Skip to main content

Aalamiparwaz

غزل

نورؔ جمشید پوری

 

 

ادا پہ ایسے بندے کی خدا بھی مسکراتا ہے
انا کو چھوڑ پیچھے جو کہ روٹھوں کو مناتاہے

چمک ہوتی ہے جس کی مختلف کچھ اور تاروں سے
اسے پھر آسماں بھی جھک کے بانہوں میں اٹھاتا ہے

لکیروں میں مقدر ڈھونڈنے کا وہ نہیں قائل
جو اپنے بازوؤں کے دم پہ قسمت کو بناتا ہے

تو پھرہر موڑ پر ملتی ہیں بس ہموار راہیں ہی
اگر کوئی کسی کی راہوں کے پتھر ہٹاتا ہے

برستی ہے سدا رحمت خدا کی اسکے آنگن میں
رضا کے واسطے رب کی جو بچھڑوں کو ملاتاہے

جو بند آنکھوں نے دیکھا تھا اسے تم خواب مت سمجھو
ہے سپنا در حقیقت وہ جو نیندوں کو اڑاتا ہے

رقم کرتا نہیں تاریخ کوئی یوں ہی صفحوں پر
پسینے کی شکل میٰں خون وہ اپنا بہاتا ہے

بڑھا دیتا ہے اپنا مول سونے سا نکھر کر وہ
جو روز و شب لگن کی آنچ میں خود کو تپاتا ہے

یقینا نور سے وہ علم کے سرشار ہوتا ہے
دیا انسانیت کا اس جہاں میں جو جلاتا ہے

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے