ایک شام مشہور شاعر و محقق اسلم بدرؔ کے نام
رپورٹ:ڈاکٹر اقبال واجد، صدر گوشہ ادب، الجبیل، سعودی عرب
الجبیل مملکت سعودی عربیہ کا ایک صنعتی شہر ہے۔سمندری ساحل پر بسے ہوئے اس شہر میں پٹرولیم، پٹرو کیمیکل اور فولاد کے کارخانوں کا ایک سلسلہ میلوں میل تک پھیلا ہوا ہے۔تلاش معاش میں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگ یہاں آباد ہیں۔انہیں لوگوں میں خصوصی طور پرہند و پاک سے آئے ہوئے وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے یہاں اردو زبان و تہذیب کی شمع روشن کر رکھی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی بیجا نہیں ہو گا کہ انہیں کی وجہ سے یہاں کے بازاروں میں اردو زبان کی کلکاریاں سنائی دیتی رہتی ہیں۔
اردو عوام اور ادبی انجمنوں کو جب یہ اطلاع ملی کہ شہر میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر و محقق محترم اسلم بدر صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں تو ان کے اعزاز میں شعری نشستوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ شہر کی ایک سر بر آوردہ و فعال ادبی انجمن ’گوشہئ ادب‘ نے بھی ’ایک شام اسلم بدر کے نام‘ منعقد کرنے کا فیصلہ لیا اور یہ شام نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ’اوشیان رسٹورنٹ‘ کے کانفرنس ہال میں منائی گئی۔تقریب کے وقار کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر مکرم علی خان (علیگ) صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز تھے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے،جدہ سے تشریف لائے ہوئے شاعر و محقق محترم سید نعیم حمید الحامدشریک تھے اور مہمان اعزازی کے طور پر سعودی بحریہ کی ریسرچ لیبارٹری کے محترم ڈاکٹر وجاہت فاروقی (علیگ)۔
جلسے کے آغاز میں راقم (اقبال واجد) نے صدر و دیگر مہمانان کا اجمالی تعارف پیش کرتے ہوئے اسلم بدر کی شخصیت و شاعری پر بھر پور روشنی ڈالی۔یہ جلسہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ پہلے حصے میں اسلم بدر کی تازہ ترین شعری تخلیق ’بوند سمندر‘ کا اجراء ڈاکٹر مکرم علی خان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ڈاکٹر سید نعیم الحامد نے اسلم بدر کی خدمت میں اعزازیہ کے طور پر گوشہ ادب کی جانب سے ایک میمنٹو پیش کیا۔بعد ازاں جناب محمد فیاض صاحب نے ’اسلم بدر، مشاعرے سے بوند سمندر تک‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ خاکہ پڑھا، جسے خاصا پسند کیا گیا۔ راقم (اقبال واجد) نے بھی اسلم بدر کی شعری جہات پر روشنی ڈالی اور ’بوند سمندر‘ پر اپنی رائے پیش کی۔جلسے کے دوسرے دور میں مندرجہ ذیل مہمان شعرائے کرام نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ منتخب اشعاریوں ہیں:
چراغ لے کے مرے ساتھ ساتھ آؤ تم
مرا ارادہ ہے پاتال میں اترنے کا
سفر طویل ہے صحرا کے پار جانا ہے
کوئی نظام نہیں چھاگلوں کو بھرنے کا
سعید اشعر
سینے پہ لگا تمغہ کہیں بیچ نہ دینا
بازار میں ملتی نہیں اعزاز کی قیمت
ایوب صابرؔ
چراغ علم جلا کر کے کو بہ کو رکھنا
کہ تم پہ فرض ہے اس ضو کو چار سو رکھنا
ثاقبؔ جونپوری
وہ جس نے ذہن کو افکار کی تجلی دی
اُسے تلاش کرو بس وہی خدا ہو گا
دھنسے ہوئے ہیں گناہوں میں اس قدر ہم لوگ
کوئی عذاب نہ آیا تو معجزہ ہو گا
سید باقر نقوی علیگ
نہ انتظار کرایا نہ اُس نے وعدہ کیا
نہ اس نے ترک ملاقات کا ارادہ کیا
ڈاکٹر اقبال واجد
زاویے حسن کی نظروں میں نکھرتے ہی رہے
جستجو نے تری ہر آن سفر میں رکھا
ابو شارق
جب نظر اپنے ارادوں پہ جما لی جائے
غیر ممکن ہے نشانہ ترا خالی جائے
ضیاء الرحمٰن صدیقی
اندھیری رات میں جب جب وہ بے نقاب آئے
مقابلہ سا رہا ان کا ماہتاب کے ساتھ
محمد عبد السلیم
میں اس سے جنگ آخر کروں تو کیسے کروں
کہ میرا تیر بھی اُس کی کماں میں رہتا ہے
ڈاکٹر سجاد سید
تھا سبب کوئی کہ اظہار محبت نہ کیا
ورنہ کہنا بہت آسان تھا تُم جانتے تھے
کس طرح تم نے کسی اور سے منسوب کیا
وہ جو نغمہ مری پہچان تھا تم جانتے تھے
اقبال طالبؔ
حرف تازہ جو نہ ارباب قلم نے لکھا
ریگ صحرا پہ مرے نقش قدم نے لکھا
روشنائی متحمل نہ ہوئی غم کی مرے
خون ِدل میں جو ڈبویا تو قلم نے لکھا
ڈاکٹرنعیم حمید الحامد
چونکہ آج کی شام اسلم بدر کے نام تھی، اس لئے اسلم بدر کو لوگوں نے جی بھر کے سنا۔موصوف نے اپنی تعتیہ نظم ’الکوثر‘ سے آغاز کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی غزلیں سنائیں۔۔ کچھ اشعار یوں تھے:
وقت تو اپنی ہی رفتار کا مارا نکلا
وہ محبت تھی کہ سورج بھی دوبارہ نکلا
ابھی نہ مال غنیمت سمیٹئے اسلمؔ
سوار پُشت کے ٹیلوں میں چھُپ کے بیٹھے ہیں
سر سے کفن لپیٹنے والوں کے پاس اب
چادر ہی صرف رہ گئی، سر اب نہیں رہے
اسلم بدرؔ
’علم‘ کے عنوان سے اسلم بدر نے ایک پُر مغز نظم بھی سنائی، جس کے کئی کئی شعر بار بار سنے گئے۔ جلسے کا اختتام صدر جلسہ ڈاکٹر مکرم علی خان(علیگ) کے خطبہ صدارت پہ ہوا۔خطبہ کے دوران ڈاکٹر صاحب نے قدیم علی گڈھ روایات کے کچھ دلچسپ واقعات سنائے اور اپنے مخصوص انداز میں مشاہیر کے اشعار پر پیروڈیاں بھی سنائیں۔
ڈاکٹر وجاہت فاروقی علیگ نے اظہار تشکرکے بعد یہ اعلان کیا کہ کل (25 دسمبر) ان کے دولت کدہ پر ایک مخصوص شعری نشست کا اہتمام رہے گا۔مزید یہ کہ31 دسمبر2015ء کو علی گڑھ اولڈ بوائز کی جانب سے، 8 جنوری 2016ء کو ادارہ ادب اسلامی کی جانب سے اور 14 جنوری 2016ء کو دمام کی ایک ادبی انجمن کی جانب سے مشاعرے کا اعلان کیا گیا۔
اسلم بدر کے نام یہ شام یہاں کی روایت کے مطابق ’کام و دہن کی آزمائش‘ پر اختتام پذیر ہوئی۔
fulltext