Skip to main content

Aalamiparwaz

’’ کارواں ‘‘ ایک تجزیاتی مطالعہ

اسلم بدرؔ 

انسانی تہذیب نے اپنے ارتقائی مراحل ، حیوانات کے بود باش کا مشاہدہ کرتے ہوئے طے کئے ہیں۔اللہ نے بھی آدمؑ کو جنت سے زمین پر اتارنے سے پہلے ہی اس زمین پر جمادات ونباتات و حیوانات کی دنیا بسا رکھی تھی۔ آدم ؑ کوپہلا علم تو اللہ نے ہی ان کے کان میں علم الاسماء پھونک کر سکھایا تھا کہ اسے اشرف المخلوقات ہونا تھا، مگر زمین پر اترنے کے بعد جب آدم ؑ و آدم زاد نے خود کو سری لنکا کے جنگلوں میں جنگلی جانوروں کے درمیان گھرا پایا تو اپنی محافظت اور بود و باش کے طریقے انہیں جانوروں سے سیکھے ہوں گے۔غاروں میں رہنا اور شکار کرناشاید شیروں ، بھالوؤں سے سیکھا ہو گا۔ درختوں پر درندوں سے محفوظ رہنے کا فن بندروں سے سیکھا ہو گا۔کبھی دیکھا ہو گا کہ ریوڑ میں رہنے والے جنگلی بھینسوں کے سامنے شیر بھی اپنی دم دبا لیتے ہیں، اجتماعی زندگی انہیں بھا نے لگی ہو گی۔پھر گاؤں بسائے گئے ہوں گے۔ اور اس طرح انسانی تہذیب نے جست لگانا شروع کر دیا ہو گا۔ پرندوں کو دیکھ کر ابن فرناس نے اپنے بازوؤں سے پر باندھ لئے اوراسپین کے ایک ٹاور سے چھلانگ لگا دی بعد ازاں لیونارڈو دا ونچی اور رائٹ برادرس کے نام ہوائی سفر کا سہرا باندھا گیا۔چمگادڑوں کی جبلی قوت نے آدم زاد کی رہنمائی رادار تک کی۔انسانوں اور جانوروں کے اسی درمیانی رشتے کو سمجھنے میں شاید ڈارون سے کہیں کوئی غلطی ہو گئی کہ اس نے ایک جاہلانہ اعلان کر دیا ….’آج کا انسان ، بندر کی اولاد ہے‘۔ حالانکہ اس رشتے کی بنیاد نفسیاتی ہے جسمانی نہیں۔
انسانوں اور جانوروں کا یہی نفسیاتی رشتہ ، مہتاب عالم پرویز ؔ کے ’کارواں‘ کی کہانیوں کا خمیر ہے۔یہ نفسیاتی رشتہ ان کے تحت الشعور میں شاید کہیں دبا ہوا ضرور تھا جس کی گرہیں اُن کی کہانیوں میں کھلتی نظر آتی ہیں۔کبھی کبھی بلکہ اکثر ان کی کہانیوں کے عنوانات سے اس کا راست اظہار ہوتا ہے تو کہیں متن سے اور کہیں متن کے ایک جملے سے ۔ 
’کارواں‘ کے بلبلاتے ہوئے اونٹ۔ ’کتیا‘ کا سفید بالوں والا کتا اور گلی کی آوارہ اور میلی کچیلی کتیا، انسانوں کا کتوں جیسا اور کتوں کا انسانوں جیسا برتاؤ۔’کبوتر باز‘ کے جنگلی کبوتروں کا شکار کرتے ہوئے سفید کبوتر۔’سانپ اور پرندے‘ میں سانپ جیسی بل کھاتی سڑک پر سیر کرتے بھیڑئے جیسے خونخوار لوگ، ریچھ کے ناخونی پنجوں میں خوبصورت لڑکیوں کی مخروطی انگلیاں،کُتے سی خصلت جیسے رال ٹپکاتے لڑکے، درخت سے لپٹا ہوا وہ سانپ جو پرندے کے گھونسلے میں چوزوں کو نگل رہا ہے اور پھر سانپ پر پرندوں کا حملہ۔ ’آخری پرواز‘ کے کبوتر کی جوڑی، کبوتر کی پہلی اور باز کی آخری پرواز، کبوتر کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے جنگل کے سارے پرندے۔ ’جرثومے‘ میں سماج کے پروردہ ظلم و نا انصافی کے جرثومے، اپنے خول میں سمٹی بیر بہوٹی اور بد مست ہاتھی کی طرح جھومتا ہوا وشال پیڑ۔’ایک تلاش ہے زندگی‘ کا منڈلاتا ہوا بھنورا اور رنگ برنگی تتلیاں۔’بازگشت‘ کا وحشی درندہ اور تاریکی میں پھڑپھڑاتے ہوئے پرندے (چمگادڑیں)۔ ’کہانی کا دوسرا رخ‘ میں اپنی گردنوں پر جانوروں کے خوفناک چہرے لگائے ، ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہوئے لوگ اور اپنے بچوں کو پلّا سمجھنے والی ماں۔’رشتے کی بنیاد‘ کا کتّا (انور)۔ ’گائیڈ لائین‘ میں مکڑی کے جالے اور تتلی کے رنگین پر۔بیک ڈور کا رینگتا اور پھنکاریں مارتا ہوا سانپ ۔
ان کہانیوں میں ’کارواں‘، ’کتیا‘،’ کبوتر باز‘، ’سانپ اور پرندے‘، ’آخری پرواز‘، ’بازگشت ‘ ، ’جرثومے‘ اور ’بیک ڈور‘ ایسی کہانیاں ہیں ، جن سے گزرنے کے بعد یہ پتا چلتا ہے کہ ایک جینوین کہانی کارکس طرح اپنے ارد گرد رونما ہونے والے عام سے واقعات و حادثات سے کس حد تک اثر قبول کرتا ہے اور کس طرح ایک بظاہر معمولی سا وقوعہ ایک بڑی کہانی کو جنم دے سکتا ہے۔ وہ کہانی خانگی و سماجی بھی ہو سکتی ہے،نفسیاتی بھی، سیاسی بھی ، قومی بھی اور بین الا قوامی بھی۔ ’کارواں‘ کی کہانیاں ان تمام مسائل سے دو چار ہیں۔
کہانی کار نے ایک عرصہ خلیج ممالک میں کام کرتے گزارا ہے۔اس نے وہاں کے حالات کا بھر پور مشاہدہ کیاہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس طرح وہاں کے صحرا باہری ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیتے ہیں۔ جہاں کامگاروں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ وہاں کے اونٹ ، کامگاروں سے زیادہ قیمتی ہیں۔ جب اس علاقے میں کبھی زہریلی گیس پھیلتی ہے تو انتظامیہ کے سارے عملے کو انسانوں سے زیادہ اونٹوں کو بچانے کی فکر ہوتی ہے ۔ ’کارواں‘ نامی اس کہانی میں ایک نفسیاتی موڑ بھی ہے۔ کہانی کار کی چھوٹی بیٹی کو اونٹ کی سواری بہت پسند ہے۔ کیوں پسند ہے ، کہانی کار نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے مگر بین السطور یا پھر بچی کے تحت الشعور میں شاید یہ بات پوشیدہ ہے کہ جب بھی اس کے ابا اونٹوں کے ملک سے آتے ہیں تو طرح طرح کے کھلونے اور تحفے لے کر آتے ہیں ۔ اب وہ چاہتی ہے کہ اس بار اس کے ابا وہاں سے اونٹ لے کر آئیں۔ ابا تو نہیں آتے ، ابا کی لاش ایک تابوت میں بند آتی ہے اور بچی اس تابوت پر سوارہو جاتی ہے۔
’کتیا‘ جہاں ایک طرف آج کے ٹیڈی سماج کی پراگندگیوں کی طرف اشارے کرتی ہے تو دوسری طرف صرف انسانی ہی نہیں بلکہ جانوروں کی نفسیات پر بھی بحث کرتی ہے۔ایک خوبصورت لڑکی کے ہاتھوں میں کتے کی زنجیر دیکھ کہانی کار کو اپنی بیوی کے پلو سے بندھا رہنا اچھا نہیں لگتا۔ وہ چاہتا ہے کہ کاش کوئی خوبصورت سی لڑکی اس کی گردن میں بھی کتے کا پٹّہ باندھ دیتی۔ مگر جب کتے کا پٹہ اس کی گردن میں باندھ دیا جاتا ہے تو کتے کی حمیت جاگ اٹھتی ہے ، وہ اچانک لڑکی پر حملہ کر کے اسے کو بھنبھوڑنے لگتا ہے اور کہانی کار کی گردن سے گرا ہوا پٹّہ اٹھا کر لڑکی کے زخمی ہاتھوں پر رکھ دیتا ہے اور اس کی گود میں سر رکھ کر کوں کوں کرنے لگتا ہے۔
’ کبوتر باز‘ اور ’آخری پرواز‘ کا مسئلہ بین الاقوامی ہے۔’کبوتر باز‘ اُن دو ملکوں کی کہانی ہے جہاں کی دھرتی اکثر خون کے دھبوں سے سرخ رہتی ہے۔جہاں ایک دیوانہ ’امن کا پیامبر‘ ہمیشہ سفید کبوتر یا سفید پتنگ اڑایا کرتا ہے۔ مگر لوگ اسے آوارہ کہتے ہیں( یا آج کی زبان میں دہشت گرد)۔ مگر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ نیلے آکاش کے پردے پر دور دور تک امن کے پیامبر پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔’آخری پرواز‘ کہانی کار کے پہلے افسانوی مجموعے ’ریت پر کھنچی ہوئی لکیر‘ میں بھی شامل ہے۔ اس مجموعے میں بھی شامل کرنے کا جواز یہ ہے کہ کہانی میں جس گمبھیر مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے حل کے لئے ابھی کچھ وقت اور چاہئے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ، کہانی زندہ رہے گی اور بار بار خود کو دہراتی رہے گی، اس وقت تک جب تک’باز‘ کے ظلم کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک کبوتر اپنی پہلی جراٗت آمیز اڑان نہیں بھرتا، جب تک جنگل کے سارے’ پرند‘ اس کے پیچھے پرواز کرنے نہیں لگتے اور جب تک ’باز‘ کی پرواز ’آخری پرواز‘ نہیں ہو جاتی۔
’بازگشت‘ ملک کے خونیں فسادات کے پس منظر لکھی گئی زوال و کمال انسانیت کی کہانی ہے۔ کمال انسانیت یہ کہ فسادیوں کے ہوس کی بھینٹ چڑھی ہوئی ایک عورت کی معصوم بچی ’ارپنا‘کی پناہ گاہ ’نادرہ‘ کی گود ہے جہاں وہ ’زیبا‘ کے روپ میں پل کرجوان ہو تی ہے۔ زوال انسانیت یہ کہ اسی فساد کی آگ میں لگاتار جلتا ہوا اس معصوم بچی کا جنونی اور درندہ باپ اپنی ہی بچی (زیبا) کے ساتھ ہوس کی آگ بجھاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کا انتقام لے لیا ہے۔
’سانپ اور پرندے‘ ایک نہایت ہی کامیاب کہانی ہے۔ اور اس لئے بھی کامیاب ہے کہانی کار نے اسے اپنی بچی کے ایک ’خوف‘ سے تراشا ہے۔ کہانی نہ صرف ایک ننھی سی بچی کے خوف کا نفسیاتی علاج پیش کرتی ہے بلکہ حالات سے ڈرے سہمے لوگوں کو بھی آئینہ دکھاتی ہے۔سانپ کے منہ کوکچلنا ہی ہو گا ورنہ وہ ایک دن تمہارے چوزوں کو بھی نوالہ بنا لے گا۔
’بیک ڈور‘ کا کلائمکس چونکانے والا ہے۔ آخری جملے تک پہنچنے سے پہلے کہانی ایک کالج کے عمومی ماحول کا بیان معلوم ہوتی ہے ، مگر آخری جملے کے’ بیک ڈور‘ تک پہنچنے کے بعد ہی بیانیہ اچانک کہانی بن جاتا ہے اور کہانی کے عنوان ’بیک ڈور‘ کی وضاحت ہو پاتی ہے۔
’جرثومے‘ کو میں کہانی کار کی ایک شاہکار کہانی تسلیم کرتا ہوں۔ جہاں کہانی اپنی کہانی کہتی سنائی اور دکھائی دیتی ہے ۔ اس کہانی کو میں ایک سماجی کہانی کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائینسی شعور رکھنے والے کہانی کار کی سائینسی کہانی بھی تسلیم کرتا ہوں۔جیسے کرشن چندر کا ’الٹا درخت‘ یا ابن صفی کے بعض ناول جن سے مصنف کا سائنسی شعور جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ مہتاب عالم پرویز سائنس کے طالب علم رہے ہیں یا نہیں اور اگر سائنس سے انہوں نے تعلیم حاصل کی بھی ہے تو عالم نباتات کا علم رکھتے ہیں یا نہیں۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ ایک تخلیق کار کے ذہن میں بقول غالب اکثر غائب سے مضامین اترا کرتے ہیں۔
عالم نباتات کی ایک زندہ اور ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی پودے کی جڑ کی مٹی سے چِمٹے ہوئے کروڑوں ایسے جرثومے ہوتے ہیں جو پودوں کی بالیدگی و زرخیزی میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر یہ جرثومے پودوں کی جڑوں سے چمٹے ہوئے نہ ہوں تو مٹی ہزار نم ہو زرخیز نہیں ہو سکتی۔کھیتوں میں ہل چلانے والے کسان جتنی بھی محنت کر لیں نہ کونپلیں پھوٹیں گی نہ کونپلیں، پودوں میں تبدیل ہوں گی نہ پودے درخت کی صورت اختیار کرسکیں گے۔ یہ جرثومے دراصل اندیکھے کسانوں کے وہ گروہ ہیں جو مٹی کے اندر با عمل رہتے ہیں ، انہیں سے نباتات کی افزائش کا سلسلہ دراز رہتا ہے۔
راقم نے اپنی مثنوی’ کن فیکون‘میں ’قرانی تعلیمات اور تخلیقی عمل‘ کے 
زیر عنوان نباتات کی جڑوں سے چمٹے ہوئے ان جرثوموں کی کار کردگی پر چند اشعار کے حوالے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے…! 
فضا کے مطابق نمو کا نظام

رتوں کے مطابق ہیں فصلیں تمام
ہے مٹی میں جو حصہء نامیات

وہی پیڑ پودوں میں پھونکے حیات
اگر ایک چٹکی میں مٹی اٹھائیں

ارب ہا ارب اس میں جرثومے پائیں
پس پردۂ خاک نور حیات

یہ امواجِ بحر سرورِ حیات
انہی خرد بینی جراثیم پر

حیاتِ نباتات ہے منحصر
یہ آنکھوں سے اوجھل کسانوں کے دل

درونِ زمیں گر نہ ہوں با عمل
ہزار آدمی کھیت میں ہل چلائیں

تدابیر کتنی ہی وہ آزمائیں
یہ جرثومے جب تک مدد نہ کریں

نہ گلشن سجیں اور نہ جنگل بھریں
ان اشعار سے گزرنے کے بعد آپ ایک بار پھر مہتاب عالم پرویز ؔ کی کہانی ’جرثومے‘ سے گزر لیجئے۔ کہانی ایک نیا باب کھولتی دکھائی دے گی۔ ایک فرق ضرور نظر آئے گا کہ نباتات کی افزائش میں یہ جرثومے ایک مثبت کردار نبھاتے نظر آئیں گے جبکہ انسانی سماج میں پلتے بڑھتے ہوئے ان جرثوموں کا کردار منفی ہو گا۔کہانی میں سماج کے اند ررینگتے ہوئے یہ جرثومے ایک وشال درخت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جس کی چھاؤں میں ظلم و جبر کی داستانیں دہرائی جاتی ہیں، جہاں گاؤں کی پنچائت مظلوموں کے خلاف نا جائز فیصلے کیا کرتی ہے۔ مگر ایک دن اسی وشال درخت کی ایک شاخ، جرثومے پھیلانے والے وحشی درندے کے سر پر گرپڑتی ہے۔ وحشی درندہ اب بھی زندہ ہے مگر گاؤں کی گلیوں میں ننگا گھومتا رہتا ہے اور گاؤں کے بچے (جو دراصل وہی رینگتے ہوئے جرثومے ہیں جو اب دوڑنے لگے ہیں) اُسے پتھر مارا کرتے ہیں۔سماج کے کلبلاتے ہوئے یہ جرثومے کبھی نہیں مرتے ، مختلف روپ اروپ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
میں عزیزی مہتاب عالم پرویزؔ کو اس شاہکار کہانی اور ’کارواں‘ کی دیگر کامیاب اور نہایت ہی کامیاب کہانیوں کے لئے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مستقبل قریب میں بھی وہ اسی طرح اپنے ارد گرد ہونے والے معمولی واقعات کا بغور مطالعہ و مشاہدہ کرتے رہیں گے اور بڑی بڑی کہانیوں کو جنم دیتے رہیں گے۔
بڑے سے بڑے کہانی کار کی ہر کہانی کو بڑی کہانیوں کی فہرست میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ خواہ وہ منشی پریم چند ہوں یا منٹو یا کرشن چندر۔ یہ بات اہم ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ میں آس پاس کے چھوٹے چھوٹے وقوعے سے بڑی کہانیاں گھڑنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ 
()()()()()

اسلم بدرؔ 

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے