|
وادئ جاں میں جاں بہ لب اترے ہو رہا ہے غبارِ شام بلند پردۂ برگ گل میں لمس بدن خواب میں کچھ نقوش بے معنی بھول کر درد اپنے سب آداب جھانجھنے چاندنی کی بجنے لگیں کتنے بے نام ذائقے اسلمؔ |
دنیا سب کی داسی ہے
کیا یہ بات ذرا سی ہے مٹی سے نوری حد تک چھونے سے اپنانے تک بھوگ کے سارا سکھ سنسار صحرا کی چُپ ہے سیراب وقت کچھ ایسا ہے ہم پر |
| کانپ رہی ہے جو تھر تھر
بوند وہی دریا سی ہے پھولوں کی مہکار میں بھی شب کا کاجل ہے تیار چاند نگر کے باسی کو ایک ہی سُر ہیں میرؔ ، نظیرؔ اسلمؔ وہ چنچل کایا |
دیکھیں اب کرتے ہیں کس کو مرے ایّام پسند
نفس انجام پسند ، اور نَفَس آرام پسند کتنے معصوم ہیں جذبے ، مگر اظہار گراں حُسن ہر آن، سبک گام، خود آرائی میں گُم اپنا اپنا ہے خیال، اپنی نظر ، اپنا مزاج جِنسِ بازار ہوئی فکرِ سخن ، حُرمتِ فن پھر وہی تیشۂ احساس اُٹھا لے اسلمؔ |
|
مُجھے تیری کہ اپنی جُستجو ہے مرا سایہ بھی ہر جانب ہے میرے خود اپنے منظروں میں گُم ہے شائد وہ پیکر کسقدر پاکیزہ ہو گا بڑی مُدّت کے بعد آیا ہوں گھر میں شعورِ ذات کا مارا ہوا ہوں |
چلتے چلتے رستے اُکتا جاتے ہیں آج بھی بہلا جاتی ہے خوشبوئے نفس رات اندھیری ہو گی چراغاں ہونے تک دِن کے ننگے تن پر شام اُتر آئی دُور اُفتادہ ، ہجر گزیدہ رستوں پر کوئی تو ہے ، جو چھُپ کر دیکھتا رہتا ہے |
|
قدم بساط سے آگے بڑھا نہیں کرتے حصارِ وہم و گماں توڑ کر جلائے ہیں ہم ایک پھول کو کانٹے سے ٹانک رکھتے ہیں ابھی تو دھوپ جبیں سے لبوں تک اتری ہے یہ استعارہ ہے مٹی سے پیار ہونے کا چٹکتے رہتے ہیں پانی کے بلبلے اسلمؔ |
کمرے میں ، جُگنو، تارے، مہتاب سجے دریا ، جھیل، سمندر، سب کچھ اس کا رُوپ جیسی نظریں ، ویسے دل کش نظّارے ریل سے ہم بھی دیکھ رہے ہیں ، تفریحاً صحرا منظر ہیں اب تک بھیگی آنکھیں دیکھ رہا ہوں خالی خالی آنکھوں میں اب بھی ہیں ویران کھنڈر کے درپن میں |
|
ذہن جب خاکِ تن اتارتا ہے کھنچ گئی ہے کمان رنگوں کی کوہسارِ افق سے خون کی نہر میرا ہمزاد ، میرے شعروں میں زلزلہ سا زمیں پہ ہے طاری |
پھر ہے صحراؤں میں بگولوں کا رقص کالے کاغذ پہ رات کا فنکار ہے مُصوّر کی آخری تصویر |
fulltext