Skip to main content

Aalamiparwaz

  ریت پر ….ایک ناقص رائے

  محمد زکریا
  پرنسپل،کریم سٹی کالج
  جمشید پور

                          ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کے مسودے کوپہلے تو الٹ پلٹ کر دیکھا،کچھ کہانیوں کو سنجیدگی سے پڑھا اور پھر ایک انجانے عذاب میں پھنسا۔پرویز نے بڑی محبت سے کہانیوں پر کچھ لکھنے کا اصرار کیا۔پہلے تو یقین ہی نہیں ہوا کہ مجھ سے کیا مطالبہ کیا جارہا ہے،اوریہ افواہ کس نے پھیلادی کہ کہانیوں پر میں بھی رائے دے سکتا ہوں۔میں تو ٹھہرا معمولی قاری اور ادبی محفلوں کا سنجیدہ سامع ….!چلو افواہ کا ایک فائدہ تو ضرور ہوا کہ بیٹھے بٹھائے ہم بھی پڑھے لکھے لوگوں کی صَف میں شامل ہوگئے….!اور جب معلوم ہوا کہ پرو فیسر احمد بدر اور ڈاکٹر اختر آزاد نے اس کتاب ِ مستطاب پر امام ضامن باندھ کر دَم کردیا ہے تو میری حیثیت تو اس مولوی کی ٹھہری جو بغیر کچھ پڑھے فاتحہ کی مٹھائی پر پھونک مارتا ہے اور اپنی عافیت خراب کرتا ہے…!
                           کہانی پڑھنا،سمجھنااور پھر ہضم کرنا-ان تینوں مراحل سے گزرنے کے بعد جو رائے وجود میں آئے گی۔اسے گرانقدر رائے کہیں گے۔اس میں سب سے سخت مرحلے کا تعلق نظامِ ہاضمہ سے ہے کیوں کہ اپنچ حالت میں جو رائے قائم ہوگی وہ گرانقدر تو ہوہی نہیں سکتی۔ہاں قاری پر صاحبِ کتاب پر ”قدرے گراں“ ضرور گزرے گی۔ویسے کچھ ناقدوں نے مصلحت پسندی کا عقیدہ قائم کرتے ہوئے ایک ”رائج الوقت“رائے ایجاد کرلی ہے۔یعنی وہ رائے جو بغیر پڑھے عالم وجود میں آئے -اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ مسودہ صاحب ِ رائے نے دیکھا بھی ہو۔ اس ترکیب کے ڈھیر سارے فوائد ہیں اور اس میں کسی کو کوئی شکایت بھی نہیں ہوتی۔ظاہر ہے الہامی باتیں ہمارے یہاں مستند ہیں۔صاحبِ کتاب بھی خوش،قاری بھی خوش اور ناقد پر بھی مصنف کے کاری حملے کا کیس درج نہیں ہوگا۔ادب کی خدمت اور باہمی اتحاد و اتفاق قائم کرنے کی بھلا اس سے بہتر ترکیب اور کیا ہوسکتی ہے۔مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو، کیوں کہ ہمیشہ گمراہی ان پڑھ کے حصے میں نہیں۔
زندگی کھٹے میٹھے واقعات و حادثات کا پلندہ ہے۔اور جب ان واقعات و حادثات کو مشاہدے کی کوئی ہنر مندی کے ساتھ جملوں میں پرونے کا سلیقہ آجائے تو جو چیز وجود میں آئے گی اسے کہانی یا افسانہ کا نام دے سکتے ہیں۔مگر کہانی لکھنے والا تخلیق کار اس وقت بنتا ہے،جب وہ اپنے اندر سے باہر آکر گرد وپیش میں ہونے والے واقعات و حادثات کو بھی اپنے تخلیقی سوتے سے جلا بخشے۔
                             پرویز کی کچھ کہانیاں مثلا ”خانے تہہ خانے“،”آخری پرواز“،”نقطے کا سفر“ اور”کہانی کا دوسرا رخ“ وغیرہ جدید لب و لہجہ اختیارکیے ہوئی ہیں۔ پرویز نے کچھ بیانیہ کہانیاں بھی لکھی ہیں۔مثلا”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“، ”رشتے کی بنیاد“ وغیرہ۔مگر بیانیہ افسانوں میں بھی یہ علامتوں اور استعاروں سے گھرے نظر آتے ہیں۔یہ برائی نہیں ہے،بلکہ ایک منفرد انداز ہے، جس کو ایمانداری سے برتنے کے لیے بڑی ریاضت و مشقت کی ضرورت ہے۔ ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرویز کا تخلیقی چشمہ زندہ ہے۔اور اس چشمے سے اور بھی کہانیاں پھوٹیں گی اور افسانوی ادب میں منفرد انداز کے ساتھ ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔
                              افسانوی مجموعہ ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کے کچھ افسانوں کو پڑھ کر نہ جانے کیوں ایک نظم کے کچھ ٹکڑے ذہن پر دستک دینے لگے۔جب پوری نظم یاد آئی تو محسوس ہوا کہ پرویز کے افسانوں پر اس سے زیادہ میں اور کیا لکھوں پہلے تو ڈرا کہ نظم دوسرے کی ہے،بغیر اجازت اسے کیسے شامل کروں۔پھر سوچا کہ جب نظم دوسرے کی ہے تو سنانے میں ڈر کیسا؟
خدا ایسا نہیں کرتا
کہ اپنے نیک بندے کو
عطا کرکے وہ آنکھیں
نیند سے محروم کر ڈالے
کئی برسوں سے ان آنکھوں سے میری نیند روٹھی ہیں
تو کیا میں آسمان والے کاکوئی خاص بندہ ہوں
میں کوئی چور ہوں
مجرم سا اِک احساس رکھتا ہوں
جو میری خشک پلکوں کو
کبھی جڑنے نہیں دیتا
وہ بچہ ہوں
طلسمی ماجرے میں
جس کی حیرانی نہیں جاتی
میں کوئی داستاں ہوں
جس کو
صدیوں سے سنایا جارہا ہے
اور ادھوری کی ادھوری ہے
کوئی بھٹکا ہوا راہی ہوں
پوری شب
اندھیرے جنگلوں کے بیچ گزرا ہوں
جہاں بھی روشنی دیکھی
اسے نور ِ ہدایت جان کر
اس کی طرف لپکا
ہر اک جھوٹی بلندی
چَھل یوں ہی کرتی رہی مجھ سے
مسلسل نیند سے محروم!
پابندِ ستم بندہ
کرم فرمائے اب مجھ پر
جو مجھ کو نیند آجائے
میں اپنی ذات کے اسرار
اپنے خواب میں دیکھوں
خدا کے واسطے
گر یہ نہیں ممکن تو ایسا ہو
میری ہلتی ہوئی یہ پتلیاں
پتھر کی ہوجائیں!
عجب زہریلی بے خوابی کا نشہ
مجھ پہ طاری ہے!
رگوں میں دوڑتی سیال ناگن
جھومتی ہے رقص کرتی ہے
جگائے رکھتی ہے
سونے نہیں دیتی!
اسے معلوم ہے کہ
میں قلو پطرہ کا عاشق ہوں
خدا محفوظ رکھے
میری یہ بے خواب آنکھیں
نیل کے ساحل پہ رہتی ہیں۔

٭٭٭

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے