غزل
نورؔ جمشید پوری
ہےسیا ست میں کثافت کی حکومت کیا کروں
رائیگاں اب جارہی ہے ہر شہادت کیا کروں
دیکھ حالت ملک کی اب خون کے آنسو بہے
مل گئی ہے بے ضمیروں کی قیادت کیاکروں
راستہ تھا کون سا ؟ کس راہ پر یہ چل پڑی؟
بڑھ رہی اب قوم میں اپنی ضلا لت کیا کروں
حادثے کچھ دیکھ عبرت سے بھرے، آنکھیں کھلیں
ہاتھ کا یہ میل لگتی ہے بضاعت کیا کروں
لغزشوں سے دور ہوتے، جو دلوں کو جوڑ دے
ایسا کوئی بھی ملے نہ اب وساطت کیا کروں
نذر آتش کردیا ہے ہر سخاوت کا حساب
وقتِ رخصت آگیا ہے اب اشاعت کیا کروں
چین پایا دن میں، نہ ہی رات دیکھی نورؔ نے
اس سے بڑھ کر اب بتاؤ میں ریاضت کیا کروں
نورؔ جمشید پوری
fulltext