انتظار حسین کی تخلیقات میں ہجرت کا کرب تفہیم کے نئے زاویوں کا متقاضی ہے۔ پرو فیسر اعجاز علی ارشد
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میں اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ بعنوان”انتظار حسین کی افسانہ نگاری میں ہجر کا کرب“ کا انعقاد
میرٹھ:شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے اشتراک سے،شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں مولانا اسماعیل میرٹھی یادگا ری خطبہ بعنوان”انتظار حسین کی افسانہ نگاری میں ہجر کا کرب“ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت صدر شعبہئ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے کی۔خصوصی مقرر کی حیثیت سے پرو فیسر اعجاز علی ارشد(شیخ الجامعہ،مظہرالحق عربی فارسی یونیورسٹی، پٹنہ)اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر خواجہ اکرام الدین(ڈائریکٹر این سی پی یو ایل، نئی دہلی)اور مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر فاروق بخشی (صدر شعبہ اردو،موہن لال سکھاڈیا یونیورسٹی، اودے پور)اورمعروف افسانہ نگار محترم بشیر مالیر کوٹلوی شریک ہوئے جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔
تقریب کا آ غاز مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔استقبالیہ کلمات اور مولانا اسماعیل میرٹھی کا مختصر تعارف ڈاکٹر شاداب علیم نے پیش کیا۔مہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی اور گلوں کے ذریعے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔
اس کے بعد خصوصی مقرر پرو فیسراعجاز علی ارشد نے مذکورہ موضوع پر ایک تفصیلی اور جامع خطبہ پیش کیا،جس میں انہوں نے انتظار حسین کی افسانہ نگاری پالخصوص ان کے افسانوں میں ہجر کے کرب کے تعلق سے مدلل گفتگو کی۔جس نے سامعین کومتحیر کردیا۔انہوں نے کہا کہ انتظار حسین کے یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں۔ایک مضبوط حافظہ انتظار حسین کا مستقل ساتھی ہے جو انہیں کسی بھی واقعے سے مترادف کسی قدیم واقعے کی یاد دلاتا ہے اسے ہم ناسٹلجیا کی ایک صورت کہہ سکتے ہیں مگر یہ کسی مریضانہ ذہنیت کا نتیجہ نہیں۔یہ ان کی کمزوری بھی نہیں قوت ہے اور کسی حد تک اسی کے سبب انہوں نے ایک ایسا اسلوب بیان اختیار کیا ہے جو روا یتی تو ہر گز نہیں ہے۔خود انہوں نے کئی مواقع پر اعتراف کیا ہے کہ ترقی پسندوں سے ان کی کبھی قربت نہیں رہی،نہ ان کے انداز بیان سے ان کا رشتہ رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظار حسین نے ہجرت کا جو کرب اپنے افسانوں اور ناولوں میں پیش کیا ہے وہ گردش ماہ و سال کے ساتھ نئی معنویتوں سے ہم کنار ہو رہا ہے۔اور تفہیم کے نئے زاویوں کا متقاضی ہے۔
مہمان خصوصی پروفیسرخواجہ اکرام الدین نے اسماعیل میرٹھی کی شخصیت اور خدمات پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ اسماعیل میرٹھی بچوں کے ساتھ ساتھ عوام کے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشکل الفاظ،بھاری بھر کم محاورات اور دور ازکار تشبیہات و استعارات کے بجائے عوام میں رائج الفاظ،روزمرہ کے محاورات استعمال کیے ہیں۔آج اردو اور ہندی کے ادیب اپنی اپنی زبانوں کوفارسی اور سنسکرت کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں،یہ نقصان دہ نظریہ ہے۔آج پھر ضرورت ہے کہ ہم الفاظ کی شعبدہ بازی سے باز آکرسادہ عام فہم اور سماج میں رائج زبان کا استعمال کریں۔یہی ان زبانوں کی بقا کا واحد راستہ ہے۔اس موقع پر ڈا کٹر فاروق بخشی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا
آخر میں اپنا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے کہاکہ مولانا اسماعیل میرٹھی ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ادب کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میں نمایاں حصہ لیا ہے اورجب کو ئی ادیب مفکر، دانشور،شاعر اور ساتھ ہی ماہر تعلیم بھی ہو تا ہے تو اس ادب کی تو دنیا ہی بدل جاتی ہے اور وہ ادب آفاقیت کا حامل ہوجاتا ہے۔اسماعیل میرٹھی نے بھی اپنی تخلیقات سے نہ صر ف قوم کی اصلاح کا کام اوراتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی بلکہ قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو سنوارنے وا لا ادب پیش کر کے انسانیت کے تن مردہ کی جڑوں کو سینچنے کا فریضہ انجام دیا اور یہ ان کا عظیم کارنا مہ ہے۔
اس مو قع پر ڈاکٹرثروت خان اورڈاکٹر ترانہ پروین ابرار مجیب،اشتیاق سعید،ڈاکٹر الکا وششٹھ،انل شرما،بھارت بھوشن،محمد یامین انصاری اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
fulltext