Skip to main content

Aalamiparwaz

                 ادب کی تخلیق جوکھم بھرا کام ہے:  آلوک کمار

 

                ”ادب میں تخلیق کا کام جوکھم بھرا ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ جواں سال قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔“

 

                یہ باتیں دھال بھوم، جمشیدپور کے ایس ڈی او شری آلوک کمار نے نیاز اختر کے افسانوی مجموعے”بوڑھے برگدکا انت“ کی رسم رونمائی کی تقریب کے موقع پر کہیں۔

                14/جون2015 کو سنٹر فار ایکس لینس میں شہر سنگ و آہن، جمشیدپور کے جواں سال افسانہ نگار نیاز اختر کے افسانوی مجموعے ”بوڑھے برگد کاانت“ کی رسمِ رونمائی کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ شری آلوک کمار(ایس ڈی او، دھال بھوم، جمشیدپور) کے ساتھ انجمن ترقی پسند مصنفین، جمشیدپور کے صدراور نامور کہانی کار شری جے نندن، ڈاکٹر سبھاش چندر گپتانے بھی کتاب کی رونمائی کی اور انہیں مومینٹو اور شال بھی پیش کیا۔ایس ڈی او شری آلوک کمار نے نیاز اختر کے پہلے افسانوی مجموعے کے لئے مبارک باد دی اور ان کے روشن ادبی مستقبل کی خواہش کا اظہار کیا۔

                تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انجمن ترقی پسند مصنفین، جمشیدپور کے سکریٹری شری سبھاش چندر گپتا نے نیاز اختر کو بے چینیوں کا کہانی کار بتایا اورکہا کہ نیاز اختر عام آدمی کو بے چین کرنے والی الجھنوں کو اپنی کہانیوں میں شامل کرنے کے ساتھ ہی ان سے نپٹنے کی راہ تلاشتے ہیں۔

                یحییٰ ابراہیم نے اپنے خطاب میں مابعد جدیدیت کو ادیبوں کا پر کترنے والا بتاتے ہوئے نیاز کو اس سے بچائے رکھنے کی وکالت کی۔ انھوں نے مجموعے کی کئی افسانوں کاذکر کرتے ہوئے ان کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی۔ ساتھ ہی ساتھ ادب کے گلوبلائزیشن کے نظریے سے مجموعے کی کہانیوں کاتجزیہ پیش کیا۔

                اردو کے نامور افسانہ نگار ڈاکٹر اختر آزاد اور ابرار مجیب نے بھی مجموعے کے افسانوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

                 شری جے نندن اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ نیاز اختر کی کہانیاں ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی آنے والی نسل کووراثت میں کیسی دنیا دینے جا رہے ہیں۔

                اس تقریب میں سید احمد شمیم، اسلم بدر، احمد بدر،انور امام،سلطان احمد ساحل، تنویر اختر رومانی، سعید فردوسی، ممتاز شارق، نیاز احمد آسی، رضوان اورنگ آبادی،پروفیسر جاوید اختر انصاری،پروفیرگوہر عزیز،اختر جاوید،شاکر عظیم آبادی،حسن امام ملک، مختارعالم خان،پارول سنگھ (بی ڈی او،جمشیدپور)،سنجے پانڈے(سی او پوٹکا)،یسمیتا سنگھ(مجسٹریٹ)،انیتاکیرکیٹا (مجسٹریٹ)،ارپتا سری واستو، پروفیسر وجے شرما، آشیش مہنتی (رکن ادارہ حقوق انسانی)،شنکر پال، سنتوش کمار،بلوندر کوراورمیرا شکلاجیسے شہر کے کئی معروف قلمکار، اساتذہ، صحافی، افسران اور ادب نواز خواتین اور حضرات شریک تھے۔

                پروگرام کی نظامت (نقابت) منظر کلیم فرما رہے تھے۔

                                                                                                                       تنویر اختر رومانی

جمشید پور 14/ جون              

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے