Skip to main content

Aalamiparwaz

بازار   

عبد الحلیم
مکان نمبر ۱۲ کراس روڈ نمبر ۶ ۔ ڈی
آزاد نگر مانگو جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰
جھاڑ کھنڈ انڈیا
E mail – khan.halim026@gmail.com 

           *شام کا وقت تھا ۔میں بازار کے چوراہے پر کھڑا اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا ۔
بازارمیں چاروں طرف شوروغل مچی ہوئی تھی ۔لوگ اپنے اپنے کا موں میں مصروف تھے 
اور میرا ذہن بہت ہی اُلجھن میں تھا …………کہ اچانک میرے پاؤں کے تلے سے کا غذ کو کسی نے کھینچا۔ چونک کر میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو….. میں دیکھتا ہی رہ گیا…………
جیسے بادلوں میں چھپا ہوا چاند 
سوکھی جھاڑمیں کھلا ہوا ایک گلاب
سیب کے مانند…………گال 
گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہو نٹ
کالے بادل کی طرح گھنے گیسو
میلے وکچیلے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں سے جھانکتا ہوا اس کاگوراجسم، جیسے سنگ مر مر سے تراشاگیا ہو ۔
مگر….
اس کی غربت اس کی ساری خوبصورتی کو چھپارہی تھی۔
اس نے بڑے عاجزی سے مجھے پاؤں ہٹانے کو کہا۔
میں نے پاؤں ہٹاتے ہوئے اس سے پوچھا…………

’’کیا تم روزانہ کاغذ چنتی ہو؟‘‘
’’ہاں ……….بابو جی ۔‘‘
’’ کیا تمہارا اس سے گذاراہو جاتاہے؟‘‘
’’کبھی کبھی تو بھو کا ہی سو ناپڑتاہے….‘‘
’’کیوں……؟‘‘
’’کیوں کہ کبھی تو میرے ساتھی ہی بازی مارجا تے ہیں۔ تو کبھی کبھی منشپلٹی والے…………‘‘
’’تو اس روز…؟‘‘
’’اس روز کیابابو جی ……بھوکی ہی سوجاتی ہوں۔‘‘
’’تمہارے ماں باپ……؟‘‘
’’ماں توہے۔‘‘
’’اورباپ…..؟‘‘
’’باپ کا پتہ نہیں ……………کون ہے۔‘‘
’’تمہارا گھر کہاں ہے۔؟‘‘
’’ یہ بازار ہی میراگھر ہے بابوجی۔‘‘
’’پھر سوتی کہاں ہو…..؟‘‘
’’جہاں رات ہوگئی وہیں سو جاتی ہوں۔‘‘
مجھے اس کی باتوں پرترس آیا ۔میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ میر ے دوست کی کار آگئی ۔
کار میں بیٹھتے ہوئے اپنی جیب سے چند روپئے نکال کردیاہی تھا کہ اس کے ارد گرد ننگے بھو کے بچے گھو منے لگے ۔ وہ میر ے کا ر کے دروازے کو پکڑے ہوئے مجھے تکتی رہی…..
پھر وہ یکایک بولی ……
’’ہا ں بابوجی کہاں چلناہے……………؟‘‘
اور میری آنکھیں حیران تھیں……..

****

عبد الحلیم 
مکان نمبر ۱۲ کراس روڈ نمبر ۶ ۔ ڈی
آزاد نگر مانگو جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰
جھار کھنڈ انڈیا
E mail – khan.halim026@gmail.com 

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے