مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے
MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
منٹو کی بے باکی اور عریانیت کو دیکھ کر ایک زمانے کو خیال ہوا کہ وہ ترقی پسندتحریک کے غلاف میں اپنے لیے شہرت کاراستہ اختیار کررہے ہیں۔ لیکن یہ بہتان اور جھوٹے الزام سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ترقی پسند تحریک کاہرگز یہ مفہوم نہیں تھا۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور اپنی ذہنی اپج سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دراصل تحریک کو زندگی کے اتنا نزدیک کرنا چاہتے تھے کہ معاشرہ سے ہر قسم کی برائی کو مٹایا جاسکے، خواہ وہ معاشی کشمکش ہو یا ذہنی، نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی ہو۔ منٹو افسانوں کے بادشاہ کہے جاسکتے ہیں۔ اس واقعاتی تجزیہ کے پس منظر میں اگر مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانیوں کا جائزہ لیا جائے تو یقینا میرے اس دعوے کو تقویت ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوان واسطیؔ
fulltext