Skip to main content

Aalamiparwaz

کوکھ : شائستہ فاخری

 کوکھ
 شائستہ فاخری

  کسی جادوگر کے طلسمی تماشے کاکردار بنی وہ جل دھارا کے بیچوں بیچ کھڑی تھی۔اس کے دونوں گداز سینوں سے ٹپکتی ہوئی دودھ کی ننھی ننھی بوندیں جل کے دھارا میں دودھیا نقطے کی شکل میں پھیل رہی تھیں۔چندقطرے سوکھی پیاسی زبان کی خوراک بھی بن رہے تھے۔یہ زبان تھی اس ننھی جان کی جو پچھلے دو چار دنوں سے بستی والوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ ایک لا ینحل مسئلہ۔۔۔اپنے بازوؤں میں بچی کو سمیٹے وہ لگا تار اسے نہارے جا رہی تھی۔
تباہی کے درد ناک منظر کوجھیلنے کے بعد بچھے کھچے لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ آنکھوں میں تجسس تھا،کچھ آنکھیں حیرت زدہ او ر متفکر تھیں۔مگر ایک جوڑی آنکھیں ایسی بھی تھیں جن میں شرمندگی تھی، خوف تھا اور ساتھ ہی ساتھ پھڑپھڑاتے دل سے اٹھتی ایک کراہ بھی تھی جو دعا بد دعا کے مکڑ جال سے نکلتی ہوئی اس شخص کے لب سے ٹکرا رہی تھی کہ کاش ایک بار پھر سے جل دھارا کو جلال آجائے اور وہ قدرت کا قہر بن کر ٹوٹ پڑے ایک اکیلی اس پر جو دھارا کے بیچوں بیچ کھڑی تھی۔کاش کہ جل دھارا دو حصوں میں بٹ جائے اور وہ ہمیشہ کے لئے اس میں غرق ہو جائے۔اور اسی کے ساتھ سدا کے لئے اس اندھیری کالی رات کا وہ سچ بھی غرقاب ہو جائے جو اسے اس وقتمرغ بسمل کی طرح تڑپا رہا تھا۔
خاموشی کا سفر طے کرتے ہوئے چند لمحے اور گزر گئے ۔ اس شخص کی لرزتی آنکھیں ایک بار پھر جل دھارا کی طرف اٹھیں۔کینوس پر ابھری تصویر کی طرح منظر ساکت تھا۔رنگ و بو کے زاوئیے میں کوئی بدلاؤنہیں آیا تھا جیسے پورے ماحول پر آسیبی سایہ گھر گیا ہو۔ شانت ہوتی ہوئی جل دھارا کے بیچ وہ اسی طرح کھڑی تھی عقل حیران تھی۔لوگ دیوی کی ناراضگی کا سبب نہیں جان پا رہے تھے۔کس سے کیا بھول ہوئی کہ جو کبھی نہیں ہواوہ بستی میں گھٹ گیا۔اچھی خاصی ، گدرائے جوبن والی، پرشباب سڈول جسم والی عورت اور جل دھارا میں اترتے ہی اچانک کیسے پتھر کی ہو گئی۔ناف کے نیچے سے اس کا دھڑپتھر کا ہو چکا تھا۔جبکہ اوپری دھڑ اب بھی عام عورت کی طرح تھا اور معصوم فرشتے جیسی بچی اس کی گود میں اسی طرح محفوظ تھی جیسے کہ ماں کی کوکھ میں بچہ ہوتا ہے۔وہ شخص جسے لوگ سردار کے نام سے جانتے تھے اور جو سچ کا بھیدی تھا،اس نے گھبرا کر ان آٹھوں عورتوں کی طرف نگاہ اٹھائی جو بدستور جل دھارا کے کنارے کھڑی گن ناک ماتمی چہرہ بنائے اپنے دونوں بازو پھیلائے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی ۔ان کے سینوں سے بھی مسلسل دودھ کی پتلی دھارا بہہ رہی تھی۔
دل بہلانے کے لئے سردار پچھلی باتیں یاد کرنے لگا۔ابھی چند دنوں پہلے ہی کی تو بات ہے جب بستی پوری طرح پرسکو ں ہوا کرتی تھی۔ فضا خوشگوار ، لوگ خوش مزاج۔ اس کی وجہ لوگ جل گدھارا کو مانتے تھے۔ کیونکہ اس بستی کی وہ دیوی تھی اور دیوی خوش رہے اس لئے ساری بستی وہی کرتی تھی جو پرانے بڑے بوڑھے انھیں بتاتے آئے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں۔۔ اچھا سوچو ،اچھا کرو اور خوب جیو۔ محنت کرو اور خو ش رہو ۔لوگ بتاتے ہیں کہ جب یہاں بستی بسی تھی تو ایک دن دیوی نے پرکٹ ہو کر یہی سندیش لوگوں کو دیا تھا۔اور لوگ آج تک اسے پوری طرح مانتے بھی چلے آ رہے ہیں ۔رشتوں کا چھل؛ اس بستی کا سب سے بڑا گناہ تھا۔یہ چھل کس نے کس کے ساتھ کیا کہ ماں جیسی دیوی کو جلال آ گیا۔سردار کی آنکھیں جھک گئیں ۔پچھلے چند دنوں سے اس کی طبیعت کی بے چینی اور بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔اس کے لئے وقت جیسے تھم گیا ہو۔ معاملہ بھی تو بے حد پیچیدہ اور سنگین تھا۔
بات یوں تھی کہ درد ایک کوکھ کا تھا اور اس درد کی دعوے دار تھیں نو مائیں۔۔ اتنا یقین تو سب کو تھا کہ درد اور کرب تو صرف ایک کوکھ کو ہی سہنی پڑی ہوگی مگر یہ آٹھ کوکھ کیوں چیخ اٹھیں۔عجیب قصّہ ہے۔بالکل دادی ماں کی سنائی ہوئی دیو مالا کی کہانی جیسا۔مگریہ کہانی ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ ثبوت کے طور پروہ ننھی جان جوفساد کی جڑ مانی جا رہی تھی،سب کے بیچ موجود تھی۔کبھی ٹکر ٹکر سب کو دیکھتی،اور کبھی چیخ چیخ کررونے لگتی، تھک جاتی تو کسی کے کندھے پر سر رکھ کر سو جاتی۔ اٹھتی توبھوکی ہوتی۔اپنی بھوک مٹانے کے لئے وہ انگوٹھاچوسنا شروع کر دیتی۔لگاتار چوسنے سے اس کا انگوٹھا سفید پر جاتا مگر اس کی بھوک نہ مٹتی۔ وہ پھر آنسو بہانے لگتی، روتی اور دیر تک روتی رہی۔ گھنٹوں اس کی رلائی لوگوں کے دل کو رہتی۔ پچھلے چار دنوں سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ 
مگر یہ سلسلہ شروع کہاں سے ہوا؟ اس کی حقیقت کو سوچ سوچ کر سردار پریشان ہوتا ۔ آنکھیں خشک تھیں مگر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ لحیم شحیم شخصیت کا مالک رعب دار سردار اس وقت اپنے آپ کوایک دبکا ہوا چوہا محسوس کر رہا تھا کہ کہیں کوئی بل نظر آ جائے اور وہ اس میں پناہ لے ۔ مگر ایسا کچھ ممکن نہیں تھا۔ سچائی کا سامنا اسے کرنا ہی تھا۔
اپنے ذہنی دباؤ کو ہلکا کرنے کے لئے اس نے چار دن پہلے کی پر سکون رات کو یاد کیا جب ہلکی خنکی بھری ہوائیں چل رہی تھیں۔لوگ ہر رات کی طرح اس رات کو بھیکھانا کھانے کے بعد جل دھارا کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے کیونکہ یہاں کا معمول تھا کہ سونے سے پہلے بستی والے جل دھارا کو کرتے تھے تاکہ دیوی ساری رات بستی کی حفاظت کرتے رہیں اور لوگ امن چین کی نیند سو سکیں۔ہمیشہ کی طرح نیلے آسمان پرچاند نکلا، تارے جھلملائے ،چکور چکوریاں اونچی اڑان میں جیسے چاند کو چھو لینے کی چاہ میں دائرہ بنائے چکر کاٹنے لگیں ۔کبھی کبھی کہیں دورٹوٹتے تارے لپکتے شعلوں کی طرح نظر آ جاتے۔تاروں کا ٹوٹنا بستی والے اشبھ مانتے تھے۔سردار کا دل اس وقت بری طرح سے دہل اٹھا جب اس نے صاف شفاف جل کی دھارا میں ٹوٹتے تارے کاعکس دیکھا۔وہ گھبرا کر گھر واپس آ گیا اور چپ چاپ بستر پر لیٹ کرسونے کی کوشش کرنے لگا۔ بند پلکوں میں پتلیاں پھڑ پھڑاتی رہیں۔ اور بوجھل آنکھوں کی نیندکہیں ویرانے میں دم توڑتی رہی۔رات گزر گئی۔ صبح ہلکی سی جھپکی ہی آئی تھی کہ بے تحاشا اٹھتی چیخ پکار نے اسے بد حواس کر دیا۔وہ ننگے پاؤں بغیر سر پر پگڑی باندھے دوڑتا ہوا گھر سے باہر نکلا۔ اور پھر۔۔۔۔۔ سردار کی آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا گئیں۔کیونکہ اس کے آگے کا منظروہ یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔خوش حال بستی جل دھارا کے قہر سے اجڑ چکی تھی۔بسے بسائے مضبوط گھر پانی کی طوفانی دھاروں میں ریت سے بنے گھروندے کی طرح بہ گئے۔گھٹتی سانسیں پانی میں دم توڑنے لگیں۔لاشیں تنکوں کی طرح دھارا کی اچھال پرہچکولے کھا رہی تھیں۔کیا بچے، کیا بوڑھے، کیا مرد ، کیا عورت۔۔۔۔ جل دھارا نے کسی کو نہیں بخشا۔وہی جل دھارا جس کی عبادت کی جاتی تھی۔بستی والے جس کی پوجا کرتے تھے، منتیں مانگتے تھے اور منتیں پوری ہونے پرپھولوں کی مالا جل دھارا پر چڑھاتے تھے۔پھر ایسا گناہ کس سے ہو گیا۔ کہ ماں جیسی جل دھارا کو جلال آ گیا۔بستی اجڑ گئی۔ایک جوڑی پشیمان آنکھیں اس سچ کو جانتی تھیں، پہچانتی تھیں مگرخاموش تھیں۔ایک سچ کو قبول کرنے کا مطلب تھا کہ کئی سچ سامنے آ جاتے۔ وہ سچ کی پردہ داری خاموش کھڑا بھیڑ کا ایک حصہ بنا ہوا تھا۔ وہ کیسے بھول سکتا تھا کہ بستی والے اس کے پاک کردار کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔بہر حال جو سامنے تھا وہ یہ تھا کہ بستی اجڑ چکی تھی مگر اتنے جلال کے باوجود اس ننھی جان کو جل دھارانگل نہ سکی۔ اگل دیا اس نے۔آٹھ ننھے وجود جل دھارا کی گود میں سو گئے ۔اسی ایک بچی پر مادر حق کے دعوے کے لئے نو اجڑی ہوئی مائیںآگے بڑھیں۔ ایک بچی کے لئے نو کوکھ کیسے دعویدار ہو سکتی تھیں؟ ہر عورت اپنے آپ میں سچائی کی ایک جیتی جاگتی تصویر تھی۔بچی کس ماں کی گود میں ڈالی جائے اس سوال نے بستی والوں کو پریشان کر رکھا تھا۔آخر کار یہ طے ہوا کہ فیصلہ سردار کرے گا کیونکہ وہی اکیلا ایک شخص تھاجس پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی تھی۔ وہ ان تمام کمزوریوں سے اوپر تھاجو انسانی کردار کوسطح سے نیچے گراتی ہیں۔فیصلہ سب کے بیچ ہونا تھا۔ جل دھارا کے کنارے عدالت لگ گئی۔اس بچی کو روتا ہوا دیکھ کر وہ نو مائیں بھی رونے لگیں۔آہ و زاری کرنے لگیں۔ممتا کی چھاؤں دینے کے لئے سبھی الگ الگ ناموں سے اسے پکارنے لگیں۔مگر بھوکی پیاسی بچی سردار کی مضبوط بانہوں کی گرفت میں تھی۔اسے چپ کرانے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔چیختے چیختے ننھی جان تھم کرنڈھال ہو گئی اور سردار کے کندھے پر سر رکھ کرسو گئی۔عدالتی کاروائی شروع ہو گئی۔ 
گھنٹوں ذہنی مشقت کے بعدآخر کار سردار کے حکم پر نو ماؤں کو ایک قطار سے کھڑا کر دیا گیا۔گنتی شروع ہوئی۔ ایک۔۔دو ۔۔تین ۔۔چار۔۔۔!بستی والے گنتی کر رہے تھے اور ادھر سردار کی جسم کے ساتھ نظریں بھی تھر تھرا رہی تھیں۔سردار کی آواز میں آج کپکپاہٹ تھی ۔ اس کی کئی پشتیں سربراہ رہی ہیں۔ان کی عزت،آن بان، شان پر کوئی ترچھی نظر اٹھانے والا فرد پیدا نہیں ہوا تھا۔ ایسا بستی والوں کا ماننا تھا۔
اچانک شور اٹھا۔۔ ایک عدد عورت کم ہے۔ گنتی پھر شروع ہوئی۔ایک ۔۔دو ۔۔تین۔۔چار۔۔۔۔! گنتی کرتی ہوئی انگلیاں آٹھویں عورت پر آ کر رک گئی۔نویں عورت کہاں گئی؟؟ کئی بار گنا گیا مگر گنتی ایک سے آٹھ تک ہی رہی۔آخر نویں عورت کہاں لاپتہ ہو گئی؟ کیا پہلا جھوٹ پہلے ہی قدم پر پیچھے ہٹ گیا۔
نویں عورت کی گمشدگی نے سردار کے دجود کو زلزلے میں ڈھکیل دیا ہو۔ پریشانی کے عالم میں سردار نے سوئی ہوئی بچی کوبے خیالی میں جل دھارا کے کنارے بنے چکنے پتھر کے چبوترے پر لٹا دیا۔ یہ وہی پتھر تھاجس پر بیٹھ کر لوگ سمادھی میں لین ہو کردھیان لگاتے تھے۔اسی پتھر پر اس کالی اندھیری رات میں سردار نے گوتم کو دھیان میں ڈوبے دیکھا تھا۔۔۔۔۔دیوی کے دھیان میں مگن گوتم۔۔۔۔کتنی دیر تک سردار ہنستا رہا۔۔خوب ہنستا رہا۔۔زور زور سے ہنستا رہا۔۔۔گوتم کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔دھیان بھنگ ہو گیا۔تب سردار نے ہاتھ اٹھا کر آ شیرواد دیا تھا۔ دیوی تمھارا کلیان کریں۔ ۔۔تمھاری نسل پروان چڑھے۔۔ تمھارا نام امر رہے۔گوتم سردار کے قدموں میں لوٹ گیا تھا۔یہی مانگنے تو وہ جل دھارا پر آیا تھا اور سردار نے جیسے اس کے دل کی پکار سن لی تھی۔
ادھر بچی چبوترے کی سختی کو برداشت نہ کر سکی۔اس کی آنکھ کھل گئی۔بھوک کی شدت سے وہ چیخ چیخ کر پھر رونے لگی۔اچانک شور اٹھا۔’’ سردار نویں عورت جل دھارا میں ہے۔‘‘
’کیا؟‘ سردار کے ساتھ ساتھ سب کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔وہ دھارا میں بیچوں بیچ کھڑی تھی۔اس کا آدھا دھڑ جل دھارا میں ڈوبا ہوا تھا۔کوئی ہلچل نہیں، کوئی زندگی نہیں۔پتھرائی بے نور آنکھوں سے وہ اپنے اجڑے سنسار کو دیکھ رہی تھی۔حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس کی ناک کے نیچے کا حصہ پتھر کا بن چکا تھا جبکہ ناف کے اوپر وہ عام عورتوں کی طرح تھی۔ممتاکی گرماہٹ اب بھی اس کے سینوں میں محفوظ تھی اور نگاہیں بچی پر جمی ہوئی تھیں۔
بڑھتے ہوئے شور کو سردار کی آواز نے دبا دیا۔’’یہ عورت بھی دعویداری میںآگے آئی تھی۔اس لئے اس کی گنتی بھی دعویداروں میں ہوگی۔ چاہے یہ آدھی پتھر کی ہی کیوں نہ بن چکی ہو۔نسل بڑھائی جاتی ہے ناف کے نیچے سے اور پروان چڑھتی ہے ناف کے اوپر سے۔ یہاں بڑھانے کی نہیں پروان چڑھانے کی بات ہے۔ اس لئے اس کے دعویداری پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔‘‘
لوگوں نے تالی بجا کر سردار کے فیصلے کا استقبال کیا۔ 
بچی لگاتار رو رہی تھی۔مگر بھیڑ کے شور میں آواز دبی ہوئی تھی۔سردار کا حکم ہوا ۔’ باری باری سے سب کی گود میں بچی کو ڈالا جائے۔ جس کی گود میں بچی چپ ہو جائے گی ،وہی اس کی ماں کہلائے گی۔‘‘
ہر عورت اپنی باری آنے پر بانہیں پھیلا کر ممتا سے بچی کو اپنے سینے سے چپکا لیتی۔خود کو محفوظ سمجھ کر بچی چپ ہو جاتی۔آٹھوں عورتیں خوش ہو گئیں ۔ انھیں لگا ان کے دعوے سچ ہو گئے۔ مگر نویں عورت کے لئے اب کیا کیا جائے۔سردار آگے بڑھا۔ بچی کو اپنی گود میں لیا اور جل دھارا میں اتر گیا۔
عورتوں کی گود سے جدا ہوتے ہی بچی پھر رونے لگی۔ سردار نے جل دھارا میں کھڑی ہوئی نویں عورت کی گود میں بچی کو ڈال دیا۔ لمحے بھر کے لئے نویں عورت کے جسم میں ہلچل سی ہوئی۔ دونوں بانہیں اٹھیں ۔ اس نے بچی کو اپنے سینے سے لگا لیا۔روتی ہوئی بچی چپ ہو گئی مگر سردار حیران ہو اٹھا یہ دیکھ کر کہ بچی چپ تو ہے مگر اس کی آنکھوں قطرہ قطرہ آنسو بہ رہے ہیں۔ ان بہتے ہوئے آنسوؤں کے معنی گہرے تھے جنھیں سردار سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔اس نے جلدی سے بچی کو واپس اپنی گود میں لیا اور جل دھارا سے باہر نکل گیا۔ سردار کے لئے فیصلہ لینا اور بھی مشکل ہو گیا۔ کیونکہ کسی کا بھی دعوی کمزور نہیں پڑا تھا۔ فیصلہ اگلے دن کے لئے ٹال دیا گیا۔ 
اگلے دن پھر جل دھارا کے کنارے عدالت لگ گئی۔ آٹھوں عورتیں سردار کے سامنے ایک قطار میں کھڑی ہو گئیں ۔ نویں عورت بدستور جل دھارا میں تھی۔ اس کی آنکھیں بچی کی جانب تھی اور بچی سردار کی گود میں مسلسل رو رہی تھی۔چپ کرانے کا ایک ہی طریقہ تھا۔جلد سے جلد اس کی بھوک مٹا دی جائے۔
سردار کی آواز بھیڑ کے شورکو دباتی چلی گئی۔’’ آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ بچی بھوکی ہے۔ رو رہی ہے۔وقت کا پہلا تقاضا ہے کہ اس کی بھوک مٹا ئی جائے۔اس لئے ہر عورت بھوکی بچی کو اپنے سینے کے قریب لائے گی۔جس نے اس کو جنا ہوگا اس کی چھاتی سے دودھ ٹپکنے لگے گا۔کیونکہ یہ خدائی شان ہے کہ کوکھ سے جنا ہوابچہ بھوکاہوتا ہے تو اس کی ماں کی چھاتی سے خود بخود ٹپکنے لگتا ہے۔ جو اس بچی کی بھوک متائے گی وہی عورت اس کی ماں ہے اور اسے ہی یہ بچی سونپی جائے گی۔
ایک بار پھر عورتیں امتحان کی گھڑیوں سے گزرنے لگیں۔ایک ۔۔دو۔۔تین۔۔چار۔۔۔۔! اس خدائی کرشمے کو دیکھ کر لوگوں کی سانسیں تھمنے لگیں ۔ انگلیاں دانتوں تلے دبنے لگیں۔ خود سردار پریشان اور پشیمان تھا کہ کہیں اس کا قول جھوٹا نہ پڑجائے۔ فیصلہ لینے میں وہ کہیں نا اہل نہ ثابت ہو جائے۔ بچی خاموش ہو چکی تھی ۔اس کی بھوک مٹ رہی تھی۔ باری باری سے وہ ہر عورت کے سینے سے ٹپکتے دودھ کو پی رہی تھی۔آٹھوں عورتیں خوش تھیں کہ سبھی کے سینوں میں دودھ اتر رہا تھا۔ سب کے دعوے سچے ثابت ہو رہے تھے۔سردار کی نگاہیں نویں عورت کی طرف اٹھی جو جل دھارا میں آدھی ڈوبی اب بھی کھڑی تھی۔ اس کی دونوں بانہیں بچی کی طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ بچی ابھی اس کی گود میں پہنچی بھی نہیں تھی اور اس کے سینے سے بہتا ہوا دودھ جل دھارا میں ٹپکنے لگا تھا۔ قطرہ قطرہ ٹپکتی دودھ کی ننھی ننھی بوندیں جل دھرا میں گر کر اسے مزید مقدس بنا رہی تھیں۔
سردار کی گود میں بچی آ چکی تھی۔ اور اس قدم جل دھرا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بچی نویں عورت کی گود میں آتے ہی اپنا سر اس کے سینے میں چھپانے لگی۔
بچی دودھ پی رہی تھی اور ایک جوڑی گنہگار آنکھیں اپنے اوپر نادم تھیں۔سردار جل دھارا سے معافی مانگ رہا تھا اس رات کے گناہ کی جب قہر کی ابتداء کا بیج نویں عورت کی کوکھ میں آیا تھا۔
وہ رات اماوس کی تھی۔ ہر اماوس کی رات جل دھارا کے کنارے میلا لگتا تھا۔لوگ ناچتے ،گاتے ،شراب پیتے جل دھارا کی شان میں قصیدے پڑھتے اورپھر صبح کی پو پھٹنے سے پہلیاپنی اپنی منتیں مانگ کر واپس بستی کو لوٹ جاتے۔رات اندھیری تھی، گھور اندھیری۔ میلے میں جانے کے لئے بستی والوں نے اپنے گھروں سے نکلنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔آج گوتم کواپنا پورا دھیان لگا کر دیوی ماں سے منت مانگنی تھی۔اپنی عورت کی پیاسی کوکھ کو ہرا کرنے کے لئے۔اس کے لئے وہ کڑا سے کڑا تپ کرنا چاہتا تھا۔رشیوں جیسا سیدھا سادا سچا انسان گوتم۔اپنی پیٹھ سیدھی کرنے کے لئے لیٹا ہی تھا کہ مرغے کی تیز بانگ کی آواز گونجی۔گوتم ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔اِندر دیو کا اثر تھا یا کسی کی بد نصیبی کا اعلان۔ مرغے کی بانگ پر گوتم نے بستر چھوڑ دیا۔خالی ہوئے بستر کے دوسرے کنارے پروہ اپنے تنہا جسم کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔
گوتم دیوی کا دھیان لگا کر سمادھی میں لین ہونے کے لئے جل دھارا کی طرف بھاگا جا رہا تھا اور ادھر اس کی بیوی سمبھوگ سے سمادھی تک کے درمیانی سفر میں ہچکولے کھا رہی تھی ۔گوتم نے اسے پیاسا چھوڑ دیا تھا اور پیاسے جسم سمبھوگ کو پچھاڑ کر سمادھی کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے ۔جسم کی پیاس روح کو پیاسا بنا دیتی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔ دیوی کیا۔۔۔ اور دنیا کیا! سب شونیہ پر ٹھہر ے ایک تصوراتی کھنڈر بن جاتے ہیں۔ 
ہاں اس رات کی ہی تو بات ہے۔آسمان پر چاند نہیں نکلا تھا۔ٹمٹماتے تارے کہیں دور منھ چھپائے گہری نیند سوئے تھے۔ہلکی خنکی کے ساتھ ہوا کی سرسراہٹیں سردار کے ململ کے کرتے کو اڑاتی ہوئی اس کی خوشبو کو تیز جھونکے کو فضا میں پھیلا رہی تھی۔قدم آہستہ آہستہ جل دھارا کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں کا جشن اس کے انتطار میں تھا۔اچانک سردار کے کانوں میں ٹھنڈی سسکاریاں ٹکرائیں۔قدم ٹھٹھک گئے۔شراب کے سرور میں اضافہ ہوا۔آنکھوں میں مستیاں اتر آئیں۔کھلے دروازے میں سردار داخل ہو گیا۔سر پر بندھا ہوا برا سا کلف دار صافہ اتر گیا۔ خوشبو میں رچا بسا سفید ململ کا کرتا کب اتر کر زمین پر گر پڑا، اس کا علم نہ سردار کو ہوا اور نہ اس نویں عورت کو جو مکمل طریقے سے خود کو سردار کے سپرد کر چکی تھی۔
سردار چلا گیا۔ جل دھارا کے جشن میں شامل ہونے کے لئے۔۔ چبوترے پر دھیان مگن بیٹھے گوتم کو دیکھ کراسے کتنی ہنسی آئی تھی۔
اچانک لوگوں کی چیخ پکار اور آٹھوں عورتوں کو آہ و بکا نے جیسے سردارکو ہوش میں لا دیا۔ وہ ماضی سے نکل کرپھر سے موجودہ حالات پر
آگیا۔
جل دھارا میں کھڑی نویں عورت کی گود سے بچی غائب تھی اور وہ عورت دھیرے دھیرے سرسے پیر تک پتھر کی مجسمہ بنتی جا رہی تھی بالکل اہلیہ کی طرح ۔
بستی کے لوگ دم بخود تھے۔ان پر حیرت کے پہاڑٹوٹے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اب جو منظر تھا وہ بھی نا قابل یقین تھا۔یہ کیسے ممکن تھا ۔ پردے کی عزت کھلے آسمان کے نیچے، ننگے سر، ننگے پیر، کھلے بال ماتم کرتی، گود میں اسی معصوم جان کو اٹھائے دیوی ماں کو پکارتی تیز قدموں سیاس سمت کو بڑھ رہی تھی جہاں کی ویران اور اجاڑ پڑی بستی نئی فصل کے لئے اس کے انتظار میں تھی۔یہ دسویں عور ت سردار کی بیوی تھی اور اس کی گود میں سردار کی بچی۔۔
آٹھوں عورتیں جل دھارا کی بھینٹ چڑھی اپنی بچیوں کو غمناک یادوں کے ساتھ وہیں کنارے پر بیٹھی رہ گئیں۔
آج اماوس کی پھر گہری اندھیری رات تھی۔ اندھیرا اپنے شباب پر تھا۔لوگ ماں جیسی جل دھارا کے ارد گرد اکٹھا تھے۔بستی کے لو گ خوشحالی کے پر سکون نغمے گا رہے تھے۔

*** 

شائستہ فاخری

ہم بستر : تنضیر انصار

 تنضیر انصار

 ہم بستر

  دسمبر کی وہ شدید سردی مجھے آج بھی یاد ہے جب سو رج کو دیکھے ہو ئے پندرہ دن بیت چکے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا گویاہر طرف سفیدی کی دبیز چادر بچھا دی گئی ہو۔زمین سے آسمان تک سفید بادلوں کا قبضہ تھا۔تعلیم گا ہوں میں چھٹی کا سر کاری حکم جاری کردیا گیا تھا۔ الاؤ اور رضا ئی کو چھوڑ کر باہر نکلنا جنگ پر جانے سے کم نہ تھا اور میرا دل یہ سوچ سوچ کر بیٹھا جا رہا تھا کہ آج مجھے لکھنؤ کا سفر کر نا ہے اور وہ بھی رات کی ٹرین سے۔ دن کے اپنے تمام کام نپٹا نے کے بعد میں نے اپنے دوستوں انیس اور اطہر کو فون لگایا۔ہم تینوں کو لکھنؤ جانا تھا اور ہم تینو ں لکھنؤ میں کو چنگ کررہے تھے اور ایک سا تھ رہ رہے تھے۔ٹرین رات ساڑھے آٹھ بجے کی تھی۔بریلی جنکشن سے ہی بن کر چلنے کی وجہ سے لیٹ ہو نے کے امکانات کم ہی تھے پھر ہمارا گھر بھی اسٹیشن سے آٹھ دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔اس لیے ہمیں سات بجے تک گھر سے نکل جانا تھا۔ دوستوں کے ساتھ سا را پرو گرام طے کر نے کے بعد میں نے اپنا سا مان باندھنا شروع کیا ،ادھر امی بھی ایک ایک چیز یاد دلا کر رکھوا تی جارہی تھیں۔گھر کا گھی اور اچار الگ سے خاص تاکید کے ساتھ رکھ دیا گیا تھا کہ کھانے میں کو تا ہی مت کرنا،صحت کا خیال رکھنا۔
گھڑی نے سات بجنے کا اشارہ دیا اور ابو نے امی کو ٹو کنا شروع کردیا کہ مجھے جلدی نکل کر اسٹیشن پہنچ جانا چا ہیے کہیں میری لیٹ لطیفی میں ٹرین نہ چھوٹ جائے۔ ابو امی سے خدا حافظ کہہ کر میں با ہر آ یا ،گھر سے کچھ فاصلے پر ہی رکشہ اور سا ئیکل رکشہ مل جاتے ہیں لیکن یہ کیا؟آج ایک بھی رکشہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ دیر انتظار کر نے کے بعد میری دھڑکن بڑھنے لگی اور میں بے چین ہو نے لگا۔ سڑک کے دو نوں طرف گہرے سناٹے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا،گھبراہٹ اور بڑھ گئی جب میں نے گھڑی پر نگاہ ڈا لی،سوئیاں پونے آٹھ کا اشارہ کررہی تھیں۔ اسٹیشن پہنچنے کا خیال آتے ہی کلیجہ منہ کو آگیا۔ سناٹے کو چیرتی ہوئی اسی وقت دور سے کسی کے آ نے کی آہٹ سنائی دی۔آنے والے نے سنبھلتے ہو ئے ایک ہی سانس میں اپنی ساری گھبرا ہٹ بیان کر ڈا لی۔ میری قسمت اچھی تھی کہ وہ بھی اسٹیشن کے قریب منڈی تک جارہاتھا۔ بنا اجا زت لیے میں اچک کر اس کی سا ئیکل کے پیچھے کیرئیرپر سوار ہو گیا کہ وہ ہی اب میرا آخری سہارا تھا۔ سائیکل جوں جوں آگے بڑھتی گئی میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں۔دل میں خیال کرتا رہا کہ کاش سائیکل اڑ کر اسٹیشن پہنچ جائے۔
اللہ اللہ کرتے ہوئے ہم اسٹیشن چو راہے پر پہنچے۔میں نے گھڑی پر نظر دوڑائی تو سانس رک سی گئی۔آٹھ بج کر پچیس منٹ ہو چکے تھے اور ابھی اسٹیشن دور تھا ۔میں نے آ ؤ دیکھا نہ تاؤ اور پو ری طاقت سے اسٹیشن کی طرف دوڑنے لگا۔ دل اللہ سے منتیں مانگنے میں مصروف ہو گیا۔’’ اے اللہ ٹرین پکڑ وادے،دس رکعت نماز پڑھوں گا۔‘‘ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے میں اسٹیشن پہنچ گیا۔ادھر انیس اور اطہر میرے اوپر دانت پیس رہے تھے،وہ تو اچھا ہوا کہ اطہر نے ٹکٹ پہلے سے ہی لے رکھے تھے۔ اسٹیشن پر لائٹ کے نام پر چند بلب ہی چمک رہے تھے جن کی رو شنی کہرے کی دھند سے لڑ نے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔دھند اور اندھیرے میں رو شنی کا ایک گو لا ہماری طرف بڑھتا نظر آ یا تو احساس ہوا کہ یہ انجن ہے۔ ریل پلیٹ فارم پر رینگ چکی تھی۔ ہم لوگ دوڑتے ہو ئے ریل کی بو گی کے نزدیک پہنچے اور کود کر سامنے وا لے ڈبے میں چڑھ گئے،باہر چل رہی ہواؤں کی سنسناہٹ کے علاوہ اور کوئی آواز اس ڈبے میں نہیں تھی۔کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ ہم لوگ لگیج کمپارٹمنٹ میں چڑھ گئے تھے۔
ٹرین چل پڑی تھی۔رات کے اندھیرے میں اگلے اسٹیشن پر اتر کر ڈبہ بدلنے کی ہمت ہم میں سے کسی میں نہیں تھی ۔میں آ گے بڑھ کر جگہ تلاشنے لگا تو میری ٹا نگ سے کوئی چیز ٹکرائی اور مجھے احساس ہوا کہ نیچے کچھ پڑا ہے ۔جھک کر دیکھا تو کچھ لوگ بے خبر سو رہے تھے۔ پاس کی جگہ خالی تھی ۔ہم نے بھی ان کو بنا تکلیف دیے اپنی چا در بچھائی اور لیٹ گئے۔پوری طرح کھلے دروا زے سے اندر آنے والی برفیلی ہواؤں سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کی بانہوں کا قرب کے ہمیں گرمی کا ہلکا احساس کرا رہا تھا ۔دوستی کے رشتے کی گرمی نے برفیلے احساس کو کچھ دیر کے لیے ہی سہی مگر پگھلا ضرور دیا تھا۔آگے کئی اسٹیشنوں پر چائے والوں کی آوازیں چائے………چائے……..ہمارے کا نوں سے ٹکرا تی رہیں۔ ہم سمٹ کر لیٹ گئے اور کچھ ہی دیر میں ہمیں نیند نے آ گھیرا۔دیر رات جب مجھے تیز ٹھنڈ کا احساس ہوا تو میری نیند ٹوٹ گئی،دیکھا تو انیس پو را کمبل اکیلے ہی لپیٹ کر سو رہا تھا۔کاہلیت کی وجہ سے میں نے بھی اسے جگایا نہیں اور اپنے برا بر میں سو ئے ہو ئے شخص کی ہی چادر میں پاؤں ڈال دیے۔وہ شخص بھی شا ید گہری نیند میں تھا ،میری موجودگی کا اسے احساس بھی نہیں ہوا۔میں نے تقریباً دو گھنٹے کی نیند اور لی،میری آنکھ قریب تین بجے اس وقت کھلی جب ہمارے ڈبے میں ہلچل شروع ہو ئی۔ٹارچ سے پیلی رو شنی بکھیرتے ہوئے دو لوگ ڈبے کے اندر داخل ہوئے اور ان کے پیچھے قریب آٹھ دس اور بھی۔ ایک شور سنائی دیا۔’’اٹھا ؤ بھائی اٹھاؤ۔ سبھی لاشوں کو نیچے اتارو ۔‘‘ لاش جملہ سنتے ہی میری نیند فاختہ ہو گئی۔ اب تک اطہر اور انیس بھی جاگ چکے تھے۔معاملہ سمجھ میں آ تا اس سے پہلے ہی ایک پو لیس والے نے ہمیں باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔شدید ٹھنڈ میں ہم با ہر کھڑے تھے اور ہمارے بدن سے پسینے ایسے چھوٹ رہے تھے گویا جیٹھ کی گرمی میں کپڑے تر بتر ہو گئے ہوں۔اب تک ہم سمجھ چکے تھے کہ جو لوگ ہماری بغل میں سو ئے سے لگ رہے تھے وہ در اصل ان لوگوں کی لاشیں تھیں جو کسی حادثہ کا شکار ہو گئے تھے اور پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی لاشیں یہاں لائی جارہی تھیں۔
اس واقعے کو کئی سال گذر گئے لیکن آج بھی میں یہ سوچ کر کانپ جاتا ہوں۔خوف کی ایک لہر لہو میں سرایت کرجاتی ہے کہ میں اس رات میں ایک لاش کے ساتھ ہم بستر تھا۔

***
تنضیر انصار
میرٹھ

دھوپ چھاؤں : اسرار گاندھی

 دھوپ چھاؤں
 اسرار گاندھی
 18E/11J/6Dکرامت کی چوکی، الہ آباد16

 وہ اپنا گھر چھوڑ کر اولڈ ایج ہوم میں آ گیا تھااور اس کے دن آنسوؤں سے بھر گئے تھے۔ پچھلے پچاس برسوں کی زندگی بھولنا اتنا آسان تو نہ تھا۔ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ باتیں اس کے دل و دماغ میں سوئیوں کی طرح تیرتی رہتیں اور اس کا پورا وجود چھلنی ہو کر رہ جاتا۔
کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اسے بستر چھوڑ کر اٹھنا پڑا۔
باہر ہو م کا نوکر کھڑا تھا۔
’’ کیا بات ہے؟‘‘ وہ نوکر کو دیکھتا ہوا بولا۔
’’چائے کا وقت ہے ، آپ میس میں آ کر چائے پی لیں۔‘‘
’’چلو میں آتا ہوں۔‘‘
وہ کپڑے تبدیل کر کے میس کی طرف چل پڑا۔
بڑی شاداب جگہ پر تھایہ ہوم۔ یہاں کے لوگ بڑے نرم مزاج تھے۔ بہت ہی محبتوں سے باتیں کرتے، ہر طرح کا خیال رکھتے،شاید ان کو ایسی ٹریننگ ہی دی گئی تھی۔
اس نے میس میں چائے پی اور باہر آ کر لان میں پڑی ہوئی ایک آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔ لان پر اور بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ جنہیں وہ نہیں جانتا تھاکہ اسے یہاں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے۔ 
لان پر مخمل جیسی گھاس بچھی تھی اور وہاں رکھے ہوئے قطار در قطار گملوں میں خوبصورت پھول کھلے ہوئے تھے۔ شاید ہوم کو اس لئے بھی خوبصورت بنایا گیا ہو گا کہ تنہائی کا شکار یہ بزرگ اپنے آپ کو اس خوبصورتی کا حصہ بنا لیں اور ان کا وقت آسانی سے کٹ سکے۔ 
لیکن اس وقت اسے یہ خوبصورتی بھی ذہنی سکون نہ دے سکی۔
اسے اپنا گھر یادآ رہا تھا۔ گھر کے لوگ یاد آ رہے تھے۔ وہ لوگ جنھوں نے اسے یہاں آنے دیا اور اس کے گھر چھوڑ کر اس ہوم میں چلے آنے کے تعلق سے قطعی خاموشی اختیار کر لی تھی۔ شاید انھیں اس طرح اس کا اِس ہوم میں آنا اچھا لگا ہو۔شاید وہ لوگ یہی چاہتے بھی تھے کہ وہ ان کے حسب منشا زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔
اس نے نظر اٹھا کر لان کی طرف دیکھاجہاں کئی لوگ آپس میں مل کر خوش گپیاں کر رہے تھے۔ یہ لوگ بھی تو یوں ہی یہاں نہ آ گئے ہوں گے ۔ان کی بھی گھر چھوڑنے کی مجبوریاں رہی ہوں گی۔ کس کی اولاد کب ہوئی ہے اپنے بوڑھے ماں باپ کی لیکن اس کے بچے تو اپنی ماں کے ہو گئے۔ اسے وہ سرگوشیاں یاد آئیں ۔ ’’دیکھو تمہارے باپ نے مجھے بہت پریشان کیا ہے۔میں نے تم لوگوں کے لئے بڑی ذلتیں سہی ہیں۔ ‘‘ بڑے ہوتے ہوئے بچے اپنی ماں کی باتوں پر یقین کر لیتے اور ان کی آنکھوں میں نفرت کے سائے لہرانے لگتے۔ 
اس نے سوچاکہ کاش اس نے بھی اپنے بچوں کوسچ بتانے کی کوشش کی ہوتی لیکن پھریہ سوچ کر خاموش ہو جاتا کہ بڑے ہو کر یہ اپنے آپ ہی سچ سے روشناس ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ بچے جیوں کے تیوں رہے ۔ اسے سوچنا چاہئے تھا کہ جب اولادیں جوان ہو جاتی ہیں تو مائیں اپنے شوہر کے مد مقابل کھڑی ہو نے لگتی ہیں۔ 
اور اب وہ اس اولڈ ایج ہوم میں تھا۔ جو بڑی شاداب جگہ پر بنایا گیا تھا۔ اور یہاں اس جیسے کتنے لوگ دھیمے دھیمے قدموں سے آتی ہوئی موت کا انتظار کر رہے تھے ۔
وہ لان پر سے اٹھا اور اپنے کمرے میں آ گیا۔ بستر پر لیٹتے ہی بہت سی یادوں اور آوازو ں نے اسے گھر لیا تھا۔ اسے خیال آیا کہ وہ اپنی بیٹی سے کتنا پیار کرتا ہے لیکن بیٹی کا بے اعتنائی سے بھرپور رویہ ہمیشہ اس کے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ۔ کئی بار وہ سوچتا کہ آخر اس کا قصور کیاہے۔ پھر اسے اپنے اندر سے آتی ہوئی ایک آواز سنائی دیتی کہ ان پریشانیوں کے ذمہ دار تو تم خود بھی ہو۔ تم نے ہی تو اپنے وجود کو ایک ساؤنڈ پروف چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔ ان دنوں کیا تم نے کبھی اپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچا۔ وہ اس آواز کو سن کر سہم جاتا۔
اس نے سوچا کہ کتنی خاموشی سے زیادہ تر دوست دور ہوتے چلے گئے اور وہ تنہا ہوتا چلا گیا تھا۔ صرف ایک صادقہ ہی تھی جو اب بھی اس کی غم گسار تھی۔
صادقہ ۔۔۔۔ جو کسی کالج میں پینٹنگز کی ٹیچر تھی اور ساتھ ہی ایک جانی مانی پینٹربھی۔
شاید وہ صادقہ ہی تھی ، نہیں یقیناًوہ صادقہ ہی تھی جس نے پہلی ملاقات کے کچھ دنوں بعد ا س کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
’’اپنی اوپر لادی گئی نیند شکست خوردہ انسان کے لئے ہوتی ہے، اس خیال سے باہر آ جاؤ ۔ زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ‘‘
پھر وہ سچ مچ ان دنوں سے باہر آ گیا تھا، جو آنسوؤں سے بھرے تھے۔ کتنے دنوں بعد گرم جوشی کے ساتھ وہ دن لوٹے تھے۔ ایک الگ سا احساس، ایک الگ سی خوشبو لئے ہوئے ۔اچانک پھرکسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تووہ چونک پڑا اور اس کی سوچ کے پرندے پرواز کر گئے۔ وہ جھنجھلا کر اٹھا اور دروازہ کھول کر دیکھا تو ہو م کا ایک چپراسی کھڑا تھا۔ اس نے کاٹ کھانے والے انداز میں پوچھا۔ ’’کیا ہے؟‘‘
’’ صاحب شام کو لان پر ایک ضروری میٹنگ ہے آپ اس میں ضرور آئیے۔‘‘ چپراسی چلا گیا۔اور اس نے بڑبڑاتے ہوئے دروازہ بند کیا۔اور بستر پر آکردوبارہ لیٹ گیا۔ اور یادوں کی پگڈنڈی پھر روشن ہو گئی۔
اس نے سوچا کہ اس نے صادقہ کو پہلی بار کب دیکھا تھا، پھر اسے فوراً ہی یاد آ یا کہ وہ اسے پہلی بار ایک پینٹنگ کی نمائش میں ملی تھی۔
اس دن وہ یوں ہی اِدھر اُدھر ٹہل رہاتھا کہ اس کی نظریں اس ہال پر پڑی جہاں مصوری کے تعلق سے ایک نمائش لگی تھی ۔ وہ ہال میں داخل ہو گیا ۔
ہال میں بڑے سلیقہ سے پینٹنگز سجائی گئی تھیں ۔وہ مصوری کے خوبصورت نمونوں کو دیکھتے ہوئے اس تک پہنچا تھا۔
اس نے بہت خوبصورت رنگوں میں اپنی پینٹنگزبنائی تھیں۔ وہ چند لمحے وہاں ٹھہرا رہاپھر پینٹنگزکی طرف سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا۔ یہ کہنااس کے لئے مشکل تھا کہ وہ زیادہ خوبصورت تھی یا اس کی تخلیق کردہ تصویریں۔
اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ وہ اس کے قریب آکر آہستہ سے بولی ’’پینٹنگزکیسی لگیں؟‘‘
’’بہت خوبصورت بنائی ہے آپ نے یہ پینٹنگز۔ لیکن اگر آپ ان پینٹنگزسے ذرا دور ہٹ کر کھڑی ہو جائیں تو یقیناًیہ پینٹنگززیادہ حسین نظر آنے لگیں گی۔‘‘
وہ Blushکر گئی۔
وہ بھی مسکراتا ہواآگے بڑھ گیا، لیکن اس نے محسوس کیا کہ جیسے اس کے اندرکوئی چیز کہیں ٹھہر گئی ہے۔
اگلی ملاقات بھی ایسی ہی ایک نمائش میں ہوئی تھی۔اس دن وہ اسے ہال کے دروازے پر ہی مل گئی تھی۔
’’آپ‘‘ وہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
’’ہاں میں،میں صادقہ ہوں، ایک کالج میں پڑھاتی ہوں۔‘‘
’’بہت اچھا لگا آپ سے مل کر۔‘‘
’’مجھے بھی۔‘‘
’’آج آپ کی پینٹنگز؟‘‘
’’میں آج صرف دوسروں کی تخلیقات سے لطف لینے آئی ہوں۔‘‘
’’آپ نے اچھا کیا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’آج آپ کو دیکھ کر آپ کی پینٹنگزاور بھی شرمسار ہو جاتیں۔‘‘
وہ اسے دیکھ کرمسکرائی ’’شکریہ‘‘
’’چلئے یہاں لگے ہوئے مصوری کے نمونوں کو دیکھا جائے‘‘ وہ دھیرے سے پھر بولی۔
’’ہاں چلئے کہ آپ کے ساتھ ان پینٹنگزکو دیکھنے کا مزہ تو کچھ اور ہی ہوگا۔ورنہ مجھے تو رنگوں کے تعلق سے کچھ زیادہ معلوم نہیں۔‘‘
پھر وہ اسے دیرتک ان تصویرو ں کی باریکیاں سمجھاتی رہی۔
’’کیا آپ میرے ساتھ کہیں بیٹھ کر ایک کپ کافی پینا پسند کریں گی؟‘‘ اچانک وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔
تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ راضی ہو گئی۔
کچھ دیر بعد وہ ایک خوبصورت سے ریستورا ن’’ محفل‘‘ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ 
کافی کا سپ لیتے ہوئے صادقہ بولی تھی ’’کیا آپ کو بھی پینٹنگزبنانے کا شوق ہے، یا صرف دیکھنے کی حد تک ہی محدود ہیں۔‘‘
’’صرف دیکھنے کی حدتک۔ دراصل پینٹنگزمیرے اندر کی جمالیاتی حس کو مطمئن کرتی ہیں اور یہ بات صرف پینٹنگز تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ……..‘‘ وہ اچانک خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگااور اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
اس نے صادقہ کے اندر کچھ اتھل پتھل سی محسوس کی۔
صادقہ خاموشی سے ہال کا جائزہ لے رہی تھی۔ ہر ٹیبل پر ایک لیمپ لٹکا ہوا تھا، جس کی روشنی ایک چھوٹے سے دائرے تک ہی محدود تھی۔ان میزوں کے علاوہ ہال میں ہر طرف ایک پراسرار کی تاریکی بکھری ہوئی تھی۔
’’آپ کون سا پرفیوم استعمال کرتی ہیں؟ بڑی دلآویز خوشبو ہے، کافی ہیجان انگیز۔‘‘ 
اس کی آواز سن کر وہ چونک پڑی ۔
’’یہ آپ کا واہمہ ہے، میں پرفیوم کبھی استعمال نہیں کرتی۔‘‘ وہ بڑے پروقار انداز میں بولی۔
وہ جھینپ گیا، لیکن اسے حیرت ضرور ہوئی کہ اس نے سچ مچ خوشبو محسوس کی تھی۔ 
کافی ختم کرنے کے بعد وہ آہستہ سے بولی’’چلئے چلتے ہیں‘‘
’’چلئے‘‘ وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
کاؤنٹر پر بل ادا کر کے وہ ’’محفل‘‘ سے باہر نکل آئے۔
وہ اپنی کار کی طرف بڑھتا ہوا بولا ’’آپ کو کہاں ڈراپ کر دوں۔‘‘
’’کہیں بھی نہیں، میں چلی جاؤں گی۔‘‘
اس کے کئی بار کہنے کے باوجود بھی وہ نہیں مانی اور ایک رکشہ لے کر اپنے گھر کی طرف چل دی۔
نہ جانے کیوں اسے ایک شرمندگی کا احساس ہوا۔ پھر ایک طویل سانس لیتے ہوئے اس نے اپنی کار اسٹارٹ کی اور آگے بڑھ گیا۔
اچانک اس نے ایک جھرجھری سی لی اور ماضی سے حال میں آ گیا۔ اس نے اٹھ کر فریج سے ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل نکالی اور گلاس میں انڈیل کر پینے لگا۔وہ پھر آکر پستر پر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کرلیں، آنکھیں بند کرتے ہی ماضی پھر پلٹ پڑا۔
اس دن صبح ہی صبح اس کا فون آیاتھا۔’’کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں بس بیتے دنوں کی یاد‘‘وہ کچھ اداس سے لہجے میں بولا۔
’’ایک بات جاننا چاہتی ہوں، بتائیں گے آپ؟‘‘
’’آپ کی بات سن کر ہی کچھ کہہ سکتا ہوں۔‘‘
’’دراصل میں آپ کی ذاتی زندگی میں کچھ دخل دینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’پوچھئے، آپ کو پورا حق حاصل ہے۔‘‘
’’میں نے بہت بار محسوس کیا ہے کہ آپ بات کرتے کرتے کہیں گم ہو جاتے ہیں اور آپ کی نیلی نیلی روشن آنکھیں اچانک بجھ سی جاتی ہیں۔‘‘
ایک لمحے کے لئے گہری خاموشی چھا گئی۔
’’آج موسم بہت اچھا ہے۔‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔
’’آپ شاید میری بات کا جواب دینا نہیں چاہتے۔‘‘
تھوڑی دیر خاموش رہ کر وہ آہستہ سے بولا۔’’اگر آپ کو ایک دن یہ پتہ چلے کہ آپ کے بچے آپ کے لئے نہیں بلکہ ماں کے لئے ہیں اور اگربچوں کی آنکھوں میں کبھی آپ کے لئے محبت کے چراغ روشن نہ ہوں تو آپ کیامحسوس کریں گی۔جیسے ہی مجھے ان باتوں کا خیال آتا ہے میری بے بسی میری آنکھوں کو بجھا دیتی ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں بے حد اداسی تھی۔
’’ویری ساری،میرا سوال آپ کو اداس کر گیا۔‘‘ وہ دھیمے سے بولی۔
’’نہیں کوئی بات نہیں، مجھے بار بار اس کیفیت سے گذرنا ہوتا ہے، یہ تو میری زندگی کا ایک حصہ بن گیا ہے۔زندگی کی سچائیوں کی طرف سے میری بے نیازی مجھے یہاں لائی ہے۔ میں کسی کو الزام نہیں دیتا مگر اتنی بڑی سزا کا مستحق بھی تو نہیں تھا۔‘‘ اس کے لہجے میں تھرتھراہٹ تھی۔
’’کاش! میں آپ کے لئے کچھ کر سکتی۔‘‘
میں جانتا ہوں کہ آپ کی اپنی فیملی ہے، ذمہ داریاں ہیں۔ آپ کچھ کرنا چاہیں بھی تو نہیں کر سکتیں۔‘‘
’’دیکھئے میں ……‘‘ پھر اس نے اپنی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی فون کاٹ دیا۔اس کے لہجے میں بڑی کپکپاہٹ تھی۔
اسے معلوم تھا کہ وہ بہت جذباتی ہے۔
یادوں کا کارواں اب بھی رواں دواں تھا۔
اس دن کسی نے بہت زور سے اس کا دروازہ بھڑبھڑا یاتھا اوراس کی نیند ٹوٹ گئی تھی۔ وہ دانت پیستا ہوا اٹھا تھا اور دروازہ کھول کر دیکھا تو کاشف سامنے کھڑا تھا۔
’’کیا بات ہے، اتنی زور سے دروازہ کیوں بھڑبھڑا رہے ہو؟‘‘ وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں غرایا ، پھر اگلے ہی لمحے وہ نارمل ہو گیا۔
’’ساری کاشف، آؤ آؤ! میں نیند میں غرق تھا، اچانک اس طرح سے اٹھنا……‘‘
’’چلو کوئی بات نہیں۔ کیا رات دیر میں سوئے تھے؟‘‘
’’ہاں، پتہ نہیں کیوں رات دیر سے نیند آئی۔‘‘
’’کیوں؟ کیا کوئی بات ہو گئی۔‘‘
’’نہیں، بس کسی کے فون کا انتظار تھا۔ نہیں آیا تو کچھ الجھن سی ہوئی اور نیند نے کسی طویل صحرا کی طرف اڑان بھر لی۔‘‘
’’تم تو نیند کی گولیاں بھی لیتے ہو؟‘‘
’’ہاں، مگر کبھی کبھی وہ بھی کام نہیں کرتیں۔میں شاید کچھ زیادہ ہی حساس ہو گیا ہوں۔‘‘
’’یہ تو مناسب بات نہیں۔ ویسے اس وقت تمھارے گھر بے حد سناٹا چھایا ہوا ہے۔کیا کوئی نہیں ہے؟
’’ہاں، سب مبئی گئے ہوئے ہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بس یوں ہی گھومنے کے لئے‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی، تمھیں تنہا چھوڑ تفریحاً ممبئی چلے گئے، انھیں معلوم ہے کہ تم دل کے مریض ہو‘‘
’’میں تنہا کہاں ہوں۔‘‘
’’کون ہے تمھارے ساتھ؟‘‘ کاشف نے پھر سوال کیا۔
اس نے آسمان کی جانب دیکھا۔مسکرایا، پھر دھیرے سے بولا’’کوئی اور بھی ہے، جسے ہر وقت میرا خیال رہتا ہے۔ناشتہ کیا، کھانا کھایا،طبیعت کیسی ہے، آرام کیجئے، کہیں گھوم آئیے۔ یہ اور ایسی بہت سی باتیں ، وہ مجھے جینے کا حوصلہ دیتی ہے، ورنہ شاید اب تک ……‘‘ وہ چپ ہو گیااور آنکھیں بند کرکے جلدی جلدی سانسیں لینے لگا۔
کاشف اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا ’’اچھا چلو اٹھو،محلے کے کسی چائے خانے میں چائے پیتے ہیں، باتیں بعد میں کریں گے۔‘‘
چائے پی کر وہ واپس آ گئے۔
’’تم آج فری تو ہو؟ ‘‘کاشف کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’نہیں یار اس زندگی میں مہلت کہاں آج مجھے دو میٹنگ میں شامل ہونا ہے اور ایک ریلی میں حصہ لینا ہے ۔‘‘
’’ لعنت ہے تمھاری اس مشغول زندگی پر ،کبھی فرصت ہی نہیں social activistہونا بھی عذاب جان ہے۔نہیں آج تم کہیں نہیں جاؤ گے۔مرے ساتھ رہو گے ۔چلیں گے ذرا بچوں کے لئے کچھ خریداری کریں گے ،پھر کہیں کھانا کھا کر ’’ٹریٹ ‘‘میں کافی پیءں گے۔‘‘
’’اور وہ جو میں تمام لوگوں سے وعدے کر چکا ہوں ۔اس کاکیا ہوگا ؟‘‘
’’سب سے معذرت کرلو ۔کہہ دوطبیعت ٹھیک نہیں ہے؟‘‘
وہ کاشف کی ضد کے آگے سر نگوں ہو گیا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے دیوار گھڑی کی جانب دیکھا تو بارہ بج رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد وہ سول لائنس کے ایک پاش مارکیٹ میں ایک اسٹیشنری کی دکان پر تھے۔
’’یہاں کیا کام ہے۔‘‘ وہ کاشف کی طرف دیکھ کر بولا۔
’’بچوں کے لئے پینسلس ،ربر،گم اور رنگ خرید نے ہیں۔‘‘
’’ چلو ‘‘وہ دکان میں داخل ہوتا ہو ابولا 
’’ارے تم!‘‘اچانک اس کی زبان سے نکلا ۔
وہ پلٹی تو اس کی آنکھوں میں بھی حیرت تھی۔
’’یہاں کیسے‘‘؟
’’بس بچوں کے لئے کچھ چیزیں لینے آگئی تھی۔‘‘
اچانک اسے کاشف کا خیال آیا جو رنگوں کے انتخاب میں مشغول تھا۔
’’کاشف ادھر آؤ ‘‘اس نے آواز لگائی ۔
کاشف آیا تو وہ بولا ’’ان سے ملو…..‘‘
اس سے پہلے کہ وہ کچھ آگے بولتاوہ خود ہی بول پڑی۔’’میں صادقہ ہوں ۔ایک کالج میں پڑھاتی ہوں ۔‘‘
’’یہ کاشف ہے مرا دوست ۔‘‘
کچھ دیر پر تکلف باتوں کے بعد صادقہ چلی گئی اور وہ ایک رستوران میں کھانا کھانے کے بعدکافی کے لئے وہ ٹریٹ پہنچے تو ہال تقریبا بھرا ہوا ملا۔
وہ کاشف کو لئے ہوئے ایک خالی میز پرپہنچ گیا ۔اسے دیکھ کر بہتوں نے سلام کے لئے ہاتھ اٹھائے اور وہ گردن کے اشارے سے سب کو جواب دیتا رہا ۔
کاشف اسے کچھ بیتاب سا لگا۔
’’کیا بات ہے تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’ہاں یہی کہ صادقہ کی آنکھیں اتنی جان لیوا ہیں اور تم ابھی تک زندہ کیسے ہو ۔‘‘
وہ ہنسنے لگا ۔پھر بولا ۔
’’کبھی اس کے سامنے اس کی خوبصورتی کی تعریف نہ کر دینا ورنہ ناراض ہو جائے گی اور سلام دعا بھی بند کر دے گی ۔ ایک بار کسی کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے ۔‘‘
کاشف اسے حیرت سے دیکھنے لگا ۔
’’کاشف آج تم نے بڑی گڑ بڑ کر دی ۔ میٹنگوں میں میراجانا ضروری تھا ۔‘‘
چند لمحوں کے لئے سناٹا چھا گیا ۔پھرکاشف بڑے گمبھیر لہجے میں بولا ۔
’’کوئی گڑ بڑ ی نہیں کی ۔مجھے معلوم ہے کہ تم نے اپنی زندگی اتنی مشغول کیوں کر لی ہے۔تم گھر کے اندر گردش کرنے والی ان آوازوں سے بچنا چاہتے ہو جو تمھارے پورے وجود میں سوئی کی طرح چبھتی چلی جاتی ہیں ۔تمھاری مشغولیت تمھارے لئے فرار کا ایک راستہ ہے۔‘‘
وہ بری طرح سے تلملا گیا۔لیکن کچھ بولا نہیں ۔وہ ہال کا جائزہ لینے لگا ۔اچانک اس کی نظریں اس تخلیقار پڑیں جو صادقہ پر مائل بہ کرم تھا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔اس نے سوچا کہ اپنی طرف سے ہر کسی کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی پسند کر سکے ۔یہ بالکل الگ بات ہے کہ اس کی پسند کو دوسرا فرد کس طرح لیتا ہے ۔اسے معلوم تھا کہ صادقہ اسے پسند نہیں کرتی۔
پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
ٹریٹ سے نکلے تو ان کے راستے الگ تھے۔
موبائل کی آواز سے وہ پھر چونکا اور یادیں کہیں پرے چلی گئیں ۔
کال صادقہ کی تھی۔اس کے چہرے پر رونق براجمان ہو گئی۔
’’ہلو صادقہ‘‘ وہ دھیرے سے بولا ۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’بس ٹھیک ہوں ۔تم کسی طرح وقت نکال کر آ جاؤ تو بالکل ٹھیک ہو سکتا ہوں ۔‘‘
’’آج تو بہت بزی ہوں، گھر کچھ مہمان آنے والے ہیں ۔بچوں کے لئے شاپنگ کرنی ہے ،پھر کالج، چاہ کر بھی آنا مشکل ہے۔‘‘وہ خاموش رہا جیسے بجھ سا گیا ہو۔
’’میں وعدہ کرتی ہوں کہ کل ضرورآؤں گی۔آں …..ٹھیک ہے نا؟‘‘ 
’’چلو کوئی بات نہیں۔ یہ بھی کر کے دیکھتے ہیں ۔‘‘
اگلے دن وہ سچ مچ اس کے پاس آگئی۔
’’میںآگئی ۔بولو اب تو خوش ہونا ۔‘‘
وہ کچھ بولا نہیں آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کی گلے میں اپنی باہیں ڈال دیں ۔
وہ اس کی بانہوں کو ہٹاتی ہوئی بولی ’’دوا کھائی؟‘‘
’’ہاں جینا ہے تو دوا کھانی ہی پڑے گی۔‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔
’’آپ لیٹ جائیے اور پھر آرام سے باتیں کیجئے۔‘‘
’’بس میں ٹھیک ہوں ۔دن بھر لیٹا ہی رہتا ہوں ۔‘‘
صادقہ کے اصرار پر وہ لیٹ گیا۔
’’صادقہ اگر تم نہ ہوتیں تو میں اب تک ا پنی قبر میں Skeltonبن گیا ہوتا ۔‘‘
’’پھر وہی باتیں آپ مجھے رلانا چاہتے ہیں کیا؟‘‘
’’ویری ساری میں اب ایسی باتیں نہیں کرونگا ،خوش۔‘‘
وہ مسکرائی پھر اس کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے سلجھانے لگی۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
’’ارے ہاں ایک بات تو بتانا بھول ہی گئی، میں چنددنوں کے لئے باہر جا رہی ہوں ۔‘‘
’’کیوں ، کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’وہ کیا ہے کہ دہلی میں بین الاقوامی سطح کا ایک آرٹ فیسٹول ہو رہا ہے ۔مجھے بھی اپنی پینٹنگز لگانے کی دعوت دی گئی ہے۔‘‘
’’ارے واہ کیا بات ہے۔‘‘ وہ بستر سے اٹھا اور صادقہ کو بھر پور طریقہ سے گلے لگا لیا ۔
’’صادقہ یہ تمھارے لئے بہترین کامیابی ہے ۔میں بہت خوش ہوں ‘‘وہ دوبارہ بستر پر بیٹھتا ہوا بولا۔ اچانک اس نے محسوس کیا کہ صادقہ کی روشن روشن آنکھیں بجھ سی گئیں ہیں اور اس کے چہرے پر ایک افسردگی چھا گئی ہے۔
’’ارے کیا بات ہے تم افسردہ کیوں ہو گئیں ۔تمھیں تو اس وقت بے حد خوش ہونا چاہئے تھا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بس میں اب چلو نگی۔‘‘
’’نہیں تم ابھی تھوڑی دیر اور رکو اور مجھے بتاؤ کہ کیا بات ہے۔؟‘‘
’’کچھ خاص بات نہیں، بس میں یہ سوچنے لگی کہ کبھی میری کامیابیوں پر میرے شو ہرنے ایسی خوشی کا ظہار کیوں نہیں کیا۔وہ صرف ’بھئی واہ ‘تک ہی کیوں محدود ہے، اس نے کبھی مرے اندر چھپے ہوئے فنکار تک پہنچنے کی کوشش کیوں نہ کی؟‘‘ وہ بولتے بولتے چپ ہو گئی ۔
’’دیکھو صادقہ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرو، وہ کار پوریٹ لائف کا بندہ ہے، اس کے لئے مادی فائدے ہی سب کچھ ہیں ۔ اس نے تمھارے جینے کے لئے تمام آسائشیں اکٹھا کر دی ہیں ۔اس کے خیال میں8 تمھارے لئے یہی کافی ہے۔اس سے دانشورانہ رویے کی امید کرنا بے وقوفی ہے، تمھیں تو اب تک اس بات کو سمجھ لینا چاہئے تھا۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں اس کے یہاں خوبصورتی کا تصور صرف مرے چہرے تک ہی ہے اور بس۔ ‘‘
وہ چند لمحے چپ رہ کر بولی۔’’چھوڑیے ان باتوں کو۔ جتنا سوچونگی اتنا ہی دکھ پہنچے گا ۔میرے لئے آپ تو ہیں نا؟‘‘وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
’’ہاں میں تمھارے لئے ہوں اور جب تک زندہ ہوں تمھارے لئے رہو نگا۔میں جانتا ہوں کہ میری زندگی میں تم انھیں ذہنی آسودگیوں کے لئے آئی ہو اور شایدتم خوش بھی ہو۔‘‘
وہ خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا۔وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کی پیشانی کو بوسہ دے کر بولی ۔’’اچھا چلتے ہیں کافی دیر ہو گئی ہے پھر ملتے ہیں ۔‘‘
پھر صادقہ کے لاکھ منع کرنے کے با وجود وہ اسے گیٹ تک چھوڑنے آیا۔وہ جب اپنے کمرے کی طرف واپس لوٹ رہا تھا تو اسے اپنے پیروں میں کپکپاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔اس نے سوچا کہ کل اپنا چیک اپ ضرور کرا لے گاورنہ ہو سکتا ہے کہ وہ اور بیمار پڑ جائے۔
اس اولڈایج ہو م میں اسے آئے ہوئے اب تقریبا سال بھر ہورہے تھے۔گھر سے کئی بار فون آئے لیکن اس نے رسیو نہیں کیا ۔ وہ جذباتی طور پر بلیک میل نہیں ہونا چاہتا تھا ۔اس نے اپنا ایک معمول بنا لیا تھا ۔دن میں کافی ہاؤ س اور شام کو ہوم میں رہنے والوں کے ساتھ گپ شپ یا پھر ان چند دوستوں سے ملاقاتیں جو اب بھی اس سے ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔
صادقہ توبرابر آتی ہی رہتی ہے۔ وہ جب بھی آتی اسے جینے کا حوصلہ دیتی ۔اسے صادقہ کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے زندگی کا حاصل محسوس ہوتے۔
وہ آج بھی آئی تھی ۔دیر تک اس کے ساتھ رہی، پیار بھری باتیں، ہنسی مذاق اور مصوری کے تعلق سے بہت باتیں ۔
کمرے کے باہر سورج ڈوب چکا تھا ۔لوگ لان پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے ۔آج وہ کمرے کے باہر نہیں نکلا۔ جانے کیوں آج وہ ایک عجیب سی کیفیت محسوس کر رہا تھا ۔اسے اپنی بیٹی مونا یاد آ رہی تھی، وہی مونا جو اس کی محبتوں اور شفقتوں کا محور رہی ہے اور وہی مونا جو اس کے ساتھ ہر لمحے بے اعتنائی بھرا رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔ اس سے باتیں کرتے وقت اس کا رویہ کتنا کولڈ کولڈ ہوتا ہے۔ کیسا زہر بھر دیا گیاہے اس کی رگوں میں اس نے سوچا۔
پھر اسے خیال آیا کہ اسے جلد سو جانا چاہئے۔ورنہ اس کی طبیعت اور خراب ہو سکتی ہے۔ وہ اٹھا اور الماری میں رکھی ہوئی نیند کی گولیوں کا نیا پیک کھول کر دو گولیاں نکالیں اور ایک گلاس پانی سے اتار گیا۔
وہ آکر اپنے بستر پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر کے نیند کا انتظار کرنے لگا۔تھوڑی دیر بعد اس نے محسوس کیا کہ نیند تو اب بھی دور ہے ۔ وہ سونے کے لئے بے چینی محسوس کر رہا تھا۔وہ پھر اٹھا اور نیند کی گولیوں والی شیشی سے دو گولیاں پھر نکالیں اوران گولیوں کو پانی کے ساتھ حلق کے نیچے اتار لیں ۔اس بار وہ گولیوں والی شیشی کو الماری میں رکھنے کے بجائے اپنے ساتھ بستر پر لیتا آیا تھا۔کوئی دو گھنٹہ بعد بھی اسے نیند نہ آئی ۔اس کا ڈپریشن بڑھنے لگا تھا، اس نے شیشی سے پھر تین چارگولیاں نکالیں اور ایک جھٹکے سے سب کھاگیا ۔گولیاں کھا کر پانی پیتے وقت اس کی نظریں دروازے پر پڑیں تو دیکھا کہ دروازے کی کنڈی کھلی ہوئی ہے۔اس نے سوچا کہ ابھی اٹھ کر بند کر دے گا۔
رات دو بج گئے تھے لیکن نیند کا پتہ نہ تھا۔اس کی جھنجھلاہٹ اپنے پورے عروج پر پہنچ گئی تھی۔وہ اچانک اٹھا اور شیشی سے تمام گولیاں ایک ساتھ نکال لیں اور حلق کے نیچے اتار گیا۔
چند لمحوں بعد اسے نیند آگئی۔
اگلے دن صادقہ دوپہر کے بعد آئی اور دروازہ بھڑ بھڑانے کے لئے دروازہ پر ہاتھ رکھا تو وہ کھل گیا۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ ابھی تک سو رہا ہے ۔اس نے اس کا ہاتھ چھواتو وہ برف کی طرح سرد تھا۔اس نے جلدی سے اس کی پیشانی چھوئی تو وہ بھی بالکل سردتھی یہی حال پیروں کا بھی تھا ۔
صادقہ کو لگا کہ جیسے وہ خود بھی برف ہوتی جا رہی ہے۔
وہ زور سے چیخی۔ ہوم کے تمام لوگ اکٹھا ہوگئے اور اسے لے کر فوراً اسپتال بھاگے ۔کئی ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا لیکن اب وہاں تھا ہی کیا۔وہ کبھی نہ ٹوٹنے والی طویل نیند سو چکا تھا۔
صادقہ اس سے لپٹی ہوئی بلک بلک کر رو رہی تھی ۔
پوسٹ مارٹم کے بعد اسی شام اس کے دوستوں کی موجوگی میں اسے دفن کر دیا گیا اور اس کی وصیت کے مطابق اس کے گھر والوں کو اس کی موت کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
………..
اسرار گاندھی
18E/11J/6Dکرامت کی چوکی، الہ آباد16

دن کے اندھیرے ،رات کے اجالے : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 افسانہ

 ڈاکٹر اسلم جمشید پوری 
 میرٹھ

 دن کے اندھیرے ،رات کے اجالے

   میں قبرستان ہوں۔ آپ مجھے ضرور جانتے پہچانتے ہوں گے۔ کبھی نہ کبھی آپ ضرور یہاں آئے ہوں گے۔ آپ کسی جنازے کے ساتھ میرے احاطے میں آئے ہوں گے، شب برات میں تو ضرور کسی قبر پر فاتحہ پڑھنے یا چراغاں کرنے آئے ہوں گے ۔ میری ویرانی کو دیکھ کر آپ کو ڈر بھی لگا ہوگا۔ موت یاد آئی ہوگی۔ آپ نے گناہوں سے توبہ کے لئے استغفار کیا ہوگا۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ مجھ سے دور ہونے پر آپ نے ساری قسمیں اور وعدے، توڑ ڈالے ہوں گے۔ کوئی بات نہیں، یہ دنیا اور زندگی تو عمل کی جگہ ہے۔ آپ جیسا عمل کریں گے، بعد میں ویسا ہی اجر پائیں گے۔ ایک راز کی بات بتاؤں۔ غور سے سننا۔ اچھا پہلے میں اپنا تفصیلی تعارف کرادوں۔ میں بلند شہر کے گاؤں دھنورا کا قبرستان ہوں۔ میری عمر یہی کوئی ۴۰۰؍ سال ہوگی۔ ابھی کم عمری ہی میں، میرا سینہ فخر سے بلند ہے کہ میرے سینے میں ہزاروں راز دفن ہیں۔ میں گاؤں کے مغربی کنارے پر آباد ہوں۔ ویسے تو میرا سینہ اندرونی طو پرمسلمانوں سے آباد ہے لیکن باہری سطح پر مسلم اور غیر مسلم دونوں نے میری ظاہری ویرانی کو کم کر رکھا ہے۔ صدیوں سے گاؤں کے لوگ میرے سینے پر مونگ دلتے۔۔۔ نہ۔۔۔نا ۔۔۔میری زبان پھسل گئی، گاؤں کے لوگ اپنے روز مرہ کے کام کاج کرتے آرہے ہیں۔ میں انہیں کھیلتا کودتا دیکھ کر خوش ہوتا رہتا ہوں کہ چلو کچھ دن کھیل لو، پھر تو میرے سینے میں ہی ہمیشگی کی زندگی گذارنی ہے۔ 
ہاں تو، لو آج میں تمھیں اپنی داستان سناتا ہوں۔ غور سے سنو! کوئی درمیان میں نہیں بولے گا۔ جب تک میں خود ہی آپ کو مخاطب نہ کروں۔
سبھی خاموش ہو گئے۔ زمین، آسمان۔ ہوائیں گھٹائیں، چرند، پرند، انسان ۔۔۔سب خاموش اور ہمہ تن گوش ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یو دوال میری لاش پر بنے گی۔‘‘
عزیز بھائی کی آواز پر پورا مجمع چونک کر انھیں دیکھنے لگا تھا۔ وہ غصہ سے آگ ببولا، اپنی دھوتی کو گھٹنے سے اوپر کئے۔ دیوار کی کھدی ہوئی بنیاد میں کھڑے تھے۔ ان کے تیور اور بزرگی کو دیکھتے ہوئے ،بابوجی نے بھیڑ کو روکا، پھر پیچھے گھوم کر دیوار بنارہے مزدوروں سے بولے۔
’’بھئی کام روک لو۔ذرا دیر سانس لے لو۔‘‘
کام رک گیا تھا۔ سب حیرانی سے بنیاد کی نالی میں کھڑے عزیز بھائی کو دیکھ رہے تھے۔ دراصل دھنورا کے قبرستان کی چہار دیواری کا کام چل رہا تھا۔ زمانے سے قبرستان کی اراضی یوں ہی پڑی تھی۔ ایک کونے میں قبریں بنائی جا؂تیں، برسوں بعد دوسرے کونے کی باری آتی۔ قبرستان کی زمین دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ قبریں بہت کم تھیں۔ زیادہ تر قبریں کچی مٹی کی تھیں اسی لئے جلد برابر ہوجاتی تھیں۔ قبرستان میں صرف ایک پختہ قبر تھی۔ یہ گاؤں کے منشی سجادحسین کی قبر تھی۔ سنا ہے کہ بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ پاس کے قصبہ کے اسکول میں مدرس تھے۔ بڑے نیک دل اور خدا ترس انسان تھے۔ بے شمار شاگردوں کو پڑھالکھا کر زندگی گذارنے کے لائق بنا دیا۔ ان کی قبر کے چاروں طرف نو؍ انچ کی اینٹوں کی دیوار تھی اور ایک طرف لوہے کا گیٹ لگا تھا۔ اندر بیلا کے پیڑ تھے۔جن پر بارہ مہینے سفید پھول کھلا کرتے تھے۔ لوگ صبح صبح قبرستان آتے تو منشی جی کی قبر سے پھول ضرور لے کر جاتے۔ قبرستان، دھنوراکے لوگوں کے دلوں کی طرح کشادہ تھا۔ قبرستان میں لوگوں نے اپنے اپنے بونگے، بٹورے، کوڑیاں بنا رکھی تھیں قبرستان مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے بھی استعمال میں آتا تھا۔ بیساکھ آتا تو گیہوں کی پولیوں کے انبار قبرستان میں ہر طرف دکھائی دیتے۔ کیا ہندو، کیا مسلمان۔ سب کے لانک(فصل کے انبار) قبرستان میں رکھے جاتے۔ پہلے تو بیلوں سے لانک سے گیہوں نکلوانے کا کام کیا جاتا تھا۔ کئی کئی دن کی دائیں(بیلوں کے ذریعہ اناج نکالنے کا عمل) کے بعد بیلوں کے پیروں سے گیہوں کی سوکھی پولیوں کا چورا ہوجاتا تھا پھر اسے تیز ہوا کے رخ پر برساکر بھس اور گیہوں کو الگ کیا جاتا ۔ قبرستان کے پورب میں گاؤں کے گڈریے رہتے تھے، اتر کی طرف دگڑا (کچا راستہ) اور اس کے بعد مسلمان لوہار، بڑھیوں کے مکان تھے۔ دکھن کی طرف گوجروں کے کھیت تھے۔ جبکہ پچھم کی طرف گسائیوں آباد تھے۔ صدیوں سے قبرستان گاؤں کی خوشحالی کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ کسی کی موت ہوتی تو ضرور غم کا ماحول چھا جاتا۔ خود ہی قبر کھودتے اور مردے دفناتے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ لیکن خدا سیاست دانوں کو غارت کرے۔ فرقہ پرستی کا ایسا زہر گھولا کہ نفرتوں کی فصل ہر طرف لہلہانے لگی۔ صدیوں سے آپسی میل جول سے رہتے آرہے گاؤں کے سیدھے سچے لوگوں میں بھی نفرت ، خوف ڈر، دہشت، مذہبی جنون اور فرقہ پرستی کے سنپولیے پلنے لگے۔
’’بابوجی اب کیا ہوئے گو؟‘‘
کنور پال نے بابوجی کو آواز لگائی تو وہ خیالات کے دھندلکے سے باہر آئے اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے عزیز بھائی کی طرف بڑھے۔ ان کے پیچھے پیچھے چاچا ملکھان، سری گر چاچا، رام چندرکے علاوہ دس بارہ ہٹے کٹے نوجوان لاٹھی بلم لیے ساتھ ہو لیے۔ رام چندر نے لاٹھی کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے بڑے غصے سے کہا۔
’’بابو جی۔ آپ اک اور کو ہوجاؤ۔ میں ابھی گرا دن گو،یا کی لاش۔۔۔۔۔۔دوا ل تو بن کر رے گی۔‘‘
ایک ہاتھ سے رام پال کی لاٹھی پکڑتے ہوئے بابوجی نے رام پال کو ڈانٹا۔
’’پاگل نہ بنو۔ خون خرابے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ‘‘پھر وہ عزیز بھائی سے مخاطب ہوئے۔
’’ہاں بھئی کیا بات ہے؟ جب تمہیں سمجھا دیا تھا تو پھر کیا آفت آ گئی۔ دیکھو یہ قبرستان کا کام ہے۔ ثواب کے بدلے میں گناہ نہ کما۔‘‘
عزیز بھائی اب بھی بنیاد کی نالی میں کھڑے تھے۔
’’پہلے میری کوڑی کو کوئی انتجام کرو۔ جب بنن دن گو۔‘‘
عزیز بھائی کی بات پر ایسے اور بھی مسلمان سامنے آ گئے تھے جن کے کام قبرستان میں ہوا کرتے تھے۔ غریب مسلمانوں کے پاس تھوڑی سی زمینیں تھیں۔ کچھ دوسروں کے کھیتوں پر کام کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے۔چہار دیواری نہ ہونے سے قبرستان کی زمین سب کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ دو بٹیا بھی قبرستان کے بیچوں بیچ سے گذرتی تھیں۔ شادی بیاہ ہوتے تو قبرستان کی زمین کا استعمال کیا جاتا۔
گاؤں دھنورا ضلع بلند شہر کا ایک ہندو اکثریتی گاؤں تھا۔ یوں تو گاؤں میں گوجر، گسائیں، گڈریے، ہریجن، ٹھاکر، شیخ، لوہار، بڑھئی، دھوبی سبھی رہتے تھے لیکن گاؤں میں گوجروں کا دبدبہ تھا۔ ایک تو گوجر تعداد میں زیادہ تھے دوسرے مال و دولت، زمین جائیدار کے معاملے میں وہ دوسری قوموں سے کہیں آگے تھے۔ اسی سبب دھنورا، آس پاس کے علاقے میں گوجروں کے گاؤں کے نام سے بھی مشہور تھا۔
دھنورا میں مسلمان کم تعداد میں تھے۔ یہاں کے آبائی مسلم باشندے شیخ، لوہار اور بڑھئی تھے۔ شیخ خاندان کے لوگ سوانگ، نوٹنکی، گانے بجائے اور حقہ کے نہچے بنانے کا کام کرتے تھے۔ جبکہ لوہار اور بڑھئی گاؤں والوں کے کھیتی کے اوزار اور روز مرہ کے سامان بناتے تھے۔ یہ کام دو طرح کی اجرت پر ہوتے تھے۔ زیادہ تر کسان سال بھر اپنا سامان بنواتے اور فصل کے وقت دو من یا چار من اناج بطور اجرت دیا کرتے۔ اناج کے علاوہ بھس،ہرا چارہ، اور دیگر سامان بھی کسان کبھی کبھار بھیج دیا کرتے تھے۔ دوسرے چھوٹے موٹے کام، بہت سے لوگ نقد بنوا لیتے۔ جن کے بدلے فوری طور پر اناج یا کوئی دوسرا سامان دے جاتے ۔
گاؤں میں آپسی میل جول بہت تھا۔ صدیوں سے ہندو مسلم شیر و شکر کی طرح رہتے آئے تھے۔ شادی بیاہ میں ایسی شرکت کرتے کہ لگتا ہی نہیں دو ہیں۔ گاؤں کے دامادوں کی یکساں خاطر ہوتی۔ مسلمانوں کی بیٹی اور داماد آتے تو غیر مسلم اپنے بیٹی داماد جیسا سلوک کرتے۔ مسلمان کسی گاؤں میں جاتے تو وہاں گاؤں کی بیاہی بہن۔بیٹی کو تحفے اور نذرانے دے کر آتے۔ بچے گاؤں کے سبھی بڑوں کو چاچا، تاؤ، بابا کہہ کر پکارتے۔ گاؤں میں کسی کے ایکھ بونے کا وقت ہو تاتوپورے گاؤں میں چہل پہل ہوتی۔ کچھ دن قبل ہی کی بات ہے ترکھا بابا کے یہاں ایکھ بوئی جانے والی تھی۔ ایک دن پہلے ہی گاؤں میں خبر کردی گئی۔
’’بھئی کل، باگ والے کھیت میں ایکھ بووئے گی۔ جرور آئیو۔‘‘
اور اگلے دن صبح صبح بابا ترکھا کے کھیت پرخاصی بھیڑ موجود تھی ، کئی لوگ مل کر گانڈے (گنے) کے ایک ایک فٹ کے ٹکڑے، بیج کیلئے کاٹ کر ڈھیر لگا رہے تھے۔ بیلوں کی چار جوڑیاں کھیت جوت رہی تھیں۔ ان کے پیچھے پیچھے چار لوگ گانڈے کے ٹکڑے ڈالتے اور پیر سے دابتے چلے جاتے۔ کچھ لوگ گانڈے کے ڈھیر سے ،ایکھ بونے والوں کو گانڈے لالاکر دے رہے تھے۔ چار بیگھہ کھیت میں ایکھ بونے کا کام دس بجے تک پورا ہو گیا تھا۔ آخر میں کھیت میں بکھرے کوڑ کباڑ اور اوزاروں کو اکٹھا کیا گیا۔ اتنے میں ترکھا بابا کی آواز گونجی۔
’’سب گھر چلن گے۔ کھیر پوری کی دعوت ہے۔‘‘
بس پھر کیا تھا۔ بچے بوڑھے مرد عورتیں سب اپنا اپنا سامان سمیٹ کر گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ترکھابابا کے گھر ایک دن پہلے ہی سے ایکھ کی دعوت کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ کئی گھروں سے دودھ ، رات ہی میں جمع کر لیا گیا تھا۔ صبح صبح گاؤں کی عورتیں اور ترکھا بابا کی بہوویں کھیر اور پوری کی تیاری میں لگ گئی تھیں۔ بیٹھک کی زمین کو ایک دن پہلے ہی گوبر اور مٹی سے اچھی طرح لیپ دیا گیا تھا۔ بیٹھک کا فرش ایسا لگ رہا تھا گویا پورے فرش پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو۔ جلد جلدی لوگ آمنے سامنے قطاروں میں اکڑوں بیٹھ گئے تھے۔ تھوڑی دیر میں کھانا کھلانے والے آ گئے تھے۔ کوئی پتل بچھا رہا تھا۔ کوئی بالٹی سے کھیر نکال کر پتل پر انڈیل رہا تھا۔ اس کے پیچھے پوریاں دینے والے تھے۔ مٹی کے سکوروں میں پانی رکھ دیا گیا تھا۔
بابوجی کی گرج دار آواز سنائی دی۔
’’جس کے پاس نہ آیا ہو وہ مانگ لے۔ باقی پڑھو بسم اللہ۔‘‘
سب نے کھانا شروع کردیا تھا۔ یہ نظارہ شادی کے کھانوں کے وقت بھی نظر آتا تھا۔ 
گاؤں میں کسی ہندو کی موت ہوجاتی تو مسلمان ہندو سب مل کر ارتھی تیار کرتے اور کاندھا دیتے ہوئے شمشان گھاٹ جاتے۔ عجیب اتفاق تھا کہ گاؤں میں شمشان گھاٹ کی زمین پر آس پاس کے ہندوؤں نے ہی آہستہ آہستہ قبضہ کر لیا تھا۔ اب کھڑنجے پر انتم سنسکار ہوا کرتا تھا۔ بہت کوششوں کے بعد بھی شمشان کی زمین نہیں مل پائی تھی۔ گاؤں میں دو مندر تھے، مسجد نہیں تھی۔ لیکن قبرستان بہت پہلے سے تھا۔ کسی مسلم کی موت ہوتی تو ہندو مسلم مل کر قبر کھودتے۔ قبرستان کے ہی درختوں کی موٹی شاخیں کاٹی جاتیں، ان کے موٹے موٹے ٹکڑوں کو میت کے اوپر قبر کے بگدے میں لگایا جاتا، پھر گھاس پھوس سے لکڑیوں کے درمیان کی درج کو بھرا جاتا اور مٹی ڈالی جاتی۔ سرہانے کسی سائے دار پیڑ کی ٹہنی لگا دی جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔
قبرستان کی چہار دیواری کا سلسلہ بوباجی نے اٹھایا تھا۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو ملک کا ماحول خراب ہوتا جارہا تھا، ایسے میں قبرستانوں اور مساجد کی حفاظت بہت ضروری ہو گئی تھی۔دوسرے قبرستان کے دکھن میں گوجروں کے کھیت تھے۔ جن میں کئی نے اپنے گھیر اور گھر بنانا شروع کردئے تھے۔ اس بات کا خطرہ بڑھ گیا تھا کہ دکھن کی طرف سے آہستہ آہستہ قبرستان سکڑنے نہ لگے۔ لیکن قبرستان کی چہار دیواری کی بات پر گاؤں میں نئی قسم کی ہلچل شرو ہو گئی تھی۔ کچھ مسلمانوں نے ہی اس کی مخالفت شروع کردی تھی۔ گاؤں کے بزرگ اور سمجھدار مسلمانوں کو بابوجی نے اس بات کی اہمیت سمجھائی۔
’’دیکھو بھئی۔۔۔ ملک کے حلات روز بروز بگڑ تے جا رہے ہیں۔ہندو مسلم منافرت پھیلتی جا رہی ہے۔ گاؤں میں تو خیر ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ پھر بھی قبرستان کو آگے تک بچانا ہے تو اس کی چار دیواری کرانی ہوگی۔‘‘
’’بات تو سہی کہو ہو بابوجی۔‘ بابا بشیر بولے۔
’’دھرم ویرنے قبرستان کی پلی اور اپنا گھیر بھی بنوالیو ہے۔ موئے تو واکی نیت پر شک ہوے ہے۔‘‘ چاچا نثار دور کی کوڑی لائے تھے۔
’’ٹھیک ہے تو یا کام کو جلد شروع کرواؤ باؤجی۔‘‘ نئی عمر کے مشتاق بھائی نے جوش میں آتے ہوئے کہا۔
بابوجی گاؤں کے پہلے ایسے شخص تھے جنہوں نے دسویں پاس کی تھی،ہندی کے ساتھ ساتھ اردو بھی جانتے تھے۔ وہ دور شہر میں چالیس برس نوکری کرنے کے بعد اب گاوءں میں رہنے لگے تھے۔ ان کے بیٹے بھی دلی میں اپنے اپنے پیروں پر کھڑے تھے۔ بابوجی ہروقت گاؤں کی خدمت میں لگے رہتے۔ زمین کی پیمائش کا کام تو بابوجی کے علاوہ کوئی نہیں کرپا تاتھا۔ ادھر بابوجی نے انجکشن لگانا بھی سیکھ لیا تھا۔ اب وہ گاؤں کے بیماروں کے انجکشن بھی لگا دیا کرتے تھے۔ لڑائی جھگڑوں کے فیصلے کے لئے گاؤں والے بابوجی کے پاس ہی جاتے۔ سب ان کے فیصلے کا احترام کرتے تھے۔ وہ بہت دور رس تھے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد انھیں محسوس ہونے لگا تھا کہ دراصل نئی نسل کے ذہنوں کو سیاسی جماعت والے جلدی متاثر کر لیتے ہیں۔ ویسے تو گاؤں میں ماحول ٹھیک ہی تھا لیکن مستقبل کا کیا پتہ۔ بابوجی نے حکمت سے گاؤں کے ہندوؤں کو بھی قبرستان کی چار دیواری کے لئے تیار کرلیا تھا۔ بلکہ ان میں سے کئی تو اس کام کے لئے ہروقت بابوجی کے ساتھ تھے۔ انہوں نے قبرستان کا استعمال کرنے والے ناراض ہندوؤں کو بھی قبرستان خالی کرنے کے لئے راضی کرلیا تھا۔ لیکن معاملہ اس وقت بہت نازک ہوگیا تھا جب قبرستان کا ذاتی استعمال کرنے والے کچھ مسلمانوں نے قبرستان خالی کرنے سے بالکل انکار کردیا تھا۔ 
’’باؤجی۔۔۔کچھ بھی ہوجائے ہم چار دواری نہ بنن دن گے۔‘‘ عزیز بھائی نے بابوجی سے انتہائی غصہ کی حالت میں کہا۔ 
’’ہم اپنے جانور کہاں باندھین گے؟ کوڑی کہاں ڈلے گی؟ ناج کہاں نکلے گو؟‘‘ 
’’ہاں ہاں عزیز بھائی۔ میں بھی تمہارے سنگ ہوں۔‘‘ الیاس بیچ میں ہی بول پڑا۔
پھر تو کئی آوازیں ایک ساتھ مخالفت میں بلند ہونے لگی تھیں۔ بابوجی کو اپنی محنت پر پانی پھرتا دکھائی دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر سمجھانے کی کوشش کی۔
’’بھئی دیکھو۔ یہ کوئی میرا ذاتی کام تو نہیں۔ یہ تو ثواب کا کام ہے۔ خود سوچو ہم برسوں سے قبرستان کی بے حرمتی کرتے آرہے ہیں۔ یہاں ہمارے بزرگ دفن ہیں اور ہم قبروں پر نہ صرف چلتے پھرتے ہیں بلکہ جانور گندگی بھی کرتے ہیں۔ موت تو برحق ہے۔ سب کو آنی ہے۔ قبرستان نہیں رہے گا تو دفن کے لئے کہاں جاؤگے؟ سمشان گھاٹ کے بغیر مردے سڑک پر جلائے جا سکتے ہیں لیکن قبرستان کے بغیر۔۔۔۔۔۔؟ ‘‘
۔۔۔۔۔
آواز رک گئی تھی۔ خاموشی۔۔۔۔۔۔ ہر طرف خاموشی۔
سناٹا طویل ہوتا گیا تھا۔ اس سے قبل کہ چہ مے گوئیاں شروع ہوتیں، قصہ گو کی آواز پھر بلند ہوئی۔
’’داستان درمیان میں روکنے کا بھی ایک سبب ہے۔
میں کئی صدی سے اس گاؤں میں آباد ہوں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پہلے لوگ میرے نام سے ہی ڈرتے تھے۔ میرے آس پاس کوئی آبادی نہیں تھی۔ ویرانی، وحشت، خاموشی، تنہائی، سناٹے میرے گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔میں ان کے ساتھ بہت خوش تھا۔ کوئی قبر کھودی جاتی تو مجھے مسرت کا احساس ہوتا۔ جنازہ لئے جب لوگ میرے دامن میں آتے ، مجھے خوشی ہوتی، ہر طرف سے لا ا لٰہ الا اللہ اور اللہ اکبر کے کلمات بلند ہوتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے۔ گاؤں میں امیبا کی طرح جب خاندان بڑھنے لگے تو مکانات، قدموں قدموں،چلتے گاؤں کے باہر بھی نکل آئے تھے۔ میرے آس پاس بھی گھر آباد ہونے لگے۔ ہندو اور مسلم دونوں نے اپنی زندگی آمیز حرکات و سکنات سے میرے احباب ویرانی، وحشت، خاموشی، تنہائی اور سناٹے کو یکے بعد دیگرے اپنی موت آپ مرنے پر مجبور کردیا تھا۔ لوگو ں نے میرے اوپر سے راستے بنا لیے۔ اپنے بونگے، بٹورے، کوڑی بنانا اور دوسرے کام شروع کردئے۔ جانور باندھے جانے لگے۔ کھیت سے فصل کٹتی اور میرے اوپر کھلیان بنائے جاتے۔ حتی کہ شادی بیاہ میں بھی میرا استعمال ہونے لگا۔ میں کیا کرتا؟ کس سے شکایت کرتا؟ ان سب کے باوجود مجھے سب سے اچھا گاؤں کا اتفاق و اتحاد لگتا تھا۔ میں اپنی بے عزتی بے حرمتی اور پامالی پر خون کے گھونٹ پی کر یہی سوچتا رہ جاتا کہ خدا نہیں کبھی تو عقل و فہم دے گا اور انہیں کبھی تو میرا خیال آئے گا۔
سنو! ذرا غور سے سنو!
میری داستان میں اب عروج آنے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
’’ہمیں کچھ نہ پتو، جب مرن گے جب دیکھن گے۔‘‘
عزیز بھائی اپنے موقف پر اٹل تھے۔ بابوجی کے سمجھانے سے بہت سے مخالفین مان گئے تھے لیکن دیوار کے سلسلہ میں کوئی چندہ یا مدد دینے سے انکار کردیا تھا۔ بابوجی نے گاؤں اور شہروں سے چندہ جمع کرکے اینٹیں منگوا لی تھیں۔ سیمنٹ بھی آ گیا تھا۔ پوری تیاریاں ہونے کے بعد چہار دیواری کے لئے جمعہ کا دن منتخب ہوا تھا۔ گاؤں کے سمجھ دار قسم کے ہندو بھی بابوجی کے ساتھ تھے۔
’’باؤجی آپ پھکر نہ کرو۔ کام جوڑو۔ پھر دیکھن گے کس میں کتنو دم ہے۔‘‘
’’چار دیواری کا کام دکھن کی طرف سے شروع ہو گیا تھا۔ جہاں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ لیکن گاؤں میں آہستہ آہستہ افواہیں گرم تھیں کہ عزیز بھائی اور ان کے بیٹے بلم اورکٹے وغیرہ کا انتظام کر رہے ہیں ،ان کے گھر کے سامنے خون خرابہ ہو سکتا ہے۔
بابوجی اور عزیز بھائی ایک ہی خاندان کے افراد تھے۔ دو بھائیوں کی اولادیں تھیں۔ بڑے بھائی کے پانچ اور چھوٹے کے تین بیٹے تھے۔ بڑے بھائی کے پانچوں بیٹوں کے بیٹے، پوتے ،پو تیاں تقریباً پچاس لوگوں کا کنبہ تھا جو قبرستان کی مخالفت پر آمادہ عزیز بھائی کا طرف دار ہوسکتا تھا۔ سب ایک ہی تھے۔ ایک ساتھ کھاتے پیتے۔ کام کرتے۔ بڑا سا آنگن تھا جس کے چاروں طرف مکانات تھے۔ ہر کام ایک ساتھ۔ دانت کاٹی روٹی، ایک اپنے گھر کھانا کھاتا تو بابوجی کے یہاں پانی پیتا۔ رشتہ داریوں میں جاتے تو بابوجی خود بڑھ کر سب کا کرایہ ادا کرتے۔ کوئی معاملہ الجھ جاتا تو بابوجی منٹوں میں سلجھا دیتے۔ دور دور تک لوگ بابوجی کو احترام کی نظر سے دیکھتے۔ بابوجی کہہ کر پکارتے ۔
ایک بار کا ذکر ہے ۔ قبرستان اور دگڑے کے بیچ میں ایک کوئیاں تھی۔ چھوٹی سی کوئیاں۔ بیس بائیس فٹ گہری اور چار فٹ گولائی والی۔ کوئیاں کی صفائی چل رہی تھی کہ اچانک بابا صدیق کا بڑا بیٹا اختر نجانے کیسے کوئیاں میں گرپڑا۔ پاس ہی بابوجی کھڑے تھے۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ خود کوئیاں میں چھلانگ لگا دی اور اس سے قبل کہ کوئیاں کا پانی بچے کو نقصان پہنچاتا، بابوجی نے بچے کو بچا لیا۔ بعد میں اوپر سے ٹوکرا، رسی سے باندھ کر لٹکایا گیا اور بچے کو صحیح سلامت نکالا گیا۔ سب نے بابوجی کی بہت تعریف کی تھی۔ ایسے سینکڑوں معاملات و واقعات تھے جب بابوجی نے اپنی عزت داؤ پر لگاکر گاؤں کی عزت بچائی تھی۔بڑے بابا کے بچوں کا بٹوارہ ہوا تو بابا صدیق کو انھوں نے زمین جائیداد سے الگ کردیا تھا۔ اس وقت بابا صدیق گاؤں چھوڑ کر جانے کو تیار تھے۔
’’میں تو گاؤں چھوڈ کر جارا اوں۔‘‘
بابا صدیق کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسمٰعیل بابا نے بہت سمجھایا تھا۔ لیکن وہ کسی قیمت پر رکنے کو تیار نہ تھے۔ ایسے میں بابوجی نے اپنی قربانی دے کر معاملے کو سنبھالا تھا۔
’’صدیق بھائی تم گاؤں نہیں چھوڑ و گے۔ زمین کی ہی بات ہے نا۔ لومیرے حصے کی اس زمین میں گھر بنالو۔ ‘‘ اور انہوں نے اپنے حصے کی زمین پر بابا صدیق کا گھر بنوایا دیا تھا۔ 
قبرستان کی چار دیواری کے معاملے کو تین سال ہو گئے تھے۔ پتھر کی سلوں کی طرح مضبوط و مستحکم دلوں میں شگاف پڑ گئے تھے۔ ذاتی مفاد، تعلقات کی زمین کھود رہے تھے۔ لیکن کہتے ہیں نا ہوتا وہی ہے جو قدت کو منظور ہوتا ہے۔ عزیز بھائی کو لاکھ سمجھایا گیا لیکن وہ نہیں مانے۔ 
’’نا میں نا بنن دن گو۔۔۔‘‘
گاؤں کے غیر مسلم بزرگوں اور نوجوانوں نے عزیز بھائی کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور مزدوروں نے جلدی جلدی دیوار چن دی تھی۔ کچھ دیر بعد عزیز بھائی نے بھی ہارے ہوئے جواری کی طرح سپر ڈال دی تھی۔ انہیں اپنی شکست کا اتنا زبردست صدمہ پہنچا تھا کہ انہوں نے چار پائی پکڑ لی تھی اور کچھ دن بعد چار پائی نے ڈولے کی شکل اختیار کرلی ۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے کھیت کے ایک کونے میں دفنایا گیا۔ آپسی محبتیں نفرتوں، بغض و عداوت اور دشمنی میں تبدیل ہو گئی تھی۔ وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا چلا گیا۔چہار دیواری کرانے والے بزرگ اللہ کے یہاں چلے گئے تھے اور ان کی اولادیں زیادہ تر شہروں میں جا بسی تھیں۔اُدھر عزیز بھائی کے کھیت کا کونا وسیع ہو تا گیا……… اور……….
آواز بند ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
خاموشی نے مارشل لا لگا دیا تھا۔
اچانک کسی کے سسکنے کی آواز بلند ہوئی۔
میں۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔پھر ویران ہو گیا ہوں۔
اب یہاں کوئی نہیں آتا۔ کوئی میرے آنسو پونچھنے والا بھی نہیں۔
جنازے میرے پاس سے گزر کر کھیتوں والے علاقے کو آباد کرتے ہیں میرے دامن کی قبریں اپنا ظاہری وجود بھی کھو چکی ہیں۔چار دیواری کی اینٹیں لوگ حسبِ ضرورت اپنے گھروں میں لے جا چکے ہیں۔ میں ایک چٹیل میدان ہوگیا ہوں۔کبھی کبھار بچے کرکٹ کھیلنے آجاتے ہیں۔میری شناخت ختم ہو گئی ہے ۔شاید یہ میرا آخری وقت ہے۔ ہرشئے کو موت آتی ہے۔ لیکن شاید مجھے آسانی سے موت نہیں آئے گی ۔ وقت ابھی پورا نہیں ہوا ہے مجھے انتظار ہے، خاندان کے اس وسیع عریض آنگن والے مکان میں اٹھنے والی دیواروں کی طرح اپنے قریے اور خطے میں اگنے والی دیواروں کا۔ جب مجھے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے بلند و بالا عمارتوں کی آماجگاہ بنادیا جائے گا۔ وہ شاید میری داستان کا آخری صفحہ ہو۔ 
۔۔۔۔۔۔۔
مرکزی حکومت کے منصوبے کے مطابق این سی آر میں آس پاس کے علاقے کو شامل کرتے ہی خالی پڑی زمینوں کی قسمت جاگ اٹھی۔ صدیوں سے مردہ پڑی دھنورا قبرستان کی زمین ،آس پاس کی زمینوں کے ساتھ ایک بڑے Power Plant کے لئے منتخب کی جا چکی تھی۔ اندھیرے دن کے اجالے میں ضم ہوکر رات کی کوکھ سے نئی روشنی کی شکل میں نمودار ہو رہے تھے۔

***

Din ke andhere,Raat ke ujaale
By :
Dr Aslam Jamshedpuri
HOD,URDU,CCSU,MEERUT
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850

اے میرے قلم! : اسلم جمشید پوری

  اسلم جمشید پوری 

 اے میرے قلم!

 

   اے میرے قلم، تم کہاں ہو۔۔؟
دوات نے ایک آہِ سرد بھر کر قلم کو یاد کیا۔
’’ میں تمھاری دوات ہوں،تمھارے بغیر نا مکمل۔۔۔۔، 
بلکہ ہم دونوں کی تخلیق ایک دوسرے کے لئے ہی ہوئی ہے تا کہ۔۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اے قلم ، اب تو آ جاؤ، کہاں ہو تم ؟
آؤ مجھ میں ڈوب جاؤ
ابھرو اور پھر ڈوب جاؤ
آؤ ، میرے قلم آؤ
ہمارا وصال ،وجہِ تخلیق ہے۔
وجودِازل وابد ہے۔
تصویرِ کائنات میں رنگ و بو ہے۔
تخلیق ، زندگی
تخلیق ، زندگی کا نگار خانہ
تخلیق ، نفوس کی شرح میں اضافہ
نفوس کا جمِ غفیر کائنات کے حسن کا با عث ہے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ سب!!!
اے میرے قلم تمھارے بغیر نا ممکن ہے۔
آ جاؤ ، مجھ میں سما جاؤ
اور تحریر کی ، تخلیق کی ،شروعات کرو
کہ لفظِ کن کی صدا بلند ہو نے والی ہے۔
ایک نئی کائنات وجود میں آنے کو ہے۔
۔۔۔۔۔۔

زہر

’’حضرت! ا لسلام علیکم ورحمتہ اللاہ وبرکاتہ ‘‘
ایک عقیدت مند نے ایک بڑے مدرسے میں داخل ہو کر معروف عالمِ دین حضرت مولانا ارقم شاہ جالندھری کی خدمت میں باادب سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔۔اللاہ تمہیں سلامت رکھے۔کہو کیسے ہو۔‘‘
’’ حضرت میں بخیر ہوں۔ آپ کی دعاؤں سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی ہے۔بعد نمازِ جمعہ اس کا افتتاح ہے آپ کے دستِ مبارک سے چاہتا تھا، لیکن آپ کی طبیعت کے پیشِ نظر درخواست ہے کہ مولوی فرقان انصاری کو بھجوا دیتے تو کرم ہوتا۔‘‘
’’ مولوی فرقان ہی کیوں مولانا سبحان قاسمی کو بھیج دیتا ہوں وہ دعا کرا دیں گے۔‘‘
’’حضور مولوی فرقان آ جاتے تو۔۔۔۔، ویسے جو آپ کی مرضی۔۔۔‘‘
’’نہیں ،نہیں ایسی کوئی بات نہیں مولوی فرقان چلے جائیں گے ۔کوئی خاص بات ہے کیا۔‘‘
’’ شکریہ حضور ، کچھ خاص نہیں ،بس وہ اپنی ہی برادری کے ہیں اور کوئی بات نہیں!! ‘‘

****
اسلم جمشید پوری 

بازار : عبد الحلیم

بازار   

عبد الحلیم
مکان نمبر ۱۲ کراس روڈ نمبر ۶ ۔ ڈی
آزاد نگر مانگو جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰
جھاڑ کھنڈ انڈیا
E mail – khan.halim026@gmail.com 

           *شام کا وقت تھا ۔میں بازار کے چوراہے پر کھڑا اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا ۔
بازارمیں چاروں طرف شوروغل مچی ہوئی تھی ۔لوگ اپنے اپنے کا موں میں مصروف تھے 
اور میرا ذہن بہت ہی اُلجھن میں تھا …………کہ اچانک میرے پاؤں کے تلے سے کا غذ کو کسی نے کھینچا۔ چونک کر میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو….. میں دیکھتا ہی رہ گیا…………
جیسے بادلوں میں چھپا ہوا چاند 
سوکھی جھاڑمیں کھلا ہوا ایک گلاب
سیب کے مانند…………گال 
گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہو نٹ
کالے بادل کی طرح گھنے گیسو
میلے وکچیلے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں سے جھانکتا ہوا اس کاگوراجسم، جیسے سنگ مر مر سے تراشاگیا ہو ۔
مگر….
اس کی غربت اس کی ساری خوبصورتی کو چھپارہی تھی۔
اس نے بڑے عاجزی سے مجھے پاؤں ہٹانے کو کہا۔
میں نے پاؤں ہٹاتے ہوئے اس سے پوچھا…………

’’کیا تم روزانہ کاغذ چنتی ہو؟‘‘
’’ہاں ……….بابو جی ۔‘‘
’’ کیا تمہارا اس سے گذاراہو جاتاہے؟‘‘
’’کبھی کبھی تو بھو کا ہی سو ناپڑتاہے….‘‘
’’کیوں……؟‘‘
’’کیوں کہ کبھی تو میرے ساتھی ہی بازی مارجا تے ہیں۔ تو کبھی کبھی منشپلٹی والے…………‘‘
’’تو اس روز…؟‘‘
’’اس روز کیابابو جی ……بھوکی ہی سوجاتی ہوں۔‘‘
’’تمہارے ماں باپ……؟‘‘
’’ماں توہے۔‘‘
’’اورباپ…..؟‘‘
’’باپ کا پتہ نہیں ……………کون ہے۔‘‘
’’تمہارا گھر کہاں ہے۔؟‘‘
’’ یہ بازار ہی میراگھر ہے بابوجی۔‘‘
’’پھر سوتی کہاں ہو…..؟‘‘
’’جہاں رات ہوگئی وہیں سو جاتی ہوں۔‘‘
مجھے اس کی باتوں پرترس آیا ۔میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ میر ے دوست کی کار آگئی ۔
کار میں بیٹھتے ہوئے اپنی جیب سے چند روپئے نکال کردیاہی تھا کہ اس کے ارد گرد ننگے بھو کے بچے گھو منے لگے ۔ وہ میر ے کا ر کے دروازے کو پکڑے ہوئے مجھے تکتی رہی…..
پھر وہ یکایک بولی ……
’’ہا ں بابوجی کہاں چلناہے……………؟‘‘
اور میری آنکھیں حیران تھیں……..

****

عبد الحلیم 
مکان نمبر ۱۲ کراس روڈ نمبر ۶ ۔ ڈی
آزاد نگر مانگو جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰
جھار کھنڈ انڈیا
E mail – khan.halim026@gmail.com 

خود اعتمادی : ڈاکٹر عظیم راہی

افسانچے

ڈاکٹر عظیم راہی 
کریم کالونی روشن گیٹ اورنگ آباد

                            (۱) خود اعتمادی

               لوگ کہتے ہیں اس میں قوت ارادی بہت تھی کہ وہ دس سال تک مختلف بیماریوں کی تکلیفوں کو مسلسل جھیلتا رہا لیکن اس کے برعکس اس کا دوست محض دس دن کی بیماری میں ہی دم توڑ گیا کہ اس کی سب سے بڑی بیماری اس کی غریبی تھی۔

                                       (۲) احساس

               کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو سب کے ساتھ رہ کر بھی اکثر خود ہی سہنے پڑتے ہیں کیونکہ ان کو دوسروں کے ساتھ بانٹا نہیں جاسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس غم کا احساس اور سوا ہوجاتا ہے۔ لیکن آج جب ایک بار پھر میرے ساتھ ایسا ہی ہوا تو مجھے بڑی شدت سے اپنے اکیلے پن کا احساس ہوا۔

                                       (۳) لاجواب

              میرے آفس کے ایک غیر مسلم رفیق کا ر نے جو مکس آبادی میں رہتا تھا مجھ سے معاً پوچھ بیٹھا۔۔۔
’’کل رات راستوں پر بڑی چہل پہل تھی چوراہوں پر رش دکھائی دے رہا تھا کیا تمہاری جاگنے کی رات تھی؟!‘‘
اس کا سوال سن کر میں سوچ رہا تھا کہ اس سے یہ کیسے کہوں کہ محض راستوں پر گھوم کر جاگنے کی رات نہیں بلکہ عبادت کے لیے جاگنے کی رات تھی۔۔۔ لیکن میں بس سر ہلاکر خاموش رہا!۔۔۔

                                     (۴) غریبی
              باپ کے مرنے کے بعد ‘ اس کی اولاد کو اپنی باپ کی بیماری پر ایک مہینے میں خرچ ہوئے ایک لاکھ روپیوں کا زیادہ افسوس تھا اس کی موت سے بھی زیادہ کہ وہ سب اپنی غریبی کے سبب مقروض ہوچکے تھے۔

                                      (۵) راز

             برسوں بعد وہ اپنے قریبی دوست کو دیکھ کر بے ساختہ بول پڑا۔
’’ارے تم اتنی جلدی بوڑھے ہوگئے۔۔۔ تم تو عمر میں مجھ سے چھوٹے ہو اور تمہارے سرسے چہرے تک یہ سفیدی میری سمجھ میں نہیں آئی؟!‘‘
’’ہاں‘ شاید اس لیے کہ میرا خون ابھی سفید نہیں ہوا ہے۔۔۔؟!‘‘

****

ڈاکٹر عظیم راہی 
کریم کالونی روشن گیٹ اورنگ آباد

تبدیلی : ڈاکٹر ایم۔اے۔حق

تبدیلی 
ڈاکٹر ایم۔اے۔حق
           * اتوار کے روز چھ سالہ گُڈّو اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھت پر کھیل رہا تھا۔کچھ دیر کے بعد ایک
کوّا آ کر آنگن کے پیڑ پر بیٹھ گیا اور زور زور سے کائیں کائیں کرنے لگا۔کھیل چھوڑ کر گُڈّو نے 
ایک پتھر اُٹھا لیا اور کوّے کی جانب نشانہ لگا کر اُچھال دیا جسے دیکھ کر اُس کا ایک ساتھی بولا ’’ ارے
گُڈّو!تُم نے تو کبھی کسی جانور یا پرندے کو نہیں مارا۔یہ آج تُمہیں کیا ہو گیا ہے۔‘‘
’’ ممّی کہتی ہیں کہ کسی کوّے کو آنگن میں کائیں کائیں مت کرنے دو۔پاپا اب ریٹائر ہو گئے ہیں نا‘‘

****

خیمہ 
ڈاکٹر ایم۔اے۔حق

          *’’ پپّو ٹیپ بند کر دو،اذان ہو رہی ہے‘‘ ممّی نے کچن سے ہانک لگائی۔
لیکن پپّو بدستور گانا سُنتا رہا۔
’’ ارے سُنتے کیوں نہیں ؟بہرے ہو گئے ہوکیا؟کہا نا کہ اذان ہو رہی ہے۔بند کرو یہ گانا وانا‘‘
ممّی غصّے میں تمتما تی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔ 
’’یہ تو اہلِ حدیث کی اذان ہے ممّی!‘‘پپّو نے نہایت معصومیت سے جواب دیا۔

****

ڈاکٹر ایم۔اے۔حق

واپسی : سالک جمیل براڑ

واپسی
سالک جمیل براڑ
بی اے،جرنلزم،اولیول،پی جی ڈی سی اے،ایم ایس سی(آئی ٹی)

*شہر بھر کی خاک چھاننے کے بعد رنگی رام کے ہاتھ کچھ نہیں لگاتھا۔اب وہ چند لوہے کے ٹکڑے اور گتے اٹھائے لنگڑاتا ہوا آہستہ آہستہ ہزاری پرشاد کے کباڑ خانے کی طرف بڑھ رہا تھا۔اس کی دائیں ٹانگ میں درد ہو رہا تھا۔وہ بڑی مشکل سے لنگڑا کر چل رہا تھا۔ دوپہر تک کوئی قیمتی چیز ہاتھ نہ لگنے پر رنگی رام چوری کرنے کے لیے ایک گھر میں داخل ہوا تھا۔ لیکن اس گھر میں موجود اکیلی عورت نے اس کی خوب پٹائی کی تھی ۔بے تحاشا مار کھانے بعد وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا۔رنگی کو بہت چوٹیں لگی تھیں۔ساتھ ہی اس کی دائیں ٹانگ میں بھی بہت گہری چوٹ آئی تھی۔
رنگی کو آج زندگی میں پہلی بار عورت کی طاقت کا احساس ہوا تھا۔ورنہ اس کے لیے عورت ربڑ کی گڑیا کی طرح تھی۔ جسے جب چاہے ،جیسے چاہے توڑا مروڑا جاسکتا تھا۔ اس کی بیوی مالا بالکل اسی طرح کی عورت تھی ۔ جو پچھلے بیس سالوں سے مار کھانے ،گندی گندی گالیاں سننے کے بعد بھی روزانہ رات کو اپنا جسم رنگی کے حوالے کر دیتی تھی۔لیکن آج وہ عورت کایہ روپ دیکھ کر حیران رہ گیاآخر رنگی ،ہزاری پرشاد کے کباڑ خانے تک پہنچ گیا۔اس نے آگے بڑھ کر لوہے کے ٹکڑے ترازو میں رکھ دیئے ۔مختلف قسم کے کباڑ سے بھری دکان میں ایک طرف بیٹھے ہزاری نے بیڑی کاایک لمبا کش لیا اور ادھ جلی بیڑی ہوا میں اچھال دی۔ جو سڑک کے درمیان جاگری۔ لوہے اور گتے کا وزن کرکے ہزاری نے دس کا نوٹ رنگی کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ رنگی ،ہزاری کو اس امید سے تکتارہا کہ شاید اسے اور روپے ملیں گے۔
’’ سالے ……..ایسے کیوں گھور رہے ہو…… سات کا لوہا اور تین کا گتا ……..چل بھاگ یہاں سے ……..‘‘ ہزاری نے رنگی کو اپنے طریقے سے حساب سمجھایا۔
ہزاری کے سوائے کوئی کباڑیا جلدی رنگی کو سے مال نہیں خریدتا تھا ۔اس لیے اس نے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا اور دس کا نوٹ لے کر تھکے قدموں سے چل دیا۔
رنگی کو شدت سے نشے کی طلب محسوس ہورہی تھی۔اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔دس روپے میں اسے افیم ، پوست وغیرہ تو نہیں مل سکتے تھے۔البتہ صرف کیپسول ہی مل سکتے تھے۔وہ وقت ضائع کئے بغیر ایک میڈیکل اسٹور کی طرف بڑھا ۔ کچھ کہے بغیر دس کا نوٹ دکاندارکی طرف بڑھادیا۔دکاندار نے نوٹ پکڑتے ہوئے اردگرد دیکھا اور تیزی سے تین کیپسول رنگی کے ہاتھ پر رکھ دیئے ۔
’’ دس روپے کے تین……. ! ‘‘ رنگی رام نے حیرت سے پوچھا۔
’’د یکھو……..بحث مت کرو……..بہت سخت چیکنگ چل رہی ہے اگر کوئی بیچتا اور خریدتا ہوا پکڑاگیا تو بڑی سخت سزا ہے جلدی یہاں سے نکلو……اگر نہیں لینے تو پکڑو اپنا نوٹ۔ ‘‘ دکاندار نے دس کا نوٹ رنگی کی طرف بڑھا دیا۔ 
وہ کیپسول مٹھی میں دباکر چل دیا ۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ اسٹور والے نہ جانے کس کس کی مٹھی گرم کرکے یہ کاروبار چلاتے ہیں۔
تین کیپسول اندر جاتے ہی رنگی کے انگ انگ میں جان آگئی۔ کیپسولوں نے فوری طور پر تو اس کے نشے کی طلب کو پورا کر دیا تھا۔لیکن اسے پتہ تھا کہ یہ نشہ دیر تک اس کاساتھ نہیں دے گا۔ اب اسے اپنی مزید نشے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے سوروپے یا کم سے کم پچاس روپے کی ضرورت تھی۔لیکن اب سوال یہ تھا کہ روپے کہاں سے حاصل کئے جائیں۔آج دوپہر ٹانگ میں لگی چوٹ کی وجہ سے وہ چوری کرنے کے قابل نہ تھا۔رات کے دس بجے تک وہ بنسی کی چائے کی دکان پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا گپیں ہانکتا رہا۔ساتھ ہی ساتھ وہ روپیوں کے بارے سوچتا رہا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے موہن داس سے پچاس روپے کی ادھار افیم مانگی ۔لیکن ہمیشہ کی طرح اس نے صاف انکار کردیا۔
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے ۔رنگی کا نشہ اترنے لگا تھا۔ اسے مزید نشے کی طلب محسوس ہو نے لگی تھی ۔لیکن اس کی جیب خالی تھی اور نشے کی طلب ابال پر ۔بس اب اس کا گھر ہی اس کے لیے امید کی آخری کرن تھا۔ قسمت آزمائی کے لئے وہ لنگڑاتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔
پورا محلہ اندھیرے اور سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا ۔اس کی بیوی اور بچے آرام سے سکون کی نیند سو رہے تھے۔ رنگی نے دروازے پر دستک دی اور چند لمحوں بعد اس کی بیوی نے دروازہ کھولا اور کوئی بات کئے بغیر واپس چلی گئی ۔
رنگی کا چھوٹا سا خستہ حال گھر دو کمروں پر مشتمل تھا۔ ایک کمرے میں اس کے دو بیٹے اور دوسرے میں بیوی اور تین بیٹیاں سو رہی تھیں کمروں کے آگے چھوٹا سا صحن سا رے گھر کو مکمل کرتا تھا۔رنگی نے کمرے میں ہلکی روشنی کا بلب روشن کیا اور کمرے کی سامنے والی دیوار سے ٹیک لگا کر فرش پر پاؤں پھیلا کر بیٹھ گیا۔ پاس ہی چارپائی پر لیٹی مالا نے کروٹ بدلی اور دوسری طرف منہ کر لیا ۔
مالا کی عمر مشکل سے ۴۵ سال ہوگئی۔لیکن شکل وصورت سے ۶۰ کی لگتی تھی ۔ سر کے بال تقریباً سفید ہوچکے تھے ۔گالوں اور جسم کی ہڈیاں بغیر گوشت کے تھیں ۔مالا کی یہ حالت روزانہ کے لڑائی جھگڑے ،مار پیٹ اور دن رات کی محنت کی وجہ سے ہوئی تھی ۔وہ صبح سے شام تک لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پونچھے کا کام کرتی اور دیر رات تک سلائی کا کام کرتی تھی ۔ مالا نے دن رات خون پسینہ ایک کرکے اپنی اولاد کی پرورش کی تھی ۔عام طور پر تو رنگی کوچوری اور ٹھگی کے علاوہ کوئی کام کرتانہیں تھا۔اگر کبھی کبھار کوئی کام کر بھی لیتا تو اپنے لیے ذخیرہ جمع کر لیتا تھا۔مالا کی صحت خراب ہوئی تو اس کے جوانی میں قدم رکھ رہے دو بیٹوں نے گھر کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھالیا ۔پچھلے دو ماہ سے رنگی کی سب سے چھوٹی بیٹی بہت بیمار تھی ۔اس کا علاج ایک سماج سیوک تنظیم کررہی تھی۔
رنگی کو اپنے گھر میں کوئی بھی ایسی چیز دکھائی نہیں دے رہی تھی۔جسے وہ بیچ سکتا ۔پچھلے بیس سالوں میں وہ ایک ایک چیز بیچ چکا تھااور پھر مہینے کی آخری تاریخیں چل رہی ہیں۔مالا اور اس کے بیٹوں سے کچھ ملنا ناممکن تھا۔ویسے بھی مالا لوگوں سے ادھار مانگ کر اپنی بیٹی کا علاج کروا رہی تھی۔
اچانک رنگی کو اپنی بیمار بیٹی کی چارپائی کے قریب ایک لفافہ پڑا نظر آیا۔ وہ بڑے احتیاط سے بغیر آہٹ کئے اٹھااور آہستہ آہستہ، مالا کی چارپائی کی طرف بڑھا ۔ جھک کر دیکھا کہ مالا سو رہی تھی۔رنگی نے سکھ کی سانس لی اور اسی طرح خاموشی سے وہ اپنی بیمار بیٹی کی چارپائی کی طرف بڑھااور لفافہ اٹھالیا۔کھولا تو اس میں کئی قسم کی گولیوں،کیپسولوں کے پتے اور مختلف قسم کی دوایؤں کی شیشیاں تھیں۔جیسے ہی وہ لفافہ اٹھا کرپیچھے مڑا،اس نے مالاکو اپنے آگے کھڑا پایا۔

بی اے،جرنلزم،اولیول،پی جی ڈی سی اے،ایم ایس سی(آئی ٹی)
Add: Salik Jamil Brar

W-14/594,Hazrat Sheikh Road,Maler,Malerkotla-148023(Punjab)
Ph.no:01675-264467,M:092560-33695 

کلمہ گو : از ….. نورالحسنین

کلمہ گو 
از ….. نورالحسنین

           * ابّودادا نے ازاربند باندھ کر لُنگی کو کھوٹی پر لٹکایا ہی تھا کہ موبائیل نے رنگیلا رے ۔۔۔کا راگ الاپنا شروع کیا ۔ اُس نے فوراً موبائیل اٹھایا اور ہیلو کہتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا ۔ 
’’ کیا ابّو بھائی آج کل فارِن کی پوٹیوں کو گھی کھلا رہے ۔۔۔؟ ‘‘
’’ ہو میاں ۔۔۔تم کو تو مالوم ہے ، اپنا ہے سو دودھ گھی کا دھندہ ہے ۔ گاہک آیا تو کھلانا ہی پڑتا ۔۔۔
کیا ۔۔۔؟ ‘‘
موبائیل پر قہقہے کی آواز گونجی ، ’’ مگر کچھ بھی بو لو ابّو بھائی لونڈیا ہے پِستہ ہاؤس کی حلیم ۔۔۔ بس چاٹتے رہو ۔۔۔! ‘‘ 
’’ ارے کیا بکواس لگائے میاں ۔۔۔! ‘‘ اِبّودادا نے مصنوعی غصّے سے کہا ، ’’ تم کو تو مالوم ہے نا میں ہے سو جمعہ کے دِن کوئی بُرا کام نہیں کرتا ، ارے نما ز نہیں پڑھتا تو کیا ہوا ۔۔۔ہوں تو کلمہ گو ۔۔۔! چلو فون بند کرو ، میرے کو آج کچھ اچھّے کاماں کرنے دیو بولا ۔ ۔۔! ‘‘ 
موبائیل کو نہرو شرٹ کی جیب میں رکھتے ہوئے اِبّو دادا نے جونہی دروازے سے باہر دیکھا ، بھاسکر پان کی ٹپری پر کھڑا ہوا تھا ۔ دوسرے ہی لمحے وہ تیر کی طرح نکلا اور اُس کی گردن دبوچ کر اپنی بیٹھک میں لے آیا ۔ اور پھر ایک زور سے جھٹکا دے کر دھاڑا ، کیوں رے میرے کو کیا گلا ہوا سیتاپھل سمجھا تھا تو ۔۔۔ ہو ۔۔۔؟ ‘‘ 
’’ نہ نہ نہ ۔۔۔نہیں بھائی ۔۔۔! ‘‘ بھاسکر نے ہاتھ جوڑے اور اُس کے قدموں میں گر گیا ۔ وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ اِبّو دادا کرسی پر بیٹھ گیا اور اس کی طرف غصیلی نظروں سے دیکھنے لگا ۔ بھاسکر کے دانتوں کے پیچھے زبان کُلبلا رہی تھی لیکن وہ سارے ہی الفاظ بھول گیا تھا ۔
’’ تیرے کو مالوم ہے ۔۔۔؟ میں ایسا ہی دادا نہیں بنا ۔۔۔ بستی میں پوچھ لے ۔۔۔ جو میرے کو غُچہ دینے کی کوشش کرتا اُس کے دانتاں بھی اُس کے ہاتھ نہیں گِنتے ۔۔۔ کیا ۔۔۔؟ دوسرے لوگاں اُٹھاکر اس کی جیب میں ڈالتے ۔۔۔ سمجھا ۔۔۔؟ اور تو میرے کو چٹّی دینے کی سوچ را ۔۔۔ ہورے ۔۔۔؟ دادا کا ہاتھ پوری طاقت کے ساتھ ہوا میں لہرایا اور پھر بھاسکر کی کھوپڑی پر اُترنے کے بجائے کرسی کے ہتھے پر گِرا ، ’’ اللہ قسم ۔۔۔میں جمعہ کو کوئی بُرا کام نہیں کرتا ۔۔۔بچ گیا تو سالے ۔۔۔چل نکال سود سمیت میرے سارے روپیے ۔۔۔؟ ‘‘ 
خوف ایک بار پھر بھاسکر کی زبان پر گھگھیایا ، ’’ بھائی ۔۔۔ میری عورت ۔۔۔! ‘‘ 
’’ تیری عورت ۔۔۔؟ ‘‘ اِبّو دادا کی آنکھوں میں شانتی کا گدرایا ہوا بھر پور جسم اُبھرا اور شہوت کسی رس گُلّے کی مانند اس کے حلق کو میٹھا کر گئی ۔ اس کے بدن میں ایک عجیب سی مسرت دوڑنے لگی ۔ اس دوران بھاسکر نے کیا کچھ کہا وہ اُس نے سُنا ہی نہیں ۔ وہ بس اُسے گھورے جا رہا تھا ۔ کچھ لمحوں کے بعد وہ ایکدم چونکا ، ’’ کیا بول رہا تھا رے تو ۔۔۔ تیری عورت کو ۔۔۔ ! ‘‘ 
’’ بھائی وہ مچان پر سے گِر گئی ۔ اُس کے ہاتھ کی ہڈّی ٹوٹ گئی ۔۔۔ بولکے ۔۔۔! ‘‘ 
’’ بول کے میرے کو بھانپ دے رہا کیا ۔۔۔؟ ‘‘ وہ کرسی پر سے اُٹھ گیا اور ٹہلنے لگا ، ’’ دیکھ بھاسکر کئی مہینوں سے بہت بہانے بنالیا تو نے ۔۔۔ اب نہیں چلے گا ۔۔۔ ابھی سیدھے سیدھے میرے روپیے نکال ، نہیں تو کھوپڑی کا گودا نکال کے رکھ دیتوں میں ۔۔۔ کیا ۔۔۔؟ ‘‘ 
بھاسکر نے محسوس کرلیا تھا کہ دادا کی ڈپٹ میں اب وہ پہلے جیسا جلال نہیں ہے ۔ اُس کی آواز کی شدّت بھی قدرے کم ہوگئی تھی ۔ اُس نے فوراً جیب میں سے سو کا نوٹ نکالا اور اِبّو کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ، ’’ یہ ایک مہینے کا بیاج ہے بھائی ۔۔۔ اگلے مہینے ۔۔۔! ‘‘ 
’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔۔۔! ‘‘ ابّو دادا نے نوٹ کو جیب میں رکھتے ہوئے کہنا شروع کیا ، ’’ آج جمعہ کا دن ہے ۔۔ اللہ کا بڑا دن ، سوب کو مالوم ہے میں آج کوئی بُرا کام نہیں کرتا ، ارے نماز نہیں پڑھتا تو کیا ہوا رے ۔۔مگر ہوں تو کلمہ گو ۔۔۔کیا ۔۔ چل اُٹھ ۔۔ اِدھر سے انٹی پو ہو اور بیوی کا علاج کر ۔! ‘‘ 
اُس کے ذہن میں پھر ایک بار شانتی کا بدن گھوم گیا ، سانولی رنگت ، سیاہ گھنے گھنگھر یالے بال ، اُبھرا ہوا سینہ اور ٹھسا ہوا گوشت ۔۔۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا ۔ اُس نے آنکھیں بند کر لیں اور چپکے سے پانی کو حلق کے نیچے اُتار لیا ۔ 
بارکس سے مغرب کی جانب جانے والی سڑک کے آخری حصّے پر پھیلی ہوئی بستی ابودادا کی سلطنت تھی ۔ اُس کے پاس بھینسوں کا ایک بڑا طبیلہ تھا ۔ جس میں پچیس تیس بھینسیں ہمیشہ بندھی رہتی تھیں ۔ اُن کے گوبر اور پیشاب کی بدبو سے صرف طبیلہ ہی نہیں بلکہ ساری بستی متاثر تھی لیکن کسی میں ہمت نہ تھی جو اُس گندگی کے خلاف آواز اُٹھاتا ۔ طبیلے کے اِدھر اُدھر غریب پس ماندہ طبقات کی جھونپڑیاں تھیں ۔ وہ اُن کا مائی باپ تھا ۔ کوئی شادی بیاہ اُس کی مرضی کے خلاف نہیں ہوسکتی تھی ۔ اُسے سب معلوم تھا کہ کِس جھونپڑے کی کونسی لڑکی سِنِ بلوغ کو پہنچ رہی ہے ۔ وہ ان کی فرمایشیں بھی پوری کرتا ۔ اُن کو ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتا ۔ اُن کے جھگڑے ٹنٹے بھی مٹاتا ۔ وقتاً فوقتاً ان کی پٹائی بھی کرتا رہتا ۔ اِس کے ساتھ ہی ساتھ وہ ان کی چھوٹی موٹی ضروریات کی تکمیل بھی کر دیتا ۔ سڑک کی دوسری طرف کچھ سمنٹ کانکریٹ کی عمارتیں تھیں اور کھپریل کے چھتوں سے آراستہ مکانات کا ایک سلسلہ پھیلا ہوا تھا ۔ جن میں کچھ مزدور پیشہ افراد ، کچھ کلرک اور اساتذہ برادری آباد تھی ۔ اُس کے علاوہ اُسی حصّے میں کنگال نواب کی بوسیدہ دیوڑھی بھی تھی جس کے مہمان خانے کے حصّے کو بوڑھے نواب نے ہوسٹل میں تبدیل کردیا تھا ۔ اُس میں اسٹوڈنٹس کرائے سے رہتے تھے ۔ اُن ہی میں ایک کمرے میں ماریا برونٹ بھی رہتی تھی جو دکنی سلاطین کی ادبی خدمات پر ریسرچ کرنے انگلستان سے یہاں آئی تھی ۔ اِبّو دادا کا نہ صرف دودھ کا کاروبار تھا بلکہ وہ بیاض بٹّے کا دھندہ بھی کرتا تھا ۔ اسی وجہ سے ساری بستی کسی نہ کسی طور اُس سے جُڑی ہوئی تھی ۔ 
ایسے ہی ایک دن دوپہر کے وقت جب طبیلے میں بھینسیں جگالی کر رہی تھیں اور ان کے خادم اونگھ رہے تھے اور ابو دادا کرسی پر بیٹھا جمائیاں لے رہا تھا ۔ماریا برونٹ نے دروازے پر آہستہ سے دستک دی اور وہ اپنی کرسی سے ایسے اُچھلا تھا گویا کسی نے اس کے حق میں لاٹری کا نتیجہ سنا دیا ہو ، ’’ آپ ۔۔بی بی ۔۔۔ بولے تو میڈم ۔۔۔!‘‘ وہ بُری طرح ہکلایا اور اس کی نظریں سفید ٹاپ کے چوڑے گلے کے اندر جھانکنے لگیں ۔ 
’’ ام ماریا برونٹ ۔۔۔! ‘‘ وہ اپنا تعارف کروانے لگی ، ’’ اُدھر نواب کے ہوسٹل میں رہتا ہے ۔!‘‘ پھر وہ مسکرائی ، ’’ سنا ہے تم انٹریسٹ پر روپیہ دیتا ہے ۔۔۔! ‘‘ 
’’ دیتا ہے ۔۔۔آپ اندر آؤنا ۔۔۔! ‘‘ دادا کی بانچھیں کھِل اُٹھیں ۔ وہ اندر آگئی اور ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی ، ’’ ام کو دے گا ۔۔۔؟ ‘‘ 
’’ آپ کو ۔۔۔؟ آپ کے لیے تو ہم اپنی جان بھی دے دے گا ۔۔۔‘‘ لیکن یہ الفاظ اُس کی زبان سے نکلے ہی نہیں ، ’’ دے گا ۔۔۔ ضرور دے گا میڈم ماریا بروکٹ ۔۔۔! ‘‘ 
’’ بروکٹ نہیں ۔۔۔ برونٹ ۔۔۔ ماریا برونٹ ۔۔۔! ‘‘ 
’’ وہی وہی وہی ۔۔۔! ‘‘ ابو دادا اپنی خوشی پر قابو پاتے ہوئے بولا ۔ 
’’ امارا ڈیڈی لندن میں بیمار ہوگیا ۔ وہ ام کو روپیہ نہیں بھیجا ۔ وہ بھیجے گا تو ام واپس کردے گا ۔۔! ‘‘
دادا کی ہوس بھری نظریں اس کے منی اسکرٹ سے نکلی ہوئی خوبصورت ٹانگوں پر جمی ہوئی تھیں ۔ 
’’ خوبصورت ۔۔۔ بہت ہی خوبصورت ۔۔۔! ‘‘ وہ بڑبڑایا ۔ 
’’ واٹ ۔۔۔؟ ‘‘ ماریا نے پہلو بدلا ۔ اُس کے چہرے کے تاثرات بگڑنے لگے ، لیکن غرض نفرت پر غالب آگئی ۔ اُس نے بہت جلد اپنے آپ پر قابو پا لیا ، ’’ ام کو پانچ ہزار روپیہ منگتا ۔۔۔! ‘‘ 
’’ دے گا ۔۔۔ دے گا ۔۔۔! ‘‘ ہوس بھری مسکراہٹ اُس کے چہرے پر نمودار ہوئی اور پھر اپنی حرکت پر بنا شرمندہ ہوئے اُس نے بھی اپنا تعارف کروایا ، ’’ میڈم جمعہ کو ہم کوئی بُرا کام نہیں کرتا ۔۔۔مسلمان ۔۔۔ کلمہ گو ۔۔۔! ‘‘ 
’’ اوہ۔۔ ریلّی یو آر گریٹ ۔۔۔! ‘‘(OH REALLY YOU ARE GREAT وہ پھر ایک بار دادا کو دیکھ کر مسکرائی ۔ ابو نے پانچ ہزار نوٹوں کا بنڈل اُس کے حوالے کیا اور پھر بولا، ’’ ہم تم کو بتا دیتا میڈم ۔۔۔ہمارا روپیہ واپس کر دینا ۔ ہم وصولی کے معاملے میں بہت بُرا آدمی ہے ۔۔۔ ! ‘‘ 
’’ اوکے ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ہم تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہے ۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔! ‘‘ وہ ابو دادا کی طرف دیکھ کر پھر ایک بار مسکرائی اور ایک خاص ادا سے ہاتھ ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی ۔ 
’’ سالی سر سے پیر تک اصلی ملائی ہے ۔۔۔‘‘ وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا ۔ اُس کی آنکھوں میں ماریا برونٹ کی مسکراہٹ ساکِت ہوگئی ۔ اور دماغ میں بار بار فلیش ہونے لگی اور اس کے حلق میں پھر رس گلّا پھوٹا اور پورا بدن نہال ہوگیا ۔ خوشی اس سے سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی ۔ وہ اپنے اس کارنامے کو دوستوں میں بیان کرنے کے لیے بے چین ہوگیا ۔ اور موبائیل پر کالس کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ 
عورتوں سے جنسی تعلقات کے جھوٹے سچّے واقعات ، غنڈہ گردی ، شراب اور پارٹیاں ابو دادا اور اُس کے ساتھیوں کی زندگی کا یہی ماحاصل تھا ۔ پارٹی اپنے شباب پر تھی شراب کے گلاس کو رکھتے ہوئے ابو دادا نے اپنے دوستوں پر خمار آلود نگاہ ڈالی ، ’’ اللہ قسم باپ ۔۔ ۔ لڑکی کیا تھی پِلا ریڈی کے دکان کی برفی ۔۔۔! ‘‘ 
سب نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا ۔ 
’’ میں اگر جھوٹ بولا تو میرے منہ میں ہے سو خاک ۔۔۔! ‘‘ ابو نے مرغ کی ٹانگ کو دانتوں سے نوچتے ہوئے کہنا شروع کیا ، ’’ اب ہے سو کیا بولوں ۔۔۔ میں ایک دم اکیلا ۔۔۔ اُن نے منی اسکرٹ میں ۔۔ اُس کی ننگی ٹانگیں ۔۔۔ باپ میری طبعیت ایسی مچلی کہ بس ۔۔۔ ! ‘‘ اس نے جلدی جلدی مرغ کی ٹانگ کو چبانا شروع کیا ، ’’ اور مالوم ۔۔۔ چوڑے ٹاپ میں سے جھانکتے ہوئے دو سفید براق کبوتر ۔۔۔ائے ہائے ۔۔۔میں تو تڑپ کر رہ گیا ۔۔۔کیا۔۔۔؟ بس باپ قسمت اچّھی نہیں تھی ۔۔۔ وہ جمعہ کا دن تھا ۔۔۔ اور تم کو تو مالوم ہے میں ہے سو اُس دن کوئی بُرا کام نہیں کرتا ۔۔۔ ارے نہیں تو کیا وہ کبوتر ابو دادا کی بیٹھک سے اُڑتے ۔۔۔؟ ‘‘ 
’’ کیا ابو بھائی اُڑے ہوئے کبوتروں کی کہانی سنا رہے ۔۔۔؟ ‘‘ اجمل نے شراب سے بھرے ہوئے گلاس کو ایک ہی سانس میں خالی کردیا ۔ 
’’ بابو۔۔۔ تم کیا سمجھ رہیں اِبو کو ۔۔۔؟ دانے ڈال دیا نا ۔۔۔ تم بس ٹوکری کے ڈوری کے کھینچنے کا انتظار کرو ۔۔۔! ‘‘ اس نے فاتحانہ نظروں سے سب کی طرف دیکھا ، ’’ ارے بچپن سے یہی کھیل کھیل رؤں نا میں ۔۔۔! ‘‘ 
’’ فارن کی عورتاں تو کتے ویسے بھی بہت آزاد خیال رہتی نا ابو بھائی ۔۔۔؟ ‘‘ سبحانی نے ڈکار لے کر اپنی پلیٹ کو سرکادیا ۔ 
’’ ارے تم پوری پلیٹ صاف نہیں کرے سبحانی ۔۔۔؟ ‘‘ بلی نے بچی ہوئی بریانی کو اپنی پلیٹ میں اُتار لیا ۔ ، ’’ اِبو بھائی چُڑی کے جیسا کھانے والا ان نے فارن کی عورتوں کی آزاد خیالی سے کیا فایدہ اُٹھائیں گا ۔۔۔ ہو ۔۔۔ ؟ ‘‘ 
سب کے منہ سے ایک ساتھ قہقہہ بلند ہوا ۔ 
’’ میاں دستر پر کھانا اور بستر پر عورت کو زخمی حالت میں نہیں چھوڑتے ۔۔۔! ‘‘ اجمل نے شراب کا گلاس ابو کی طرف بڑھایا ، ’’ میرے قصّے نہیں سُنے کیا ۔۔۔؟ ‘‘ 
’’ بس چُپ رہو اجمل ۔۔۔! ‘‘ سبحانی کی آنکھیں باہر نکل آئیں ، ’’ میرا منہ نکّو کُھلاؤ بولا ۔۔۔! ‘‘ 
اجمل کی بھی تیوریاں چڑھ گئیں اور اس سے پہلے کہ مذاق جھگڑے میں تبدیل ہوجاتا بلی نے دادا کو مخاطب کرلیا ، ’’ اِبو بھائی وہ تمہاری والی بہت خوبصورت ہے کیا ۔۔۔؟ ‘‘ 
’’ ارے ہو رے ۔۔۔فاری نر ہے نا اُن نے ۔۔۔! ‘‘ 
’’ واہ اللہ میاں واہ ۔۔۔ ساری خوبصورتی ، رنگ ، قد و قامت ، ناک ، آنکھ ، نقشہ ، بال ، مسکراہٹ سوب کچھ اُن کے حوالے کردیے اور ہماری قسمت میں کیا رکھے بولے تو وہی قلی قطب شاہ والی بات ۔۔۔ سانولی ، کنولی ۔۔۔ مزے تو بس ابو بھائی کے ہیں ۔۔۔ کیوں ابو بھائی ۔۔۔؟ ‘‘ 
اور اِبو کی آنکھیں جیسے آپ ہی آپ بند ہوگیں اور ماریا برونٹ پورے قد کے ساتھ اُس کی آنکھوں میں اُتر آئی اور وہ تصّورات کی وادیوں میں بہت دور نکل گیا ۔ 
دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہورہے تھے ۔ ابو دادا کا کاروبار زوروں پر جاری و ساری تھا ۔ لیکن اس کے دماغ سے ماریا برونٹ کی وہ تصویر دھندلی نہیں ہوئی تھی ۔ پہلے تو وہ چوری چھپے دور سے کنگال نواب کی دیوڑھی کے اُس حصّے کو گھورتا رہتا جہاں سے ماریا اُسے دکھائی دے اور جب وہ نظر نہ آتی تو اُس کا غصّہ بھڑک اُٹھتا اور خواہ مخواہ دوسرے لوگ پِٹ جاتے ۔ عورتیں تو اب اُس کے نام سے ہی گھبرانے لگتیں لیکن ماریا برونٹ نے دوبارہ اُس کی بیٹھک میں قدم نہیں رکھا تھا اور ناہی روپیہ واپس کیا تھا ۔ ایک دن وہ بے خود ہوکر دیوڑھی تک جا پہنچا تھا اور ماریا اُس پر برس پڑی تھی ، ’’ مین MAN تم اِدھر کاہے کو آیا ۔ ام بولا نا پیسہ آئے گا تو تمہارا ایک ایک پائی ام واپس کردے گا بٹ تمہارا اِدھر آنا ام کو پسند نہیں ۔۔۔ گو مین گو ۔۔۔ام کو بدنامی نہیں مانگتا ۔۔۔ ابھی تم اِدھر بالکل نہیں آنے کو مانگتا ۔۔۔ ! ‘‘ 
اور وہ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے وہاں سے اس طرح نکلا جیسے اُس کو دیکھ کر اُس کے مقروض چھُپتے چھپاتے بھاگ نکلتے ۔ وہ گھر آیا اُسے عجیب سی بے چینی ہونے لگی ۔ سامنے سُرمے دانی رکھی ہوئی تھی ۔ بے اختیار اُس کے ہاتھ اُس طرف بڑھے اور وہ سُرمے کی کاڑی کو آنکھوں میں پھیرنے لگا ۔ ٹھیک اُسی وقت اُس کا گُرگا رمضانی داخل ہوا اور اُسے نیچے سے اوپر تک دیکھتے ہوئے بولا ، ’’ کیا جمعہ کی تیاری ہے باپ ۔۔۔آج تو بھائی آپ گھر سے باہر نکلوچ نکّو ۔۔۔ سارے پیسے ڈوب جائیں گے ۔۔۔! ’’ 
اِبو ایک دم بھڑک اُٹھا ، ’’ چُپ رے سالے ۔۔۔ میں ہے سو پہلے ہی ایسے سمندر میں جال ڈال کے بیٹھا ہوں ، نہ مچھلی آرہی نہ جال باہر نکل رہا ، اور اوپر سے تو ڈوبونے کی باتاں کر رہا ۔۔۔ چل حساب دے ۔ کتنی وصولی کرا تو ۔۔۔؟ وہ نکال ۔۔۔! ‘‘ 
رمضانی گھبرا گیا اور نوٹوں کی گڈّی اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے طوطے کی طرح سبق پڑھنے لگا ، ’’ بھائی راجمّاں سود سمیت پیسے لوٹادی ، کریم ہے سو خالی سود دیا ، تاراماں بولی وہ خود شام کو آئے گی ، وِنے ماسٹر کا وہیچ رونا تھا ، ابھی پگار نہیں ملی ، ریڈی پورے پیسے واپس کر دیا ، پوچمّاں اصل رقم دے دی ، سود شام کو لاتی بولی ، وہ شیخ لعل ہے نا بھائی ، ارے وہیچ جو سپنا ہیر سلون کے پیچھے رہتا ، میرے کو دیکھ کے بھاگنے لگا ، میں چیل کے جیسا اُس پر جھپٹا اور پورا قرضہ وصول کرلیا بھائی ، اور وہ نرسمہا ہے نا ۔۔۔ اُس کے پیسے میں چھین لیا تو اُن نے رو رہا تھا ۔ کاہے کو بولے تو کتے بچّے کے امتحان کی فیس بھرنا تھی ۔۔۔ ارے ہم کو کیا کرنا ہے ۔۔۔ ہے نا بھائی ۔۔۔! ‘‘ 
’’ رمضانی تم ہے سو مسلمان ہے نا ۔۔۔؟ ارے اللہ میاں حکم دیا نا کہ علم کو عام کرو ، اور تم اُس کو پڑھنے سے روک دیے ۔۔۔؟ ابھی جاؤ اور نرسمہا کو میرے پاس بھیج دو ۔۔۔ میرے کو تمہارا یہ کام ہے سو پسند نہیں آیا ۔۔۔! ‘‘ 
’’ بہت اچّھا بھائی ۔۔۔آگے سنو ۔۔۔! ‘‘ 
ابودادا نے اُس کی طرف دیکھا تو وہ پھر شروع ہوگیا ، ’’ وہ چندن ہے نا بھائی ۔۔۔ بس دیکھو اُن نے میرے ہاتھ سے نکل گیا ۔ بہت ڈھونڈا اُس کو کہاں چھپ گیا کیا ہے کی ۔۔۔ اور بھائی وہ فارن ماڈل ۔۔۔! ‘‘ 
’’ تم کو اُس کے پاس جانے کا بولا تھا میں ۔۔۔؟ ‘‘ ابو دادا کی آنکھیں چڑھ گئیں ۔ 
’’ ارے میں کدھر اُدھر گیا ۔ بھائی بس تم کو یاد دلادیا ۔۔۔! ‘‘ 
ابو خاموش ہوگیا ۔ اس کے دماغ میں پھر فلیش شروع ہوگئے تھے ۔
’’ بھائی میں سوب سمجھ رؤں ۔ آپ اُس لونڈیا سے پیسے کیوں نہیں وصول کر رہے ۔۔۔! ‘‘ رمضانی نے سیدھی آنکھ دبائی اور اس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی ۔ 
’’ ارے نہیں رے ۔۔۔! ‘‘ ابو نے جھینپتے ہوئے جواب دیا ، ’’ ابودادا نے آج تک کسی پر ایک دمڑی بھی نہیں چھوڑا ۔۔۔! ‘‘ 
’’ ہوبھئی ۔۔۔ ! میں شانتی کو بھی ایسے ہی رات کو آپ کے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔! ‘‘ 
’’ آں ۔۔۔‘‘ ابو نے چونک کر رمضانی کی طرف دیکھا ، ’’ تم رات کو میرے گھر کے سامنے کیا کررہے تھے ۔۔۔؟ ‘‘
’’ ارے کون کیا کر سکتا ہے ۔۔۔؟ جو میری ہمت ۔۔ بھائی میں پکچر دیکھ کر واپس آرہا تھا ۔۔۔ مگر بھائی وہ فارِن ماڈل کی بات ہی کچھ اور ہے ۔۔‘‘ رمضانی نے کہنے کو تو یہ جملہ کہہ دیا تھا لیکن اُسے ڈر بھی محسوس ہورہا تھا ۔ اُس نے ڈرتے ڈرتے دادا کی طرف دیکھا لیکن دادا وہاں پر کہاں موجود تھا ۔ وہ تو ماریا برونٹ کے ساتھ دور کہیں تصّورات کی وادیوں میں پہنچ چکا تھا ۔ 
رمضانی کچھ دیر تک چپ چاپ اُسے دیکھتا رہا اور پھر بیٹھک سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
’’ ارے اِبّو بھائی ۔۔۔! ‘‘ اچانک سوامی بیٹھک میں داخل ہوا ، ’’ وہ بھوری بھینس بہت الڈا رہی ہے ۔ مانج پر آگئی ہے لگتا ۔ اُس کا انتظام کرنا ہی ہڑے گا ۔۔۔! ‘‘ 
’’ بھوری بھینس ۔۔۔! ‘‘ ابو دادا نے من ہی من میں دُہرایا ۔ جانور بھی خوب ہوتے ہیں ۔ اپنے کسی جذبے کے لیے اُنھیں کسی پردے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ اظہار کے لیے کوئی تکلف نہیں ۔۔۔ ایک بھوری کا میں بھی انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔ مگر ۔۔۔ وہ چپ چاپ اُٹھا اور سوامی کے ساتھ ہولیا ۔ جھونپڑیوں کے باہر زندگی بہہ رہی تھی ۔ کوئی چولھے کے سامنے تھا ، کوئی کپڑے دھو رہا تھا ، کوئی اناج چُن رہا تھا تو کوئی کپڑوں کے پردوں کی آڑ میں نہا رہا تھا ۔ پالتو کُتّے اور بکریاں اِدھر اُدھر منہ مار رہے تھے ۔ مرغ بے وقت اذانیں دے رہے تھے اور ابو دادا کی نظریں کنگال نواب کی دیوڑھی کے اُ سی حصّے پر ٹِکی ہوئی تھیں ۔ بستی کی کنواری لڑکیاں چور نظروں سے کبھی ابو دادا کی طرف اور کبھی طبیلے سے آتی ہوئی بھوری بھینس کے سوز میں ڈوبی ہوئی آوازوں کو سُن رہی تھیں ۔ 
وہ دونوں طبیلے میں پہنچے ۔ کشور جانور لانے چلا گیا تھا ۔ سوامی نے بانسوں کے جنگلے میں بھوری بھینس کو پھنسا دیا تھا ۔ اُس کے ڈکرانے کی آوازیں بدستور جاری تھیں ۔ ابو دادا نے طبیلے کی ٹوٹی دیوار سے گردن اوپر کی تو اُس کی نتھنوں میں ماریا برونٹ کے پرفیوم کی مست کردینے والی خوشبو مہکنے لگی ۔ وہ گردن اونچی کیے اُسی طرف بہت دیر تک اُس خوشبو کو سونگھتا رہا ۔ اُس کے پورے بدن میں ایک ہیجان سا پیدا ہوگیا اور آنکھیں خمار سے بھاری ہونے لگیں ۔ اُس نے پھر ایک بار بھوری بھینس کی طرف دیکھا تو اُسے وہ نظر آیا جو کسی اور کو نظر ہی نہیں آسکتا تھا ۔ وہ وہاں سے چپ چاپ اپنی بیٹھک کی طرف لوٹ آیا اور کرسی پر ڈھیر ہوگیا لیکن پرفیوم کی خوشبو اب بھی اُس کے نتھنوں میں مہک رہی تھی ۔ اُس نے پھر ایک بار اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اپنی تصوراتی وادیوں کی طرف نکل گیا ۔۔۔ دور ۔۔۔ بہت دور ۔۔۔ بہت دور ۔۔۔
اچانک اُس کے کانوں میں بھوری بھینس کے ڈکرانے کی آوازگونجی اور اُس نے فوراً اپنی آنکھیں کھول دیں ۔ سامنے ماریا برونٹ کھڑی تھی ۔ اُس نے دروازہ بھی بند کر لیا تھا ۔ 
’’ آپ۔۔۔آپ ۔۔۔! ‘‘ وہ بُری طرح ہکلایا ۔ 
ماریا برونٹ کے چہرے پر آج کچھ اور ہی تھا ۔ 
بھوری بھینس پھر ایک بار ڈکرائی ۔ 
ابودادا کی ٹانگوں میں عجیب سی اکڑن بیدار ہونے لگی ۔ 
’’ مین (MAN ) ہم جانتا ہے ۔ آج جمعہ کا دن نہیں ہے ۔امارا روپیہ نہیں آیا ، اور اب کبھی آئے گا بھی نہیں ۔۔۔! ‘‘ اُس کی آواز بھراگئی ، ’’ کیونکہ امارا ڈیڈی مر گیا اور ہم کو لندن واپس جانا مانگتا ۔۔۔‘‘ 
منی اسکرٹ کے باہر اُس کی ننگی خوبصورت ٹانگیں مسلسل پہلو بدل رہی تھیں اور ابو دادا کا خون کسی سیلاب کی مانند بدن کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا ۔ 
’’ مین۔۔۔ ہم انگریز کمیونٹی کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتی ۔ امارے پاس جو کچھ تھا اُس سے ام سب کا پے منٹ ( payment) کردیا ۔ ابھی تمہارا پے منٹ کرنے امارے پاس روپیہ نہیں ہے ۔ ام جانتا ۔۔۔تم روپیہ کے بدلے ام سے کیا چیز لے گا ۔ ام وہ تم کو انٹریسٹ کے ساتھ دینے کو آیا ہے ۔۔۔کم آن ۔۔۔ وصول کرلو ۔۔۔! ‘‘ 
اُس کے ہاتھ تیزی سے ٹاپ کے بٹنوں کی طرف اُٹھے اور وہ اُنھیں ایک ایک کر کے کھولنے لگی ۔ ابو دادا تیزی سے کرسی پر سے اُٹھا ۔ اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔ وہ آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھنے لگا ۔ ماریا برونٹ نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے ۔ ابو اس کے قریب پہنچا پھر اُس کے ہاتھ اُس کے ٹاپ کی طرف بڑھے ۔
بھوری بھینس کا گلا رُندھ گیا تھا ۔ 
اِبو دادا نے اُس کے کھلے بٹنوں کو ایک ایک کرکے بند کرنا شروع کیا ۔ وہ حیرت سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ ابو کے چہرے پراب بھی وہی مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔ پھر اُس نے آہستہ سے کہا ، ’’ ماریا ۔۔۔ ہم بھی مسلمان ہیں ۔۔۔کلمہ گو ۔۔۔ کس چیز کی کیا قیمت ہوتی ہے وہ ہم بھی جانتا ہے ۔۔۔! ‘‘ پھر اُس نے اُس کے ہاتھ کو آہستہ سے پکڑا ۔ دروازہ کھولا اور اُسے نہایت خلوص کے ساتھ باہر کردیا ۔ 
ماریا نے جاتے جاتے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا ۔ اُس کے چہرے پر آج کچھ اور ہی مسکراہٹ تھی ۔ اُس نے پھر ایک ادائے خاص سے ہاتھ ہلا کر ابودادا کو خدا حافظ کہا اور اپنے قدموں کی رفتار بڑھا دی ۔ 
ابو کی آنکھوں میں ماریابرونٹ کی مسکراہٹ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ساکت ہوگئی ۔۔۔۔ 

**** 
NOORUL HUSNAIN
1-12-31 PRAGATI COLONY
GHATI 
AURANGABAD 431001 (M S )