Skip to main content

Aalamiparwaz

جنتِ گُم گشتہ : لیاقت علی ۔ بہاول پور ۔ پاکستان

جنتِ گُم گشتہ لیاقت علی ۔ بہاول پور ۔ پاکستان                    میں متوسط طبقے کا ایک قلیل آمدنی والا فرد ہوں اور اپنے طبقے کے بے شمار انسانوں کی طرح مجھے بھی اپنی بہت سی خواہشات کو آنے والے کسی اچھے وقت تک ملتوی کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ یہ بات اَب میں محض مشاہدے ہی نہیں تجربے کی بنیاد پر کر سکتا ہوں کہ یہ اچھا وقت ندی کے دومتوازی کناروں کی طرح پاس رہ کر بھی کبھی ہاتھ نہیں ملا پاتا۔ مجھے پہلے پہل جب ملازمت ملی تو میری تنخواہ دس ہزار روپے تھی۔ والدہ نے والد کی وفات کے بعد ذمہ داریوں سے سبکدوشی کی آخری کاوش کے طور پر میری شادی کر دی۔ گبِن نے رومن امپائر کے زوال کے اسباب کہاں سے شروع کیے تھے یہ توشاید میں نہ بتا سکوں،ہاں مگر میری زندگی کے زوال کی داستان اُسی روز سے شروع ہوئی جب میں سرپر سہرا باندھے معزز ہونے کا مصنوعی تاثر دے رہا تھا۔پھر دھیرے دھیرے مجھے احساس ہونے لگا، میں اپنے ہی بہن بھائیوں، اماں اور برادری سے ملنے والی کچھ رعایتوں کو گنوا بیٹھا ہوں۔ اَب میں اور میری بیوی اپنی الگ سماجی شناخت...

جمیلہ کا وجود : پیغام آفاقی

  افسانہ جمیلہ کا وجود   پیغام آفاقی                     جمیلہ نے کب خواب دیکھا تھا کہ اس کی آوازریڈیو اور ٹی۔وی۔ پر نہ صرف اپنا سکہ جمالے گی بلکہ کروڑوں سامعین اور زندہ خبروں کے درمیان کھڑی اپنے لہجے کا بامعنی استعمال کرکے جدید ترین دنیا کے سب سے طاقتور ذریعہ تر سیل کو اپنی شخصیت کا اس طرح حصہ بنا لے گی کہ اس کی آواز کے بغیر نیوز پھیکی دکھنے لگے گی۔ بہار کے اس دور دراز گاؤں میں پیدا ہونے والی اس آواز اور پروقار چہرے کی صلاحیت کو تو در اصل اس نوجوان نے ہی پہچانا تھا۔ وہ نوجوان خود بھی کم نہ تھا۔کامرس کی کون سی کتاب تھی جو اس کے أے مشکل تھی۔ کتابوں کو تو اس نے کبھی کوئی مسئلہ ہی نہ سمجھا۔اور آسمانوں پر کمند ڈالنے کا خواب اس کی گھٹی میں تھا۔ میڈیا پر اس کی نظر تھی۔جمیلہ کو دیکھتے ہی اس کو خیال آیا تھا کی اپنی اور جمیلہ کی جوڑی کو وہ ایک بہت بڑی طاقت میں تبدیل کرسکتا ہے ۔بینک میں ایک بڑی ملازمت ملتے ہی اس نے جمیلہ سے شادی کرلی ۔ جمیلہ سے شادی طے ہوتے ہی اس نے پلان کرنا شروع کردیا تھاکہ وہ کیا کیا کرے گا۔...

جبِلَّت : ابوفہد

 جبِلَّت از ......ابوفہد ایسا لگ رہاتھا جیسے ہر شخص ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔ جیسے سب کو ایک ہی ٹرین پکڑنی ہے یا جیسے بیک وقت سب کے نانا مر گئے ہیں اور انہیں مٹی میں شرکت کرنی ہے اور اس لیے ہر شخص کو جلدی ہے۔ جیسے شہر کے تمام مکانوں نے اپنے اپنے مکینوں کو بیک وقت روڈ پراُگل دیا ہے۔ جس طرح آتش فشاں اپنے پیٹ کی غلاظت اگلتا ہے اورپھرسب کو بیک وقت صدر بازار چوک کی طرف ہانک دیا ہے۔سائیکل رکشا، آٹو رکشا،کار، بس اورٹرک سے لے کر بڑی سے بڑی دیو ہیکل گاڑیوں تک جسے دیکھو وہ اِدھر ہی کومنہ اٹھائے چلی آرہی ہے۔چیختی چلاتی ہوئی اوربلا وجہ پُووووں پُووووں کرتی ہوئی۔انہی جلد باز اورپریشان حال لوگوں میں سب انسپیکٹرجاویداختر بھی تھے۔وہ صدر بازارکی طرف جارہے تھے۔ مگر جب صدربازار کے چوک پر بے ہنگم ٹریفک میں پھنس گئے اور نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہ آئی تواپنی موٹر سائیکل کنارے لگائی اور محض جذبہ خیر سگالی کے طور پر ٹریفک کنٹرول کرنے لگے۔حالانکہ وہ جانتے تھے کہ بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے۔اس چوک پر حکومت اور عوام کی پیدا کردہ مشکلات کراس (+)کا نشان بناتی تھیں بالکل اسی...

ٹیکسیاں : قُربِ عبّاس، لاہور پاکستان

   ٹیکسیاں  قُربِ عبّاس، لاہور پاکستان                زینت کی کلائی میں چوڑیا ں کھنکتی تھیں، مگر شاہد ان کی کھنک کو کب سنتا تھا وہ تو اپنے اندر بجنے والے سکّوں کی چھنکار کے تابع تھا۔ سورج کی ٹھنڈی روشنی کمرے میں داخل ہوچکی تھی۔ زینت نے آنکھیں کھولیں اور انگڑائی لی تو جسم پر طاری نیند کے خمار کی میٹھی سی تسکین کو محسوس کیا، چوڑیوں کی کھنک سے پہلو میں لیٹے شاہد کی آنکھ کھل تو گئی لیکن زینت نے جیسے ہی اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھا تو شاہد کو یاد آیا کہ وہ اٹھتے ہی سگریٹ ضرور پیتا ہے، سو اُس نے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ اٹھایا اور سلگانے لگا۔ زینت کے ماتھے پر بل آئے: "ضروری ہے کہ آنکھ کھلتے ہی آپ سگریٹ پئیں؟" "ہوں۔۔۔" شاہد نے ہلکی سی آواز میں کہا اور گہرا کش لگایا۔ "اس کا دھواں مجھے چڑھتا ہے۔ " "تو باہر چلی جایا کرو۔" شاہد نے لاپروائی کے ساتھ جواب دیا جواب سن کر زینت نے سگریٹ چھیننے کی کوشش کی تو وہ جھنجھلا کر بولا: "عجیب واہیات عورت ہو۔ بھئی اگر دھواں نہیں پسند تو باہر چلی جاؤ۔ ایسی بچگانہ حرکتیں کرتی اچھی نہیں لگتیں ۔...

ٹی شرٹ : ڈاکٹرصادقہ نواب سحر

 ٹی شرٹ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر                       سالانہ جلسہ اس سال’’شری رنگ بھون‘‘ میں رکھا گیا تھا کیونکہ کالج کا آڈیٹوریم چار ہزار طلبا کے لئے ناکافی تھا۔ شام چار بجے تقریباً آدھا درجن سجی سجائی ، ساڑیوں میں ملبوس لڑکیاں پوجا کی تھالی میں ننھا سا دیا لئے کھڑی تھیں۔ انہیں مہمانانِ خصوصی کے آتے ہی ان کی آرتی اتار کر، تھالی میں رکھی ہلدی اور کم کم لگانا تھا۔ آئے ہوئے مہمان کچھ روپے تھالی میں رکھ دیتے۔ فوٹو گرافر کو کھٹا کھٹ تصویریں نکالنی تھیں۔ وہیں نادرہ نے لڑکیوں کے پیچھے اس عجیب لکھاوٹ والی ٹی شرٹ کو دیکھا۔’’تمہیں پتہ ہے یہاں کیا لکھا ہے؟‘‘’’ہاں‘‘ ٹی شرٹ میں سے وہ بے شرمی سے بولا۔’’کیا لکھا ہے بتاؤ تو!‘‘’’آج کل تو ٹی وی پر ایڈ ورٹائز کرتے ہیں‘‘ وہ جواب بچا گیا، بوکھلا کر بولا ’’یہ تو اچھی بات ہے نا؟۔۔۔۔۔ ایک طرح سے میں سرکار کی مدد ہی کر رہا ہوں۔‘‘’’ٹی وی کی بات اور ہے۔‘‘’’آپ کو یہاں موجود لڑکیاں دکھائی نہیں دیتیں؟‘‘ وہ ذرا سا چڑ گیا تھا،‘‘ کیسے کیسے کپڑے پہنتی ہیں! بتاؤں؟‘‘ہاں بتاؤ تو! مجھے تو کوئی قابل اعتراض حالت میں نظر نہیں آتی۔‘‘ ’’بتاؤں!۔۔۔۔۔ ابھی بلا...

تیری سا دگی کے پیچھے : ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری

 افسانہ  ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری تیری سا دگی کے پیچھے               ثانیہ خوشی سے بے قا بو ہو تے ہوئے اپنی سہیلی ثمرین سے لپٹ گئی۔’’ارے....ارے....کیا ہو گیا....؟‘‘ ثمرین نے ثا نیہ کو سینے سے لگاتے ہو ئے کہا۔ ’’آج تو غضب ہو گیا......میری تو جیسے قسمت ہی جاگ اٹھی....‘‘ ثانیہ نے بے تحا شہ ثمرین کے ہا تھوں کو چومنا شروع کردیا۔ثمرین اس بے مو سم برسات سے گھبراتے ہو ئے بو لی۔’’یار کچھ بتائے گی بھی یا.......؟‘‘’’ارے آج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچا نک ایک چینل پر میرے آئیڈیل معروف فکشن نگار حشمت ضیاء کا انٹرویو آرہا تھا۔‘‘ثانیہ کے چہرے پر خوشی کے رنگوں کا آنا جانا،اُ سے حسین بنا رہا تھا۔’’دھت تیرے کی.....یہ بھی کوئی بات ہوئی۔میں سمجھی تو نے ٹاپ کیا ہے۔‘‘ثمرین کے لہجے کا جوش ختم ہوچکا تھا، جیسے آگ پر پانی کے چھینٹے مار دیے گئے ہوں۔’’تجھے پتہ ہے حشمت ضیاء کی عمر کیا ہے؟ وہ ساٹھ کے آس پاس ہیں۔ان کی شہرت کے سبب ہزا روں فین ہیں ان کے۔تو کوئی روگ نہ پال لینا۔‘‘ثمرین نے سمجھ داری کا مظا ہرہ کرتے ہو ئے کہا۔’’ارے وہ بات نہیں ہے، جو تو سمجھ رہی ہے۔مجھے کوئی پیار...

تبدیلی : ڈاکٹر ایم۔اے۔حق

تبدیلی ڈاکٹر ایم۔اے۔حق           * اتوار کے روز چھ سالہ گُڈّو اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھت پر کھیل رہا تھا۔کچھ دیر کے بعد ایککوّا آ کر آنگن کے پیڑ پر بیٹھ گیا اور زور زور سے کائیں کائیں کرنے لگا۔کھیل چھوڑ کر گُڈّو نے ایک پتھر اُٹھا لیا اور کوّے کی جانب نشانہ لگا کر اُچھال دیا جسے دیکھ کر اُس کا ایک ساتھی بولا ’’ ارےگُڈّو!تُم نے تو کبھی کسی جانور یا پرندے کو نہیں مارا۔یہ آج تُمہیں کیا ہو گیا ہے۔‘‘’’ ممّی کہتی ہیں کہ کسی کوّے کو آنگن میں کائیں کائیں مت کرنے دو۔پاپا اب ریٹائر ہو گئے ہیں نا‘‘****خیمہ ڈاکٹر ایم۔اے۔حق          *’’ پپّو ٹیپ بند کر دو،اذان ہو رہی ہے‘‘ ممّی نے کچن سے ہانک لگائی۔لیکن پپّو بدستور گانا سُنتا رہا۔’’ ارے سُنتے کیوں نہیں ؟بہرے ہو گئے ہوکیا؟کہا نا کہ اذان ہو رہی ہے۔بند کرو یہ گانا وانا‘‘ممّی غصّے میں تمتما تی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔ ’’یہ تو اہلِ حدیث کی اذان ہے ممّی!‘‘پپّو نے نہایت معصومیت سے جواب دیا۔****ڈاکٹر ایم۔اے۔حق...

پولیوشن: ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ

 پولیوشن ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر123221                                       بائیک اسی کی رفتار پر دوڑ رہی تھی۔شہر پہنچنے تک ابھی تیس میل کا فاصلہ تھا۔دن ڈھل رہا تھا اور دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ اُس کا تناؤ بھی بڑھ رہا تھا۔ایک تو اسے ماں کی دوا لانے کی فکر تھی اور دوسراوقت پر گھر وآپس لوٹنے کی پریشانی تھی۔اس کا علاقہ شہر سے تقریباََستر میل کی مسافت پر تھا۔خراب حالات کی وجہ سے رات کو چلنا پھرناتھوڑا بہت مشکل ہوتا تھا۔وہ ایک پرائیوٹ کمپنی میں رنر کا کام کرتا تھا۔کمپنی کی طرف سے اُسے پانچ ہزارتنخواہ ملتی تھی‘جسے وہ گھر کے اخراجات چلاتا رہتا تھا۔کمپنی نے اُسے ایک بائیک بھی استعمال کے لئے دے رکھی تھی تاکہ وہ کمپنی کے کام کو وقت پر انجام دے سکے۔وہ جب شام پانچ بجے گھر میں داخل ہوا تو ماں چائے کی پیالی سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگی: ”میری دواختم ہوئی ہے۔“ ”صبح بتایا ہوتا تومیں ساتھ لے کر آتا۔“وہ ماں کی بات سن کر کہنے لگا۔”اب تو دیر ہورہی ہے اور دوا شہر میں ہی ملتی ہے۔“ ”صبح کو یادنہیں رہا وہ تو دوپہر کو تب...

بیک ڈور: مہتاب عالم پرویزؔ BACK DOOR : MAHTAB ALAM PERVEZ

                                                                                                جناب ایڈیٹر صاحب............. بے پناہ محبتیں                           میں اللہ کی پناہ میں ہوں اور آپ سے بھی ایسی ہی اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں میں نے۔                           خُدا آپ کو سدا اپنی اماں میں رکھے۔                           اور.............میں بھی بخیر ہوں۔ آپ کی دُعائیں جو میرے ساتھ ہوتی ہیں۔                          ویسے میں اپنی مصروفیت کی گتھی آپ کو کس طرح سے سلجھا سلجھا کر بتاؤں کہ ان دنوں میں قطعی اس حال میں نہیں تھا کہ آپ کو محبت کے دو بول ہی عنایت کرتا۔                           ویسے میں رسموں بھرے سماج میں رہتا ہوں ایک ایسا ہی سماج جہاں مجھے احساس ہوتا ہے کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں۔ اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ کہانی کار بھلا کیا کرسکتا ہے۔ ایک بہاؤ ہے جو اندر کے سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے اور قلم دوڑنے لگتا ہے............    ...

بھید : جمیل عباسی – سندھ،پاکستان

  بھید  جمیل عباسی   سندھ،پاکستان                                سعیداﷲ صاحب جیسا انسان میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ میٹھی طبیعت، ٹھنڈے ٹھار شخص، پر سکون چہرہ اور صلح کل کے علمبردار۔ جب بھی مجھے وہ راستے میں نظر آتے بھاگ کر ان سے لپٹ جانے کا جی کرتا تھا مگر لڑکیوں کی دوری بنائے رکھنے والی مجبوری آڑے آجاتی۔ صبح کو اسکول جاتے وقت وہ اکثر راہ میں روبرو ہوجاتے۔ اس وقت وہ اپنی بک شاپ کی طرف جارہے ہوتے جو شہر کی مرکزی بازار میں قائم تھی۔ مجھے دیکھتے تو قریب آکر سر پر ہاتھ پھیرتے اورابا کا احوال پوچھتے ۔ ابا ایک رسالے میں سب ایڈیٹر تھے اور مطالعے سے دل رکھتے تھے اس لئے سعیداﷲ صاحب سے اچھی دوستی اور قربت تھی۔ اکثر ان کی شاپ پر جاتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار میں بھی ساتھ چلی جاتی تھی ۔ شاپ پر میرے پہنچتے ہی سعیداﷲ صاحب میرے سر پر ہاتھ پھیرنے کے بعد بک شاپ میں کام کرنے والے لڑکے امتیاز سے کہتے                               ”صاحب ذرا ثمینہ بیٹی کواس کی مرضی کی...

بھول : افسانہ نگار: بیان اسعد مصطفیٰ – مترجم: ابو فہد، نئی دہلی

  بھول  افسانہ نگار: بیان اسعد مصطفیٰ  مترجم: ابو فہد، نئی دہلی                        ہردن کی طرح آج بھی وہ اپنے مرحوم خاوند کی زیارت کے لیے جارہی ہے، عطر میں رچی بسی اور سفیدخوبصورت پھولوں کا گلدستہ اٹھائے ہوئے۔ جیسے وہ اس کے انتظار میں ہمیشہ کی طرح باہیں پسارے کھڑے ہونگے۔ اسے اپنے خاوند کا یہ انداز بڑا اچھا لگتا تھا حالانکہ زندگی کی طویل رفاقت میں انہوں نے کبھی بھی اسطرح باہیں پھیلاکراس کا استقبال نہیں کیا تھا۔ اوروہ خودبھی یہی پسند کرتی تھی کہ وہ بھی اسی طرح باہیں پھیلا کر ان کا استقبال کیا کرے گرچہ اسے اپنے خاوند سے بہت زیادہ محبت کبھی نہیں رہی کیونکہ وہ ہروقت غصہ میں رہتے تھے، اول فول بکتے تھے اور معمولی باتوں پر ہتھے سے اکھڑ جاتے تھے۔وہ ہمیشہ اسے الزام دیاکرتے تھے کہ وہ اپنی حماقتوں اور نادانیوں کے باعث ان کے لیے پریشانیوں اور مسلسل سردردی کی بڑی وجہ ہے۔                       وہ جب جب بھی اپنے مرحوم خاوند کی زیارت کے لئے گھر سے نکلاکرتی تو محبت اورشوق کی ایک انجانی کیفیت سے سرشار ہوجاتی، اور اِس...

بھرم : ناصر ملک

بھرم ناصر ملک           "بابا!رات ہو گئی ہے اور پانی بہت چڑھ آیا ہے۔ کسی بھی وقت مکان ٹھاہ ٹھاہ گرنے لگیں گے۔ کچھ کر۔" "کیا کروں؟ وہی جو تم سب گائوں والے کہتے ہو؟نہیں۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔ " "کیا ہم سب کو مارنے کا اِرادہ ہے تیرا؟ " "تو کیا میں تم لوگوں کو پچھلا بند توڑنے کی اجازت دے دوں؟دنیا کیا کہے گی کہ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میں نے فریدن کو لوڑھ دیا؟ نہیں گودا! بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔" "ہاں بابا! ورنہ سارا گائوں ڈھیہہ جائے گا۔" "اور بے چارے فریدن اور اس کے خاندان کا کیا بنے گا جو بند کے سامنے بیٹھے ہیں؟ وہ چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ مال ڈنگر لے کر نکل بھی نہیں سکتے۔ بند توڑا تو پانی کا ریلا ان کو آنکھ جھپکتے میں بہا لے جائے گا۔" "بابا! اپنے سالے کی خیر نہ مانگ، اپنے گھر اور گائوں کا بھلا سوچ۔پورا گائوں باتیں بنا رہا ہے۔ تیرے خلاف بولتا نہیں اور تو الٹے سیدھے حکم چلاتا رہتا ہے۔" "نہیں! کوئی اور حل سوچو تم لوگ۔ پچھلا بند میرے جیتے جی نہیں توڑا جائے گا۔" وہ...

برف میں آگ : شموئل احمد

 شموئل احمد  برف میں آگ             سلیمان کو اپنی بیوی کسی جزدان میں لپٹے ہوئے مذہبی صحیفے کی طرح لگتی تھی جسے ہاتھ لگاتے وقت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کی شادی کو دس سال ہو گئے تھے،لیکن وہ اب بھی سلیمان سے بہت کھلی نہیں تھی۔سلیمان اس کو پاس بلاتا تو وہ پہلے ادھر ادھر جھانک کر اطمینان کر لیتی کہ کہیں کوئی ہے تو نہیں .....خاص کر بچوں کی موجودگی کا اس کو بہت خیال رہتا تھا۔جب تک اس کو یقین نہیں ہوجاتا کہ بچے گہری نیند سوچکے ہیں وہ سلیمان کو پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتی تھی۔سلیمان کو شروع شروع میں سلطانہ کے اس رویہ سے بہت الجھن محسوس ہوئی۔ اس کو لگا اس کے ساتھ صحبت کرکے وہ کسی گناہ لازمی کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن اس کی زندگی میں جب رضیہ داخل ہوئی تو اس پر عقدہ کھلا کہ بیوی اور محبوبہ میں فرق ہے اور یہ کہ زندگی میں دونوں کی اپنی الگ اہمیت ہے۔رضیہ، سلیمان کی محبوبہ تھی اور اس میں وہی گن تھے جو محبوبہ میں ہوتے ہیں۔ وہ بوسے کا جواب بوسے سے دیتی تھی۔ سلیمان جب اس کو اپنی بانہوں میں بھینچتا تو اسی گرم جوشی...

برزخ : ثناء غوری

       افسانہ          برزخ      ثناء غوری                  ”یہ پیشنٹ پچھلے ایک سال سے ہمارے پاس ہے۔ ہم نے اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کرلی مگر..“ ڈاکٹرنے اپنے ساتھی کو کیس سمجھاتے ہوئے بتایا۔ ”اس طرح کومے میں جانے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟“ ”اچھا سوال ہے ڈاکٹر زریاب! کومے میں جانے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کوئی میجر ایکسیڈنٹ، جس میں ذہن کے کسی ایسے حصے میں چوٹ لگ جائے جس کے ناکارہ ہونے سے انسانی جسم مفلوج ہوجاتا ہے یا پھر کوئی شدید ذہنی صدمہ کہ جس کو برداشت کرنے کی انسانی دماغ صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ اس کیس میں پیشنٹ کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ گھر والوں کے مطابق یہ ایک عام گھریلو زندگی گزار رہی تھی۔ کسی قسم کا صدمہ بھی نہیں۔ ایک صبح اسے بے ہوش پایا گیا اور فوری طور پر ہاسپیٹل پہنچادیا گیا جہاں اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ یہ پیشنٹ نیند کی حالت ہی میں کومے میں جاچکی ہے۔اور کوئی سوال ڈاکٹر زر یاب؟“ ”اسٹرینج.تو ڈاکٹر ضیغم!اب پیشنٹ کے حوالے سے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسے کب تک ہوش آسکتا ہے؟“ ”ویل ینگ داکٹر!ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ کئی سال...

ببول کے کانٹے : ڈاکٹرریاض توحیدیؔ

 ببول کے کانٹے  ڈاکٹرریاض توحیدیؔ  کشمیر(انڈیا)                    پرنسپل کے ٹیبل پر کالج کی تمام ضروری فائلیں تہہ در تہہ پڑی ہوئی تھیں اور پرنسپل ایک ایک کرکے فائلوں کو چیک کر رہا تھا ۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور چہرے پر مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔ تمام فائلیں صحیح ہونے کے باوجود نہ جانے کیوں پر نسپل کچھ زیادہ ہی ڈپرس دکھائی دے رہا تھا حالانکہ چند دنوں پہلے ہی بہترین کار کردگی کے اعتراف میں U.G.C کی ٹیم کی طرف سے اس کالج کو '' Grad-A" کے زمرے میں لایا گیا تھا اور خود پرنسپل کو، اس کی ایمانداری اور اپنے پیشے میں اچھی کار کردگی کے عوض کئی ایوارڈ زسے نوازا گیا تھا۔ اُس کے بہت سارے شاگرد اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور انھیں پرنسپل کے شاگرد ہونے پر فخر تھا ۔ لیکن آج اُسے سب کچھ عجیب سالگ رہا تھا ۔ جس کالج میں وہ شان سے قدم رکھتا تھا آج کالج کے احاطے میں قدم رکھتے ہوئے اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کسی بڑے قید خانے میں داخل ہو رہا ہے اور اُس کا آفس جیل کا پنجرہ بن گیاہے اور وہ خود...

بازگشت : مہتاب عالم پرویزؔ BAZGASHT BY MAHTAB ALAM PERVEZ

   بازگشت    مہتاب عالم پرویزؔ    مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶ ۔ بی    آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۸۳۲۱۱۰    جھارکھنڈ انڈیا  E - mail mahtabalampervez@gmail.com                   وہ شخص عجیب سی زندگی جی رہا ہے.........  بیا باں کی گر م ہواؤں میں‘ بھٹکنے والے اُن مسافر وں کی طرح ‘ جس کے پاؤں سے لپٹی‘ تپتی رہگذر ‘ راہ گم کردہ منزلیں اور دور سُراب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو جیسے....... یاس اور آس کے ڈوبتے اُبھرتے صلیب پہ ٹنگا ہواوہ شخص‘ جس کی آنکھوں میں کبھی خواب ہی خواب تھے آج وہی آنکھیں اب کسی بھی ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہیں........                    وہ دیوار کی آڑ سے اپنی پُشت کو ٹکائے بالکل خاموش ہے۔اور یادوں میں گُمُ ہے......                    اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی ڈیڑھ سالہ بیٹی ارپناؔ مسلسل رو رہی تھی لیکن اُس وقت ارپناؔ کے آنسوؤ ں کی قیمت ادا کرنے وا لا شایدکوئی نہیں تھا.......یا پھر یہ آنسو اپنی قیمت پہلے ہی کھوُ چکے تھے۔                 ...

بازار : عبد الحلیم

بازار   عبد الحلیممکان نمبر ۱۲ کراس روڈ نمبر ۶ ۔ ڈیآزاد نگر مانگو جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰جھاڑ کھنڈ انڈیاE mail - khan.halim026@gmail.com            *شام کا وقت تھا ۔میں بازار کے چوراہے پر کھڑا اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا ۔بازارمیں چاروں طرف شوروغل مچی ہوئی تھی ۔لوگ اپنے اپنے کا موں میں مصروف تھے اور میرا ذہن بہت ہی اُلجھن میں تھا ............کہ اچانک میرے پاؤں کے تلے سے کا غذ کو کسی نے کھینچا۔ چونک کر میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو..... میں دیکھتا ہی رہ گیا............جیسے بادلوں میں چھپا ہوا چاند سوکھی جھاڑمیں کھلا ہوا ایک گلابسیب کے مانند............گال گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہو نٹکالے بادل کی طرح گھنے گیسومیلے وکچیلے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں سے جھانکتا ہوا اس کاگوراجسم، جیسے سنگ مر مر سے تراشاگیا ہو ۔مگر....اس کی غربت اس کی ساری خوبصورتی کو چھپارہی تھی۔اس نے بڑے عاجزی سے مجھے پاؤں ہٹانے کو کہا۔میں نے پاؤں ہٹاتے ہوئے اس سے پوچھا............’’کیا تم روزانہ کاغذ چنتی ہو؟‘‘’’ہاں ..........بابو جی ۔‘‘’’ کیا تمہارا اس سے گذاراہو جاتاہے؟‘‘’’کبھی کبھی تو بھو کا ہی سو ناپڑتاہے....‘‘ ’’کیوں......؟‘‘’’کیوں کہ کبھی تو میرے ساتھی ہی بازی مارجا تے ہیں۔ تو کبھی کبھی منشپلٹی والے............‘‘’’تو اس روز...؟‘‘’’اس روز کیابابو جی...

اے میرے قلم! : اسلم جمشید پوری

  اسلم جمشید پوری  اے میرے قلم!      اے میرے قلم، تم کہاں ہو۔۔؟دوات نے ایک آہِ سرد بھر کر قلم کو یاد کیا۔’’ میں تمھاری دوات ہوں،تمھارے بغیر نا مکمل۔۔۔۔، بلکہ ہم دونوں کی تخلیق ایک دوسرے کے لئے ہی ہوئی ہے تا کہ۔۔۔۔‘‘۔۔۔۔۔۔اے قلم ، اب تو آ جاؤ، کہاں ہو تم ؟آؤ مجھ میں ڈوب جاؤابھرو اور پھر ڈوب جاؤآؤ ، میرے قلم آؤہمارا وصال ،وجہِ تخلیق ہے۔وجودِازل وابد ہے۔تصویرِ کائنات میں رنگ و بو ہے۔تخلیق ، زندگیتخلیق ، زندگی کا نگار خانہتخلیق ، نفوس کی شرح میں اضافہنفوس کا جمِ غفیر کائنات کے حسن کا با عث ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ سب!!!اے میرے قلم تمھارے بغیر نا ممکن ہے۔آ جاؤ ، مجھ میں سما جاؤاور تحریر کی ، تخلیق کی ،شروعات کروکہ لفظِ کن کی صدا بلند ہو نے والی ہے۔ایک نئی کائنات وجود میں آنے کو ہے۔۔۔۔۔۔۔ زہر’’حضرت! ا لسلام علیکم ورحمتہ اللاہ وبرکاتہ ‘‘ایک عقیدت مند نے ایک بڑے مدرسے میں داخل ہو کر معروف عالمِ دین حضرت مولانا ارقم شاہ جالندھری کی خدمت میں باادب سلام کیا۔’’وعلیکم السلام۔۔اللاہ تمہیں سلامت رکھے۔کہو کیسے ہو۔‘‘’’ حضرت میں بخیر ہوں۔ آپ کی دعاؤں سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی ہے۔بعد نمازِ جمعہ اس کا افتتاح ہے آپ کے دستِ مبارک سے چاہتا...

ایک سمپورن انسان کی گاتھا: ڈاکٹراختر آزاد ؔ

 افسانہ ایک سمپورن انسان کی گاتھا   ڈاکٹراختر آزاد ؔ  جمشید پور، انڈیا                          اس نے کمر سے ایک ہی جھٹکے میں اپنا وہی پُرانا خون آلوددھار دار چاقو نکالا اور پاگلوں کی طرح اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے لگا ۔ وہ سمپورن انسان بننا چاہتا تھا ۔ ایک ایسا انسان جس کے اندر دُنیا کی ساری خوبیاں موجود ہوں ۔ لیکن اس روئے زمین پر آدم و حوّا کے حسین امتزاج سے جتنے بھی انسانوں کی تخلیق کی گئی ہے ان میں ایک بھی ایسا انسان نہیں جسے ’سمپورن ‘کہا جا سکے۔ خالقِ کائنات کے پاس کیا کچھ نہیں ہے؟ پھر بھی اُس نے سب کے اندر سب ہی کچھ کیوں نہ ودیعت کیا؟ ایسا بھی کیا کہ ایک دو ہی خوبیاں کچھ کے حصّے میں آئیں ، اور وہ بے چارہ ، کم عقل انسان اسی میں بہل گیا ۔  لیکن وہ........؟                       وہ دوسروں انسانوں کی طرح بہلنے والا نہیں تھا، کیوں کہ اس کے اندر ایک طرح کا جنون تھا ۔ اور وہ سارے کارنامے جو دنیا کے الگ الگ انسانوں نے الگ الگ میدانوں میں انجام دِیے ہوں...

ایک زندہ کہانی : نورالحسنین

  ایک زندہ کہانی                                                                          نورالحسنین                   وہ آج بھی اسی طرح میرے کمرے میں میرے مقابل بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا،  تاریکی آسمانوں سے اُتر رہی تھی اور ٹریفک کا شور کم ہوتا جارہا تھا۔ میں پلنگ پر نیم دراز ہوگیا تو وہ اپنی کرسی کھسکا کر میرے اور بھی قریب آگیا اور پھر حسب معمول اُس کے ہاتھ میرے پیروں کو دبانے لگے۔ میں نے اُس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ اب بھی اسی طرح بھولا بھالا اور معصوم نظر آرہا تھا لیکن میں نے اُسے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اُن دنوں جب وہ بہت چھوٹا تھا وہ ہمک ہمک کر میری طرف بڑھتا اور میں اُسے دانٹ ڈپٹ کر دور کر دیتا وہ چاہتا تھا کہ میں اُس سے باتیں کروں .......لیکن  اس سے باتیں کرنا تو کُجا میں نے تو کھلے دل سے لپٹا کر کبھی اُسے پیار بھی نہیں کیا۔ وہ مچلتا، بلبلاتا  اور میں اُسے اُسی طرح چھوڑ کر اپنے بلڈاگ کی زنجیر تھامے نکل جاتا،سچ پوچھو تو وہ میرے لیے کبھی اہم رہا ہی نہیں لیکن وہ آج بھی اُسی طرح مجھے پیار کرتا ہے ......ہمک ہمک کر ......                 ایک سرد آہ میرے...