Skip to main content

Aalamiparwaz

ابّو نمبر وَن : اشتیاق سعید

ابّو نمبر وَن

اشتیاق سعید
E-Mail : ishtiyaquesaeed@rediffmail.com 

وہ گہری نیند سورہی تھی کہ اچانک سیل فون گھنگھنایا۔وہ چونک کر اُٹھ بیٹھی ۔کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا ، صبح کے چار کا عمل تھا۔ پھر فون اُٹھا کر دیکھا تو اسکرین پر اُس کی اپنی سولہ سالہ بیٹی نازنین کا نام فلیش ہورہا تھا۔اُس کے چہرے پر تشویش کا سایہ لہرانے لگا تاہم وہ کال ریسیو کرنے سے قبل اپنے پہلو میں لیٹے شخص کا بھر پور جائزہ لینے لگی ،جس کے مدھم مدھم خراٹوں کی گونج گھوڑا بیچ کر سونے والے محاورے کی دلیل پیش کر رہے تھے۔جب اُسے مکمل طور پر اطمینان ہوگیا کہ اس کے پہلو میں موجود شخص دُنیا و ما فیہا سے بیگانہ ہے تو اس نے سیل فون کا گرین بٹن آہستہ سے دبا دیا اور فون کو کان سے مَس کرتے ہوئے غالباً سر گوشی والے انداز میں کہا۔ ’’ بول نازو ‘‘۔
’’امّی ۔۔۔کہاں ہو تم ؟ جلدی گھر آؤ‘‘۔ مخالف سمت سے گھبرائی ہوئی آواز گونجی۔
’’ کیوں ؟ بات کیا ہے ؟‘‘ ۔ اُس کا چہرہ سراپا سوال بن گیا۔
’’ ارے بابا ۔۔۔ابّو آئے ہیں ‘‘۔ نازنین کی آواز میں جھنجھلاہٹ در آئی تھی۔
’’ابّو ؟؟ بیٹا ابّو تو میرے ساتھ ہیں ‘‘۔ وہ پھسپھسائی۔
’’اوہ شیٹ ‘‘۔ نازنین جِز بز ہوگئی۔ ’’ ابھی ابھی لینڈ لائن پر ابّو کا فون آیا ہے، وہ گلف ائیر لائنز سے سہار ائیر پورٹ پر اُتر چُکے ہیں۔
’’سہار ائیر پورٹ پر اُتر چکے ہیں ! کون ؟ کہیں تُو معراج کی تو بات نہیں کر رہی ہے۔ پھر بھلا وہ ابھی کیسے آسکتے ہیں ؟‘‘۔
’’ پلیز ڈونٹ بی اے گیس ۔۔۔ اٹکلیں مت لگاؤ امّی ۔۔۔میں معراج ، سجّاد اور اخلاق جیسے پارٹ ٹائمر ابّوؤں کی نہیں بلکہ تمھارے لائف پارٹنر اور اپنے ابّو نمبر وَن کی بات کررہی ہوں۔‘‘

*****

اوور ایج
اشتیاق سعید

لڑکی سولہ سال کی تھی،لڑکا اٹھارہ سال کا۔لڑکا مسلسل کئی دنوں تک اُسے فرینڈ ریکویسٹ بھیجتا رہا ،اور وہ اُسے اِگنور (Ignore)کرتی رہی۔ ایک دِن لڑکے نے کالج سے آتے ہوئے اُسے راستے میں روک لیا اور پوچھا۔ ’’کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟‘‘۔
’’نہیں تو!‘‘ ۔ لڑکی استعجابیہ لہجے میں بولی۔
’’پھر تم میری ریکویسٹ ( Request)ایکسیپٹ (Accept)کیوں نہیں کرتیں؟‘‘۔ لڑکا استہفامیہ لہجے میں بولا۔
’’کروں گی نا‘‘۔ لڑکی اٹھلاتی ہوئی بولی۔
’’لیکن کب؟‘‘۔ لڑکا بے تابانہ لہجے میں پوچھا۔
’’ دوسال بعد ،جب میں اٹھارہ کی ہوجاؤں گی‘‘۔لڑکی شرماتی ہوئی بولی۔
’’دو سال بعد کیوں، ابھی کیوں نہیں؟‘‘۔لڑکا اُسے چبھتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
لڑکی جھینپتی آواز میں استفسار کی۔’’ کیا تمھیں نہیں پتہ اٹھارہ سال مکمل ہونے پر ہی لڑکیاں سرکاری طور پر بالغ ہوتی ہیں ؟ ‘‘۔
لڑکا ہنسنے لگا۔’’ ارے ! تم بھی کہاں سرکار کے چکّر میں آگئیں۔ سرکار تو اپنا ووٹ بنک بنانے کے لیے ایسا کہتی ہے‘‘۔
’’ نہیں نہیں ، ایسا نہیں ہے۔۔۔پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی تو اٹھارہ پورا ہونے ہی پر(Issue) کئے جاتے ہیں‘‘۔لڑکی چمکتی آواز میں بولی۔
’’ لیکن فرینڈ ریکویسٹ ایکسیپٹ کرنے کے لیے لائسنس کی قطعاً ضرورت نہیں‘‘۔ لڑکا طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’ آئی نو ۔۔آئی نو ، بٹ۔۔۔سوری !‘‘۔ لڑکی بھن بھناتی آواز میں بولتی ہوئی جانے لگی۔
’’ ارے ارے! ۔۔۔سُنو ۔۔۔سُنو تو۔۔۔۔‘‘۔
لڑکا آوازیں دیتا رہا، لیکن لڑکی آگے اور آگے بڑھتی چلی گئی۔۔۔پھر اسی طرح بڑھتے بڑھتے اٹھارہ کیا ،بیس بھی پار کر گئی۔ اِس دوران اُس نے کئی لڑکوں کو فرینڈ ریکویسٹ بھی بھیجی،لیکن سبھی اُس کی پروفائل دیکھ کر اُسے اِگنور کردیتے تھے۔اِس طرح متواتر اِگنور کردیے جانے سے اندر ہی اندر جھلّانے لگی تھی،پھر رفتہ رفتہ جھلّاہٹ چڑچڑاہٹ میں بدل گئی۔
ایک روز ایک خوبرو لڑکااُسے اِگنور کرکے جانے لگا تو ،وہ لپک کر اُس کا راستہ روک لی اور تُنک کر بولی۔
’’کیا کمی ہے مجھ میں،جو تم میری ریکویسٹ کو اسقدر بے رُخی سے اِگنور کرکے جارہے ہو؟‘‘۔
لڑکا پہلے تو اُس کے سراپا کا بھر پور جائزہ لیا،پھر سوالیہ لہجے میں گویا ہوا۔’’ میڈم، کیا آپ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ آپ کی عمر فرینڈ شِپ کی عمر سے تجاوز کر گئی ہے؟‘‘۔
’’کیا !‘‘۔ لڑکی ایسے چونکی جیسے اُسے کسی نے گہری نیند سے جگا دیا ہو۔

*****

Ishtiyaque Saeed
177/1A, Ayesha Manzil, Pipe Road, Kurla, Mumbai-400 070.
Cell. : 09224799971 
E-Mail : ishtiyaquesaeed@rediffmail.com

خبر ہونے تک : خورشید حیات

خبر ہونے تک 
خورشید حیات 

میں نے جب کبھی حقیقت کا سامنا کرنا چاہا ہے تو خود کو اپاہج محسوس کیا ہے۔ انسان، کتنا بے بس ہے، وقت کے ہاتھوں کا کھلونا، اس پر یہ تیور کہ میں انقلاب لا سکتا ہوں۔ زندگی تیز رفتار سے چلتی رہتی ہے اور انسان خواب اور حقیقت کے دو راہے سے گذرتارہتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر خواب ایک حقیقت ہے اور کبھی لگتا ہے کہ ہر حقیقت ایک خواب ہے ۔ یہ گتھی بھی عجیب ہے۔
کیا کہیں ہم زندگی کو ؟ 
زندگی کو فرصت نہیں اپنے کاروربار سے کبھی زندگی آگے تو کبھی ہم پیچھے، کبھی ہم آگے تو زندگی پیچھے۔ بھیڑ چلی جارہی ہے تیز دھوپ میں، بارش میں، منزل کا پتہ نہیں۔ ہم بھیڑ کوروک کیوں نہیں دیتے؟
میں = ہم ، اور ہم =ہم سب۔
ہم ہم نہیں رہے۔ زندگی کی کڑوی سچائیوں کو پانی کی طرح پی رہے ہیں اور جی رہے ہیں ایک اپاہج کی طرح۔ شہروں نے دیہاتوں میں بسنے والی آبادی کی خوشیاں چھین لی، انکے حصے کی روشنی چھین لی۔ دیہاتوں میں اب کیا رہ گیا ۔ ہمارے قدم اب گاؤں کی طر ف نہیں بڑھتے۔ دادا کی حویلی سنسان ہوتی جارہی ہے اور پیپل کا پیڑ خاموش ہے۔
لوگوں کا ہجوم گاؤں سے شہر کی طرف بھاگا جا رہا ہے سکون کی تلاش میں، مگر شہر نے انھیں کیادیا۔ ٹاٹ میں لپٹی زندہ لاشیں، کوڑے کے ڈھیر میں اپنا مستقبل تلاش کرتے معصوم بچے ، اور بھی بہت کچھ!
ہم سب زندہ لاشیں ہیں جن کے ہاتھ میں قلم ہے وہ بھی، کیوں کہ انکے قلم سے نکلنے والے لفظ اپنا معنی کھو تے جارہے ہیں اور ہمارا احساس مردہ ہو چکا ہے۔
ابھی میں یہ سب غور کر ہی رہا تھا کہ اچانک نظروں کے سامنے سے کئی تصویریں گذرنے لگیں۔
ایک انسان کے دو ہاتھ غائب تھے۔
ایک انسا ن کوڑھی تھابالکل گلا ہوا۔ چلنے پھرنے سے مجبور۔
ایک انسان کی ٹانگیں نہیں تھیں اور وہ ٹرالی چلانے والے کے ذریعہ لے جایا جارہا تھا۔
ایک کا چہرہ مسخ تھا۔
اور ایک کی آنکھیں نہیں تھیں۔۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔
یہ اپاہجوں کی ٹولی بس ایک سمت میں رواں تھی اور میری آنکھیں ان کا محاصرہ کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔ دماغ یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب قدرت کے خواب کی تعبیر یں ہیں۔
خواب جھوٹا۔تعبیر حقیقی!
قدرت کہانی گڑھ رہی تھی فطرت کہانی سن رہی تھی۔ انسان اس کی کہانی میں مختلف رول ادا کر رہا تھا۔ کبھی بیمار اور کبھی مسیحا ۔ خود ہی درد بھی ہے، خود ہی درد کا مد اوابھی۔
خوف اور سراسمیگی کی فضا چھاتی جارہی تھی۔ تاریکیاں بڑھ رہی تھیں۔ مگر انسان کی کاوشیں بھی اپنی جگہ قائم تھیں۔ پنڈال پر لکھا ہوا ’’اپاہجوں کابین الاقوامی سال‘‘ بین الاقوامی سطح پر اپاہجوں کے مسائل کا حل پیش کرنا چاہتاتھا۔ مگر اسی دم بیک وقت کئی آوازیں کانوں کوسنائی دینے لگیں۔
مجھے ہاتھ دو۔۔۔۔۔
میرا کوڑھ دور کرو۔۔۔۔۔
میرا چہراہ مجھے واپس لادو۔۔۔۔
مجھ کو آنکھیں دو ۔۔۔۔
آواز تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی۔ پورا پنڈال گونج رہا تھا، اور میں محسوس کررہاتھا کہ میرا دماغ ماؤف ہورہا ہے۔ ذہن میں کوئی حل نہیں باقی رہ گیا تھا۔ عالم بے چارگی میں ۔ میں نے مائک پر آکر اعلان کیا، ہمارے بادشاہ نے اپاہجوں کے لئے کمبل کا انتظام کیا ہے۔
ابھی میرا اعلان مکمل بھی نہ ہو پایا تھا کہ بھیڑ میں سے ایک شخص اٹھا اور چیخ چیخ کر گانے اور ناچنے لگا۔ وہ پاگل تھا اور اسے دماغ کی ضرورت تھی۔ میں وہ دماغ اسے کہاں سے دیتا۔ جس دماغ سے وہ سردی اور گرمی کا احساس کرپاتا۔ اس کے لئے کمبل لایعنی تھے۔
اس وقت مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ انسان، انسان کہاں رہ گیاہے۔ وہ تو اپاہج ہوچکا ہے۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے ہیں اس کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں۔ اس کا چہرہ مسخ ہے۔ آنکھیں بے نور ہیں اور دماغ۔۔۔ دماغ مفلوج۔۔۔احساس سے پرے۔۔۔خیالات سے ماورا!

***
خورشید حیات
کوارٹر نمبر: 16/3
New N.E. Colony
Bilaspur- 495004

آسیب : شاہین خان

کچھ دنوں پہلے جب مہتاب عالم پرویز نے یہ اطلاع دی تھی کہ’’عالمی پرواز‘‘کے نام سے میں ایک اردو پورٹل لاؤنچ کررہا ہوں تو میں نے اس خبر کو سرسری طور پر لیا تھا پر کچھ دنوں کے بعد ہی یہ بات حقیقت کا روپ دھار کر میرے سامنے مجسم ہو گئی اور میں اس وقت بھی جب میں نے اس خبر کو عام سمجھاتھا کہیں نہ کہیں میرے دل کے نہاں خانوں میں یہ بات ضرور تھی کے یہ مہتاب عالم پرویز ہیں جو اپنی ضد سے راہ میں آنے والی ساری مشکلوں کو ،رکاوٹوں کو ہموارکرکے اپناایک الگ مقام بنانا جانتے ہیں…………..۔
مہتاب عالم پرویز ایک منجھے ہوئے افسانہ نگارہیں جنہوں نے جھارکھنڈ میں محترم جناب اسلم بدر کے ذاتی ویب سائٹ کے بعد پہلی بار اردو ادب کی خدمت کے لئے اپنا اردو پورٹل لاؤنچ کیا ہے…….منزل کبھی بھی کسی کو اتنی آسانی سے نہیں ملتی ہر راہ پر لوگوں کی تمسخرانہ نگاہیں، طنزیہ باتیں قدموں کو ڈگمگانے کے لئے تیار رہتی ہیں پر جس کے دل میں منزل کو پانے کی سچی لگن اور جس کی فطرت میں جدوجہد کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہو وہ اپنی معراج کو پا ہی لیتا ہے۔ 
میری دعا ہے کہ مہتاب عالم پرویز کامیابیوں کی ساری منزلیں اسی طرح سے طے کرتے رہیں،اور ان کی ادب کی یہ خدمت ہمیشہ جاری رہے………انشااللہ……۔

شاہین خان

آسیب
شاہین خان
روڈ نمبر ۱۳، مکان نمبر ۱۶ ، آزاد نگر مانگو ، جمشید پور ۔۸۳۲۱۱۰

ماحول میں پھیلے اندھیرے کو جھینگروں کی آواز کے ارتعاش نے کچھ اور بھیانک بنا دیا تھا۔روشنی کی ایک ہلکی سی لکیر بھی نہیں تھی۔ارقم طاہر نے ایک بار پھرموبائیل کو الٹ پلٹ کر دیکھا تھا نجانے یہ چھوٹی سی جادو کی ڈبیا کیسے بند ہو گئی تھی اور روشنی کرنے کا ہلکا سا آسرا بھی ختم ہو گیا تھا۔
’’پلیز کوئی ہے،کوئی ہے،پلیز لائیٹ جلاؤ۔‘‘وہ چلایا تھا،وہ بزدل ہرگز نہیں تھا پر آج جس طرح کا ماحول وہ دیکھ رہا تھا اس نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا،وہ پچھلے پندرہ دنوں سے اس قدیم طرز کی بنی ہوئی حویلی میں قیام کئے ہوئے تھاپر اماں بی،بھائی جان،بھابی،ابو اور تین بچوں کے درمیان کبھی بھی ہلکی سی خوف بھی اس نے محسوس نہیں کی تھی اور آج جب سب لوگ خاندان کی ایک خاص شادی میں شرکت کے لئے جارہے تھے تو اسے بھی سب نے کتنا کہا تھاپر وہ خود تو اس راز کوجاننا چاہتا تھااس لئے جان بوجھ کر نہیں گیا تھا۔
’’پر ارقم تم اکیلے کیسے رہوگے‘‘۔اماں بی پریشانی سی بولیں۔
’’میں رہ لوں گا،آپ لوگ آرام سے جائیں۔‘‘وہ جلدی سے بولا۔
’’ہر گز نہیں تم اکیلے نہیں رہ سکتے۔‘‘وہ قطعیت سے بولیں۔
’’ٹھیک ہے میں پاس ہی اسلم ماسٹر کے گھر میں رہ لوں گا پر خاندان کی اس بورنگ شادی میں نہیں جاؤں گا۔‘‘وہ جلدی سے بولا وہ کسی طرح سے بھی یہ موقع چھوڑنا نہیں چاہتا تھا،پر پھر بھی کافی حجت کے بعد ہی اسے اجازت ملی تھی۔
’’جب ہم لوگ کل آئیں گے تب ہی گھر آنا۔‘‘اماں بی کی تاکید تھی،اور وہ فرمانبردار بنااثبات میں سر ہلا رہا تھا،پر جیسے ہی سورج نے اپنا رخت سفر باندھا وہ بھی اسلم ماسٹر کو چکمہ دے کر حویلی کے پاس آگیا تھا،بڑے سے آہنی گیٹ پر تالا لگا ہوا تھاپر چار فٹ اونچی دیوار کودنا کچھ مشکل نہیں تھااور دوسرے ہی پل وہ اندر تھا،باقی کچن کی ٹوٹی جالی سے وہ گھر کے اندر پہنچ گیا تھاپر اندرپھیلے گھپ اندھیرے نے اس کے اوسان خطا کر دئے تھے،وہ پچھلے دس سالوں سے اسٹیٹ میں رہ رہاتھا،جب اس نے میٹرک کیا تھا تب ہی اس کے ماموں باقی کی پڑھائی کے لئے اسے لے گئے تھے ان دس سالوں وہ صرف تین دفعہ گھر آیا تھا پہلے دو بار دونوں بھائیوں کی شادی اور پھر تین سال پہلے منجھلے بھیا کی حادثاتی موت پر آیا تھا۔پر اس بار جب وہ ہمیشہ کے لئے گھر آگیا تھا تو اسے اپنا گھر بہت الگ سا لگ رہا تھا،
’’اماں طوبی بھابی کہاں ہیں۔؟‘‘تین دن بعد اس نے پوچھا تھا۔
’’وہ اپنے میکے میں رہتی ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا،پھر وہ چپ ہوگیا،طوبی بھابھی کو جب ارقم نے پہلی بار دیکھا تھا تو حیران رہ گیا تھاایک نازک سی کلی کی طرح وہ کمسن سی دوشیزہ بامشکل سولہ سال کی لگ رہی تھی۔
’’اتنی چھوٹی…….‘‘وہ بیساختہ بولا۔
’’ہاں تیرا بھائی دیوانہ ہوگیا تھا‘‘اماں نے بتایا۔اسے دیکھ کر میرا بھائی تو کیا کوئی بھی دیوانہ ہو سکتا ہے اس وقت ارقم یہی سوچ رہاتھا۔
’’وہاں پر کوئی ہے کیا…..‘‘اندھیرے میں کسی کی آواز گونجی تھی اور ارقم جیسے حال میں واپس آگیا تھا اور اس کے رہے سہے 

اوسان بھی گم ہونے لگے تھے۔وہ ڈرا تھا تو کیا سب سچ کہتے ہیں،بھابی،اماں بی سب نے ہی تو کہا تھا کی اوپر والے کمرے میں آسیب کا سایہ آگیا ہے۔
’’واٹ نان سینس آسیب مائی فٹ‘‘۔وہ سر جھٹک کربولا تھا۔
’’ارقم ہر بات مذاق نہیں ہوتی،میں تم سے کہہ رہی ہوں بس اوپر اس کمرے کی طرف تمہیں دیکھنا بھی نہیں ہے۔‘‘اماں بی کی آواز بے لچک تھی،وہ دل میں نہ ماننے کے باوجود اس وقت خاموش ہوگیا تھا۔پھر اسے اپنے گھر کیا ہر رشتہ دار اورگاؤں کے ہر شخص نے اس آسیب سے جوڑی ایک کہانی تو سنائی ہی تھی،اور وہ ان کی جاہلیت پر ہنس دیا تھابھلا اس الکٹرانک زمانے میں آسیب وغیرہ کچھ ہوتا ہے کیا نان سینس……………………..
پر اب وہ خود اکیسویں صدی کا ایک پڑھا لکھا ماڈرن لڑکا پسینے میں بھیگا تھر تھر کانپ رہا تھا،ہلکی سی موم بتی کی مدھم سی روشنی کا گول ہالہ دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھ رہا تھااور ویسے ہی اس کی سانس گھٹ رہی تھی……………….وہ چیخنا چاہتا تھا پر آواز اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئی تھی……………….اس کی نظر فرش پر ساکت تھی جب کوئی بالکل اس کے سامنے آکر رکا تھا…………………سفید ساری میں مومی مجسمے کی طرح کھلے بالوں کے ساتھ کھڑی وہ لڑکی اس کی موت بن کر آئی تھی……………………….اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی تھیں اور دل میں استغفار کا ورد کرنا چاہا تھا پر ہر لفظ غلط ہورہا تھا……………………..۔
’’ارقم…….‘‘تب ہی آسیب نے اسے پکارا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ بے ہوش ہوجاتا نجانے کون سی انجانی قوت نے اسے آنکھیں کھولنے کی طاقت بخشی تھی شاید اسے اپنی موت کا یقین ہوگیا تھا اور ایک بار وہ اپنی موت کو دیکھنا چاہتا تھاپر سامنے جو چہرہ تھا وہ اسے ششدر کر گیا۔
’’ارقم کیا ہوا‘‘وہ ہولے سے بولی۔
’’طو …..طوبی……….بھ……بھا…….بی‘‘اس کے ہونٹ ہلے تھے۔اور آنکھیں پھٹ گئی تھیں۔
’’ہاں۔‘‘وہ مسکائی اور آگے بڑھ کر سینٹر ٹیبل پر رکھے کینڈل اسٹینڈ کے سارے کینڈلز جلادئے اب کافی روشنی ہو گئی تھی اور ارقم طاہر آنکھیں پھاڑے طوبی کو دیکھ رہا تھا……….۔
’’و…..وہ………آ……….آسیب………..‘‘وہ بولا۔
’’آسیب دیکھ لو میں ہی ہوں وہ آسیب جس کے قصے آپ نے سنے ہیں۔میں ایک آسیب ہی تو ہوں۔وہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی پر اس کی مسکان بڑی درد بھری تھی’’ہاں ارقم ایک بیوہ ایک آسیب ہی ہوتی ہے،میں وہ منحوس ہوں جس نے محض نو مہینے میں اپنے شوہر کو مار دیا،ہاں وہ حادثہ نہیں تھا بلکہ میری منحوسیت کا سایہ تھا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی.‘‘……………وہ سسک رہی تھی اور ارقم حیرانی سے سن رہا تھا جب وہ مزید بولی’’جانتے ہو میں خود کتنی بزدل تھی،میں کبھی بھی اکیلے گھر میں نہیں رہ سکتی تھی پر جب میں بیوہ ہوئی سب نے مجھے اچھوت سمجھ لیااور اوپر والے اس کمرے میں قید کردیا،خاندان کے بہت سے لڑکے میرے حسن کی وجہ سے مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے پر نہیں میں سب کوپھانس رہی ہوں اور میری منحوسیت سب کو کھا نہ جائے یہی سوچ کر مجھے آسیب مشہور کر کے قیدی بنادیا گیا………..بتاؤ کوئی انسان کسی کو مارنے کی طاقت رکھتا ہے،پہلے میں بہت روتی تھی ،بے انتہا ڈر بھی لگتا تھاپر اب نہیں کیونکہ کوئی بھوت پریت یا آسیب انسان سے بھیانک نہیں ہوسکتا کیونکہ انسان روح کو زخمی کرتا ہے اور یہ صلاحیت کسی میں نہیں ہے ،میں انسانوں سے ڈرتی ہوں……….یہ اچھے لوگ جو اپنے چہروں پر ماسک لگائے گھومتے ہیں میں ان سے ڈ رتی ہوں‘‘طوبی بھابی کی سسکیاں اس کی سماعتوں پر عجیب سا اثر کر رہی تھی،ان کی کرب میں ڈوبی وہ مسکان اس کی پتلیوں میں قید ہو گئی تھی،اتنی کم سنی میں ایسا دکھ………………………..وہ ان کے چہرے کو یک ٹک دیکھ رہا تھااور پھر اچانک اس نے طوبی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا وہ رونا بھول کر اسے حیرانی 

سے حیرانی سے تکنے لگی تھی۔
’’ارقم‘‘اس کے ہونٹ ہلے۔
’’آپ سے کوئی بھی بات یا وعدہ نہیں کرنا چاہتا ہوں بس اتنا جان لیں ارقم اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرتا‘‘اس کے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے اور لہجہ میں چٹانوں سی مضبوطی تھی۔
ارقم کون سے فیصلے کی بات کررہا ہے کہیں مجھے پھر سے طنز کے تیروں سے لہولہان نہ ہونا پڑے آخر میں نے ارقم کو ساری باتیں کیوں بتائیں شاید میرے ضبط کا پیمانہ بھر گیا تھا پر اب کیا کوئی طوفان آئے گا …………….؟طوبی تشویش سے سوچ رہی تھی جبکہ ارقم طاہر جیسے کوئی فیصلہ کرکے مطمئن ہو چکا تھا……………..

……………………………..

’’کیا ہو رہا ہے اماں بی…………؟‘‘گھر میں ہو رہی غیر معمولی ہلچل کودیکھ کر وہ بولا تھا۔
’’وہ……….وہ………..اوپر………کمرے……….‘‘اماں بی کچھ کہتے کہتے رک گئی تھیں۔
’’کیا اماں بی اوپر کمرے والا آسیب کہیں فرار ہو گیا کیا…….؟.‘‘وہ بولا۔
’’ہاں………وہ……….یہ………تم…کیا……..کہہ رہے ہو‘‘وہ بوکھلائیں جب کہ حقیقت یہی تھی ،جس طوبی کو انہوں نے آسیب مشہور کرکے رکھا تھا وہ غائب تھی۔
’’ہاں اماں بی سچ یہی ہے……….کہیں آپ اس آسیب کو تونہیں ڈھونڈ رہی ہیں……….؟‘‘ہاتھ بڑھا کر اس نے کمرے سے طوبی کو کھینچ لیا تھا اور اماں بی تو کیا سارا گھر ششدر رہ گیا تھا کہ طوبی کا حلیہ ہی کچھ ایسا تھا……….لال سرخ کامدانی سوٹ میں وہ سجی سنوری ارقم کے بازو میں کھڑی تھی۔
’’میں جانتا ہوں آپ سب حیران ہیں،ہاں میں نے طوبی سے شادی کر لی ہے‘‘۔وہ آرام سے ان سب کے سر پر دھماکہ کر رہا تھا۔
’’شادی؟‘‘اماں بی کا سکتہ ٹوٹا تھا’’تم پاگل تو نہیں ہو گئے،یہ لڑکی میرے ایک بیٹے کو کھا چکی ہے اور اب تم؟یہ تو آسیب ہے،تمہیں بھی کھا جائے گی،میں اسے ابھی نکالتی ہوں………..‘‘وہ تیزی سے طوبی کی طرف بڑھی تھیں جب ارقم سامنے آگیا۔
’’یہ آسیب ہے تو آپ لوگ کیا ہیں؟آپ لوگ وحشی ہیں………….ایک جیتی جاگتی کمسن لڑکی کو آسیب مشہور کر کے قید کر دینا جانتی ہیں کتنا بڑا ظلم ہے………..اور آپ کو کیا اللہ پر بھروسہ نہیں؟موت اور حیات سوائے اس پاک ذات کے کسی کے بس کی بات نہیں…………….اور بیوہ کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھنا چاہئے کیا آپ نہیں جانتی؟یہ بے چاری تو خود ہی باعث ہمدردی تھی اور آپ نے اس پر ظلم کیا کیوں…………….؟ ‘‘وہ ایک لمحہ کے لئے رکا تھا اور پھر دوبارہ سے ان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا مزید کہنے لگا۔
’’اگر کوئی عورت چار پانچ بچوں کی ماں بن کر بیوہ ہوتی ہے تو اسے منحوس نہیں سمجھا جاتا اور اگر یہ کمسن لڑکی بیوہ ہوگئی تو یہ منحوس……….آسیب…….اور نجانے کیا کیا ہوگئی……….جب کہ کمسن بیوہ کی شادی کرانا کتنا ضروری ہے آپ کو نہیں معلوم؟کیوں اماں بی کیوں آپ نے ایسا کیا………..؟یہ کیسا سماج کا رواج ہے اور اگرہے تو میں نہیں مانتا……طوبی آج سے میری بیوی ہے …………چاہے آپ مانے یا نہ مانے……….‘‘وہ اپنی بات ختم کرکے رکا نہیں تھا بلکہ طوبی کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں چڑھ گیا تھا………………..۔
اور نیچے کھڑے سارے لوگ خاموش تھے پر سب کی سماعتوں میں ارقم کے اٹھائے گئے سارے سوالیہ نشان گونج رہے تھے………شاید سب کو سمجھ آگئی تھی کہ بیوہ ہونا طوبی کی غلطی نہیں بلکہ اس کی قسمت تھی اور ہم بھلا بشر خاک قسمت کو کیسے نہیں مان سکتے کہ قسمت تو صرف اللہ ہی بناتے ہیں………….۔

***
شاہین خان
روڈ نمبر ۱۳ ، مکان نمبر ۱۶ ، آزاد نگر مانگو، جمشید پور ۔۸۳۲۱۱۰

ہڑتال : نیاز اختر

ڈیر مہتاب بھائی 
اسلام و علیکم 
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔آپ نے جمشید پور کی سطح پر ادبی ویب سائٹ ’’ عالمی پرواز ‘‘لانچ کر
ایک بڑا اورخوش آئند قدم اٹھایا ہے۔ا ﷲ تعالی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین !
حسب ارشاد ایک تازہ ترین افسانہ بعنوان ’’ ہڑتال ‘‘ ارسال کر رہا ہوں امید ہے پسند آئے گا۔
آپکا خیر اندیش
نیاز ااختر
ایس۔ ڈی۔او ۔آفس
جمشیدپور

ہڑتال 

نیاز اختر
ایس۔ڈی۔او۔ آفس ،جمشیدپور
E-mail-niyazakhtar@40gmail.com 

ہڑتال ! ہڑتال !! ہڑتال!!

’’ہماری مانگیں پوری کرو۔۔۔۔۔۔ انقلاب زندہ باد۔‘‘
پچھلے کئی مہینوں سے گنگا رام جوٹ میل میں بھی ہڑتال کا سلسلہ چل رہا تھا۔ پانچ د س دنوں کی کئی ہڑتالیں ہوچکی تھیں۔مگر ناکام رہیں ۔ دنوں دن مزدور اور مالکوں کے بیچ کی کھائی پٹنے کے بجائے اورگہری ہوتی جارہی تھی ۔ یوں آسمان چھوتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے لگ بھگ سارے ڈپارٹمنٹ میں تنخواہ بڑھانے کے سلسلے میں ہڑتالیں ہورہی تھیں اور مانگیں بھی پوری ہورہی تھیں۔ لیکن گنگا رام جوٹ میل نے بہت دنوں سے مزدورں کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا۔ 
مل مالکوں نے جب چھوٹی چھوٹی ہرتالوں کو نظر انداز کردیا اور کوئی نوٹس نہیں لی تو مزدوروں نے مل جل کر یہ فیصلہ کیا کہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی جائے اور پھر مانگیں پوری نہ ہوئی تو تشدد کی راہ اپنائی جائے ۔
ہڑتال نے ایک نیا موڑلیا اورمزدوروں نے مل کو مقفل کر کے بھوک ہڑتال اوردھرنا کا سہارالیا۔ ان ساری کارروائی کے سرگرم عمل رہنما رگھوناتھ بابو تھے جو مل کے ایک سیکشن میں چارج مین تھے ۔ اور یونین کے لیڈر بھی ۔ رگھوناتھ بابو کے پیٹھ پر دربان گلاب سنگھ تھا جو بڑاہی گھٹیلا تھا۔ گلاب سنگھ رگھوناتھ بابو کو چاچا ہی کہتاتھا۔ رگھوناتھ بابو جو کہتے اس پر گلاب سنگھ بے دریغ عمل کرتا۔ اب ہرٹال کے تقریباً چار ماہ گزرچکے تھے ۔ اس عرصے میں سینکڑوں مزدوروں کے یہاں روٹی کے لالے پڑگئے تھے ۔ بہتوں نے پیٹ پالنے کے لئے چھوٹے چھوٹے دھندے شروع کر دئے تھے ۔ اوربہتوں نے قلی کباڑی کے کام شروع کردئے تھے تاکہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے ۔ ادھر مل مالکوں کے کانوں پر جوں نہ رینگتی ۔ وہ مزدوروں سے بات چیت تک کر نے سے گریز کرنے لگے ۔ 
ادھر گلاب سنگھ باربار اپنے لیڈر رگھوناتھ چاچا سے اجازت مانگتا رہتا کہ کیوں نہ مل کے کسی حصے میںآگ لگادی جائے یا مالکوں کے ساتھ تشدد کا حربہ استعمال کیاجائے ۔ لیکن رگھوناتھ چاچا اسے یہ کہہ کر سرد کر دیتے کہ وقت آئے گا تو میں خود ہی تمہیں کہوں گا۔ 
لمبی ہڑتال کا اثر گلاب سنگھ کے خاندان پر بھی پڑا کیونکہ وہ صرف رگھوناتھ چاچا کے پیچھے ہی چل رہاتھا۔ کوئی دوسرا دھندا شروع نہیں کیاتھا ۔ آخر کب تک ایک دن اس نے رگھوناتھ چا چا سے دبی زبان میں کہہ دیا۔ 
’’چاچا سوچتا ہوں کوئی دوسرا دھندا شروع کردوں ، کافی کڑکی ہوگئی ہے ۔‘‘
’’ارے تم نے پہلے کیوں نہیں کہا۔ تجھے دوسرا دھندا کرنا پڑے گا آخر تیرا یہ چاچا کس دن کام آئے گا۔ لے تجھے کتنے روپئے چاہئے ۔‘‘ اور رگھوناتھ چاچا نے سوسو کے دس نو ٹ اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے ۔
گلاب سنگھ چاچا کی فراخ دلی پر کھل اٹھا اور اب تو پورے تن من سے چاچا کے پیچھے پیچھے ہی چلتا رہا چاہے جیسی مٹنگ ہورگھوناتھ اسے اپنے ساتھ ضرور لے جاتے ۔
ایک دن دوپہر کا وقت تھا ۔ اچانک کسی نے مل کے مالک تک یہ افواہ پھیلادی کہ مزدوروں نے مل میں آگ لگادی ہے ۔ بس کیا تھا مل مالک نے تھانے میں وپورٹ کی اور پولیس پارٹی کو لے کر مل پہنچ گئے ۔
لیکن مل مالک کا اندازہ غلط نکلا ۔مل کے آس پاس بھی آگ زنی کی کوئی بات نہیں تھی ۔ ہاں مل کے مین گیٹ پر مزدوروں کی گرما گرم سبھا ہورہی تھی اور رگھوناتھ بابو ا اونچی آواز میں اپنی تقریر کررہے تھے ۔ اس وقت رگھوناتھ کی تقریر سارے مزدوروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ جوں ہی مزدوروں نے مل مالک کو پولس والے کے ساتھ آکر رکتے دیکھا ۔ تو ان لوگوں کا غصہ ایک دم شعلہ کی طرح بھڑک اٹھا اور مزدوروں نے مالک کی کار پر پتھر پھینکنا شروع کردیا۔
پولیس پارٹی نے جو یہ حال دیکھا تو اس نے بھی مورچہ سنبھالا اور ڈنڈے بر سانے شروع کردئے ۔ ایک کراراڈنڈا رگھوناتھ بابو کو بھی جا لگا۔ بس کیا تھا گلاب سنگھ کا پار ابالکل چڑ ھ گیا اور اس نے آ�ؤ دیکھا نہ تاؤ لپک کر مل مالک کو دھر دبوچا اورگھونسوں کی بارش کردی۔
کئی گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد پولیس نے ہڑتالیوں پر قابو پالیا اور گلاب سنگھ کو قاتلانہ حملے کے جرم میں گرفتا ر کر کے لے گئی ۔ لیکن اس حادثہ نے بہت ہی اچھا اثر چھوڑا اور مل مالکوں اور مزدورں کے بیچ کی کھائی پاٹنے کی کوشش کی جانے لگی۔
رگھوناتھ کی مصروفیت اب اوربھی بڑھ گئی۔ پھر بھی وقت نکال کر وہ دو ایک بار گلاب سنگھ کو ڈھارس بندھانے کے لئے جیل خانے تک گئے تھے ۔ رگھوناتھ چاچا کو دیکھ کر گلاب سنگھ بے فکر ہوجاتا۔ ہاں اس کی ایک ہی بنتی رہتی ۔
’’چاچا میرے بچوں اور چترا کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔‘‘
مل مالکوں نے پندرہ دنوں کے بعد مزدوروں کے ساتھ مل کر ان کی مانگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی تجویز پیش کی ۔ سوموار کے دن یونین کے ممبران اور مالکوں کے بیچ میٹنگ بلائی گی ۔ مزدوروں کے نمائندہ اور مالک ایک جگہ اکٹھا ہوئے اورگھنٹوں دونوں طرف سے ردوقدح چلتارہا ۔ فائلوں کی اٹھا پٹک ہوتی رہی ۔ آخر کار مالکوں کو مزدوروں کی لگ بھگ سبھی مانگوں کو منظور کرنا پڑا۔ اور اعلان کیا گیا کہ کل سے مزدور اپنے کام پر چلے آئیں۔ بس کیا تھا سارے مزدوروں میں امنگ اور ترنگ کی نئی لہر یں امنڈ نے لگیں۔ وہ لوگ خوشی سے پھولے نہ سمارہے تھے ۔ 
لیکن اس خوشی میں کسی بھی ممبر یا مزدور کے لب پر گلاب سنگھ کانام تک نہ آیا۔ سارے لوگوں نے اسے یکسر بھلا ڈالا ۔
ہڑتال ٹوٹنے اور مزدوروں کی مانگیں پوری ہوجانے کی خوشخبری سن کر گلاب سنگھ ایک دم سے جھوم اٹھا۔ اوربڑی بے صبری سے رگھوناتھ چاچا کا انتظار کر نے لگا۔ اس کی آنکھیں جیل کے پھاٹک کی طرف ہی مرکوز رہتیں لیکن چوبیس گھنٹے گزر گئے رگھوناتھ چاچا کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ 
دوسرے دن مہینوں سے بند پڑا مل کھلا اور معمول کی طرح سارے مزدور خوش خوش اپنے اپنے کاموں پر لگ گئے ۔
ادھر گلاب سنگھ کی بیوی اور بچے دانے دانے کو ترس رہے تھے ۔ کئی روز گزر گئے رگھوناتھ چاچا نہ تو گلاب سنگھ سے ملنے کے لئے جیل گئے اور نہ ہی اس کے گھر اس کے بچے کو دیکھنے کے لئے گے ۔ مجبور ہو کر گلاب سنگھ کی بیوی نے ہی ہمت کر کے اور رگھوناتھ چاچا کے گھر کا پتہ ڈھونڈکر ان کے یہاں پہنچی ۔
جس وقت گلاب سنگھ کی بیوی رگھوناتھ چاچا کے گھر پہنچی اس وقت رگھوناتھ چاچا اپنے کپڑے تبدیل کر رہے تھے ۔ اوربڑی جلدی میں تھے۔ لیکن رگھوناتھ چاچا کو دیکھتے ہی چترا ایک دم سے پھپھک پڑی اور رو رو کر کہنے لگی ۔ 
’’چاچا ہڑتال تو کھتم ہوگئی مگر وہ نہیں چھوٹے ۔۔۔ چا چا بڑی مصیبت میں ہوں ۔۔۔ کچھ تو کرو چاچا ۔۔۔ ؟ 
’’ ہاں ہاں ۔۔۔ کیوں نہیں ۔۔۔ لیکن آج تو میں بہت جلدی میں ہوں۔ آج ورکروں کے درمیان بقایا رقم بٹوانا ہے ۔ اورکہتے ہوئے رگھوناتھ چاچا رکشہ پر چڑھ کر مل کی طرف چل پڑے اورچترا امید بھری آنکھوں سے اپنے ہمدرد رگھوناتھ چاچا کو جاتے دیکھ رہی تھی ۔ اسے خبر نہیں تھی اور شاید ہی کبھی خبر ہو پائے گی کہ مالک نے رگھوناتھ بابو سے سمجھوتے سے قبل ہی یہ شرط قبول کرو الی تھی کہ گلاب سنگھ کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ اس نے مالک پر ہاتھ اٹھایا تھا۔
*****

Niyaz Akhtar 
S.D.O office jamshedpur 
E-mail- niyazakhtar40@gmail.com

ریئلیٹی شو : ڈاکٹراختر آزاد

ڈاکٹراختر آزاد 
مکان نمبر ۔۳۸، روڈ نمبر ۔۱
آزاد نگر ، جمشیدپور ۔۸۳۲۱۱۰
موبائل۔09572683122

برادرم مہتاب عالم پرویزؔ !
آداب 
اردو ویب سائٹ’’عالمی پرواز‘‘ کی خبرپہلے ہی مل چکی تھی ۔لیکن جب اسے نیٹ پر دیکھا تو اور بھی خوشی ہوئی۔اس کا’ لوگو ‘بہت دیدہ زیب ہے۔ یہ بہت محنت طلب کام ہے ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کام کو سراہنے کے بجائے کچھ لوگ ٹانگ کھینچنے کی بھی کوشش کریں گے کہ اچھّا خاصہ افسانہ نگاری کر رہے تھے یہ کون سا کام شروع کر دیا۔تو ایسے لوگوں سے بھی بچنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن کچھ لوگ یقیناً ایسے بھی ہوں گے جو’عالمی پرواز‘ کے سلسلے میں اچھّی رائے رکھتے ہوں گے ۔ ان کی روشنی میں اپنا مشن آگے بڑھاتے رہیں تاکہ آپ کی ( پرویز کی) جوویب’ پرواز ‘ ہے وہ جمشید پور سے شروع ہو کرصرف ہندوستانی آسمان میں ہی اپنا جلوہ نہ دکھائے، بلکہ اپنے نام کی طرح’ عالمی پرواز‘ بن کر بین الاقوامی آسمان پر قوس و قزح کے رنگ بکھیر دے ۔
جھارکھنڈ کی سر زمین سے یہ پہلا اردو ویب سائٹ تو نہیں ہے ۔ اس سے قبل جناب اسلم بدر بھی اپنا ویب سائٹ لانچ کر چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ اردو میں جتنے بھی ویب سائٹ ہیں اس میں’’ عالمی پرواز ‘‘آنے والے دنوں میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ویب میگزین ہو گا۔ وہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے اندرا س کام کو کرنے کے لئے جو جنون دیکھ رہا ہوں وہ کسی ادبی پاگل کے اندر ہی ہو سکتا ہے ۔جس کا بچھونا ادب اور اوڑھنا کمپیوٹرہو۔اور یہ دونوں چیزیں آپ کے اندر بدجہ اتم موجود ہیں۔
میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔اللہ آپ کو کامیاب کرے تاکہ اس بہانے ہمیں بھی تھوڑا بہت سُرخرو ہونے کا موقع ملے۔ 
سرپرست کے طور پر ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کا نام ’عالمی پرواز.کوم‘کے لئے خوش آئند مستقبل کی ضمانت ہے۔ 
حکم کی تعمیل میں ایک غیر مطبوعہ افسانہ’’ ریئلیٹی شو ‘‘ ارسال کر رہا ہوں ۔ پسند آ جائے تو شامل کر لیں گے۔
افسانے کی اشاعت کے متعلّق جواب سے نوازیں گے ۔ 
خدا کرے آپ شگفتہ ہوں ۔
خیر اندیش
اختر آزاد 
۲۵؍جنوری ۲۰۱۳ء

ڈاکٹر اختر آزاد  DR. AKHTAR AZAD
مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر۔۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔۸۳۲۱۱۰(جھارکھنڈ)
موبائل: 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
 ریئلیٹی شو

  REALITY SHOW

’’یہ وہ زمانہ نہیں کہ بچّوں کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر بنایا جائے ۔ یہ سب ریئلیٹی شو کی پیداوار ہیں۔ میں تو اسے ڈانسر بناؤگی۔‘‘ 
ڈاکٹرکپل تھکے ہارے ڈسپنسری سے جب گھر لوٹے تو آتے ہی انہوں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کے گلے میں اسٹیتھو اسکوپ پہنایا۔ ائرپیسیس کو کانوں میں ڈا ل کر ڈایافرام ہاتھوں میں دیا ۔اور گود میں اُٹھاکر ابھی دن بھر کا پیار اس پر نچھاور کرنا ہی چاہا تھاکہ تبھی شوبھا دوڑی ہوئی آئی اور اُن کی گود سے پریتی کو اُتار کر پہلے اسٹیتھو اسکوپ چھینا۔پھر ایک طرف پھینکتے ہوئے چلائی ۔اُس وقت ڈاکٹر کپل نے سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے اُسے سمجھانے کی کوشش کی ۔ 
’’ سب کچھ گیت سنگیت اور ڈانس سے نہیں ہوتا۔ تم نے بھی ہائر ایجوکیشن حاصل کی ہے۔اس لئے تمہیں ایجوکیشن کا ویلو معلوم ہونا چاہئے۔‘‘
’’ ویلو…!‘‘وہ مسکراتی ہے ۔’’وہ اپنے بازو والے انجینیئر ہیں نا ؟ ان کی سات سالہ بیٹی نے ڈانس کمپٹیشن میں ایک کروڑ جیتا ہے ۔چار مہینے تک مسیز شرما بیٹی کے ساتھ کبھی دہلی اور ممبئی کے اسٹار ہوٹلوں میں رہی ہیں ۔ ٹی وی پر ماں کی بھی تصویریں آرہی تھیں ۔ میں تو کل تک خود کو اس سے سُپر سمجھتی تھی ۔ لیکن اب اس گنوار سے بھی مجھے ٹِپس لینے پڑیں گے۔‘‘
’’دیکھو میں ڈسپنسری سے تھکا ہارا لوٹا ہوں۔چائے وائے پلاؤ۔یہ سب باتیں چھوڑو ۔ پہلے پریتی کو پڑھنے دو۔پھر دیکھیں گے کہ اُسے کیا بننا ہے ۔ یہ ڈانس وانس اور گیت سنگیت میں رکھا ہی کیا ہے ۔ کل تک یہی بھانڈ منڈلی میں ہوتے تھے ۔ شادی بیاہ کے موقعے پر گھر گھر ناچتے گاتے تھے ۔ ‘‘
’’کون ناچتا گاتا تھا مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ۔ٹھیک سے سن لو ۔ بعد میں یہ مت کہنا کہ میں نے نہیں بتایا…..کالونی کی عورتوں کے ساتھ آج میں بھی ڈانس کلب گئی تھی ۔بڑی مشکل سے پریتی کا ایڈمیشن بیس ہزارمیں کروا یا ہے ۔ سنڈے سنڈے ایک ٹیچرکوبھی گھر پر بلا لیا ہے ۔ وہ مہینے میں صرف پانچ ہزار لے گا۔‘‘
’’پانچ ہزار ….؟‘‘منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ’’تم پاگل تو نہیں ہو گئی ۔صبح دس بجے سے دو بجے تک اور پھر پانچ بجے سے آٹھ بجے تک ۔یہاں تک کہ لنچ کے ٹائم نرسنگ ہوم میں بیٹھتا ہوں تاکہ زیادہ کما سکوں ۔ تمہارے کہنے پر ہی باپ دادا کی نشانی کو اونے پونے میں بیچ کرمیں ہائی سوسائٹی میں رہنے آیا تاکہ پریتی کو ایجوکیشن کے لئے بہتر ماحول مل سکے ۔‘‘
’’ایجوکیشن…!؟‘‘وہ تیکھی ہنسی ہنستی ہے ۔ ’’ جسے تم بھانڈمنڈلی سمجھتے ہو نا؟اس کا رتبہ بڑے بڑے ایجوکیشنسٹ سے اوپر ہے۔ وہی نئی نسل کے آئیڈیل ہیں ….آج کون ہے جو شاہ رُخ اور ایشوریہ کو نہیں جانتا ؟ گیت سنگیت اور ڈانس کی خوبصورت سڑک ہی فلم انڈسٹری تک جاتی ہے ۔خوبصورتی تو آج ایک اے ٹی ایم کارڈ ہے ۔‘‘
’’تم ماں ہو کر بیٹی کوکیش کرانا چاہتی ہو۔‘‘ ڈاکٹر کپل نے ’’کیش ‘‘پر زور دیتے ہوئے ماں کی عزّت کو للکارا تو ماڈرن دور کے فیمنزم کلچر کو جسے آدھی دنیا قبول کر چکی ہے اُسے شوبھا نے نئے سیناریو کے پیشِ نظر کچھ اس طرح سامنے رکھا جیسے اس کی غلطی نہ ہو ۔سب پتی کی ہی غلطی ہو ۔
’’ٹی وی میں جتنے اشتہار آتے ہیں اس میں پروڈکٹ چاہے سوئی ہو یا جہازسب میں خوبصورت لڑکیاں ہی نظر آتی ہیں ۔ اچھّی آواز کیا صرف گوری لڑکیوں کے پاس ہوتی ہے ۔ تم نے کبھی کسی چینل میں کالی یا بدصورت لڑکی کو خبریں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میگزین کا کور ہو تو لڑکی۔ بینک کا کاونٹر ہو تو لڑکی۔ سیلز مین ہو تو لڑکی۔ پی اے ہو تو لڑکی ۔ ہر فرم میں کمپیوٹر پر نازک انگلیاں تھرکاتی نظر آئیں گی لڑکیاں ۔ دنیا کی اس ریئلیٹی سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جس کی بیٹی جتنی خوبصورت ہو گی اُن کے یہاں رشتے دروازوں سے ہی نہیں کھڑکیوں اور روشن دانوں سے بھی آتے ہیں ۔میں تو کہتی ہوں کہ بازار میں جس چیز کا ڈیمانڈ ہو اُسے گوڈون میں رکھ کر سڑانا کون سی عقل مندی ہے….؟ ‘‘
*
ڈاکٹر کپل نے جب آس پاس کا جائزہ لیا تو اُنہیں سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ بچّے چاہے کسی سوسائٹی کے ہوں اُن کے اندر ریئلیٹی شو کے بخار کا ایسا وائرس داخل ہو گیا ہے جو پڑھ لکھ کر آئی اے ایس ، ڈاکٹر ، انجینیئر ، پرفیسر اور وکیل بننے کو بے وقوفی سمجھتا ہے ۔ الکٹرونک میڈیا نے انٹرٹینمینٹ کے نام پر معصوم بچوں کے سامنے گیت سنگیت ڈانس اور ہنسی مذاق کی تھالی میں ڈبل میننگ جیسی سیکسی پکوان پروس کر ان کے ذہن کو ایسا اسٹیریو ٹائپ بنا دیا ہے کہ رات دن ان کی زبان پر وہی ذائقہ چڑھا رہتا ہے ۔ذرا سوچئے کہ اگر سبھی بچّے ڈانسر ، گیت کار ،لافٹر یا پھر جوکر ہو گئے تو پھر ملک کی ترقّی کا کیا ہو گا ۔؟کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں ہے۔؟
لیکن شوبھا کو فکر صرف اپنی تھی ۔اس لئے آنکھوں میں ریئلیٹی شو کا ایسارنگین چشمہ لگارکھا تھا کہ روشنی سے شرابوراسٹیج پر چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہونٹوں سے نکلتے مدھر گیت اور گیتوں پر تھرکتے پاؤں اور وی آئی پی باکس میں سج دھج کر بیٹھی عورت اوراس کے چہرے پر جیت کی بھینی بھینی خوشبوؤں میں لپٹی مسکراہٹ اور اس مسکراہٹ میں زندگی کا سارا حسن جو میڈیا کی چکا چوندھ نے عطا کیا تھا ۔اس کے سوا اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔اوروہی اب اس کی زندگی بن چکا تھا ۔ وہ پریتی کو بھی ڈانس کے گُر سکھا کر منچ پر اُتارنا چاہتی تھی ۔تاکہ وہ بھی وی آئی پی باکس کا حصّہ بن سکے ۔ وہ بھی کیمرے کے مرکز میں سمٹ سکے۔ اس کے چہرے پر بھی جلتے بجھتے قمقمے آنکھ مچولی کا کھیل کھیلیں اور اس کے چہرے پر بھی چاندنی جیسی مسکراہٹ ہو ۔ پریتی کے ہر پرفارمینس پر اس سے بھی انٹرویو لئے جائیں ۔پریتی ٹیلینٹ کا پرچم لہرائے اور لاکھوں کروڑوں کا چیک اس کی گود میں آکر گرے۔
ڈاکٹر کپل کی اب اپنے ہی گھر میں ایک نہیں چل رہی تھی ۔ شوبھا اپنے سنہرے منصوبے پرعمل پیرا تھی ۔ اب وہ اسکول اور چھوٹے چھوٹے کلبوں میں پریتی کے ڈانس کی نمائش لگانے لگی تھی۔شہر کے اخباروں میں تصویریں شائع ہورہی تھیں ۔ ہرجگہ پریتی ماں کی گود میں نظر آتی ۔ایک دن مشہور اخبار ’’ نمبر ون ‘‘ کے ایک رپورٹر نے معصوم بچّی سے اس کی عمر سے بڑا سوال کر دیا ۔
’’بیٹا چھ سات سال کی عمر میں آپ اتنا بہترین پرفارمینس کیسے کر پاتی ہیں …؟‘‘
’’ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو اس کی طرف سے میں جواب دیتی ہوں ۔‘‘ پریتی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی شوبھانے مائک اپنی طرف گھما لیا ۔’’ کیا ہے کہ یہ جب تین سال کی تھی تب سے ہی اس کے پاؤں میوزک کی تھاپ پر تھرکنے لگے تھے ۔میں تو اسے پڑھانا چاہتی تھی ۔ لیکن بھگوان نے بچپن سے ہی ڈانسر کے سارے گن بھر دئے تھے۔ ڈانس سے بے انتہا پیار کی وجہ سے میں نے اسکول چھُڑوا کراسے ڈانس کلب جوائن کرا دیا ۔اب تو اس کے انگ انگ میں ڈانس رچ بس گیا ہے ۔ڈانس ہی اس کا عشق ہے ۔ ڈانس ہی اس کا پیار ۔اور ڈانس ہی اس کابھگوان بھی۔ کیابیٹی میں سچ کہہ رہی ہوں نا ….؟ ‘‘آنکھ مٹکاتے ہوئے اس نے پریتی کی طرف دیکھا ۔
’’جی ۔ جی مما ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں ۔ویسے تو اس کے دل میں آیا کہ وہ کہہ دے کہ پیسے کے لالچ میں میری ماں دن رات مجھ سے ڈانس کرواتی ہیں ۔ نہیں کروں تو مارتی پیٹتی ہیں ۔ کھانا بند کر دیتی ہیں ۔اس ڈر سے کہ کہیں پریکٹس نہیں کی توالیمنیٹ ہو جاؤں گی اور لاکھوں روپئے ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے …. میں بھی آزادانہ زندگی جینا چاہتی ہوں ۔ لیکن زبان کھولتے ہوئے ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ مجھے جان سے مار نہ ڈالے ۔
’’ایک آخری سوال : جب بچّوں کی عمرکھلونے خریدنے کی ہوتی ہے تب ماں باپ قانون کی آنکھوں میں آرٹ کلچر اور انٹرٹینمنٹ کی پٹّی باندھ کر ریئلیٹی شو کے لئے شفٹوں میں کام کر واتے ہیں ۔اس میں کتنی سچائی ہے؟۔‘‘
اس سوال پر شوبھا پہلے مسکراتی ہے ۔ ’’ ہاں اس میں سچائی ہے۔میں ایسی کئی ماؤں کو جانتی ہوں…. ‘‘ اصل سوال کو ہضم کرتے ہوئے بات کا رخ دوسری طرف کچھ اس صفائی سے موڑ دیتی ہے کہ رپورٹر بھی شوبھا کا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے ۔ ’’میں نے پریتی کے فیوچر کی خاطر پتی کو چھوڑا ہے ۔ وہ اسے بھی اپنی طرح ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔کیا رکھا ہے آج کل کے ڈاکٹر میں ….؟ میں نے بہت سمجھایا ۔ لیکن وہ نہیں مانے ۔اب جب بیٹی کو میں نے لائن اپ کر دیا ہے اور کچھ ہی دنوں میں کروڑوں میں کھیلنے جا رہی ہے تو وہ سمجھوتہ کے لئے تیار ہیں ۔‘‘
*
ڈاکٹر کپل گھر کے دو چار لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کرنے کے حق میں تھے۔لیکن شوبھا تیّار نہیں ہوئی کہ آج کل فیصلے گھر کی چہار دیواری میں نہیں بلکہ لائٹس ،کیمرے اور اوڈیئنس کو سامنے ٹی وی چینل کے دفتروں میں ہوتے ہیں۔جسے پوری دنیا دیکھتی ہے ۔ اس لئے اس نے اس پاپولر چینل کا انتخاب کیا جس میں ایک نچنیا نیم عریاں لباس زیب کئے فحاشی کی زبان میں چٹخارے لے لے کر اُلٹے سیدھے فیصلے سناتی ہے۔
’’ ہاں تو جناب اب یاد آپ کو بیٹی آرہی ہے جب وہ کمانے لگی ہے۔بیٹی کو ڈانسر تو آپ کی پتنی نے بنایا ہے۔ اس لئے اس کے پیسے پر پورا ادھیکا ر ….’’کیوں بھائیو اور بہنو! ان کی پتنی کا ہونا چاہئے یا نہیں ؟ ‘‘ اوڈیئنس کی طرف سے ’’ہاں ہاں ‘‘ کا شور اور اس کے ساتھ ہی ساتھ تالیوں کی گڑگڑاہٹ ۔ ڈاکٹرکپل کے کان پھٹنے لگتے ہیں۔اس دوران وہ کھڑی ہو کردو چار ٹھمکے لگاتی ہے اور پھوہڑ ہنسی ہنستی ہے۔ ’’ اگر یہ سب منظور ہے ڈاکٹر!تو پھر میں آپ کی شوبھا شری کو سمجھاؤں گی کہ وہ آپ کواپنے گھر بلا لے ۔لیکن اتنایاد رکھناکہ جب تک وہ خود سے یہ ناکہے کہ میں بیمار ہوں تب تک انجیکشن لگانے کی غلطی نہیں کرنا ۔سمجھے….؟‘‘
ڈاکٹر کپل کسی بھی قیمت پرجہاں شوبھا رہ رہی تھی وہاں جانا نہیں چاہتے تھے ۔ لیکن عمر کی بارہویں سیڑھی میں قدم رکھتے ہی بیٹی کی فکرستانے لگی تھی۔وہ جانتے تھے کہ شوبھا ریئلیٹی شو کے آسمان سے برستے پیسے کی بوندوں سے پریتی کو قبل ازوقت اتنا شرابور کر دے گی کہ اس کے چھوٹے اور جسم سے چپکے کپڑے خود بخود ٹرانسپرنٹ ہو جائیں گے۔وہ بھاگنے کی کوشش بھی کرے تو بھی کسی چھت تک پہنچتے پہنچتے وہ بھیگ ہی جائے گی ۔اس لئے وہ چھتری بن کر اس گھر میں رہنا چاہتے تھے ۔
لیکن کچھ ہی دنوں میں شوبھا کو بیٹی کے اوپر تنی باپ کی چھتری پسند نہیں آئی۔جھنجھلاہٹ اور غصّے میں ایک دن اس نے ڈاکٹر کپل کی طرف طنز بھرے شبدوں کی برچھی پھینکی ….. ’’ اے سی کار میں بیٹھنے والوں کو بارش سے بچنے کے لئے کسی چھتری کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ میں اسے پجارن نہیں ڈانسر بنارہی ہوں۔ جو قیمت چکانی پڑے گی میں چکاؤں گی۔ کرپیا آپ یہاں سے جائیں۔‘‘
انڈر سکسٹین سُپر ڈانسرریئلیٹی شو کے فائنل پانچ کنٹسٹینٹ میں پریتی کے لئے جگہ بنانے میں شوبھا نے کئی بارقیمت چکائی۔ اور ہر قیمت کے بدلے ہرہفتے ایک ایک زینہ وہ اوپر اُٹھتی رہی ۔ یہاں تک کہ پریکٹس کے بعد کئی بار پریتی نے ماں کے کان میں کچھ کہا….. لیکن شوبھا اُسے ہر بار سمجھاتی رہی ۔ ’’ بیٹی جس اونچائی پر تمہیں پہنچنا ہے ۔ اس میں سے سمجھو یہ ایک سیڑھی ہے۔ لیکن ذرا سوچو کہ اگر کسی نے اس وجہ سے سیڑھی کھینچ لی تو سارے خواب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ بیٹا سکھانے والوں کا اتنا حق تو بنتا ہی ہے۔اس لئے جتنا ان کا حق ہے وہ لیتے ہیں تو لینے دو ۔ چھونے چھانے سے کیا ہوتا ہے ۔‘‘
اس کے بعد پھر پریتی نے ماں کے کان میں کبھی کچھ نہیں کہا۔کہا تو باپ کے کان میں بھی کچھ نہیں ۔ لیکن آتے جاتے سیاہ بادلوں کو دیکھ کر انہیں ایک طرح کا ڈر ستانے لگتا تھا ۔جب بھی بارش کا امکان ہوتا وہ چھتری لے کر سڑک پر آجاتے کہ کہیں پریتی نظر آجائے تو وہ اس کے سر پر چھتری تان سکے ۔ لیکن کبھی ایسا نہ ہو سکا۔اور ہر بار وہ مایوس قدموں کے ساتھ گھر لوٹتے رہے ۔
وقت کے ساتھ ساتھ چھتری پرانی ہوتی گئی۔ اس میں جگہ جگہ سوراخ بننے لگے۔اب بارش میں ا س چھتری کا استعمال بے معنی ہو گیا تھا ۔اس لئے چھتری کو اسٹور روم کی قبرگاہ میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔
اب ڈاکٹر کپل کی زندگی کے تالاب میں تلخی کی کائی پرت در پرت اور بھی جمنے لگی ۔ جمتے جمتے جب پانی کی اوپری سطح پر ہرے بھرے میدان آباد ہو گئے تو ان کی زندگی اُس الگی کے پودے کی طرح ہو گئی جو ہوا کے زور اوربرساتی پانی کے بہاؤمیں اپنے وجود کو بچانے کی جدوجہد کرتے ہیں ۔ایسے میں اُنہوں نے اپنے اندر کی کائی کوخود سے الگ کرنے کی بہت کوشش کی ۔لیکن جتنا وہ کوشش کرتے کائی اور بھی جمتی چلی جاتی ۔ 
ڈاکٹر کپل نے نوکرانی کے بیٹے شیام سندر کو پریتی کی کتابیں دے کراور اس کی پڑھائی کا خرچ اُٹھا کر شوبھا کے خلاف زندگی کی جنگ میں شامل کر لیا تھا۔شوبھا اُسی شیام سندر کو ہر روز کچھ ایسے کپڑے دھونے کے لئے دیتی تھی ۔جس سے اُسے گھن سی آتی تھی ۔ وہ ہر روز اسے چھوڑ دیا کرتا تھا۔ پیر دبانے اور مالش کی بات کو وہ ٹالنے کی کوشش کرتا تھا۔ جس کی وجہ سے اُسے ہرر وز شوبھا کی مار کھانی پڑتی تھی۔ ماں اُسے بچانے کے لئے آگے آتی کہ لاؤ میں دھو دیتی ہوں۔مالش کر دیتی ہوں۔لیکن شوبھااسے دھکّے دے کر شیام سندر سے زبردستی دُھلواتی۔ پیر دبواتی ۔ مالش کرواتی کہ نوکر ہو کر اگر ابھی سے یہ سب کی عادت نہیں رہی تو پھر جوان ہو کر کیا کرے گا ۔؟
*
شوبھا نے جب یہ دیکھا کہ اتنی قیمت چکانے کے بعد بھی پریتی فائنل تک نہیں پہنچ پائی ہے تو اس نے اسے ماڈلنگ اسکول جوائن کروادیا ۔ اُن دنوں شوبھا کے پسندیدہ چینلوں میں ایف ٹی وی جیسے کئی چینل شامل ہو گئے تھے ۔ ماڈلنگ کی مقناطیسی کشش اُسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ کیٹ واک کرتی ادھ ننگی لڑکیوں کی طرح شوبھاپریتی کوبھی ویسا ہی کرنے کے لئے کہتی ۔’’ بیٹا کپڑے تھوڑا اور اوپر اٹھا لو ۔ بٹن ایک دو زیادہ بھی کھل جائیں تو کوئی بات نہیں ۔ نمبر اسی کے تو ملتے ہیں ۔ سب کچھ چھپا رہ گیا تو بے چارے ججیز کیا دیکھیں گے۔؟ نمبر کہاں دیں گے۔؟ ‘‘
ماڈلنگ اسکول جاتے ہی فٹنس کے نام پردرجنوں مرد پریتی کی خوبصورتی کو اُبھارنے کے لئے تندہی سے جٹ گئے۔ اسے صبح و شام ٹرائل سے گذرنا پڑتا ۔ سینہ ناف کمر اور نہ جانے کس کس چیز کی ناپ لی جاتی ۔ کبھی کبھی شوبھا بھی فیتہ لے کر بیٹھ جاتی ۔ کپڑے اتروادیتی ۔ پریتی شرماتی تو وہ کہتی۔ ’’یہ سب مالش کرنے والے ہاتھوں کا کمال ہے کہ کم وقت میں تمہارا انگ انگ سیکسی سانچے میں ڈھلنے لگا ہے ۔ میں تو دن رات بھگوان سے یہی پرارتھنا کرتی ہوں کہ تمہارا جسم اتنا خوبصورت ہو جائے کہ دنیا کا ہر مرد تمہیں اس روپ میں دیکھنے کے لئے میان سے اپنی اپنی تلواریں کھینچ لے۔‘‘
ٹرانس پرینٹ کپڑے کالیمینیشن کروا کر جب شوبھا نے پہلی بار لیمی نیٹیڈ گرل پریتی کورینپ پرکیٹ واک کے لئے اُتاراتو ہزاروں آنکھوں نے آپس میں تلواریں کھینچ لی تھیں ۔ اس کی چال ، کمر کا لوچ ۔ ناف کے بھنور اور سینے کے اُبھاروں کو دیکھ کر لوگ پاگل ہو اُٹھے تھے ۔ اس نے ایسی قیامت برپا کی کہ بڑے بڑے فیشن ڈیزائنراپنے اپنے برانڈ کو پرموٹ کرنے کے لئے منہ مانگی قیمت دینے پر مجبور ہو گئے ۔ کچھ دنوں تک یہاں بھی خوب ہنگامہ آرائی رہی ۔ لیکن رینپ پر جیسے ہی فریش لیگس نے نمائش کے لئے انٹری ماری توشوبھا کی ٹانگیں کپکپا نے لگیں ۔کیوں کہ بازارِ حسن کے نشیب وفراز سے وہ اب بخوبی واقف ہو چکی تھی۔
یہاں سے اُس نے سیدھا بیچ پارٹی کا رُخ کیا ۔جہاں دنیا بھر کے سیلانی موج مستی کے لئے آتے ہیں ۔پریتی کی خوبصورتی اور ڈانس کو دیکھ کر اُسے ایک سال کے کونٹریکٹ پر رکھ لیا گیاکہ اگرپرسنل کونٹریکٹ نے سیلانیوں کی تعداد میں اضافہ کیاتو اُسے دو بارہ سائن کیا جائے گا۔ لیکن سال ختم ہوتے ہی بیچ کی خوبصورتی بڑھانے کئی ٹین ایجر لڑکیا ں ایسی آگئیں جو اس سے زیا دہ دھماکے اور جلوے بکھیر نے میں ماہر تھیں ۔
پھر کچھ نئے جلوؤں کے ساتھ شوبھا نے اسے کلینڈر کی رنگین دنیا میں اُتارا ۔ یہاں کبھی سمندری لہروں کے درمیان پریتی ہیجانی کیفیت میں تصویر کھینچواتی نظر آتی تو کبھی بھیگی ریت پرسن باتھ لیتی ادھ ننگی لیٹی رہتی ۔ کبھی اوپر غائب تو کبھی نیچے غائب …..
جب سال کے کلینڈر بدلے تو وہ بھی وہاں سے غائب کر دی گئی ۔ 
کلینڈر سے نکالے جانے کے بعد شوبھا کو یہ اُمید تھی کہ اوپر نیچے کے حاضر غائب کھیل میں پریتی نے نئے فراز کے ساتھ کچھ ایسے نایاب نشیبی جوہر دکھائے ہیں جس کی بدولت اُسے کہیں نہ کہیں کام مل ہی جائے گا ۔ اور ایسا ہوا بھی ۔ اسے کام کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ۔سیکسی بُک کی زینت بننے کے لئے اُسے کئی فوٹو گرافر س کے آفر ملے ۔ یہاں بھی خوب شہرت حاصل ہوئی ۔ خوب پیسے کمائے ۔ لیکن فریش لیگس کے آتے ہی اس کے کام کی رفتارر میں بریک لگنے لگی….. پھر اس نے کئی چھوٹے موٹے پروڈکٹ کے ایڈ کئے ۔ پینٹی برا اور کنڈوم نے اُسے آسمان پر چڑھایا ۔ لیکن کوئی بڑی کامیابی نہیں ملنے کی وجہ سے بڑے برانڈ کے ایڈس جھولی میں کم گرے ۔ آہستہ آہستہ اشتہار کے دروازے بھی اُس کے لئے تنگ ہونے لگے ۔شوبھا اور بھی پریشان رہنے لگی ۔ وہ یہ اچھّی طرح جانتی تھی کہ فریش لیگس کی آمد سے ایک نہ ایک دن پریتی کے حسن کا سنسیکس کچھ اس تیزی سے نیچے گرے گا کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ….. گرتا ہی رہے گا ۔اور گرتے گرتے مندی کے بازار میں یہ حسن ، کلب کے راستے طوائف کے کوٹھے تک مجرا کے لئے پہنچ جائے گا ۔
شوبھا کو ا یسی بھی اُمید تھی کہ گرتے سنسیکس کے باوجود کوئی نہ کوئی ڈائریکٹر یا پروڈیوسر فلم یا ٹی وی کے لئے کسی نا کسی آئٹم ڈانس یا اے سرٹیفیکیٹ میں پریتی کو سائن کر لے گا ۔ وعدہ بہتوں نے کئے ۔ لیکن چھوٹے موٹے آئٹم سونگ میں ایکسٹرا ڈانسر سے زیادہ کی حوصلہ افزائی کے لئے کسی نے بھی پیٹھ پر ہاتھ نہیں رکھا ۔اس طرح سے جب پریتی کو مس بیوٹی بنانے کا سپنا شوبھا کے سامنے چور چور ہونے لگاتو اس نے آخری پناہ گاہ کے طور پر ڈانس کلب کے انتخاب میں چھٹّی حِس کا سہارا لیا ۔
*
میٹرو سِٹی کے سب سے پرانے کلب ’’راج بار اینڈ ڈانس ‘‘جوائن کرتے ہی پریتی کی قسمت کا ستارہ ایک بار پھر حسن کے آسمان میں چمکنے کے لئے بے تاب ہو گیا۔یہاں پہنچتے ہی شوبھا کا اُٹھنا بیٹھنا ہائی پروفائل لوگوں کے ساتھ ہونے لگا ۔ بڑے بڑے منتریوں کی پارٹی میں وہ پریتی کو لے جا نے لگی ۔ وی آئی پی کی خوشنودی کی خاطرشوبھااسے کبھی بلیک شیشے والے اِمپورٹیٹ کار میں گھنٹے دو گھنٹے کے لئے سڑکوں کی پیمائش کرنے بھیج دیتی تو کبھی ڈنر پارٹی میں مزے اُڑانے کے لئے کمرے تک پہنچا دیتی ۔ اب اس کی آنکھیںیہ خواب بھی دیکھنے لگی تھیں کہ اِس عزّت کے عیوض اُسے آئندہ انتخاب میں عزّت پور سے ایم پی کا ٹکٹ ملے گا۔۔
اِدھر چائلڈ ریئلیٹی شو کی مقبولیت دن رات بڑھتی جا رہی تھی ۔ بچّے کی آنکھیں ریئلیٹی شو کے پالنے میں کھُل رہی تھیں۔اُنہیں ماں کی پستانوں سے اب دودھ کے ساتھ ساتھ گیت سنگیت اور ہنسی کے کیلشیم بھی ملنے لگے تھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکول بند ہونے لگے ۔ اور اس کی جگہ سونگ ڈانس اور لافٹر اسکول ہزاروں کی تعداد میں کھلنے لگے ۔ مستقبل کو اندھیرے میں گھرتا دیکھ بہت سارے پڑھے لکھے نوجوا ن بھی راتوں رات یو ٹرن لے کر سنگر ، ڈانسر اور لافٹر ٹیچر ٹریننگ کے فارم لئے لمبی لائن کا حصّہ بن گئے ۔ 
ایجوکیشن سے جڑے لوگوں نے جب علم کے تئیں بچوں اور گارجین کی عدم دلچسپی کو دیکھا تو اُنہیں سمجھتے دیر نہیں لگی کی یہ سب مغرب کی نقالی میں حسن پرستی کے چولہے پر بچّوں کی ہانڈی چڑھا کراپنے لئے عیش کی گرما گرم روٹی سینکنے میں لگے ہیں۔ رہنُماؤں نے تو دانشورانِ قوم کا بھر پور ساتھ دیا ۔ لیکن جب کروٹ بدلتا وقت ہر چیز میں ریئلیٹی تلاش کرنے لگا تب دیکھا دیکھی ان کے بچّے بھی ریئلیٹی کے رنگ میں رنگنے لگے ۔ کیوں کہ وہ جب اپنے جیسے بچّوں کے ہاتھوں میں طبلہ ، ڈھولک ، بینجو ، گیٹار دیکھتے تو بس میں کتابیں لے کر سیٹ شیئر کرنے میں اُنہیں ذلّت محسوس ہوتی۔اس وقت بچّے عجیب نظروں سے اُسے دیکھتے۔گھر آتے ہی کئی بچّے کتابیں پھینک دیتے۔پڑھائی کے نام پر اُنہیں گھن سی آتی ۔ گھُٹن کا احساس ہوتا ۔
ایسے ہی ماحول میں کچھ ایسے بھی گارجین تھے جو ڈانٹ ڈپٹ کر ، مار پیٹ کر ،ڈرا دھمکا کر بچّوں کو اسکول بھیجتے رہے۔ان کی بدولت ہی اکّا دکّا اسکول کہیں کہیں چل رہے تھے ۔ لیکن اس کا چلنا نہ چلنا کوئی مطلب نہیں رکھتا تھا ۔ایسے گارجین کو لوگ دیکھ کر ہنستے۔جان بوجھ کر چھیڑتے۔’’ آپ اپنے بچّوں کو کہاں بھیج رہے ہیں ‘‘۔؟’’ اسکول ‘‘ سنتے ہی وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ۔ ہنستے اور پھر نصیحت کرنے سے باز نہیں آتے۔ ’’ آپ بچوں کو زبردستی پڑھانے پر کیوں تُلے ہیں ۔؟ تھوڑا پیسہ خرچ کر کے بچّے کو سنگیت ونگیت یا ڈانس اسکول بھیجیں ۔ورنہ فیوچر کے سٹلمینٹ میںآپ کے بچّے پیچھے رہ جائیں گے ۔ ‘‘
*
پیچھے تو پریتی بھی رہ گئی تھی۔
نہیں نہیں وہ تو بہت آگے گئی تھی ۔خود سے بھی آگے ……خود سے آگے جانااور خود سے پیچھے رہ جانا۔ یہی وہ فرق تھا جسے اب پریتی شدّت سے محسوس کرنے لگی تھی کہ اگر زندگی میں سب کچھ گیت سنگیت اور ڈانس ہے تو پھر کل آنے والی نسل کا کیا ہو گا…. ؟ ایسے بہت سارے سوالات اس کے ذہن کے آسمان میں ستارے بننے لگے تھے ۔لیکن شوبھا کی سورج آنکھوں کے سامنے اس کے جھلمل کرتے تارے روپوش ہوجاتے …… اب توباپ کا چہرہ بھی آنکھوں میں گم ہونے لگا تھا ۔ لیکن یادیں باقی تھیں ۔جسے وہ چھپا کر رکھتی۔جو اکثر اس کے اندر ہلچل برپا کرتی رہتی…… کورٹ سے لمبی لڑائی کے بعد ماں نے اُسے جس طرح ہتھیا یا تھا وہ اُس کے معصوم ذہن میں محفوظ تھا ۔یہی وجہ ہے کہ وہ ماں کے خلاف نہیں جاسکتی تھی ۔ عیش وآرام پر بریک نہیں لگا سکتی تھی ۔کیوں کہ وہ جینا چاہتی تھی ۔ اپنی مرضی سے۔ اپنی خواہش سے …. لیکن یہ سب کچھ اس کے اختیار میں نہیں تھا ۔ کیوں کہ وہ ابھی اٹھارہ کی نہیں ہوئی تھی ۔ 
پریتی کے ٹین ایج بیوٹی کو شوبھا جتنا کیش کرانا چاہتی تھی ۔کرا چکی تھی۔اب وہ میچوریٹی میں قدم رکھنے لگی تھی ۔نئی گلوبل بیوٹی کی نظریاتی تھیوری کے مطابق حسن کی عمر چودہ سے اٹھارہ سال ہے ۔ اس عمر سے جو لڑکیاں تجاوز کرگئیں ،سمجھو اس کے حسن میں اسٹیگ نیشن آگیا ۔ اس کے بعدوہ صرف بچّہ ہی جن سکتی ہے۔
اس تھیوری کے مدّنظر حسن کے نئے گلوبل ویلیج میں ٹین ایجر کی مانگ میں جب کچھ اور تیزی آگئی تو شوبھا سوچ میں پڑ گئی کہ کہیں راتوں رات کوئی فریش لیگر راج ملہوترہ کے دل پر راج نہ کرنے لگ جائے ۔ اس لئے وہ چاہتی تھی کہ پریتی جلد سے جلداُسے پھانس لے اور بار اینڈ ڈانس کلب کی راج رانی بن جائے ۔بچّے پیدا کرے تب بھی ٹھیک ہے۔ نہیں کرے تب بھی ٹھیک ہے…. اس کی آخری زندگی عیش کی چھاؤں میں گذرنی چاہئے۔
شوبھا کی آنکھیں اب یہ دیکھنے لگی تھیں کہ راج ملہوترہ تمام بار بالاؤں میں پریتی کوعزیز ہی نہیں رکھتے بلکہ اس پر دل و جان سے مرتے بھی ہیں ۔ بات ہی بات میں اُس نے راج کے دل کو ٹٹولنا چاہا۔وہ توایک اور بازی کے لئے دل وجان سے تیّارہی تھا ۔لیکن پریتی نے یہ کہہ کر بات ٹال دی ۔ ’’ بھلے ہی دواؤں نے جسمانی طور پروقت سے پہلے جوان کر دیا ہو لیکن قانوناَ میں ابھی بالغ نہیں ہوئی ۔اس لئے آپ کو جوسوچنا ہے سوچیں ۔راج ملہوترہ کوکیا کہنا ہے وہ آپ دیکھیں …..‘‘
اس میں شوبھا کے لئے دیکھنے والی کیا بات تھی ۔؟ سیدھے اس نے راج سے مل کرسگائی کی تاریخ رکھ دی ۔ 
اٹھارویں سالگرہ کا جشن بڑی دھوم دھام سے منایا جا رہا تھا ۔راج با ر اینڈ ڈانس کلب کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔ پریتی اور راج کی سگائی کے اس موقعے پر شوبھا بہت خوش نظر آرہی تھی کہ اس نے بہت صحیح وقت پر پریتی کاسٹلمینٹ کر دیا تھا۔ دوسری طرف پریتی ماں سے بھی زیادہ خوش تھی کہ آج وہ قانونی طور پر اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے سنبھالنے لے لائق ہو گئی ہے۔راج ملہوترہ کی خوشی بھی قابل دید تھی ۔وہ تو پاگل سے ہو رہے تھے کہ پریتی کی آمد نے قلیل مدّت میں بار کی آمدنی میں حیرت انگیز اضافہ کرکے اسے لائف پارٹنرکا جوحسین تحفہ دیا ہے ۔وہ صدیوں میں کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔
سگائی پارٹی شام میں تھی ۔ لیکن پریتی کی خوشی کا عالم یہ تھا کہ وہ صبح سے کئی بار قد آدم آئینے کے سامنے اپنا اسٹائل اور میک اپ بدل چکی تھی۔آخر دوپہر ہوتے ہوتے اس نے بیوٹی پارلر جانے کا ارادہ کرلیا ۔ شوبھا ساتھ جانا چاہتی تھی ۔ لیکن پریتی نے یہ کہہ کراُسے روک دیا ۔’’ آپ یہاں راج ملہوترہ کے ساتھ پارٹی کا انتظام دیکھیں ۔میں ابھی گئی اور ابھی آئی۔‘‘
مہمان آگئے تھے ۔ ہر طرف لڑکیاں میوزک پر تھرک رہی تھیں۔جلتے بجھتے رنگین قمقمے ایک ایسا طلسماتی ماحول پیدا کر رہے تھے کہ آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں۔ہر کسی کو اس انوکھی سگائی کا انتظار تھا ۔وقت نکلا جا رہا تھا ۔ سبھی شوبھا سے پوچھ رہے تھے کہ پریتی کہاں ہے۔؟ اور وہ ہر کسی کو یہی کہہ رہی تھی۔ ’’ بیوٹی پارلر گئی ہے ۔ بس آتی ہی ہو گی ۔ ‘‘
اس دوران شوبھا نے کئی بار فون لگانے کی کوشش کی ۔ ہر بار انگیز ملا ۔ راج ملہوترہ نے بھی اپنی طرف سے کوشش کی ۔کئی اور ہاتھ ٹرائی کے لئے آگے آئے۔لیکن کسی کو کامیابی نہیں ملی …. حادثہ یاکڈ نپ کے خیال سے شوبھا اور راج کا بُرا حال ہو رہا تھا۔ دونوں اپنی پریشانی کوکسی پر ظاہر کرنانہیں چاہتے تھے ۔ اس لئے آرکیسٹرا اسی طرح بج رہا تھا ۔بالاؤں کا ڈانس اسی طرح جاری تھا ….. کچھ قریبی لوگوں کو ہدایت دے کر یہ دونوں ابھی پولس اسٹیشن جانے ہی والے تھے کہ شوبھا کے موبائل کی گھنٹی بج اُٹھی ۔ اسکرین پر پریتی کا نام روشن ہو گیا ۔ اس کے اندر سے باہر نکلتی روح اچانک اس کے جسم کے اندر دوبارہ حلول کر گئی ۔
’’پریتی کا فون ہے۔‘‘ اس نے میوزک کے شور میں چلّاکراپنے قریب کھڑے راج سے کہا ۔
راج نے آرکیسٹرا والے کو اشارہ کیا توپاپ میوزیکل ہنگامہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔ سبھی شوبھا کو دیکھنے لگے ۔اس وقت تک شوبھا نے موبائل کان سے لگا لیا تھا ۔
’’ بیٹا کہاں ہو۔؟جلدی آؤ ۔سگائی کے انتظار میں بے چارے راج کا برُا حال ہو رہا ہے۔‘‘
پھر مسکراتے ہوئے اس نے راج ملہوترہ کی طرف دیکھا ۔’’ اب زیادہ پریشان مت ہومیرے راج!۔ بس وہ آہی رہی ہے۔لیکن کب ؟یہ تم خود سے سن لوتاکہ تمہارا دل ایک بارپھر سے جوان ہوجائے……‘‘ شوبھا نے اسپیکر آن کرکے راج ملہوترہ کو دے دیا ۔
پریتی کی آواز ہال میں گونجنے لگی۔
’’اسّی سالہ بوڑھے راج ملہوترہ کی پراپرٹی پر تمہاری نظر ہے۔تم اس کی رکھیل بن جاؤ….میں مندر میں پھیرے لی چکی۔ انڈرگارمینٹ دھونے والاشیام سندراب ڈاکٹر بن چکا ہے ماں۔‘‘
*** 
Add:-
DR.AKHTAR AZAD
HOUSE NO:-38 , ROAD NO:- 1
AZADNAGAR
JAMSHEDPUR-832110
(JHARKHAND)
MOB-09572683122, E.Mail- dr.akhtarazad@gmail.com

کبوتر باز : مہتاب عالم پرویزؔ KABOOTARBAZ MAHTAB ALAM PERVEZ

 

      کبوتر باز                 KABOOTARBAZ

      مہتاب عالم پرویزؔ      MAHTAB ALAM PERVEZ

    اپنے عزیز دوست ڈاکٹراختر آزاد ؔ کی نذر

        *آکاش کی نیلی وسعتوں پر جنگلی کبوتروں کا جُھنڈ پرواز کر رہا تھا۔
اُس وقت اخترؔ اپنی چھت کی سیڑھیوں پر ایک سفید رنگ کے کبوتر کو ہاتھوں میں لئے اُس کے پنکھ کی گنتی میں مصروف تھا۔تبھی اخترؔ کی نگاہ اچانک اُس جنگلی کبوتروں کے جُھنڈ پر پڑی تواُس ؔ نے بغیر کسی تاخیرکے سفیدکبوتر کونیلے آکاش کی اور اُڑا دیا۔
یہ وہی کبوتر تھا جس کی اُڑان مسلسل پانچ یا چھ گھنٹے ہُوا کرتی تھی۔جو بلندی پر اُڑا کرتا تھا ۔اُس کی اُڑان میں کچھ ایسی کشش تھی کہ دوسرے کبوتر بھی اُس کے سنگ چھتری پر اُتر آیا کرتے تھے ۔
یہی وجہ تھی کہ اختر اپنے اُس کبوتر کو بے حد پیار کرتا تھا ۔
زندگی کے شب و روز یوں ہی گُذر رہے تھے۔
اُٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے اخترؔ کے دل و دماغ پہ بس ایک ہی خیال سوار رہتا تھا کہ کاش میں بھی ان پرندوں کی طرح آکاش کی نیلی وسعتوں پر پرواز کرتا۔جہاں جہاں جاتا امن کا پیغام پہنچاتا۔
لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔

اُس کے خیالات پرندوں کے بکھرے سفید پروں کی طرح ہواؤں میں بکھر کر رہ گئے۔
اخترؔ کا مکان میرے مکان کے پاس ہی تھا، جہاں سے پڑوسی ملک کی سرحدیں شروع ہو جاتی تھیں۔جہاں کی آب و ہوا ہمیشہ خُون آلود رہتی تھی۔ جب بھی نماز کے لئے مسجد جانا ہوتا ۔آتے جاتے میری نگاہیں نہ جانے کیوں اخترکو تلاش کرتیں۔ میں اکثر دیکھتا کہ اُس کی نگاہیں آکاش کی نیلی وسعتوں پر مرکوز ہیں جہاں کبوتروں کے جُھنڈپرواز کر رہے ہیں ۔اور اُس کے سنگ اُس کی آنکھوں کی پتلیاں بھی کنچے کی مانندگُھوم رہی ہیں۔
آج بھی ایک تصور میری نگاہوں میں گُھومتا رہتا ہے۔
سانولا سلونا سا وہ لڑکا ،کالے اور خوبصورت گھنے بال ، تیکھے نقوش، بڑی بڑی بولتی ہوئی با وقارآنکھیں، آواز میں ارتعاش جیسے ٹھہرئے ہوئے تالاب میں کسی نے کنکر مار دیا ہو۔
میں شروع سے ہی اُس کی ذات سے متاثر تھا۔
وقت کروٹیں بدلتا ہے۔ زمین اپنے محور پر گُھومتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ موسم کے رنگ بدلتے رہتے ہیں ۔
اورموسم کے بدلتے رنگ کے ساتھ اخترؔ کے اندر بھی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ لیکن آج بھی اُس کی آنکھیں آکاش کی نیلی وسعتوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ میں نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا وہ ہمیشہ کی طرح نیلا تھا اور آسمان کے نیلے دبیز تہہ پرکبوتروں کی جگہ ہر سو پتنگ اُڑ رہے تھے۔ اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ آکاش کی وسعتوں پہ ہر سوپرندے پرواز کر رہے ہیں۔ امن کا پیغام دے رہے ہیں۔
اور جب میں نے دیکھا کہ پتنگ کی ڈور اخترؔ کے ہاتھوں میں ہے تو میری سوچ سچ ثابت ہوئی ۔ اخترؔ نے اپنی اُڑانیں تبدیل کر لی تھیں۔
وقت کروٹیں بدلتا ہے۔
زمین اپنے محور پہ گُھومتی ہے۔
زندگی کے نشیب و فراز میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
موسم کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔
اور………..
ایسے میں اخترؔ کے خیالات اوراُس کے مزاج کا بدلنا کوئی عام بات تونہیں تھی لیکن ا س میں کوئی بات ضرور تھی۔
پھر اخترؔ نے اپنی اُڑانیں تبدیل کرلیں، پرواز کرتے ہوئے سفیدکبوتروں نے نہ جانے کب پتنگ کا روپ دھا رن کر لیاجس کی ڈور اخترؔ کے ہاتھوں میں تھی۔دور دور تک اخترؔ کی پتنگ کے داؤ پیچ کی مثالیں دی جانے لگیں۔
محلے کے لڑکے اخترؔ کے ارد گردگُھومنے لگے۔
اخترؔ کو سمجھتے دیر نہیں لگی کہ لڑکوں کی یہ بن بلائی ٹولی یوں ہی نہیں اُمڈ پڑی ہے۔ اس کی خاص وجہ میری پتنگ ہے۔ آکاش کی ان نیلی وسعتوں پہ صرف میں اُڑنا چاہتا ہوں،کیوں کہ میں امن کا پیامبر ہوں۔ میں ہی امن کی خبریں لایا کرتا ہوں ۔ان رنگ برنگے پتنگ کاآکاش کی ان کُھلی فضا میں کیا کام……….؟ یہ دھرتی تو خون کے دھبوں سے پہلے ہی داغ دار ہو چُکی ہے۔ اور اب ان نئی نسل نے آکاش کی نیلی وسعتوں پربھی اپنی خونی سازشوں کی پتنگ اُڑانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور نہ میں کبھی ایسا ہونے دوں گا۔
آکاش کی ان نیلی وسعتوں پر اب کوئی بھی پرندہ پرواز کرے گا تو وہ امن کا پرندہ ہوگا ۔ سفیدپروں والا اور اگر کوئی پتنگ اُڑائی جائے گی تو وہ بھی سفید رنگ کی پتنگ بالکل سفید رنگ کی پتنگ ، ورنہ سب کے سب امن کی ڈور کے زیر اثر آتے ہی کٹ کر ڈور سے الگ ہو کربے وجود پتنگ کی طرح ڈولتے رہ جائیں گے، یا وقت کی تیز آندھیوں میں سُوکھے پتوں کی طرح بکھر جائیں گے۔
میں امن کا پیامبر ہوں۔
میں ہی امن کی خبریں لایا کرتا ہوں۔
میرے امن کی ڈور اتنی مضبوط ہے کہ یہ رنگ برنگی خونی سازشوں کی پتنگ تو کیا اس ڈور میں شب خون کے پرندے بھی لہولہان ہوکر زمیں بو س ہو جا ئیں گے۔
’’اخترؔ بھائی ایک بات کہوں۔ ناراض تو نہیں ہوں گے نہ آپ۔؟‘‘
’’میں بھلا کیوں ناراض ہونے لگا۔‘‘
’’آپ نے تو کمال ہی کر دیا۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں۔؟‘‘
’’ مگر……وہ……‘‘
’’اب آگے بھی کچھ بولو گے یا وہ…..وہ کرتے رہو گے…….‘‘
’’وہ اپنے محلے کے شرما جی ہیں نا وہ آپ کے بارے میں ہمیشہ اُلٹی سیدھی باتیں کیا کرتے ہیں۔‘‘
’’اُلٹی سیدھی باتیں شرما جی کرتے ہیں یا ا س وقت تم کر رہے ہو ۔تم کہنا کیا چاہتے ہو۔‘‘
’’میں کہنا کیا چاہوں گا۔ کہہ تو شرما جی رہے تھے کہ اخترؔ کی عادتیں کُچھ اچھی نہیں ہیں۔ سُورج نکلنے سے لے کر سُورج کے ڈوبنے تک مُحلے کے لڑکوں کی ٹولیاں بنائے پتنگ اُڑایا کرتا ہے اور آوارگی کیا کرتا ہے۔میں اُس کی پتنگ کو اچھی طرح سے پہچانتا ہوں۔ اُس کی پتنگ سب سے زیادہ اُونچائی پہ اُڑا کرتی ہے۔میرا لڑکا روز نئے پتنگ کی ضد کرتا ہے۔ صبح سے شام تک درجنوں پتنگ میں خرید کردیتاہوں ۔لیکن ساری کی ساری پتنگیں پیچ میں کٹ جایا کرتی ہیں۔ ‘‘

کُچھ دیر ٹھہر کر ساحل نے کہا…… شرما جی یہ بھی کہہ رہے تھے کہ…….
’’میرا بیٹا کافی ضدی بھی ہے۔اگر پتنگ نہ لا کر دوں تو سارا د ن محلے کے آوارہ بچوں کے ساتھ کٹی ہوئی پتنگ کے پیچھے کسی آوارہ کُتّے کی طرح دوڑتے رہتا ہے۔ ایک روز تو ایسا بھی ہوا کہ کٹی پتنگ کے پیچھے دوڑتے ہوئے کسی تیز رفتار سائیکل کی زد میں آ گیا ۔ کافی چوٹیں آئیں۔ اُس کے با وجود بھی یہ لڑکا اپنے زخمی پاؤں لئے پتنگ کے پیچھے بھاگتا ہی رہتا ہے۔ جب سے مُحلے میں پتنگ بازی شروع ہوئی ہے مُحلے کے بچے اور اُس کے ساتھ بڑے لڑکے بھی اخترؔ کی ان حرکتوں سے پریشان ہیں کہ اُ س کی پتنگ اکثر اخترؔ کے پیچ سے ہی کیوں کٹ جایا کرتی ہے۔آخر اخترؔ اپنی ڈور میں کس منجھے کا استعمال کرتا ہے۔ کس طرح کا مصالحہ تیار کرتاہے۔
لڑکے حیران و پریشان ہیں۔ میں بھی پریشان ہوں صرف اس لئے کہ میری پتنگ بھی آپ کی ڈورسے کٹ جا یا کرتی ہے۔میر ے سا تھ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میری ڈورنے آپ کی پتنگ کو کاٹا ہو۔‘‘
’’اور کاٹ بھی نہیں پاؤ گے۔یہ میرا یقین ہے۔ تم جس شرما جی کی بات کر رہے ہو میں اُن کو اوراُن کے ضدی بیٹے وشال کو بھی اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ شرما جی اکثراپنے ضدی بیٹے کے لئے لال رنگ کی پتنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔‘‘
’’تو کیا ہوا ۔؟ گُلابی اور لال رنگ کی پتنگ تو میں بھی استعمال کرتا ہوں۔‘‘
’’اس لئے تو کاٹ دئے جاتے ہو۔‘‘
’’یہ بھی کوئی بات ہوئی۔پتنگ کے کٹ جانے کا رنگ سے کیا تعلق ہے۔؟‘‘
’’میرے حساب سے تو تعلق ہے۔ اس وقت میری پتنگ کا رنگ کیا ہے۔؟‘‘

’’سفید‘‘
’’ابھی اس نیلے آکاش کی اور دیکھو۔ اور غور سے دیکھو کہ ابھی جتنی بھی پتنگیں اُڑ رہی ہیں سب کا رنگ کیا ہے۔؟‘‘
ساحلؔ نے باریک بین نگاہوں سے آکاش کی اور دیکھا جہاں ڈھیر ساری پتنگیں اُڑ رہی تھیں۔ اور سب کا رنگ سفید تھا۔ ساحل ؔ حیران تھا اور ساتھ ہی ساتھ پریشان بھی۔
’’ساحل ؔ خاموش کیوں ہو۔؟تم نے میرے سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں دیا ہے۔‘‘
’’سفید‘‘
’’تو اب تم یہ سمجھ سکتے ہو شرما جی کے بیٹے وشال کی پتنگ میری ڈورسے کیوں کٹ جاتی ہے۔‘‘
’’میں کُچھ سمجھا نہیں۔‘‘
’’ تم سمجھو گے بھی نہیں۔یہ لومیری طرف سے ایک سفید پتنگ بطور خاص تمہارے لئے اورایک اور سفید پتنگ شرما جی کے بیٹے وشال کے لئے شرما جی سے کہنا اخترؔ نے کہا ہے کہ دل میں کوئی ایسی غلط فہمی نہ پیدا کریں جو آنے والے وقت میں خود اُنہیں ڈھیر
سارے سوالوں کے بیچ لا کر کھڑا کر دے اور جواب وقت کی گہرائی میں دفن ہو کر رہ جائے۔‘‘
’’اخترؔ بھائی میں اب جاؤں۔؟‘‘
’’میں نے تمہیں کب روکا ہے۔ کہانی تو تم نے شروع کی تھی۔ ‘‘
’’اور ختم بھی میں کر رہا ہوں۔‘‘
’’کہانی ابھی شروع بھی کہاں ہوئی ہے اور تم ختم کرنے کی باتیں کرنے لگے ۔کہانی ختم بھی میں کروں گا۔ ‘‘
’’وشال کو پتنگ دیتے وقت شرما جی سے کہنا کہ اخترؔ بھائی نے آپ کو یاد کیا ہے۔‘‘

…………………………………….

ساحلؔ اور اخترؔ کے درمیان جہاں گفتگو ہو رہی تھی، وہاں میں بھی موجود تھا ۔ نماز پڑھ کر مسجد سے واپسی کے وقت میں نے ان دونوں کو آپس میں اِس طرح کی باتیں کرتے ہوئے دیکھ کرسُننے کے لئے رُک گیا ۔
باتیں ہوئیں اور ختم بھی ہوگئیں۔
اخترؔ کی باتوں نے مجھے کافی متاثر کیا۔

’’مہتابؔ تم نے شرماجی کی باتیں نوٹ کیں۔؟‘‘ اخترؔ نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔
’’میں نے صرف شرما جی کی ہی باتیں نہیں نوٹ کی ہیں، بلکہ آج تمہاری باتوں نے مجھے بے حدمتاثر کیاہے ۔ساحل ؔ کی عمر ہی کیا ہے۔ وہ ابھی اس اہل کہاں کہ وہ تمہاری ان فلسفیانہ باتوں کو سوچ سمجھ سکے۔‘‘
’’تمہیں تو اچھّی طرح سے معلوم ہے کہ میں کبوتروں سے کافی اُنسیت رکھتا ہوں وہ بھی سفید رنگ کے کبوتروں سے، میرے پاس کبوتروں کی اچھی نسلیں موجود ہیں۔ تم نے اُنہیں دیکھا بھی ہو گا۔ اور اب رہی بات ان کاغذی پتنگ کی ، میں سارا سارا دن لڑکوں کی ٹولی بنا کر آوارگی کرتا ہوں۔ یہ میں نہیں شرما جی نے کہا ہے۔اُس روز بھی میں ایسی ہی آوارگی میں مبتلا تھا جب میں نے ہی دوپہر کے سناٹے میں شرماجی کی جواں سال بیٹی کواُن کے ہی کاسٹ کے لوگوں سے آزاد کروایا تھا ورنہ وہ اُن وحشی درندوں کا شکار ہو جاتی۔ بعد میں وہ ساری بدنامیاں میرے حصے میں آگئیں ۔لیکن اللہ گواہ ہے۔ میں شروع سے ہی امن پسند رہا ہوں۔میری امی تواب اس دُنیا میں رہی نہیں لیکن امیّ کی آدرش وادی باتیں زندگی کا ہمیشہ احساس دلاتی رہی ہیں۔دنیا کو نئے طریقے سے دیکھنے کی تلقین کرتی ہیں ۔‘‘
’’اخترؔ میں تمہیں کیسے یقین دلاؤ ں کہ میں نے بھی زندگی کے شب و روز کو بڑے ہی حُسن اسلوبی سے گُذار ا ہے۔ لیکن تم دیکھنا آنے والی نسلیں اپنے پُر کھوں کو بھی پہچاننے سے قاصر رہیں گی۔یہ ساری کائنات خُدا کی دی ہوئی امانت ہے۔ اور کل ہم سب لوٹ جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے ساتھ، لیکن آج ہر طرف وحشت و درندگی کے کالے کالے بادل چھائے ہوئے ہیں۔اور اُن بادلوں میں بھی امن کی پتنگ اُڑ رہی ہے اور جس کی ڈورمیں تمہارے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں۔سفید کبوتروں کے جُھنڈ در جُھنڈ تمہارے گھر کے مُنڈیروں سے اُڑ کر علی الصباح ساری وسعتوں پر پرواز کرتے ہیں اور امن کا پیغام دیتے ہیں۔‘‘
وقت کروٹیں بدلتا ہے۔
زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے ۔
زندگی کے نشیب وفراز میں تبدیلیاں آ تی ہیں ۔
موسم کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔
’’اور اِن بدلتے موسموں کے رنگ کے درمیان ملک کی خُفیہ ایجنسیاں، بڑے بڑے میڈیا چینل، اخبارکی سُرخیاں، ٹی وی چینل یہ چیخ ، چیخ کر اعلان کر رہے ہیں کہ پڑوسی ملک نے وحشت ودرندگی کے نقش پا کو ڈھونڈلیا ہے۔‘‘
’’جنگلی کبوتروں پہ کئے گئے ریسرچ نے کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ چُھوٹے چُھوٹے کیمرے اُن جنگلی کبوتروں کے وجود پہ چسپاں کر کے اُنہیں ٹرینڈ کیا جا رہا ہے۔ہم لوگ جس علاقے میں رہ رہے ہیں وہ ہمارے پڑوسی ملک کی سرحدہے۔ اوریہ بھی سُننے میں آیا ہے کہ کُچھ جنگلی کبوتروں پہ جدید ٹیکنک کے چُھوٹے مگر کافی پاور فُل بم کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سارے جنگلی کبوتر چُھوٹے چُھوٹے خُفیہ کیمرے او ر پاورفُل بم سے لیس ہوں گے۔ اور جن کی اُڑانیں مسلسل کئی کئی گھنٹوں تک ہو تی ہے اور جب یہ سارے جنگلی کبوتر آکاش کی وسعتوں میں پھیل جائیں گے تواُن کبوتروں کے خُفیہ کیمرے اُن کے کنٹرول روم میں اُن علاقوں کی نشا ندہی کریں گے، اور پھرریموٹ کے ذریعے اُن خطرناک بموں کو ایکٹیویٹ کیا جائے گا۔‘‘ 
’’مہتابؔ تم نے جو کُچھ بھی سُناہے، میں تمہاری باتوں سے انکار نہیں کر سکتا۔ مگریہ ساری باتیں تو اب پُرانی ہو گئی ہیں۔ اور اب تو اُس کے رزلٹ کا وقت آ گیا ہے۔ اُس کے انجام کا وقت آگیا ہے۔ تم نے دیکھا نہیں میرے اُن کبوتروں کو جو علی الصباح امن کا پیغام پھیلاتے ہیں۔میں بھی ا پنے ملک کی حفاظت کے لئے جن کبوتروں کا استعمال کر رہا ہوں یا پھر شرماجی کی زُبان میں کہہ دوں کہ آوارگی کر رہا ہوں۔ اُس آوارگی کا نتیجہ بھی دیکھ لینا۔میں نے ساحلؔ کے ذریعے شرما جی کو بھی بلوایا ہے۔تم بھی کچھ دیر رُکو تاکہ میرے کبوتروں کا کمال دیکھ سکو ۔‘‘
زمین اپنے محور پر اُسی طرح گھوم رہی تھی ۔
کروٹیں بدلتا وقت شام کی گود میںآ کر کچھ دیر کے لئے ٹھہر گیا تھا ۔
شام کے سائے طویل ہو چُکے تھے۔ سارے سفید کبوتر منڈیروں پہ لوٹ آئے تھے۔
میں یہ دیکھ کر حیران تھاکہ سفید کبوتروں کے سنگ ڈھیر سارے جنگلی کبوتر بھی مہمان ہوئے ہیں جس پر چسپاں خُفیہ کیمرے کو میں دیکھ سکتا تھا۔ اور میں یہ بھی دیکھ سکتا تھا کہ اخترؔ کے سفید کبوتر اُن جنگلی کبوتروں کے پاور فُل اور خطرناک بم کے باریک باریک وائر کو اپنی چونچ سےDIFFUSE کر رہے ہیں۔
****

مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۱۱ ، کروس روڈ نمبر ۶۔ بی
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰

نیا اندھیرا : اسلم جمشید پوری ” NAYA ANDHERA ” ASLAM JAMSHEDPURI

گرلس ہاسٹل کا ایک کمرہ دیر رات تک جاگ رہا تھا۔
عالیہ : یار آج کل تو دیر رات تک مو بائل میں گھسی رہتی ہے۔کیا چل رہا ہے؟
حسن آرا : عالیہ میرا نام حسن آرا ہے۔میں جس کی بھی ہو جاؤں ،اس کی قسمت کھل جائے گی۔
عالیہ : ہاں مجھے پتہ ہے۔تیرے پا پا کا بہت بڑا کارو بار ہے۔
حسن آرا : صرف کارو بار یعنی دولت۔؟
عالیہ : نہیں،نہیں۔۔۔ تم حسن کا بھی لا جواب نمونہ ہو۔شاہکار ہو۔
حسن آرا : ہاں اب ہوئی نا بات۔عالیہ آج کل میں دو،باپ۔ بیٹوں کو فیس بک پر ایک ساتھ بے وقوف بنا رہی ہوں۔دونوں ہی میرے دیوانے ہیں۔تمھیںیاد ہے؟ ابھی کچھ دن قبل،میں نے پانچ۔پانچ نوجوانوں کو بیک وقت اپنی زلفوں کا اسیر بنا کر الو سیدھا کیا تھا۔اپنے موبائل اور دوسرے خرچے ایسے ہی نکلتے ہیںیار۔
عالیہ : یار مجھے تو بڑا ڈر لگتا ہے۔
حسن آرا : ڈر، کس بات کا؟ یہ نیا زمانہ ہے،یہاں کوئی ڈر ہے،نہ خوف، کچھ بھی کرو۔دوستی جیسا وسیع المعنی لفظ ہے ناہمارا۔ اور اب تو FBFیعنی فیس بک فرینڈ نے تو ہر مشکل آسان کر دی ہے۔خوبصورت سا کسی کا فوٹو لوڈ کرواور نوجوانوں خاص کر شادی شدہ مردوں کو خوب الو بناؤ۔یار ڈرو ،ورو نہیں، خوب عیش کرو۔بنداس لائف گزارو۔پھر نیٹ پر نئی نئی دنیائیں ہیں۔موج کرو۔آؤ میں بتاؤں کس طرح ؟
اس نے اپنی خمار آلودہ نظروں سے عالیہ کو دیکھا اور ایک انگڑائی لیتے ہوئے بیڈ پر دراز ہو گئی۔
۔۔۔۔اور ہاسٹل کا وہ روشن کمرہ ،اندھیر ے میں ڈوب گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔