Skip to main content

Aalamiparwaz

ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر۔۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔۸۳۲۱۱۰(جھارکھنڈ)
موبائل : 09572683122 
dr.akhtarazad@gmail.com 

برادرم مہتاب عالم پرویز! 
……..بے پناہ محبتیں

اردو سائٹ ڈیولو کرنے کی دیرینی خواہش ’’ عالمی پرواز ‘‘ کی صورت میں ادب نواز دوستوں کے دلوں میں گھر کرنے لگا ہے ۔’’افسانہ ریئلیٹی شو ‘‘ کی پسندیدگی کے کئی فون اور میل بیرونِ ملک سے مجھے موصول ہوئے ہیں ۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی محنت عالمی سطح پر بھی رنگ لانے لگی ہے ۔اور اب جو تحریر نستعلیق میں آرہی ہے اس سے قاری کو پڑھنے میں آسانی ہو رہی ہے ۔ ایک دن وہ بھی آئے گا جب آپ کے سارے خواب شرمندہء تعبیرکو پہنچ جائیں گے۔ آپ اپنی کوشش جاری رکھیں۔ میری اللہ سے یہی دعاء ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں ۔
ایک مضمون’’ منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق وواقعات کی روشنی میں‘‘ بھیج رہا ہوں ۔ پسند آ جائے تو عنقریب شامل کر لیں گے۔
منظر کاظمی (پیدائش۔ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۴۰ء، انتقال۔ ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء) کا تعلّق جدید افسانہ نگاروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے اردو کو خوبصورت افسانے عطا کئے۔انہوں نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز ۱۹۵۹ء میں کیا ۔ ان کا پہلاا فسانہ ’’ زہر کی پوٹ ‘‘ جام نو، دھنباد میں شائع ہوا تھا ۔جو بالکل روایتی قسم کا افسانہ تھا ۔ اصل پہچان ۶۵۔۱۹۶۲ء کے درمیان بنی ۔جب انہوں نے روایتی افسانوں سے خود کو الگ کیا ۔افسانہ ’’ مچکی ‘‘ (رسالہ ، راوی ، مارچ اپریل ۱۹۶۳ء) نے انہیں ایک پہچان دی ۔ اسی زمانے میں ان کا ایک افسانہ ’’ شب رنگ ‘‘ الہ آباد میں ’’سیاہ غلاف اور کالے جر نیل ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ، جس نے منظر کاظمی کو وہ وقار عطا کیا کہ آج بھی اس افسانے کو ایک ایسی اہمیت حاصل ہے کہ کئی ناقدین اسے اب تک سیرت پاک پر لکھی کہانیوں میں سب سے بہتر کہانی تسلیم کرتے ہیں ۔ اور کئی ناقدین نے تو یہ بھی کہا کہ اگر منظر کاظمی صرف یہی افسانہ لکھتے، تب بھی وہ اردو افسانے میں باقی رہتے ۔سیرت پاک پر لکھے گئے تمام افسانوں میں یہ افسانہ میری نظر میں بھی اہم افسانہ ہے ۔
منظر کاظمی کا پسندیدہ موضوع اسلامیات بھی رہا ہے ۔ان کے پانچ افسانوں میں ہم اسلامی حقائق و واقعات کی واضح جھلک جدید اسلوب و نگارش کے پیرائے میں دیکھ سکتے ہیں ۔ اردو میں بہت کم افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اسلامی حقائق و واقعات کو افسانے میں اس طرح برتا ہے۔
انہوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا ۵۵۔۵۰ افسانے لکھے ۔ادب میں جو مقام ملنا چاہئے تھا وہ انہیں اب تک نہیں مل پایا ہے ۔میں نے ان کی شخصیت اور فن پر پی ایچ ڈی کی ہے جو کتابی صورت میں’’ منظر کاظمی کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ۲۰۰۷ء شائع ہو چکی ہے ۔ یہ مضمون کتاب سے بالکل الگ ہے ۔
خدا کرے آپ شگفتہ ہوں ۔ 
جواب کا انتظار رہے گا۔ آپ کا 
ڈاکٹراختر آزاد 
۲۴؍ فروری ۲۰۱۳ء ؁ 
منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق و واقعات کی روشنی میں 

ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر۔۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔۸۳۲۱۱۰
موبائل: 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com 

ترقّی پسند تحریک کی نفی کرتے ہوئے جدیدیت ایک نئے تیور کے ساتھ ادب میں نمو دار ہوئی اوربنے بنائے تمام اصول و ضوابط کو توڑتے ہوئے زندگی کے نئے افہام و تفہیم میں جُٹ گئی۔ ابتدا ء میں جدیدیت کی مخالفت ہوئی کیوں کہ یہ انسان کے داخلی کرب کو جہاں اجاگر کرتی ہے وہیں خارجیت سے داخلیت ، افراد سے فرد ، شوروغل سے خاموشی اور بھیڑ سے تنہائی کی طرف کا ایک ایسا سفر تھا جو انسان کے اندرون میں جا کر ختم ہوتا تھا ۔ لیکن آہستہ آہستہ اندرون کا یہی سفر ذات سے شروع ہو کر کائنات میں تبدیل ہونے لگا ۔ اس تبدیلی نے ادب میں ایسے دور کا آغاز کیا جس کی وجہ سے تمثیل ، علامت ، استعارہ اور تشبیہ نے زبان و بیان میں پہلے سے زیادہ شگفتگی پیدا کی، نئے مفاہیم عطا کئے۔ 
فکشن کی دوسری صنف کی طرح جدید اردو افسانے میں بھی حیرت انگیز تبدیلی ہوئی اور وہ افسانہ جو ’کفن‘ میں لپٹا ہوا تھا ، جدیدیت کے کاندھے پر سوار ہو کر ’ دوسرے آدمی کے ڈرائنگ روم تک پہنچ گیا۔ منظر کاظمی جیسے افسانہ نگار ڈرائنگ روم میں بیٹھنے والے نہیں تھے۔بھٹک بھٹک کر منزل تک پہنچنے میں انہیں مزا آتا تھا ۔ اس لئے وہ جدید افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ چلتے تو رہے ، لیکن وقت ملتے ہی دور نکل گئے۔ لکشمن ریکھا کی تلاش میں ….اس سلسلے میں جوگیندر پال لکھتے ہیں 
’’خوشی کا مقام یہ ہے کہ منظر کاظمی اگر اظہار کے روایتی اسالیب سے مطمئن نہیں تو 
یہ بھی ہے کہ وہ اظہار کے نئے امکانات کو بے جواز قبول کرنے کے حق میں نہیں ….
بعض یار لوگ شکایت کرتے ہیں کہ کہانی اپنے راستے سے بھٹک گئی تھی۔ میں اس 
بیان کو شکایت کنند گان کی سادہ لوحی پر محمول کرتا ہوں ۔ بھٹکنے کی جُراء ت کے بغیر
’نئی دنیا‘ کی دریافت کیوں کر ممکن ہے ۔ سیدھے سیدھے چل کر تو آپ وہیں پہنچے 
گیں جہاں سبھی ٹکٹ کٹا کر بآسانی جا پہنچتے ہیں ۔ مگر منزلیں انجانی ہوں تو مسافر کو 
خود آپ ہی اپنا راستہ کھوجنا پڑتا ہے۔ منظر کاظمی بڑی ثابت قدمی سے اپنی انجانی
منزلوں کی ٹوہ میں ہے اور کٹی پھٹی راہیں ہموار کرنے میں برابر جٹا رہتا ہے ۔
ایسے میں فن کار بھٹک بھٹک کر فن کو اچھوتے مقامات کو جالیتے ہیں اور جہاں 
جہاں وہ آج بھٹکے ہیں ، وہیں کل نئی شاہراہوں کااہتمام انجام پانے لگتا ہے۔ ‘‘
’’منظر نامہ ‘‘ کے فلیپ سے مرتب: ڈاکٹر ہمایوں اشرف 
منظر کاظمی کا تعلق جدید افسانہ نگاروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے اردو میں جدید افسانے کی بنیاد رکھی ۔ یہ وہ دور تھا جب ترقّی پسندتحریک دم توڑ رہی تھی اور جدیدیت اپنے نئے امکانات کی تلاش میں سر گرداں تھی ۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جب کوئی تحریک سالہا سال چلتی ہے تو بہت سارے لوگ اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں لیکن ایک ہی سمت میں ، ایک ہی رفتار کے ساتھ اور ایک ہی منزل کی تلاش میں چلتے چلتے کبھی لوگ اکتا بھی جاتے ہیں ۔ کچھ تھک کر رک جاتے ہیں اور کچھ دوسری سمت سفر میں لگ جاتے ہیں ۔ قدم قدم پر بکھرے نئے مناظر ان کی آنکھوں میں حیرت و استعجاب کا رنگ گھول کر متحیّر کر دیتے ہیں ۔ نئی چیز کو دیکھنے اور پانے کی تمنّا میں ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے ۔ نئی چاہت میں وہ اپنا راست بدل دیتے ہیں ۔ پہلی منزل کو چھوڑ کر دوسری منزل کی تلاش میں آگے بڑھ جاتے ہیں ۔
وقت بدلتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت ساری قدریں بدلتی ہیں ۔ اور یہی وہ قدریں ہیں جو آہستہ آہستہ ماحول کو سازگار بناتی رہتی ہیں ۔ یہی ترقی پسند ادب کے ساتھ بھی ہوا ۔ ترقی پسندوں نے ادب پر جو ترقی پسندی تھوپ رکھی تھی ۔ اسے سامنے رکھ کر ہر کوئی ادب تخلیق نہیں کر سکتا تھا ۔کیوں کہ سماجی ، تہذیبی اور خارجی رشتوں میں شکست وریخت کا دور شروع ہو چکا تھا ۔ ترقی پسندادب کی حمایت کرنے والے بھی ایک راستے پر چلتے چلتے اوب چکے تھے۔ اس لئے متعیّن راہوں سے گذرتے ہوئے کترانے لگے ۔ یہیں سے نئی نسل میں بے چینی اور اضطرابی کیفیت پیداہوئی ۔ اور ۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۰ ء تک آتے آتے ترقی پسند تحریک پژمردگی کا شکار ہونے لگی اور تب جدیدیت غاروں سے نکل کر اندھیرے میں شب خون مارنے لگی ۔ 
منظر کاظمی کے لکھنے کا دور بھی یہی ہے ۔ ان کا پہلا افسانہ ’’ زہر کی پوٹ‘‘ رسالہ’’ جام نو‘‘دھنباد ۱۹۵۹ء ؁ میں شائع ہوا ۔ جو بالکل روایتی انداز کا افسانہ تھا ۔ اصل پہچان ۱۹۶۳ ؁سے ۱۹۶۷ ء ؁ کے درمیان بنی ۔ جب انہوں نے خود کو روایتی افسانوں سے الگ کیا ۔’’ مچکی ‘‘ (رسالہ راوی ، مارچ تا اپریل ۱۹۶۳ء ؁ ) اور ’’ سیاہ غلاف اور کالے جرنیل ‘‘( رسالہ شب رنگ ، الہٰ آباد) جیسے افسانوں کی بدولت انہیں افسانے کی نئی سرزمین پر قدم جمانے کا موقع ملا۔
منظر کاظمی نے بہت زیادہ نہیں لکھا ۔ لیکن جو لکھا وہ بہت سوچ سمجھ کر لکھا ۔ان کے نزدیک زیادہ لکھنے سے بہتر کم اور اچھّا لکھنا تھا۔ اپنے بیالس سالہ ادبی سفر میں انہوں نے اتنا بھی نہیں لکھا جتنا ایک بسیارنویس دو چار سال میں لکھ ڈالتاہے۔ان کے اکلوتے افسانوی مجموعے ’’لکشمن ریکھا(۱۹۹۱ء ؁)میں کل سترہ افسانے ہیں ۔باقی رسالوں میں بکھرے پڑے ہیں ۔ ان کے یہاں دو طرح کے افسانے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایک وہ جس میں ہمیں سیاسی ، سماجی ، اقتصادی ، معاشرتی ، جنسی اور کہیں کہیں سائنسی ترقی کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ اور دوسرے طرز کے افسانے وہ ہیں جن میں قرآنی آیات اور اسلامی واقعات کے موتیوں کو نہایت ہی نفاست اور باریکی کے ساتھ افسانوی لڑیوں میں پرویا گیا ہے ۔ اور یہی وہ سب سے اہم حصّہ ہے جو دوسروں کے یہاں مفقود ہے۔ 
۶۰ء سے ۸۰ء کے درمیان جدید افسانہ نگاروں نے علامتی اور تجریدی افسانے کے نام پر کچھ ایسے افسانے لکھے جہاں ترسیل کا مسئلہ سب سے اہم تھا ۔ منظرکاظمی نے اپنے افسانوں میں علامت ، تمثیل ، استعارہ ، تشبیہ اور تلمیح کا بر محل اور خوبصورت استعمال کر کے ، سہل تجریدیت اور متحرک علامت نگاری کو اتنا عام فہم بنا دیا کہ قاری تک اس کی رسائی ممکن ہو گئی ۔اس سلسلے میں ڈکٹر لطف الرحمٰن نے لکشمن ریکھا کے فلیپ پر اپنی رائے دیتے ہوئے ہوئے لکھا ہے :
’’منظر کاظمی نے تلمیحات و استعارات اور خوبصورت علامتوں کے ذریعے عہد حاضر 
کی ان حسّیات وکیفیات کو اپنے دلکش اور رگ وجاں کو چھو جانے والے اسلوب میں 
اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری ان کی جمالیاتی تجربات و مشاہدات کا محض شاہد ہی نہیں
رہ جاتابلکہ خود فن کاری کی طرح ان دکھوں کا نوحہ گر بن جاتا ہے ۔ ان کی سب سے 
بڑی انفرادیت یہ ہے کہ ان کی کہانیوں میں قصّہ پن بدرجہ احسن موجود رہتا ہے ۔ ،
ان کی کہانیاں آج کے بیش تر افسانہ نگاروں کی تخلیقات کی طرح معمّہ نہیں رہ جاتیں ۔ 
جہاں گوہرِ معنیٰ موجوں کے پسِ پردہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ ان کی 
کہانیوں میں معنیٰ کی تہہ داری کے باوجود مختلف سطحوں پر ترسیل و ابلاغ کی حسین 
موجیں ساحل بہ کنار نظر آتی ہیں ۔ ہم عصر افسانہ نگاروں میں ان کی یہی انفرادیت 
ان کے سچّے مخلص اور ممتاز فنکار کا منصب عطا کرتی ہے ۔ ‘‘
پروفیسرلطف الرحمٰن نے منظر کاظمی کے افسانوں کے حوالے سے تشبیہ اور استعارے کا بر محل اور خوبصورت استعمال کے متعلق جو باتیں کی ہیں ، اس کے چند نمونے دیکھئے اور خود بھی لطف اندوزہوئیے ۔ 
’’ پیپل کی گھنی چھاؤں میں بیٹھے ہوئے لوگ اگر ہم سے پوچھیں گے کہ ہماری آنکھیں 
، جنہیں ہم نے ہر حال میں محفوظ رکھا تھا ، کیا ہوئیں تو ہم کیا جواب دیں گے۔؟‘‘
(لکشمن ریکھا )
’’ چاند کو چھونے کی تمنّامیں آج کے انسان کا اسقاط ہو گیا ہے۔ ‘‘
(کانٹوں کا تاج)
’’ کولہوں کی چرمراتی ہڈیاں اور مشرق ومغرب میں پھیلی ٹانگوں کا منظر اب کیمرے
کی تقدیر ہے ۔ اجتماعی آبرو ریزی کی فلم بندی ایک نیا تجربہ ہے اور یہ سارے قبولیت 
کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے ۔‘‘ 
(ٹاور آف بے بی لون)
منظر کاظمی کی زبان جدید بیانیہ کی ایک خوبصورت مثال ہی ۔ جدید بیانیہ سے مراد وہ تحریر ہے جس میں تشبیہ ، استعارہ ، تمثیل ، تلمیح کی زرکاری بھی ہو اور بیان کی شگفتگی بھی ۔ ان کے یہاں زبان کا استعمال بھی تخلیقی اور جدلیاتی سطح پر ہوا ہے ۔ ان کے اسلوب کے متعلق شفیع جاوید لکھتے ہیں ۔
’’جس طرح ہر موسم کی ایک دعا ہوتی ہے ۔ جس طرح ہر منظر کا ایک سلام ہوتا ہے ، 
اسی طرح ہر لکھنے والا کا ایک اندازِ بیان ہوتا ہے جو اس کی شناخت ہوتی ہے۔منظر کاظمی
اس طور پر منفرد ہیں ۔ ان کا ہرافسانہ۔ اس کا لہجہ ، اس کا بیان ، اس کی بُنت ، اس کی تعمیر 
وتربیت، اس کا سلگتا ہوا فن ، اپنی انفردیت اس طرح رکھتا ہے کہ افسا نہ نگار کا نام 
ہٹا بھی دیا جائے تو اسٹائل اور یہ سارے اجزاء چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ہم منظر کاظمی 
کے قلم سے لہو کی بوند کی مانند ٹپکے ہیں ۔ ‘‘
مضمون ’’داغِ جگر کی نمود ‘‘، منظر نامہ، مرتب : ڈاکٹر ہمایوں اشرف
واقعی منظر کاظمی کے قلم سے ان کا اسلوب لہو کی بوند کی طرح صفحہء قرطاس پر ٹپکا ہے ۔ چند اقتبا س دیکھئے کہ وہ کیسے لفظ لفظ جوڑ کر جملے کی تعمیر کرتے ہیں اور افسانے میں نئی روح پھونکتے ہیں ۔
’’جب نشیبی علاقوں میں پانی جوان ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر ریڑھ کی ہڈی پر ہوتا ہے۔‘‘
(ٹاور آف بے بی لون)
’’مقابل میں کوئی بھی ہو پھر بھی فتح ان ہی کی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات بھی دیکھی گئی ہے 
کہ تعداد کوئی جنس نہیں ہوتی اور مقصد سے بڑا کوئی جرنیل نہیں ہوتا ۔‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل )
’’ایک واٹر ٹینک کی تیّاری میں ہزاروں گاگریں ٹوٹتی ہیں اور اس ٹینک کو آگے بڑھنے 
کی علامت سمجھ کر لوگ خوش ہوتے ہیں ۔‘‘
(لکشمن ریکھا )
منظر کاظمی نے اپنے افسانوں میں جا بجا طنزیہ جملوں کا بھی استعمال کیا ہے ۔ جو بلیڈ کی طرح بے آواز روح میں اتر جاتے ہیں اور آدمی اندر ہی اندر تلملا کر رہ جاتا ہے۔ اور کسی جملے میں ایسی تیزابیت ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو پگھلا دیتی ہے ۔ ایک پل میں تنا ہو ا انسان جھک جاتا ہے ۔ طنز کا ایسا وار طنز نگاروں کے یہاں تو ملتا ہے لیکن افسانوں میں یہ سب جس طرح سے منظر کے یہاں آیا ہے ان کے ہم عصروں کے یہاں دیکھنے کو کم ملتا ہے ۔ 
’’ کہیں ایسا تو نہیں کہ تعداد ان کے یہاں کوئی جنس بن گئی ہو …. یا زمین کی پستیوں میں 
آسمان بن کر رہنے کا فن لوگوں نے بھلا دیا ہے ۔‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل )
’’نیند اگر تقسیم کرنے کی شئے ہوتی تو دنیا میں سب سے قابلِ قدر انسانی کارنامہ اسی کو 
مانا جاتا۔ لیکن کارنامے تو وہ قر پائے جو نیندیں اُڑا لے گئے۔‘‘
(میرے حصے کی نیند)
اسلوب کی طرح ان کے مکالمے بھی معنویت سے بھر پور ہوتے ہیں ۔ ایک ایک جملے میں پوری کہانی چھپی ہوتی ہے ۔تہہ دار جملے کی ان کے یہاں کمی نہیں ہے ۔ اور جملے بھی ایسے کہ پڑھنے والا سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ایسے جملے وہ کیسے گڑھ لیتا ہے۔ 
منظرکاظمی کی نظر میں زندگی ایک فلسفہ ہے ۔ وہ کہانی نہیں بھی لکھتے تو بھی ایک فلاسفر کی طرح اپنی باتوں کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوئی نہ کوئی راہ ضرور اختیار کرتے ۔ بات سے بات پیدا کرنے میں انہیں بہت مزا آتا تھا ۔ وہ زندگی کو ایک الگ ڈھنگ سے دیکھنا چاہتے تھے ۔ یہ دنیا کیا ہے ؟ کیوں بنی ہے؟ہم کون ہیں ؟ اور ہمارا کیا کردار ہے ؟کیا صرف ہم اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ ہمیں مرنا ہے اس لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے ۔ ؟ وہ اپنے افسانوں میں بھی فلسفیانہ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ۔ جہاں جہاں انہوں نے فلسفیانہ گفتگو کی ہے ، وہاں وہاں افسانے کا وہ حصہ اہم ہو گیا ہے جوافسانے کو نئی سمت عطا کرنے میں معاون ہوا ہے اوراس کے حسن کو دوبالا بھی کیاہے ۔
’’خوراک سے جاندار پیدا ہوتے ہیں ۔
…. بارش سے خوراک پیدا ہوتی ہے ۔ 
قربانی سے بارش ہوتی ہے ۔
اور قربانی عمل سے ہوتی ہے ۔‘‘
(لکشمن ریکھا )
میں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی یہ واضح کیا تھا کہ کاظمی کا محبوب موضوع اسلامیات ہے ۔ لیکن ان افسانوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قاری کا ذہین ہونا یا اسلامی تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ کیوں کہ کاظمی اشارے اشارے میں وہ بھی کہہ جاتے ہیں ، جس کا ذکر افسانے کے کسی پیرا گراف میں موجود نہیں ہوتا ۔ اس میں بھی اتنے رخ ہوتے ہیں کہ وہاں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کسی انجام سے قبل قاری کو اپنے ذہن کے ساتھ تھوڑی بہت گتھم گتھی تو کرنا ہی پڑتی ہے ۔ 
اسلامی موضوعات پر لکھے گئے افسانوں میں ’’ سیاہ غلاف اور کالے جرنیل ‘‘،’’ ایک کجلائی ہوئی شام ‘‘،’’ کانٹوں کا تاج‘‘ ، ’’ آسمان سے گرتی ہوئی روٹیاں ‘‘ قابلِ ذکر ہیں ۔ان افسانوں کا تانا باناقرآنی آیات اور اسلامی واقعات کی روشنی میں علامتی، تمثیلی، استعاراتی اور تشبیہاتی رنگ برنگے دھاگوں سے بُنا گیا ہے۔جس سے معنوعیت کی ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے کہ قاری ہر پل زندگی کے نئے مفاہیم سے لطف اندوز ہوتا ہے اور کہانی کے اندرون میں اتر کر ایک ایسا رشتہ استوار کرتا ہے کہ ’کہانی ‘اور ’کہانی کار‘کے درمیان مثلث کا تیسرا زاویہ بنتا دکھائی دیتا ہے …. حقیقت کو افسانہ بنانا منظر کاظمی کو بخوبی آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی حقائق کو افسانے میں پوری طرح سے ڈھالنے کے با وجود انہوں نے خود کو کہیں exposeنہیں کیا ہے۔ورنہ اقبال کی طرح تبلیغیت کا الزام ان کی تحریر کے بھی سر جاتا۔
اسلامی موضوعات پر کہانی لکھنا پل صراط پر چلنا ہے ۔ کیوں کہ واقعات میں کسی طرح کا آپ جوڑ گھٹاؤ نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی کھیل تماشے ہی دکھا سکتے ہیں ۔ ذرا سی چوک ہوئی اور آپ ایمان سے خارج …. لیکن منظر کاظمی نے ان موضوعات کو بھی اتنی فنّی چابک دستی سے افسانے میں برتا ہے کہ اسلامی تاریخ اور قرآن پاک کی آیتیں دماغ کی قندیلیں جلا دیتی ہیں ۔ روشنی بن کر اندھیرے میں اتر جاتی ہیں ۔
منظر کاظمی نے حیات مبارکہ کو موضوع بنا کر ’’ سیاہ غلاف اور کالے جرنیل ‘‘ جیسے افسانے لکھے جو اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی تحقیق کے مطابق حضرت محمّد کی سیرت پاک پر یہ اردو کا پہلا افسانہ ہے ۔ پریم چند نے اس سے قبل اس موضوع کو بنیاد بنا کر ’’ نبی کی نیتی‘‘ افسانہ رقم کیا ہے ۔لیکن مکمل سیرت پاک منظر کاظمی کی تحریر میں اپنی پوری شگفتگی کے ساتھ نظر آتی ہے ۔ 
اسلامی حقائق و واقعات کو انہوں نے کس طرح فن کا جامہ پہنایا ہے اس کی جھلک دیکھنا چاہیں تو آپ ان اقتباسات میں دیکھ سکتے ہیں ۔ 
’’ ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں بپھری ہوئی فوج تھی اور دوسری طرف کوئی نہ تھا ۔ 
سب لوگ پہاڑوں میں جا چھپے تھے ۔ اور روتے تھے ۔ اور ان پر خوف طاری تھا ۔ ادھر 
یہ بپھری ہوئی فوج کالے کالے جرنیلوں کے ساتھ لڑائی پر آمادہ تھی۔ لیکن ان 
کے مقابلے میں کوئی نہ تھا۔ایک گھر تھا اور وہاں ایک سیاہ غلاف تھا اور یہ چاہتے تھے
کہ اس سیاہ غلاف سے پھوٹنے والی روشنی کو ہمیشہ کے لئے بجھا دیں ۔ لیکن ان کے 
ساتھ ایسا ہواکہ مقابل میں کوئی نہ تھا ۔ پھر بھی ان کے سروں پر کالے کالے بادل اُمڈ
آئے تھے اور جب وہ برسے تو بپھری ہوئی فوج حیران رہ گئی ۔طاقت کے زعم میں 
ڈولتے ہوئے کالے کالے جرنیل بھاگ کھڑے ہوئے تو دیکھا یہ گیا کہ مقابل میں کوئی بھی ہو پھر بھی فتح ان ہی کی ہوتی ہے جن کو ہونا ہوتی ہے ۔‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل)
مذکورہ اقتباس میں’’ سورۃالفیل‘‘ کا واقعہ ہے ۔ ایک روایت کے مطابق ابرہہ خانہ ء کعبہ کے مسمار کرنے کے ارادے سے نکلا تھا ۔ لیکن خدا نے ان کی فوجوں پر ابابیل کے ذریعہ کنکڑیاں برسا کر اپنے گھر کی حفاظت کی اور ابرہہ اپنی فوج کے ہمراہ ہاتھیوں کے پیروں تلے کچل کر مارا گیا ….. اس افسانہ میں خانہء کعبہ کو ’’سیاہ غلاف‘‘ کالے کالے جرنیل کو ’’ہاتھی‘‘ اور ابابیل کو ’’کالے کالے بادلوں ‘‘کے ذریعہ دکھایا گیا ہے ۔ لیکن اس افسانے کے حوالے سے منظر کاظمی یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ فتح اس کے قدم چومتی ہے جو حق وصداقت پر ہوتا ہے ۔ تعداد جیت کی ضمانت نہیں ہوتی۔
’’ یہ ہمیں معلوم ہے کہ پانی کے چوڑے سینے پر بہنے والا چوبی بکس بڑا قیمتی تھا 
کہ اس میں ایک ایسی زندگی بند تھی جو موت کہ منہ سے بچ کے آئی تھی ۔ لیکن اس 
کی پرورش موت کے ہاتھوں ہوئی تھی ۔ اور کچھ دنوں بعد اس زندگی نے موت 
کا خاتمہ کر دیا ۔ اب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگ 
اپنی موت کی پرورش خود اپنے ہاتھوں سے کیا کرتے ہیں ۔ اور سب کچھ لٹا دینے
کے بعداپنی نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھا لیتے ہیں ۔ اپنے چاروں طرف پھیلے 
اندھیروں کی انہیں کوئی خبر نہیں ہوتی ۔ ان کا صرف ایک کام رہ گیا ہے کہ ان کی 
آنکھیں کھلے ہوئے آسمان کی وسعتوں روٹیاں تلاش کرتی ہیں اور ان کے پاؤں
کے نیچے گیہوں کے پودے سوکھتے ہیں ۔
(آسمان سے گرتی ہوئی روٹیاں)
اس میں موسٰی اور فرعون کا قصّہ بیان ہوا ہے ، فرعونِ مصر بنی اسرائیل کی قوم میں پیدا ہوئے تمام لڑکوں کو ختم کر دینا چاہتا تھا ۔ موسٰی کی والدہ اس زندہ رکھنے کی غرض سے رال وروغن چڑھے ہوئے صندوق میں بند کر کے دریائے نیل کے حوالے کر دیتی ہے ۔صندوق فرعون کی بیٹی کے ہاتھ لگتا ہے ۔ موسٰی کی پرورش فرعون کے گھر ہوتی ہے ۔بالآخر موسٰی کے ہاتھوں فرعونِ مصر کا خاتمہ ہوتا ہے اورقوم بنی اسرائیل کو اس کے ظلم و جبر سے نجات ملتی ہے۔
’’ یہی وہ تاریک کمرہ ہے جو یہ حوصلہ بخشتا ہے کہ ہم اپنی قتل گاہ کی طرف بڑے فخر کے 
ساتھ سر اُٹھاتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور اسی کمرے کی بصیرت کا کمال ہے کہ دہکتے
ہوئے آتش کدے کے درمیان نمو پانے والے ہرے درخت سے گفتگو کرنے کی 
جراء ت عطا کرتی ہے ۔ جنگلی جانوروں سے ہم ڈرتے ہیں ۔ لیکن صرف اس قدر 
کہ وہ پشت کی جانب سے نہ آئے۔ میرے ہاتھ کا قلم کیا تمہیں باتیں کرتا ہوا دکھائی 
نہیں دیتا …..ہمیں معلوم ہے کہ دریائے نیل کی موجوں پر ایک نیل کے کنارے حواّ
کی بیٹی دیوانہ واربھاگتی تھی ۔ اسے معلوم تھا کہ بند کمرے میں روشنی کا ایک مینار ہے۔‘‘
(کانٹوں کا تاج)
کہانی ’’ کانٹوں کا تاج‘‘ میں بھی موسٰی اور فرعون کے واقعے کو ایک الگ ڈھنگ سے پیش کیا ہے….. ہامان سے موسٰی کی شہرت دیکھی نہیں جاتی ۔ وہ ایک قبطی کے خون کا الزام اس پر لگاتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ فرعون اسے سزا دیتا ، آپ وہاں سے بھاگ کر مدین چلے جاتے ہیں ،جہاں آپ کا نکاح شعیب ؑ کی بیٹی صفورہ کے ساتھ ہوتا ہے۔رخصتی کے وقت شعیبؑ ان کو اپنی پیغمبری والی لاٹھی دیتے ہیں ۔ دورانِ سفر انہیں ایک عناب کا سر سبز پیڑ دکھائی دیتا ہے۔ جس کے پود سے بے دھوئیں کی روشنی نکل رہی ہوتی ہے …. .. منظر کاظمی نے جسے اس کہانی میں ’’آتش کدہ‘‘ اور ’ہرے درخت‘ کے ذریعہ دکھایاہے ۔اسی درخت کے نیچے رالعالمین نے موسٰی کو پیغمبری عطا کی اور دو نشانیاں دیں ۔ لاٹھی کا سانپ بن جانااور ہاتھ کو بغل میں دباتے ہی اس میں نور بھر جانا ۔ 
’’ وہ خیمہ سے سر بلند کئے سامنے کھلے میدان میں اپنی اولادوں کو نیزوں پر لٹکا ہوا 
دیکھتا ہے اور اطمینان اور سکون کے ساتھ اس کی نگاہیں کبھی اپنے پہلو سے بہنے والی 
ندی پر پڑتی ہیں ، جو اس کی ماں کا حق تھا ، اور کبھی دور آسمان کی وسعتوں میں کہ جس 
کے نیچے حد درجہ روشنی بخشنے وا لی ایک شئے سیاہ غلاف سے ڈھکی ہوئی ہے۔‘‘
(ایک کجلائی ہوئی شام )
مذکورہ اقتباس میں منظر کاظمی نے کربلا کے واقعے کو نہایت ہی فنکاری کے ساتھ رقم کیا ہے ۔ان کے سب سے قریبی دوست شاعر و ناقد سیّد احمد شمیم ؔ نے اسلامی تاریخ اور سیرت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے منظر کاظمی کے متعلّق اپنے مضمون ’’ذکر اس پری وش کا ‘‘میں یہ لکھا ہے ۔
’’ منظر کاظمی نے اسلامی تاریخ و سیرت کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے ۔اور سورۃالبقر
، یوسف ، آلِ عمرانِ، نساء ،اعراف،بنی اسرائیل،کہف، طٰہٰ ، قصص، مزمّل، الم نشر اور 
سورۃالفیل وغیرہ کی نورانی تجلیّوں سے اپنے اسلوب کو چمکایا ہے۔‘‘
(سیّد احمد شمیم)
منظر کاظمی اس قبیل کی افسانوں میں شروعات اور اختتام پر کافی محنت کرتے نظر آتے ہیں ۔بیچ سے ہی افسانے کو شروع کر دیتے ہیں ۔جیسے پہلے کچھ اور بھی ہو چکا ہو ….. وہ اکثر ’’تب یوں ہوا کہ‘‘، ’’اس سے پہلے یہ ہوا تھا کہ ‘‘اور ’’ دیکھا گیا کہ‘‘ جیسے فجائیہ فقروں سے اپنی بات کی ابتدا کرتے ہیں ۔اور پڑھنے والا آگے کی بات جاننے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں جو اسلامی موضوعات ہیں ان میں بھی کافی تنوع پایا جاتا ہے ۔ لیکن ’’ آسمان سے گرتی ہوئی روٹیاں ‘‘ اور ’’ کانٹوں کا تاج ‘‘ میں موضوعات کی تکرار ملتی ہے۔دونوں میں یوسف ؑ ، عیسٰیؑ ، موسٰیؑ اور فرعون کے قصّے بیان ہوئے ہیں ۔لیکن یہ منظر کاظمی کا ہی وصف ہے کہ پڑھتے وقت دونوں افسانے ایک دوسرے کی ضد نظر آتے ہیں ۔اور اگر یہ ضد کچھ لوگوں کو نظر نہ بھی آئے تو یہی یکسانیت ایک سیریز کے طور پر آگے بڑھتی ہے جو قاری کے لئے ایک خوشگوار اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔
اردو میں یوں تو کئی افسانہ نگاروں نے اسلامی حقائق وواقعات اور سیرت پاک جیسے موضوعات کو افسانے کے قالب میں فنّی چابکدستی سے ڈھالا ہے،لیکن ایک ساتھ پانچ چھ افسانے ان کے عہد میں دوسروں کے یہاں دیکھنے کو کم ملتے ہیں۔ یہی وہ امتیاز ہے جو منظر کاظمی کو ان کے ہم عصروں میں ممتاز بناتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ناقدین ادب کی نگاہ ابھی اس امتیازِ خاص پر نہیں گئی ہے۔
***
Add:-
DR.AKHTAR AZAD
HOUSE NO:-38 , ROAD NO:- 1
AZADNAGAR, JAMSHEDPUR-832110 (JHARKHAND)
dr.akhtarazad@gmail.com mobile.09572683122

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے