد کے قیام سے خاندان اور گھرانے تک تقسیم ہو گئے تھے ۔ ایک ہی گھر اور خاندان کے کچھ لوگ ادھر تو کچھ سرحد پار ہو گئے تھے ۔ سرحدی لکیر جہاں سے گذر رہی تھی وہاں وہاں زمین کے ساتھ ساتھ دل بھی ٹوٹ کر بکھرتے جا رہے تھے ۔ اور یہ ٹوٹ محض یہاں تک ہی نہیں رہنے والی تھی بلکہ اس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید بھیانک ہونے والے تھے اس کا اندازہ شاید کسی کو نہیں ہو رہا تھا ۔
خط تقسیم کے دونوں طرف دونوں ممالک کی افواج ہر وقت مستعد رہتی تھیں۔ لیکن ان کے درمیان میں محبت اور دشمنی کی انوکھی جنگ شروع ہو گئی تھی ۔ سرحد پر کھڑے دونوں طرف کے فوجی کسی وقت ایک دوسرے کے دوست بن کر قہقہے لگاتے نظر آتے تو اچانک دوستی دشمنی میں تبدیل ہو جاتی اور نوبت گولی باری تک پہنچ جاتی تھی ۔ ایک شام دو فوجی دوست آپس میں مل رہے تھے ۔
’’یار سردار ے ۔۔۔۔دلوں کے مقابلے سیاست جیت ہی گئی ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ا ب یہ آزادی کے نام پر سرحدہمارے تمہارے درمیان حائل ہو گئی ہے ۔۔۔۔وہ بھی کیا دن تھے جب ہم بے خوف ہو کر ایک دوسرے کے گلے ملتے تھے اور ساتھ بیٹھ کر ۔۔۔۔غم غلط کرتے تھے ۔۔۔۔لیکن اب۔۔۔۔‘‘
’’لیکن اب ۔۔۔۔اب۔۔۔‘‘سردارے محض ہکلا کر رہ گیا ۔
’’چل دل چھوٹا نہ کر یار۔۔۔۔ہم تو فوجی ہیں اور ساتھ ساتھ ہیں ۔ ملنے کے موقع تو نکال ہی لیا کریں گے ‘‘۔
’’اچھا اب اندھیرا ہو چلا ہے تو واپس ہو لے ۔۔۔۔کل پھر ملیں گے ۔‘‘
سردارے جیسے ہی نو مینس لینڈ میں پہنچا اچانک ایک فائر کی آواز نے اسے چونکا دیا ۔
(۴)
’’کون ہے وہاں۔۔۔۔‘‘ سردارے خاموش ہو کر زمین پر لیٹ گیا ۔
’’اپنے ہاتھ اوپر کرکے سامنے آجاؤ ورنہ میں گولی چلا دوں گا۔‘‘
’’ارے یہ تو سالا۔۔۔۔۔‘‘کہتے کہتے سردارے اٹھ کھڑا ہوا ۔
’’دھائیں ‘‘گولی کی آواز نے ادھیرے کو پھر چیر ڈالا تھا۔اور اس مرتبہ ایک چیخ بھی گونجی تھی ۔ سردارے سینا پکڑ کر دوبارہ زمین پر گر پڑا تھا گولی نے اس کے دل کو بھید دیا تھا اسکی روح پرواز کر چکی تھی لیکن اسکی حیرت سے پھٹی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ کسی اپنے کی ہی بے صبر گولی کا شکار ہو گیا تھا۔ نومینس لینڈ میں پڑی اسکی لاش کو اٹھانے بھی کوئی نہیں آیا تھا ۔ تو کیا یہی تھی وہ آزادی جس کے لیے بے شمار قربانیاں دی گئیں تھیں۔
لیکن سردارے کی موت کوئی آخری واقعہ نہیں تھا بلکہ بعد میں تو یہ معمول بن گیا ۔ دونوں طرف کے نہ جانے کتنے فوجی جانے انجانے ایک دوسرے کی گولیوں کا شکار ہوتے گئے ۔ کئی مرتبہ تو وہ اس طرح شکار ہوئے کہ انہیں پتہ ہی نہ تھا کہ وہ سرحد پار کرنے کی وجہ سے مارے گئے یا پھر دوست سے گلے ملنے کے خطا وار ہوئے ۔ خون کی پیاسی سرحد بھی شاید ایسے موقعوں پر کہیں چھپ جاتی تھی ۔ بہت سے عام انسان بھی گولیوں کا شکار ہوئے تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جوکہ جانے انجانے نا سٹیلجیا(Nostelgia) کا شکار ہو کر اپنے رشتہ داروں عاشق و معشوق اور دوست احباب سے ملنے کی غرض سے سرحد پار کرنے کی پاداش میں مجرم ٹھہرے تھے ۔
لیکن تب کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اگر یہ خط تقسیم یا سرحد اچانک غائب ہو جائے تو کیا ہو گا ؟وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے تھے بھلا نئے دور میں اس طرح کی بات سوچنا سخت حماقت سمجھی جانی تھی ۔ نہ جانے یہ گلریز یا اس دوشیزہ، بڑے میاں یا پھر عوام کے ایک بڑے طبقے کی دعاؤں کا اثر تھا یا پھرمعجزہ ! کہ اچانک سرحد غائب ہو گئی تھی چونکہ یہ معجزہ رونما ہو ہی چکا تھا اس لیے ٹی وی چینلوں پر مسلسل اسی کی خبریں نشر ہو رہی تھیں۔ خط تقسیم کے غائب ہونے کو اب تک کا سب سے پر اسرار معاملہ بتاتے ہوئے اسکے غائب ہونے کی صورتوں اور غائب کرنے والوں کی فہرست بھی زور شور سے نشر کی جا رہی تھی ۔ سرحد غائب ہونے کی خبر نے دونوں ممالک کی حکومتوں کو حیران کر دیا تھا ۔ لیکن اسے موقع غنیمت جان کر دونوں ہی ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ساتھ ہی سرحد کو ڈھونڈ نے کے لیے اور سرحد کے غائب ہونے کی وجوہات تلاشنے کے لیے دو الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دے کر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایات جاری ہو چکی تھیں۔
سرحد گم ہو جانے سے دونوں حکومتیں اس قدر حواس بانحتہ تھیں کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آگے وہ کیا اقدامات کریں ۔ سرحد غائب ہونے سے دونوں حکومتوں کے سامنے سب سے بڑی مشکل یہ پیش آ رہی تھی کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین تفریق کس بنیاد پر کی جائے ۔ بات دراصل یہ تھی کہ دونوں ممالک کے عوام کی قد کاٹھی ، رنگ روپ سے لے کر رہن سہن بھی کافی حد تک ملتا جلتا تھا دوسری مشکل علاقہ کی پہچان کو لے کر ہو رہی تھی کیو نکہ دونوں ممالک کے علاقوں کی زمین ، ماحول، آسمان، پہاڑ، ندیاں جنگل بھی ایک جیسے ہی تھے ۔ وہ تو
(۵)
سرحدی لکیر ہی تھی جو کہ علاقہ کی پہچان قائم رکھے ہوئے تھی اور اب یہی لکیر غائب ہو گئی تھی ۔
حکومتوں کے ذریعہ تشکیل دی گئی ٹیمیں سرحدی لکیر کی تلاش میں جگہ جگہ دبشیں دے رہی تھیں۔ تلاش کر رہی ٹیم نے تاریخ سے پتہ کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ کچھ سال پہلے تو ایسی کوئی لکیر کہیں تھی ہی نہیں ۔ یہ بھی سوچا گیا کہ سرحد پر مسلسل ہونے والی گولی باری میں تو یہ نازک لکیر غائب نہیں ہو گئی ۔ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ حساس طبعیت سرحدی لکیر مسلسل گولی باری سے عاجز آکر خود ہی کہیں جاکر چھپ گئی ہے ۔ ٹیم تلاش کرتے کرتے محکمہ آثار قدیمہ بھی پہنچی لیکن یہاں تو حالات اور زیادہ خراب ملے ۔پتہ لگا کہ یہاں ان دو ممالک کے درمیان ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے درمیان کوئی خط تقسیم ہے ہی نہیں ۔ خیال کیا گیا کہ اس دور میں سرحدی لکیر اسی طرح تحت الثریٰ میں چلی گئی ہے جیسے مقدس و یدوں کے عہد میں سر سوتی ندی غائب ہو گئی تھی ۔
بہر حال مسئلے کا کوئی واجب حل کسی کو نہیں سوجھ رہا تھا ۔ نہ سرحدی لکیر موجودہ زمانے میں کہیں دکھائی دے رہی تھی نہ تاریخ میں نہ مسقتبل میں ۔ یہاں تک کہ نہ آدمی کی نسل نہ اس کی شکل میں ، نہ ادب میں نہ فنون میں اور نہ ہی جغرافیہ میں ۔ لکیر کیا غائب ہوئی سب کچھ ایک ساہی لگنے لگا تھا جیسے یہ دو ممالک نہ ہو کر ایک ہی ملک ہو اور اس میں رہنے والے ایک ہی ملک کے باشندے ہوں۔ سرحد کے غائب ہونے سے ایک اور پیچیدہ مسئلہ سامنے آیا تھا ۔ صاف طور پر یہ پتہ نہیں لگ پا رہا تھا کہ کون کس کے خلاف ہے یہاں تو سبھی ایک دوسرے کی موافقت میں نظر آ رہے تھے ۔ جب یہ پتہ نہ چلے کہ کون کس کے خلاف ہے تو انسان کی سب سے بڑی شناخت اسکی ہزاروں سال پرانی جنگ جوئی کی روایت کو دھچکا لگتا ہے ۔ ایسے میں جنگ اور جدو جہد جیسے عظیم فرائض کا تقدس ہی مشکل میں پڑ جاتاہے ۔ چونکہ جدو جہد ہی ترقی کی بنیاد ہے اس لیے انسانی ترقی کے التوا میں پڑنے کا خطرہ بھی لا حق تھا ۔ حال یہ تھا کہ جدو جہد اور بے شمار قتل عام کی شکست ناپذیر ترکیبیں تعمیر اور تقسیم کرنے والے تمام ادارے اور کارخانے سب کے لیے مصیبتیں پیدا ہو گئیں تھیں۔ نتیجہ یہ کہ ترقی یافتہ ممالک کے اقتصادی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے شروع ہو گئے تھے ۔ جوکہ ممالک کے لیے چنتا کی بات تھی ۔
سرحد بہر حال گم تھی ۔ ویسے بھی جن گھنے جنگلوں،ویرانوں اور سنگلاخ پہاڑوں سے ہو کر یہ خط تقسیم گذرتی تھی اسے ہر وقت نگاہ میں رکھنا بہت مشکل تھا ۔لیکن اب جبکہ یہ گم ہو گئی تھی تو اسے ڈھونڈنا اور بھی مشکل کام نظر آرہا تھا ۔ سرحد کی گمشدگی کے بعد خط تقسیم ڈھونڈنے والے لوگ اور عوامی بھیڑ دونوں ملکوں کے درمیان اتنی آزادی کے ساتھ آ جا رہی تھی کہ لگتا تھا اب دو ملک نہیں رہ گئے بلکہ دونوں مل کر ایک ملک ہو گئے ہیں ۔ حالات اس قدر تبدیل ہو چکے تھے کہ سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کے مابین میل جول، آمد رفت اتنی فطری ہو گئی تھی کہ شادی بیاہ اور عشق و عاشقی کے معاملات دوبارہ طے ہونے لگے تھے ۔ اب بچے بھیڑ بکریاں چرانے اور کھیلنے کو د نے کے لیے آزادی سے آ جارہے تھے تو بڑے میاں بھی شان کے ساتھ اپنے بیٹے سے ملنے جاتے تھے ۔ وہ دوشیزہ بھی خوش تھی کہ اب وہ ماں کی دوا وید ھ جی سے لا سکتی تھی ۔جس سے اسکی ماں کی طبیعت بھی کچھ سنبھل گئی تھی ۔اور گلریز۔۔۔۔۔وہ کہاں تھا ؟
رات کے گھنے اندھیرے میں ایک سایا تیزی سے چلتے چلتے چوڑی سڑک سے منسلک گلی میں داخل ہو گیا ۔ گلی سنسان تھی ۔ وہ چلتے چلتے یا تو تھک چکا تھا یا پھر احتیاطاً چال سست کرتی تھی ۔ گھپ اندھیرے میں چلتا ہوا سایا بے حد پر اسرار لگ رہا تھا ۔ سایا اچانک ایک شاندار بلڈنگ کے مضبوط گیٹ پر پہنچ کر رک گیا ۔ اس نے اوپر سر اٹھایا تو مکان کی باہری دیوار میں لگے روشن دان پر کچھ روشنی دیکھ کر چونک پڑا۔
(۶)
’’لگتا ہے وہ ابھی سوئی نہیں ہے ۔۔۔۔چلو اچھا ہی ہے۔‘‘
اس نے روشن دان کے آس پاس کی دیوار کا جائزہ لینے کی کوشش کی ۔روشن دان قدر بڑا تھا اور اس میں خالی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔اس کے کافی قریب سے پانی کا پائپ نیچے تک آرہا تھا ۔ سایا اس پائپ کے سہارے اوپر چڑھنے لگا ۔ روشن دان کے پاس پہنچ کر اس نے اندر جھانکا اندر کی طرف کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی اور ایک نوجوان خوبصورت لڑکی آرام کرسی پر لیٹی ہوئی دکھائی دی ۔ وہ شاید کسی سوچ میں گم تھی کیو نکہ ایک ٹک خلا میں گھور رہی تھی ۔ سایا روشن دان پار کرکے کمرے کے اندر پہنچ گیا ۔ دبے پاؤں چلتے ہوئے لڑکی کے ٹھیک پیچھے پہنچ کر چند سکنڈ کے لئے سانس رو کے کھڑا رہا ۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ بڑھا کر لڑکی کی آنکھیں ڈھک لیں۔
’’ک۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔کون‘‘لڑکی کی آواز چیخ میں بدلتی اس سے پہلے ہی اس نے لڑکی کے منھ کو ہاتھ لگا کر بند کر دیا ۔
’’پہچانو۔۔۔تو ذرا ۔۔۔۔کون گستاخ تمہارے کمرے میں گھس آیا ہے ۔‘‘ اس نے منھ سے ہاتھ ہٹا لیا ۔’’گلریز ۔۔۔۔تم ۔۔۔۔تم یہاں‘‘؟ خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے لڑکی کا چہرہ دمکنے لگا تھا ۔
’’ہاں۔۔۔۔انار۔۔۔۔۔یہ میں ہوں۔۔۔۔۔تمہارا اور صرف تمہارا گلریز۔‘‘
انار بے ساختہ گلریز سے لپٹ گئی ۔اسکی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تھیں۔ کافی دنوں کی جدائی کے بعد ملن کی عجیب و غریب کیفیت سے وہ محظوظ ہو رہی تھی ۔
’’گلریز تم سرحد پار کرکے اس وقت کیسے یہاں آگئے۔۔۔۔۔تمہیں فوجیوں نے یہاں آنے کیسے دیا ۔۔۔۔کہیں تم فوجیوں کی نگاہ سے بچ کر نکلنے میں تو کامیاب نہیں ہو گئے ہو۔‘‘انار اچانک پریشان دکھائی دینے لگی تھی۔
’’نہیں میری جان ۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ’’گلریز مطمئن ہو انار کی نرم و نازک زلفوں سے کھیلنے لگا ۔
’’پھر تم آئے کیسے ۔۔۔خیر آ تو گئے ۔۔۔لیکن۔‘‘
’’خوشی کی خبر یہ ہے انار ہمارے درمیان حائل محبت کی دشمن سرحد اب غائب ہو گئی ہے۔۔۔۔۔اب ہم آزاد ہیں۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہے ہوگلریز؟‘‘انار کی آواز میں بے یقینی جھلک رہی تھی۔
’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔۔اب ہماری جدائی کے دن ختم سمجھو ۔‘‘ گلریز جذبات کی رو میں بہک کرقدر تیز آواز میں بولنے لگا تھا۔
’’کون ہے ۔۔۔انار ۔۔۔۔انار تمہارے کمرے میں کون ہے۔‘‘ آواز لگاتے لگاتے انار کے والدین اس کے کمرے میں داخل ہو گئے تھے ۔
(۷)
’’اوہ ۔۔۔تو یہ تم ہو برخردار ۔۔۔تم اتنی رات میں یہاں کس طرح پہنچ گئے۔۔۔۔’’یہ انار کے والد کی آواز تھی ۔
’’بیٹا گلریز تم اتنی رات میں سرحد پار کرکے کیسے آگئے ۔ ۔۔۔۔کہیں تم فوجیوں سے چھپ کر تو نہیں آئے ہو کہ وہ تمہیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں آنے والے ہوں۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔نہیں اماں ۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔‘‘ انار گلریز سے پہلے ہی بول پڑی ۔
’’پھر یہ یہاں کیسے ؟ ‘‘ انار کے والد قدر خفگی سے انار کو گھور تے ہوئے بولے ۔ وہ ابھی تک الجھن کا شکار تھے ۔
’’انکل۔۔۔۔ہمارے درمیان حائل سرحد اچانک گم ہو گئی ہے ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔میں صبح ہونے کا انتظار نہیں کر سکا ۔۔۔انکل اس سے پہلے کہ سرحددوبارہ واپس آجائے میں چاہتا ہوں کہ آپ انار کی رخصتی طے کر دیں ۔‘‘
گلریز نے بڑی بے باکی اور ہمت کے ساتھ یہ الفاظ ادا کیے تھے ۔ انار کے گھر والے اسکی بیتابی کو سمجھ رہے تھے اور حیران بھی تھے کہ انار کی محبت نے اس کے اندر بلاکی خود اعتمادی بھر دی تھی ۔ انار کے والد نے ایک مرتبہ انار کی طرف دیکھا اور وہ اس کے جذبات کو پہچان گئے ۔ وہ سوچوں میں گم ہو گئے ۔
’’تو انکل۔۔‘‘
’’ٹھیک ہے جب سرحد گم ہو ہی گئی ہے تو پھر مجھے کیا اعتراض ہے تم کل اپنے والد صاحب کو لے کر آنا تب باقی کی بات کریں گے۔ کاش کہ یہ سرحد ہمیشہ کے لیے ہی غائب ہو جائے ‘‘۔ کہہ کر انار کے والد کمرے سے نکل گئے ۔
’’آمین‘‘ سبھی نے دہرایا۔
*
’’بیٹارامو۔۔۔۔رامو۔۔۔۔کہاں ہے میرا بیٹا ۔‘‘ رام سنگھ کے والد بڑے میاں اب آرام سے ٹہلتے ہوئے اپنے بیٹے کی عیادت کے لیے پہنچ گئے تھے ۔
رامو کی بیوی جلدی سے سر پر دوپٹہ ڈال کر بڑے میاں کے استقبال کے لیے دروازہ پر آئی۔ اور انکی چھڑی پکڑ کر اندر کمرے میں لے آئی جہاں رام سنگھ بستر علالت پر پڑا ہوا تھا ۔
’’بابا۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔آپ کیسے آگئے ۔ ‘‘ رام سنگھ بدبدیا۔ وہ غنودگی کے عالم میں تھا ۔
’’ارے بیٹا ۔۔۔۔اوپر والے نے ہماری سن لی ہے ۔ اب ہمارے درمیان حائل سر حدغائب ہو گئی ہے ۔۔۔اور ہم پہلے کی طرح آزاد ہو گئے ہیں ۔‘‘ بڑے میاں کی فرط جذبات میں ڈوبی آواز نے رام سنگھ پر جادو کا سا اثر کیا تھا ۔ اس نے اپنی پوری آنکھیں کھول دیں ۔
’’تو بتا بیٹا ۔۔۔۔اب تیری طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’اب ٹھیک ہوں بابا۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔۔کاش میں نے گھر نہ چھوڑا ہوتا تو آج ہم یوں پریشان نہ
(۸)
ہوتے۔‘‘ کہتے کہتے رام سنگھ کی آواز بھّراگئی ۔
’’اب جو ہوا سو ہوا ۔ پہلے تو ٹھیک ہو جا تو ہم ساتھ ساتھ ہی رہیں گے ۔‘‘
بوڑھے باپ کی آنکھیں بھی گیلی ہو گئی تھیں ۔
’’لیکن بابا سرحد اچانک غائب کیسے ہو گئی ۔‘‘ رام سنگھ کی بیوی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔
’’بھگوان جانے بیٹی ۔۔۔۔لیکن یہ اچھا ہی ہوا۔۔۔۔بھگوان کرے کہ یہ سرحد اب کبھی واپس نہ آئے ۔‘‘
*
’’کیلاش یار کچھ بھی ہو۔۔۔۔۔دل خوش ہو گیا ‘‘ عادل خان نے کیلاش سے گلے ملتے ہوئے کہا ۔
’’ٹھیک کہتے ہو دوست۔۔۔۔اس سرحدنے تو ہم دوستوں کو بھی دشمن بنا رکھا تھا ‘‘
’’ہاں یار۔۔۔۔لیکن اب سرحد نے غائب ہو کرہمارے لیے جشن کا موقع فراہم کر دیا ہے ۔۔۔۔تو ہو جائے ایک ایک پیگ۔‘‘ گلاس میز پر جم گئے ۔
’’یار۔۔۔۔۔آج اگر سردارے زندہ ہوتا تو کتنا خوش ہوتا ۔‘‘ دونوں کی آنکھیں اچانک نم ہو گئیں ۔
’’کاش کہ یہ سرحدکبھی نہ ملے۔‘‘
’’آمین۔‘‘ *
’’ارے ۔۔۔۔ارے ۔۔۔۔رکو بھئی ۔۔۔۔کہاں جا رہے ہو تم۔‘‘
’’جناب ہماری عبادت کا وقت ہو رہا ہے ۔۔۔۔ہمیں ادھر اپنی اولین عبادت گاہ میں عبادت کے لیے جانا ہے ۔‘‘ بزرگوں اور نوجوانوں کی ٹولی کے قائد نے بے حد شائستگی کے ساتھ مدعا بیان کیا۔
جواب میں اتنی ہی بد تمیزی کا مظاہرہ ہوا ۔
’’چپ کر و تم سب کے سب واپس چلے جاؤ ۔۔۔اسی میں تمہاری خیریت ہے ۔‘‘
’’لیکن ہمارا عبادت کا مقدس ماہ چل رہا ہے ۔ ۔۔۔اس میں تو ہمیں ہماری اولین عبادت گاہ تک جانے دو۔۔۔آخر ہم عبادت کے لیے ہی تو وہاں جانا چاہتے ہیں۔‘‘
ٹولی کے قائد نے بد تمیزی کو در گذر کرتے ہوئے اپنے مدعے کی وضاحت کی ۔
’’کہا نہ چپ چاپ واپس چلے جاؤ۔۔۔۔ہمیں حکم ملا ہے کہ تمہیں سرحد پار نہ کرنے دی جائے ۔اس لیے جان کی اماں چاہو تو واپس چلے جاؤ ۔۔۔ورنہ۔۔۔۔‘‘
’’ورنہ کیا ؟‘‘ ابکی نوجوان خون ابل پڑا تھا۔
(۹)
’’زبان لڑاتا ہے ۔۔۔۔تو ہم سے زبان درازی کرتا ہے۔۔۔۔یو باسٹرڈ ۔۔۔‘‘ غصے سے کانپ رہے فوجی نے نوجوان کی طرف اپنی رائفل تان لی ۔
’’سالے۔۔۔گولی بھیجے میں اتار دوں گا۔۔۔‘‘
اپنے ساتھی کو نوجوان سے الجھتا دیکھ اسکے اور ساتھی بھی مقابلے کے لئے آکھڑے ہوئے تھے۔
’’زبان کو لگام دو ورنہ ہم بھی کم نہیں ہیں ۔‘‘نوجوان گھبرایا نہیں اور کالر اونچے کرکے فوجیوں کے سامنے آن کھڑا ہوا اسکے ساتھ اور بھی نوجوان تھے جو اسکی حمایت میں اسکی پشت پر آن کھڑے ہوئے تھے۔دونوں طرف سے تلوار یں کھینچتی دیکھ بزرگوں نے نوجوانوں کو سمجھا بجھا کر واپس لے جانے کی کوشش شروع کی لیکن وہ کہاں ماننے والے تھے ۔ خالی ہاتھ وہ فوجیوں کے سامنے اکڑے کھڑے تھے۔ اچانک فوجی کے ہاتھ سے ٹریگر دبا اور سامنے کھڑے نوجوان کے سینے سے خون کا فوارہ ابل پڑا ۔ یہ دیکھ کر باقی نوجوان غم و غصے سے پاگل اٹھے۔ انہوں نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔ زمین پرپڑے ہوئے پتھر اٹھائے اور فوجیوں پر برسانے شروع کر دئیے ۔ غم و غصہ اس قدر شدید تھا کہ فوجی بدحواس ہو گئے ۔ انہوں نے باقائدہ فائرنگ شروع کر دی ۔ اور سرحد کو خون سے رنگ ڈالا ۔
*
برفیلی پہاڑیوں میں ایک خونخار ساد کھنے والا شخص وائرلیس سیٹ پر بات کرنے میں مصروف تھا ۔
’’ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔ٹائگر اسپیکنگ ۔۔۔اووَر(Over)۔‘‘
’’انچارج کا لنگ ۔۔۔۔اوور۔‘‘
’’انچارج صاحب یہاں سرحد پر بہت گڑ بڑ ہو گئی ہے۔۔۔۔اوور۔‘‘
’’کیا ؟۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔اوور۔‘‘
’’تمام جدو جہد کے بعد جو سرحد قائم ہوئی تھی وہ اچانک غائب ہو گئی ہے سر ۔‘‘
’’کیا بکتے ہو ۔۔۔ہوش میں تو ہو ۔‘‘
’’میں پورے ہوش میں ہوں سر ۔۔۔ہم سب خود بھی حیران ہیں کہ ۔۔۔۔‘‘
’’ضرور یہ تمہاری کوتا ہی ہے ۔۔۔تم لوگ نازک سی سرحدی لکیر کا تحفظ نہیں کر سکتے ۔آخر ۔۔۔۔تم ہو کس مرض کی دوا۔‘‘
’’سر اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے سر ۔۔۔۔وہ بالکل اچانک ہی غائب ہوئی ہے۔‘‘
’’شٹ اپ ۔۔۔۔لگتا ہے تم کو تحریک میں شامل کرنا ہماری بھول تھی ؟‘‘
’’نہیں ۔۔۔نہیں سر ۔۔۔ ایسا مت کہے ہم جی جان سے تحریک کے ساتھ ہیں۔‘‘
’’کس نے غائب کی یہ پتہ لگایا؟‘‘
(۱۰)
’’یہی تو پتہ نہیں لگ رہا سر۔۔۔۔دونوں طرف بھی سب پریشان دکھ رہے ہیں۔‘‘
’’خیر۔۔۔۔پتہ لگاؤ یہ کس کا کام ہے ۔۔۔تحریک کی کامیابی کے لیے سرحدی لکیر کا ملنا اور اس کا قائم رہنا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔ڈھونڈو ۔۔۔۔چاہے اس کے لئے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے ۔۔۔۔اوور۔۔۔اووراینڈ آل۔‘‘
*
چودھری ملک کی کانگریس کا اجلاس جاری تھا ۔ صد رنے تالیوں کی گڑگراہٹ کے درمیان ڈائس پر رکھے مائک کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولنا شروع کیا:
’’ممالک کے درمیان سے سرحد کا غائب ہو جانا نہ صرف یہ کہ تعجب خیز ہے بلکہ نہایت خطر ناک سازش بھی ہے ۔ سرحد کے غائب ہونے سے جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں یا ہو سکتے ہیں وہ آپکی ذہنی پرواز سے دور نہیں ہیں ۔
اگر اس طرح سرحد یں غائب ہونے لگیں گی تو ہمارا اقتصادی نظام در ہم بر ہم ہو جائے گا ۔ کیوں اور کیسے یہ آپ سب بخوبی سمجھ سکتے ہیں ؟ جن مہلک ہتھیاروں پر ہمارے سائنسدانوں نے کئی سال مہنت کی ہے اور اب جبکہ ان کا کامیاب تجربہ بھی سامنے آچکا ہے ۔ تو ہم ان کا کریں گے کیا ؟ اگر سرحد کی بنا پر ہونے والی جنگیں بند ہو گئیں تو نہ صرف اقتصادی کمزوری پیدا ہو گی بلکہ انسانی ترقی کی راہیں بھی مسدود ہو کر رہ جائیں گی ۔ انسانی ترقی رک جائے گی اور مسلسل دل دہلا دینے والی اڑچنیں پیدا ہو جائیں گی ۔ تو کیا آپ لوگ انسانی تباہی کا منظر دیکھنا پسند کریں گے ؟‘‘
’’نہیں ۔۔۔۔‘‘کئی سینیٹر اچانک ایک آواز ہو کر چیخے ۔
’’لیکن سرحد غائب کیسے ہوئی؟‘‘ ایک مخالف جماعت کے سینیٹر نے سوال کیا ۔
’’اس کا پتہ لگانے کے لیے کمیشن کی تشکیل زیر غور ہے ۔‘‘
’’صدر محترم ۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ یہ حرکت کسی ایلین (دوسرے سیارہ کی مخلوق) کی ہے ۔‘‘ ایک سینیٹر نے بڑے پتے کی جانکاری مہیا کی تھی ۔
’’ممکن ہے یہ ایلین کا ہی کام ہو؟‘‘ صدر محترم نے مشورہ قبول کر لیا ۔
’’لیکن کیا ایلین ایسا کر سکتا ہے؟‘‘ ایک اور مخالف سینیٹر نے کہا ۔
’’کر بھی سکتا ہے؟‘‘ صدر نے گول مول جواب دے کر بات ختم کرنے کی کوشش کی ۔
’’بہر حال انسانی بقا اور اپنے اقتصادی نظام کو تقویت دینے کے لئے کھو گئی سرحد کو ہر حال میں کھو جنا ہوگااور اس کے استحکام پر بھی سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہوگا ۔‘‘
اجلاس کے خاتمے کا اعلان ہوتے ہی سینیٹروں میں چہ میگو یاں شروع ہو گئیں ۔
(۱۱)
*
گلریز اور انار بہت خوش تھے ۔ انکی شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی دونوں طرف زور شور کے ساتھ تیاریاں چل رہی تھیں۔ بازاروں میں گھوم گھوم کر خریداری کی جا رہی تھی۔ گلریز نے انار کی پسند کی تمام جویلری اور جوڑے خریدے تھے۔ خود اپنے لیے بہت دل سے کریم کلر کی شیروانی جس پر بے حد نفیس کڑھائی کی گئی تھی خریدی تھی جسے وہ شادی کے دن پہنے والا تھا ۔ گلریز اور انار کو ایک ایک پل بھاری گذر رہا تھا کہ جلد وہ ایک دوسرے کے ہو کیوں نہیں جاتے؟ اللہ اللہ کرتے کرتے آخر وہ دن آہی پہنچا جب انار وداع ہو کر گلریز کے گھر آجانے والی تھی ۔
بارات میں شامل ہونے والے تمام لوگ تیار ہونے میں لگے تھے گلریز بھی بڑے اہتمام کے ساتھ تیار ہو رہا تھا ۔ اس نے بال سیٹ کرانے سے لے کر بلیچنگ کرانے تک کا خصوصی اہتمام کیا تھا ادھر انار کو بھی تیار کرنے کے لیے بیوٹی پارلر سے خاتون بلائی گئی تھیں۔ بارات کی تیاری زور شور سے جاری تھی ۔ سجی ہوئی بگھی بھی دروازے پر آچکی تھی۔ تمام رسوم کی ادائیگی کے بعد دولہے کو بگھی میں سوار کرادیا گیا اور بارات شان کے ساتھ انار کے گھر کی طرف روانہ ہوئی ۔
*
اس سے قبل کہ معاملہ بالکل فطری آسان حل پر قائم ہو کر ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا اور دونوں ممالک کے درمیان فرق واضح کرنے والی لڑائی جھگڑے کی کوئی وجہ نہ باقی رہتی دونوں طرف کے کچھ ’’وطن پرست‘‘لیڈران اور پالیسی سازوں نے آگے بڑھ کر معاملے کو اپنے دست مبارک میں لپک لیا۔ ان لیڈران کا ماننا تھا کہ سرحدی لکیر کے غائب ہونے سے دونوں ممالک اپنی انفرادی شناخت ، امتیازی حیثیت ، اور علاقائی پہچان کھودیں گے اور انسانی ترقی کی راہیں بھی بند ہو جائیں گی اس لیے ہر حالت میں سرحدی لکیر کو تلاش کیا جائے گا۔ کسی وجہ سے اگر یہ نہ ملی تو پھر دوسری لکیر قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
*
بارات دھیرے دھیرے شان کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی بارات دیکھنے کے لیے بھی خوب بھیڑ جٹ رہی تھی آتش بازی کے ساتھ بینڈ باجے نے جو رونق پیدا کی تھی اس میں گلریز کے دوستوں نے سہرے گا کر مزید رونق بخش دی تھی ۔ خوش رنگ لباس پہنے نوجوان چہک رہے تھے اور بزرگوں کی نظر بچا کر ایک آدھ ٹھمکا بھی لگا لے رہے تھے ۔ بارات کے دھیرے دھیرے چلنے سے گلریز بار بار پہلو بدل رہا تھا بہترین نقاشی داربگھی میں بیٹھا گلریز دولہا بن کر واقعی کوئی شہزادہ نظر آ رہا تھا۔ اور یہ شہزادہ اپنی شہزادی سے چلنے کے لیے بیقرار ہوا جا رہا تھا اسے لگ رہا تھا کہ وہ کسی طرح اڑ کر انار کے پاس پہنچ جاتا اور اسے اڑا کر اپنے گھر لے آتا ۔ لیکن گھر کے بزرگوں اور دوستوں کی بات مان کر اسے تمام روایتی کام انجام دینے پڑرہے تھے ۔ بہر حال بارات خراما خراما انار کے گھر کی طرف چل رہی تھی اور اب انار کا گھر تو نہیں لیکن بارات کو ٹھہرانے والا منڈپ دکھائی دینے لگا تھا گلریزکو قدر اطمینان ہوا کہ چلو منزل اب قریب ہے۔تبھی۔۔۔۔۔
’’ٹھہرو۔۔۔آپ لوگ آگے نہیں جا سکتے ۔‘‘ ایک گرج دار آواز نے پوری بارات کو چونکا دیا ۔
(۱۲)
’’ٹھہرجاؤ ۔۔۔۔آگے سرحد ہے ۔۔۔آپ سرحد عبور نہیں کر سکتے۔‘‘
گلریز نے سنا تو اسے لگا کسی نے اس کے سرپر بم پھوڑ دیا ہو ۔ بارات میں کھلبلی مچ گئی ۔ بینڈ باجا بند ہوگیا ۔ سب حیرت سے ایک دوسرے کو تکنے لگے ۔
’’لیکن سرحد تو غائب ہو گئی تھی نا ۔‘‘ گلریز کی آواز دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
’’ہاں۔۔۔لیکن اب یہ مل گئی ہے ۔۔۔کمبخت ایک نقشے میں چھپی بیٹھی تھی لیکن اب اسے پھر سے قائم کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔اس لیے ۔۔۔۔۔آپ لوگ واپس جائیے ۔ بارات سرحد پار نہیں جا سکتی ۔‘‘ فوجی کی دو ٹوک بات نے بارات کے حوصلے پست کر دیے ۔
گلریز کبھی اپنی بارات کی طرف دیکھ رہا تھا تو کبھی سامنے دکھ رہے سجے ہوئے منڈپ کو ۔ وہ حیران تھا پریشان تھا اور حسرتوں کا یہ حشر اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ اچانک وہ زور سے چیخا اور پھر چیختا ہی چلا گیا۔
’’سرحد کو گم کردو۔۔۔۔میری خوشیاں میرا انتظار کر رہی ہیں ۔۔۔۔جاؤ اس سرحد کو کہیں گم کر دو۔۔۔‘‘
****
(ختم شد)
انجنیئر فرقانؔ سنبھلی
دیپا سرائے چوک ضلع سنبھل
پن:244302(یو.پی)
Mob: 9568860786
9411808585
mail id: f.sambhli@gmail.com
سترھواں حملہ : قمر قدیر ارم
قمر قدیر ارم
مہاراجہ ہریش چند ر پی جی کالج ، مرادآباد 244001
سترھواں حملہ
بینک میں برانچ مینجر کی پوسٹ کے لئے تحریری امتحان وہ پاس کر چکا تھا ۔ اور یہ تو اس سے پہلے بھی ہوا تھا ۔وہ جس ملازمت کے لئے بھی امتحان دیتا تما م مراحل سے کامیابی کے ساتھ گذر جاتا بس مسئلہ انٹرویو میں آکر اٹک جاتا ۔بلکہ اس کی تمام محنتو ں پر پانی پھر جاتا ۔
اس کی شناخت ‘اس کی کامیابی کی راہیں روک کر کھڑی ہوجاتی۔ پہلے پہل تو یوں ہوا کہ تحریری امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد جب وہ انٹرویو میں فیل کردیا گیا اس نے بھی روسی لوک کتھاؤ ں کے ہیروکی طرح یہ طے کرلیا کہ ‘۱۷ جوڑی جوتے گھسے گا اور محمود غزنوی کی طرح سترہ بار کمرکسے گا لیکن چار پانچ انٹرویو ہی دے کر اس کی کمر ٹوٹ گئی ۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ گھر کا اثاثہ ختم ہونے لگا ۔اور جب انٹرویودینے کی دھن نے اس کو کنگال کردیا تو اس نے قوم کے سرمایہ داروں تک اپنی آواز پہنچائی ۔اہل خیر حضرات سے مدد چاہی (لاکھوں روپے کی ہر سال زکواۃ ادا کرتے تھے )تاکہ وہ انٹرویومیں بیٹھنے کے لئے وسائل مہیاکرسکے ۔لیکن اسے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ ہر جگہ نمائشی فلاح نے ‘نام و نمود کی خواہشوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے ۔زکواۃکے روپوں میں اس جیسے حاجت مند کا کوئی نہ تھا ۔کہیں سے اسے جواب ملا ‘ یہ رقم تو دارالعلوم کی امانت ہے ۔کسی نے کہا کہ وہ مدرسے کو دینے کا وعدہ کرچکے ہیں ‘کسی نے عذرپیش کیا کہ مسجد کے مناروں پر رنگ و روغن کے لئے وقف ہے۔اس نے زکواۃکے اس ناقص نظام کے خلاف احتجاج کرنا چاہا تو اس کو ہر جگہ سے ملعون کیا گیا ۔قوم کے غصے اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑا ۔مسجدیں اللہ کا گھر اور مدرسے مسلم معاشرے کی پہچان کہے گئے ۔تھک کر وہ اکثر سوچتا ‘کیا اس کی قوم کو کسی ڈاکٹر ‘انجینئر یا آفیسر کی ضرورت نہیں ہے ؟سائنس داں اور ٹیکنیشن کی ضرورت نہیں ہے؟ آخر وہ ان ٹھیکیدار وں سے کیسے نپٹے ۔جنھوں نے مذہب کو مسجد کے مناروں تک محدود کررکھا ہے ۔جو اس میں ہر دور میں در آنے والے ترقی کے تازہ ہوا کے جھونکوں کے لئے کھولی گئی ‘کھڑکیاں زبردستی بند رکھنے کے درپے ہیں ۔۔اسلام تو پوری کائنات کے لئے عین فطرت کے مطابق مذہب ہے ۔لیکن فطرت کے خلاف چلنے والے ان ذہنوں کا وہ کیا کرے ۔کیسے موجودہ صورت حال کے پیش نظر نئی حکمت عملی کی ضرورت کا احساس کرائے ۔؟ یہ محض اپنی ذاتی برتری کے لئے اسلام کی افاقیت کو فرقوں میں بانٹ کریہ مذہب کے ٹھیکیدارکون سا اسلام اور شرعی فرض ادا کررہے ہیں۔ ؟
اس کا تھکا ہوا بیزار ‘الجھالجھاذہن اس قوم پر بھی لعنت بھیجتا جو مذہب کی آڑ لے کر اپنی سیاست چمکانے والوں سے خوف زدہ ہوکر رہ گئی ہے۔وہ اکیلے تو اور کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا سوائے لعنت ملامت کے ۔
اسی دوران اسے ایک انٹرویو کاکال لیٹر موصول ہوا۔ اس نے اپنے لکھنے پڑھنے کی میز کرسی اونے پونے داموں میں فروخت کرڈالی ۔مرادآباد سے لکھنو آنے جانے کا کرایہ جیسے تیسے مہیا کیا ‘اپنے پھٹے ہوئے جوتوں میں اَزسرنو پیوندکاری کرائی ‘قمیص کا پھٹاہوا کالرنکلوایا اور پرانے کپڑوں کے ڈھیرسے ایک نسبتاً بہتر پینٹ خرید لی ۔
انٹرویو کے کمرے میں داخل ہوکر ایک لمحہ کے لئے وہ ٹھٹھکا تھا ۔لیکن ان مراحل سے تو وہ پہلے بھی گذرچکا تھا ۔بیضاوی میز کے گرد سجے انجانے چہروں کی غیر جذباتی یک رنگی اس کے لئے نئی نہ تھی ۔
’’ آپ کا نام ‘‘ ؟ ہمیشہ کی طرح انٹرویو کا آغاز اسی سوال سے ہوا ۔
’’ ظہور حسین ‘‘
کیا مطلب اس کا ہے ؟‘‘
’’جی ؟‘‘
’’ تمہارے نام کا مطلب کیا ہے ۔؟‘‘
’’جی ۔حسین کا ظاہر ہونا ۔جلوۂ حسین ۔‘‘
’’ کیا آپ نماز پڑھتے ہیں ۔۔۔؟‘‘
’’جی ہاں ‘‘
چوبیس گھنٹوں میں کتنی نمازیں ہوتی ہیں ۔؟‘‘
’’پانچ ۔‘‘
’’نام بتائیے ۔‘‘
’’ فجر،ظہر،عصر،مغرب،عشاء ۔‘‘
’’ پہلی نماز کون سی ہوتی ہے۔؟‘‘
’’فجر کی ۔‘‘
’’کس وقت ۔؟‘‘
’’سورج نکلنے سے پہلے ۔‘‘
’’اور دوسری ۔‘‘
’’ظہر ‘‘
’’وقت۔؟‘‘
’’بارہ بجے کے بعد سے تین بجے تک ‘‘
’’اچھا یہ بتائیے ۔قرآن پڑھا ہے آپ نے ۔؟‘‘
’’جی ہاں ۔‘‘
’’اس کا کوئی بھاگ سنائیے ۔‘‘
’’ قُل ھُوَ اللّہُ اَحَد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کُفُواًاَحَدْ۔‘‘
’’ آپ کو تو بڑی جانکاری ہے اپنے مذہب کی ۔؟‘‘
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ خاموشی
’’اور ہمیں یقین ہے آپ نمازیں بھی پابندی سے پڑھتے ہوں گے ۔‘‘
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ خاموشی
’’جب آپ ظہر کی نماز پڑھنے چلیں گے تو کیش باکس بند کرکے جائیں گے نا ۔؟ایسی حالت میں یہ نوکری کیسے کریں گے آپ ۔‘‘
اس نے ایک نظر جلتی ہوئی نظروں سے اِنٹرویوور کی طرف دیکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔اُس کا پورا بدن لرز رہاتھا ۔جی چاہتا تھا اِتنی زور سے چیخے کہ یہ کریہہ منظر اس کی ضرب سے پاش پاش ہوجائے ۔بالکل اُس کے دل کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ۔
بہ مشکل تمام اس نے صبروضبط سے کام لے کر قدم دروازے کی بڑھادئیے ۔وہ جلد از جلد اس جس بھرے کمرے کی حدود سے باہر چلا جانا چاہتا تھا۔
دروازے تک ہی پہنچاتھا کہ وہی مسلسل سوال کرتی ہوئی آواز عقب سے آکر اس کو جیسے بہرہ گونگا کرگئی۔اس کو محسوس ہواجیسے اس پر آج آخری حملہ ۔۔۔سترھواں حملہ ہواہے ۔جس سے ہمیشہ کے لئے اس کی ہمت کو نیست و نابود کردیا ہے ۔وہ آواز کہہ رہی تھی ۔۔
’’ دیکھا ۔۔۔۔کتنا فرقہ پرست تھا یہ ۔؟‘‘
Qamar Qadeer Iram
M.H.P.G College,
Moradabad-244001 (U.P)
خوف کی آہٹ : ڈاکٹر ارشد اقبال
ڈاکٹر ارشد اقبال
مرادآباد مسلم ڈگری کالج ،کٹگھر،مرادآباد244001
خوف کی آہٹ
بانو ’’چپرچپر‘‘ کی آواز سن کر اٹھ بیٹھی اور بھوک سے پٹخاہوا پیٹ بے جان انگلیوں سے سہلانے لگی ۔
’’ اتنی رات گئے کیا کررہے ہو۔؟‘‘
’’نہیں بیگم !۔کم بخت خالی پیٹ نیند نہیں آتی ۔بھوک اور نیند کا گہرا رشتہ ہے۔‘‘
’’ہاں !ٹھیک کہتے ہو ۔میں گھنٹوں سے بھوک کی آگ میں جھلس رہی ہوں ۔‘‘
’’ہاں بیگم کچھ تو ہے۔‘‘
’’ مجھے اٹھا لیتے ۔لیکن ہنڈیا تو زید نے چاٹ لی تھی ۔تمہارے ہاتھ کون سی نعمت آگئی ۔‘‘
’’کچھ نہیں تھوڑے شکر کے دانے لیے ہیں ۔‘‘
’’افوہ ! میں نے سوچا تھا ۔صبح اٹھ کر زید کو شکر کے دانوں سے بہلادوں گی ۔‘‘
بانونے خاموشی اختیار کر لی مگر نیند سے بوجھل آنکھوں اور مایوس چہرہ کی سطح پر فکر نمایاں ہوگئی۔اختر نے ہاتھ کا نوالہ ڈلیا میں چھوڑ دیا ۔
’’لوبیگم! یہ کٹوری رکھ دو ۔اتنی شکر چھوڑدی ہے کہ دو پیالی چائے بن جائے گی ۔تھوڑی تھوڑی تقسیم کردینا ۔زندہ رہنے کے لئے کافی ہے۔آٹاتو ابھی ہفتہ عشرہ چل جائے گا نا۔‘‘
’’جی!چل جائے گا ۔مگر جب سے تمہاری نوکری چھوٹی ہے ۔زندگی جاگنے اور بھوکا رہنے کے فارمولے پر تقسیم ہوگئی ہے ۔‘‘
’’ تم ٹھیک کہتی ہوبیگم۔مگر افسوس صرف اس بات کا ہے ۔میں نے محنت مزدوری کرکے پوسٹ گریجویٹ کیا ۔پروفیشنل ڈگری حاصل کی ۔عارضی تقرری پر چار سال اسٹوڈنٹ پر خوب محنت کے باوجود مجھے ہٹادیا گیا۔آخر کیوں ۔؟‘‘ خالی گلاس رکھتے ہوئے اختر کا چہرہ تمتما گیا اور آنکھیں جلنے لگیں ۔‘‘
’’ تم نے معلوم نہیں کیا پرنسپل سے ۔؟وہ آپ کی محنت پر پانی کیوں پھیر رہاہے؟۔‘‘
’’معلوم کیا تھا بیگم !اس نے جواب دیا کہ مینجمنٹ کا فیصلہ ہے ۔کیوں کہ اسٹوڈینٹ آرٹ سائڈ سے پڑھنا نہیں چاہتے ۔اور چاہتے بھی ہیں تو ان کی دلچسپی دوسرے سبجیکٹ میں ہوتی ہے۔‘‘
’’یا اللہ ۔۔‘‘ بانو نے گہرا سانس کھینچا۔
’’مجھے لگتا ہے پرنسپل صاحب کی بات کسی حد تک صحیح ہے ۔کالج کا دوست بھی کہہ رہا تھا کہ میرا سبجیکٹ آج کے ترقیاتی دور میں بہت کمزور ہوچکاہے۔‘‘
’’ میں توشروع ہی سے کہہ رہی ہوں ۔تم نے اس پیشے میں ایک کمزور سبجیکٹ چنا ہے ۔آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ‘ہر کسی کو اپنے کیرئیر کی فکر ہے ۔تمہیں بہت پیار تھا اپنے سبجیکٹ سے ۔اسی کنزرویٹیو سوچ نے ہم سب کی روٹیاں چھین لی ۔پانچ مہینے کی فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے زید کا نام اسکول سے کاٹ دیا گیا ۔صبح شام پیٹ بھرنے کی فکر ہے ۔میں تو سوچ سوچ کے آدھی مر چکی ہوں ہوں ‘‘
’’لیکن بیگم !انسان اپنے نصیب کے سامنے بے بس ہوجاتاہے۔‘‘
’’تم اسی پبلک اسکول جاکر بات کیوں نہیں کرتے ‘جہاں پہلے پڑھا چکے ہو۔‘‘
’’دو دن پہلے زید کو ساتھ لے کر گیا تھا بیگم۔لیکن ڈائریکٹر صاحب نے بتایا فی الحال اسکو ل میں اسٹاف پلس چل رہاہے ۔نئے تعلیمی سال کے دو مہینے باقی ہیں ۔آپ نئے سیشن میں دیکھ لینا ۔‘‘
’’مگر آپنے اپنے بارے میں کچھ بتایا نہیں ۔طویل عرصہ سے بے روز گار ہو۔پائی پائی سے ترس گئے ہو ۔بچہ کا نام اسکول سے کاٹ دیا گیا ۔گھر میں راشن نہیں ہے ۔شاید ان کو رحم آجاتا ۔فی الحال دوسری جگہ پر فٹ کردیتے ۔تم نے کچھ تو کہا ہوتا ۔‘‘ اختر ،بانو کا چہرہ بغور دیکھنے لگا۔
’’ افوہ بیگم ! کیسی باتیں کرتی ہو ۔تم نے جوکچھ کہا ‘وہ میں پہلے ہی سے طے کرکے ڈائریکٹر صاحب سے ملا تھا اور بڑی عاجزی و انکساری سے سارے حالات بیان کیے تھے مگر انھوں نے صاف کہہ دیا ۔میرے سبجیکٹ میں اسٹاف پلس سر پلس چل رہاہے ۔جبکہ وہاں بھی وہی سوچ ہے ۔میراسبجیکٹ اسٹوڈینٹ پڑھنا نہیں چاہتے ۔‘‘
’’اس کے علاوہ دوسری بات نہیں ہوئی ۔؟‘‘ بانو کی آنکھوں میں خجالت جھانکنے لگی ۔
’’ نہیں بیگم !دوسری بات کیا کرتا ؟۔دراصل میری غیرت مجھے روک لیتی ہے ۔‘‘
’’ لیکن اس طرح تو ہم تل تل مرجائیں گے ۔تم نے بھائیوں کو بھی دیکھ لیا ۔کس طرح تماشائی بن گئے ۔‘‘ بانو جھنجلاگئی ۔
’’افوہ بیگم!کوئی تماشائی بنے یا ہم پر ہنسے ۔اس کی فکر کرنا بالکل چھوڑدو۔یہ زندگی کے تجربات ہیں ۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟۔‘‘ بانو آہستہ سے منمنائی ۔
’’جب میں ڈائریکٹر صاحب سے ،مصافحہ کرکے چلنے لگا تو انھوں نے انتہائی خاموشی کے ساتھ سوسوکے پانچ نوٹ زید کی مٹھی میں دبادئیے ۔میں من ہی من انکار کرتارہا ۔غیرت مجھے جھنجوڑتی رہی ۔مگر مجھے معلوم تھا۔کنستر میں ایک آدھ روٹی کا آٹا بچاہے ۔شکر نہیں تھی ۔دال مرچ مصالحے ‘سبھی کچھ ختم ہوچکاہے ۔واپسی میں انہیں روپوں سے آٹااور باقی سامان تھوڑاتھوڑا لے آیا تھا ۔‘‘
’’ قسمت نے ہمیں کہاں لاکر کھڑا کیا ہے ۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔بساط بھر بھی پیسہ نہیں ہے ۔‘‘بانو کی آنکھیں بھیگ گئیں ‘اختر کا چہرہ ‘مزید مرجھا گیا۔
رات اپنا سفر طے کرچکی تھی اور دور سے آتی ہوئی اذان کی آواز سن کر اختر نے بستر چھوڑدیا ‘بانو کا جسم نیند کے دباؤ میں تھا مگر ذہن فکر اور الجھنوں کے الارم سے بیدار تھا ۔
’’ اب بیگم سونے کا وقت نہیں ہے ۔اُٹھ بیٹھو ۔اذان کی آواز آرہی ہے ۔ خدا کے حضور میں حاضری کا وقت ہے ۔وہی ہماری مشکل آسان کرنے والا ہے۔‘‘
’’تم کیسی باتیں کرتے ہو؟۔کیا میں دعا نہیں مانگتی ؟۔عبادت گزار نہیں ہوں ؟۔تم ہمیشہ پیر پھیلاکر سوتے ہواورمیری راتیں وظیفے پڑھنے میں گذرجاتی ہیں ۔امّی نے کئی عمل بتائے تھے ۔سو وہ بھی مکمل کرلیے مگر!۔‘‘ بانوچڑچڑانے لگی۔
’’لگتا ہے بیگم !کچھ زیادہ ہی مایوس ہونے لگیں۔زندگی سے مایوسی ‘انسان کے فیصلے کمزور کردیتی ہے اور زیادہ سوچنا بھی !ذرا دن نکل آئے ۔آج میں اس فیکٹری میں جاؤں گا جس میں کبھی مزدور بن کر کام کیا تھا ۔فیکٹری مالک مجھے دیکھ کر یقیناًخوش ہوگا ۔جب اسے یہ معلوم ہوگا کہ میں نے محنت مزدوری کرکے تعلیم حاصل کی ہے اور اور اسکول میں لیکچرر رہ چکا ہوں ۔مجھے پورا یقین ہے ۔فیکٹری میں کلرک کی ملازمت ضرور مل جائے گی ۔‘‘اختر کی بات سن کر ‘بانو کی آنکھوں میں بے جان خوشی جھانکنے لگی ۔
دھوپ پھیلنے کے بعد اختر فیکٹری جانے کے لئے تیار ہوگیا ۔تبھی زید دوڑا ہوا آیا ۔
’’پپا!میں بھی چلوں گا ‘آپ کے ساتھ ۔‘‘
’’ نہیں بیٹا ! میں بہت بڑے آدمی سے ملنے جارہاہوں ۔ملازمت کی بات کرنے ۔‘‘
’’ نہیں پپا!میں بھی چلوں گا ۔‘‘
’’ ضد نہیں کرتے بیٹا!اگر ملازمت مل گئی تو اسکول چلنا ۔اپنے ایڈمیشن کے لئے ۔‘‘
’’ نہ پپا! میں تو چلوں گا ۔‘‘ زید بلکنے لگا ‘شاید وہ بھی پڑھائی رکنے سے گھر میں پڑے پڑے اُکتاگیا تھا۔
’’ لے جاؤ ! چلتے وقت بچوں کا رونا ‘نحوس ہوتاہے ۔ویسے بھی گھر میں سارا دن جھاڑو کی سینکوں سے کھیلتا ہے ۔مجھ سے دیکھا نہیں جاتا اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہوں ۔‘‘بانو دوڑکر زید کے قریب آئی اور اسے گود میں بھر کر کلیجے سے لگالیا ۔
’’اسکول ڈریس میں کتنا خوبصورت لگتا تھا میرا بچہ ۔وللہ اعلم کس کی نظرکھاگئی ‘اس کی پڑھائی کو ۔‘‘اختر خاموش رہا اور بانو نے زید کو فوراً تیار کردیا ‘بیٹے کی انگلی پکڑکر اختر روزگار کی تلاش میں گھر سے نکل گیا لیکن دوپہر تک واپس نہ آنے کی وجہ سے ‘بانو بے چین ہوگئی ‘معاشی حالات خراب ہونے کے سبب ‘اس کے ذہن پر دباؤ بڑھنے لگا لیکن شام ڈھلنے سے قبل اختر بے جان قدموں سے گھر میں داخل ہوا تو گویا بانو کی ساری دولت لوٹ آئی ۔
’’اُفوہ ! کہاں گئے تھے ؟۔من میں عجیب خیال آنے سے میری آدھی موت ہوچکی تھی ۔‘‘ گوکہ اختر کا چہرہ مرجھایاہوا تھا لیکن زید کی آنکھوں سے غیر معمولی خوشی جھانک رہی تھی ۔
’’ کچھ نہیں ہوا بیگم !بس جھک مار کر آگیا ۔صبح سے اب تک فیکٹری مالک کے انتظار میں گذر گئے ۔کھڑے کھڑے ٹانگے لڑکھڑاگئیں کمبخت چوکیدار نے فیکٹری میں داخل ہونے نہیں دیا اور نمعلوم کیوں مجھے گھورے جارہاتھا ۔‘‘اختر کی بات سن کر بانو ‘زید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس خوشی کی وجہ تلاش کرنے لگی جو زید کی آنکھوں میں نظر آرہی تھی ۔پھر اختر کا چہرہ بھی بے جان مسکراہٹ کے ساتھ کھلنے لگا۔
’’ارے بھئی !فیکٹری کے باہر پورا نادوست مل گیا تھا ۔جب اسے بتایا کہ میں لمبے عرصہ سے بے روزگار ہوں ۔بچہ پڑھائی سے بیٹھ گیا ‘گھر میں کچھ نہیں ہے ۔کسی کو اپنے حالات سناکر ملازمت مانگتا ہوں تولوگ میرے صاف ستھرے کپڑوں کو دیکھ کر یقین نہیں کرتے ‘اس لیے کہ میری باتیں من گڑھت و جھوٹی معلوم ہوتی ہیں ۔کسی کو میری آنکھوں میں چھپی غیرت نظر نہیں آتی ۔مایوس چہرہ پر ‘بے روزگاری کے رنگ دکھائی نہیں دیتے ۔‘‘اختر نے سر کو خفیف سا جھٹکا دے کر خاموشی اختیار کرلی پھر گھر میں کچھ دیر کے لئے سنّاٹا چھا گیا ۔
’’ تم نے دوست سے کہاہوتا ۔وہ اپنے اثر رسوخ سے کہیں لگوادے ۔‘‘
’’ ہاں بیگم ! کہہ دیا ہے ۔مگر وہ بہت افسوس کررہاتھا ۔زیدکا سن کر تو اس نے ماتھاپیٹ لیااور گود میں بھر کر بہت پیار کرنے لگا ‘مگر معلوم نہیں کب ؟۔اس نے زید کی جیب میں روپے رکھ دیے اور کان میں کہہ دیا ۔عید کے کپڑے لے لینا۔‘‘
’’نہیں !بالکل نہیں ۔عید کے ابھی بہت دن ہیں۔ایک ہفتہ سے پریشان ہورہی ہوں ۔’صرف ‘چٹکی بھر نہیں ہے۔میلے کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا۔ہنڈیا کے لیے گھی ‘تیل ختم ہوچکا۔آٹادووقت کا رہ گیاہے ۔‘‘
’’اُفوہ بیگم! تم نے اتنا سامان بتادیا ۔جبکہ روپے صرف تین سو ہیں ۔‘‘بانو کے چہرہ پر یک دم اداسی چھاگئی ۔
’’ ٹھیک ہے ۔فی الحال مختصر لے آؤ ۔کیا تم فیکٹری مالک سے گھر پر نہیں مل سکتے ؟۔‘‘شاید بانو اس دوران کچھ سوچ کر بولی ۔
’’ ہاں بیگم!میں یہی سوچ رہاتھا ۔کل صبح گھر پر ملنے کی کوشش کرتا ہوں ۔لیکن ڈر ہے وہاں بھی چوکیدار سے واسطہ نہ پڑے اور وہ مجھے ٹرخادے ۔عموماً بنگلے کے گیٹ پر مسلسل تعیناتی سے چوکیدار کا مزاج ‘بورڈنگ اسکول کی وارڈن جیسا کھردرا ہوجاتاہے۔‘‘
’’ تم اسے مجبوری بتانا ۔شاید رحم آجائے اور ملاقات کرادے ۔‘‘ بانو خاموش ہوگئی اور کچھ سوچنے لگی ۔دریں اثناء اس کی نظر کئی مرتبہ اختر کے چہرہ پر رُکی اور ہٹ گئی ۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس احساس سے خاموش تھی کہ اس کا شوہر ایک غیرت مند شخص ہے مگر اختر‘بانو کی یہ کیفیت بخوبی محسوس کررہاتھا۔
’’بیگم !تم کچھ کہہ رہی تھیں ؟۔‘‘
’’ہاں !جب تم فیکٹری مالک سے ملنے جاؤ تو زید کو ساتھ لے جانا ۔‘‘گوکہ بانو کی خوابیدہ آنکھوں سے خجالت جھانک رہی تھی مگر کسی نمعلوم قوت نے اسے مجبور کردیاتھا ۔
’’ ٹھیک ہے بیگم!صبح زید کو تیار کردینا ۔‘‘اختر نے نظریں بچاتے ہوئے کہا مگر پاپا کی بات سن کر سینکوں سے کھیلتا ہوازید کھلکھلاکر اختر کے قریب آگیا ۔اس کی آنکھوں میں لالچ کی چمک‘ صاف نظر آرہی تھی ۔
’’پپا!میں بھی چلوں گا نا ‘آپ کے ساتھ۔‘‘
’’ہاں بیٹا ضرور چلنا ۔‘‘
’’ دیکھ لینا !انکل مجھے بہت سے روپے دیں گے ۔جب انہیں یہ معلوم ہوگا کہ میں بہت دنوں سے اسکول نہیں گیا ہوں ۔‘‘زید نے لالچ کے معصوم انداز میں کہا مگر اختر کا چہرہ یک دم خشک ہوگیا اور آنکھوں میں ایک عجیب خوف اُترآیا ۔وہ کبھی زید کو دیکھتا اور کبھی گھر کی درودیوار کو ‘وہ اپنے ظاہر و باطن میں غیر معمولی خاموشی محسوسکررہا تھا۔بانو کچن میں ہنڈیا بھون رہی تھی ۔اس نے پلٹ کر اختر کی طرف دیکھا اور غیرت مند شوہر کے وجود میں اٹھ رہا سنّاٹوں کا شور جیسے اسے سنائی دے گیاہو۔
’’تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟۔جدوجہد کرتے رہو ۔مجھے امید ہے ‘ملازمت مل جائے گی ۔‘‘
’’نہیں بانو ! یہ بات نہیں ہے ۔تم نے زید کی بات نہیں سنی ؟؟؟۔‘‘
’’میں نے سن لی ہے ۔وہ ابھی بچہ ہے ۔‘‘بانو کے نرم وگداز لہجہ کی تھپکی سے اختر کا من ہلکا ہوگیا ۔وہ اگلے دن اسکولی انداز میں فیکٹری مالک کے گھر پہنچا اور آنکھوں میں ہلکی خوشی لیے دوپہر سے پہلے ہی گھر لوٹ آیا مگر بانواداس ہوگئی ۔
’’کیا ہوا؟لگتا ہے چوکیدار نے ملنے نہیں دیا ۔آپ کے جلدی آنے کی وجہ یہی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’ نہیں بیگم! چوکیدار بھلا آدمی تھا۔اس نے میری بات غور سے سنی لیکن بار بار میرے سوٹ کو دیکھے جارہا تھا۔کیوں کہ انسان کا ظاہر حقیقت کو جھوٹا بنا دیتا ہے لیکن جن لوگوں کے دل درد مندوں کی آوازوں سے پگھل جاتے ہیں ‘ان کے ضمیر بھی ہمیشہ بیدار و با خبر رہتے ہیں ۔‘‘
’’افوہ! یہ سب کتابی باتیں ہیں ۔صرف یہ بتاؤ کہ ملازمت ملی یا نہیں ؟۔‘‘ بانو‘زید کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی ۔جواباً زید بھی ہنسا۔
’’ نہیں بیگم !فیکٹری مالک سے ملاقات تو ہوگئی ۔وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔میری تعریفیں کرنے لگے مگر ملازمت نہیں ملی ۔بوس دو ایک دن میں بزنس ٹورپر جارہے ہیں ۔وہاں سے آکر فیکٹری میں آفس مینجر کی پوسٹ پر رکھنے کا وعدہ کرلیا ہے ۔‘‘
’’مگر تم نے بتایا نہیں ؟۔جیب میں دو پیسے نہیں ہیں ۔زید کا سال خراب ہوگیا ۔گھر کی کیا حالت ہے۔دودھ والا تین مہینے سے تقاضہ کررہا ہے ۔‘‘ بانوکی پیشانی پر یک دم بل پڑگئے ۔
’’ہاں ہاں بیگم ! میں نے سب کچھ کہہ دیا ۔تبھی تو انھوں نے زید کی فیس کے لیے ہزارروپے فوراً دے دیے ۔انہیں زید کاسن کر بہت افسوس ہوا ۔کہہ رہے تھے ۔میرے آنے پر مل لینا۔‘‘
’’لیکن اتنے روپوں میں کیا ہوگا ؟۔چارسوروپے تو دودھ والے کو دینے ہیں ۔باقی روپوں کا تھوڑا تھوڑا سامان آجائے گا ۔اس کے بعد کیا ہوگا ؟۔‘‘بانونے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
’’ذرا صبرسے کام لو بیگم! نئے سیشن کے چند دن باقی ہیں ۔میں کل ہی اسکول کے ڈائریکٹر صاحب سے ملوں گا ۔وہاں تو سمجھو ملازمت یقینی ہے ۔انھوں نے وعدہ کیا تھا ۔‘‘اختر کی بات سن کر بانو کی آنکھوں کی چمک پل بھر میں لوٹ آئی ۔
’’ہاںیہ موقع ہاتھ سے مت جانے دینا ۔‘‘بانو جھٹپٹاکر بولی۔
’’اور سنوبیگم !صبح جلدی اٹھ کر نئی پینٹ کی کریزدرست کردینا اور ٹائی پڑے پڑے سکڑ گئی ہوگی ۔اسے بھی دیکھ لینا ۔اسکول کیا چھوٹا ٹائی کا استعمال ہی چھوٹ گیا ۔ڈائریکٹر صاحب کے سامنے گیٹ اَپ درست رکھنا پڑتا ہے ‘ورنہ گیٹ آؤٹ کردیتے ہیں ۔بہت اسٹک ہیں وہ ‘‘
بانوساری باتیں خاموشی سے سنتی رہی اور زید کو نہار تی رہی ۔
’’ میں یہ کہہ رہی تھی کہ جب اسکول جاؤ تو زید کو ساتھ لے جانا ۔ہمارا زید اتنا معصوم اور خوبصورت ہے کہ سبھی پیار کرتے ہیں ۔‘‘ بانو نے انتہائی دھیمے لہجہ میں کہا ۔اتنا سن کر زید کی بانچھیں بھی کھل گئیں لیکن اختر کے چہرے کی رونق ختم ہوگئی ۔وہ بہت دیر نہ جانے کیا سوچتا رہا ۔
’’ٹھیک ہے بیگم!تم کہتی ہو تو لے جاؤ گا لیکن میرے نزدیک یہ غیر مناسب ہوگا ۔‘‘ اختر کے جملے بھی اس کے چہرے کی طرح بجھے بجھے سے تھے اور آنکھیں جل رہی تھیں۔
’’آپ تو پریشان ہوگئے ۔میں صرف اس لیے کہہ رہی تھی کہ زید ہر وقت گھر میں رہنے سے اکتا گیا ہے ۔دن بھر سینکوں سے کھیلتا ہے یا کاغذ کے جہاز بناتاہے ۔آپ کے ساتھ جانے سے ذرا من بہل جائے گا ۔‘‘ بانوکی تھپکیوں سے اختر کی بے کیف طبیعت ہلکی ہوگئی لیکن ذہن پر دباؤبنے رہنے سے ‘وہ خاموش رہا اور اگلے دن جلدی اٹھ کر اسکول جانے کے لیے تیار ہوگیا ‘زید پہلے ہی تیار ہوچکا تھا ۔اختر پینٹ کی کریز چیک کرتا ‘زید کو ساتھ لیے بھاری قدموں سے اسکول کی جانب چل دیا لیکن چند ہی گھنٹوں بعد منہ لٹکائے واپس آگیا ۔بانوپریشان ہوگئی مگر زید کی آنکھوں میں وہی غیر معمولی خوشی دیکھ کر ‘اس کی پریشانی تو کم ہوگئی لیکن من بھاری بھاری ہوگیا ۔
’’کیا ہوا۔خاموش کیوں ہو؟ کیا ڈائریکٹر صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی ۔‘‘
’’کچھ نہیں بیگم !ملاقات تو ہوگئی مگر ڈائریکٹر صاحب نے سوری کہہ دیا ۔‘‘
’’ایسا کیوں !انھوں نے تو وعدہ کیا تھا ‘نئے سیشن میں رکھنے کا ۔تم نے معلوم نہیں کیا ۔‘‘
’’ معلوم کیا تھا مگر ڈائریکٹر صاحب نے بتایا ۔نئے سیشن سے میرا ڈپارٹمنٹ ختم کردیا گیا ہے کیوں کہ طلبا کی دلچسپی نہ کے برابر تھی والدین خود آکر بچوں کے سبجیکٹ بدلوادیتے ہیں ۔اب ہم کیا کریں ۔‘‘اختر نے مایوس کن لہجہ میں کہا ۔
’’کیا اسکول میں دوسری جگہ خالی نہیں تھی ؟۔‘‘
’’ہاں ڈائریکٹر صاحب کہہ رہے تھے۔فی الحال اسکول میں انگریزی ‘جرمنی ‘فرینچ اور رشین زبان پڑھانے والوں کی سخت ضروت ہے اور سنا ہے بیگم ۔غیر ملکی زبانیں پڑھانے والوں کی تنخواہ بھی معقول ہوتی ہے یعنی دس بارہ ہزار ۔‘‘سن کر بانو جیسے اچھل گئی ۔
’’ سچ !پبلک اسکولوں میں اتنی تنخواہ ! کاش تم ان میں سے کوئی ایک جانتے تو دردرکی ٹھوکریں نہ کھانی پڑتیں ۔زید اسکول سے نہ بیٹھتا اب کیا ہوگا ؟لگتا ہے بچہ کا یہ سال بھی خراب ہوجائے گا ۔‘‘
’’نہیں بیگم !ڈائریکٹر صاحب نے ایک ہزار روپے دیے ہیں ۔زید کی نئی ڈریس اور کورس کے لیے اور اسکول میں فری ایڈمیشن ۔‘‘
’’سچ !لیکن گھر کا خرچ کیسے چلے گا ۔‘‘بانو کی آنکھوں میں خوشی اور چہرہ پر اداسی بیک وقت نظر آنے لگی ۔
’’گھبراؤ مت بیگم! سب ٹھیک ہوجائے گا ۔شام کو ایک اور جگہ جاؤں گا ۔مجھے امید ہی نہیں ‘پورا یقین ہے کہ منشی کا کام مل جائے گا ۔‘‘
اختر نے وثوق کے ساتھ کہا ،زید نے یک دم پلٹ کر اختر کی طرف دیکھا اور دوڑ کر گود میں بیٹھ گیا ‘بانو مسکرانے لگی ۔
’’ہاں پیٹ بھرنے کے لیے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ۔‘‘بانوکہتے ہوئے زید کو بغور دیکھنے لگی اور وہ بھی ہونٹوں میں مسکراہٹ دبائے ماں کو نہارنے لگا ۔
’’میں کہہ رہی تھی ۔شام کو اپنے ساتھ زید کو لے جانا ۔‘‘بانو نے بلا جھجکک کہا اور زید خوشی سے اچھل پڑا ۔
Dr. Arshad Iqbal
4/F14- Kala Piyada,
Dist. Moradabad 244001 (U.P)
M.No 09412838013
افسانہ…… محمد حنیف خان ” بوڑھا کنواں "
افسانہ
محمد حنیف خان
بوڑھا کنواں
یہ بوڑھا کنواں دومعصوم جانوںکی قبر گاہ ہے ،جب زمانہ نے دو دلوں کو دور کرنا چاہاتو اسی بوڑھے کنویں نے انکو اپنی آغوش میں جگہ دی اور اس طرح دی کوئی جان بھی نہ سکا کہ لاش کس طرف ہے ،اور شایدیہ دو دلوں اور دو پیاسی روحوں کی محبت کاہی اثر ہے جو اس کنویں کے پانی میں بھی الفت و محبت اس طرح سرایت کر گئی کہ آج بھی عورتیں اپنے خفا شوہروں کوبلانے کے لئے اس بوڑھے کنویں کے پانی کا استعمال کرتی ہیں اور کامیاب بھی ہوتی ہیں۔
معلوم نہیںکب ،اور کس نے اس کو کھودا یاکھدوایا تھا؟اب اس کے جگت پرلگی اینٹیںبھی گھس چکی ہیں ،بالکل انسان کی زندگی کی طرح ،مگر معلوم نہیںکتنے انسانوںکی زندگی ختم ہوئی اور وہ سیراب ہوئے تب اسکی اینٹیںاتنی گھسی ہیں،اس نے معلوم نہیں کتنے انقلابات دیکھے ،اور کتنی عشق ومحبت کی کہانیوںکا گواہ بنا،لیکن یہ ایسے ہی رہا،ہاں بچے جوان ہوئے جوان بوڑھے اور بوڑھے راہئی ملک عدم ،اوریہ تمام وسعتوں اور گہرائیوںکے ساتھ اپنی بوڑھی آنکھوںسے گردش زمانہ دیکھتااور اندیکھے کیمرے میں قید کرتا رہااس کا یہ عمل معلوم نہیں کب سے جاری ہے ،یہ پیدا بوڑھا تو نہیں ہوا تھا مگر جب سے میں نے آنکھیں کھولی اس کو بوڑھا ہی دیکھا ،میں نہیں پیدا ہواتھا میرے باپ بھی نہیں پیدا ہوئے تھے اور شاید دادابھی، اس سے اوپر کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا ،ہر ایک نے یہی بتایا کہ یہ بہت پرانا کنواں ہے ،
درازی عمر سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا معلوم نہیں کتنی ڈولیا ں اس کے پاس سے اٹھ کر سسرال گئیں ،اور معلوم نہیں برسوں سے عورتیں ہولی کے موقع اس کے ارد گرد ہولی کے گیت گاتیںاور اپنے دیوروںکو گالیاں دیتیں ہیں ،اس دن کوئی برا بھی نہیں مانتا ،اور نہ ہی یہ کنواں ،اس نے کبھی شکایت بھی تو نہیں کی ،بچے اور بچیاں ہولی کا انتظار کرتی رہتی ہیں ،اور ا س کنویں کے ارد گرداس خا ص دن گھومنے کے لئے بے قرار رہتی ہیں ،در اصل اس کنویں کے متعلق ایک بات مشہور ہے ،جو صرف بچوں کے درمیان ہے مگر معلوم نہیں کب سے ؟لیکن یہ چیز صرف اسی وقت تک رہتی ہے جب تک کہ بچہ نوجوان نہ ہو جا ے جہاں وہ ایک دو بچوں کا باپ ہوا فورا بھول جاتا ہے ،یا نظر انداز کر دیتا ہے تبھی تو وہ اپنی جوان جہان لڑکیوں کو وہاں جانے سے نہیں روکتے ۔
یہ کنواں صرف کنواں نہیںبلکہ تاریخ کا امین اور اس کا چشم دید گواہ ہے ،عبارت اس کی گھسی ہوئی اینٹوںپر تحریر ہے مگر جلی حروف میں،معلوم نہیںکتنے ننھے ننھے دلوں کی اس نے دھڑکن سنا اور خاموش رہا، معلوم نہیں کتنی آہوں اور کراہوں کو سنا اور انگیز کرتا رہا ،دکھے دلوںکی کتنی صداوئںنے اس کو بےقرارکرنا چاہا مگر اس کے دل میں کوئی طوفان نہ اٹھا،وہ خاموش تما م دکھوں اور غموںکو جذب کرتا رہا بالکل اپنے پانی کیطرح کبھی اس میں اپھان نہیں آیا ،اس کا دل بہت بڑا ہے چپکے چپکے ملتے ہوئے کتنوں کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا مگر حرف شکایت زبان پر نہیں لایا،اس کنویں کا ایک دوست صرف نیم بچا ہے بالکل اسی طرح بوڑھا اس کی داستان پھر کبھی سناﺅنگا۔
یہ کنواں بہت مشہور ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت کا شوہر اس سے خفا ہوجائے اور اس کاپانی اس کو پلا دیا جا ے تووہ خوش ہوجاتا ہے ، اگر وہ غصہ ہو کر گھر سے چلا جاے اور اس کا پانی تانبے کے برتن میںبھر کر دھوپ میں رکھ دیا جاے تو وہ بہت جلد واپس آجاتا ہے ،لیکن یہ مسئلہ مردوں کے ساتھ نہیں کہ وہ اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو منالیں معلوم نہیں کیوں ؟ایک بات اور جسکا تجربہ اکژوبیشترنوجوان لڑکے اور لڑکیاں کرتی رہتی ہیں ،شاید کامیاب بھی ہوتی ہوں مگر چپکے چپکے یہ عمل انجام پذیر ہوتا ہے اصل میں مرد و عورت کی طرح یہ بھی تصور کرتے ہیں۔اس کے پیچھے ایک بہت ہی درد ناک واقعہ ہے جس نے لوگوں کے عقائد کو اس طرح متزلزل کیا ہے ۔
آج سے تقریبا دو سو سال قبل اسی گاﺅںمیں ایک زمیندارہیرا سنگھ تھا جسکی طوطی بولتی تھی کسی کو مجال نہ تھی کہ اس کی کسی بات کا انکار کردے، در اصل وہ بہت غنڈہ اور دبنگ قسم کا آدمی تھا،جب جی چاہا اور جس کے گھر میں چاہا شب باشی کرلی شب تو شب تھی وہ دن باشی اور اس میںبھی صبح باشی ،دوپہر باشی،اور شام باشی کرتا رہتا تھا ،یعنی وہ اپنے من کا راجہ تھا ،مگر واہ ری قدرت تو نے اس کو کتنی بڑی سزا دی ؟
عورتیں ،لڑکے لڑکیاں،اور بچے بچیاںسب دو مہینہ سے بہت ہی بے صبری سے ہولی کا انتظار کر رہے تھے ،پچکاریاں اور گلال و عبیر کے بارے میں تبادلئہ خیالات ہو رہا تھا ،راکیش کی بھی عمر انیس بیس برس کی رہی ہوگی وہ بھی اسی کا منتظر تھا اور چنبیلی اس کا تو پوچھنا ہی نہیں،وہ کس چاﺅ سے لڑکوں کو دیکھ رہی تھی ،اور انتخاب کے لیے نظریں دوڑارہی تھی اس نے کسی لڑکے کو دیکھا اور پسند کیا سوچا ہولی میں یہی ہوگامیرے سپنوں کا راجکمار ،مگر چند دنوں کے بعد ہی اس کی تصویر اپنے دل کے نگار خانے سے نکالی اور بڑی بےدردی سے زمین پر پٹخ دیا،اب نظر انتخاب دوسرے پر ،دو دن بھی نہیں گذرے کہ تیسرے اور چوتھے کا نمبر آگیا ،اس نے آخری بیس دنوں میں گاﺅں کے تقریبا نو لڑکوں کا پسند اور ناپسند کیا اب وہ بڑ ے کشمکش میں تھی کہ کیا کرے اور ہولی قریب سے قریب تر ہو تی جارہی تھی،اس کی سہیلی شاردا اور شانتا نے اپنے اپنے من کے راجہ کا انتخاب کر کے بتادیا تھا ،اب اسکو مجال نہ تھی کہ وہ ان پر نظر درازی یا فکر درازی کر سکے ،مگر اب صرف پانچ دن بچے تھے ہولی میں وہ بہت پریشان تھی آخر اس کی نظر راکیش پر پڑ ہی گئی ۔اس نے سوچ لیا کہ کنواں کا پھیرا آے اور چپکے سے اسی درمیان اس سے اپنے دل کی بات کہہ دے ،در اصل اس نے اب کی ساون میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا ،اب اس کو احساس ہو رہا تھا کہ کوئی اس کے من کے مندر کی مورت بنے ،جس سے اکیلے میں جب کوئی نہ ہو تو باتیں کرے ،تصور میں اس کے چوڑے چکلے سینے پر سر رکھ کر تھوڑی دیر سو جاے پھر خواب آلود آنکھوں سے کہے کیوں تکلیف تو نہیں ہوئی ،حالانکہ اس کے سر کا وزن بمشکل ایک کلورہاہوگا ،مگر وہ سوچتی تھی کہ کیا وہ اس کے بوجھ کو اٹھا لے گا؟اس میں اتنی سکت ہوگی ؟اب اس کے من کا راج دلارا اور راجکماراس کو مل چکا تھا ،اگر چہ اس کو خود نہیں تھا کہ وہ کیا کرنیوالا ہے ،اور اس کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے اور ہولی آگئی تھی ،آج رات میں ہولی جلانے کی رسم بھی ادا ہونی تھی اس لئے سارے لڑکے بڑے مست تھے اور خوشیوں میں مگن ، ہولی جل گئی اور صبح کا ستارہ بھی نمودار ہو گیا تھا،لڑکے اپنی اپنی پچکاریاں رنگوں سے بھرے ایک دوسرے کو شرابور کر رہے تھے اور لڑکیاں اپنے الھڑپن کا مظاہرہ کر رہی تھیں خاص طور سے وہ جنکی جوانی کی یہ پہلی سالگرہ تھی وہ تو سر پر وہ طوفان اٹھاے ہوے تھیں کہ خدا کی پناہ ۔خیر دن چڑھے کنویں کا پھیرا بھی آگیا اور بہتوں کے من کی مراد پوری ہوگئی ،ان میں چنبیلی بھی شامل تھی ،راکیش بہت خاموش پسند تھا اس میں تلون مزاجی بالکل نہیں تھی ،وہ جذباتی تو ضرور تھا مگر اس ہیجان کو باہر نہیں نکلنے دیتا تھا ،دن گذرتے رہے اور راتیں جاتی رہیں ،چنبیلی راکیش کے نام کا مالا جپتی رہی ، جس کی بھنک ہیرا سنگھ کو لگ گئی ،اس نے پہلے تو اپنے گرگوں سے راکیش کی خوب مرمت کروائی ،بعد میں چنبیلی کی شادی اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے لڑکے سے طے کردی ،عین 148اگنی پھیرے 147کے وقت جب کہ وہ اسی رسم کی ادائیگی کے لئے لائی جارہی تھی ،منٹوں اور سکنڈوں میں اپنی سہیلیوں اور بوڑھیوں کو جھٹکا دیا اور یہ جاوہ جا،یہاں تک کہ وہ کنویں تک پہونچ گئی ،لوگ پیچھے دوڑے مگر ناکام رہے ،اور اس نے اس بوڑھے کنویں میں چھلانگ لگادی جب تک رسی وغیرہ کا انتظام کیا جاتا اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ،اب وہ آزاد تھی اس کو کوئی پکڑ نہیں سکتاتھا، غوطہ خور کنویں میں اترے تلاش بسیار کے بعد بھی لاش نہ ملی،ادھر جب راکیش کو اس حادثہ فاجعہ کی خبر ملی تو وہ چکراسا گیا لیکن اس نے اپنے جذبات کو قابو میں کیا ،اورگاﺅںسے نکل گیا نہ معلوم کہاں کے لئے اس کو خود نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے ،بس اسکے ذہن پر ایک ہی بات سوار تھی کہ اس نے صرف میرے اپنی جان گنوادی اپنی زندگی کا انت کرلیا پھر وہ اس کنویں کے متعلق سوچنے لگا کہ یہ کنواں نہیں کوئی ناگ ہے جس نے اس کے عشق کو ڈس لیا ہے ،چند دنوں تک وہ ادھر ادھر مارا مارا پھرتا رہا لیکن اس کا دل نہیں لگ رہا تھا ، وہ بہت پریشان تھا آخروہ کب تک باہر رہتا چند دنوں بعد ہی واپس آگیا ، اب وہ سوچ رہا تھا کہ وہ کنواںنہ توناگ ہے اور نہ ہی قبر گاہ بلکہ اس کے عشق کی آرام گاہ ہے تبھی تو وہ بغیر گور وکفن کے اس میں چلی گئی وہ سوچ رہا تھا کہ وہ شادی کے جوڑے میں سکون کی نیند سو رہی ہے ،جب دنیا والوں نے نظریں چرائیں اور اور اس کے عشق کو چنبیلی سے چھیننا چاہا تو وہ اس کو چھاتی سے لگاے ہوے اسی کنویں کے پاس آئی اپنی اور اپنے عشق کی پناہ گاہ کے طور پر اس بوڑھے کنویں کو چن لیا ،اور اس نے بھی انکار نہ کیا،
راکیش گاﺅں لوٹنے کے بعد بہت پریشان رہتا تھا ،روزانہ وہ اس بوڑھے کنویں کے پاس جاتا اور گھنٹوں بیٹھا رہتا، آنسو خشک ہو چکے تھے اس لئے اب اس کے غم اس راستہ سے بھی نہیں نکلتے تھے ،ایک رات وہ کچھ زیادہ ہی پریشان ہوگیا اس لئے تقریبا دو بجے وہ بستر سے اٹھا اور اکیلے اس کنویں کے پاس آ گیا ،وہ بیٹھا تھا پرانی یادوں میں کھویا ہوا رہ رہ کے گذرے ہوے مناظراس کی آنکھوں کے سامنے آرہے تھے ،صبح سے بے نیاز ہوکر یہ مناظراور اس کی یادیں اپنا سفر طے کر رہی تھیں لیکن آج اس کو اپنی پلکوں تلے ہلکی سی تپش کا احساس ہوا اور اس کی انگلیاں آنکھوں کی طرف بڑ ھ گئیںاسے اپنی کیفیت عجیب لگی وہ سوچ رہاتھا کہ آنسو آے کہاں سے ؟اس نے انگلیوں سے آنسو پونچھ لئے مگر ا 177ٓنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے اورآنسوﺅں کو روک بھی کون سکتا ہے ؟یہ جذبات کے آنسو تھے زخمی زخمی احساسات کے آنسوں تھے ان پر بندش لگانا کوئی آسان کام نہیں ،اس لئے اس نے انگلیاں ہٹالیں،وہ روتا رہا اور ہچکیاں لیتا رہا ، لمحوں کا کارواں باد صبا کے جھونکوں،روح وجان کو معطرکر دینے والی ٹھنڈی ہواﺅںاور ڈوبتے ہوے ستاروںکی مدھم روشنی ،کے ساتھ اپنے راستے پر گذرتارہا وہ کب سے بیٹھا تھا کچھ پتہ ہی نہ چلا وہ روتارہا اور سسکتارہا اس اپنے زخم خوردہ خوابوںپرراکھ کی موٹی تہہ جمادی مجروح خوابوںکوراکھ کے ڈھیر میںچھپادیا لہو تو رستا ہی رہتا ہے ،وہ اٹھ کرکھڑا ہوگیا اب اس کی بوجھل اورز خمی رو ح کو کچھ سکون مل چکاتھا،جذبات واحساسات کا اپھان کچھ کم پڑچکا تھا شایدیہ رونے کا اثر تھا کہ اس کے اندر کا گرد وغباردھل سا گیا تھا ۔
دن گذرتے رہے راتیں جاتیں رہیں غموں اوردکھوں کے بوجھ تلے خود کو دباتا رہا آخر صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ایک دن اس نے سوچ لیا کہ کیا فائدہ ہے ایسی زندگی سے جس میں صرف دکھ اور غم ہو اور پھر وہ بھی تو اپنے محبوب کو زبان حال سے بلارہی تھی کہ میںکب سے تمہارا انتظار کر ہی ہوں ابھی تک چہرہ دیکھنا نصیب نہ ہوا ، جلدی آو میری آنکھیں پتھرا گئیں ہیں شاید وہ ان سنی باتوں کو اپنے دل کے کانوں سے سن رہا تھا ،اس کے ہاتھ میں آئینہ تھا جو آج ہی بازار سے لایاتھا دفعتہ ہاتھ سے چھوٹا اورچکنا چور ہوگیا وہ بیٹھ گیااور چننے لگامگرشیشے کی کرچوں کو کہاں وہ چن سکتا تھا وہ سوچنے لگا کہ میری زند گی کے خواب اور خوشیاںبالکل اس طرح بکھر گئیں ہیں جن کو اب چنا نہیں جاسکتا،یہی سب سوچ کر شام کے وقت جب سورج کی ٹکیاخون آشام ہورہی تھی وہ کنویں کے پاس گیا اور اس نے بھی اپنی آخری پناہ گاہ کے طور پرچن کے چھلانگ لگادی جب لوگ اس کونکالنے کے لئے کنویں میں اترے تو اس کی بھی لاش نہیں ملی ۔
محمد حنیف خان