Skip to main content

Aalamiparwaz

 فرحینؔ اقبال 

 غزل

 کرتے ہوئے سجدہ سحر و شام چلے ہیں
جب اہل جنون لے کے تیرا نام چلے ہیں

شاید کہ میسر ہو طواف در جاناں
خوشبوئوں کا ہم باندھ کے احرام چلے ہیں

زخموں سے بھرا دل ہے جگر درد سے معمور
محفل سے تیری لے کے یہ انعام چلے ہیں

دستور جنون رسم زمانہ سے جدا ہیں
ارباب خرد ایک روش عام چلے ہیں

ہے پاس گرفتار یہ خاطر کا یہ فرحین
ہاتھوں میں ہوائوں کا لئے دام چلے ہیں

غزل

اب زخم زخم دل کا مداوا کرے گا کون
خوشبو کا یوں گلوں سے تقاضا کرے گا کون

یہ شہر سنگ اور شیشہ کی کائنات
بے قافلہ سفر کا ارادہ کرے گا کون

سچائیوں کی کوئی بھی قیمت نہیں ہے آج
دار و رسن کی آج تمنا کرے گا کون

ٹوٹے ہوئے وہ خواب یہ سرمایہ حیات
اب ان سے آرزئوں کا سودا کرے گا کون

فرحینؔ شہر دل پہ حکومت ہے اب تیری
ہمت کسی کی اب کہاں رسوا کرے گا کون

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے