Skip to main content

Aalamiparwaz

 خوف

 ناصرملک

          ہماری ریسکیو ٹیم جانکاہ مشقت کے بعد سیلابی پانی میں گھرے اس مکان تک پہنچی تھی۔ میں حیرانی سے پانی کے عفریت میں گھرے ہوئے اس گھر کے مکینوں کو دیکھ رہا تھا۔ بوڑھا واحد بخش، اس کی بیوی زیناں، دو بیٹیاں۔ ایک کی عمر پانچ، دوسری کی چودہ پندرہ ۔۔۔۔دونوں بہنوں کو بھائی کی محرومی کا دُکھ قدرت نے دیا تھا۔ میں حیران تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کیمپوں میں کیوں نہیں گئے تھے۔ شاید ان تک کوئی پہنچا ہی نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ گھر کا سارا سامان تین ریسکیو ورکرز، دو ملاحوں اور واحد بخش نے لانچ میں لاد دیا مگر کھانے پینے کا سامان اور برتن چھپر کے نیچےجوں کے توں پڑے تھے۔ "یہ بھی لاد دو ناں!” واحد بخش نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ بولی، "نہیں جی! یہ یہیں رہے گا۔ آپ وہ سامان لے جاکر کہیں محفوظ کر دیں۔ پانی اُتر گیا تو ہم آ کر لے لیں گے۔” میں بھونچکا رہ گیا، "کیا مطلب؟ کیا تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں جائو گے؟” اس نے پھر انکار میں سر ہلایا۔ بولی، "نہیں جی! ہم ادھر ہی ٹھیک ہیں۔” میں نے اصرار کیا۔ وہ نہ مانی۔ پوچھا، "آخرکیا وجہ ہے؟ یہاں ایسا کیا ہے کہ تم لوگ جانے پر تیار نہیں ہو؟” وہ بتانا نہیں چاہتی تھی مگر میرے شدید اصرار پر بولی، "تین سال پہلے، بڑے سیلاب میں ہم بند پر بنے امدادی کیمپ میں گئے تھے۔ ہمارا خاندان بھی۔ وہاں ہم لوگ کھانا کھاتے تھے اور ساری رات بے ہوشوں کی طرح سو جاتے تھے۔ بڑی گہری نیند آیا کرتی تھی۔ پھر تین ماہ بعد ہمارے خاندان میں کئی پیٹ پھول گئے تو پتہ چلا کہ نیند اتنی گہری کیوں آیا کرتی تھی۔” میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ "بابو! تب میری بچیاں چھوٹی تھیں۔”میں نے بے ساختہ اس کی بڑی بیٹی کو دیکھا، پھر بوڑھی عورت کو، جو کبھی مجھے دیکھتی تھی اور کبھی اپنی بیٹی کو ۔۔۔

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے