Skip to main content

Aalamiparwaz

سانپ اور پرندے : مہتاب عالم پرویزؔ SANP AUR PARINDE : MAHTAB ALAM PERVEZ

 افسانہ سانپ اور پرندے -SANP AUR PARINDE مہتاب عالم پرویزؔ - MAHTAB ALAM PERVEZ کویت -KUWAIT             ٭گُذشتہ شب میری پانچ سالہ بیٹی نوشینؔ نے JUBILEE PARK جانے کا پروگرام بنایا تھا۔  جب میں ساڑھے چھ بجے سائبر بند کر کے اپنے گھر لوٹا، میری بیوی میری منتظر تھی اور میرا چار سالہ بیٹا فرازؔ مجھے دیکھ کر کافی خوش ہوگیا تھا لیکن میری آنکھیں اپنی پیاری سی بیٹی نوشین ؔکو تلاش کر رہی تھیں ...... سمرنؔ نے بتا یا کہ آپ کی پیاری بیٹی تو آپ کا انتظار کرتے کرتے تھک سی گئی تھی پھر آپ نے فون کر کے جب یہ بتایا کہ میں ساڑھے چھ بجے آرہا ہوں جب آپ کا فون آیا تھا اُس وقت شام کے پانچ بجے تھے اور پھر ایسے حالات میں اُس کے اندر اتنا PATIENCE کہاں کہ وہ آپ کا انتظار کرے وہ تحسین ؔکے ساتھ جا چُکی ہے۔ تحسین ؔکے مّمی اور ڈیڈی جا رہے تھے۔ اس سے اچھا موقع اُس کے لئے اور کیا ہو سکتا تھا۔ ”اور جب وہ جا ہی چُکی ہے تو اب JUBILEE PARK جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“ سمرنؔ نے اظہارِ خیال کیا۔ ”آپ تو یہ اچّھی طرح سے جانتے...

ریئلیٹی شو : ڈاکٹراختر آزاد

ڈاکٹراختر آزاد مکان نمبر ۔۳۸، روڈ نمبر ۔۱آزاد نگر ، جمشیدپور ۔۸۳۲۱۱۰موبائل۔09572683122برادرم مہتاب عالم پرویزؔ !آداب اردو ویب سائٹ’’عالمی پرواز‘‘ کی خبرپہلے ہی مل چکی تھی ۔لیکن جب اسے نیٹ پر دیکھا تو اور بھی خوشی ہوئی۔اس کا’ لوگو ‘بہت دیدہ زیب ہے۔ یہ بہت محنت طلب کام ہے ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کام کو سراہنے کے بجائے کچھ لوگ ٹانگ کھینچنے کی بھی کوشش کریں گے کہ اچھّا خاصہ افسانہ نگاری کر رہے تھے یہ کون سا کام شروع کر دیا۔تو ایسے لوگوں سے بھی بچنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن کچھ لوگ یقیناً ایسے بھی ہوں گے جو’عالمی پرواز‘ کے سلسلے میں اچھّی رائے رکھتے ہوں گے ۔ ان کی روشنی میں اپنا مشن آگے بڑھاتے رہیں تاکہ آپ کی ( پرویز کی) جوویب’ پرواز ‘ ہے وہ جمشید پور سے شروع ہو کرصرف ہندوستانی آسمان میں ہی اپنا جلوہ نہ دکھائے، بلکہ اپنے نام کی طرح’ عالمی پرواز‘ بن کر بین الاقوامی آسمان پر قوس و قزح کے رنگ بکھیر دے ۔جھارکھنڈ کی سر زمین سے یہ پہلا اردو ویب سائٹ تو نہیں ہے ۔ اس سے قبل جناب اسلم بدر بھی اپنا ویب سائٹ لانچ کر چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ...

ڈاکٹراسلم جمشید پوری: عید گاہ سے وا پسی

 ڈاکٹراسلم جمشید پوریؔ  عید گاہ سے وا پسی                      پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب کو بے کا ر کر دیا تھا۔ گھر آ نے پر اس کی دادی پہلے اس سے نا راض ہو ئی تھیں او ر پھر اُ سے  گلے لگا کرخوب پیار کیا اور دعائیں دی تھیں۔ اس کے وا لدین کو بچپن ہی میں اللہ میاں نے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اُ سے ان کی صورتیں بھی یا د نہیں تھیں۔ بعد میں دادی نے اُسے غریبی، مجبو ری، بے بسی اور لا چا ری کے لقمے کھلا کھلا کر پا لا تھا۔ اس کا بچپن دو سرے بچوں سے مختلف تھا۔ دو نوں دا دی پو تے ایک...

دھوپ چھاؤں : اسرار گاندھی

 دھوپ چھاؤں اسرار گاندھی 18E/11J/6Dکرامت کی چوکی، الہ آباد16  وہ اپنا گھر چھوڑ کر اولڈ ایج ہوم میں آ گیا تھااور اس کے دن آنسوؤں سے بھر گئے تھے۔ پچھلے پچاس برسوں کی زندگی بھولنا اتنا آسان تو نہ تھا۔ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ باتیں اس کے دل و دماغ میں سوئیوں کی طرح تیرتی رہتیں اور اس کا پورا وجود چھلنی ہو کر رہ جاتا۔کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اسے بستر چھوڑ کر اٹھنا پڑا۔باہر ہو م کا نوکر کھڑا تھا۔’’ کیا بات ہے؟‘‘ وہ نوکر کو دیکھتا ہوا بولا۔’’چائے کا وقت ہے ، آپ میس میں آ کر چائے پی لیں۔‘‘’’چلو میں آتا ہوں۔‘‘وہ کپڑے تبدیل کر کے میس کی طرف چل پڑا۔بڑی شاداب جگہ پر تھایہ ہوم۔ یہاں کے لوگ بڑے نرم مزاج تھے۔ بہت ہی محبتوں سے باتیں کرتے، ہر طرح کا خیال رکھتے،شاید ان کو ایسی ٹریننگ ہی دی گئی تھی۔اس نے میس میں چائے پی اور باہر آ کر لان میں پڑی ہوئی ایک آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔ لان پر اور بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ جنہیں وہ نہیں جانتا تھاکہ اسے یہاں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے۔ لان پر مخمل جیسی گھاس بچھی تھی اور وہاں رکھے ہوئے قطار در قطار گملوں...

دھوپ : وحید احمد قمر

  Waheed Ahmad Qamar DHOOP ‫  دھوپ   وحید احمد قمر  لندن ۔ انگلستان             میں ایک پُر بہار مقام پر اس کا انتظار کر رھا تھا ۔ جھیل کے نیلے پانی پر ڈھلتے سورج کی شعاعیں اپنا عکس ڈال رہی تھیں ۔ رنگ برنگے پھول کھلے ھوئے تھے ایک طرف گلاب کے پھولوں کی باڑ لگی ہوئی تھی ۔ شوخ رنگوں کے پرندے جھیل کے پانی پر اڑانیں بھر رھے تھے ۔ چاروں طرف اونچے اونچے درخت سر اُٹھائے کھڑے تھے ۔ درختوں کی چوٹیاں سورج کی شعاعوں سے سنہری ہو رہی تھیں ۔ بلند سرخ سرخ پہاڑ سورج کی روشنی میں نہائے ھوئے تھے ۔ ان پہاڑوں پر کہیں کہیں سبزہ عجب دلکش منظر پیش کر رہا تھا ۔ قریب ہی ایک آبشار شور مچا رہا تھا ۔ اس کا پانی پتھروں میں سے راستہ بناتے ہوئے ایک ندی کی صورت اختیار کرگیا تھا ۔ یہ ندی ٹیڑھے میڑھے راستوں سے ہوتی ہوئی کچھ دور جا کر جھیل میں گر جاتی تھی ۔ جہاں میں کھڑا تھا وہ شاید کبھی سڑک رہی ہوگی کیوں کہ اس کی حالت بہت خستہ تھی ۔ ممکن ھے کسی زمانے میں یہاں لوگوں کی آمد و رفت رہی ھو مگر اب تو یوں...

دن کے اندھیرے ،رات کے اجالے : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 افسانہ  ڈاکٹر اسلم جمشید پوری  میرٹھ دن کے اندھیرے ،رات کے اجالے    میں قبرستان ہوں۔ آپ مجھے ضرور جانتے پہچانتے ہوں گے۔ کبھی نہ کبھی آپ ضرور یہاں آئے ہوں گے۔ آپ کسی جنازے کے ساتھ میرے احاطے میں آئے ہوں گے، شب برات میں تو ضرور کسی قبر پر فاتحہ پڑھنے یا چراغاں کرنے آئے ہوں گے ۔ میری ویرانی کو دیکھ کر آپ کو ڈر بھی لگا ہوگا۔ موت یاد آئی ہوگی۔ آپ نے گناہوں سے توبہ کے لئے استغفار کیا ہوگا۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ مجھ سے دور ہونے پر آپ نے ساری قسمیں اور وعدے، توڑ ڈالے ہوں گے۔ کوئی بات نہیں، یہ دنیا اور زندگی تو عمل کی جگہ ہے۔ آپ جیسا عمل کریں گے، بعد میں ویسا ہی اجر پائیں گے۔ ایک راز کی بات بتاؤں۔ غور سے سننا۔ اچھا پہلے میں اپنا تفصیلی تعارف کرادوں۔ میں بلند شہر کے گاؤں دھنورا کا قبرستان ہوں۔ میری عمر یہی کوئی ۴۰۰؍ سال ہوگی۔ ابھی کم عمری ہی میں، میرا سینہ فخر سے بلند ہے کہ میرے سینے میں ہزاروں راز دفن ہیں۔ میں گاؤں کے مغربی کنارے پر آباد ہوں۔ ویسے تو میرا سینہ اندرونی طو پرمسلمانوں سے آباد ہے لیکن باہری سطح پر مسلم اور غیر...

دکاندار: شفان حسن، اسلام آبا د

 دکاندار شفان حسن، اسلام آبا د                            گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں نہرکے پانی میں جی بھر کر نہانے کے بعدہم تین دوست اپنی،اپنی سائیکل پر سوار، تروتازہ و مسرور گپیں ہا نکتے گھروں کو رواں دواں تھے۔ نہر،شہر سے زیادہ دور نہ تھی، چنانچہ ہم جلد ہی اپنے محلے کے قریب پہنچ گئے۔ ذرا آگے آئے تو ایک عجیب سی افراتفری نظر آئی۔ ہم سائیکل سے نیچے اتر آئے، اور اپنی،اپنی سا ئیکل کو گھسیٹے آگے کی طرف پیدل چل دئیے۔ نعیم اور راشد میرے گھر سے پہلے مڑ جانے والی گلی میں رہتے تھے،لیکن اس عجیب سی صورتحال نے مجھ سمیت ان میں بھی تجسس پیدا کر دیا تھا، لہذا وہ دونوں بھی میرے سا تھ میرے گھر والی گلی میں داخل ہو گئے۔ میرا گھر محلے کے سب سے آخری کونے میں ایک لمبی گلی میں تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر با ہر گلی میں کھڑے ہوئے تھے۔ اب دل میں وسوسوں کی ایک قطا ر اٹھنا شروع ہوئی،جس سے اس وقت مجھے شناسائی تھی،وہ کسی کی وفات کی خبرہو تی تھی چنا نچہ میرے ذہن میں ان تما م لو گوں...

دس سروں والا بجوکا : پرویز شہریار

  دس سروں والا بجوکا    پرویز شہریار                       یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب پریم چند کی کہانی کا ’ہوری‘  پچہترسال کا ہو چکا تھا۔ سارے بال سفید ہو چکے تھے۔ چونکہ وہ ایک کسان کا بیٹا تھا، اس لیے ہاتھ پاؤں کے پٹھے اور عضلات اب بھی صحیح سلامت تھے۔البتہ اب وہ اونچا سننے لگا تھا۔افرادِ خانہ کا خیال تھا کہ باپو اپنے مطلب کی بات بہت جلدی سن لیتے ہیں لیکن جس میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ بات انھیں سنائی نہیں پڑتی، چاہے ان کے آگے ہم اپناکتنا بھی گلا پھاڑ لیں۔                  دریں اثنا،ہوری کا بیٹا گوبردھن پڑھ لکھ کر دہلی آئی آئی ٹی میں پروفیسر ہو گیا تھا۔ سونا اور روپا بھی اپنی اپنی سسرال سدھار چکی تھیں۔اس کے بیٹے نے ہوری کو بہت سمجھایا تھا کہ زمانہ بدل چکا ہے اب کھیتی باڑی چھوڑ کے وہ بھی شہر میں آکر آرام سے رہے اور زندگی کے بقیہ دنوں کا لطف اُٹھائے۔گوبردھن ہوری کو اپنے ساتھ رکھنے کو تیار تھا، لیکن ہوری نے اس کی ایک نہ سُنی۔                 ”ماٹی ہمارا جیون ہے۔“ہوری نے کہا تھا۔”اس سے جنموں کا ناطہ ہے۔ اسے ایک دم سے...

خوف کی آہٹ : ڈاکٹر ارشد اقبال

 ڈاکٹر ارشد اقبال  مرادآباد مسلم ڈگری کالج ،کٹگھر،مرادآباد244001  خوف کی آہٹ بانو ’’چپرچپر‘‘ کی آواز سن کر اٹھ بیٹھی اور بھوک سے پٹخاہوا پیٹ بے جان انگلیوں سے سہلانے لگی ۔’’ اتنی رات گئے کیا کررہے ہو۔؟‘‘ ’’نہیں بیگم !۔کم بخت خالی پیٹ نیند نہیں آتی ۔بھوک اور نیند کا گہرا رشتہ ہے۔‘‘’’ہاں !ٹھیک کہتے ہو ۔میں گھنٹوں سے بھوک کی آگ میں جھلس رہی ہوں ۔‘‘’’ہاں بیگم کچھ تو ہے۔‘‘’’ مجھے اٹھا لیتے ۔لیکن ہنڈیا تو زید نے چاٹ لی تھی ۔تمہارے ہاتھ کون سی نعمت آگئی ۔‘‘’’کچھ نہیں تھوڑے شکر کے دانے لیے ہیں ۔‘‘’’افوہ ! میں نے سوچا تھا ۔صبح اٹھ کر زید کو شکر کے دانوں سے بہلادوں گی ۔‘‘بانونے خاموشی اختیار کر لی مگر نیند سے بوجھل آنکھوں اور مایوس چہرہ کی سطح پر فکر نمایاں ہوگئی۔اختر نے ہاتھ کا نوالہ ڈلیا میں چھوڑ دیا ۔’’لوبیگم! یہ کٹوری رکھ دو ۔اتنی شکر چھوڑدی ہے کہ دو پیالی چائے بن جائے گی ۔تھوڑی تھوڑی تقسیم کردینا ۔زندہ رہنے کے لئے کافی ہے۔آٹاتو ابھی ہفتہ عشرہ چل جائے گا نا۔‘‘’’جی!چل جائے گا ۔مگر جب سے تمہاری نوکری چھوٹی ہے ۔زندگی جاگنے اور بھوکا رہنے کے فارمولے پر تقسیم ہوگئی ہے ۔‘‘’’ تم ٹھیک کہتی ہوبیگم۔مگر افسوس صرف اس بات کا ہے...

خوف :ناصرملک

 خوف  ناصرملک           ہماری ریسکیو ٹیم جانکاہ مشقت کے بعد سیلابی پانی میں گھرے اس مکان تک پہنچی تھی۔ میں حیرانی سے پانی کے عفریت میں گھرے ہوئے اس گھر کے مکینوں کو دیکھ رہا تھا۔ بوڑھا واحد بخش، اس کی بیوی زیناں، دو بیٹیاں۔ ایک کی عمر پانچ، دوسری کی چودہ پندرہ ۔۔۔۔دونوں بہنوں کو بھائی کی محرومی کا دُکھ قدرت نے دیا تھا۔ میں حیران تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کیمپوں میں کیوں نہیں گئے تھے۔ شاید ان تک کوئی پہنچا ہی نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ گھر کا سارا سامان تین ریسکیو ورکرز، دو ملاحوں اور واحد بخش نے لانچ میں لاد دیا مگر کھانے پینے کا سامان اور برتن چھپر کے نیچےجوں کے توں پڑے تھے۔ "یہ بھی لاد دو ناں!" واحد بخش نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ بولی، "نہیں جی! یہ یہیں رہے گا۔ آپ وہ سامان لے جاکر کہیں محفوظ کر دیں۔ پانی اُتر گیا تو ہم آ کر لے لیں گے۔" میں بھونچکا رہ گیا، "کیا مطلب؟ کیا تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں جائو گے؟" اس نے پھر انکار میں سر ہلایا۔ بولی، "نہیں جی! ہم ادھر ہی ٹھیک ہیں۔" میں نے اصرار کیا۔ وہ نہ...

خود اعتمادی : ڈاکٹر عظیم راہی

افسانچے ڈاکٹر عظیم راہی کریم کالونی روشن گیٹ اورنگ آباد                             (۱) خود اعتمادی               لوگ کہتے ہیں اس میں قوت ارادی بہت تھی کہ وہ دس سال تک مختلف بیماریوں کی تکلیفوں کو مسلسل جھیلتا رہا لیکن اس کے برعکس اس کا دوست محض دس دن کی بیماری میں ہی دم توڑ گیا کہ اس کی سب سے بڑی بیماری اس کی غریبی تھی۔                                       (۲) احساس               کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو سب کے ساتھ رہ کر بھی اکثر خود ہی سہنے پڑتے ہیں کیونکہ ان کو دوسروں کے ساتھ بانٹا نہیں جاسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس غم کا احساس اور سوا ہوجاتا ہے۔ لیکن آج جب ایک بار پھر میرے ساتھ ایسا ہی ہوا تو مجھے بڑی شدت سے اپنے اکیلے پن کا احساس ہوا۔                                       (۳) لاجواب              میرے آفس کے ایک غیر مسلم رفیق...

خبر ہونے تک : خورشید حیات

خبر ہونے تک خورشید حیات میں نے جب کبھی حقیقت کا سامنا کرنا چاہا ہے تو خود کو اپاہج محسوس کیا ہے۔ انسان، کتنا بے بس ہے، وقت کے ہاتھوں کا کھلونا، اس پر یہ تیور کہ میں انقلاب لا سکتا ہوں۔ زندگی تیز رفتار سے چلتی رہتی ہے اور انسان خواب اور حقیقت کے دو راہے سے گذرتارہتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر خواب ایک حقیقت ہے اور کبھی لگتا ہے کہ ہر حقیقت ایک خواب ہے ۔ یہ گتھی بھی عجیب ہے۔کیا کہیں ہم زندگی کو ؟ زندگی کو فرصت نہیں اپنے کاروربار سے کبھی زندگی آگے تو کبھی ہم پیچھے، کبھی ہم آگے تو زندگی پیچھے۔ بھیڑ چلی جارہی ہے تیز دھوپ میں، بارش میں، منزل کا پتہ نہیں۔ ہم بھیڑ کوروک کیوں نہیں دیتے؟میں = ہم ، اور ہم =ہم سب۔ہم ہم نہیں رہے۔ زندگی کی کڑوی سچائیوں کو پانی کی طرح پی رہے ہیں اور جی رہے ہیں ایک اپاہج کی طرح۔ شہروں نے دیہاتوں میں بسنے والی آبادی کی خوشیاں چھین لی، انکے حصے کی روشنی چھین لی۔ دیہاتوں میں اب کیا رہ گیا ۔ ہمارے قدم اب گاؤں کی طر ف نہیں بڑھتے۔ دادا کی حویلی سنسان ہوتی جارہی ہے اور پیپل کا...

حرامی (ایک بے باک افسانہ) : ڈاکٹر اختر آزاد (انڈیا) HARAMI BY DR. AKHTAR AZAD

ڈاکٹر اختر آزاد  مکان نمبر۔۳۸ ، روڈ نمبر ۔ ۱ آزاد نگر ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰ موبائل:۔ 09572683122 dr.akhtarazad@gmail.com حرامی (یہ افسانہ، افسانوں کاعالمی انتخاب جو "نئی صدی کا افسانوی انتخاب" کے نام سے شائع ہوا ہے ، اس میں شامل ہے۔ مہتاب عالم پرویز)  میرا باپ کون ہے؟  یہ سوال ہوش سنبھالتے ہی گورا کا پیچھا کرنے لگا تھا۔ اُس کا چہرہ نہ ماں سے ملتا تھا اور نہ ہی باپ سے ۔دونوں کے چہرے سیاہ تھے اور نقش ونگار الگ ۔مزدور کہیں کے بھی ہوں، چہرے ایک سے دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن خون پسینہ نچوڑنے والے ٹھکیداروں کا تعلق کسی قبیل سے ہو وہ اپنے ہاؤ بھاؤ کے باعث دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں .......اب لوگ گورا کو بھی دور سے پہچاننے لگے تھے کہ یہ ’خون ‘ ٹھیکیدار ہے جس نے کام دینے کے بہانے اس کی ماں کو ورغلایاہو گا اور مزدوری کے ساتھ نو ماہ کا بونس گود میں ڈال دیا ہو گا۔  تقریباً پانچ سو گھروں کا یہ جھونپڑ پٹّی والا علاقہ شہر کے بیچو ں بیچ تھا ۔ بڑے ہسپتال کے ٹھیک پیچھے ۔ قریب دس ایکڑ زمین میں آباد۔ بڑی بڑی نالیوں سے گھرا ہوا۔ گذرتے ہوئے ایسا...

چیخ….گلفشاں شبّیر : CHIKH : GULFASHAN SHABBIR

افسانہ گلفشاں شبّیر چیخ........                       ٭ وہ ایک چیخ تھی .......                    ایک ایسی چیخ کہ جس کی بازگشت اور اُس کی گونج آج بھی میرے کا نوں میں گونج رہی ہے وہ میری زندگی کا ایک ایسا سانحہ تھا جسے میں شاید ہی بھول پاؤں ......                   رات بھر موسلا دھار بارش ہو تی رہی تھی صبح بستر سے اُٹھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔جنوری کامہینہ اور یہ با رش، دل چا ہ رہا تھا گرما گرم کافی پیتا رہوں اور بستر سے لپٹا رہوں میں نے جب گھڑی پر نگاہ ڈالی تو دیکھا صبح کے نو بج چُکے تھے اور کھڑکی کے باہر سے ہلکی ہلکی دھوپ نظر آ رہی تھی میں اُٹھا اور ٹیرس پر آگیا میری نظر سامنے پارک پر پڑی،جہاں بلا کی ایک خو بصورت لڑکی تتلیوں سے کھیل رہی تھی گلابی گلابی اُس کے گال، گلاب کی پنکھڑیوں سے اُس کے عنابی ہونٹ، سُنہرے بال اور بڑی بڑی نیلی جھیل سی بیکراں آنکھیں اور اُس کے چہرے کو بار بار چھوتی ہوئی اُس کی بالوں کی ایک ضدی لٹ اُس کے...

چوراھا : الحاج چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز ۔ یونان

  چوراھا   الحاج چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز ۔ یونان                    برگد کا بوڑھا پن اس کے گھنے ریشوں کوگلے کی مالا بنا کر دھرتی تک بچھا چکا تھا۔سرحدی گاﺅں کے اس درخت کو نمایاںحیثیت حاصل تھی کیونکہ یہ عین وسط میں تھا۔کسیکے ہاں مہمان کی آمد ہوتی ،اس برگد والے چوراہے کی نشانی بتا دی جاتی تو اس کو منزلِ مقصود تک پہنچنے میں دقت نہ آتی۔ سرِشام گاﺅں کا چوکیدار چوراہے میں نصب کئے ٹنڈ منڈمصنوعی چھتے پر لالٹین کو آگ دکھا کر روشنی کی ابتدا کرتااور گاﺅں کے سب دیئے ٹمٹمانے لگتے ، چرند پرند اپنے مسکنوں میںگھس جاتے لیکن چاروں طرف کمسن بچے مخصوص آوازیں نکالے اپنے ساتھی اکٹھا کر لیتے۔ ایک طرف بچیاں راگ الاپ رہی ہوتیں تو دوسری طرف” پٹھو گرم “عروج تک پہنچ جاتا۔آنکھ مچولی اور چور سپاہی کے شور و غل میںلڑکیاں بول میری مچھلی کتنا پانی“ اور”کوٹلہ چھپاکی جمعرات آئی اے “شروع کر دیتیں۔ کولاں ان کھیلوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیئے فیجاں کو ساتھ ملا لیتی۔ اس کے برعکس فتو ردِعمل دکھانے کے لیئے نیناں سائیں کا سہارا لیتا۔ نیناں سائیں بیچارہ کیا کرتا ،وہ تو بچپن سے سب کو کھیلتے دیکھ...

چھِنال (ایک بے باک افسانہ) مہتاب عالم پرویزؔ(کویت) CHINAL BY MAHTAB ALAM PERVEZ – KUWAIT

 چھِنال  (ایک بے باک افسانہ)  مہتاب عالم پرویزؔ  (کویت)                                                                ٭  چننئی سینٹرل کالج کے با لکل سامنے وسیع و عریض پارک میں وہ خوبصورت سی لڑکی خوبصورت سفید بالوں والے ایک کتے کو سیر کروا رہی تھی۔وہ چھوٹا سا کُتا جس کے سفید اور خوبصورت لمبے لمبے گھنے بال اُس کے چہرے کو چُھپائے ہوئے تھے اور اُس کے گلے میں پڑا ہوا وہ خوبصورت سا رنگین پٹہ اُسے اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا۔کُتے کے گلے میں پڑے ہوئے رنگین پٹے سے جُڑے ہوئے زنجیر کا دوسرا سرا اُس خوبصورت سی لڑکی کے کیوٹ سے مہندی لگے ہوئے ہاتھوں میں تھا۔                 ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں یہ باتیں کوند سی گئیں کہ کاش یہ کُتے کا رنگین پٹہ میری گردن پہ لگا ہوتااور اس سے جُڑے ہوئے زنجیر کا دوسرا  سرا اُس خوبصورت سی لڑکی کے کیوٹ سے مہندی لگے ہاتھوں میں ہوتا۔                 یہ الگ سی بات ہے کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں بیوی کے پلوُسے بندھا  ہوا ہوں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حقیقت تو کچھ اور ہی ہے جس کی گہرائی...

چتون کی چترائی CHITWAN KI CHATURAI مہتاب عالم پرویزؔ MAHTAB ALAM PERVEZ

     (افسانہ)    چتون کی چترائی             مہتاب عالم پرویزؔ      (اپنی شریکِ حیات  نغمہ ناز مکتومیؔ کے نام )               میں خبروں کا پیامبر ڈھونڈ رہی تھی، تپتی ہوئی دُھوپ تھی، ایک تلاش تھی اور میں تھی۔ میں نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھا... وہ ہمیشہ کی طرح نیلا تھا۔ پرندوں کا  ایک خوبصورت جوڑا نیلے آسمان کی انتہائی وسعتوں میں پرواز کررہا تھا۔ بالکل اس طرح جیسے وہ اپنی دِشاؤں سے بھٹک گیا ہو...                 دُور برگد کی گھنی چھاؤں میں اس کی لچکتی ہوئی ڈالیوں پہ جھوم جھوم کر لڑکیاں گیت الاپ رہی تھیں۔ اور نہ جانے کیوں میرا دل بیٹھا جارہا تھا: پنگھٹ کا چِت چور کھوگیا چتون کی چترائی میں بھری گگری یا خالی ہوگئی ایک بے سدھ انگڑائی میں ٹونا مار گیا بیراگی جوگن کھا گئی مات                 اور میں سوچ رہی تھی کہ اس گیت سے میرا کیا رشتہ ہے۔ آخر کیوں؟ماضی کی شدید یادوں نے کل مجھے مضطرب رکھا۔ دن اضطراب میں گزرا۔ اور ساری رات کروٹیں کیوں بدلتی رہی؟                 گیت اب بھی جاری تھا: ہری  ُچنریا کھیت کی مہکے فصلوں کی رعنائی میں ماضی کی تصویریں اُبھریں دیواروں کی کائی میں پاؤں میں چبھ چبھ جائے مہاور مہندی کس گئی ہات اور میں تھی کہ سوچے جارہی تھی۔                ...

جی۔ایل موومنٹ: ڈاکٹر اختر آزاد G.L MOVEMENT – DR. AKHTAR AZAD

(افسانہ)  جی۔ایل موومنٹ  ڈاکٹر اختر آزاد  جمشید پور               اور پھر ایک دن ڈونالڈ نے جیکسن کے عضوِ خاص کا آپریشن کر کے اُسے جانگھوں کے درمیان سے آزاد کر دیا اور وہاں آرٹی فیشیل سوراخ بنا کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا کہ ساری دُنیا محوِ حیرت بنی دیکھتی رہ گئی ۔  وہ میڈیکل کالج کا پہلا دن تھا ۔ جب Aegean Seaجزیرے کی دیوی صفت میڈم Shapphoنے انٹروڈکشن کے بعد مردوزن کے اسرار و رموز سے حیاتیاتی پردہ سرکاتے ہوئے ہارمونس پر اپنے لکچر کا آغاز کیا ’’ ہارمونس کی زیادتی سے جہاں ایک عورت کے اندر مرد کی خصلتیں در آتی ہیں ، وہیں کمی کے باعث ایک مرد میں عورت کی عادتیں بھی سرایت کر جاتی ہیں ۔ ‘‘ تب جیکسن کا ہاتھ سرکتا ہوا بغل میں بیٹھے ڈونالڈ کی جانگھوں کے درمیان جا کر ٹھہر گیا ۔ ڈونالڈ نے ترچھی نظروں سے بغل میں بیٹھے اُس پُر کشش چہرے والے ساتھی کو دیکھا اور ردِّعمل کے طور پر مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ۔  کلاس ختم ہوتے ہی دونوں پرنسپل چیمبر پہنچے۔  ’’اگر تمہارے روم پارٹنروں کو اعتراض نہ ہو تو میوچول انڈر اسٹینڈنگ کی...

جُولاہَن: ممتاز شارق، جمشیدپور

  جُولاہَن   ممتاز شارق، جمشیدپور                       پروفیسر رضیہ بیگم کواپنے اکلوتے بیٹے شاہد علی کے لئے ایک عرصہ سے جس لڑکی کی تلاش تھی وہ انہیں کے ویمنس کالج کے ایک سمینار کے دوران مل گئی۔ انکی متلاشی نگاہیں بی اے فائنل کی غزالہ بانو پر ٹک گئیں۔ غزالہ بانو کی تنظیمی صلاحیت، گروپ لیڈرشِپ کی اعلیٰ کوائلیٹی کے ساتھ ساتھ اسکی تقریر اور تحریر سے وہ بہت متاثر ہوئی تھیں۔انہیں جب معلوم ہوا کہ ٹاٹا اسٹیل کے چیف انجینئر سیّد امتیازالحسن کی یہ تیسری بیٹی ہے تو انہیں اور بھی تعجب ہوا کیوں کہ انکے گھر پرسیّد صاحب کی دونوں بڑی بیٹیوں کا رابیعہ کے ساتھ آنا جانا رہتا تھا۔ یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ غزالہ سے چھوٹی اُسکی دو اور بہنیں بھی ہیں۔ پانچ سال قبل جب غزالہ کی دوسری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی تو اُس وقت غزالہ غالبا ہائی اسکول کی طالبہ رہی ہوگی۔ ابھی تو ماشاء اللہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اتنی ذہین اور ہونہار ہے کہ بس اسے ہی لاکھوں میں ایک کہا جا سکتا ہے۔                     گھر آتے ہی رضیہ بیگم نے اپنے...

جنت والی چابی : ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ

   جنت والی چابی    ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ   وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221.                   امن کتابوں کا بستہ کندھے پر ڈال کر اسکول کی جانب نکل پڑا۔بس اسٹاپ پر پہنچ کر وہ دوسرے ہم مکتب ساتھیوں کی ٹولی میں شامل ہوکر بس کا انتظار کرنے لگا۔انتظار کا وقت کاٹنے کے دوران بچے آپس میں ٹھٹھے بازی کرنے میں مشغول تھے۔ بس اسٹاپ پر دوسرے لوگ بھی موجود تھے جن میں سرکاری ملازمین‘دکاندار‘مزدور اور دینی مدرسوں کے طالب علم وغیرہ بھی شامل تھے۔بس اسٹاپ توسبھی لوگوں کے لئے تھا لیکن عام طور پر دینی مدرسوں میں زیر تعلیم بچے اورفوجی اسکول کے بچوں کی ٹولیاں الگ الگ ہوتی تھیں۔ چونکہ امن کا والد بھی ایک فوجی افسر تھا اس لئے امن اور اس کا چھوٹا بھائی بھی شہر کے آرمی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔بس اسٹاف پر دونوں ٹولیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ قائم رہتا تھا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دوسرے بچوں کے بدلے آرمی اسکول کے بچے اسکول کی مخصوص گاڑی میں ہی اسکول جایا کرتے تھے۔آرمی اسکول کے بچے تو بلا تکّلف آپس میں ہنسی مذاق کرتے رہتے تھے اور جب ان کے ہنسنے کی آوازیں دوسرے لوگوں کے کانوں...