Skip to main content

Aalamiparwaz

غزل

دلشاد نظمی

 

ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے

چلیں گی آندھیاں اعلان کر دیا گیا ہے

 

پتہ نہیں میں کبھی فائدہ بھی لکھ پاؤں

 کچھ اس قدر مرا نقصان کر دیا گیا ہے

 

یہاں سے امن کے حامی گزرنے والے ہیں

یہ رستہ اس لئے سنسان کر دیا گیا ہے

 

بھگت رہا ہوں میں وعدوں کی تلخ سچائی

تجھے بھی ماءلِ امکان کر دیا گیا ہے

 

قصاص مانگ رہا تھا امیرِشہر سے جو

دِیَت میں اس کو بھی قربان کر دیا گیا ہے

 

اٹھا دیے گئے رستوں سے میل کے پتھر

مسافروں کو پریشان کر دیا گیا ہے

 

بنا دئیے گئے معصوم لوگ دہشت گرد

منافقوں کو مسلمان کر دیا گیا ہے

 

وہ آخری تھی مری چیخ.اور یہ تازہ لہو

 ابھی ابھی مجھے قربان کر دیا گیا ہے

 

خود اپنے آپ سے دلشاد کچھ نہ کہہ پاؤں

 یہ کس قدر مجھے بے جان کر دیا گیا ہے

——–

دلشاد نظمی

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے