سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا:پروفیسر این کے تنیجا
شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اورسرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ ہفت روزہ سر سید تقریبات اختتام پذیر
میرٹھ19 / اکتوبر2015ء
(پریس ریلیز)
سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا جو آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جو سرسید کے وقت میں رکھتاتھا۔ سرسید کی اسی سوچ کو عام کرنا ان کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔ سر سید کا مقصد ہر شہر،گاؤں اور محلے میں تعلیم گاہ کھولنا اور تعلیم کو عام کرنا تھا۔ ابھی ہم لوگ بہت پیچھے ہیں۔ ہم سب کو مل کر سر سید کے مشن کو عام کرنا ہوگا۔یہ الفاظ تھے شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا کے جو شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اورسرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ جشن سر سید تقریبات سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پرسیانہ، بلند شہر سے تشریف لائے محترم بدر الاسلام(ممبر حج کمیٹی،اتر پردیش) نے کہا کہ سر سید ایسے زمانے میں سامنے آئے جب قوم بے سہارا اور تعلیم کے مقصد سے بے بہرہ تھی۔انہوں نے تعلیم اور بالخصوص جدید تعلیم کی وکالت اور ادارہ قائم کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک تھے۔
ڈین فیکلٹی آف آرٹ پروفیسر یوگیندر سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرسید ایک ماہر تعلیم اور ہندوستان میں جدید تعلیم کے بانی تھے۔ان کے نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے اور سر سید ایوارڈ کے لیے جن ناموں کا انتخاب کیا گیا وہ مناسب ہیں۔صدر شعبہئ اردو ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ؔنے سرسید تقریبات کے معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان تقریبات کے مقاصد پرروشنی ڈالی اور کہا کہ ان تقریبا ت سے طلبہ میں نہ صرف معلومات کا اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان میں اتحادو یگانگت اور ملک وقوم سے محبت ووفاداری کا جذبہ پیدا ہوتاہے۔
اس سے قبل شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ اور سر سید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد ہورہے ہفت رزہ جشن سرسید تقریبا ت کا آج شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے پریم چند سیمنار ہال میں شام ساڑھے چار بجے اختتامی جلسہ منعقد ہوا۔ جس کے صدارت کے فرائض پروفیسر زین الساجدین (چیئر مین، مدرسہ ایجو کیشن بورڈ،اتر پردیش اور شہر قاضی میرٹھ) نے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیئے۔ استقبالیہ کی رسم ڈاکٹر شاداب علیم نے اور شکریہ کی رسم نایاب زہرا زیدی(صدر سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ) نے اداکی۔ جب کہ پروفیسر این کے تنیجا(شیخ الجامعہ،چودھر ی چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ)مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
تقریب کا آغامولانا جبرئیل نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور مہمانوں نے شیخ الجامعہ کے ساتھ ملکر شمع روشن کی اور گلدستوں سے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔محمد صادق نے خوبصورت اندازمیں غزل پیش کی۔بعد ازاں سر سید ایوارڈ یافتگان میں ”تہذیب الاخلاق“ اور پروفیسر صغیر افراہیم کا تعارف محترم آفاق احمد خاں نے،پروفیسر صالحہ رشید کا تعارف ڈاکٹر شاداب علیم نے اور محترم تارا چند شاستری کا تعارف ذیشان خان نے پیش کیا۔
اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر زین الساجدین نے تقریبات کی مجلس منتظمہ کو مبارکبا د دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو بلندیوں تک لے جانے کے لئے آج سرسید جیسے ماہرین تعلیم کے نظریات کو ہر فردتک پہنچانا ضروری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ برے وقت میں بڑا آدمی بننا ایک مشکل عمل ہو تا ہے۔سر سید نے انتہا ئی نا موافقت حا لات میں یہ کار مشکل انجام دیا۔
دریں اثناء”تہذیب الاخلاق“(مدیر پروفیسر صغیر افراہیم،علی گڈھ) کو سرسید کے افکار و نظریات کو فروغ دینے،پروفیسر صالحہ رشید (الہ آباد یونیورسٹی)کو عربی و فارسی خدمات کے لیے اور محترم تارا چند شاستری کو فروغ تعلیم کے لیے سرسید نیشنل ایوارڈ2015سے نوازا گیا۔ساتھ ہی بلند شہر کی مسلم گرلز ڈگری کالج کی طالبات کو تقریری مقابلے میں اول،دوم اور سوم اعزاز سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں سر سید سینٹر مشن کے طور پر مولانا آزاد انٹر کالج،مظفر نگر،مسلم گرلز ڈگری کالج،بلند شہر، مدرسہ اسلا میہ، سیانہ، بلند شہر،این بی پبلک اسکول، میرٹھ،سرسید انٹر کالج، میرٹھ،حمیدیہ گرلز ہائی اسکول، میرٹھ اور اس ہفت روزہ تقریبات میں رات دن ایک کردینے والے محترم آ فاق خاں، محترم ذیشان خاں اور محترمہ نایاب زہرا زیدی کو بھی وائس چانسلر کے دست مبارک سے مو منٹو پیش کیے گئے۔
اس موقع پر ڈاکٹر یونس غازی،طالب زیدی،ڈاکٹر سراج الدین،ڈاکٹر فرحت خاتون، عرفانی بیگم، ڈاکٹر ظفر گلزار،قاضی عقیل احمد، روحامہ احمد،ڈاکٹر آمرین،سلیم سیفی، ڈاکٹر ارشد اقبال، اکرام بالیان،جی ایم مصطفی،پربھات کمار رائے، اروند شرما،مکیش کپور،ڈاکٹر نعیم صدیقی،ڈاکٹر شاہد صدیقی،سمیع خان، ظہیر انور،ارقم شجاع میرٹھی،مدیحہ اسلم، شناور اسلم،محمد آصف، رخسانہ عثمانی، انجینئر رفعت جمالی،ایڈوکیٹ توصیف احمد،ڈاکٹر ارشاد سمیت یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات اور عمائدین شہر نے کثیر تعدا د میں شرکت کی۔
fulltext