اور سرحد کھو گئی ؟ : محمدفرقان سنبھلی
محمدفرقان سنبھلی اور سرحد کھو گئی ؟
گلریز تیز تیز قدموں سے دیوانہ وار منزل کی طرف بڑھا چلا جا رہا تھا ۔ فراق یا ر میں اسکی حالت مجنوں سے کسی طور کم نظر نہیں آتی تھی ۔ بڑھی ہوئی داڑھی، پینٹ کے اوپرنیچا کرتا جسکے اوپری بٹن کھلے ہوئے تھے ۔ کافی عرصے سے نہیں تراشے گئے لمبے لمبے با ل جوہوا کے جھونکے سے اُتر کر اس کے ماتھے پر دراز ہو جاتے تو کبھی سائڈوں میں ڈھلک جاتے ۔ انہیں سنبھالنے کی فرصت اور خیال گلریز کے دماغ میں آہی نہیں رہا تھا ۔ چلتے چلتے وہ کتنا فاصلہ طے کر چکا ہے اسکی اسے خبر نہیں تھی لیکن اسے لگ رہا تھا کہ منزل اب دور نہیں ہے ۔ ’’اے نوجوان۔رکو۔۔۔کہاں جا رہے ہو ‘‘۔ایک کڑک آواز نے گلریز کو چونکا دیا تھا ۔ سامنے ایک فوجی اسکی طرف گن تانے کھڑا تھا ۔ ’’میں انار سے ملنے جا رہا ہوں صاحب ۔‘‘ گلریز نے بنا مرعوب ہوئے جواب دیا ۔’’انار۔۔۔۔کون انار؟‘‘’’میری منکو حہ ہے صاحب اُدھر‘‘۔ اس نے سامنے کچھ فاصلے پر بنے مکانات کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔’’کیا ۔۔۔۔۔وہاں ۔۔۔۔۔تم وہا ں نہیں جا...
اندھیرے کا سفر: مہتاب عالم پرویزؔ – کویت ANDHERE KA SAFAR : MAHTAB ALAM PERVEZ
اندھیرے کا سفر
مہتاب عالم پرویزؔ
کویت
شام کا دھندلکا اب آہستہ آہستہ تاریکی کی دبیز چادر میں چھپنے لگا تھا۔ وہ حسبِ معمول کالج سے لوٹ رہی تھی، کالج سے اِس کا گاؤں کافی دُور تھا اور یہ طویل راستہ اُسے پیدل ہی طَے کرنا پڑتا تھا، اس راستے سے سواری کا گزرنہ تھا۔ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں اور ناہموار راستے سے وہ تنہا گزرتی، گھاس کے فرش پہ اس کے پاؤں اٹھلاتے، وہ زندگی کے اُس دَور میں قدم رکھ چکی تھی جس میں چاند کا روشن چہرہ ہر وقت آنکھوں میں چمکتا رہتا ہے...اُمیدیں ستاروں کی طرح جھلملاتی ہیں۔ اس کے دل میں ایک نَو شگفتہ کلی قطرہ قطرہ شبنم کی ممنون ہونے لگی تھی۔ آکاش کی نیلی وسعتوں میں جب بھی کوئی شہباز اپنے پر پھیلائے منڈلاتا تو اس کے جی میں آتا کہ وہ خود سے بے خبر ہوجائے---اس کے اندر کوئی بے نام خواہش انگڑائیاں لینے لگتی، پھر یوں ہوتا کہ اس کے پاؤں لڑکھڑانے لگتے اُس کی سانسیں تیز ہوجاتیں ---
دِن بھر کا تھکا سورج واپس لوٹ چکا تھا۔ وہ اندھیرے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ اچانک اُسے کسی کی آواز سنائی دی۔...
افسانہ…… محمد حنیف خان ” بوڑھا کنواں "
افسانہ محمد حنیف خان بوڑھا کنواںیہ بوڑھا کنواں دومعصوم جانوںکی قبر گاہ ہے ،جب زمانہ نے دو دلوں کو دور کرنا چاہاتو اسی بوڑھے کنویں نے انکو اپنی آغوش میں جگہ دی اور اس طرح دی کوئی جان بھی نہ سکا کہ لاش کس طرف ہے ،اور شایدیہ دو دلوں اور دو پیاسی روحوں کی محبت کاہی اثر ہے جو اس کنویں کے پانی میں بھی الفت و محبت اس طرح سرایت کر گئی کہ آج بھی عورتیں اپنے خفا شوہروں کوبلانے کے لئے اس بوڑھے کنویں کے پانی کا استعمال کرتی ہیں اور کامیاب بھی ہوتی ہیں۔معلوم نہیںکب ،اور کس نے اس کو کھودا یاکھدوایا تھا؟اب اس کے جگت پرلگی اینٹیںبھی گھس چکی ہیں ،بالکل انسان کی زندگی کی طرح ،مگر معلوم نہیںکتنے انسانوںکی زندگی ختم ہوئی اور وہ سیراب ہوئے تب اسکی اینٹیںاتنی گھسی ہیں،اس نے معلوم نہیں کتنے انقلابات دیکھے ،اور کتنی عشق ومحبت کی کہانیوںکا گواہ بنا،لیکن یہ ایسے ہی رہا،ہاں بچے جوان ہوئے جوان بوڑھے اور بوڑھے راہئی ملک عدم ،اوریہ تمام وسعتوں اور گہرائیوںکے ساتھ اپنی بوڑھی آنکھوںسے گردش زمانہ دیکھتااور اندیکھے کیمرے میں قید کرتا رہااس کا یہ عمل معلوم نہیں کب سے جاری ہے ،یہ پیدا بوڑھا تو نہیں ہوا تھا مگر جب سے...
اعتبار- احتیاطی تدبیر- بھرم: ناصر ملک
اعتبار
ناصر ملک
"چندا! آج میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے کہ میں نے تمہیں فتح کر لیا ہے۔ فتح کرنے کی فلاسفی بھی بہت عجیب ہے۔ فتح کرنا درحقیقت فتح ہونا ہے۔ میں نے تمہیں اور تم نے مجھے فتح کر لیا اور شبِ وصال کو ہمارا مقدر کر دیا۔ فتح کے بعد رگ و پَے میں اترنے والی تھکن نشہ کا مقام رکھتی ہے۔ میں نشے میں ہوں۔ تم نشے میں ہو۔ یہ کمرہء عروسی عشق کا مے کدہ ہے۔ یہ ہاتھ جامِ جہاں ہیں اور خراجِ عشق کو مے کا کردار سونپا گیا ہے۔ کیا تم میری کسی بات سے اختلاف کرو گی؟" سرخ کامدار عروسی گھگرے میں اثباتی ہل چل ہوئی۔ " چندا! ہمارا ملن خدا نے لکھا تھا۔ لکھے پر یقین آ گیا۔ میں لاہور کا باسی ہوں۔ تمہارا خمیر شجاع آباد کی مٹی سے اٹھا ہے۔ میں نے آج تک شجاع آباد اور تم نے لاہور نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود ہمارا عشق نہ صرف تخلیق پایا بلکہ تشکیل و تکمیل...
اعتبار : ناصر ملک
اعتبار
ناصر ملک
"چندا! آج میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے کہ میں نے تمہیں فتح کر لیا ہے۔ فتح کرنے کی فلاسفی بھی بہت عجیب ہے۔ فتح کرنا درحقیقت فتح ہونا ہے۔ میں نے تمہیں اور تم نے مجھے فتح کر لیا اور شبِ وصال کو ہمارا مقدر کر دیا۔ فتح کے بعد رگ و پَے میں اترنے والی تھکن نشہ کا مقام رکھتی ہے۔ میں نشے میں ہوں۔ تم نشے میں ہو۔ یہ کمرہء عروسی عشق کا مے کدہ ہے۔ یہ ہاتھ جامِ جہاں ہیں اور خراجِ عشق کو مے کا کردار سونپا گیا ہے۔ کیا تم میری کسی بات سے اختلاف کرو گی؟" سرخ کامدار عروسی گھگرے میں اثباتی ہل چل ہوئی۔ "چندا! ہمارا ملن خدا نے لکھا تھا۔ لکھے پر یقین آ گیا۔ میں لاہور کا باسی ہوں۔ تمہارا خمیر شجاع آباد کی مٹی سے اٹھا ہے۔ میں نے آج تک شجاع آباد اور تم نے لاہور نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود ہمارا عشق نہ صرف تخلیق پایا بلکہ تشکیل و تکمیل بھی پا گیا۔ اس کے لیے میں جی جان سے فیس بک کا شکرگزار ہوں جس نے ہمارا نہ صرف تعارف کرایا، بلکہ ہمیں وصال کی اس دولت...
ابّو نمبر وَن : اشتیاق سعید
ابّو نمبر وَناشتیاق سعیدE-Mail : ishtiyaquesaeed@rediffmail.com وہ گہری نیند سورہی تھی کہ اچانک سیل فون گھنگھنایا۔وہ چونک کر اُٹھ بیٹھی ۔کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا ، صبح کے چار کا عمل تھا۔ پھر فون اُٹھا کر دیکھا تو اسکرین پر اُس کی اپنی سولہ سالہ بیٹی نازنین کا نام فلیش ہورہا تھا۔اُس کے چہرے پر تشویش کا سایہ لہرانے لگا تاہم وہ کال ریسیو کرنے سے قبل اپنے پہلو میں لیٹے شخص کا بھر پور جائزہ لینے لگی ،جس کے مدھم مدھم خراٹوں کی گونج گھوڑا بیچ کر سونے والے محاورے کی دلیل پیش کر رہے تھے۔جب اُسے مکمل طور پر اطمینان ہوگیا کہ اس کے پہلو میں موجود شخص دُنیا و ما فیہا سے بیگانہ ہے تو اس نے سیل فون کا گرین بٹن آہستہ سے دبا دیا اور فون کو کان سے مَس کرتے ہوئے غالباً سر گوشی والے انداز میں کہا۔ ’’ بول نازو ‘‘۔’’امّی ۔۔۔کہاں ہو تم ؟ جلدی گھر آؤ‘‘۔ مخالف سمت سے گھبرائی ہوئی آواز گونجی۔’’ کیوں ؟ بات کیا ہے ؟‘‘ ۔ اُس کا چہرہ سراپا سوال بن گیا۔’’ ارے بابا ۔۔۔ابّو آئے ہیں ‘‘۔ نازنین کی آواز میں جھنجھلاہٹ در آئی تھی۔’’ابّو ؟؟ بیٹا ابّو تو میرے ساتھ ہیں ‘‘۔ وہ...
اِبتدا اُسی کہانی کی…. : مہتاب عالم پرویزؔ IBTEDA USI KAHANI KI…… MAHTAB ALAM PERVEZ
اِبتدا اُسی کہانی کی .......
مہتاب عالم پرویزؔ
کویت
E - Mail mahtabalampervez@gmail.com
٭ وہ رات، بڑی عجیب تھی۔
اندھیرے میں ڈوبی ہوئی، ہوا کی سرسراہٹوں کا مسلسل احساس، اور ایک عجیب بے یقینی کی کیفیت میں ڈوبا تیز تیز چلتا ہوامیں --- تھم جاتا چل پڑتا، کبھی آہستہ، کبھی تیز کہ دفعتاجیسے ہواؤں کے دوش پہ رقصاں میرا جسم تھم گیا--- بالکل اس طرح جیسے ہوا ُپرسکوت ہوگئی ہو--- ایک عورت میرے سامنے کھڑی تھی۔
مَیں فورا گھبراکر پیچھے ہٹ گیا۔
”کون ہو تم، اور یہاں اتنی رات گئے، کیا چاہتی ہو۔“
”کچھ نہیں میرے ساتھ آؤ۔“
مَیں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا، چلتے چلتے یکایک محسوس ہوا کہ آبادی سے دُور نکل آیا ہوں اور ایک گلیارہ مجھے اس مقام تک لے آیا، یہ مقام کیا ہے، اجاڑ اور ویران...
خوف کا پرندہ میری رگوں میں پرداز کرنے لگا۔
وہ چل رہی تھی۔ مَیں بھی چلتا رہا... اب اس کے قدم ایک مکان کی جانب اُٹھ رہے تھے۔ مکان کیا تھا دُنیا اور دنیا والوں سے بچاؤ کی ایک سبیل تھی۔صرف ایک کمرے سے روشنی جھانک...
آہ …… گلفشاں شبیر AAH…… GULFASHAN SHABBIR
آہ ...... گلفشاں شبّیر کبیر نگر ، جمشیدپور سنسان سڑ ک تھی ۔میں وہاں تنہا کھڑی تھی بارش کا موسم تھا بجلی کڑک رہی تھی میں اپنی سواری ’’ بس ‘‘ کا انتظار کر رہی تھی۔ شاید کہ میر ی بس بھی چھوٹ چکی تھی میں بہت پریشان حال پیدل سڑک پر چلنے لگی ، بارش کا فی تیز تھی سڑک پر دور ، دور تک کو ئی مسافر نظر نہیں آرہا تھا ، میں ڈری سہمی چل رہی تھی تھوڑی دورچلنے کے بعد سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی کٹیا دکھائی دی ، میں بہت حیر ان وپریشان تھی کہ سنسان جگہ پر یہ کٹیا جس سے کسی کے کراہنے کی آواز آرہی تھی میں یہ آواز سن کر کافی بے چین ہو گئی اور میر ے قدم خو د بخود اس کٹیا کی طرف چل پڑے ، لیکن کٹیا کے قریب جاکر میں کشمکش میں پڑ گئی کہ اندر جاؤں یانہ جاؤں ، کافی ہمت کر کے میں اندر گئی تو دیکھاکہ ایک بوڑھی سی عورت اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کی فریاد کر رہی ہے ، شا ید وہ عورت بے ہوشی کے عالم میں ایک ہی رٹ لگا رہی...
آنگن کا پیڑ : شموئل احمد
شموئل احمد آنگن کا پیڑ دہشت گرد سامنے کا دروازہ توڑ کرگھسے تھے اور وہ عقبی دروازے کی طرف بھاگا تھا ۔ گھر کا عقبی دروازہ آنگن کے دوسرے چھور پر تھااور باہر گلی میں کھلتا تھا ،لیکن وہاں تک وہ پہنچ نہیں پایا ....آنگن سے بھاگتے ہوئے اس کا دامن پیڑ کی اس شاخ سے اُلجھ گیا جو ایک دم نیچے تک جھک آئی تھی....یہ وہی پیڑ تھا جو اس کے آنگن میں اُگا تھا اور اس نے مدتوں جس کی آبیاری کی تھی....لیکن بہت پہلے....بہت پہلے پیڑ وہا ں نہیں تھا ۔ تب وہ بچپن کے دن تھے اور اس کی ماں آنگن کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتی تھی اور جنگل جھاڑ اُگنے نہیں دیتی تھی ۔لیکن ایک دن صبح صبح اس نے اچانک ایک پودا اگاہوا دیکھا تھا۔ پودا رات کی بوندوں سے نم تھا ۔ اس کی پتیاں باریک تھیں اور ان کا رنگ ہلکا عنابی تھا ۔ اوپر والی پتّی پر اوس کا ایک موٹا سا قطرہ منجمد تھا۔ اس نے بے اختیار چاہا اُس قطرے کو چھو کر دیکھے .....ہاتھ بڑھایا تو انگلیوں کے لمس سے قطرہ پتّی پر لڑھک گیا ....اس نے حیرت...
آقا : جہانگیر محمد
افسانہ (آقا)جہانگیر محمد
* وہ ایک خاردار جھاڑ تھا اس کی نشود نما یوں ہوئی تھی، نہ پھل نہ پھول اور نہ چھاؤں ہیبت ناک اُس کے تنے پر کانٹے ہی کانٹے تھے ہیبت کریہہ اُس کے تمام پتّے، تنے اور جڑ کانٹے سے بھرے ہوئے تھے۔بن موسم بن برسات اور بن کھیتی اُگ آئے تھے یہ پودے.........جب میں نے اُس کی باغبانی اور حُسن ترتیب کے لئے چھوا تو حیران رہ گیاپھر میرا ہاتھ زخمی ہوا اور بہت دیر تک ہمارا قلم لہو لہان ہوا.......اُس کا نام حَکم آزاد تھا۔ اس کی ریشہ دوانیاں اورنکتہ چینیاں دل آزاری کا سبب تھیں اور جس کا وہ ایک مکمل باب تھا۔ سارے کرتوت اولجلول حرکتیں اس کی عادت میں شمار تھیں اکثر نا مناسب جملے گڑھنا اُس کا شیوہ تھا۔اُس کی جاہلانہ حر کت سے پڑھے لکھے لوگ بھی نالاں تھے ایسی اُچھی حرکتوں پر بھی وہ خوش فہمی کا شکار رہتاتھا۔ دراصل وہ عُجب کا مریض تھا۔وہ اپنی آبادی کا نہایت ہی ظالم اور بد دماغ شخص تصورکیا جاتا تھا کوئی بھی اُس سے خوش نہیں تھا۔ کبھی اُس کی زبان سے سماج نے نرم کلام اور خوبصورت جملے نہیں سُنے تھے۔ اُس...
آسیب : شاہین خان
کچھ دنوں پہلے جب مہتاب عالم پرویز نے یہ اطلاع دی تھی کہ’’عالمی پرواز‘‘کے نام سے میں ایک اردو پورٹل لاؤنچ کررہا ہوں تو میں نے اس خبر کو سرسری طور پر لیا تھا پر کچھ دنوں کے بعد ہی یہ بات حقیقت کا روپ دھار کر میرے سامنے مجسم ہو گئی اور میں اس وقت بھی جب میں نے اس خبر کو عام سمجھاتھا کہیں نہ کہیں میرے دل کے نہاں خانوں میں یہ بات ضرور تھی کے یہ مہتاب عالم پرویز ہیں جو اپنی ضد سے راہ میں آنے والی ساری مشکلوں کو ،رکاوٹوں کو ہموارکرکے اپناایک الگ مقام بنانا جانتے ہیں..............۔مہتاب عالم پرویز ایک منجھے ہوئے افسانہ نگارہیں جنہوں نے جھارکھنڈ میں محترم جناب اسلم بدر کے ذاتی ویب سائٹ کے بعد پہلی بار اردو ادب کی خدمت کے لئے اپنا اردو پورٹل لاؤنچ کیا ہے.......منزل کبھی بھی کسی کو اتنی آسانی سے نہیں ملتی ہر راہ پر لوگوں کی تمسخرانہ نگاہیں، طنزیہ باتیں قدموں کو ڈگمگانے کے لئے تیار رہتی ہیں پر جس کے دل میں منزل کو پانے کی سچی لگن اور جس کی فطرت میں جدوجہد کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہو وہ اپنی معراج کو پا ہی لیتا ہے۔ میری دعا ہے کہ...
آخری پرواز : مہتاب عالم پرویزؔ ( کویت ) AAKHRI PARWAZ – MAHTAB ALAM PERVEZ
آخری پرواز
مہتاب عالم پرویزؔ ( کویت )
٭بجلیاں کوند رہی تھیں۔ کبوتر کا ایک خوبصورت جوڑا کسی گھونسلے کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ شام رات میں تبدیل ہوچکی تھی۔ اندھیرے کی گھنی چھاؤں اور خاموشی!
وہ دونوں کافی سہمے ہوئے تھے۔ اور اپنے بکھرے ہوئے گھونسلے میں اپنی اپنی گردن سکوڑے مستقبل کے سنہرے خواب بن رہے تھے۔ بھوک اور پیاس کی شدّت سے وہ نڈھال ہورہے تھے۔ دونوں پژمردہ سے، خاموشی کی چادر میں لپٹے، چونچ سے چونچ ملائے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے، اُن کے چہروں پر بیک وقت غم، پریشانی اور خوشی کے جذبات ہلکورے لے رہے تھے۔
گھپ اندھیرا--- رات کا سنّاٹا، اور رات بھی خود اپنی ہیبت سے سہمی ہوئی تھی۔ ویران درختوں کی شاخوں سے لٹکی ہوئی چمگادڑیں ماحول کی نحوست میں اضافہ کررہی تھیں۔ کبھی کبھی اِس ہولناک سنّاٹے میں بہت سارے پرندوں کے پر پھڑپھڑانے کی آوازیں خاموشی کا سینہ چاک کردیتیں۔
رات کالامتنا ہی اندھیرا اپنے جو بن پر تھا۔ کہیں دُور مسجدوں سے ’اللہ اکبر‘ کی...
آٹو گراف پلیز: چوہدری محمد بشیر شاد
افسانہ
آٹو گراف پلیز چوہدری محمد بشیر شاد
۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو صوفیہ ، کب سے گھنٹی بجا رہی ہوں ۔۔۔ آ رہی ہوں، کیوں شور مچا رکھا ہے ۔۔ ؟ اندر آ جاو ، ہر وقت جلدی ۔۔ بات جلدی کی نہیں ، ابھی جولی کو بھی ساتھ لینا ہے ،وہ پہلی بار ہمارے ساتھ جا رہی ہے اسے فون پہ میں نے بتا دیا ہے کہاں جانا ہے اور کس وقت تک وہاں پہنچنا ہو گا تم تو ابھی تیار بھی نہیں ہوئی ہو،یار بہت لا پرواہ ہو تم ۔۔ میں تمہاری طرح نہیں گھنٹوں آئینہ کے سامنے سج دھج میں وقت ضائع کروں ،دیکھنا پانچ دس منٹوں میں تیار ہو کے تمہارے آگے آگے ۔۔۔ ہاں ہاں لیڈری کا شوق جو ہوا ، آگے آگے تو چلو گی۔ چلو باتیں کم کرو اور جلدی تیار ی پکڑو نادیہ۔۔ ہاں کہو ۔۔ پروگرام کی ٹکٹوں کا بندوبست ہو گیا ہاں ہو چکا ،لیکن بڑی مشکل سے ملی ہیں ،پچھلی سیٹوںکی ضرورت تو مجھے تھی نہیں ۔۔ ہاں جی پچھلی سیٹوں پر سے اسٹیج تو نظر آتی نہیں اور آپ ہیں مس نادیہ دی گریٹ۔۔ ہم گریٹ کہاں ، گریٹ تو وہ ہے...
آئیڈیل IDEAL: مہتاب عالم پرویزؔ MAHTAB ALAM PERVEZ
آئیڈیل
مہتاب عالم پرویزؔ
(کویت)
وہ اُسے برابر دیکھا کرتا ہے۔
سُورج جب اُفق کے میلے آنچل میں اپنا چہرہ چھپانے لگتا تو وہ آتی ہوئی دِکھائی دیتی ہے۔ وہ گھنے درختوں کے درمیانی راستوں سے گذرا کرتی ہے۔
وہ اُسے برابر دیکھا کرتا ہے۔
انسان جب کسی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے تو اُس کو اپنے اندر سمولینا چاہتا ہے۔ وہ بھی اُس کی چال پر مرمٹا۔ اس کے جسم کی آگ میں کتنی ہی لڑکیاں جھلس چکی تھیں پر آج بھی وہ آگ ویسے ہی بھڑک رہی ہے۔
سُورج کو رات نگل گئی۔
جب سانسوں کی تیز رفتار نارمل ہوئی تولڑکی نے کہا۔
”مجھے کپڑے پہنادو۔“
”کیا تم خود نہیں پہن سکتی۔“
”نہیں مَیں نہیں پہن سکتی۔“
”کیوں؟“
”اِس لیے کہ میرے پاس ہاتھ نہیں ہیں ...“
”تمھارے ہاتھوں کو کیا ہُوا؟“
”اِن میں کوڑھ ہے۔“
انسان جب کسی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے تو اُس کو اپنے اندر سمولینا چاہتا ہے۔
وہ اب بھی اُسے دیکھا کرتا ہے۔ ...
"مانگ” : انس اقبال احمد (لاہور)
"مانگ" انس اقبال احمد (لاہور) annas_iqbal@yahoo.com
ساری زندگی اس نے یوں ہی گزار دی تھی۔ بغیر کسی مقصد کے ۔۔۔بغیر کسی تمنا کے!!! وہ چلتا تو یوں لگتا کہ بس ہوا کے دوش پہ کوئی تنکا تیرتا جا رہا ہے۔۔۔اڑتا جا رہا ہے‘ کبھی دائیں تو کبھی بائیں ۔۔۔کبھی ترچھا تو کبھی گھومتا۔۔۔دیکھنے والوں کو یوں ہی لگتا جیسے کھڑکی کی چوکھٹ پہ کسی کپڑے سے ادھڑا ہوا کوئی دھاگہ اڑا ہو۔۔۔جو ہوا کے زور سے کبھی ادھر کبھی ادھر زور لگاتا ہے مگر اپنی سطح نہیں چھوڑ پاتا۔اسی طرح وہ بھی اپنے قدموں کو کبھی اکھڑنے نہیں دیتا تھا۔۔۔عجیب سا سکوت تھا اس میں۔۔۔عجیب سی یکسانیت تھی۔مگر اسی یکسانیت میں اس کی زندگی چل رہی تھی۔ ایم اے کیا تھا اس نے۔۔۔ وہ بھی انگریزی میں۔سیدھا سیدھا پڑھتا رہا اور ایک جیسے گریڈز میں ساری دہلیزیں پار کر دیں۔اور سیدھا ایک جیسی رفتار سے چلتا ہوا ایک کالج میں لیکچرر بھی تعینات ہو گیا‘ اور اب اسی رفتار سے اسو سی ایٹ پرو فیسر کی پوزیشن حا صل کر لی تھی۔ حالانکہ اس بشر کے لوگ جو نمایاں نہیں ہوتے۔۔۔کسی گروپ کا حصہ نہیں ہوتے، کسی اچھے مقام تک جلدی پہنچتے...
"پردیس ” فوزیہ اختر ردا ، کولکاتا – PARDES: FAUZIA AKHTAR RIDA – KOLKATA
افسانہ
"پردیس "
فوزیہ اختر ردا ، کولکاتا
PARDES
FAUZIA AKHTAR RIDA - KOLKATA
"اماں ! ایک خوشخبری ہے۔۔۔۔۔!!" ہر ہفتہ کی طرح اِس اتوار کو بھی عون اسکائپ پر اپنی ماں سے گفتگو میں مصروف تھا "اچھا۔۔۔۔۔!! تیری تنخواہ بڑھ گئ ہے کیا جو اتنا خوش نظر آ رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟"سعیدہ بیگم نے اپنے تئیں درست اندازہ لگانا چاہا "اِس سے بھی بڑی خبر ہے اماں! سنیں گی تو خوشی سے اچھل پڑیں گی آپ۔۔۔۔۔" عون نے مسکراتے ہوئے کہا "پہیلیاں کیوں بجھوا رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟ کیا قندیل کے لئے کوئ اچھا رشتہ مل گیا ہے؟" قندیل عون کی چھوٹی بہن تھی جس کے رشتے کے لئے سعیدہ آجکل کافی پریشان تھیں۔ وہ گریجویشن کے بعد ٹیچر ٹریننگ کا کورس کر رہی تھی۔ "اِس بار میں مستقل طور پر گھر آ رہا ہوں اماں۔۔۔۔۔! وہیں کانپور میں اپنا بزنس شروع کرونگا۔۔۔۔۔" عون خوشی سے لبریز لہجے میں بولا "لیکن تُو نے پہلے بتایا نہیں۔۔۔۔۔؟؟" سعیدہ یہ خبر سن کر تقریبا سکتے میں آ گئ "آپ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔!!" عون کی آنکھوں میں جھلملاتی خوشی سعیدہ کی آنکھوں سے اوجھل رہی تھی "یہ خبر سن کو آپ بھی چکرا گئیں نا۔۔۔۔۔!! فلائٹ ٹکٹ کنفرم ہوتے ہی خبر کرونگا۔۔۔۔۔" عون اپنی خوشی میں...
” قطب مینار’’ : پیغام آفاقی
"قطب مینار’’
پیغام آفاقی
میں دروازے کے اندر داخل ہوا تو سامنے قطب مینار تھا جو قوت الا سلام مسجد کا ایک ایسا بچا ہوا انگ ہے جو کافی حد تک سالم ہے۔ مسجد کا باقی جسم کئی صدیوں کے گزرنے کے دوران کمزور ہونے کی وجہ سے گر تے گرتے لگ بھگ کھنڈروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔اسی احاطے میں گھومتے ہوئے مجھے وہ ادھورا مینار دکھائی دیا جو تو دے کی شکل میں تھا۔ یہ مینار علاؤالدین خلجی نے بنوانا شروع کیا تھا۔ اس کے ذہن میں ابھر کر آسمان چھوتا ہوا تصور پوری طرح مجسم ہونے سے رہ گیا تھا۔ لیکن یہ سین آم کی کسی ایسی گٹھلی کی طرح لگ رہا تھا جس میں انکور ایک لمبی سانس روکے اس موسم کے انتظار میں ہو جو اس کی معنویت اور چہرے کو پہچانتا ہو۔وہ تو دہ سامینار وہاں جوں کا توں تھا، جب کہ اس کے روبرو کھڑے قطب مینار کا اوپری حصہ ٹوٹ کر کہیں تاریخ کے ملبے میں گر گیا تھا۔ یہ نامکمل مینار جس کا قدصرف ساڑھے چوبیس میٹر ہے، اس کے نقشے کا تصور کرتے ہوئے اس کی اندرونی عظمت ہمارے تخیل کے اندر...