خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری
ڈاکٹر افسر کاظمی
dr.afsar.kazmi@gmail.com
ہما ری سما جی زندگی تضاد تخاتف اور نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔اور ہر لمحہ حیات انسانی نت نئے تجرباتی ذائقوں سے گزرتی رہتی ہے۔اور ان کے اثرات اوررد عمل کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔دکھ سکھ رنج وراحت اور غم و مسرت کی وضاحت ہمارے رونے اور ہنسے سے ہوتی ہے ۔یہ عام انسانوں کا شیوہ ہے۔ترتیب یا فتہ ذہن ومزاج رکھنے والے شائستہ افراد ہنس ہنس کر اپنے غموں کا مداوا کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔یہ سلیقہ تہذیبی زندگی کے مجاہدوں ہی کے ذریعہ نمایاں ہوتا ہے۔ چونکہ شعر وادب کے ذریعہ مشاہدات، خیالات اورتاثرات کی حیات آفریں کیفیات سامنے آتی ہیں اور ان میں رنج وراحت کے احسا سات کے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔اسلئے اس سلیقے کا اظہار یہاں نہایت خوبی وخوش اسلوبی کے ساتھ ہوتا ہے۔طنزیہ اور مزاحیہ ادب میں یہ خصو صیت ذراتیز اور سریع الاثر ہوتی ہے جس طرح رونا رلانا بلاسبب نہیں ہوتا اسی طرح ہنسنا اورہنسانا بلا مقصد نہیں ہوتا۔شخصی اور معاشرتی زندگی میں جو ناہمواریاں موجودہوتی ہیں ہنسنے ہنسانے کی تحریک انہیں ملتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی ناہمواری ہی مزاح وطنز کے میلان کو فروغ دینے کا وسیلہ بنتی ہے ۔اس ناہمواری کوبے نقاب کرنے اورمنظرعام پرلانے کے لئے گہری سماجی آگہی کی ضرورت ہوتی ہے ۔مزاح وطنز کی ہمکاری ادب کی معنویت کو زیادہ پہلودار باوقار بنا دیتی ہے ۔
جہاں تک پروفیسرخورشید جہاں کا سوال ہے میری ان سے کبھی ملاقات
نہیں رہی لیکن ان کوغائبانہ طور پر جانتا پہچانتا بھی ہوں۔ان کے انشائیوں کا مجموعہ (ہوئے کیوں نہ غرق
دریا)ان کے انتقال کے بعد میرے مطالعے میںآیا۔تب جا کراندازہ ہواکہ خورشید جہاں ایک اچھی اور
کامیاب انشائیہ نگار بھی تھیں۔پوری کتاب کے مطالعے کے بعد یہ اندازہ بھی ہوا کہ خورشید جہاں نے
پورے تعلیمی معاشرہ کو مافیاوں نے کس طرح اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے اس پر زبر دست چوٹ کی ہے۔ تعلیم کے میدان میں نئے نئے تما شے آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔کس کو نمبر بڑھوانا ہے تو کیا کرناچا ہیئے ۔ کسی کو اگزامنر بننے کے لئے کیا کیاکرنا پڑتا ہے ۔ خورشید جہاں کے دو ایک انشایئے کو چھوڑ کر بقیہ تمام انشایئے تعلیم سے جڑے معاملات پر مبنی ہے ۔آج کل کالج میں پروفیسر کس طرح کلاس لیتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی سے کس طرح لا پر واہ ہوتے جا رہے ہیں اس پر خورشید جہاں نے جم کر طنز کیا ہے۔
ملاحظہ ہو ان کا یہ اقتباس:
۔۔۔۔ اگر لڑکے اردو میں فیل ہونے لگے تو پھراردو پڑھے گا کون؟
اور اگر کوئی اردو نہ پڑھے گا تو ہمیں کون پو چھے گا نہ کوئی
اگزامنی ہوگا نہ کوئی اگزامنر نہ کوئی اسٹوڈ ینٹ ہوگا نہ
ٹیچر، لڑکوں کو اردو میں زیادہ سے زیادہ نمبرملیں گے تو زیادہ
سے زیادہ لڑکے یہ مضمو ن رکھیں گے،آئی بات سمجھ میں۔
سلیم صاحب نے ہماری کم عقلی پر ترس کھا کر سمجھایا۔۔۔
(مضمون اعجاز مئے) ا سی انشائیے کا ایک اور اقتبا س د یکھئے جس میں اگزامنر کو کیسی کیسی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں خورشید جہاں
نے بڑے انو کھے انداز میں پیش کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔جیسے ہی Appointment letter ملا یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح
چھوٹے سے شہر میں پھیل گئی کہ ہم یونیورسٹی کی کاپیاں کاٹنے رانچی جا رہے
ہیں۔یہ کا پی کاٹنے کا لفظ میری سمجھ میں نہ آیا۔ اب تک تو ہم کاپی جانچنے یا
دیکھنے کاذکر سنتے آئے تھے۔جیسے جیسےEvaluation کی تاریخ
قریب آرہی تھی ویسے ویسے ہمارے یہاں جا ننے والوں اور بھولے
بسرے رشتہ داروں کی آمد ورفت بڑھتی جا رہی تھی۔ ہماری قابلیت
و ذہانت اور اخلاق ومحبت کے تمہیدی بیان کے بعد سب کا موضوع
ایک ہی تھا۔تمہاری بھانجی نے امتحان دیا ہے ذرا خیال رکھنا محنت
تو اس نے بہت کی ہے پھر بھی اس کواردواور ہسٹری میں ڈر ہے اردو تو
خیر تمہارے ہاتھ ہی میں ہے ذرا ہسٹری میں بھی کوشش کر دینا ۔‘‘
مزاح شگفتگی اور طنز کی چبھن نے اس الم انگیز بیانیہ اسلوب کی تاثیر و کشش کو توجہ طلب بنا دیا ہے ۔ یہ ایک
طرح سے خود احتسابی کا عمل بھی ہے نہ کسی کا شکوہ نہ شکایت ،تلخ حقیقت کا اظہار نفیس انداز میں ہوا ہے ۔
طنز وظرافت کی فضا بنانے کے لئے لفظوں کی مزاج شناسی بے حد ضروری ہے ۔طنز و مزاح نگار کے اسلوب تحریر میں اسی سے ندرت اور کشش پیدا ہوتی ہے سیدھے سادے الفاظ میں خورشید جہاں اپنی
بات کہنے میں پورے طور سے کامیاب ہیں ۔ملاحظہ ہو ان کا ایک انشائیہ ’’شوگر نامہ‘‘ کا یہ اقتباس:
’’ایک دلچسپ بات بتانا تو ہم بھول ہی گئے ۔ ایک صبح ٹہلتے ہوئے ہم
مرض دوستوں سے ملاقات ہو گئی ۔ہم نے ان سے ان کے کامیاب
نسخوں اور کچھ نئے نسخوں کے بارے میں دریافت کیا تو بڑی مسکین
صورت بناکر کہنے لگے ۔
نہیں بھائی ان سب سے کچھ نہیں ہوتا آج کل ہم لوگ بھی انسولین لے
رہے ہیں۔
آفتاب بھائی آپ ؟
ہاں میں بھی ۔
اور مقبول صاحب؟
وہ بھی ۔
سنہا جی۔
سب کے سب ۔‘‘
اس انشائیہ کی خوبی یہ ہے کہ شوگر کے جتنے مریض ہیں شروع میں سب کے سب ڈاکٹر نظر آتے ہیں اور
اپنے اپنے طور پر دوا بھی تجویز کر تے ہیں لیکن آخر میں سب کو انسولین کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے ۔
خورشید جہاں کا ایک انشائیہ ’’میری قدر ‘‘ جہیز کی لعنت پر لکھا گیا ایک خوبصورت طنزیہ انشائیہ ہے ۔ ہمارا پورا معاشرہ آج کس طرح جہیز کی لعنت میں گھرا ہوا ہے اور اس کے برُے اثرات کا نتیجہ ہے کہ آج معاشرے میں لڑکیاں خود کشی کر رہی ہیں لیکن جہیز کی لعنت ختم نہیں
ہو رہی ہے ۔
مہنگائی کی مار پورا ملک جھیل رہا ہے ایک طرف نیا ’’ پے اسکیل ‘‘شروع ہوتا ہے دوسری طرف گرانی آسمان کو چھونے لگتی ہے ۔ دراصل خورشید جہاں نے اس انشائیہ میں طنز کا نشانہ حکومت کو بنایا ہے ایک طرف نیا پے اسکیل لاگو ہو تا ہے اور وقتی طور پر نئے پے اسکیل پانے کی خوشی میں نئے نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں کہ نیا پے ملے گا تو یہ کرینگے وہ کرینگے لیکن تنخواہ بڑھتے ہی بازار میں قیمت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان بہت کچھ سوچنے کے باوجود کچھ نہیں کر پاتا ۔اور جہاں سے سفر شروع ہوا تھا وہیں کے وہیں رکے رہتے ہیں۔اور خواہشیں دم توڑ دیتی ہیں غالب نے کیا خوب کہا ہے ۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں پھر بھی کم نکلے
نیا ’’ پے اسکیل ‘‘ کا یہ حصّہ ملاحظہ ہو:
’’مرتا کیا نہ کرتا اب تو سامان پیک ہو چکا تھا ۔ اپنی عزت کا سوال تھا۔
کسی طرح قیمتوں کی ادائیگی کی اور بقیہ مار کیٹنگ آئندہ پر ٹال
کر لٹے پٹے گھر لوٹ آئے ۔ گھر آکر شوہرسے جم کر جھگڑاہوا
ان کا کہنا تھا کہ اتنا سامان خریدنے کی کیا ضرورت تھی جیسے پہلے
کام چلتا تھا ویسے ہی اب بھی چلنا چاہئیے اب ہم کیا جانتے تھے
کہ اتنی بڑی تنخواہ پانے کے باوجود ہم پہلے سے بھی بدتر ہو رہے ہیں‘‘
(نیا پے اسکیل ص۶۲)
مشہور طنزو مزاح نگار یوسف ناظم نے خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری کے بارے میں اپنی رائے کچھ
اس طرح دی ہے ۔
’’زیر نظر کتاب کی خالق کی یہ اچھائی تو میں نے بیان ہی نہیں کی
ان کی اصل خوبی یہ ہے کہ مٹھائیوں کے جتنے ڈبے ان کے گھر
پہنچائے گئے وہ سب مٹھائیاں مو صوفہ نے چا ندی کے ورق لگاکر
اپنے مضامین کے ذریعے ہم جیسے مستحقین میں تقسیم کر دیں
دعا کیجئے کہ ان کا گھر ہمیشہ مٹھائیوں سے بھرا اور ان کا ہاتھ
کھلا رہے۔‘‘ (ہوئے کیوں نہ غرق دریا ،ص۱۱)
خورشید جہاں کے انشائیوں کے بارے میںآخر میں اتنا تو طے ہے کہ وہ ایک کامیاب انشائیہ نگار
کی حیثیت سے اپنی پہچان بنا چکی ہیں ۔ کاش کہ وہ ہمارے درمیان کچھ روز اور ہوتیں تو اور بھی معیاری
اور اہم انشائیے پڑھنے کو ملتے ۔ڈاکٹرجلیل اشرف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مرحومہ کی عدم
موجودگی میں ایک بڑا کام کر دیا ہے ۔۔
****
ڈاکٹر افسر کاظمی
dr.afsar.kazmi@gmail.com
fulltext