غزلیں
خواجہ جاوید اختر
ہے کہاں اب ایسا قد آور کوئی
ہم سے پہلے تھا شجاعؔ خاور کوئی
اِس تناور شاعری کے سامنے
ہو نہیں پائے گا بار آور کوئی
غور سے دیکھو ذرا اُس شخص کو
مجھ کو لگتا ہے وہ دیدہ ور کوئی
حق و باطل کا کرے گا فیصلہ
چُھپ کے بیٹھا ہے کہیں داور کوئی
کچھ نہ کچھ تو ہے سبب جو آجکل
مجھ کو کرتا ہی نہیں باور کوئی
میرے فن کی دیکھنا باریکیاں
میں نہیں ہوں جب کہ پیشہ ور کوئی
غزل
ہر وقت یہ احساس دلانے کا نہیں میں
تیرا ہوں فقط، سارے زمانے کا نہیں میں
مدّت سے مرے سینے میں اک راز ہے پنہاں
یہ راز مگر سب کو بتانے کا نہیں میں
دریا تو ہوں لیکن مرے اندر ہے وہ وسعت
کوزے میں کسی طور سمانے کا نہیں میں
اِس بار کوئی گل میں کھلاؤں گا یقینا
صحرا میں فقط خاک اُڑانے کا نہیں میں
اِس بھیڑ میں پہچان مری سب سے جدا ہے
شیشہ ہوں مگر آئینہ خانے کا نہیں میں
لگتا ہے وہ پھر کوئی نئی چال چلے گا
اِس بار مگر جال میں آنے کا نہیں میں
اب ڈوبنا چاہے جو کوئی شوق سے ڈوبے
ہر ڈوبنے والے کو بچانے کا نہیں میں
خواجہ جاوید اختر
fulltext