غزلیں
محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)
ہم زمیں پر آسماں کے نور ہیں
سر بلندی ہے مگر مجبور ہیں
کروٹیں لیتے ہیں بستر پر اَمیر
چین سے سوتے ہیں جو مزدور ہیں
دل میں جذباتِ کلیمی چاہیے
ریت کے ذرّات کو ہِ طور ہیں
آسمانوں سے اُتر کر دیکھیے
فرش والے کس قدر رنجور ہیں
ہم وفا اور وہ جفا کرتے رہے
حسن والوں کے یہی دستور ہیں
ہے تباہی بھی انہیں کے ساتھ ساتھ
اس جہاں میں جو بہت مشہور ہیں
سر کٹا دیتے ہیں جو حق بات پر
اس صدی میں تو وہی منصور ہیں
لُٹ کے ہم رہزن کو دیتے ہیں دعا
چین سے سوتے ہیں اب مسرور ہیں
ٹمٹماتا ہے وہاں اخترؔ تو کیا
ہم جو دیپک ہیں زمیں کے نور ہیں
****
حسیں جنّت بنانا چاہتا ہوں
تمہیں دل سے لگانا چاہتا ہوں
تری مہکی ہوئی زلفوں میں چھپ کر
ہر اک غم کو بھلانا چاہتا ہوں
مرا دل آگیا اک بے وفا پر
اسی پر دل لٹانا چاہتا ہوں
گھڑی بھر کو ترے نزدیک آکر
سکونِ دل کو پانا چاہتا ہوں
تری راہوں میں پھولوں کی جگہ پر
میں اپنا دل بچھانا چاہتا ہوں
سرِ محفل محبت کا ترانہ
تمہارے ساتھ گانا چاہتا ہوں
سُنا کر دل کی بربادی کا قصّہ
زمانے کو رُلانا چاہتاہوں
نشیلی آنکھ سے آنکھیں ملا کر
میں پینا اور پلانا چاہتا ہوں
تری رنگین یادوں کے سہارے
شمع دل کی جلانا چاہتا ہوں
تمہارے درد کو لب پر سجا کر
میں غزلیں گنگنانا چاہتا ہوں
کفن میَں اوڑھ کر اک بار اخترؔ
اسے گھر پر بلانا چاہتا ہوں
****
محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)
fulltext