Skip to main content

Aalamiparwaz

سید اطہرالدین گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری 

       میرٹھ کے معروف شاعرمرحوم اطہر الدین اطہر کی یاد میں شعبہء اردو میں تعزیتی    جلسے کا انعقاد

                    *میرٹھ (۱۶ مارچ ) : سید اطہر الدین اطہر اردو کے عمدہ ادیب وشاعر اور انگریزی کے اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ با اخلاق ،باکردار ،وطن پرست اوخدمت خلق کے جذبے سے لبریز انسان تھے ۔خدمت خلق ان کا پسند یدہ مشغلہ تھا ۔وہ اپنے علم ،مال،اور ادب سبھی کو اس پر بے دریغ خرچ کرتے تھے مرحوم اطہر گفتار کے نہیں کردار کے غازی تھے ۔عمل میں یقین رکھنے کا ان کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شریک حیات کو عمر کے اس حصے میں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرایا جب عورتیں عمومًا ازدواجی زندگی اور بچوں کی تعلیم وتربیت کے مسائل میں الجھ کر اپنی تعلیم ہی نہیں سماج سے بیگانہ ہوجاتی ہیں یہ الفاظ تھے ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے جنہیں وہ مرحوم اطہر الدین اطہر کی یاد میں شعبہء اردو میں منعقد کئے گئے تعزیتی جلسے کے صدارتی خطبے میں ادا کررہے تھے ۔واضح ہو کہ انگریزی کے استاد اور ثقہ ادیب وشاعر سید اطہر الدین اطہر /12مارچ 2013کو رات گیارہ بجے اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب اس دارفانی کو خیر آباد کہہ گئے تھے۔
اس تعزیتی جلسے میں سید ذکی الدین (سابق ایم ۔ایل۔ اے) محترمہ ریتا سروہی (پرنسپل رشب اکیڈمی) ڈاکٹر یوسف قریشی (سماجی کارکن) پروفسیر وائی وملا( شعبہء باٹنی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ)پربھات رائے(سابق آئی اے ایس افسر) اور طالب زیدی (معروف ادیب و شاعر) مہمانانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔جبکہ نظامت کے فرائض شعبہء کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔جلسے کا آغاز سعید سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا بعدازاں چاندنی عباسی نے مرحوم کی لکھی ہوئی نعت،بزرگ شاعر محترم اسرارالحق اسرار کٹھوروی نے’’میرانادان شہر‘‘عامر نظیر ڈار نے’’مجھے بھی کاش اک اولاد نالائق ملی ہوتی‘‘اور محترم آفاق احمد خاں نے ہندوستان ایکسپریس میں لکھے گئے مستقل کالم ’’رب ہی جانے‘‘کا ایک اقتباس پیش کیا ۔
اس موقع پر پروفیسر وائی وملا نے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم سے میری ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب ان کی زوجہ ڈاکٹر شاداب علیم کو ایم فل ٹاپ کرنے پر چانسلر میڈل ملا تھا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ مسلم خاندانوں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو اس عمرمیں بھی اپنی بیوی کی تعلیم کے لیے اتنے فراخ دل ہیں ۔محترم ریتاسروہی نے روتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک ایسا استاد کھودیا جو طلبہ کو اہم معلومات فراہم کرانے کے ساتھ ساتھ ان میں حوصلہ مندی کے جذبات پیدا کرتا تھا۔ سید ذکی الدین (سابق ایم ایل اے )نے کہا کہ میاں اطہر اردو ،انگریزی اور ہندہی پر یکساں قدرت رکھتے تھے وہ آئی پی ایس کا امتحان پاس کرچکے تھے مگر بو جوہ ملازمت اختیار نہیں کی تھی ڈاکٹر یوسف قریشی نے کہا مرحوم حقیقت پسند ،راست گو اور گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار تھے وہ سماج میں نفرت پھیلانے والوں کی بنا تفریق مذہب وملت شدید مذمت کرتے تھے محترم پربھات رائے نے کالج کے زمانے کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا وہ انقلابی شخص تھے اور انقلابی کبھی فنا نہیں ہوتے اطہر بھی اپنے انسان پرستانہ جذبات اور آئیڈیالوجی کے سبب ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے محترم طالب زیدی نے مرحوم کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اطہر کی طبعیت میں ’’ حس مزاح‘‘غالب کی طرح کوٹ کوٹ کر بھری تھی ادبی محفلیں ان کی اس حسیت کی بدولت زعفران ژار بنی رہتی تھیں سیدہ کاکل رضوی اور سید احمر رضوی نے اپنے رندھے گلے سے والد کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاپا ہمیں ہمیشہ حالات سے نبردآزمارہنے اور کسی بھی حال میں حوصلہ نہ ہارنے کی تلقین کرتے تھے ۔محترم ذیشان احمد خاں نے مرحوم کا فراق گورکھپوری کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر انہیں موجودہ دور کا فراق گورکھپوری کہا جائے توزیادہ بہتر ہوگا ‘‘ رشب اکیڈمی کے درجہ بارہ کی طلبہ تکشکاور مانے طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ یوں تو سبھی اچھے ہوتے ہیں لیکن رول ماڈل بننے کی صلاحیت کسی کسی استاد میں ہوتی ہے اطہر صاحب ان میں سے ایک تھے /16نومبر 2012کو اطہر صاحب کے ذریعے پڑھی گئی ان کی ایک غزل بھی پروجیکٹر کے ذریعے سامعین کی نذر کی گئی اور بالآخر دعا پر تقریب ختم ہوئی ۔
اس موقع پر پروفسیر جے مالا،ڈاکٹر یونس غازی ،ڈاکٹر الکا وششٹ ،ڈاکٹر فرحت حہاں ،ایاز احمد ایڈوکیٹ ،ماسٹر حامد ،اروند شرما ،سمیت خاندان ،میرٹھ کے قرب و جوارکے عمائدین نیز رشب اکیڈمی اور یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ 

*****

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے