گمشدہ قبرستان : ڈاکٹرریاض توحیدیؔ ۔وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر
گمشدہ قبرستان ڈاکٹرریاض توحیدیؔ ۔وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221.
غروب آفتاب کے ساتھ ہی اُس کی نظر یں مشرقی پہاڑی والے درّے پر جم جاتی تھیں ۔ کالی رات کے سیاہ سائے پھیلنے کے ساتھ ساتھ اُس کی نظروں کے سامنے مایوسی کا غبارہ چھا جاتا اور وہ کھڑکی بند کرکے فریم میں مقید مسکراتے فوٹو کو اپنے سینے سے لگا کر زارو قطار رونا شروع کردیتی ۔ جدائی کے کر بناک لمحوں کے درمیان ، رات کے سناٹے میں پہاڑی درّے سے صرف ایک ہی در دناک آوازاُس کے کانوں سے ٹکراتی رہتی ۔۔۔ میں واپس آونگا ۔۔۔ میں واپس آوں گا ۔۔۔واپس آنے والی یہ پُر اُمید آواز اب نا اُمید ی کا صحرا بن کر سلطانہ کی روح میں سراب بن کر اُتر چکی تھی کیونکہ لمحوں نے اب برسوں کا روپ دھارلیا تھا ۔ وہ بیوہ کے خوفناک لفظ سے ایسے ڈرتی تھی جیسے کوئی تندرست انسان زہر یلے سانپ کے ڈسنے سے ادھ مرا پڑا ہو۔ اُس کے زخمی دل کا مرہم صرف ماں کی ایک دُعا تھی۔۔۔سدا سہاگن رہو بیٹی ۔۔۔ لیکن جب جدائی کے غمگین جذبات کی تیز و تند لہر یں دل سے اُٹھ کر اس کی...
گزرے موسم کی تپش : ترنم جہاں شبنم ۔ دہلی
گزرے موسم کی تپش ترنم جہاں شبنم ۔ دہلی
’’میں کب سے تمہارا منتظرتھا شفّو! آج مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ تم میرے سامنے کھڑی ہو۔‘‘ خوشی سے کھلکھلاتی سامنے کھڑی لڑکی سے یہ کہتے ہوئے لڑکے نے اپنی بانہیں پھیلاکر اسے خوش آمدید کہا ۔ لڑکی دوڑ کر اس کی باہوں میں جھول گئی۔ میں جو مراقبوں میں رہنے کی عادی ہو چکی ہوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اپنے ماضی کے بھنور سے باہر آئی تھی۔ اور اب اس منظر پہ غش کھا کر پیچھے گرنے کو تیار تھی مگر اس سے پہلے ہی میں نے خود پہ قابو پا لیا تھا۔ ان کھنڈروں میں جہاں انجانے سکون کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کی بھیڑ ہے ۔ جس میں ایک طرف ایک دوسرے سے سر جوڑے محبت کو ایک نیا عنوان دیتے جوڑے ہیں۔ جو جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں اور بھیڑ میں بھی تنہائی ک کا احساس لئے اپنی دنیا میں مست ہیں ۔ اور سکون محسوس کر رہے ہیں۔ تو وہیں دوسری طرف مجھ جیسے بیچین لوگ بھی ہیں۔ جو بھیڑ اور تنہائی دونوں کے شور سے پریشان ان کھنڈرات میں بھٹک رہے ہیں ۔ میں اکثر...
کوکھ کی تلاش : شبنم راہی
کوکھ کی تلاش شبنم راہی
’’ارے ساب یہ لاسیں(لاشیں)کیا ہیں!یہ تو ماس کے ٹکڑے ہیں ٹکڑے ،وہ بھی ایسے کہ جیسے کسائی کی دکان سے لا کے یہاں پھینکے گئے ہوں ۔اور ساب سارے کے سارے چھوریاں لوگوں کے ہیں اس میں چھورا توایک ناہی۔ لاسوں کے نام پہ کچڑا ہے کچڑا ‘‘۔بھیڑ سے گھرے ایک گڈھے میں اترے سپاہی نے یہ کہتے ہوئے اپنے افسر کو اطلاع دی ۔ اور یہ سنتے ہی صحافی حضرات نے بھی ایک بار پھر بھیڑ کو چیر نا شروع کر دیا ۔وہ بھی اپنا کیمرہ اور بیگ سنبھالتے ہوئے اس گڈھے کے اوپرکھڑاہوکر ایک کے بعد ایک تصویریں اتارنے لگا۔ تصویریں اتارتے ہوے اور وہاں کامنظر دیکھتے ہوے اس کا دماغ چکرانے لگا تھا ۔ اسے لگا کہ جیسے وہ خود سے اپناقابو کھودے گا۔کیونکہ گڈھے میں موجود لاشوں کے نام پر واقعی ادھورے وجود میں لڑکیوں کاکچڑا ہی تھا۔ کچھ دیر پہلے جب کسی نے گاؤں میں کچھ بچوں کی لاشیں ملنے کی خبر دی تھی ۔تب وہ ایک عام صحافی کی طرح خبر کی طرف بھاگاتھا۔راستے بھر خبرکے تعلق سے بہت سی باتیں اس کے دماغ میں گھومتی رہی تھیں کہ معصوم بچوں...
کوکھ : شائستہ فاخری
کوکھ شائستہ فاخری کسی جادوگر کے طلسمی تماشے کاکردار بنی وہ جل دھارا کے بیچوں بیچ کھڑی تھی۔اس کے دونوں گداز سینوں سے ٹپکتی ہوئی دودھ کی ننھی ننھی بوندیں جل کے دھارا میں دودھیا نقطے کی شکل میں پھیل رہی تھیں۔چندقطرے سوکھی پیاسی زبان کی خوراک بھی بن رہے تھے۔یہ زبان تھی اس ننھی جان کی جو پچھلے دو چار دنوں سے بستی والوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ ایک لا ینحل مسئلہ۔۔۔اپنے بازوؤں میں بچی کو سمیٹے وہ لگا تار اسے نہارے جا رہی تھی۔تباہی کے درد ناک منظر کوجھیلنے کے بعد بچھے کھچے لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ آنکھوں میں تجسس تھا،کچھ آنکھیں حیرت زدہ او ر متفکر تھیں۔مگر ایک جوڑی آنکھیں ایسی بھی تھیں جن میں شرمندگی تھی، خوف تھا اور ساتھ ہی ساتھ پھڑپھڑاتے دل سے اٹھتی ایک کراہ بھی تھی جو دعا بد دعا کے مکڑ جال سے نکلتی ہوئی اس شخص کے لب سے ٹکرا رہی تھی کہ کاش ایک بار پھر سے جل دھارا کو جلال آجائے اور وہ قدرت کا قہر بن کر ٹوٹ پڑے ایک اکیلی اس پر جو دھارا کے بیچوں بیچ کھڑی تھی۔کاش کہ جل دھارا دو حصوں میں بٹ جائے اور وہ...
کلمہ گو : از ….. نورالحسنین
کلمہ گو از ..... نورالحسنین * ابّودادا نے ازاربند باندھ کر لُنگی کو کھوٹی پر لٹکایا ہی تھا کہ موبائیل نے رنگیلا رے ۔۔۔کا راگ الاپنا شروع کیا ۔ اُس نے فوراً موبائیل اٹھایا اور ہیلو کہتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا ۔ ’’ کیا ابّو بھائی آج کل فارِن کی پوٹیوں کو گھی کھلا رہے ۔۔۔؟ ‘‘’’ ہو میاں ۔۔۔تم کو تو مالوم ہے ، اپنا ہے سو دودھ گھی کا دھندہ ہے ۔ گاہک آیا تو کھلانا ہی پڑتا ۔۔۔کیا ۔۔۔؟ ‘‘موبائیل پر قہقہے کی آواز گونجی ، ’’ مگر کچھ بھی بو لو ابّو بھائی لونڈیا ہے پِستہ ہاؤس کی حلیم ۔۔۔ بس چاٹتے رہو ۔۔۔! ‘‘ ’’ ارے کیا بکواس لگائے میاں ۔۔۔! ‘‘ اِبّودادا نے مصنوعی غصّے سے کہا ، ’’ تم کو تو مالوم ہے نا میں ہے سو جمعہ کے دِن کوئی بُرا کام نہیں کرتا ، ارے نما ز نہیں پڑھتا تو کیا ہوا ۔۔۔ہوں تو کلمہ گو ۔۔۔! چلو فون بند کرو ، میرے کو آج کچھ اچھّے کاماں کرنے دیو بولا ۔ ۔۔! ‘‘ موبائیل کو نہرو شرٹ کی جیب میں رکھتے ہوئے اِبّو دادا نے جونہی دروازے سے باہر دیکھا ، بھاسکر پان کی ٹپری پر کھڑا ہوا تھا...
کبوتر باز : مہتاب عالم پرویزؔ KABOOTARBAZ MAHTAB ALAM PERVEZ
کبوتر باز KABOOTARBAZ
مہتاب عالم پرویزؔ MAHTAB ALAM PERVEZ
اپنے عزیز دوست ڈاکٹراختر آزاد ؔ کی نذر
*آکاش کی نیلی وسعتوں پر جنگلی کبوتروں کا جُھنڈ پرواز کر رہا تھا۔ اُس وقت اخترؔ اپنی چھت کی سیڑھیوں پر ایک سفید رنگ کے کبوتر کو ہاتھوں میں لئے اُس کے پنکھ کی گنتی میں مصروف تھا۔تبھی اخترؔ کی نگاہ اچانک اُس جنگلی کبوتروں کے جُھنڈ پر پڑی تواُس ؔ نے بغیر کسی تاخیرکے سفیدکبوتر کونیلے آکاش کی اور اُڑا دیا۔ یہ وہی کبوتر تھا جس کی اُڑان مسلسل پانچ یا چھ گھنٹے ہُوا کرتی تھی۔جو بلندی پر اُڑا کرتا تھا ۔اُس کی اُڑان میں کچھ ایسی کشش تھی کہ دوسرے کبوتر بھی اُس کے سنگ چھتری پر اُتر آیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ اختر اپنے اُس کبوتر کو بے حد پیار کرتا تھا ۔ زندگی کے شب و روز یوں ہی گُذر رہے تھے۔ اُٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے اخترؔ کے دل و دماغ پہ بس ایک ہی خیال سوار رہتا تھا کہ کاش میں بھی ان پرندوں کی طرح آکاش کی نیلی وسعتوں پر پرواز کرتا۔جہاں جہاں جاتا...
کالے دیوؤں کا سایہ : ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
کالے دیوؤں کا سایہ
ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
وڈی پورہ ہندواراہ کشمیر 193221
غروب آفتاب کے ساتھ ہی کالے دیوؤں کا خوفناک سایہ بستی کی خاموش فضا پر آندھی بن کر چھا جاتا اور شل زدہ ذہنوں میں ماتم کی دھنیں بجنا شروع ہوجاتیں۔ خوف کا سائرن بجتے ہی خون آلودہ دلوں کی دہشت ناک لہروں سے غمگین سوچوں میں وحشت ناک ارتعا ش پیدا ہوجاتا۔ معصوم بچے رات بھر ماں کی چھاتی سے لپٹ جاتے اور والدین ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹنے پر مجبور ہوجاتے۔
برفیلے پہاڑوں کے دامن میں بستی کے بیچوں بیچ کالے دیوؤں کی ویران گھاٹی کے پھاٹک کے سامنے برفیلے گالوں کے درمیان مرے ہوئے کتوں کا عفونت انگیز ڈھیر راہ چل رہے لوگوں پر وحشت طاری کررہا تھا۔ خون میں لت پت یہ کتے اپنی عادت نہ چھوڑ نے پر اپنی جان کھوبیٹھے تھے۔ رات کے اندھیر ے میں جب کالے دیوبستی میں گھسنے کی کوشش کر تے تو ان کے ناپاک عزائم کو بھانپتے ہی ان بے زبانوں کا احتجاج شروع ہو جاتا۔ ان بے زبانوں کا احتجاج جب کالے دیوؤں کی ناکامی...
فن پارہ : غزل اسلام نورؔ
فن پارہ غزل اسلام نورؔ
''ہیلو۔ہمم،اچھا؟۔کیا پیشنٹ پوزیشن میں آ چکی ہے؟۔اوکے ۔آتی ہوں۔۔'' ''اُف حد ہے ان بچوں کو اتنی سردی میں بھی چین نہیں ہے۔ ارے انہیں اس ٹھنڈک میں رات کو باہر آکر آنکھ مچولی کھینیے ہے کیا؟ ''۔میں نے موبائل اپنے ایک طرف بستر پر پھینکا اور لحاف میں لپٹی ہوئی خفگی سے بڑبڑانے لگی۔اور اٹھنے کے بجائے خود میں سمٹتی ہوئی لحاف کو مضبوطی سے اپنے پورے وجود پر یوں جکڑ لیا جیسے کہ اگر گرفت ذرا سی بھی ڈھیلی ہوئی تو کوئی کھینچ کر مجھے ہاسپٹل نا پہنچا دے۔مگر میری آنکھوں کے کاسے میں نیند ٹھہرنے کے بجائے رہ رہ کر باہر چھلکنے لگی تھی۔کئی دفعہ کروٹوں کا تبادلہ کرکے نیند کو پھر سے سمیٹنے کی کاوش کی مگر ناکام رہی سو لامحالہ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔بالاآخر لحاف کو روہانسی آنکھوں سے الوداع کہا۔جلد از جلد فجر کی نماز ادا کی ۔ایک نظر کھڑکیوں سے دبیز پردے ہٹا کر باہر کے موسم کا جائزہ لیا۔پو پھٹ چکی تھی۔نئی صبح کے ساتھ زندگی چائے کی چسکیاں لے رہی تھی۔فضاء کثیف دھند کا کمبل لپیٹے سورج کی نرم خفیف شعاعوں میں ہاتھ سینک رہی...
عید گاہ سے وا پسی : ڈاکٹراسلم جمشید پوری
ڈاکٹراسلم جمشید پوری
عید گاہ سے وا پسی
پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب کو بے کا ر کر دیا تھا۔ گھر آ نے پر اس کی دادی پہلے اس سے نا راض ہو ئی تھیں او ر پھر اُ سے گلے لگا کرخوب پیار کیا اور دعائیں دی تھیں۔ اس کے وا لدین کو بچپن ہی میں اللہ میاں نے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اُ سے ان کی صورتیں بھی یا د نہیں تھیں۔ بعد میں دادی نے اُسے غریبی، مجبو ری، بے بسی اور لا چا ری کے لقمے کھلا کھلا کر پا لا تھا۔ اس کا بچپن دو سرے بچوں سے مختلف تھا۔ دو نوں دا دی پو تے ایک...
طلسم : انجینیرفرقان سنبھلی
افسانہ نگار: انجینیرفرقان سنبھلی
طلسم
فتح اندلس سے قبل بادشاہ راڈرک اپنے گساروں کے ساتھ گھوڑے دوڑاتے ہوئے تیزی سے قلعہ کی طرف چلا جا رہا تھا۔ جسے اس نے حال ہی میں فتح کیا تھا۔ فتح کی چمک چہرے پر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک اس نے گھوڑے کی باگیں کھینچ لیں گھوڑے بھیانک ہنہناہٹ کے ساتھ رکتے چلے گیے۔
”سپہ سالار۔۔۔۔۔۔یہ پہاڑیوں کی اوٹ میں کون سی عمارت دکھائی دے رہی ہے“
”حضور۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو وہی طلسماتی عمارت نظر آتی ہے جسکی اطلاع ہمارے مخبروں نے دی تھی“
”اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم یہ عمارت دیکھنا چاہتے ہیں“
”میری درخواست ہے حضور۔۔۔۔۔۔۔کہ پہلے دربار سے فارغ ہو لیں“
”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔لیکن ہم جلد از جلد اس عمارت کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں یہ عمارت ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے“
بادشاہ راڈرک کا د ربار لگا ہوا تھا۔ بادشاہ نے ضروری احکام صادر بھی نہیں کیے تھے کہ اچانک دو نہایت بوڑھے شخص نمودار ہوئے۔ انہوں نے زمانہ قدیم کے لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ وہ اپنی سفید قباؤں کے ساتھ کمر پر پُراسرار قسم کی چوڑی بیلٹ باندھے ہوئے تھے جس پر بارہ...
شکنتلا : غزال ضیغم – لکھنؤ،انڈیا
شکنتلا غزال ضیغم لکھنؤ،انڈیا شفاّف پانی سے بھرا حوض جس میں سنہری روپہلی ننھی ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں ۔سفید اور گلابی کنول کے پھول دھیرے دھیرے کِھل رہے تھے ۔ان کے گول سبز پتّوں پر پانی کی بوندیں ہیرے کی طرح چمک رہی تھیں ۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔خوشبو دار انگنت بیلیں جھول رہی تھیں ۔ایک لمحہ کو پانی میں شکنتلا کا عکس جھلملا یا اور اسکی کھنکتی ہوئی ہنسی جنگل جاگ اٹھا ۔جھر نے بہنے لگے ۔پھلوں نے درختوں کی ڈالیوں کو جھکا دیا ۔ گہری نیند سے د شینت جاگ اٹھا ۔اچانک اسکی نظر انگو ٹھی پر پڑی ۔۔۔۔ارے ابھی تو شکنتلا کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا ۔جنگلی ہوا تھی ساتھ ۔۔۔۔کہاں گئیں تم ۔۔؟ اسنے پی ۔اے کو فون کھڑ کھڑا یا ۔ "ذرا فون نمبر بتا نا شکنتلا کا ۔۔۔؟" نہ جانے بے چاری آشرم میں کیسی ہوگی ۔میں تو بھول ہی گیا الیکشن لڑ نے کے چکّر میں رہ گیا بر سوں بیت گئے ۔۔ "سر ۔۔۔!" "یس ۔۔۔۔" "کس شکنتلا کا نمبر چاہیئے ؟ "واٹ۔۔۔۔؟" "سر جی میرا مطلب ور مالا شکنتلا ورما ؟سادھنا شکنتلا سوسودھیا ؟ شکنتلا چودھری ؟ساگریکہ شکنتلا آریہ ؟...
شکست : ارشد علی – اسلام آباد، پاکستان
شکست۔۔۔ ارشد علی اسلام آباد، پاکستان
وہ سب سے اکھڑا اکھڑارہنے لگا تھا۔ بات بے بات غصّہ، ڈانٹ ڈپٹ، نوک جھونک لیکن پھر رویّے میں تبدیلی آئی اور وہ ہروقت کھویا کھویا رہنے لگا۔ خالی خالی نظروں سے سب تکتا رہتا۔ بہت غصّہ میں ہوتا تو آنکھیں نکالتا، کچھ بولنے کے لیے ہونٹوں کو جنبش دیتا اور بنا کچھ کہے دوبارہ گم صم ہو جاتا۔ اور اب تیسرا دن تھا اُسے اپنے کمرے سے بھی باہر نکلے۔اس دوران اس کے چہرے کے تاثرات بتدریج تلخی، ٹوٹ پھوٹ سے ہوتے ہوئے ہر شے سے قطعی لاتعلقی کے رنگ میں تبدیل ہوچکے تھے۔ اُس دن جب وہ گھر لوٹا تو خاموشی سے سیدھا اپنے کمرے میں جا رکا۔ چند لمحوں میں سعدیہ بھی آن پہنچی اور اسے بیڈ پر نیم دراز چھت کو گھورتے چند منٹ تک دیکھتے رہنے کے بعد برابر میں آن بیٹھی۔ ’کچھ بنا۔۔۔؟‘ ’نہیں۔۔‘ ’پھراب۔۔؟‘ ’پتہ نہیں۔۔۔‘ ’آپ کہیں توبھائی سے بات کروں۔۔؟‘ ’ہاں۔۔۔ شاید۔۔۔۔ دیکھ لو۔۔۔‘ ’نہیں رہنے دیں۔۔۔ پہلے ہی۔۔۔اور بوجھ بڑھے گا‘ ’جو بات نہیں کرنی تھی توپوچھاکیوں‘ ’پوچھ لیا تو کیا قیامت آگئی۔۔!‘ ’تمھیں شاید اندازہ نہیں کہ میں کتنا اپ سیٹ ہوں۔۔‘ ’تو میں نے...
شجر ممنوعہ کی چاہ میں: پرویز شہریار، نئی دہلی
افسانہ
شجر ممنوعہ کی چاہ میں
پرویز شہریار، نئی دہلی
اس نے کہا تھا۔
”ازدواج کی عارضی ادلابدلی سے فرسودہ رشتہ میں نئی بہارآجاتی ہے جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔“
اس نے جھوٹ کہا تھا۔
”میں اس شجر ممنوعہ پر چڑھنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اس سے کراہیت ہوتی تھی۔ لیکن، اس کی خوشی کے لیے، میں نے خود کو سمجھا لیا تھا۔اپنے دل کی ایک نہیں سنی تھی اور بے قرار دل پر پتھر رکھ کر اس کی باتوں میں آگئی تھی۔“
مجھے نیچے سے دھکا دے کر جب وہ شجر ممنوعہ پر چڑھانے لگا، تب میرا ماتھا ایک دم سے ٹھنکا تھا۔ میں نے نیچے گہرا کنواں دیکھ لیا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا جواب دینے لگے تھے۔ میں درخت سے نیچے گرنے ہی والی تھی کہ تبھی کسی نے اوپر درخت سے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔میں نے دیکھا، کوئی شخص پہلے ہی سے وہاں مجھے سہارا دے کر اوپر اٹھانے کے لیے موجود تھا۔ ایک پل کو مجھے لگا میرے تن پر ایک کپڑا نہیں ہے۔ دنیا مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے۔ لیکن جب حواس ٹھکانے لگے اور غور سے دیکھا...
شجر تنہا : الحاج محمد بشیر شاد
الحاج محمد بشیر شاد
Athens, Greece
شجر تنہا
سرسبز پہاڑی سلسلوں میں وادیوں کی پہچان ان کے باسیوں سے ہوتی ہے۔ وہاں کے رہنے والے اپنی اور اہل و عیال کی بودوباش اپنی بساط کے مطابق کرتے ہیں۔ کھلی معطر آب و ہوا میں آلودگی کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے پھسلتا پانی کا ریلا ڈھلوان تک رسائی کرنے سے پہلے پہلے آبشار کی صورت اختیار کر لیتا ہے ،ترنم کی راحتیں میسر آتی ہیں اور انمول گیتوں کی دھنیں تیار کرنے والے وہاں نوتخیلاتی ماحول سے لامتناہی مسرتیں حاصل کرتے ہیں وہ اپنی دھنوں کو آبشار تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ بلند و بالا چیڑ و چنار کی لہلہاتی اور سائیں سائیں کرتی آوازوں کو بھی خود میں سمو لیتے ہیں۔ پرندوں کے چہچہانے اور رب العزت کے گیت گانے والے خوش الہانوں سے بھی بہت کچھ مل جاتا ہے ۔ آنکھیں بند کئے کسی پہاڑی کے دامن میں کچھ دیر کے لئے دنیا و مافیا کے فانی دھندوں سے ہٹ کر صرف اور صرف اس پاکیزہ ماحول میں خود کو مدغم کر کے دیکھیں دلی راحتیں میسر آئیں گی۔ شہری زندگی میں محدود ذرائع اور لامتناہی خواہشات انسانی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہیں...
شاک تھراپی : مہتاب عالم پرویزؔ : SHOCK THERAPY : MAHTAB ALAM PERVEZ
شاک تھراپی
SHOCK THERAPY
مہتاب عالم پرویزؔ
MAHTAB ALAM PERVEZ
کویت
E - mail mahtabalampervez@gmail.com
٭ ”ڈیڈکاش! آپ میری باتوں کوسمجھنے کی کوشش کرتے، ایسا نہیں ہے کہ میں تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتی یا تعلیم کے زیور کو آراستہ کرنا نہیں چاہتی میری بھی خواہشیں ہیں کہ میں بھی اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کروں لیکن میں بھی مجبور ہوں میں ممی کو اس حالت میں چھوڑ کر کیسے اپنے شہر سے دور جاؤں گی۔ اور ابھی میری عمر ہی کیا ہوئی ہے۔؟ پڑھنے کے لئے ابھی میری ساری زندگی پڑی ہے۔“
آپ اپنی ممی کی فکر نہ کریں آپ کی ممی کی دیکھ ریکھ کے لئے میں ہوں نا۔آ پ کو اپنی ممی سے جتنا پیا ر ہے اُس سے بھی کہیں زیادہ میں اُن سے محبت کرتا ہوں اس بات کا یقین آپ کو یقینا ہوگا۔ میں نے ڈاکٹر زین سے ان تمام سلسلوں...
سنومین : نورالعین ساحرہ
سنومین
نورالعین ساحرہ ورجینیا، امریکا
باہر برف پڑ رہی تھی اور مسلسل پڑ رہی تھی۔ ایک گھر نما چار دیواری کے اندر ضمیر نے بڑبڑاتے ہوئے کمبل گھسیٹا اور اپنا منہ دیوار کی طرف کر کے خراٹے لینے لگا ۔ کچھ ہی دیر پہلے جب یہ اندھیری رات برف اوڑھ رہی تھی تو زندگی ٹھٹھرتی سکڑتی زمین کی گود میں سستانے لگی ۔ ضمیر کی بیوی لمحہ لمحہ تنہائی اور اپنے شوہر کی مجرمانہ بے پروائی کے کرب میں سسک رہی تھی۔ وہ نشے میں دھت دھڑام سے آکر بستر پر گرا۔ وہ ایک کونے میں لیٹی ہوئی ایک دم اٹھی اور اسے سنبھالنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔وہ ناک سکیڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
"دفع ہو جا یہاں سے ۔۔۔ کتنی بار کہا ہے سونے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھویا کرو۔ بدبودار عورت " وہ منہہ ہی منہہ میں بڑبڑایا ۔ساری رات مجھے بستر میں کبھی آئیوڈین اور کبھی لہسن پیاز کی بو آتی رہتی ہے۔ ویسے تو پہلے سے تمھارے ہاتھ اتنے کھردرے اور بوڑھے سے لگتے ہیں کہ دیکھ کر دل خراب ہو جائے اس پر اتنے بدبودار بھی رکھتی ہو" اس نے کروٹ...
سل فش : عروج فاطمہ
افسانہ
سل فش
عروج فاطمہ
آفرین تم سل فش ہو ۔۔۔۔ آفرین اک لمبا سانس لیتے ہوئے خاموش ہوگئی اور مونیب اپنی باتوں میں مگن رہا میرے ماں باپ نے بچپن سے میرے لیے بہت کچھ کیا ہے ُان کی مجھ سے بہت ُامیدیں وابستہ ہیں آج جب وہ پڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں تو کیا میں ُان کی ُامیدیں توڑ کر تم سے کیسے شادی کر لو ۔ جبکہ وہ تمہیں پسند نہیں کرتے جب تم میرے گھر میں چلتی پھرتی ُانہیں نظر آؤ گئی تو ُانہیں بہت ُدکھ ہو گا ۔ میں ُانہیں ُدکھ نہیں دے سکتا ۔ انہوں نے اب تک جو کچھ میرے لیے کیا ہے آج ُاس سب کا احسان لوٹانے کا وقت ہے ۔ تم نے تو میرے لیے کچھ نہیں کیا ؟ تو پھر میں تمہارے لیے تم سے کیسے شادی کر لوں ۔ آفرین تم بہت اچھی لڑکی ہو تم اپنا گھر بسا لو ۔ مجھے بھول جاؤ ۔ضروری تو نہیں کہ جو ہم سوچیں قسمت ہمیں وہی دے ۔ آفرین فون پر خاموشی توڑتے ہوئے بولی مونیب آپ کو جو بھی کرنا ہے آپ کرو ۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی مطلب نہیں میں آپ کو اب کبھی...
سٹی بس : محمد حنیف خان
سٹی بس محمد حنیف خان شعبہ اردو ممتاز پی جی کالج
میڈم پشپا نے صا ف طور سے فیصلہ کن انداز میں کہا نہیں سریش اب میں سٹی بس سے سفر نہیں کروں گی ،خواہ مجھے یہاں کھڑے ہوکر دو گھنٹہ سواری کا انتظارکیوں نہ کر نا پڑے ،اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا لوگ اپنی عمر کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ،سریش نے تعجب خیز نظروں سے دیکھتے ہو کہا نہیں میڈم وہ کیا تھا بھیڑ بہت تھی اس لئے آپ کو ایسا لگا اور آپ کی عادت بھی نہیں، شاید یہی سب سے بڑی آپ کی پریشانی ہے آپ چلئے تو اور اس نے چہرے پر آثار دیکھنے کے لئے اپنی نگاہیں مر کوز کردیں حالانکہ اس کو سڑک سے دفتر آتے وقت راستے میں ہی اندازا ہو گیا تھا کہ میڈم اب سٹی بس سے تو سفر نہیں کریں گی پھر بھی اس نے سو چا چلو دیکھتے ہیں اس سے’ اندازہ ‘بھی ہو جا ئے گا۔وہ کس بات کا اندازا لگا نا چاہتا تھا یہ نہیں بتایا میں نے پو چھا بھی کہ سریش تم کس بات کا اندازا لگانا چاہتے تھے تو ہنس کر میرا سوال...
سترھواں حملہ : قمر قدیر ارم
قمر قدیر ارم مہاراجہ ہریش چند ر پی جی کالج ، مرادآباد 244001 سترھواں حملہ بینک میں برانچ مینجر کی پوسٹ کے لئے تحریری امتحان وہ پاس کر چکا تھا ۔ اور یہ تو اس سے پہلے بھی ہوا تھا ۔وہ جس ملازمت کے لئے بھی امتحان دیتا تما م مراحل سے کامیابی کے ساتھ گذر جاتا بس مسئلہ انٹرویو میں آکر اٹک جاتا ۔بلکہ اس کی تمام محنتو ں پر پانی پھر جاتا ۔اس کی شناخت ‘اس کی کامیابی کی راہیں روک کر کھڑی ہوجاتی۔ پہلے پہل تو یوں ہوا کہ تحریری امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد جب وہ انٹرویو میں فیل کردیا گیا اس نے بھی روسی لوک کتھاؤ ں کے ہیروکی طرح یہ طے کرلیا کہ ‘۱۷ جوڑی جوتے گھسے گا اور محمود غزنوی کی طرح سترہ بار کمرکسے گا لیکن چار پانچ انٹرویو ہی دے کر اس کی کمر ٹوٹ گئی ۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ گھر کا اثاثہ ختم ہونے لگا ۔اور جب انٹرویودینے کی دھن نے اس کو کنگال کردیا تو اس نے قوم کے سرمایہ داروں تک اپنی آواز پہنچائی ۔اہل خیر حضرات سے مدد چاہی (لاکھوں روپے کی ہر سال زکواۃ ادا کرتے تھے )تاکہ وہ انٹرویومیں بیٹھنے کے لئے وسائل مہیاکرسکے ۔لیکن...
سپنوں کا محل : عابد علی خاں
عابد علی خاں سپنوں کا محل پارو نے جب سے ہوش سنبھالا خود کو کچرے کے ڈھیر پر ہی پایا تھا۔ وہ دِن بھر اپنی بڑی بہنوں کے ساتھ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ننگے پاؤں گھوم پھر کرکاغذ ، گتّا،خالی بوتلیں، لوہے اور پلاسٹک کے ٹکڑے اور جو بھی اُسے مل جاتا وہ اپنے چھوٹے سے بورے میں بھر لیتی۔ شام ہونے تک جو کچھ بھی ہاتھ آجاتا اُسے کسی کباڑیئے کی دُکان پر فروخت کردیا جاتا۔ اِسی جدّو جہد میں اُس کا بچپن اُس کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ۔جیسے ہی اُس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ۔ اُس کے بابانے اُس کی شادی بھیکو نام کے ایک شخص سے کردی۔جو عمر میں اُس سے کافی بڑا تھا۔ بھیکو ریلوے لائن کے ساتھ ایک جھونپڑپٹّی میں رہتا تھا۔ شادی کے بعد اُسے کچرے کے ڈھیروں میں سے کچھ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اب وہ کئی اچھے گھروں میں صاف صفائی کا کام کرنے لگی تھی ۔ اُس کا شوہر بھیکو کسی فیکٹری میں کام کرتا تھاوہ کام پر کم ،زیادہ تر گھر پر ہی پڑا رہتا ۔ پارو جس بستی میں بیاہ کر آئی تھی یہاں لوگوں...