Skip to main content

Aalamiparwaz

 اسلم جمشیدپوری ؔکی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد

               دنیائے ادب“جمشیدپور کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگار اسلم جمشیدپوریؔ کے تازہ افسانوی مجموعے ”عیدگاہ سے واپسی“کی رسم اجرا کاانعقاد
جمشید پور(4/اکتوبر) : ”عیدگاہ سے واپسی“ نئی صدی میں منظر عام پرآنے والے افسانوی مجموعوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ مجموعہ کے زیادہ تر افسانے سماج کے تضاد کو عمدگی سے پیش کرتے ہیں“یہ جملے معروف فکشن ناقد اور مظہر الحق عربی فارسی یونیور سِٹی، پٹنہ کے وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد کے تھے۔ وہ ڈاکٹر شری کرشن سنہا سنستھان، بسٹوپور جمشیدپور میں ”دنیائے ادب“ کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگار اسلم جمشیدپوریؔ کے تازہ افسانوی مجموعے ”عیدگاہ سے واپسی“کی رسم اجرا کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔
پروفیسر اعجاز علی ارشد نے مزید کہاکہ اسلم جمشیدپوریؔ کی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔مجموعہ کی ٹائٹل کہانی عیدگاہ سے واپسی پریم چند کی کہانی کو آج کے پس منظر میں بیان کرتی ہے۔
اسی موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف افسانہ نگار ابرار مجیب نے کہا کہ اسلم جمشیدپوریؔ کے افسانے براہ راست بیانیہ یا راست بیانیہ کا بھرپور اظہار ہیں۔ عیدگاہ سے واپسی بین المتونیت کی روایت کے تسلسل میں تہہ در تہہ معنویت کا حامل افسانہ ہے۔ مجموعہ میں شامل تمام تر افسانے اسلم جمشیدپوری ؔکی روایت سے گہری وابستگی اور فنی شعور کی اعلٰی جہت کی نمائندہ ہیں۔
اس موقع پر شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ، میرٹھ کے رسالہ ہماری آواز کے خصوصی شمارے کا بھی اجرا ء سید رضا عباس رضوی ”چھبن“ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس رسالے کے مدیر خصوصی محترم ڈاکٹر اختر آزادؔ نے رسالے کے تعلق سے کہا کہ اس خصوصی شمارے میں اسلم جمشیدپوری ؔکی تخلیقات اور شخصیت پر مضامین کو یکجا کیا گیا ہے جو آنے والے دنوں میں اسلم جمشیدپوری ؔپر ریسرچ کرنے والوں کے لئے کارآمد ہو گا۔
خطبہء صدارت میں سید رضا عباس رضوی ”چھبن“صاحب نے فرمایا کہ عید گاہ سے واپسی کا اجرا ء کے موقع پرمجھے بے حد خوشی ہورہی ہے، اس کتاب کے ذریعہ اسلم جمشید پوری ؔکے ساتھ ساتھ جمشیدپور کی بھی ادبی شناخت ادب میں مزید واضح ہوگی۔
اس موقع پر ڈاکٹر شری کرشنا سنستھان کے جنرل سکریٹری جناب ہر ولبھ سنگھ آرسی اور شہر کے مشہور وکیل اور ہندی ادیب جناب لکشمی ندھی نے بھی پریم چنداور عیدگاہ کی روایت پر روشنی ڈالی اور قومی ایکتا کے عناصر کو نمایاں کیا۔
دنیائے ادب کے جنرل سکریٹری جناب انور ادیب نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر صاحب کتاب جناب اسلم جمشیدپوریؔ نے اردو افسانے کے ارتقا اور جمشیدپور کے نمایاں افسانہ نگاروں کی خدمات کا ذکر کیا اور اپنے افسانہ ”پانی اور پیاس“ سے ایک خوبصورت اقتباس سنایا جس سے قارئین بہت لطف اندوز ہوئے۔
مہمانان کی خدمت میں شال اور مومنٹو”دنیائے ادب“کے صدر جناب سید رضا عباس رضوی ”چھبن“ کے ہاتھوں پیش کیا گیا۔
نظامت کے فرائض جناب پروفیسر احمد بدر صاحب اور اظہار تشکّر پروفیسر پی کے مشرا نے انجام دیئے۔ اس موقع پر شہر کی اہم ادبی اور سماجی شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان شخصیات میں جناب اسلم شیخ محمود، اسلم بدر،تنویر اختر رومانی، سعید فردوسی، منظر کلیم، رضوان اورنگ آبادی ڈاکٹر قاضی حسین،ناصر راہی، انور امام، نیاز اختر، مشتاق احزن، جی ڈی احمر، گوہر عزیز، سرور حسین، اے پی آرنائر، نوشاد عالم قمر، محمد اکرم، ممتاز علی اہم ہیں۔

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے