Skip to main content

Aalamiparwaz

                   اعتبار           

         ناصر ملک


                         "چندا! آج میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے کہ میں نے تمہیں فتح کر لیا ہے۔ فتح کرنے کی فلاسفی بھی بہت عجیب ہے۔ فتح کرنا درحقیقت فتح ہونا ہے۔ میں نے تمہیں اور تم نے مجھے فتح کر لیا اور شبِ وصال کو ہمارا مقدر کر دیا۔ فتح کے بعد رگ و پَے میں اترنے والی تھکن نشہ کا مقام رکھتی ہے۔ میں نشے میں ہوں۔ تم نشے میں ہو۔ یہ کمرہء عروسی عشق کا مے کدہ ہے۔ یہ ہاتھ جامِ جہاں ہیں اور خراجِ عشق کو مے کا کردار سونپا گیا ہے۔ کیا تم میری کسی بات سے اختلاف کرو گی؟”
                          سرخ کامدار عروسی گھگرے میں اثباتی ہل چل ہوئی۔
”                         چندا! ہمارا ملن خدا نے لکھا تھا۔ لکھے پر یقین آ گیا۔ میں لاہور کا باسی ہوں۔ تمہارا خمیر شجاع آباد کی مٹی سے اٹھا ہے۔ میں نے آج تک شجاع آباد اور تم نے لاہور نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود ہمارا عشق نہ صرف تخلیق پایا بلکہ تشکیل و تکمیل بھی پا گیا۔ اس کے لیے میں جی جان سے فیس بک کا شکرگزار ہوں جس نے ہمارا نہ صرف تعارف کرایا، بلکہ ہمیں وصال کی اس دولت سے بھی مالا مال کر دیا۔”
گھگرے کے اندر کہیں سانس کی ڈوری جذبات کی آنچ پر سلگ کر سمٹنے لگی۔
”                   چندا! میں شاعر ہوں، مجھے دنیا سے رابطوں کی بہرحال ضرورت ہے ، اس لیے فیس بک کو ذریعہ تشہیر بنانا میری مجبوری ہے۔ سو میں اس کو بادلِ نخواستہ استعمال کرتا رہوں گا۔ تم اب نئی زندگی گزارنے جا رہی ہو۔ ابھی ناپختہ ہو۔ فیس بک کی چیپ رومانوی دنیا تمہیں خراب کر دے گی۔ اس لیے نئی اور پر اعتماد زندگی گزارنے کے لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس رات کی تھکن کو بدن میں سجائے ہم دونوں اُٹھیں، لیپ ٹاپ کھولیں اور تمہارا اکائونٹ بند کر دیں۔کم آن ! "
                   گھگرا سرسرایا۔ اسی سرسراہٹ میں سسکی کی مدھم سی آواز دب گئی۔
                 گگگگگ

 

 

               احتیاطی تدبیر

              ناصر ملک

 

                 "آپی! کیا تمہیں یہ پریشانی لاحق ہے کہ تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے؟”

"نہیں شانو! یہ تو اللہ کی دین ہے۔جو کام میرے اختیار میں نہیں تھا، اس کے نہ ہونے پر پریشانی کیسی؟”
"تو پھر؟”
             آپی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ شانو نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا جو کسی بھی جذبے کا تاثر لیے بغیر اپنی دیورانی پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کی دیورانی برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی اپنے لختِ جگر کو دودھ پلا رہی تھی۔
"آپی! کیا تمہیں یہ پریشانی ہے کہ تمہاری دیورانی کے ہاں بیٹا ہے اور تمہارے ہاں بیٹی؟”
اپنی آپی کا انکار میں سر ہلتا دیکھ کر وہ قدرے زِچ ہو کر بولی، "پھرکیا ہے؟ میں جب سے آئی ہوں، تمہیں ایسے ہی گم سم دیکھ رہی ہوں۔ کچھ تو ہے جو تم اپنی چھوٹی بہن سے بھی چھپا رہی ہو۔”
"شانو! تم ابھی کم عمر ہو۔ ناسمجھ ہو۔ میرا دکھ نہیں سمجھ سکتی ہو ، اس لیے خاموش رہو۔”
"مانا کہ میں آپ سے چھوٹی ہوں آپی مگر کیا یہ طے ہے کہ میں ناسمجھ بھی ہوں؟”
آپی نے ہنکارا بھرا ۔ اس کے لبوں سے آہ بھی خارج ہو گئی، "شانو! پریشانی کی بات یہ ہے کہ تمہارے بہنوئی صاحب اپنے بھائی سے بہت محبت کرتے ہیں۔”
شانو نے حیرت سے اپنی آپی کو دیکھا۔ ایسے ہی وقت میں چارپائی چرچرائی۔ آپی کی دیورانی بچے کو لٹا کر برآمدے سے نکل رہی تھی۔ اس نے اَن دھلے کپڑوں کی گٹھڑی اُٹھا رکھی تھی۔
"ان کی محبت سے تمہیں کیا تکلیف ہے آپی؟”
آپی نے شانو کو ان نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ، "اسی لیے تو تمہیں میں نے ناسمجھ کہا تھا!”
بولی، "شانو! کل میری بیٹی جوان ہو گی اور اس کے ابو میری سنے سمجھے بغیر اس کو اپنے بھائی کی بہو بنا دیں گے۔ بیٹی ہے، آج پیدا ہوئی، کل پیروں پر، پرسوں منڈیر پر ۔۔۔ جوان ہوتے کیا دیر لگتی ہے۔”
شانو چند لمحوں تک حیرانی سے اپنی آپی کو دیکھتی رہی پھر ہولے سے اٹھی، برآمدے میں گئی اور بچے کو ہلا جلا کر رلانے لگی۔ جب وہ رونے لگا تو اسے اٹھا کر آپی کے پاس لائی اور قدرے اونچی آواز میں بولی، "بچہ ہے، دودھ کیلئے رو رہا ہے۔ اس کی ماں کہیں باہر گئی ہے، اسے اپنا دودھ پلا کر خاموش کرادو آپی! بچہ روئے تو میرے دل کو کچھ کچھ ہونے لگتا ہے۔۔۔۔”
چند لمحوں بعد بچہ اپنی چچی کی چھاتی میں منہ گھسوڑے پچک پچک کر کے دودھ پی رہا تھا۔

 

 

        بھرم

        ناصر ملک

 
           "بابا!رات ہو گئی ہے اور پانی بہت چڑھ آیا ہے۔ کسی بھی وقت مکان ٹھاہ ٹھاہ گرنے لگیں گے۔ کچھ کر۔”
"کیا کروں؟ وہی جو تم سب گائوں والے کہتے ہو؟نہیں۔میں ایسا نہیں کر سکتا۔بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔ "
"کیا ہم سب کو مارنے کا اِرادہ ہے تیرا؟ "
"تو کیا میں تم لوگوں کو پچھلا بند توڑنے کی اجازت دے دوں؟دنیا کیا کہے گی کہ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میں نے فریدن کو لوڑھ دیا؟ نہیں گودا! بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔”
"ہاں بابا! ورنہ سارا گائوں ڈھیہہ جائے گا۔”
"اور بے چارے فریدن اور اس کے خاندان کا کیا بنے گا جو بند کے سامنے بیٹھے ہیں؟ وہ چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ مال ڈنگر لے کر نکل بھی نہیں سکتے۔ بند توڑا تو پانی کا ریلا ان کو آنکھ جھپکتے میں بہا لے جائے گا۔”
"بابا! اپنے سالے کی خیر نہ مانگ، اپنے گھر اور گائوں کا بھلا سوچ۔پورا گائوں باتیں بنا رہا ہے۔ تیرے خلاف بولتا نہیں اور تو الٹے سیدھے حکم چلاتا رہتا ہے۔”
"نہیں! کوئی اور حل سوچو تم لوگ۔ پچھلا بند میرے جیتے جی نہیں توڑا جائے گا۔”
وہ پھنکارتا ہوا چلا گیا۔ اس کے ساتھ آئے ہوئے سبھی رخصت ہو گئے۔ بابا پلٹا اور گھر داخل ہوا۔ ڈیوڑھی میں اس کی بیوی منتظر تھی۔ اس کی آنکھوں میں اپنے تاجدار کیلئے فخر اور ستائش بھری ہوئی تھی۔
"ہاہ! اب میں گائوں والوں کے پیچھے لگ کر فریدن کا گھر ڈھاہ دوں؟بھائیوں کا بھرم بھی کوئی شئے ہوتی ہے۔” اس نے گردن اکڑا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور تیز تیز قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔
گائوں والے رات بھر جاگتے رہے مگر ان کی توقع کے مطابق پانی گائوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ خوشی آمیز تعجب آنکھوں میں لیے فجرکے نمازیوں نے گائوں کی نم گلیوں کو اخیر تک دیکھا۔ پانی گائوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔
گائوں والے اپنا گائوں سنبھال رہے تھے جبکہ بابا پچھلے بند کی طرف منہ کیے مغموم کھڑا تھا۔ اس کے تھکے چہرے کی جھریوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اس چوری کا کھرا بھی موجود تھا جو اس نے رات کے پچھلے پہر کی تھی۔
رات کو چوروں کی طرح بند پر کسی چلاتے ہوئے اس کے کانوں میں بپھرے ہوئے پانی کا غیظ ناک شور بھر گیا تھا جبکہ اب ا س کے کانوں میں اس کی اپنی ہی آواز گونج رہی تھی، "فریدن! میکوں معاف کر چھوڑیں۔۔۔۔”

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے