Skip to main content

Aalamiparwaz

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

 

  جدید ٹکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھتے اردو کے قدم

فیس بک کے بعد،وھاٹس ایپ پر اردو کی سر گرمیاں قابلِ ستائش

آج سے بیس برس قبل اردو کے حوا لے سے یہی مشہور تھا کہ اردو جدید ٹکنا لوجی کے استعمال کے معا ملے میں دیگر زبانوں سے بہت پیچھے ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس میں بھی شک تھا کہ اردو میں کمپیوٹر کا استعمال بخو بی ہو پائے گا۔ لیکن اردو جیسی ہر دل عزیز، سخت جان اور پیاری زبان نے ثا بت کردیا کہ وہ جدید ٹکنا لوجی کے استعمال میں کسی زبان سے پیچھے نہیں ہے۔
یوں تو اردو میں کمپیوٹر بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہی آگیا تھا، لیکن نئی صدی کی ابتدا نے تو اردو میں کمپیوٹر کے بہترین استعمال اور شاندار نتا ئج پر مہر لگا دی تھی۔ اکیسویں صدی نے زندگی کے ہر شعبے کو متا ثر کیا۔ زبان و ادب میں نئے تصورات، نئے رجحانات سامنے آ ئے۔ ادب سے لے کر سیاست تک ایک نئے دور کا آ غاز ہوا۔ نفرت، فرقہ پرستی، آ تنک واد، ظلم و ستم، نئے نئے روپ میں سامنے آ ئے۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان کی خلیج مزید وسیع ہوئی۔ ایسے میں دیگر زبانوں کے کردار سے الگ اردو صحا فت نے سچ کو سچ کہا اور ایک بالکل نئے روپ میں ہمارے سامنے آ ئی۔
اکیسویں صدی جوں جوں آ گے بڑھتی گئی، اردو کے نئے منظر نامے سامنے آ تے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اردو بعض علا قوں میں کمزور بھی ہوئی لیکن بعض علاقوں میں مزید مقبو لیت حاصل کی۔گذشتہ چار پانچ برسوں میں اردو نے کمپیوٹر، ویب سائٹس، انٹر نیٹ سے مزید آگے بڑھتے ہوئے فیس بک پر مستحکم انداز میں اپنے قدم جمائے۔ اردو فونٹUnicode نے اردو کو جدید ٹکنا لوجی سے ہم آہنگ کر نے میں انقلاب آ فریں اقدام کیا۔اردو کمپوٹر کے علاوہ گوگل، مو بائل فون، ٹیبلیٹس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بہ آ سانی لکھی اور پڑھی جانے لگی۔ فیس بک پر اردو نے ہنگامہ بپاکردیا۔اردو سائٹس کی باڑھ سی آگئی۔ اردو ادب، اردو افسا نہ فورم، اردو پوائنٹ، اردو شاعری، اردو اکا دمی دہلی، اردو ریسرچ فورم، اسلام آ باد، اردو فکشن، اردو شاعری بزم، عالمی افسا نہ فورم، عالمی افسا نوی کارواں، عالمی اردو مرکز،عالمی اردو کانفرنس، عالمی اردو ادب،بزم اردو، بزم اردو انڈیا، بزم صدف، قصہ کہانیاں، اردو دوست، آواز دوست، بزم امکان، اردو سخنوراں، دریچے،عالمی پروازڈاٹ کوم، اردو اسکالرز، اردو لغت جیسے ہزاروں اداروں نے فیس بک کا استعمال شروع کیا۔یہی نہیں دیگر معروف اردو پورٹل یعنی اردو سخن، شعرو سخن، اردو نیٹ جا پان جیسے سینکڑوں اداروں، اخبا رات، ایجنسیوں نے فیس بک پر بھی اپنے اکا ؤنٹ شروع کیے۔ یہی نہیں شعبہ ہائے اردو میں بھی کئی نے مثلا دہلی یو نیورسٹی، مولانا آزاد یو نیورسٹی، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، الہ آ باد یو نیورسٹی کےPages بھی فیس بک پر شروع ہوئے۔ ان تمام سائٹس پر اردو زبا ن و ادب، اردو رسم خط میں لوڈ کیا جاتا ہے۔
گذشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا میں وہاٹس ایپ بھی سر گرم ہے۔ جہاں تک اردو کا سوال ہے تو یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ اردو میں وہاٹس ایپ کا استعمال گذشتہ دو تین برسوں سے شروع ہوا ہے۔ لیکن 2017ء اردو میں وہاٹس ایپ کے استعمال کے عروج کا زمانہ ہے۔ یہ بات اردو کی مقبو لیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ آج وہاٹس ایپ متعدد معاملا ت میں دیگر سو شل میڈیا سے کافی آ گے نکل گیا ہے۔ یہ ہما ری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ عوام سے لے کر حکومت تک وہاٹس ایپ کے استعمال سے فا ئدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری زبان اردو کیسے پیچھے رہتی۔2017ء میں وہاٹس ایپ پر اردو نے ایسا دھمال مچایا ہے کہ حیرا نی اور خوشی ہو تی ہے۔ متعدد گروپس اور افراد وہاٹس ایپ کے ذریعے اردو کے فروغ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اردو اسکالرز گروپ، عالمی اردو پرو فیسر ز گروپ، اردو فکشن، صرف ادبی خبریں، داستان تک، ادب سلسلہ، جدید معاشرہ، ضیائے حق اردو اسکالرز گروپ، دربھنگہ ٹا ئمز، جہا نگیر نیوز، د ستک ادبی فورم بی ایچ یو، اردو چینل، وغیرہ کے علاوہ انتظار عالم سیفی ردا، سہیل وحید نیا دور، انیس امروہوی، قمر صدیقی علیم نانڈیز اردو کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ یہی نہیں وہاٹس ایپ پر ہزاروں اردو والے سر گرم ہیں۔ ان تمام میں اب تصاویر، مبارک باد کی خبریں، نایاب اور قدیم تصا ویر، نشستوں، محفلوں، سیمیناروں کی تصا ویر، خبریں، مضا مین، افسانے، غزلیں، نئی شائع ہونے والی کتابوں کے سر ورق، کتا بوں کی پی ڈی ایف فائلس، اخبارات و رسائل میں شائع شدہ تحاریر کی کا پیاں، رسائل کی پی ڈی ایف، یوم پیدا ئش کے پیغا مات، خراج عقیدت، وصال کی خبریں۔الغرض زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات اور واقعات آج کل وہاٹس ایپ پر اردو میں لکھے اور پڑھے جارہے ہیں۔
وہاٹس ایپ کے ذریعے بعض ایسی باتیں ممکن ہوئی ہیں جنہیں ناممکنات مانا جاتا تھا۔یعنی گذشتہ دنوں علا مہ اقبال کی آواز میں ’شکوہ‘ کا ایک آڈیو سب تک پہنچا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں شک ہے کہ کیا یہ واقعی اقبال کی آ واز ہے؟اسی طرح پروین شاکر کو کلام پڑھتے ہوئے دیکھنا، فیض کو سننا، ساتھ ہی ساتھ یوم اقبال، آزاد و غا لب پر ان کی تحریروں کا وہاٹس ایپ پر ایک سیلاب سا دکھائی دیتا ہے۔
وہاٹس ایپ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس سے اردو ریسرچ اسکالرز کو زبردست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کسی مضمون کتاب یا دیگر حوا لے کے تعلق سے ریسرچ اسکالرز وہاٹس ایپ پر اپنا سوال لکھ دیتے ہیں اور بہت کم وقت میں انہیں ان کے جواب مل جاتے ہیں۔
اردو چینل اور قمر صدیقی کا میں خاص طور پر ذکر کرنا چا ہوں گا کہ وہ وہاٹس ایپ پر اردو ادب کی اصل خدمت انجام دے رہے ہیں۔ معروف شعرا و ادبا کی یوم پیدا ئش اور یوم وفات کے مو اقع پر خصوصی مضمون شا ئع کرنا، قدیم ادب سے انتخاب، مو قع بہ موقع خصوصی مضامین کی اشاعت اور پوری پوری کتاب اپ لوڈ کر نے اور دیگر ضروری معلو مات کے ذریعہ وہاٹس ایپ کے قارئین کو بہت سیراب کیا ہے۔
وہاٹس ایپ پر ایک اور دھماکہ ہوا ہے۔ اب خبروں کے ویڈیوز بہت وائرل ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ای ٹی وی اردو کی خبروں کے ویڈیوز خوب لوڈ ہورہے ہیں اور پسند کیے جا رہے ہیں۔وہاٹس ایپ پر مذہبی مواد بھی اس قدر موجود ہے کہ ہر طرح کے قاری کی ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے۔ مشاعروں کے مقبول شعرا کی غزلوں، نظموں اور گیتوں کے ان آواز میں ویڈیوز خوب دیکھے اور سنے جارہے ہیں۔
2017ء اردو میں وہاٹس ایپ کے دھما کوں کے لیے یاد کیا جائے گا۔ سال کے گذر نے پر ہمیں اپنا احتساب ضرور کرنا چاہئے کہ ہم نے اس سال اردو کے لیے کیا کیا اور آئندہ سال ہمیں اپنی زبان کے لیے کیا کرنا چا ہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سب سے ضروری نئی نسل کو اردو سے واقف کرانا ہے تاکہ نسل در نسل اردو کی آبیاری جاری رہے۔
٭٭٭
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu, CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850

 

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے