"مانگ”
انس اقبال احمد (لاہور)
annas_iqbal@yahoo.com
ساری زندگی اس نے یوں ہی گزار دی تھی۔ بغیر کسی مقصد کے ۔۔۔بغیر کسی تمنا کے!!!
وہ چلتا تو یوں لگتا کہ بس ہوا کے دوش پہ کوئی تنکا تیرتا جا رہا ہے۔۔۔اڑتا جا رہا ہے‘ کبھی دائیں تو کبھی بائیں ۔۔۔کبھی ترچھا تو کبھی گھومتا۔۔۔دیکھنے والوں کو یوں ہی لگتا جیسے کھڑکی کی چوکھٹ پہ کسی کپڑے سے ادھڑا ہوا کوئی دھاگہ اڑا ہو۔۔۔جو ہوا کے زور سے کبھی ادھر کبھی ادھر زور لگاتا ہے مگر اپنی سطح نہیں چھوڑ پاتا۔اسی طرح وہ بھی اپنے قدموں کو کبھی اکھڑنے نہیں دیتا تھا۔۔۔عجیب سا سکوت تھا اس میں۔۔۔عجیب سی یکسانیت تھی۔مگر اسی یکسانیت میں اس کی زندگی چل رہی تھی۔
ایم اے کیا تھا اس نے۔۔۔ وہ بھی انگریزی میں۔سیدھا سیدھا پڑھتا رہا اور ایک جیسے گریڈز میں ساری دہلیزیں پار کر دیں۔اور سیدھا ایک جیسی رفتار سے چلتا ہوا ایک کالج میں لیکچرر بھی تعینات ہو گیا‘ اور اب اسی رفتار سے اسو سی ایٹ پرو فیسر کی پوزیشن حا صل کر لی تھی۔
حالانکہ اس بشر کے لوگ جو نمایاں نہیں ہوتے۔۔۔کسی گروپ کا حصہ نہیں ہوتے، کسی اچھے مقام تک جلدی پہنچتے نہیں دیکھے گئے۔ بس کلرک کسی ویگن کے ڈرائیور یا ایسے ہی کسی درجے تک رہتے ہیں۔ مگر شائد اسکی یکساں رفتار نے اسے ایسا بنا دیا تھا کہ وہ غیر محسوس طریقہ سے زمانے کی ہوا کے دوش پہ چلتے ہوئے ‘ سب کی نظروں میں آئے بناء یہاں تک پہنچ گیا تھا۔
صبح اٹھتا ۔۔۔بچپن کے سکھائے ہوئے طریقوں کے مطابق دعائیں پڑھتا۔
یہ دعائیں جب تک ماں زندہ تھی روز صبح اٹھ کے اسے سنایا کرتا تھا۔
پھر نماز پڑھتا ۔۔۔نہاتا‘ دانت صاف کرتا۔۔۔نفاست سے استری کئے ہوئے کپڑے(جو ہر رات روٹین کے مطابق کئے جاتیتھے)پہنتا۔ سر پہ تیل لگا کر اسی طرح کھینچ کرمانگ نکالتا جس طرح ماں اپنی زندگی میں کھینچا کرتی تھی۔ماں کے ہاتھ کا پراٹھہ تو اب نہیں ملتا تھا سو خود ہی بناتا۔
باہر جانے کا راستہ اسکے کمرے کے دروازے کی سیدھ میں صرف ایک صحن کے پار تھا۔مگر وہ حسبِ عادت تین کمرے بائیں ہاتھ کے پار کرتا۔۔۔دوسرے کمرے سے گزرتے ہوئے ہلکی سی آواز میں ایک خالی پلنگ کی طرف منہ کر کے اپنے باپ کو سلام کرتا اور آخری کمرے سے ہوتا ہوا ۔۔۔اپنے کمرے کی طرف پشت کر کے مین دروازے سے باہر نکل جاتا۔یہ اسکی شروع سے ہی روٹین تھی۔بس ایک تبدیلی آئی تھی اسکی زندگی میں۔۔۔وہ تھی جاتے ہوئے گھر کو تالہ لگانا!!!
کالج کے گیٹ سے اندر تب تک نہیں جاتا تھا ۔۔۔جب تک وہ کسی فقیر کو دس کا نوٹ نہ تھما دیتا!
پھر غیر محسوس طور سے درختوں کے درمیان والے راستے سے ہوتا ہو ا سٹاف روم جا پہنچتا۔اسکا پہلا لیکچر آدھے گھنٹے بعد شروع ہوتا‘ اتنی دیر وہ اپنے ہاتھوں سے کھینچی ہوئی مانگ کو تھپتھپاتا رہتا۔ اس کی وہ بہت فکر کرتا تھا۔اس نے کبھی اپنے بال اور مانگ خراب نہیں ہونے دئیے تھے۔اول تو گھر سے کالج تک کا راستہ پیدل چند منٹوں کی مارتھا‘ اسی لئے ماحول بھی اسکی مانگ کو اسی کی طرح نظر انداز کر دیتا ۔یہ چھوٹے سے جانے پہچانے راستے۔۔۔ جن پہ وہ روزانہ انجان سا گزر جاتا!
مگر لیکچر دیتے ہوئے وہ یکدم انتہائی نمایا ں ہو جاتا۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے سکول میں سبق سناتے ہوئے‘ کمرہ امتحان میں یا دوڑ کے میدان میں سب سے نمایاں ہو جایا کرتا تھا۔ایک عجب سی پھرتی اور جوش اس میں عود آتا تھا!مگر لیکچر ختم ہوتے ہی یوں لگتا جیسے کسی روبوٹ کی بیٹریاں اسکے مقررہ کاموں کے بعد اتار دی گئی ہوں!!اورپھر وہ سب سے اجنبی ہو جاتا ۔ سب سٹوڈنٹ کلاس کے بعد اسے پہچان ہی نہیں پاتے تھے بلکہ اگر کوئی قسمت سے اسے باہر مل ہی جاتا تو اسے یہی محسوس ہوتا جیسے وہ کسی غلط شخص سے ملا ہو!!! حالانکہ لیکچر دیتے ہوئے جب وہ کسی پیرے، شعر یا کسی مضمون کی وضاحت کرتا، تو یہ وضاحت شاعری، نثر اور شعراء کے حوالہ جات کا ایک انتہائی خوبصورت مجموعہ ہوتی ۔خصوصاََ وہ کیٹس اور ورڈزورتھ کو اس طرح سجاتا تھاکہ وہ شاعر بھی اپنی قبروں میں عش عش کر اٹھتے ہونگے! رومانٹک موضوعات پر اسکی آنکھوں میں ایک عجب سی چمک آجاتی ‘ مگر سب سے زیادہ وہ احساسِ محرومی کے ٹاپک پر گرفت کئے ہوئے نظر آتا !
شائد یہ اسکا اپنا جذبہ تھا!!
اکثر اسکے لیکچرز کے دوران لڑکیاں لمبی سانس کھینچ کر یا آنکھ میں کوئی چیز پڑ جانے کا بہا نہ کر کے آنسو روکتی اور چھپاتی تھیں۔مگر کمرے سے باہروہ کچھ نہیں تھا۔
شادی کا اس نے سوچا ہی نا تھا۔۔۔کیونکہ اس بارے اسے بچپن میں کوئی نصیحت نہیں کی گئی تھی!
دوست احباب جو فقط کالج تک محدود تھے، جب بھی شادی کی بات چھیڑتے تو وہ الوؤں کی طرح دیدے پھاڑ کر انہیں تکتا۔ سب کا خیال تھا کہ یہ سوال اس کے کانوں کی بیرونی سطح پہ گھومتا پھرتا اسے اتنا اجنبیت محسوس کروا تا کہ وہ آخر کار اسے باہر ہی دھکیل دیتا!
وہ نہ روتا نہ ہنستا ۔۔۔مگر وہ روتا تھا۔۔۔ایک بات پر وہ بھی اکیلے!!جب کبھی حادثاتی طور پر اسکی مانگ خراب ہو جاتی تو وہ تھوڑی دیر سر پہ ہاتھ رکھے سکتے کی حالت میں کھڑے رہتا۔پھر ہوا کی طرح اڑتا ہوا گھر چلا جاتا۔غسلخانے میں جا گھستا اور ابل پڑتا۔اسے یہی لگتا کہ اسکی ماں کا دل ٹوٹ گیا ہے۔پھر وہ باہر نکلتا۔۔۔بال گیلے کرتا اور کھینچ کر دوبارہ مانگ نکال لیتا۔
آج اسکی زندگی میں ایک تہلکہ مچ گیا تھا۔کہتے ہیں کہ شہرت اور عورت کبھی نہ کبھی اثر ضرور ڈالتے ہیں۔یہ بات کہنے والے نے جس نکتہ نظر سے کی تھی اس کی زندگی میں تو وہ نظریہ بویا ہی نہیں گیا تھا‘ مگر نجانے کیسے اسکے ساتھ کچھ ہو ہی گیا۔
آج اسے ففتھ ائیر کی کلاس اسا ئن کی گئی تھی۔ وہیں اس نے اسے دیکھا۔ وہ ایک خوبصورت مگر سادہ سی لڑکی تھی۔اچھی طرح دوپٹہ اوڑے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اسے خود نہیں معلوم تھا کہ اسکی نگاہ کس جذبے کے تحت بار بار اس لڑکی کی جانب اٹھ رہی ہے! شبا بی خوبصورتی و سادگی۔۔۔ ان صفات سے اسکا کیا لینا دینا‘ مگر وہ بے بس سا مسحور ہوتا جا رہا تھا۔ بار بار اسکے اندر ایک خواہش سی بیدار ہو رہی تھی کہ وہ اسکا نام پوچھے۔۔۔مگر اس نے تو آج تک اپنی کلاس میں’’ انٹروڈکٹری سیشن‘‘ بھی نہیں کروایا تھا۔
پہلی بار لیکچر دینے میں اسے مشکل پیش آرہی تھی۔ اسکی نگاہ جب بھی اس لڑکی پر پڑتی ،بے اختیا ر اسکا ہاتھ اپنے سر پہ جا ٹھہرتا‘ وہ اپنی مانگ ٹٹولتا اور اسکی برقراری محسوس کر کے مطمئن ہو جاتا۔ پہلی بار پڑھاتے ہوئے وہ کسی سٹوڈنٹ کی طرف مرکوز ہو رہا تھا۔ وہ خوفزدہ ہو گیا۔اس نے جلدی میں لیکچر ختم کیا اور ہانپتا ہوا سٹاف روم کی جانب ڈھولتا گیا۔
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیوں؟آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے!!سینتس سالہ زندگی میں پہلی بار اسے کوئی پرایا پن اپنے اندر محسوس ہو رہا تھا!!!مگر اس پرائے پن میں چھپی ہوئی کوئی بے انتہا اپنائیت تھی۔وہ سمجھنے سے معذور تھا۔
گھر پہنچ کر بھی زندگی میں پہلی بار اس نے سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر کچھ سوچا ۔۔۔وہ بھی کسی اور کے بارے میں!!!حالانکہ اس نے کبھی اپنے بارے میں بھی نہیں سوچا تھا۔ بار بار اسکے ذہن میں ایک خیال آتا کہ اس لڑکی کا نام ہی پوچھ لیتا۔۔۔کیوں؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ ہاں۔۔۔اس لڑکی کا خیال آتے ہی وہ اپنی مانگ ضرور ٹٹولتا رہاتھا۔اورپھر وہ سو گیا۔
اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک خوبصورت سر سبز خطہ میں ہے۔ چاروں طرف بادل چھائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک درخت سے بندھے ہوئے جھولے پہ جھولا جھول رہا ہے۔جھولا جھولتے ہوئے یکدم ہوا کی مخالفت سے اس کی مانگ خراب ہو جاتی ہے۔وہ گھبراہٹ میں جھولے سے گر جاتا ہے۔۔۔۔پھر اسکی آنکھ کھل گئی۔ رات کا آخری پہر جا رہا تھا۔وہ جلدی سے اٹھا۔ ہاتھ سر کی طرف گیا۔۔۔مگر گھڑی دیکھ کر واپس لیٹ گیا۔کچھ دیر خواب کے بارے میں سوچتا رہا اور آخر سو گیا۔
اگلے دن پہلی بار اس نے نکلتے ہوئے دوبارہ آئینہ دیکھا تھا۔ مانگ کو برقرار پا کے مطمئن ہو گیا۔لیکچر کے لئے جاتے ہوئے بس اس کے ذہن میں ایک ڈوپٹہ اڑا ہوا تھا اور نام، نام، نام کی گردان چل رہی تھی۔آخر اس نے فیصلہ کر لیا!
کلاس روم میں پہلی بار اس نے انٹروڈکٹری سیشن کروایا۔ففتھ ائیر تھی ۔۔۔اس لیے انہوں نے سمجھا شائد یہ بھی ایک روائت ہے کہ دوسری کلاس میں تعارف ہوتا ہے‘ اسی لئے کسی نے زیادہ حیرت کا اظہار نہیں کیا۔آج اس نے کلاس بھی نارمل طریقے سے پڑھائی تھی۔
واپسی میں اسے صرف ایک نام یاد تھا۔۔۔ماریہ! باقی نام اس نے سنے بھی نہیں تھے!!
آجکل کئی کام پہلی بار ہو رہے تھے!!!
اس رات اس نے پھر خواب دیکھا۔
خواب اسی طرح شروع ہوا۔جھولا جھولتے ہوئے اسکی مانگ خراب ہو جاتی ہے‘ وہ گھبراہٹ میں گر جاتا ہے‘ پھر وہ کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھتا ہے۔ اٹھتے ہوئے وہ عادت کے مطابق سر پہ ہاتھ پھیر کر اپنی مانگ محسوس کرتا ہے۔مگر مانگ خراب ہوتی ہے ۔۔۔و ہ بوکھلاہٹ میں ادھر ادھر اپنا عکس دیکھنے کے لئے بھاگتا ہے۔ ہر بار سر پہ ہاتھ پھیر کر وہ گھبرا جاتا ہے۔ پھر اسکی آنکھ کھل گئی۔
اگلے دن لیکچر کے دوران اسکے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ماریہ کو مخاطب کرے۔جھجکتے جھجکتے آخر اس نے اس سے ایک سوال کر ہیدیا۔ گھبراہٹ میں اس نے سوال اس ’’چیپٹر‘‘ سے پوچھا تھا جو ابھی پڑھایا بھی نہیں گیا تھا۔یقینالڑکی کو جواب آنا ہی نہیں تھا‘ اس پہ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سوال کسی اور چیپٹر سے متعلق ہے۔اس نے اس لاعلمی کو اپنی نا لائقی متصور کیا۔شرمندگی کے تاثرات اس کے گلابی چہرے پر شفقی بہار لے آئے۔ اسکی بڑی بڑی آنکھیں چمکیلی ہوتی گئیں۔اسے لگا کہ ماریہ کی آنکھوں کی بڑھتی ہوئی چمک بڑھتے بڑھتے آئینہ بن گئی ہے۔ اسے اس میں اپنی مانگ ٹھیک سے نکلی ہوئی نظر آنے لگی۔اس نے گھبرا کر پلکیں جھپکائیں۔ اب آئینہ پگھلنے لگا تھا۔ پگھلتے پگھلتے آئینہ آنسوؤں کی ایک جوڑی بن چکا تھا۔ماریہ کی آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو تھے۔ اسے بہت افسوس ہوا! اس نے گھما پھرا کر اس سوال کو اسی سبق سے منسلک کر کے موضوع بدل دیا۔
واپسی پر وہ افسوس کرتا رہا۔پہلی بار دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ اپنی مانگ کو پرکھ نہیں رہا تھا۔کیونکہ آج اسے پہلی بار اپنی مانگ کہیں اور نظر آئی تھی!!!
اس رات اس نے پھر خواب دیکھا!
اس بار منظر وہاں سے شروع ہوا جہاں وہ آئینے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔بار بار اسکے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اسکی ماں اس سے ناراض ہو گئی ہے۔اس کا دل ٹوٹ رہا ہو گا کہ اس نے اس کی اتنی پیار اور محنت سے بنائی ہوئی مانگ خراب کر دی ہے۔منظر بدل جاتا ہے۔ اب وہ درختوں کے ایک جھنڈ سے نکل کر ایک سرسبز میدان میں داخل ہو رہا ہے۔چاروں طرف انتہائی خوبصورت پرندے اڑ رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اس کے بال بکھرے ہوتے ہیں۔۔۔نجانے کیوں پہلی بار وہ خود کو ان بے ترتیب بالوں میں اچھا محسوس کرتا ہے۔ وہ خود میں ایک بانک پن سا محسوس کرتا ہے۔’’ ورڈزورتھ ‘‘کے کھینچے ہوئے منظر میں خود کو وہ’’ بلیک‘‘ کا ایک نائٹ محسوس کرتا ہے۔ یکدم وہ خود کو ایک خوبصورت سفید گھوڑے پر سوار پاتا ہے۔ اس پہ سوار وہ کسی قلعہ کی جانب تیزی سے رواں ہے۔بار بار وہ مانگ بنانے کے لئے سر کی طرف ہاتھ لے جاتا ہے مگر ہر بار گھوڑا دوڑنے سے لگنے والے جھٹکے اسے ایسا کرنے سے روک دیتے ہیں۔
اسے ایک محل میں جانا ہے جہاں اسے اپنی ماں سے ملنا ہے جو ہاتھ میں کنگھی لئے اسکی منتظر ہے۔ یکدم گھوڑا لڑکھڑا کے گر جاتا ہے۔ اسکی آنکھ کھل گئی۔مگر اس دفعہ وہ گھبرایا نہیں تھا!!!
اگلے دن اس نے جان بوجھ کر کئی چیپٹرز چھوڑ کر ایک المیہ سی کہانی کو چنا۔پھر جب اس نے اسے اپنے مخصوص طریقے سے پڑھایا تو پوری کلاس پر جیسے وجد طاری ہو گیا۔ سب گم سم اسے سن رہے تھے۔ہر بار کسی پرزور ادائیگی پر اور کسی قدرتی رنگ میں ڈوبی اداسی کو واضح کرتے وہ مانگ پر ہاتھ پھیر کر ماریہ کو خصوصی دیکھتا۔ وہ ہر شے سے بے نیاز اس کے لفظوں میں محصور گھلتی دکھائی دے رہی تھی۔حالانکہ در حقیقت سب کی یہی حالت تھی‘ مگر وہ کیا کرتا‘ اسے نظر ہی وہی آرہی تھی۔جب تک وہ پڑھاتا رہا اس نے دیکھا کہ سب کرسیاں اور بنچ خالی ہیں۔ کمرے میں صرف وہ اور ماریہ ہیں۔وہ پڑھا رہا ہے۔۔۔ماریہ پڑھ رہی ہے۔ وہ بول رہا ہے۔۔۔ماریہ سن رہی ہے ۔
اچانک سب آکے بیٹھ گئے۔ اسکے لیکچر کا وقت ختم ہو گیا تھا۔
ہوا چل رہی تھی۔ سٹاف روم کی کھڑکی سے سر نکال کر آج اس نے پہلی بار ہوا محسوس کی تھی۔ایک دم ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا‘ اس نے تیزی سے سر پہ ہاتھ رکھ کے بالوں کو خراب ہونے سے بچایا اور سر اندر کر لیا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ماریہ میں وہ کیا دیکھ رہا ہے۔سوچتے سوچتے اسکی آنکھیں چمک اٹھیں۔وہ گھر کی طرف چل پڑا۔
اس نے پہلی بار اپنی ماں کی بند الماری کھولی۔کافی گردوغبار تھا۔اس نے تصویروں والا البم نکالا۔یہ البم اسکی ماں اسے اپنے ساتھ لٹا کر اکثر دکھایا کرتی تھی۔ایک تصویر اسے ہمیشہ بہت اچھی لگتی تھی۔اس تصویر میں وہ دو برس کے لگ بھگ تھا اور اسکی ماں نے اسے اپنی گود میں اٹھایا ہوا تھا۔اس نے غور سے دیکھا تو اس تصویر میں اسکی ماں نے اسی طرح دوپٹہ لپیٹا ہو ا تھا جس طرح ماریہ لیتی تھی۔اسکے علاوہ چہرے کی ساخت میں بھی کافی مشابہت تھی۔اس نے ایک گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے ٹک کر اس تبدیلی کا سوچنے لگا۔
رات اس نے پھر خواب دیکھا۔
اب منظر وہیں سے شروع ہوا جہاں سے وہ قلعے کی طرف جاتے ہوئے گھوڑے سے گرا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ گھوڑے سے گر کر بیہوش ہو گیا ہے۔پھر منظر بدلتا ہے اور وہ ہوش میں آتا ہے۔ وہ خود کو ایک مسہری پر پاتا ہے۔یہ مسہری ایک چار دیواری کے اندر ایک خوبصورت سے لان میں پڑی تھی۔پچھلی طرف ایک مصنوعی آبشار چل رہی تھی۔باہر ہلکا ہلکا ٹریفک کا شور تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے زمانہ بدل گیا ہو۔وہ اٹھا تو اس نے دیکھا کے مسہری کے سر والی جانب ایک آئینہ لگا ہوا تھا۔اس میں اس نے اپنا چہرا دیکھا۔اسکی مانگ نہائت نفاست سے کھنچی ہوئی تھی۔پھر منظر میں یکدم تبدیلی آجاتی ہے۔اسکا سر اپنی ماں کی گود میں ہوتا ہے۔وہ اپنی ماں سے لپٹ جاتا ہے۔
’’امی۔۔۔اتنے برسوں بعد آپ مجھے پہلی بار ملنے آئی ہیں۔۔۔‘‘۔اس نے اپنی ماں کی گود میں سر چھپاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بیٹا ۔۔۔میں تو ہمیشہ تیرے ساتھ ہی رہی ہوں۔ہر روز میں ہی تو تیرے بالوں میں کنگھی کرتی ہوں۔دیکھ میں ہی تو تیری مانگ کھینچتی ہوں۔‘‘۔اسکی ماں نے اسکا چہرا اپنی جانب گھماتے ہوئے کہا۔
’’میری اچھی امی۔۔۔۔اچھا امی ایک بار پھر میرے بال کنگھی کر دو نا۔‘‘اس نے بچوں کی طرح مچلتے ہوئے کہا۔
اس کی ماں نے محبت سے اسکی ناک پہ چوما اورکنگھے سے اس کے بال سنوارنا شروع کر دئیے۔جب وہ سنوار چکی تو اس نے اسکا چہرا آئینے کی طرف پھیر دیا۔
منظر بدلتا ہے اور اسے اپنے گھر والا آئینہ نظر آتا ہے۔اس میں وہ دیکھتا ہے کہ اس کے بالوں میں کوئی مانگ نہیں ہوتی۔سارے بال بڑی نفاست سے اوپر کی طرف الٹے گئے تھے۔وہ حیرت سے اپنی ماں کی طرف گھوم جاتا ہے۔پیچھے مڑتا ہے تو چونک جاتا ہے۔اسکی ماں کے ساتھ اسی طرح کے کپڑوں میں اسی طرح دوپٹہ اوڑھے ماریہ بیٹھی تھی۔
’’امی جی۔۔۔یہ۔۔۔۔یہ ماریہ ہے۔‘‘۔اس نے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بے چینی سے کہا۔
اسکی ماں نے شفقت سے اسکا ہاتھ کھینچا۔۔۔ماتھے پر پیار کیا اور بولی۔
’’نہیں بیٹا۔۔۔اس کا نام تو زندگی ہے!!!‘‘
اسکی آنکھ کھل گئی۔۔۔وہ سیدھا آئینے کے سامنے گیا۔اس نے پہلی بار اپنے بالوں سے مانگ ختم کی۔اسکے ہونٹوں پہ نہائیت دل آویز مسکراہٹ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
fulltext