اسلم جمشید پوری
اے میرے قلم!
اے میرے قلم، تم کہاں ہو۔۔؟
دوات نے ایک آہِ سرد بھر کر قلم کو یاد کیا۔
’’ میں تمھاری دوات ہوں،تمھارے بغیر نا مکمل۔۔۔۔،
بلکہ ہم دونوں کی تخلیق ایک دوسرے کے لئے ہی ہوئی ہے تا کہ۔۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اے قلم ، اب تو آ جاؤ، کہاں ہو تم ؟
آؤ مجھ میں ڈوب جاؤ
ابھرو اور پھر ڈوب جاؤ
آؤ ، میرے قلم آؤ
ہمارا وصال ،وجہِ تخلیق ہے۔
وجودِازل وابد ہے۔
تصویرِ کائنات میں رنگ و بو ہے۔
تخلیق ، زندگی
تخلیق ، زندگی کا نگار خانہ
تخلیق ، نفوس کی شرح میں اضافہ
نفوس کا جمِ غفیر کائنات کے حسن کا با عث ہے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ سب!!!
اے میرے قلم تمھارے بغیر نا ممکن ہے۔
آ جاؤ ، مجھ میں سما جاؤ
اور تحریر کی ، تخلیق کی ،شروعات کرو
کہ لفظِ کن کی صدا بلند ہو نے والی ہے۔
ایک نئی کائنات وجود میں آنے کو ہے۔
۔۔۔۔۔۔
زہر
’’حضرت! ا لسلام علیکم ورحمتہ اللاہ وبرکاتہ ‘‘
ایک عقیدت مند نے ایک بڑے مدرسے میں داخل ہو کر معروف عالمِ دین حضرت مولانا ارقم شاہ جالندھری کی خدمت میں باادب سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔۔اللاہ تمہیں سلامت رکھے۔کہو کیسے ہو۔‘‘
’’ حضرت میں بخیر ہوں۔ آپ کی دعاؤں سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی ہے۔بعد نمازِ جمعہ اس کا افتتاح ہے آپ کے دستِ مبارک سے چاہتا تھا، لیکن آپ کی طبیعت کے پیشِ نظر درخواست ہے کہ مولوی فرقان انصاری کو بھجوا دیتے تو کرم ہوتا۔‘‘
’’ مولوی فرقان ہی کیوں مولانا سبحان قاسمی کو بھیج دیتا ہوں وہ دعا کرا دیں گے۔‘‘
’’حضور مولوی فرقان آ جاتے تو۔۔۔۔، ویسے جو آپ کی مرضی۔۔۔‘‘
’’نہیں ،نہیں ایسی کوئی بات نہیں مولوی فرقان چلے جائیں گے ۔کوئی خاص بات ہے کیا۔‘‘
’’ شکریہ حضور ، کچھ خاص نہیں ،بس وہ اپنی ہی برادری کے ہیں اور کوئی بات نہیں!! ‘‘
****
اسلم جمشید پوری
fulltext