غزل
محمد شفیع الرحمن شفیعؔ
نزاکتوں کا خیال رکھیے
یہ آبگینہ سنبھال رکھیے
جبیں پہ جاہ و جلال رکھیے
مگر بخاطر جمال رکھیے
متاعِ مال و منال رکھیے
خود اپنی جاں کا وبال رکھیے
جواب جس کا کہیں نہیں ہو
کبھی نہ ایسا سوال رکھیے
جہانِ انجم تو اجنبی ہے
زمیں سے رشتہ بحال رکھیے
ابو لہب اسم با مسمیٰ
سوادِ حبشی بلال رکھیے
سفر ظفر کا بنے وسیلہ
مگر خیالِ مآل رکھیے
ہے دوستی کا یہی تقاضا
سلوک میں اعتدال رکھیے
ہے شرق اپنا ، ہے غرب اپنا
جنوب ہو یا شمال ، رکھیے
شفیعؔ معقول بات کہتے
وبالِ خواہش کو ٹال رکھیے
fulltext