منظر کاظمی …لکشمن ریکھا کے آس پاس
از: رضواںؔ واسطی
سر پرکسی حد تک گھونگھریالے بال، آنکھوں میں وقفہ وقفہ سے جھلکیاں دیتا گلابی دھند کے پرے، ستواں مگر تیکھی نکیلی ناک، ناک کے نیچے ہونٹوں کا چھوٹا دائرہ جس میں سے آزاد ہوتا ہوا سگریٹ کے دھوووں کا مرغولہ اپنے حصار میں سینے سے اٹھتے ہوئے طوفان کو قید کئے دور بلندی پر لے جاکر خود بھی آزادی کی سانس لیتا ہے اور خیالات کوبھی فضا میں آزاد چھوڑدیتا ہے۔چہرے کی رمق اور خدو خال کا تیکھا پن ذہانت کا اعلامیہ ہے۔انگلیوں میں دبا ہوا سگریٹ کبھی کبھی احساس کو جھلسا کر اپنی موجودگی کے ثبوت سے خیالات کی توجہ بدلتا ہوا… یہ ہے منظر کاظمی کی وہ تصویر جو کبھی کبھی نظر آتی ہے۔سینے میں اٹھتا ہوا جذباتی ہیجان اور ذہنی رَوکی زیریں روانی کا طوفان بتا رہا ہے کہ باہری دنیا کا کوئی سانحہ احساسات کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے بظاہر طوفان نظر آنے والا منظر کسی معمولی بگولے کا عکاس ہو۔لیکن ایک حساس ذہن ،ایک ذہین فنکار اور ایک دانشور قلم کار کے براہِ راست متأثر ہونے میں اور ایک عام انسان کی سوچ میں کافی دوری ہوتی ہے۔ یہ کام منظر کاظمی جیسے ادیب کا ہوتا ہے کہ اس طوفان کے متوقع اثرات سے قاری کو اپنے قلم کی مدد سے آشنا اور متوجہ کرادے؛ اوراحساس کو جھنجھوڑ دے۔اب مضراب خامہ کون سا نغمہ کون سے ساز پرچھیڑتی ہے؟ اس کا فیصلہ وہی ہیجان کرے گا جو قلم کار کے سینے میں کروٹیں لے رہا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ منظر کاظمی نے پہلے تحریر کی دنیا میں صحافت نگاری کے راستے قدم رکھا تھا۔ آج کی صحافت آنے والے کل کی تاریخ کہلائے گی۔آنے والی تاریخ آئندہ نسل کے ہاتھ میں ہوگی۔واقعات کو آئینے کے کس زاویئے سے پیش کرے گی یہ اس نسل کی سیاست جانے۔ افسانہ نگار آج کی صحافت کو آج کی تواریخ بنا دیتا ہے اور اس میں معاون ہوتا ہے اس کا فن اوراس کی فن کاری.. .پریم چندنے بہت خوبصورتی سے کہا تھا کہ تواریخ اور افسانوں میں بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ تواریخ میں واقعات غلط ہوتے ہیں تاریخیں اور نام صحیح، جبکہ افسانوں میں تاریخیں اور نام غلط ہوتے ہیں واقعات صحیح۔
منظر کا ظمی ایسے ہی واقعات کے ساتھ چلتے ہیں۔یہی وجہ ہے اس دور میں جب جدیدیت کے نام پر اچھے اچھے افسانہ نگار بھٹک رہے تھے منظر کاظمی نے خود کو گمراہی اور گم گشتگی سے محفوظ رکھا۔جدیدیت کے نام پر کچھ نیا کرنے کی تمنا اور خواہش ضرور تھی جو ان کے مختصر افسانوں میں جگہ جگہ نظر آجاتا ہے۔
منظر کاظمی ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جس نے زندگی کی ہر سطح پر ہر روپ میں خود جی کر دیکھا ہے اور دکھایا بھی ہے۔۲۴؍ ستمبر ۱۹۴۰ ء میں پیدائش کے بعد مکمل شروعاتی عمر ضلع دربھنگہ کے سندرپور میں گزری۔میٹرک کرکے جمشیدپور چلے آئے اور صحافت میں زندگی کو آگے بڑھایا۔ میڈیکل ڈاکٹر کے بیٹے تھے خود بھی ہومیو پیتھی ڈاکٹری میں اچھا نام کمایا۔ اسکول میں ٹیچری کی، کریمیہ ٹرسٹ میں کلرکی کی، ٹاٹا اسٹیل میں ملازمت اختیار کی لیکن یہ آخری منزل نہیں تھی…کریم سیٹی کالج میں لیکچرار اور پھر پرنسپل کے عہدے پر فائزہوئے۔ ذہانت کی بلندی نے ایڈمنسٹریٹر کی کرسی میں بھی خوب ساتھ نباہا۔
’لکشمن ریکھا‘ منظر کاظمی کے مختصرافسانوں کا ایک مختصر سا مجموعہ ہے اور اسے دیکھنے کے بعد سوچ کروٹ لیتی ہے… منظر کاظمی جیسے عظیم فنکاراور تسلیم شدہ مستندافسانہ نگار کی کل کائنات ’لکشمن ریکھا‘ کے کل سترہ افسانوں میں سمٹی ہوئی ہو،ذہن تسلیم نہیں کرتا۔اگر اس شخص نے اوسطاً ہر برس دو مختصر افسانے بھی لکھے ہوں تو کم از کم اسّی افسانوں کا ایک معمولی سا ذخیرہ تو ہونا ہی چاہیے تھا ۔شماریات کے کسی طالب علم کی طرح میں نے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے بلکہ یہ ایک محتاط قیاس تھا، جس سے یہ احساس اجاگر ہوا کہ:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں
دراصل منظر کاظمی کو طبیعی طور پر جتنا جینا چاہئے تھا ، زندگی نے اس سے بہت کم جینے کی مہلت انہیں دی… جتنا لکھنا چاہئے تھا ،اس سے بہت کم لکھا … جتنا لکھا، اس سے بہت ہی کم چیزوں کی اشاعت ہوئی…جتنے افسانوں کی اشاعت ہوئی ، ان میں سے بہت کم کو تزئین و ترتیب یا تسوید کے مرحلے سے گزرنے کا موقع ملا۔پھر بھی بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہی چند افسانے منظر کاظمی کے قلم کو افسانوی اور ادبی دنیا میں حیات جاودانی بخشنے کے لئے کافی ہیں۔
اردو افسانہ نگاری کی عمر ایک صدی سے زیادہ ہوگئی اور اس سو سال یا اس سے کچھ زیادہ کے سفر میں اس نے کا فی اتار چڑھاؤ دیکھے۔منشی پریم چند کے افسانوی مجموعہ ’سوزِ وطن‘ کی سیدھی سادی کہانیوں نے تیس پینتیس برس کے عرصے میں ’کفن‘ جیسے علامتی افسانے کا روپ اختیار کرلیااور پھر اسی کے ساتھ ساتھ ترقی پسند تحریک کے بنیادی تقاضوں نے افسانوں میں بیانیہ سادگی کو تو اہمیت دی لیکن پرکاری کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی۔ سادگی اور پرکاری کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلاگیا۔ تاریخ کی زبان میں ہم جسے ’آزادیِ ہند‘ کہتے آئے ہیں ،اس نے اپنے ساتھ بٹوارے ، خون خرابے اور جلاوطنی کا کتنا بڑا سیلاب لایاافسانوی دنیا میں بھی ایک ہلچل مچادیااور افسانوں کو ایک نئی جہت سے روشناس بھی کرایا۔
سماجی تناؤ، فسادات، غریبی، بھوکمری، سماجی نامساویت،مزدور اور غریب طبقہ کے خلاف ظلم و بربریت کا اندھا ناچ اور بدعنوانیوں کے ہم رکاب نفسیاتی اور جنسی کجرویاں بھی افسانوں کے موضوعات میں شامل ہوگئیں۔ مواد اور مدعا کی بہتات نے ہیئت اور اسلوب کے اعتبار سے بیسویں صدی کے چھٹے عشرے تک افسانوی ذہن کو یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں دی کہ کم از کم وہ اپنا لباس تو تبدیل کرلے۔ پھر مقصدیت نامقصدیت اور روایت سے بغاوت کے نام پر ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ جدیدیت کا دور کہلایا۔ افسانہ نگاری کے ارتقائی سفر میں بلاشبہ یہ ایک شکست وریخت (Metamorphosis) کے ایک فطری دور کا آغاز تھا۔ یہ اور بات ہے کہ شناخت کی تلاش میں کچھ گم شدہ اور بھٹکے ہوئے ذہنوں نے رطب و یابس اور غیر فطری عناصر کی طرح اس عمل کو بھی ایک توڑ پھوڑ کی شکل دے دی تھی۔پلاٹ، کردار، منظرنگاری وغیرہ ہی تجربوں کی بھینٹ نہیں چڑھے ،بلکہ کہیں کہیں تو افسانوں کی روح یعنی وحدتِ ثلاثہ تک کو نہیں بخشا گیا۔ان تجربوں میں خس و خشاک کی بہتات تھی جو وقت کی تیز ہواؤں کے سامنے ٹک نہ سکے۔راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔ تنازع البقأ کی جنگ یہاں بھی چلی اور غیر اصلح فنا ہوگئی۔لیکن اس آگ نے اصل فن کو تپا کرکندن بنا دیا۔
بقولِ شخصے وحیداختر بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی کے بعد مختصر افسانہ فضاؤں میں معلق ہوگیا تھااور اسی اور نوّے کی دہائیوں میں ایک بار پھر زمین پر اس کے پاؤں واپس آگئے اور اب اس کی شکل پہلے سے زیادہ نکھری ہوئی ہے۔ منظر کاظمی کی افسانہ نگاری اس پورے دور کا نہ صرف احاطہ کرتی ہے بلکہ آئینہ دار بھی ہے۔ یوں تو اس دور میں اوپندر ناتھ اشک جیسے بزرگ اور روایت پرست افسانہ نگار بھی اس طوفانی تحریک سے اپنے آپ کو اچھوتا نہ رکھ سکے، لیکن شاید کوئی اہم کارنامہ انجام دینا ان کے مقصد میں شامل نہیں تھا۔ہاں جوگندر پال کے افسانوں نے ادبی دنیا میں ضرور ایک تہلکہ مچادیا۔جوگندر پال کے علاوہ جو نام اس دور کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے اور اپنی ایک الگ شناخت بناتا ہے وہ نام منظر کاظمی کا ہے۔ میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ پریم چند سے انہیں بڑی محبت تھی اور پریم چند کا افسانہ ’کفن‘ ان کے پسندیدہ افسانوں میں سب سے اہم تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی تمام ترجدت طرازیوں کے باوجود منظر کاظمی قصہ سنانے کا فن نہیں بھولے ہیں۔
منظر کاظمی افسانہ لکھتے نہیں جس طرح کوئی اچھا شعر ایک شاعر کو لکھنے پر مجبور کردیتا ہے…..اسی طرح جب کوئی خیال منظر کاظمی کے ذہن کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو یہ آنے والے خیال کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں اور اس طرح انہیں ایک موضوع مل جاتا ہے۔وہ اس موضوع کو ایک مقصد کے تحت استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ بظاہر یہ کوئی عام زندگی کا عام اور معمولی سا واقعہ یا سانحہ ہو…لیکن ان کے دل میں احساس وجذبات کا طوفان مچانے کے لئے ایک ہلکی سی ہوا کا جھونکا کافی ہے۔اس طوفان کو اپنے دشتِ فکر میں آزاد چھوڑدیتے ہیں۔جو فکر سے قلم میں اور پھر قلم سے صفحۂ قرطاس پر منتقل ہو جاتا ہے۔اس پورے عمل میں ایک خاصی مدت لگتی ہے ۔۔۔ اور ایک زندگی کی حقیقتوں اور لطافتوں سے بھرپور افسانہ عالمِ وجود کو لبیک کہتا ہے۔اپنے اس جذباتی ہیجان کو منظر کاظمی ایک یا زیادہ سے زیادہ دو نشستوں میں الفاظ کے محاصرے میں سمیٹ لینا چاہتے ہیں۔یہ عمل شعوری ہے لیکن کبھی کبھی جذبات کا یہ طوفان شعور کا ساتھ نہیں بھی دیتا ہے اور افسانہ ایک خودرو پودے کی مانند بالیدہ ہوجاتا ہے۔یہ تو صحیح ہے کہ اس میں تخئیل کا اصل مادہ مجروح نہیں ہوتا ،تاہم اس کی آزادہ روی اپنی فطرت کے اعتبار سے اسے کبھی شاعری اور کبھی انشایئے کے نزدیک لادیتی ہے اور وحدتِ ثلاثہ کا روایتی تصور دھندلا ہوتے ہوتے آنکھوں سے اوجھل ہونے لگتا ہے۔کچھ ناقدین نے تو منظر کاظمی کے کئی افسانوں کو لوازمات کے فقدان میں اسے افسانہ ماننے سے ہی انکار کیا ہے اور اسے انشائیہ تک کہہ ڈالا ہے۔
افسانے کی اب تک حتمی تعریف متعین نہیں ہوئی ہے۔ کبھی مختصر افسانے کو اس کے نام کے اعتبار سے وقت کے دائرے میں محصور کیا گیااور جب یہ دائرہ ٹوٹا تو وحدتِ ثلاثہ کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی گئی ۔وحدتِ زماں ، وحدتِ مکاں اور وحدتِ امر یا تأ ثر کو بنیادی اصول مانا جانے لگا۔ کبھی عناصر اور لوازمات مثلاً ماجرا، منظرنگاری،کردار،تجسس اور تصادم، تمہید، نقطۂ عروج اور برعکس نقطۂ عروج وغیرہ کی شمولیت کو مختصر افسانے کے مذہبی اعمال میں شامل کرلیا گیا۔ حالانکہ ہمارے آبا واجداد نے جب کہانیاں سنائی ہونگی تو ان کو ان سب باریکیوں کا علم بھی نہیں ہوگا۔ ایک راجا تھا…اس کی تین رانیاں تھیں …ا س کی سات بیٹیاں تھیں…وغیرہ کی داستانیں ضرورت وقت اور ارتقائی منزلوں سے گزرتی ہوئی آج بھی رواں دواں ہے۔ الکٹرانِک میڈیا نے اسے اور آکسیجن پہنچایا ہے۔حقیقت اور افسانے پہلے ایک دوسرے کے تضاد سمجھے جاتے تھے۔ آج افسانے انہیں کو کہا جاتا ہے جو حقائق پر مبنی ہوں۔ یعنی سانحہ یا واقعہ ایسا ہوا ہو یا نہیں لیکن ایسا ہوسکتا ہے؛ بلکہ ایسا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ اختصار تو وقت کی ضرورت ہے۔ تکنیکی اعتبار سے اگر افسانے کی تعریفی منزل تک رسائی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہونے کی امید ہے۔ لیکن غیر تکنیکی اعتبار سے بی۔ جان کی یہ شاعرانہ تعریف بہت پرکشش ہے:
’’اگر آپ صبح سویرے باغ کی سیر کو جائیں گے تو پھول کی پنکھڑیوں پر اور پتیوں پر شبنم کی ننھی ننھی صاف و شفاف بوندیں دیکھیں گے ان بوندوں میں آپ کو آس پاس کی ایک مکمل دنیا نظر آئے گی … یہی افسانہ ہے۔‘‘
افسانوں کی تعریف سے متعلق جن باتوں اور لوازمات کا اوپر تذکرہ کیا گیا آج بھی افسانوں میں موجود ہیں لیکن ان اصطلا حات کی تفصیلی بحث میں فرق ضرور آیا ہے۔ہوسکتا ہے منظر کاظمی اور ان جیسے کچھ افسانہ نگاروں کے یہاں وحدت زماں مجتمع طور پر گھڑی کی سوئیوں اور کیلنڈر کی تاریخوں پر منحصر نہ ہوں، وقت کی مدت یا پھیلاؤ کا تعلق ازل سے ابد تک ہو…وحدت مکاں ایک مکان یا محلے سے نکل کر ارض و سماسے پرے لاہوت تک کو احاطہ کرتی ہو…وحدت امر یا تأ ثرکے اعتبار سے ان کا فلسفہ حیات و ممات کی آفاقیت کو قید کرتا ہو۔ یہی وسعت ان کے کرداروں اور منظرنگاری میں بھی نظر آتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے کردار پریم چند کے ’کفن‘ کے ہوری ؔ اور گھسیٹا ؔ کی طرح دو فرد نہیں بلکہ ان کے کرداروں میں کہیں ایک سماج ایک قوم یا ایک معاشرہ نظر آتا ہو۔ منظر نگاری میں ہو سکتا ہے کہ ان کے افسانوں کا بازار جو آپ کے پیشِ نظر ہے وہ نہیں بلکہ دنیا کا بازار ‘ہو۔ عام طور پر منظر کاظمی کے افسانے کا تعلق واحد تأثر سے ہوتا ہے جسے پیش کرنے کے لئے صرف ایک یا کچھ مخصوص سانحات یا مناظر کو قلمبند کیا جاتاہے۔ ساخت کے اعتبار سے موصوف کے افسانے میں کسی پیچیدہ ماجرا(پلاٹ) کا انتخاب نہیں کیا جاتا بلکہ پلاٹ بہت مختصراور سہل ہوتا ہے۔ان کے کردار فعال ہوتے ہیں اور ڈرامائی تصادم کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں، ہاں کوئی ضروری نہیں کہ کردار کا مکمل خاکہ سامنے ہو یا سامنے آجائے۔ افسانوں کا دائرۂ کار محدود ہوتا ہے پھر بھی اس کا فیصلہ تب ہی ممکن ہے جب اس کے کردار اور موضوع سے متعلق منظر کاظمی کی کاریگریاں اور صناعی تأثراتی طور پر قاری کو پوری طرح مطمئن کرتی ہیں۔اور اس پر منظر کاظمی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
ہر افسانے کی زبان اتنی خوبصورت، چست اور درست ہے گویا منظر کاظمی لکھتے نہیں بلکہ قلم کی روشنائی سیماب کی طرح ڈھلک کر خود الفاظ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور صفحۂ قرطاس پر موتی بن کر بکھرتی جارہی ہے۔ کچھ لمحوں کے بعد رمزیت رمزیت نہیں رہ جاتی بلکہ ہر اشارہ کتاب کی طرح ورق در ورق کھلتا چلا جارہا ہے۔ بھرپور، فی البدیہ اور باموقع تلمیحات کا استعمال بھی افسانوں کو شاعری سے نزدیک تر کردیتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاعری میں تلمیحات کی تلخیص کبھی کبھی عام طور پر قاری یا سامع کے علم اور فہم و دانش کا امتحان بھی لے لیتی ہے۔ لیکن افسانوں میں بہتر تفصیل کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔
’’……اس سے پہلے یہ ہوا تھا کہ ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں بپھری ہوئی فوج تھی اور دوسری طرف کوئی نہ تھا۔ سب لوگ پہاڑوں میں جاچھپے تھے اور روتے تھے اور ان پر خوف طاری تھا۔ادھر یہ بپھری ہوئی فوج کا لے کالے جرنیلوں کے ساتھ لڑائی پر آمادہ تھی۔ لیکن ان کے مقابلے میں کوئی نہ تھا۔ ایک گھر تھا اور وہاں ایک سیاہ غلاف تھا اور یہ چاہتے تھے کہ اس سیاہ غلاف سے پھوٹنے والی روشنی کو ہمیشہ کے لئے بجھا دیں ۔ لیکن ان کے ساتھ ایسا ہوا کہ مقابل میں کوئی نہ تھا پھر بھی ان کے سروں پر کالے کالے بادل امنڈ آئے اور جب وہ برسے تو بپھری ہوئی فوج حیران رہ گئی۔ طاقت کے زعم میں ڈولتے ہوئے کالے کالے جرنیل بھی بھاگ کھڑے ہوئے، تو دیکھا یہ گیا کہ مقابل میں کو ئی بھی ہو پھر بھی فتح انہیں کو ہو تی ہے جن کو ہونا ہوتی ہے اور یہ بات بھی دیکھی گئی کہ تعداد کی کوئی جنس نہیں ہوتی اور مْقصد سے بڑا جرنیل نہیں ہوتا۔ ‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل)
بڑی بڑی فلسفیانہ گتھیوں کو سلجھانے کے لئے ایسے امور کا سہارا لیتے ہیں جو عمومی طور پر ہم آپ اور سبھوں کی نظروں سے گزرتے ہیں لیکن ہم یا آپ انہیں اہمیت اس لئے نہیں دیتے کہ بظاہر یہ باتیں بہت معمولی نظر آ تی ہیں۔ منظر کاظمی کی ژرف نگاہی ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑا بڑا مواد حاصل کرلیتی ہے۔ مثلاً افسانہ ’طوطے بولتے ہیں‘میں ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔
’’بھئی یہ بتا ؤ یہ طاطا کھڑا ہے یا بیٹھا ہے۔‘‘
’’اگر ڈائس پر ہو تو کھڑا ہے اگر شاخ پر ہو تو بیٹھا ہے۔‘‘
منظر کاظمی کا کوئی بھی افسانہ چھوٹا یا بڑا نہیں بلکہ بقول ڈاکٹر وہاب اشرفی ان کی پانچوں انگلیاں برابر ہیں۔ منظر کاظمی کی قصہ گوئی اور اس کی کامیابی کے درپردہ آخر راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید شعوری سطح پر خود منظر کاظمی کے پاس بھی نہ رہاہو …لیکن افسانہ’ سو گز پر دفن کہانی‘ کے بین السطور میں کہیں کہیں اس کے جواب کی جھلکیاں ضرور ملتی ہیں۔
’’اور تیسرا آدمی رد کردیا گیا۔
ہم‘ ہم ہیں
تم، تم ہو
مگر یہ تیسرا کون ہے؟‘‘
جو لوگ اس کہانی کا پس منظر جانتے ہیں ان کے لئے اس سوال کا جواب ڈھونڈھنا بہت مشکل بھی نہیں ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ۱۹۷۹ ء کے فسادات کے دوران جمشیدپور شہر میں ایک ا عظیم افسانہ نگار زکی انور امن کے نام پر شہید کردیا جاتا ہے اور اس کی قبر منظر کاظمی کے گھر سے سو گز کی دوری پر ہے۔
’’مگر یہ تیسرا کون ہے؟‘‘
یہ ایک سوال نہیں۔۔۔ ایک دعوت ہے ، ایک چیلنج ہے آج کے دانشوروں کے لئے۔۔۔اور اسی طرح کے سوال اور کرید پیدا کرنے کا ہنر منظر کاظمی کو ایک بڑا افسانہ نگار بناتا ہے۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کو مایوس بھی کرتا ہے جو آج بھی افسانوں میں یا تو یا تو دوپٹے کی رنگینیاں اور آنچل کی ہوا تلاش کرتے ہیںیا زیادہ سے زیادہ اپنے آس پاس اور اپنے گھریلو زندگی کی ترجمانی پسند کرتے ہیں۔ایک بات سمجھنے سے اب تک قاصر ہوں کہ انتخاب کی سختی نے آخر کچھ بہترین افسانوں مثلاً علاج، دن کا سورج رات کا چاند، جیسے افسانوں کو نظر انداز کیوں کردیا گیا ہے۔ تلاش و تحقیق ابھی منظر کاظمی کے دوسرے بہتیرے افسانوں کا انتظار کررہی ہیں۔
۔۔۔(***)۔۔۔
از: رضواںؔ واسطی
fulltext