غزلیں
فاروق بخشی
میں جانتا ہوں مجھے کیسے کیسے پرکھے گا
وہ خود اصول بنائے گا خود ہی توڑے گا
مری انا کی حفاظت اسے نہیں منظور
وہ مجھ سے کہہ کے گیا ہے کبھی نہ لوٹے گا
ابھی سے کیوں ہے چراغاں تمھاری پلکوں پر
ڈھلے گی رات تو وہ شہر دل سے گزرے گا
وہاں وہ بستیاں تاراج کرنے والاپھر
اکڑ کے کہتا ہے یہ تخت و تاج لے لے گا
مجھے درختوں کی صحبت نصیب ہے فاروق
کسی نے مجھ کو دیا بھی تو کوئی کیا دے گا
……………
اس زمیںآسماں کے تھے ہی نہیں
رابطے درمیاں کے تھے ہی نہیں
ہم سے مٹی مہک گئی کیسے
ہم تو اس خاکداں کے تھے ہی نہیں
کیسے کرتے رقم حدیث دل
واقعے سب بیاں کے تھے ہی نہیں
وہ مری سمت دیکھتا کیسے
رشتے کچھ جسم و جاں کے تھے ہی نہیں
ہم وہ کردار کیسے بن پاتے
جب تری داستاں کے تھے ہی نہیں
ان سے تہذیب کی توقع تھی
وہ جو اردو زباں کے تھے ہی نہیں
***
fulltext